ماں
یہ لفظ اندر کائنات کی تمام تر مٹھاس ، شیرینی اور نرماہٹ لئے ہوئے ہے ، یہ دنیا کا سب سے پرخلوص اور چاہنے والا رشتہ ہے ۔۔۔ ماں ٹھنڈک ہے ۔۔۔ سکون ہے ۔۔۔ محبت ہے ۔۔۔ چاہت ہے ۔۔۔ راحت ہے ۔۔۔ پیکر خلوص ہے ۔۔۔ اولاد کی پناہ گاہ ہے ۔۔۔ درسگاہ ہے ۔۔۔ بیٹا ایک پودا ہے جس طرحپودے کو سورج کی گرمی ، ہوا کی نرمی ، چاند کی چاندنی ، کوئل کی راگنی اور زمین کی گود کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح بیٹے کو بھی باپ کی گرمی ، ماں کی نرمی ، پیار بھری لوریاںاور گود کی ضرورت ہوتی ہے ، زیادہ گرمی ہو تب بھی پودا خراب ہوجاتا ہے زیادہ ٹھنڈ پرجائے پھر بھی ، اسی طرحبچے پہ زیادہ سختی کروگے بچہ ڈھیٹ ہوجائے گا ، نرمی کروگے آوارہ ہوجائے گا ، ہر غم کا مرہم ماں ہے ، ماںدعا ہے جو سدا اولاد کے سروں پر رہتی ہے ، ماں مشعل ہے جو بچوںکو راہ دکھاتی ہے ، ماں نغمہ ہے جو دلوں کو گرماتا ہے ۔۔ ماںمسکراہٹ ہے ۔
ماں ایک گھنا درخت ہے ، اس جیسا سایہ دار درخت کہیں نہیں ہے ، دنیا کا ہر درخت اس وقت ختم ہوجاتا ہے جب اس کی جڑ ختم ہوجائے مگر ماں ایک ایسا درخت ہے یہ اس وقت ختم ہوتا ہے جب اس کا پھل ( یعنی بیٹا ) ختم ہوجائے
جو ماںکو تڑپاتا ہے وہ سکھ نہیں پاتا ، ماں ناراض ہوجائے تو خدا ناراضہوجاتا ہے ، جس بچے کی ماںاس کے ظلم کی وجہ سے مرجائے اس پر رحمتوں کا دروازہ بند ہوجاتا ہے ، ماںٹھنڈی چھائوں ہے ، کعبہ ہے ، بخشش کی راہ ہے ، اللہ کے بعد ماں کا رتبہ ہے کیونکہ انبیاء بھی اس کی خدمت کرتے ہیں اور اس کی اطاعت ان کا دھرم ٹھہری ، ماںکا پیار سمندر سے بھی گہرا ہوتا ہے ، ماںجو پیار اپنے بچے سے کرتی ہے اس سے بڑھ کر دنیا میں خالصکوئی چیز نہیں، قربانی کے طریقے سب سے زیادہ ماںہی جانتی ہے ، اللہ اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صبر کا سب سے اعلٰی نمونہ ہے ، ماںوہ مالی ہے جو اپنے پودوں کو خون دیکر پروان چڑھاتی ہے ، ماںکی فطرت ہے وہ اپنی خاطر کبھی کچھ نہیں کہتی ، وہ اولاد کے دکھ سکھ اپنے سینے سے لگالیتی ہے اوران کے لئے خیر کی دعائیں بھی کرتی ہے ، بچہ جب باہر رہتا ہے ماںکا دھیان بھی باہر ہی رہتا ہے اس کی نظریں دروازہ پر ہی ٹکی رہتی ہیں ۔
November 1, 2006
ماں
1 Comment »
RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

بہت ہی اچھا لکھا ھے آپنے
Comment by tariquekamal — May 3, 2007 @ 5:15 am