اردو اسلامی پاکستانی معلوماتی بلاگ

اپریل 24, 2014

شان صدیق اکبر رضی اللہ عنہ

درجہ بند بتحت: Home, ہوم — sulemansubhani @ 3:03 pm

SHAN-E-SIDDIQUE AKBAR رضی اللہ عنہCONFERENCE

In shaa Allah, special speech will be delivered by
Allama Maulana Syed
Shah Abdul Haq Qadri
on Wednesday
Date: 30th April 2014 (30th night of Jamadi-us-Sani 1435 or 1st night of Rajab-ul-Murajjab 1435)
Time: around 10:00 PM Pakistan time (+5 GMT)
Venue: YMCA Mela Lawn, Aiwan-e-Sadar Road, Near Arts Council, Karachi

- Jamat-e-Isha will be offered at around 9:30 PM Pakistan time (+5 GMT)
– Ladies can also attend this program.
– Karachi residents, please attend this program at above venue with your friends, families and relatives.
–  Please circulate this invitation personally and also on social media.
–  In shaa Allah, this program will be broadcasted live at www.ahlesunnat.net.
– Broadcasting of the program on the Internet is subject to the availability of electricity and weather conditions.

اگست 4, 2009

Imam Azam Urdu Book By Syed Shah Turab ul Haq Qadri

درجہ بند بتحت: Home, ہوم, امام اعظم ابوحنیفہ — sulemansubhani @ 6:50 pm
View this document on Scribd

جون 23, 2009

تلخ سچائیاں

درجہ بند بتحت: Home, ہوم, دیوبندی ازم — sulemansubhani @ 10:08 am
تلخ سچائیاں
کالم نگار: حامد میر

روزنامہ ’’جنگ‘‘ کراچی، 9اپریل2009ء میں معروف کالم نگار جناب حامد میر صاحب کا شایع شدہ کالم
’’تلخ سچائیاں‘‘ بغیر کسی تبصرے کے قارئین کے لیے پیش کیا جارہا ہے۔

سچائی ہمیشہ تلخ ہوتی ہے لیکن سچائیوں کا اعتراف کئے بغیر آگے بڑھنا ممکن نہیں ہوتا۔ آج کی تلخ سچائی یہ ہے کہ امریکہ کے نئے صدر بارک اوبامہ پنٹاگون اور سی آئی اے کے ہاتھوں یرغمال بن چکے ہیں۔ اوبامہ نے وعدہ کیا تھا کہ وہ جارج ڈبلیو بش کی پالیسیوں کو تبدیل کریں گے لیکن پنٹاگون اور سی آئی اے تبدیلی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ پنٹا گون اور سی آئی اے امریکہ کی چند بڑی اسلحہ ساز کمپنیوں کے مفادات کی نگرانی کر رہے ہیں۔ اگر امریکی پالیسی بدلتی ہے اور دنیا میں امن قائم ہوتا ہے تو ان بڑی اسلحہ ساز کمپنیوں کو شدید نقصان ہو گا لہٰذا یہ کمپنیاں دنیا میں کہںر نہ کہیں جنگ کی آگ بھڑکائے رکھنا چاہتی ہیں تاکہ انکا اسلحہ اور ڈرون طیارے فروخت ہوتے رہیں۔ حملے بند ہو گئے تو ڈرون طیارے بنانیوالی کمپنی کو 2/ارب ڈالر کا نقصان ہو جائے گا۔ گورے امریکیوں نے فوج میں بھرتی ہونا تقریباً چھوڑ دیا تھا لہٰذا پنٹاگون اور سی آئی اے نے ایک سیاہ امریکی کو صدر بنانے کا فیصلہ کیا اوبامہ کے صدر بننے کے بعد پہلے تین ماہ میں دس ہزار سے زائد سیاہ فام نوجوان امریکی فوج میں بھرتی ہو چکے ہیں اور اگلے چند سال کے دوران 70 فیصد سے زائد امریکی فوج سیاہ فاموں پر مشتمل ہو گی جو امریکہ کی بڑی بڑی اسلحہ ساز کمپنیوں کے مفادات کی نگران بنی رہے گی۔ حالات و واقعات بتا رہے ہیں کہ پاکستان کیخلاف امریکہ کے ڈرون حملے بند نہیں ہونگے، بے گناہ پاکستانیوں کا خون بہتا رہے گا اور سی آئی اے کے تفتیشی مراکز میں مسلمان قیدیوں کو ایڈز کے انجکشن لگانے کی دھمکیوں کا سلسلہ بھی جاری رہے گا کیونکہ اوبامہ کا سی آئی اے پر کوئی کنٹرول نظر نہیں آرہا۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے ریڈکراس کے حوالے سے یہ خبر شائع کی ہے کہ سی آئی اے کے خفیہ تفتیشی مراکز میں ڈاکٹروں کے ذریعے قیدیوں پر تشدد کیا جاتا ہے اوبامہ خود ہی سوچیں کہ ڈرون طیارے اور سی آئی اے امریکہ کے لئے مزید نفرت پیدا کریں گے یا محبت؟ امریکی ڈرون طیاروں کے ذریعے پاکستان میں لڑی جانے والی جنگ کو کوئی پاکستان کی جنگ نہیں کہے گا۔ خود کش حملوں میں ہزاروں پاکستانیوں کے مارے جانے کے باوجود یہ امریکہ کی جنگ کہلائے گی اور امریکہ کی اس جنگ پر تنقید کے جرم میں مجھ جیسے گستاخ، قلم کاروں کو لبرل فاشسٹ دہشت گردوں کا ساتھی قرار دیتے رہیں گے۔ ستم ظریفی دیکھئے کہ ہمیں گورنر پنجاب سلمان تاثیر کا آزاد خیال اور لبرل انگریزی اخبار ”میڈیا ٹیررسٹ“ کہتا ہے اور دوسری طرف جمعیت علمائے اسلام جیسی مذہبی جماعت کے رہنما مولانا فضل الرحمن کے حکم پر بھی ہمارے خلاف مظاہرے کئے جاتے ہیں اور قتل کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔

اچھا ہوتا کہ مولانا فضل الرحمن مجھ ناچیز کے خلاف مظاہرے کرانے کی بجائے امریکی ڈرون طیاروں کے خلاف کوئی مظاہرہ کراتے۔ انہیں میرے ایک کالم میں مولانا حسین احمد مدنی کے بارے میں ایک واقعے کے ذکر پر بہت تکلیف ہوئی اور ان کی جماعت مجھے قتل کی دھمکیاں دینے پر اتر آئی ، کاش کہ وہ اس قسم کا ردعمل اسلام آباد کی لال مسجد میں ہونے والے قتل عام پر بھی دکھاتے۔ اس وقت تو مولانا صاحب لندن جا بیٹھے تھے اور پیچھے سے لال مسجد میں قتل عام شروع ہوگیا۔ مولانا کے چند ہزار ساتھی بھی باہر آجاتے تو یہ قتل عام رک سکتا تھا۔ میری ان کے ساتھ کوئی ذاتی دشمنی نہیں۔ 1999ء میں امریکہ نے حملوں کی دھمکیاں دیں تو مولانا فضل الرحمن نے ان دھمکیوں کے خلاف بھرپور ردعمل کا مظاہرہ کیا اور اس وقت میں نے ان کے حق میں کالم لکھے۔ بعض جلسوں میں خطاب کیلئے وہ مجھے بھی اپنے ساتھ لے جاتے رہے معاملہ بگڑا جب جنرل پرویز مشرف اقتدار میں آئے۔ مولانا فضل الرحمن نے مولانا حسین مدنی کے صاحبزادے اسعد مدنی کو اپریل 2001ء میں پاکستان بلایا۔ انہوں نے جامعہ خیرالمدارس ملتان میں کشمیر کی تحریک آزادی کے خلاف باتیں کیں جس پر انہیں پتھر مارے گئے۔ انہوں نے کہا تھا کہ کشمیر کی تحریک آزادی میں قربانی دینے والے شہید نہیں بلکہ صرف ہندوستان کے باغی ہیں۔ اس بیان پر تنقید میرا جرم ٹھہرا اور مولانا فضل الرحمن ناراض ہو گئے۔ افسوس کہ مولانا صاحب کو کشمیر میں شہید ہونے والوں کا مذاق اڑائے جانے پر تکلیف نہ ہوئی لیکن مولانا حسین احمد مدنی کے صاحبزادے پر تنقید انہیں بہت بری لگی۔ میں اس بحث کو طوالت نہیں دینا چاہتا کیونکہ مولانا فضل الرحمن اپنے مہربانوں کے ذریعے اپنا جواب ”جنگ“ مںر شائع کروا چکے ہیں لیکن وہ یہ توقع نہ رکھیں کہ قتل کی دھمکیوں سے مجھے مرعوب کر لیں گے، یہ کام تو جنرل پرویز مشرف بھی نہ کر سکا۔ مولانا کے ایک قریبی ساتھی محمد ریاض درانی نے ایک طویل خط مجھے بھیجا ہے انہوں نے طعنہ دیا ہے کہ آپ کے چیف جسٹس افتخار چوہدری نے پی سی او پر حلف اٹھا لیا تھا لیکن آئین پر حلف نہیں اٹھایا آپ نے اس اصولی بات پر ناراض ہو کر لڑاکی عورتوں کی طرح مولانا فضل الرحمن کے ساتھ ساتھ ان کے بزرگوں کی بھی توہین کر دی۔ درانی صاحب گزارش ہے کہ جس پی سی او پر جسٹس افتخار نے حلف اٹھایا اس پی سی او کو آپ لوگوں نے سترہویں ترمیم کے تحت جائز قرار دلوایا۔ اگر جسٹس افتخار مجرم ہے تو آپ کا اپنے بارے میں کیا خیال ہے؟

محمد ریاض درانی نے بھی ڈاکٹر محمد جہانگیر تمیمی کی کتاب میں مولانا حسین احمد مدنی کے متعلق واقعے کی صحت سے انکار کیا ہے کیونکہ ان کے خیال میں اس واقعے کے راوی کلکتہ کے بیوپاری، اسماعیلی فرقے کے مرزا ابوالحسن اصفہانی ہیں جن پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ اصفہانی نہ سہی آپ کو آغا شورش کاشمیری پر تو اعتبار ہو گا۔ انکی کتاب ” فیضان اقبال“ پڑھ لیجئے جس میں آغا صاحب نے کچھ نیشنلسٹ علماء کے متعلق بہت کچھ لکھا ہے۔ اگر آغا صاحب نے بھی غلط لکھا ہے تو درانی صاحب ثابت کر دیں میں غلطی تسلیم کر لوں گا۔ درانی صاحب نے چند سال قبل اپنے دستخطوں سے مولانا حسین احمد مدنی کے متعلق فرید الوحیدی کی کتاب مجھے عنایت کی تھی اس کتاب میں مولانا شبیر احمد عثمانی اور مفتی محمد شفیع دیوبندی پر سخت تنقید کی گئی ہے کیونکہ یہ دونوں علماء مدنی صاحب کے ناقدین تھے۔ اس کتاب کے صفحہ 553 پر مفتی محمد شفیع کے ایک فتوے کا ذکر ہے جس میں انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کیلئے مسلم لیگ میں شمولیت لازمی اور کانگریس میں شمولیت حرام ہے۔ اس کتاب میں مفتی صاحب کے خلاف جو زبان استعمال کی گئی اس سے پتہ چلتا ہے کہ مولانا حسین احمد مدنی صرف کانگریس کے حامی مسلمانوں کے لئے محترم تھے پاکستان کے حامی مسلمان ان کے سخت خلاف تھے اور اسی لئے پاکستان بننے کے بعد مدنی صاحب نے پاکستان کو کبھی تسلیم نہ کیا۔ محمد ریاض درانی سے گزارش ہے کہ مولانا حسین احمد مدنی کے ”خطبات صدارت“ بھی پڑھ لیں۔ مدنی صاحب نے پاکستان بننے کے بعد بھی قائد اعظم کے بارے میں جو زبان استعمال کی میں اسے دہرانا مناسب نہیں سمجھتا۔ آج پاکستان کا اصل مسئلہ علامہ اقبال اور قائد اعظم کے مخالفین کا دفاع نہیں بلکہ پاکستان کا دفاع ہے۔ پاکستان کو امریکہ نواز لبرل فاشسٹوں سے بھی خطرہ ہے اور مذہب کے نام لیوا انتہا پسندوں سے بھی خطرہ ہے۔ ایسے میں قوم کا متحد ہونا بہت ضروری ہے۔

جون 12, 2009

لاہور: جامعہ نعیمیہ میں خودکش حملہ ،ڈاکٹر سرفراز نعیمی شہید

درجہ بند بتحت: Home, ہوم, اہلسنت اردو خبریں — sulemansubhani @ 11:00 am
لاہور . . . لاہور میں گڑھی شاہو کے علاقے میں جامعہ نعیمیہ میں نماز جمعہ کے اختتام کے بعد ہونے والے خودکش حملے میں جامعہ نعیمیہ کے مہتمم اعلیٰ ڈاکٹر سرفراز احمد نعیمی سمیت چار افراد شہید جبکہ آٹھ افراد زخمی ہوگئے۔ اطلاعات کے مطابق جامعہ نعیمیہ میں نماز جمعہ کے اختتام کے بعد ڈاکٹر سرفراز نعیمی مسجدسے ملحقہ اپنے دفتر میں لوگوں سے مل رہے تھے کہ اسی اثناء میں ایک خودکش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ مولانا سرفرار نعیمی کو تشویشناک حالت میں اسپتال لے جایا جارہا تھا کہ تاہم وہ راستے میں ہی اپنے خالق حقیقی سے جاملے ۔شہید ہونے والوں میں سرفراز نعیمی کے معتمد ڈاکٹر خلیل بھی شامل ہیں۔ دھماکے کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا ۔جبکہ ایمبولینسوں کے ذریعے زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا جارہا ہے اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔دھماکے سے قریب کی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا ہے جبکہ اس وقت نمازیوں کی بڑی تعدادمسجد میں موجود تھی۔لاہور کے اسپتالوں کے ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے ۔ڈی سی او لاہور سجاد بھٹہ کے مطابق ڈاکٹر سرفراز احمد نعیمی کی شہادت ٹارگٹ کلنگ کا نتیجہ ہے،ان کا کہنا تھا کہ مولانا سرفراز نعیمی کو مناسب سکیورٹی فراہم کی گئی تھی۔

جون 4, 2009

قیام امن معاشرے کا اہم مسئلہ :: ڈاکٹر سرفراز نعیمی

درجہ بند بتحت: Home, ہوم, اسلامی مضامین — sulemansubhani @ 10:37 pm
قیام امن معاشرے کا اہم مسئلہ :: ڈاکٹر سرفراز نعیمی

قیام امن معاشرے کا اہم مسئلہ :: ڈاکٹر سرفراز نعیمی

مئی 29, 2009

صوفی محمد فضل اللہ غیر ملکی ایجنڈے کا حصہ ، آپریشن مکمل کیا جائے علماء

درجہ بند بتحت: Home, ہوم, اہلسنت اردو خبریں — sulemansubhani @ 2:16 pm
صوفی محمد فضل اللہ غیر ملکی ایجنڈے کا حصہ ، آپریشن مکمل کیا جائے علماء

صوفی محمد فضل اللہ غیر ملکی ایجنڈے کا حصہ ، آپریشن مکمل کیا جائے علماء

مئی 16, 2009

وطن میں بے وطن ہوتے مہاجروں کی خبر لیجیے, ڈاکٹر ظفر اقبال نوری

درجہ بند بتحت: Home, ہوم, اہلسنت اردو خبریں, اپنی بات — sulemansubhani @ 7:04 pm
Watan Main Bay Watan Hotay Muhajiron Ki Khabar Legeye By Dr Zaffar Iqbal Noorie

Watan Main Bay Watan Hotay Muhajiron Ki Khabar Legeye By Dr Zaffar Iqbal Noorie

Watan Main Bay Watan Hotay Muhajiron Ki Khabar Legeye By Dr Zaffar Iqbal Noorie

مئی 7, 2009

گو طالبان ریلی

درجہ بند بتحت: Home, ہوم, اہلسنت اردو خبریں — sulemansubhani @ 10:02 am
Jamat e Ahlesunnat Pakistan

Jamat e Ahlesunnat Pakistan

مئی 6, 2009

Istihkaam e Pakistan Conference

درجہ بند بتحت: Home, ہوم, اہلسنت اردو خبریں — sulemansubhani @ 9:03 am
Istihkaam e Pakistan Conference in Rawalpindi Pakistan May 2009

Istihkaam e Pakistan Conference in Rawalpindi Pakistan May 2009

مئی 5, 2009

اہل سنت جماعتوں نے صوفی محمد کو شریعت اور آئین کا باغی قرار دے دیا

درجہ بند بتحت: Home, ہوم, اہلسنت اردو خبریں — sulemansubhani @ 9:08 pm

راول پنڈی . . . . . . اہل سنت جماعتوں نے تحریک نفاذ شریعت محمدی کے سربراہ مولانا صوفی محمد کو شریعت اور آئین کا باغی قرار دیتے ہوئے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ شدت پسندوں اور دہشت گردوں سے مرعوب ہوئے بغیر پورے ملک میں اپنی رٹ قائم کرے۔ راول پنڈی میں اہل سنت جماعتوں کا استحکام پاکستان کنونشن ہوا۔ کنونشن کے اختتام پر جاری اعلامیہ میں کہا گیا کہ شریعت کے نام پر پاکستانی مسلمانوں کا قتل، مزارات کا انہدام اور علما کی بے حرمتی شدید مذمت کے قابل ہیں ۔ اعلامیہ میں کہا گیا کہ تمام اہلسنت جماعتوں کی قیادت مستعفی ہوکر ایک مرکزی قیادت میں اکھٹی ہوجائے ۔ اعلامیہ میں مطالبہ کیا گیا کہ فوج، سپریم کورٹ اور پارلے منٹ ، آئین کے تحفظ اور تقدس کی ذمہ داری پورا کریں۔اعلامیہ میں یہ بھی کہا گیا کہ سوات میں کارروائیاں تاریخ کے بدترین خوارج کی ذہنیت کی عکاس ہیں۔ اس سے پہلے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے علما کرام کا کہنا تھا کہ صوفی محمد شریعت کے باغی اور آئین کے غدار ہیں ان کو سزا دی جائے اور ان کو ہیرو بنا کر پیش نہ کیا جائے۔ علما نے اپیل کی کہ تمام مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد اختلافات بھلا کر ملک کو بچانے کی کوشش کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ سوات کے حالات پر جماعت اہلسنت کی جانب سے متفقہ موقف سامنے آنا چاہیے اور تمام جماعتیں متفقہ طور پر پاکستان بچاؤ کنونشن منعقد کریں ۔

Older Posts »

The WordPress Classic Theme. Blog at WordPress.com.

Follow

Get every new post delivered to your Inbox.