اردو اسلامی پاکستانی معلوماتی بلاگ

December 12, 2006

عالمی اسلامی اقتصادی فورم کی سفارشات

Filed under: Home, ہوم, اپنی بات — sulemansubhani @ 1:04 pm

عالمی اسلامی اقتصادی فورم کی سفارشات

شیخ الاسلام امام احمد رضا کے چار نکاتی معاشی و تعلیمی پروگرام کی بازگشت

مدیر اعلیٰ صاحبزادہ سید وجاہت رسول قادری کے قلم سے

            قارئین کرام!

            السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

            آپ کو یاد ہوگا کہ معارفِ رضا، ماہِ اکتوبر 2003ءکے اداریئے میں ہم نے عالمِ اسلام کو متوجہ کیا تھا کہ موجودہ حالات کے تناظر میں امام احمد رضا کی پیش کردہ ”تدبیر فلاح و نجات و اصلاح“ آج بھی بہترین لائحۂ عمل ہے۔

            حال ہی میں اسلام آباد، پاکستان میں منعقدہ تین روزہ عالمی اسلامی اقتصادی فورم کے اختتام پر جو مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا ہے اور جسے ملک اور بیرونِ ملک کے تمام پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا نے نشر کیا ہے، آپ اس کو ملاحظہ فرمائیں تو آپ کو شیخ الاسلام احمد رضا خاں قادری حنفی علیہ الرحمۃ کے درج ذیل چار نکاتی معاشی و تعلیمی پروگرام کی بازگشت مزید تشریح و تفصیل کے ساتھ سنائی دے گی۔

            1۔ مسلمان اپنے وسائل پس انداز کریں، غیر ضروری اور غیر پیداواری اخراجات سے اجتناب کرکے صنعت و حرفت و تجارت میں سرمایہ کاری کرکے اپنی پیداواری صلاحیت کو بڑھائیں۔

            2۔ مسلمان اپنے ملکوں کے تمام اہم شہروں میں جدید اسلامی بینکاری کا جال بچھائیں، جس سے ایک طرف پس انداز کرنے والے اور سرمایہ کاری کرنے والے تمام افراد کو ترغیب ملے اور دوسری جانب اقتصادی ترقی کے لئے فنڈ کی فراوانی کی سہولیات میسر آئیں۔

            3۔ مسلمان ممالک اپنی مشترکہ منڈی قائم کریں اور ایک دوسرے کے وسائل کے بہتر استعمال کے ساتھ اپنی صنعت و حرفت و تجارت کو عالمی پیمانہ پر اسطرح فروغ دیں کہ دوسری قوموں کی دست نگری سے نجات حاصل ہوکر خودانحصاری کی منزل کی طرف گامزن ہوجائیں۔

            4۔ مسلمان علمِ دین (یعنی علمِ نافع) کی ترویج و اشاعت کریں۔

            (واضح ہو کہ جب امام احمد رضا علمِ دین کی اشاعت کی بات کرتے ہیں تو اس میں قرآن و سنت کے علاوہ اپنے دور کے وہ تمام عقلی و نقلی یعنی روایتی، سائنسی اور معاشرتی علوم شامل ہوتے ہیں جو کسی نہ کسی اعتبار سے دینِ اسلام کی اشاعت و تبلیغ، ملک و ملت اسلامیہ اور معاشرے کے افراد کی ترقی اور ملک و قوم کی بقا اور عسکری و صنعتی قوت کے لئے معاون و ممد ہوسکتے ہیں یا بطورِ آلہ استعمال ہوسکتے ہیں۔)

            اسلامی اقتصادی فورم کے مشترکہ اعلامیہ میں جن خاص خاص باتوں پر زور دیا گیا ہے اور جن پر تفصیلی و سَیر حاصل بحث و مباحثہ کیا گیا ہے، وہ درج ذیل ہیں:

            1۔ مسلم دنیا جلد اپنا آزاد تجارتی علاقہ بنائے۔

            2۔ تجارت میں اضافہ کے لئے نجی سرمایہ کاری اور محنت کے بہاو ¿ میں تیزی لائی جائے۔

            3۔ اسلامی بینکاری، فائنانس اور انشورنس کے فروغ پر توجہ دے۔

            4۔ ریجنل اور سب ریجنل تجارت میں اضافہ کے لئے اسلامی ٹریڈ ایریا قائم کیا جائے۔

            5۔ سرمایہ کاری اور اقتصادی ترقی کے لئے مطلوب فضا پیدا کی جائے۔

            6۔ اسلامی دنیا میں چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے درمیان رابطوں کو فعال بنایا جائے اور اس کے لئے ایک عالمی نیٹ ورک قائم کیا جائے۔

            7۔ تعلیم، سائنس اور ٹیکنالوجی، صحت، سرمایہ کاری اور دیگر شعبوں میں تعاون بڑھایا جائے اور اس میں او۔آئی۔سی اپنا فعال کردار ادا کرے۔ تعلیم کے فروغ کے لئے ورلڈ ایجوکیشن ٹاسک فورس بنائی جائے۔

            بلاشبہ اسلامی اقتصادی فورم میں جو خوبصورت تجاویز، تصورات، خیالات اور نظریات پیش کئے گئے ہیں وہ اپنی افادیت کے اعتبار سے نہایت اہم ہیں، کوئی بھی ذی فہم شخص اس کی اہمیت سے انکار نہیں کرسکتا لیکن ان کے فوائد کا حصول جب ہی ممکن ہے جب مسلم ممالک اس اہم فورم کی سفارشات پر پورے خلوص و انہماک تدبر اور غیرجانبداری کے ساتھ عمل کریں اور اس کے لئے اسلامی کانفرنس تنظیم (او۔آئی۔سی) کو فعال بنانا ناگزیر ہے۔ اس سے قبل او۔آئی۔سی کے اجلاسوں میں بڑی اچھی اچھی تجاویز سامنے آتی رہی ہیں لیکن دنیا نے دیکھا کہ وہ محض کاغذی کاروائی تک محدود رہیں۔ اسی طرح ملائیشیا میں منعقدہ پہلے عالمی اسلامی اقتصادی فورم میں بھی متعدد مفید تجاویز و سفارشات پیش کی گئیں اور او۔آئی۔سی کے مختلف اجلاسوں میں اس کو عملی جامہ پہنانے پر زور بھی دیا گیا لیکن عملی طور پر آپس میں تجارت کے حجم میں اضافہ نظر آیا اور نہ ہی صنعتی ترقی کے لئے مشترکہ کوششیں دیکھنے میں آسکیں۔ حالآنکہ دوسری جانب ہمارے سامنے یورپ کے ایسے چھوٹے چھوٹے ممالک کی مثالیں موجود ہیں جنہوں نے معدنی اور قدرتی وسائل نہ ہونے کے باوجود اپنی صنعتوں پر توجہ دی اور ہم سے بہت آگے نکل گئے۔

            اس وقت جبکہ گلوبل سطح پراقتصادی، فوجی اور سیاسی تبدیلیاں بہت تیزی سے رونما ہورہی ہیں اور خصوصاً عالمِ اسلام کو سنگین چیلنجوں کا سامنا ہے، ہم مزید کوتاہیوں کے متحمل نہیں ہوسکتے۔

            اگر آپ دنیا کے نقشے کو ملاحظہ کریں تو آپ دیکھیں گے مسلم دنیا انڈونیشیا سے مراکش کے علاقہ تک ایک وسیع و عریض خطے پر جغرافیائی بلاک کی صورت میں پھیلی ہوئی ہے۔ دنیا بھر آزاد و خودمختار مسلم ممالک کی تعداد 57 کے لگ بھگ ہے۔ دنیا میں مسلمانوں کی آبادی ایک ارب 52کروڑ کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے جو دنیا کی کُل آبادی کا 19فیصد ہے۔ وسائل، افرادی قوت آور صلاحیت کے اعتبار سے صورتحال بڑی امید افزا ہے۔ دنیا میں 70فیصد تیل کے ذخائر مسلم ممالک کے پاس ہیں جن میں عراق، ایران، سعودی عرب اور خلیجی ریاستوں کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ لیکن انتہائی افسوسناک صورتحال یہ ہے کہ امتِ مسلمہ کی اکثریت آج بھی غربت و پس ماندگی کا شکار ہے۔ دنیا کے مسلمانوں کی تقریباً 39 فیصد آبادی آج بھی غربت کی انتہائی سطح سے بھی نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے۔ دنیا کی آبادی کا 19فیصد ہونے کے باوجود آمدن میں مسلمانوں کا حصہ بمشکل 6فیصد اور بین الاقوامی تجارت میں 8فیصد ہے جبکہ باہمی تجارت 13فیصد تک ہے اور زیادہ تر مسلم ممالک اربوں ڈالر کے تجارتی خسارے میں پھنسے ہوئے ہیں۔ بے پناہ وسائل کے حامل ہونے کے باوجود عالمِ اسلام، پس ماندگی، وسائل کے ضیاع، صنعت و حرفت و تجارت، تعلیم اور سیاست کے عصری تقاضوں سے لاعلمی اور بے خبری اور عالمی نظام کے حقائق سے دیدۂ دانستہ چشم پوشی کی بیماری میں مبتلا ہے۔

            اقتصادی تجزیہ نگاروں کے مطابق وسائل سے مالامال ان مسلم ممالک کی اقتصادی پس ماندگی کے جہاں دیگر اسباب مثلا انسانی اور قدرتی وسائل کے ضیاع اور ”گڈگورنینس“ کی صلاحیتوں کا فقدان ہے، وہیں اس کا ایک بہت بڑا سبب ان ممالک پر آمرانہ ذہنیت کے افراد کی حکمرانی اور موروثی نظام حکومت (بادشاہت) ہے۔ ایک طرف تو کثیر معدنی وسائل سے مالامال ہونے کے باوجود ان ممالک میں پس ماندگی کا فیصد کم ہونے کی بجائے بڑھتا ہی جارہا ہے تو دوسری طرف ملک کے عیاش حکمراں اور بادشاہ ان وسائل سے حاصل شدہ کھربوں ڈالر کی دولت کو اپنے نجی کھاتوں میں جمع کرکے یورپ و امریکہ کے یہودی اور نصرانی بینکوں میں منتقل کرتے جارہے ہیں۔ اگر یہ خود غرض حکمراں صرف ان بینکوں سے نکلواکر انہیں مسلمان ملکوں کے بینکوں میں جمع کرادیں اور ان کی صنعتی اور معاشی ترقی میں سرمایہ کاری کے لئے استعمال کریں تو نہ صرف یہ کہ یورپی ممالک اور امریکہ کی معیشت کا شیرازہ بکھرجائے گا بلکہ مسلم ممالک کے عوام کی غربت میں بے پناہ کمی اور خوشخال میں حیرت انگیز اضافہ ہوگا۔

            اسلامی اقتصادی یونین کا قیام ہر مسلمان کے دل کی تمنا اور مسلم امہ کے اصلی تصور کے مطابق ایک فطری امر ہے۔ بات صرف حکمرانوں کی نیک نیتی، خشیتِ الٰہی، اللہ تعالیٰ پر کامل ایمان، اس کے رسولِ مکرم کے ساتھ سچی محبت اور ان کی اتباع، پھر خلوصِ نیت کے ساتھ عمل اور عزم و استقلال کے ساتھ حصولِ مقاصد کے لئے جدوجہد کی ہے۔ اسلامی اقتصادی فورم کے چیئرمین موسیٰ حطام صاحب نے اس فورم کے اختتام پر مسلم ممالک کو متنبہ کیا ہے کہ ”اگر اس فورم کے بعد بھی مسلم امّہ نے اقتصادی ترقی کے لئے ترتیب دی گئی مربوط سفارشات پر عمل نہ کیا تو اسلامی دنیا کو کوئی فائدہ نہ ہوگا۔“ لیکن شیخ الاسلام امام احمد رضا علیہ الرحمۃ نے مسلمانوں کے فلاح و نجات و اصلاح کے لئے جو تجاویز پیش کی ہیں ان کے اختتام پر نہایت واضح الفاظ میں تنبیہ کی ہے اور ایک نہایت اہم نکتہ کی نشاندہی کی ہے کہ معاشی اور اقتصادی ترقی کے حصول کی لالچ میں یہود و نصاریٰ کی بود و باش اختیار نہ کی جائے بلکہ:

            ”بہتر ہے کہ مسلمان اپنی سلامت روی پر قائم رہیں اور کسی شریر قوم کی چال نہ سیکھیں۔“

            دوسری جگہ مزید تحریرکرتے ہیں:

            ”یہ وجوہ ہیں، یہ اسباب، مرض کا علاج چاہنا اور سبب قائم رکھنا حماقت نہیں تو اور کیا ہے۔“

            کاش کہ مسلمانانِ عالم خصوصاً جنوبی ایشیاءکے مسلمان آج سے سو سال قبل امام احمد رضا کی آواز پر لبیک کہتے تو آج معاشی، اقتصادی اور فوجی طاقت کا تواز مسلمانوں کے حق میں ہوتا۔

            اسلامی اقتصادی فورم کی جو سفارشات سامنے آئی ہیں ان میں تعلیم، سائنس اور ٹیکنالوجی اور خواتین کی ترقی اور ان کی تعلیم و تربیت پر بھی زور دیا گیا ہے اور یہ ایک اہم امر کی طرف نشاندہی کی گئی ہے۔ اس سے کسی کو اختلاف نہیں ہوسکتا۔ لیکن جو اہم بات ہے وہ یہ کہ اسلامی اقتصادی فورم تعلیم کے فروغ کے لئے جو نصاب مرتب کرنا چاہتا ہے وہ کیا ہوگا؟ کیا مسلم ممالک میں سیکولر نظامِ تعلیم کو فروغ دینا مطمحِ نظر ہے؟ اس کا جواب اس کی تفصیل میں ہی دیکھا جاسکتا ہے۔ لہٰذا ہم مسلم ممالک کے حکمرانوں خصوصاً پاکستان کے حکمرانوں پر یہ بات واضح کردینا چاہتے ہیں کہ اسلامی اقتصادی فورم کی سفارشات کے تحت فروغ تعلیم کے لئے آپ جو بھی لائحۂ عمل بنائیں، بنیادی اسلامی تعلیم کا ڈھانچہ برقرار رہے، اس میں کسی قسم کی کتربیونت یا بیرونی پیوندکاری مسلمان برداشت نہیں کریں گے۔ اس لئے کہ ہم اول و آخر مسلمان ہیں،ہمارا حق ہے کہ ہم اپنے مذہب ومسلک کے متعلق جو ضروری معلومات ہیں وہ حاصل کریں اور اسی کے مطابق اپنی زندگیاں گذاریں۔ ایک مسلمان کا یہی سب سے بڑا شرف ہے۔ ہمارا دین، دینِ فطرت ہے۔ ہمارے دین نے دین اور دنیا دونوں کی فلاح کے اصول دیئے ہیں۔ اس لئے ہمیں کسی جدید یا سیکولر نظامِ تعلیم سے مشرف ہونے کی ضرورت نہیں۔ دوسرے یہ کہ اسلامی مدارس جو اسلامی علوم کے تخصص کی فیکلٹی ہیں، ان کے نصاب میں جدید دور کے حالات کے اعتبار سے ضرور ردّ و بدل کی جائے تاکہ وہاں کا فارغ التحصیل طالب معاشرہ کا ایک باخبر اور کارآمد فرد بن سکے، لیکن قرآن و حدیث کے جو نقلی علوم صدیوں سے ہمارا قیمتی ورثہ چلے آرہے ہیں اور جو دین کی ترویج و اشاعت اور اس کی تشریح و تبلیغ کے لئے نہایت اہم منبع ہیں ان کا نصاب سے اخراج مسلمانوں کے لئے ناقابلِ قبول ہوگا،سردھڑ کی بازی لگاکر وہ اس کو جاری رکھیں گے۔

            تیسرے یہ کہ خواتین ہمارے معاشرہ کا ایک بہت بڑا حصہ ہیں۔ آئندہ نسل کی صحیح تعلیم و تربیت اور صالح معاشرہ کے قیام میں ان کی بڑی ذمہ داری ہے۔ ان کی تعلیم وتر بیت اور صحت کے متعلق ایک جامع پروگرام وقت کی اہم ضرورت ہے خصوصاً دیہاتی علاقوں کی خواتین کی ناگفتہ بہ حالت کے سنوارنے کے لئے ایسے پروگرام کو ملک گیر پیمانے پر عمل در آمد کروانے کی اشد ضرورت ہے تاکہ ان مظلوم خواتین کے سدھار کے ساتھ صالح معاشرہ آئندہ تشکیل پذیر رہے لہٰذا اس کے لئے بھی خواتین کو بنیادی اسلامی تعلیمات سے آگاہ کرنا از بس ضروری ہے۔ لیکن فی الوقت حکومت کی آشیرباد کے ساتھ ملک کے پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا خواتین کو سرِ بازار لاکر فحاشی و عریانی کے فروغ میں جو کردار ادا کررہا ہے۔ اس کے پیشِ نظر خدشہ پیدا ہوتا ہے کہ اسلامی اقتصادی فورم کے اس پروگرام کو عملی جامہ پہنانے والے حکومت کے سیکولر ذہن کے ارباب و حل و عقد اس کو بھی اپنے مذموم مقاصد کے لئے استعمال نہ کریں۔ اگر خدانخواستہ ایسا ہوا تو حکمرانوں پر واضح ہوجانا چاہئے کہ پاکستان کے مسلمان اسے برداشت نہیں کریں گے۔ پھر ان کے لئے اپنی بساطِ سیاست لپیٹ لینے کے علاوہ کوئی چارۂ کار نہیں ہوگا۔

            ان چند تحفظات کے باوجود ہم اسلامی اقتصادی فورم کی ان سفارشات کا خیرمقدم کرتے ہیں اور حسنِ ظن رکھتے ہوئے توقع کرتے ہیں کہ مسلم حکمران خصوصاً اسلامی جمہوریہ پاکستان کے حکمران جنہوں نے اسلامی قوانین کے نفاذ کا حلف اٹھایا ہوا ہے، خلوصِ نیت اور خشیتِ الٰہی کے ساتھ پاکستان اور عالمِ اسلام کے مسلمانوں کی دنیاوی اور اخروی فلاح کی خاطر اسلامی اقتصادی فورم کی جائز سفارشات کو جلد از جلد عملی جامہ پہنانے کی کوشش کریں گے۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی خوشنودی کی خاطر وہ جو کام بھی کریں گے ان شاءاللہ فتوحات ان کے ساتھ ہوں گی۔ ہم بھی ان کی کامیابی کے لئے دعاگو ہیں اور علامہ اقبال کا یہ شعر ان کی نذر کرتے ہیں:

آج بھی ہو جو براہیم کا ایماں پیدا

آگ کرسکتی ہے اندازِ گلستاں پیدا

October 29, 2006

جمعیت علماء پاکستان کے مرکزی رہنما لیفٹیننٹ جرنل ریٹائرڈ کے ایم اظہر انتقال کرگئے

Filed under: Home, ہوم, اپنی بات — sulemansubhani @ 4:22 pm

جمعیت علماء پاکستان کے مرکزی رہنما لیفٹیننٹ جرنل ریٹائرڈ کے ایم اظہر انتقال کرگئے ۔

سابق گورنر سرحد اور جمعیت علماء پاکستان کے مرکزی رہنما لیفٹیننٹ جرنل ریٹائرڈ کے ایم اظہر آج صبح لاہور میں انتقال کرگئے ، ان کی عمر 89 برس تھی ، جرنل کے ایم اظہر کو 22 اکتوبر کو برین ہیمبرج ہوگیا تھا انھیں سی ایم ایچ لاہور میں داخل کیا گیا جہاں آج صبح ساڑھے چھ بجےوہ وفات پاگئے ، ان کی جسد خاکی کو سی ایم ایچ  کے سرد خانے میں رکھا گیا ہے ان کی نماز جنازہ پیر کے روز ساڑھے تین بجے گیریژن مسجد لاہورکینٹ میں ادا کی جائے گی جس کے بعد انھیں ان کی اہلیہ کے پہلو میں سپرد خاک کیا جائے گا ۔
جرنل کے ایک اظہر نے پانچ جنگیں لڑیں ، وہ 48 کی جنگ کشمیر میں نشان حیدر حاصل کرنے والے کیپٹن سرور شہید کے کمانڈر رہے ، 64 میں انہوں نے رن آف کچھ کا معرکہ سر کیا ، 65 کی جنگ میں راجستھان کے محاذ پر ان کی زیر قیادت پاک فوج نے بھارت کے وسیع علاقے پر قبضہ کرلیا تھا ، 1971 کی جنگ میں صوبہ سرحد کی گورنری چھوڑ کر راجستھان کے محاذ پر لڑے اور زخمی ہوگئے ، انھیں ستارہ پاکستان اور ستارہ قائد اعظم ملٹری عطا کیا گیا ، مرحوم نے سوگواروں میں پانچ بیٹے اور دو بیٹیاں چھوڑی ہیں ، جرنل کے ایک اظہر صوبہ سرحد کے گورنر ، پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئر مین اور پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر رہے ہیں وہ جمعیت علماء پاکستان سے وابستہ رہے مرحوم شاہ
احمد نورانی‌کے‌قریبی ساتھی تھے۔

 

LAHORE: Former Governor NWFP and central leader Jamiat Ulema-e-Pakistan, K. M. Azhar breathed his last at Combined Military Hospital here on Sunday. He was 89.

According to family sources, K. M. Azhar after brain hemorrhage on October 22 was admitted in CMH Lahore where he died this morning.

Lt. Gen (retd) K.M. Azhar who was born in 1918, got commission in the British Indian Army in the year 1945 and took part in the Second World War on Burma Sector. He also participated in the three wars against India.

Azhar also served as the President of Pakistan Hockey Federation and Pakistan Cricket Board.

His Nimaz-e-Jinaza will be held at Garrison mosque in Lahore Cantt on Monday at 3:30 PM

He was survived by five sons and two daughters.

October 23, 2006

عید مبارک ہو

Filed under: Home, ہوم, اپنی بات — sulemansubhani @ 6:29 pm

السلام علیکم
 ہماری طرف سے سب کو عید سعید کی بہت بہت مبارک ہو ۔
           والسلام      
     سلیمان سبحانی

October 19, 2006

شب قدر اور یوم آزادی پاکستان مبارک ہو

Filed under: Home, ہوم, اپنی بات — sulemansubhani @ 2:42 pm

السلام علیکم
 رمضان المبارک کی مبارک ساعتیں ہیں ، اور یہ عظیم مہمان ہم سے جلد رخصت ہونے والا ہے اور عظیم رات شب قدر قریب تر ہے اور آپ سے درخواست ہے ہمیں بھی اپنی دعائوں میں یاد رکھیئے گا  ، خصوصی طور پر الحاج حاجی حافظ محمد نواز صاحب ، محترم سعد صاحب و زوجہ ، محترم عمر الہٰی صاحب و زوجہ ، محترم الحاج شیر محمد صاحب رحمۃ اللہ علیہم ۔ اور شہدا ء عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم نشتر پارک اور دیگر تمام مسلمین اور مسلمات کو اپنی دعائوں میں یاد رکھیئے گا ۔
                                     والسلام                                             
                             مسٹر اینڈ مسز سلیمان سبحانی                             

October 11, 2006

بیرونِ ملک ڈاک اخراجات میں ہوش ربا اضافہ

Filed under: Home, ہوم, اپنی بات — sulemansubhani @ 9:38 am

بیرونِ ملک ڈاک اخراجات میں ہوش ربا اضافہ۔
فروغِ علم اور پرنٹ میڈیا کے خلاف ایک سازش

                       محکمہ ڈاک نے بیرونِ پاکستان ڈاک کے نرخوں میں یکم جولائی 2006ءسے اندھادھند اضافہ کردیا ہے۔ اس اضافہ سے قبل 20گرام وزنی ڈاک لفافے پر تقریبا 25روپے خرچ آتا تھا جسے بڑھاکر پچپن روپے تک کردیا گیا ہے۔56 صفحات کا ایک ماہوار پرچہ 20روپے میں بیرونِ ملک (خصوصاً ہندوستان) جایا کرتا تھا۔ اب تقریباً 80 روپے لگتے ہیں۔ ایک کتاب، جس کا وزن سوا کلو گرام ہوتا تھا اور اس پر نرخ بڑھنے سے قبل تقریباً 160  روپے کے ڈاک ٹکٹ لگتے تھے، اب پتا کیا گیا تو پوسٹ آفس والوں نے ایک ہزار ایک سو روپے کے ڈاک ٹکٹ لگانے کے لئے کہا۔
                       اندازہ لگالیں، حکومت کے ان پالیسی ساز اداروں کی کارکردگی کا کہ یہ عام شہریوں کے لئے معلومات اور علم تک رسائی کو کس قدر مہنگا اور مشکل بنارہے ہیں۔ روزنامہ نوائے وقت کی ایک خبر کے مطابق یہ اضافہ محض اس لئے کیا گیا ہے کہ اسلامی لٹریچر بیرونِ ممالک کم سے کم تعداد میں پہنچ پائے کہ یہ حکومت کے لئے مشکلات کا سبب بنتا ہے۔

                        پاکستانی محکمہ ڈاک کا اگر ہندوستانی محکمہ ڈاک سے مقابلہ کیا جائے تو آپ حیران رہ جائیں گے کہ اس کی ڈاک انتہائی سستے ٹکٹوں میں پاکستان پہنچ رہی ہے۔ انڈین جرائد و رسائل تین روپے یا پانچ روپے کی ٹکٹوں کے ساتھ آتے ہیں، جبکہ پاکستان کے نرخ اس کے مقابلہ میں بہت ہی زیادہ ہیں۔ اس اندھادھند ڈاک خرچ اضافے پر جتنا بھی افسوس کیا جائے، وہ کم ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے تمام پرنٹ میڈیا اور ناشرین اداروں کا ایک نمائندہ وفد متحدہ طور پر متعلقہ حکومتی ادارے کے وزیر سے مل کر اس من مانے ہوشربا اضافہ کو ختم کرائے نیز سیاسی پارٹیوں کی معرفت قومی اسمبلی و سینیٹ میں بھی اس مسئلہ کو اٹھایا جائے اور حکومتِ وقت پر دباؤ ڈالا جائے کہ اس بے جا اضافے کو فوری طور پر واپس لے۔

اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف پاپائے روم کی ہرزہ سرائی

Filed under: Home, ہوم, اپنی بات — sulemansubhani @ 9:34 am

اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف پاپائے روم کی ہرزہ سرائی

 

                       اسلام پر تلوار کے زور سے پھیلنے کا الزام لگانا اور اس کے مقدس نظریہ جہاد کو خودساختہ معانی پہنا کر اس کے بارے میں غلط فہمیاں پیدا کرنا یوں تو ہر دور میں اہلِ مغرب کا محبوب مشغلہ رہا ہے لیکن تاریخی تناظر مین دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ صلیبی جنگوں کے بعد اس الزام کو مسلمانوں کے خلاف پروپیگنڈے کے لئے باقاعدہ ایک حربے کے طور پر استعمال کیا گیا۔ اسلام مخالف اس مہم میں سب سے اہم کردار یورپ کے کلیساوں خصوصاً پاپائے روم کا رہا ہے۔ مفتی اعظم دہلی اور مسجد فتحپوری (دہلی) کے شاہی امام و خطیب علامہ مفتی ڈاکٹر محمد مکرم احمد صاحب نے بجا طور پر ارشاد فرمایا ہے کہ ”پوپ بینی ڈکٹ کا بیان اسلام مخالف تحریک کا حصہ ہے اور یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں، پہلے بھی رومن کیتھولک چرچ کی طرف سے اس طرح کے اسلام مخالف توہین آمیز بیانات آتے رہے ہیں اور انہی کے نتیجہ میں صلیبی جنگیں ہوئیں۔ لیکن مسلمانوں کو مشتعل ہونے کی ضرورت نہیں بلکہ تدبر سے ڈپلومیسی اور میڈیا کے ذرائع کو استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔“ اور اب نائن الیون کے بعد مغرب اور اسلامی دنیا کے درمیان پیدا ہونے والی تلخیوں اور کشیدگیوں کو مزید ہوا دینے کے لئے خفی و جلی کوششوں کا جو سلسلہ جاری ہے وہ بھی اپنی کیفیت و کمیت کے لحاظ سے اسی سلسلہ کی کڑی محسوس ہوتی ہے۔
                       پاپائے روم پوپ بینی ڈکٹ ششم نے گزشتہ روز جرمنی کی ایک یونیورسٹی میں خطاب کے دوران اسلام کے خالف اس الزام کا اعادہ کرتے ہوئے جس طرح اسلام کی جہادی تعلیمات کا ناتا دہشت گردی سے جوڑنے کی سعیِ لاحاصل کی ہے وہ بلاشبہ اسلام اور بانیِ اسلام کی توہین کے زمرے میں آتی ہے اور اس سے دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ایک ارب سے زائد مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ دفترِ خارجہ پاکستان کی ترجمان نے اس پر اپنے سخت ردِّ عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بینی ڈکٹ کے الفاظ قابلِ مذمت اور خطرناک ہیں اور جو شخص یہ کہتا ہے کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا ہے اسے اسلام کی روح اور تعلیمات کا سرے سے کوئی علم نہیں۔ ترجمانِ دفتر خارجہ نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر رومی کلیسا کے سربراہ نے اپنے لیکچر میں واقعتا وہ الفاظ استعمال کئے ہیں جو اخبارات میں شائع ہوئے ہیں تو ان کے یہ جملے اسلام کی توہین کے مترادف ہیں جسے عالمِ اسلام برداشت نہیں کرے گا۔ اس لئے ہم اس قسم کے بیان کی مذمت کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس سے مذاہب کے مابین ہم آہنگی اور افہام و تفہیم کی کوششوں کو زبردست دھچکا لگے گا۔
                       ملک کی تمام جید شخصیات اور عمائدین نے پوپ کے اس بیان کو جہالت کا آئینہ دار قرار دیا اور پوپ سے مطالبہ کیا کہ وہ عالمِ اسلام سے معافی مانگیں۔ یومِ جمعہ کے موقع پر ملک گیر احتجاج کے دوران علماءنے کہا کہ اس بیان نے ایک ارب سے زائد مسلمانوں کے جذبات مجروح کئے ہیں۔ ادھر دفتر خارجہ میں ویٹی کن کے سفیر کو طلب کرکے انہیں مسلمانوں کے شدید ردِعمل سے آگاہ کیا۔ روزنامہ جنگ (۷۱ستمبر2006ء) نے اپنے اداریہ میں لکھا ہے کہ پوپ بینڈکٹ کی جہاد، شانِ رسالتﷺ، اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ہرزہ سرائی اور الزام تراشی دراصل ایک باقاعدہ سازش اور امتِ مسلمہ کے خلاف عصبیت کا حصہ اور مظاہرہ ہے اس پر پاکستان اور دوسرے مسلمان ممالک کا ردِّ عمل بجا اور درست لیکن اس مسئلہ سے نمٹنے کا یہ کوئی موثر حل نہیں اس کے لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ ملّتِ اسلامیہ اپنے خلاف صلیبی قوتوں کی سازشوں کا ادراک کرتے ہوئے اپنی صفوں میں اتحاد و یکجہتی پیدا کرے۔ مسلمان امام احمد رضا کے پیش کردہ فلاح و نجات کے چار نکاتی پروگرام پر عمل کرتے ہوئے عالمی مالیاتی اداروں کے چنگل سے نکل کر باہر آئیں اور اپنی مالیاتی اور دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ کریں۔ ہمیں اس حقیقت کو ایک لمحہ کے لئے بھی فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ اسلام دشمن قوتیں ان کے وسائل پر قبضہ کرکے انہیں اقتصادی اور سیاسی غلامی کے شکنجے میں جکڑنا چاہتی ہیں۔ اس طرح کی اسلام دشمن سازشوں کا صحیح ادراک ہی امتِ مسلمہ کو تباہی سے بچاسکتا ہے۔

امام احمد رضا کی ”تدبیر فلاح و نجات و اصلاح“۔

Filed under: Home, ہوم, امام احمد رضا خان, اپنی بات — sulemansubhani @ 9:33 am

امام احمد رضا کی ”تدبیر فلاح و نجات و اصلاح“۔
حالاتِ حاضرہ کے تناظر میں بہترین لائحہ عمل
مدیر اعلیٰ صاحبزادہ سید وجاہت رسول قادری کے قلم سے

قارئین کرام!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
                       آج سے تقریباً نوّے سال قبل مسلمانانِ عالم کی کس مپرسی، انتشار و افتراق، افراتفری اور بے پری کے وہی حالات تھے جو بعض اختلافات کے ساتھ آج ہیں۔ سب سے بڑی سنّی اسٹیٹ سلطنتِ عثمانیہ ترکیہ کا، انگریزوں، یہودیوں اور یوروپین ممالک کی سازشوں کے تحت شیرازہ بکھر چکا تھا۔ عرب ممالک چھوٹی چھوٹی حدبندیوں میں مختلف آزاد مملکتوں میں بٹ چکے تھے۔ افریقہ میں سلطنتِ ترکیہ کے بعض صوبوں پر اٹلی، فرانس اور جرمنی قابض ہوچکے تھے۔ ہندوستان میں 1857ءکی جنگِ آزادی اور سلطنتِ مغلیہ کے زوال کے بعد برطانوی سامراج کا نام نہاد ”نہ ڈوبنے والا سورج“ طلوع ہوچکا تھا۔ ہندوستان کے مسلمانوں کی حالت سیاسی اور معاشی اعتبار سے زیادہ ابتر تھی کہ مسلمان انگریزوں کے محکوم ہوچکے تھے اور انگریز اور ہندو دونوں مل کر مسلمانوں کے مفادات پر یلغار کررہے تھے۔
                       غرضکہ جب اس دور کی ”سیاسیاتِ حاضرہ“ کی تماشہ گاہ پر نظر دوڑاتے ہیں تو مسلمان ہر طرف سے صاحبِ جبر و تسلط اور ظلم و استبداد کی حامل طاغوتی قوتوں کی مکرسامانیوں اور فریب کاریوں کے جال میں جکڑے نظر آتے ہیں۔ بعینہ بساطِ عالم کی سیاسیات کا نقشہ آج بھی ویسا ہی نظر آرہا ہے سوائے ایک تبدیلی کے کہ ”یونین جیک“ کی فسوں کاری کے بجائے اب ”انکل سام“ کی لمبی ہیٹ کا ”میجک شو“ دکھایا جارہا ہے۔ مسلمانوں کے سیاسی اور معاشی نشہ غلامی کو تیز تر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور غلاموں کے قلب و دماغ کو ”نیو ورلڈ آرڈر“ اور ”گلوبلائزیشن“ کی بستیوں کی دیوارِ مَحبَس میں آسودہ رہنے کی تعلیم دی جارہی ہے۔ ایسے مایوس کن، تاریک اور اعصاب شکن حالات میں صاحبِ صدق و صفا، وارثِ علوم انبیاء(علیہم الصلوٰة والسلام)، ”قائما بالقسط“ کی صفت سے متصف، ”اولوا الامر منکم“ کی تفسیرِ مجسم، اپنے عہد کے صاحبِ امروز، شیخ الاسلام والمسلمین، امام احمد رضا خاں محدثِ بریلوی قدس سرہ کی دلوں کو ڈھارس دینے والی آواز گونجتی ہے کہ مسلمانو! گھبراو نہیں، مایوس ہونے کی ضرورت نہیں، اب بھی تم عظمتِ رفتہ کی سطوت و شوکت کو واپس لاسکتے ہو، بشرطِ کہ تم یہ عزم کرلو:
                       ”تبدیل احکام الرحمن اور اختراعِ احکام الشیطان سے ہاتھ اُٹھاو،مشرکین (یہود و ہنود، نصاریٰ و دیگر دشمنانِ اسلام) سے اتحاد توڑو، مرتدین کا ساتھ چھوڑو کہ محمد رسول اللہﷺ کا دامنِ پاک تمہیں سایہ میں لے۔۔۔ دنیا ملے نہ ملے، دین تو ان کے صدقے میں ملے۔ یٰآاَیُّھَا الَّذِینَ اٰمَنُوا ادخُلُوا فِی السَّلمِ کَآفۃٍ وَّلَاتَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّیطَان اِنَّہ لَکُم عَدُوّ مُّبِین“       (المحجۃ الموتمنہ، بحوالہ ”اوراقِ گم گشتہ“، ص: ۲۹۹)
                       امام احمد رضا نے انتباہ فرمایا کہ قرآنی ارشاد کے مطابق کافر و مشرک، یہود و نصاریٰ، آتش پرست و ستارہ پرست سب ہی مسلمانوں کے دشمن ہیں۔

کافر، ہر فرد و فرقہ دشمن مارا                                   مرتد، مشرک، یہود و گبر و ترسا

(الطاری الداری، ص:۳، مطبوعہ بریلی، ص:۹۹)

                       امام موصوف نے دشمن کی نفسیات کا تجزیہ کرتے ہوئے مسلمانوں کو تلقین کی کہ: ”دشمن اپنے دشمن کے لئے تین باتیں چاہتا ہے:
                       اول، اس کی موت، کہ جھگڑا ہی ختم ہوجائے،
                       دوم، یہ نہ ہو تو اس کی جلا وطنی، کہ اپنے پاس نہ رہے،
                       سوم، یہ بھی نہ ہوسکے تو آخری درجہ اس کی بے پری کہ عاجز بن کررہے۔
                       مخالفت کے یہ (تینوں) درجے ان (مسلمانوں) پر (دشمنانِ اسلام نے) طے کردیئے اور ان کی آنکھیں نہیں کھلتیں، خیر خواہ ہی سمجھے جاتے ہیں۔“     

 (المحجۃ الموتمنہ، بحوالہ ”اوراقِ گم گشتہ“، ص:۹۹ ۲)

                       ذرا اس اقتباس کو آپ غور سے پڑھیں اور پھر دوبارہ پڑھیں کس قدر سچائی ہے اس میں! اور پھر آج کے حالات کے منظرنامے پر ایک نظر دوڑائیں۔ اس وقت دنیا میں روزانہ ظلماً ہلاک کئے جانے والوں میں سب سے زیادہ تعداد مسلمان شہداءکی ہے، کوسوو، بوسنیا، سربیا، کروشیا، کشمیر، فلسطین، چیچنیا، عراق، افغانستان، لبنان، شمالی اور وسطی افریقہ کے بعض وہ ممالک جہاں عیسائیوں کی حکومت ہے اور مسلمان اقلیت میں ہیں، یہ تمام خطہ ارض مسلمان شہداءکے خون سے رنگین ہے۔ امریکہ، برطانیہ، نیٹو، روس، یوروپین ممالک اور اس پر مستزاد امریکہ کا بغل بچہ یو۔این۔او، یہ سب لاکھوں لاکھ معصوم مسلمان مرد، عورت، بچوں اور بوڑھوں کی شہادت اور اربوں ڈالر کی ان کی جائداد کی تباہی کے ذمہ دار ہیں۔ پھر آپ دنیا کے مہاجرین (ہجرت شدہ افراد) کی شماریات پر نظر ڈالیں تو ان میں اکثریت مسلمانوں کی ہے۔ اس وقت کشمیر، افغانستان، عراق، فلسطین، بوسنیا، چیچنیا، کوسووو، پر عملی طور سے ہندوستان، امریکہ برطانیہ، نیٹو (یوروپین ممالک)، اسرائیل اور روس کی افواج کا غاصبانہ قبضہ ہے۔ جہاں پر اقوامِ متحدہ کی افواج تعینات ہیں، وہاں بھی مسلمان دوسروں کے رحم و کرم پر ہیں اور اپنی فوج سے محروم ہیں۔ بلکہ ان جگہوں پر مسلمانوں کی جان و مال اور عزت و آبرو سب سے زیادہ خطرہ میں ہے۔ اقوامِ متحدہ کا کام صرف ان ملکوں کی سرحدی سڑکوں کی سیر اور دوربین سے دونوں اطراف کے قدرتی مناظر کا نظارہ کرنا ہے۔ کوسووو، بوسنیا، سربیا، کروشیا اور اب لبنان میں اسی فوج نے لاکھوں مسلمانوں کو اپنی نگاہوں کے سامنے قتل کروادیا اور ”ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم“ کا مجسمہ بنے دیکھتے رہے۔ اس فوج کی تعیناتی بھی مسلمانوں کے خلاف ایک سامراجی سازش ہے تاکہ مسلمان نہ اپنا دفاع کرسکیں اور نہ اپنی سرحدوں پر کئے گئے حملے کا جواب دے سکیں۔ باقی تقریباً تمام ممالک (ماسوا ملائشیا) کی سیاسی بساط اور معاشی و اقتصادی مفادات امریکن نیوورلڈ آرڈر کے زیر نگیں ہیں۔
                       ایک مستفتی کے اس سوال کے جواب میں کہ ایسے حالات میں مسلمانوں کی کیا کرنا چاہئے، امام احمد رضا نے ”تدبیرِ فلاح و نجات و اصلاح“ (1331ھ/1912ء) کے نام سے ایک رسالہ لکھا۔
                       آپ نے تحریر فرمایا کہ اس کا جواب میں کیا دے سکتا ہوں، اس کا جواب تو خود قرآن شریف میں درج ہے۔ ”اللہ عزوجل نے تو مسلمانوں کی جان و مال، جنت کے عوض خریدے ہیں:
                       اِنَّ اللّٰہَ اشتَرٰی مِنَ المُومِنِینَ اَنفُسَھُم وَاَموَالَھُم بِاَنَّ لَھُمُ الجَنۃِ     مگر ہم ہیں کہ مبیع (قیمت) دینے سے انکار اور ثمن (مال) کے خواستگار۔“
                       اس کے بعد تلقین و نصیحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
                       ”بہتر ہے کہ مسلمان اپنی سلامت روی پر قائم رہیں، کسی شریر قوم کی چال نہ سیکھیں، اپنے اوپر مفت کی بدگمانی کا موقع نہ دیں۔“
                       امام احمد رضا کی یہ نصیحت آج کے حالات میں بھی اتنی ہی مفید ہے جتنی ان کے دور کے حالات میں تھی۔ وہ مسلمانوں کو سلامت روی کی راہ پر گامزن رہنے اور ہر قسم کے فتنہ و فساد اور دہشت گردی کی راہ (جسے وہ شریر قوموں کا وطیرہ قرار دے رہے ہیں) سے خود کو علیحدہ رکھنے کی ہدایت دے رہے ہیں تاکہ خواہ مخواہ دوسری شریر اور دشمن قوموں کو جو طاقتور بھی ہیں، ان پر فتنہ پروری اور دہشت گردی کا لیبل لگاکر پریشان کرنے کا موقع ہاتھ نہ آسکے۔
                       لہٰذا امام احمد رضا کے خیال میں ایسے حالات میں مسلمانوں کو چاہئے کہ جذبات کی رو میں بہہ جانے کے بجائے وہ پُرسکون اور پُرامن رہ کر اپنے تعمیری کاموں میں لگے رہیں اور خود کو معاشی، اقتصادی، علمی اور سیاسی طور پر طاقتور بنائیں تاکہ وقت آنے پر دشمن کے مقابل ہر طرح کے اسلحہ سے لیس ہوکر صف آراءہوسکیں اور اپنا حقِ دفاع استعمال کرسکیں اور جہادِ زندگانی میں کامیاب و کامران رہیں۔
                       پھر امام صاحب نے ملتِ اسلامیہ کی اخلاقی، معاشی، تعلیمی اور سیاسی فلاح و بہبود کے لئے چار تجاویز پیش کیں جن کا معاشی اور اقتصادی پہلو کے اعتبار سے لب و لباب یہ ہے:
                       (۱)             مسلمان اپنے وسائل پس انداز کریں، غیر ضروری اور غیر پیداواری اخراجات سے اجتناب کریں۔ مسلمان اپنے معاملات خود طے کریں۔ یعنی غیر ملکی حکومتوں کی عدالتوں، سپرطاقتوں یا دشمنانِ اسلام کی ساختہ انجمنِ اقوام (مثلاً یو۔این۔او وغیرہ) کے دفتروں سے رجوع نہ کریں کیونکہ مسلمانوں کے حق میں کوئی فیصلہ ان سے صادر ہونے کی توقع ہی عبث ہے اور خواہ مخواہ مسلمانوں کے قیمتی وقت، مال اور دیگر وسائل کا ضیاع ہوگا۔ وہی وسائل ملکی ترقی، تعلیم، سرمایہ کاری اور پیداواری صلاحیتوں کو بڑھانے میں صرف ہوسکتا ہے جس سے مسلمان اور مسلمان ملکوں کی طاقت اور معاشی خوشحالی میں اضافہ ہوگا۔
                       (۲) مسلمان ابتداً اپنے ملکوں کے تمام بڑے بڑے شہروں میں جدید خطوط پر اسلامی بینکاری کے نظام کا جال بچھائیں تاکہ مسلمان اس سے استفادہ کرتے ہوئے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر اپنی معیشت، تجارت اور صنعت و حرفت کو ترقی پذیر اور مستحکم بناسکیںاور جب وہ اقتصادی اور معاشی طور پر مضبوط ہوں گے تو لامحالہ عسکری قوت کا توازن بھی ان کے حق میں ہوجائے گا۔
                       (۳) مسلمان اپنی قوم کے سوا کسی سے کچھ نہ خریدیں۔ یعنی دشمنانِ اسلام، ہنود، یہود، نصاریٰ، مشرکین و کفار کی مصنوعات کا منصوبہ بند تجارتی بائیکاٹ کرکے صرف مسلمانوں اور مسلم ممالک کی مصنوعات کو فروغ دیں۔ اس طرح مسلمان تاجروں اور صنعتکاروں کو معاشی تحفظ ملے گا۔ اشیاءکی طلب کے ساتھ پیداوار میں اضافہ ہوگا، پیداوار میں اضافہ سے مسلمانوں کے روزگار اور آمدنیوں میں اضافہ ہوگا۔ مسلمان تاجروں کے کاروبار اور صنعت و حرفت کے فروغ کے ساتھ ساتھ مسلم ممالک کی اقتصادی قوت بین الاقوامی مارکیٹ میں دیگر قوموں کی معیشت کو متاثر کرکے تجارتی توازن اپنے حق میں برقرار رکھ سکے گی۔ اس نکتہ میں امام احمد رضا نے ایک بین الاقوامی مسلم مشترکہ منڈی کا تصور بھی پیش کیا ہے جسے علمِ معاشیات کی ایک نئی شاخ نظریہ وحدۃ التامیۃ الاقتصادیہ (Theory of Economic Integration ) کہا جاتا ہے۔ واضح ہوکہ جنگِ عظیم دوم (1946-1945ء) کے بعد جب معاہدہ روم کے تحت ”یوروپین مشترکہ منڈی“ کا قیام عمل میں آیا اس وقت ماہرین علماءاقتصادیات نے اس جدید نظریہ کو پیش کیا۔ حالآنکہ امام احمد رضا 1912ء ہی میں اقتصادیات کی اس نئی شاخ سے مسلمانوں کو متعارف کراچکے تھے۔
                       ) مسلمان علمِ دین کی ترویج و اشاعت کریں۔
                       یہ نکتہ بھی بہت اہم ہے۔ امام احمد رضا نے فروغِ علمِ حقیقی و نورانی کی ترغیب دی ہے اور اس کے حصول کی تشویق پیدا کی ہے۔ اگر بنظرِ غائر دیکھا جائے تو ایک لحاظ سے اس کا تعلق بھی مسلمانوں کی اقتصادیات اور سیاستِ مُدن سے ہے۔ پہلے تین نکات پر عمل کا جذبہ قومی اور ملی تصلب سے پیدا ہوتا ہے اور قومی تصلب و عصبیت کے لئے علمِ نافع کی تعلیم اور معاشرے میں اس کا فروغ لازم و ملزوم ہے تو اس طرح یہ آخری نکتہ بھی اقتصادیات و سیاستِ اسلامی سے متعلق ہے۔ جب ہم علومِ اسلامی کی تعلیم کی بات کرتے ہیں تو اس میں قرآن و سنت کے علاوہ اپنے دور کے وہ تمام عقلی و نقلی یعنی روایتی، سائنسی اور معاشرتی علوم شامل ہوتے ہیں جو کسی نہ کسی اعتبار سے دینِ اسلام کی اشاعت و تبلیغ، ملک و ملت اور معاشرے کے افراد کی ترقی اور ملک و قوم کی بقا اور قوت کے لئے معاون و ممد ہوسکتے ہیں یا بطورِ آلہ استعمال ہوسکتے ہیں۔ کیونکہ دینِ اسلام دینِ فطرت ہے۔ یہ ایک کُل کا نام ہے۔ اس میں فرد، معاشرہ اور ملت کی حیات کے تمام گوشوں کا احاطہ ہے اور ”علمِ دین“ کا حصول انہی گوشوں کی ضروریات کو پورا کرتا ہے۔ اس لئے ہر زمانہ اور ہر دور بلکہ صبحِ قیامت تک انسان ایک خدا ترس اور پُرامن معاشرہ کی تکمیل کے لئے اس کے حصول کا محتاج رہے گا۔
                       محدثِ بریلوی علیہ الرحمة اپنی تجاویز پیش کرنے اور اس کا معروضی تجزیہ کرنے کے بعد تحریر کرتے ہیں:
                       ”یہ وجوہ ہیں، یہ اسباب ہیں۔ مرض کا علاج چاہنااور سبب قائم رکھنا، حماقت نہیںتو کیا ہے، جس کی زندہ مثال یہ ترکوں کا تازہ واقعہ ہے۔ ولاحول ولاقوة الا باللہ العلی العظیم۔
                       اہل الرائے ان وجوہ پر نظر فرمائیں اگر میرا خیال صحیح ہو تو ہر شہر و قصبے میں جلسہ کریں اور مسلمانوں کو ان چار باتوں پر قائم کردیں۔ پھر آپ کی (یعنی مسلمانوں کی) حالت خوبی کی طرف نہ بدلے تو شکایت کیجئے۔“
                       امام احمد رضا کے مذکورہ نکات اور ان کا پیش کردہ لائحہ عمل حالاتِ حاضرہ کے تناظر میں آج بھی مسلمانانِ عالم کے لئے اتنا ہی پُرکشش اور بہترین طرزِ عمل کا داعی ہے جتنا کہ ان کے دور میں تھا۔ انہوں نے اُس دور میں وحدتِ اسلامیہ کی کوشش کی جب بانیِ پاکستان مسٹر محمد علی جناح اور علامہ ڈاکٹر محمد اقبال جیسے رہنما ہندو مسلم اتحاد کے داعی تھے۔ غالباً علامہ اقبال امام احمد رضا کے انہی افکار سے متاثر ہوکر ”مرغِ زیرک“ کی ”دانہ مستی“ پر تڑپ جاتے ہیں اور سیاسیاتِ حاضرہ کے فسوں کو توڑنے پر آمادہ ہوکر اس کی نسبت یوں نغمہ سرا ہوتے ہیں:

می کند بندِ غلاماں سخت تر

حریت می خواند اُو را بے بصر
در فضایش بال و پر نتواں کَشود

باکلیدش ہیچ در نتواں کَشود
گفت بامرغِ قفس ”اے درد مند

 آشیاں در خانہ صیاد بند
ہر کہ ساز و آشیاں در دشت و مَرغ

او نباشد ایمن از شاہین و چَرغ“
از فسونش مرغِ زیرک دانہ مست

نالہ ہا اندر گلوئے خود شکست
الحذر از گرمیِ گفتار اُو

الحذر از حرفِ پہلو دارِ اُو

ترجمہ:
                       ٭ (دورِ حاضر کی سیاست) غلامی کے بند (قید) کو اور سخت کردیتی ہے۔ حریت (آزادی) اسے بے بصر (اندھا) کہتی ہے۔
                       ٭ (سامراجیت کی) اس فضا میں پرواز ممکن نہیں۔ اس کی کنجی سے کوئی دروازہ نہیں کھل سکتا (یعنی کوئی مسئلہ حل نہیں ہوسکتا۔ مسئلہ کا حل صرف اسلامی تعلیمات میں ہے۔)
                       ٭ (سامراجیت) قفس میں قید پرندہ سے کہتی ہے کہ ”(غلامی پر رضامند ہوکر) شکاری کے گھر میں اپنا آشیانہ بنالے۔
                       ٭ جو کوئی بیاباں اور باغ میں آشیانہ بناتا ہے وہ شاہین اور چَرغ (یعنی شکار کرنے والے پرندوں) سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔“
                       ٭ اس کے جادو کے اثر سے عقلمند پرندہ بھی دانہ مست بن جاتا ہے اور اس کا نالہ اس کے گلے میں پھنس جاتا ہے۔
                       ٭ اس (سامراج) کی گرمیِ گفتار اور پرفریب باتوں سے اللہ پناہ میں رکھے۔

                        اللہ تعالیٰ ہمیں اور ہمارے حکمرانوں کو امام احمد رضا علیہ الرحمة کے افکار و تعلیمات اور ان کے پیش کردہ لائحہ عمل پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہِ سید المرسلینﷺ

« Newer Posts

Blog at WordPress.com.