01 قاسم علی نانوتوی کی خرافات
چھوٹے میاں سبحان اللہ
بردران اسلام ہم انشاءاللہ قاسم علی نانوتوی صاحب کی کرامات سے آغاز کرینگے مگر دل میں خیال آرہا ہے کہ اتنی بڑی بزرگ ہستی کا ذکر کرنے سے پہلے ان کے ایک خادم کی شان بیان کروں تاکہ عوام پر ان کی بزرگی کا سکہ بیٹھ جائے تو آئیے ہم ایک حیرت انگیز سفر پر روانہ ہوتے ہیں دیوان جی نامی ایک صاحب کے متعلق مناظر احسن گیلانی نے اپنی کتاب سوانح قاسمی میں ایک نہایت حیرت انگیز واقعہ نقل کیا ہے موصوف لکھتے ہیں ::
مولانا محمد طیب نے یہ اطلاع دی ہے کہ یٰسین نام کے دو صاحبوں کا خصوصی تعلق سیدنا الامام الکبیر ( مولوی قاسم صاحب نانوتوی ) سے تھا جن میں سے ایک تو یہی دیوان جی دیوبند کے رہنے والے تھے اور بقول مولانا طیب صاحب دیوبند میں حضرت والا کی خانگی اور ذاتی دور کا تعلق انہی سے تھا لکھا ہے کہ صاحب نسبت بزرگ تھے اپنے زنانہ مکان کے حجرے میں ذکر کرتے مولانا حبیب الرحمن ساحب سابق مہتمم دارالعلوم دیوبند فرمایا کرتے تھے کہ اس زمانے میں کشفی حالت دیوان جی کو اتنی بڑھی ہوئی تھی کہ باہر سڑک پر آنے جانیوالے نظر آتے رہتے تھے درودیوار کا حجاب ان کے درمیان ذکر کے وقت باقی نہیں رہتا تھا -
( حاشیہ سوانح قاسمی ج 2 ص 73 مطبوعہ مکتبہ رحمانیہ لاہور )
برادران اسلام آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ یہ شان و کشف غلام کا ہے تو پھر آقا و مرشد و مولا کا کیا حال ہوگا وہ کہتے ہیں کہ ۔
چاہیں تو اشاروں سے اپنے کایا ہی پلٹ دیں دنیا کی
یہ شان ہے ان کے غلاموں کی سردار کا عالم کیا ہوگا
لا الہ الا اللہ : دیکھ رہے ہیں آپ مولوی قاسم صاحب نانوتوی کے ایک خانگی خادم کی یہ کشفی حالت کہ مٹی کی دیواریں شفاف آئینہ کی طرح ان پر روشن رہا کرتی تھیں لیکن فہم و اعتقاد کی اس گمراہی پر سر پیٹ لینے کو جی چاہتا ہے کہ ان حضرات کے یہاں مٹی کی دیواریں سرکار رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ پر حجاب بن کر حائل رہتی تھیں ۔جیسا کہ دیوبندی جماعت کے معتمد وکیل مولوی منظور صاحب نعمانی تحریر فرماتے ہیں :
اگر حضور دیوار کے پیچھے کی سب باتیں معلوم ہوجایا کرتے تھیں تو حضرت بلال سے ( دروازہ پر کھڑی عورتوں کے نام لیکر ) دریافت کرنے کی کیا ضرروت تھی ۔
( فیصلہ کن مناظرہ ص 135 مطبوعہ دا الاشاعت سنبھل ضلع مراد آبادی یوپی انڈیا )
لا الہ الا اللہ : آپ ہی انصاف کیجیے کہ رسول کے حق میں کیا اس سے زیادہ بھی جذبہ دل کی بیگانگی کا کوئی تصور کیا جاتا ہے ۔
لگے ہاتھوں انہی دیوان جی کا ایک کشف اور ملاحظہ فرمائیے ۔ مولوی مناظر احسن گیلانی اپنے اس حاشیہ میں یہ روایت نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں ، انہی دیوان جی کے مکاشفہ کا تعلق دارالعلوم دیوبند سے نقل کیا جاتا ہے لکھتے ہیں کہ مثالی عالم میں ان پر منکشف ہوا کہ دارالعلوم کے چاروں طرف ایک سرخ ڈورا تنا ہوا ہے اپنے اس کشفی مشاہدہ کی تعبیر خود کیا کرتے تھے کہ نصرانیت اور تجدد و کناوی کے آثار ایسا معلوم ہوتا کہ دارالعلوم میں نمایاں ہوں گے ۔
( حاشیہ سوانح قاسمی ج 2 ص 73 مطبوعہ مکتبہ نعمانیہ لاہور )
مجھے اس مقام پر سوا اس کے اور کچھ نہیں کہنا کہ جو لوگ اپنا عیب چھپانے کیلئے دوسروں پر انگریزوں کی کاسہ لیسی اور ساز باز کا الزام عائد کرتے ہیں ، وہ گریبان میں منہ ڈال کر ذرا اپنے گھر کا یہ کشف نامہ ملاحظہ فرمائیں ، کتاب کے مصنفین کو اس کشف پر اگر اعتماد نہ ہوتا تو وہ ہرگز اسے شائع نہ کرتے اور بات کشف ہی تک نہیں ہے تاریخی دستاویزات بھی اس امر واقعہ کی تائید میں ہیں کہ انگریزوں کے ساتھ نیاز مندانہ تعلقات اور رازدانہ ساز ، باز دارالعلوم دیوبند اور منتظمین و عمائدین کا ایسا نمایاں کارنامہ ہے جیسے انہوں نے فخر کے ساتھ بیان کیا ہے اور یہ بات میں ازراہ الزام نہیں کہہ رہا ہوں بلکہ دیوبندی لٹریچر سے جو تاریخی شہادتیں مجھے موصول ہوئی ہیں ان کی روشنی میں اس کے سوا اور کچھ کہا ہی نہیں جاسکتا ، نمونے کے طور پر چند تاریخی حوالے اگلی پوسٹوں میں ملاحظہ فرمائیے ۔۔۔
لطیفہ نمبر 24 !
مولانا نانوتوی انسان نہ تھے بلکہ انسانیت سے بالا تر تھے ارواح ثلٰثہ کا چیلنج !
مولانا رفیع الدین فرماتے تھے کہ پچیس (25) برس حضرت مولانا نانوتوی کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں اور کبھی بلاوضو نہیں گیا ۔ میں نےانسانیت سے بالا درجہ اُن کا دیکھا ۔ ( ارواح ثلاثہ ص 240 )
تصویر کا دوسرا رخ ملاحظہ ہو ، مولانا نبی کریم کے بارے میں فرماتے ہیں :-
جو بشر کی سی تعریف ہو سو ہی کرو ۔ اس میں بھی اختصار کرو ۔ ( تقویۃ الایمان ص72 )
بہر حال زیر غور مسئلہ یہ ہے کہ جب علمائے دیوبند اپنے مولویوں کی تعریف کی طرف متوّجہ ہوتے ہیں تو اس مقام سے شروع کرتے ہیں :-
میں نے انسانیت سے بالا درجہ ان کا دیکھا
(ارواح ثلاثہ )
اور جب سید الانبیاء کا تذکرہ مقصود ہوتا ہے تو زبان و قلم سے ایسے الفاظ نکلتے ہیں !
جو بشر کی سی تعریف ہو سو وہی کرو ، اس میں بھی اختصار کرو ۔ ( تقویۃ الایمان ص72 )
ایسا کیوں ہے ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
نقطئہ نظر میں اتنا اختلاف کیوں ۔ فیصلہ بذمئہ ناظرین ہے !
لطیفہ نمبر 23:-
تقویۃ الایمان کو شورش پھیلانے کے لئے میں تصنیف کیا ۔ اسی لئے تیز اور تشدد آمیز الفاظ لائے گئے ۔ اور میں نے دیانت علمی کے خلاف شرک خفی کو شرک جلی لکھا ۔ میں جانتا تھا کہ اس سے شورش ضرور پھیلے گی ۔
مولانا اسمٰعیل دہلوی کا اعتراف !
میں جانتا ہوں کہ اس میں بعض جگہ ذرا تیز الفاظ بھی آگئے ہیں ۔ اور بعض جگہ تشدد بھی ہو گیا ہے مثلاً ان امور کو جو شرک خفی ہیں شرک جلی لکھ دیا گیا ہے ۔ ان وجوہ سے مجھے اندیشہ ہے کہ شورش ضرور پھیلے گی ۔
( باغی ہندوستان صفحہ 115 )
وہ کتاب جو شورش پھیلانے کیلئے لکھی گئی جس میں شرک خفی کو شرک جلی لکھ کر دیانت علمی کو مجروح کیا گیا ہو ۔ بالقصد تیز الفاظ بھرے گئے ہوں اور تشدد بے جا کا وہ خاصا نمونہ ہو ۔ ایسی کتاب کے بارے میں بعض دینی بصیرت سے محروم حضرات صرف اس لئے حسن ظن رکھتے ہیں کہ ان کے ‘‘مولانا صاحب ‘‘ کی تصنیف ہے ۔ یہ میں نے کیا کہہ دیا ‘‘حسن ظن‘‘ ہی نہیں بلکہ ایسی غیر علمی کتاب کو عین اسلام قرار دیتے ہیں ۔
ملاحظہ ہو :-
کتاب تقویۃ الایمان نہایت عمدہ کتاب ہے اور ردّ شرک و بدعت میں لاجواب ہے ۔ استدلال اس کے بالکل کتاب اللہ اور احادیث سے ہیں ۔ اس کا رکھنا اور پڑھنا اور عمل کرنا عین اسلام ہے ۔
( فتاوٰی رشیدیہ کامل کتب خانہ رحیمیہ دیوبند ص 41 )
مولانا دہلوی تو یہ فرماتے ہیں کہ میں نے شرک خفی کو شرک جلی لکھا ۔ یعنی خلاف واقعہ باتیں تحریر کیں ۔ تیز اور تشدد آمیز الفاظ بھرے ۔۔۔۔۔۔۔ اور اس غیر علمی اور خلاف دیانت و صداقت طرز عمل کو عین اسلام اور مطابق کتاب و سنت مولانا گنگوہی قرار دے رہے ہیں ، ایسا لگتا ہے کہ مولانا گنگوہی کے نزدیک ہر وہ بات عین اسلام اور مطابق کتاب و سنّت ہے جو خلاف واقعہ ہو ۔
مثلاً جو شرک خفی ہے وہ شرک جلی کبھی نہیں ہو سکتا ۔ اور جو ‘‘ خفی ‘‘ کو ‘‘ جلی ‘‘ کہے وہ یقیناً حقائق علمیہ سے محروم ہے ۔ اب اگر خفی کو جلی تحریر کرنا عین اسلام ہو سکتا ہے تو مباح کو مکروہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مکروہ کو حرام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حرام کو کفر اور کفر کو شرک بھی لکھنا غالباً مولانا گنگوہی کے نزدیک عین اسلام اور مطابق کتاب و سنّت ہو گا
لطیفہ نمبر 22:-
تین سال تک حضرت حاجی امداد اللہ صاحب کا چہرہ میرے قلب میں رہا ۔ میں نے ان سے پوچھے بغیر کوئی کام نہیں کیا ۔ جب تک قلب میں وہ حاضر و ناضر تھے ۔ علمائے دیوبند کے نقطہء نظر سے مولانا گنگوہی کا شرک آمیز بیان !
خاں صاحب نے فرمایا کہ ایک دفعہ حضرت گنگوہی صاحب رحمۃ اللہ علیہ جوش میں تھے اور تصور شیخ کا مسئلہ در پیش تھا ۔ فرمایا ، کہہ دوں عرض کیا گیا کہ فرمائیے ۔ پھر فرمایا کہہ دوں عرض کیا گیا کہ فرمائیے پھر فرمایا کہہ دوں ۔ عرض کیا گیا فرمائیے ۔ تو فرمایا کہ تین سال کامل حضرت امداد کا چہرہ میرے قلب میں رہا ہے اور میں نے ان سے پوچھے بغیر کوئی کام نہیں کیا ۔ ( ارواح ثلٰثہ حکایات 290 ، 307 )
غور فرمائیے
تین سال کامل مولانا گنگوہی اپنے پیر و مرشد حضرت امداد اللہ مہاجر مکی کے چہرہ کو قلب میں بسائے ہوئے تھے ، حاضر و ناظر جان کر ان سے سوالات بھی کرتے رہے
جبھی تو مولانا گنگوہی کا یہ کہنا درست ہوگا کہ ‘‘ میں نے ان سے پوچھے بغیر کوئی کام نہیں کیا ‘‘ ۔ با وجود ان حقائق کے دیوبند کا کوئی ایسا جیالا فرزند نہیں ہے جو مولانا گنگوہی پر انگشت اعتراض اٹھائے اور گریبان تھام کر پوچھے کہ توحید کا درس دینے والا شرک سے رسم و رواہ کیوں پیدا کر رہا ہے – ؟؟؟؟
دیوبندیوں کا مذہب
حضرات علماء دیوبند کے نزدیک نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خیال مبارک دل میں لانا بیل اور گدھے کے تصور میں غرق ہوجانے سے بدرجہابدتر ہے دیکھئے علماء دیوبند کی مسملہ و مصدقہ کتاب صراط المستقیم مطبوعہ مکتبہ السلفیہ
از وسوسہ زنا خیال مجامعت زوجہ خود بہتر است و صرف ہمت بسوئے شیخ و امثال آں از معظمین گو جناب رسالت مآب باشند بچندیں مرتبہ بدتر از استغراق درصورت گاؤخر خوادست ۔
اہل سنت کا مذہب
اہل سنت کے مسلک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خیال مبارک تکمیل نماز کا موقوف علیہ ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت کریمہ کو دل میں حاضر کرنا مقصد عبادت کے حصول کا ذریعہ اور وسیلہ عظمٰی ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا خیال مبارک دل میں لانے کو گائے بیل کے تصور میں غرق ہوجانے سے بدتر کہنا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ توہین شدید ہے جس کے تصور سے مومن کے بدن پر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ، اہل سنت ایسا کہنے والے کو جہنمی اور ملعون تصور کرتے ہیں ۔


<*> عقائد اہلسنت <*>
اہلسنت و جماعت کا عقیدہ ہے کہ مسلمانوں کو اس طرح بھی مانگنا جائز ہے کہ اے اللہ ہم کو تو دے اپنے محبوب کے صدقے میں اور اس طرح بھی مانگنا جائز ہے کہ یارسول اللہ ہم کو آپ دیجئے اللہ کے حکم سے جل جلالہ و رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم اور اسی طرح اولیاء اللہ سے ان کو مظہر عون الٰہی جانتے ہوئے مانگنا بھی جائز ہے۔ (قرآن عظیم و تفسیر عزیزی و فتاوٰی عزیزیہ)
<*> عقائد دیوبندیہ <*>
دیوبندیوں کا عقیدہ ہے کہ کسی نبی یا رسول یا ولی سے اللہ کے سوا کسی اور سے نفع یا نقصان کی امید رکھنے والا مشرک ہے۔ چنانچہ اسماعیل دہلوی تقویۃ الایمان میں لکھتے ہیں “مشکل کے وقت پکارنا اللہ ہی کا حق ہے، اور نفع اور نقصان کی امید اسی سے چاہئیے کہ معاملہ کسی اور سے کرنا شرک ہے۔“
مگر گنگوہی سے مانگنا عین اسلام ہے۔ مرثیہ گنگوہی میں ہے
حوائج دین و دنیا کے کہاں لیجائیں ہم یارب
گیا وہ قبلہ حاجات روحانی و جسمانی
کیونکہ گنگوہی صاحب مربی خلائق ہیں مرثیہ ص 12 میں ہے
خدا ان کا مربی وہ مربی تھے خلائق کے
مرے مولا مرے ہادی تھے بیشک شیخ ربانی


<*> عقائد اہلسنت <*>
اہلسنت و جماعت کا عقیدہ ہے کہ اللہ وحدہ لاشریک نے اپنے محبوب حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو بے مثل و بے نظیر لاثانی بنایا۔ کوئی مقرب فرشتہ یا کوئی مرسل نبی بھی۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ثانی ہرگز نہیں ہو سکتا۔ (حدیث شریف و کتاب مبارک امتناع النظیر و مبین الہدٰی)
<*> عقائد دیوبندیہ <*>
دیوبندیوں کا عقیدہ ہے کہ بانی اسلام علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ثانی رشید احمد گنگوہی ہے چنانچہ ان کے مرنے پر ان کی تعریف میں مولوی محمود حسن دیوبندی لکھتے ہیں۔
زبان پر اہل ہوا کی ہے کیوں اعل ھبل شاید
اٹھا عالم سے کوئی بانی اسلام کا ثانی (مرثیہ گنگوہی


<*> عقائد اہلسنت <*>
(15) اہلسنت کا عقیدہ ہے کہ تمام انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام مخلوقات میں سب سے افضل ہیں کوئی غیر نبی کسی نبی سے افضل نہیں ہو سکتا جو ایسا اعتقاد رکھے کہ کوئی غیر نبی کسی نبی سے افضل ہے وہ کافر اور انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃو السلام کی ادنٰی توہین کرنے والا ہے مرتد ہے اس پر توبہ و تجدید ایمان فرض ہے۔ (قرآن عظیم و احادیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم و شرح فقہ اکبر و عقائد نسفی و شرح عقائد نسفی و کتاب الشفاء شروح شفاء)
<*> عقائد دیوبندیہ <*>
(15) دیوبندیوں کا عقیدہ ہے کہ مولوی رشید احمد گنگوہی حضرت عیسٰی روح اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام سے افضل ہیں کیونکہ انہوں نے تو صرف ُمردوں کو زندہ کیا مگر ہمارے گنگوہی جی نے ُمردوں کو زندہ کیا اور زندوں کو مرنے بھی نہ دیا۔ چنانچہ مولوی محمود حسن مدرسہ دیوبند گنگوہی کے مرنے پر ان کی تعریف میں مرثیہ لکھتے ہیں۔
ُمردوں کو زندہ کیا زندوں کو مرنے نہ دیا
اس مسیحائی کو دیکھیں ذری ابن مریم (مرثیہ گنگوہی)
اس شعر میں حضرت عیسٰی علیہ السلام سے گنگوہی کو افضل بھی بتایا اور توہین بھی کی۔


السلام علیکم سنی مسلمانوں !
تحذیر الناس : مولوی محمد قاسم نانوتوی بانی دارالعلوم دیوبند
مطبوعہ کتب خانہ امدادیہ دیوبند ص 2۔3۔13۔24۔کا عکس
خط کشیدہ عبارت صفحہ 3 کی ابتداء میں بتایا عوام کے خیال میں خاتم النبیین کا معنی آخری نبی ہیں ، مگر اہل فہم پر روشن ہے کہ زمانہ تقدم یا تاخرّ میں بالذات کچھ فضیلت نہیں ۔
اس بات کو بنیاد قرار دیکر آیۃ مبارکہ ماکان محمد ابا احد من رجالکم والکن رسول اللہ وخاتم النبیین ۔ پر بحث کرتے ہوئے لکھا کہ اس آیت کو تاخر زمانی کے معنی میں لیا جائے تو یہ آیت حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی مدح نہیں ہوسکتی ، چونکہ یہ آیت مقام مدحمیں واقع ہے اس لیے خاتم بمعنی آخری نبی نہیں ہوسکتا ۔
پھر اس میں مزید اضافہ کیا : اگر خاتم النبیین کا معنی آخری نبی مان لیا جائے تو اس سے تین خرابیاں لازم آئیں گی ۔
اول یہ کہ اللہ تعالٰی پر زیادہ گوئی کا وہم ہوگا ( نعوذباللہ ) کیونکہ جب خاتم النبیین کا معنی آخری نبی مان لیا گیا تو یہ آیت کریمہ مدح نہ ہوگی اور لفظ خاتم اوصاف نبوت میں سے نہ ہوگا بلکہ قدو قامت اور شکل و رنگ کی طرح ایسا وصف ہوگا جس کو نبوت اور اس کے فضائل میں دخل نہ ہوگا ۔
دوسری خرابی یہ لازم آئے گی کہ اس سے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب نقصان قدر کا احتمال ہوگا کیونکہ خاتم النبیین کا معنی اگر آخری نبی مان لیا گیا تو اب یہ وصف مدح اور کمال نہ رہے گا ، جبکہ ایسے اوصاف جن میں مدح و کمال نہ ہو ایسے ویسے لوگوں کے لیے بیان کیے جاتے ہیں ۔
تیسری خرابی کو یوں بیان کیا اگر اس آیت قرآنی میں اس دین کے آخری ہونے کو بیان کرنا مان لیا جائے جو اگرچہ قابل لحاظ ہوسکتا ہے مگر اس صورت میں قرآنی آیت کے دونوں جملوں ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین میں بے ربطی پیدا ہوجائیگی جوکہ اللہ تعالٰی کے معجز کلام میں متصور نہیں ہوسکتی ۔
ان تین مفروضہ دلائل سے یہ ثابت کرنے کے بعد کہ خاتم النبیین کا معنی آخری نبی (تاخرزمانی )درست نہیں ہے ، لکھا کہ یہاں خاتم النبیین کی خاتمت کی بنیاد اور بات پر ہے ، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ یہاں خاتم کا معنیٰ بالذات (بلاواسطہ) نبی کے ہیں ، یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم بالذات نبی ہیں اور دیگر انبیاء کرام علیہم السلام بالعرض (بالواسطہ) نبی ہیں ،
پھر صفحہ 13 اور 24 کی عبارت میں اس بات کی تصریح کردی ہے : آپ کے زمانہ کے بعد بھی کوئی نبی پیدا ہوجائے تب بھی خاتمیت محمدیہ میں کچھ فرق نہ آئے گا ۔
بعض لوگ یہاں پر لفظ فرض کا سہارا لیتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ بات فرض کی گئی ہے جبکہ فرض تو محال کو بھی کیا جاسکتا ہے ، حالانکہ وہ چشم پوشی سے کام لیتے ہیں ، کیونکہ فرض اگرچہ محال کو بھی کیا جاسکتا ہے مگر محال کے فرض کرنے پر فساد اور بطلان لازم آیا کرتا ہے ، محال کے فرض کو امکان یا صحت لازم نہیں آتی جبکہ یہاں بعد میں پیدا ہونے والے نبی کو فرض کرنے پر کہا گیا ہے کہ کوئی خرابی لازم نہیں آتی کیونکہ خاتمیت میں فرق نہیں آتا ۔
نیز یہاں فرض تقدیری نہیں ، بلکہ فرض تجویزی ہے اس لیے انہوں نے فرض کے ساتھ لفظ تجویز بھی استعمال کیا ہے ، غرضیکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری نبی ہونے کا عوام کا خیال ( جبکہ یہاںمعنی قطعی ہے اور اسی پر اجماع صحابہ اور اجماع امت ہے )
پھر واضح طور پر تاخر زمانی کے لحاظ سے آخری نبی کے معنی کو تین طرح سے نادرست ثابت کرنا اور ساتھ ہی یہ تصریح کرنا کہ خاتم النبیین کا معنی بالذات نبی کے ہیں اور اس پر صراحۃ بار بار یہ کہہ دینا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں یا آپ کے بعد بھی کوئی نبی پیدا ہوجائے تو خاتمیت محمدیہ میں کچھ فرق نہ آئے گا ۔
یہی وہ عبارت ہیں جن کی بنیاد پر قدیانی مرزا نے اپنی نبوت کی عمارت قائم کرلی ۔




