اردو اسلامی پاکستانی معلوماتی بلاگ

October 20, 2006

لم يات نظيرک في نظر مثل تو نہ شد پيدا جانا

Filed under: Home, ہوم, حدائق بخشش, نعت رسول مقبول — sulemansubhani @ 11:35 am

نعت  شريف
لم يات نظيرک في نظر مثل تو نہ شد پيدا جانا

جگ راج کو تاج تورے سرسوہے تجھ کو شہ دوسرا جانا
البحر علا والموج طغي من بے کس و طوفاں ہوش ربا
منجدھار ميں ہوں بگڑي ہے ہوا موري نيا پار لگا جانا
يا شمس نظرت الي ليلي چوبطيبہ رسي عرضے بکني
توري جوت کي جھل جھل جگ ميں رچي موري شب نے نہ دن ہونا جانا
لک بدر في الوجہ الاجمل خط ہالہ مہ زلف ابر اجل
تورے چندن چندر پرو کنڈل رحمت کي برن برسا جانا
انا في عطش وسخاک اتم اے گيسوئے پاک اے ابر کرم
برسن ہارے رم جھم رم جھم دو بوند ادھر بھي گرا جانا
يا قافلتي زيدي اجلک رحمے برحسرت تشنہ لبک
مورا جيرا لرجے درک درک طيبہ سے ابھي نہ سنا جانا
واھا لسويعات ذہبت آن عہد حضور بار گہت
جب ياد آوت موہے کہ نہ پرت دردادہ? مدينے کا جانا
القلب شج والھم شجون دل زار چناں جاں زير چنوں
پت اپني بپت ميں کاسے کہوں مرا کون ہے تيرے سوا جانا
الروح فداک فزد حرقا يک شعلہ دگر برزن عشقا
موراتن من دھن سب پھونک ديا يہ جان بھي پيارے جلا جانا
بس خامہ? خام نوائے رضا نہ يہ طرز مري نہ يہ رنگ مرا
ارشاد احبا ناطق تھا ناچار اس راہ پڑا جانا

October 19, 2006

لطف ان کا عام ہو ہي جائے گا

Filed under: Home, ہوم, حدائق بخشش, نعت رسول مقبول — sulemansubhani @ 2:54 pm

نعت  شريف
لطف ان کا عام ہو ہي جائے گا

شاد ہر ناکام ہوہي جائے گا
جان دے دو وعدہ ديدار پر
نقد اپنا دام ہوہي جائے گا
ياد رہ جائيں گي يہ بے باکياں
نفس تو تو رام ہوہي جائے گا
بے نشانوں کا نشا مٹتا نہيں!
مٹتے مٹتے نام ہوہي جائے گا
ياد گيسو ذکر حق ہے آہ کر
دل ميں پيدا لام ہوہي جائے گا
ايک دن آواز بدليں گے يہ ساز
چہچہا کہرام ہوہي جائے گا
سائلو دامن سخي کا تھام لو
کچھ نہ کچھ انعام ہوہي جائے گا
ياد ابرو کر کے تڑپو بلبلو
ٹکڑے ٹکڑے دام ہوہي جائے گا
مفلسو ان کي گلي ميں جا پڑو
باغ خلد اکرام ہوہي جائے گا
گريوں ہي رحمت کي تاويليں رہيں
مدح ہرالزام ہوہي جائے گا
بادہ خواري کا سماں بندھنے تو دو
شيخ درد آشام ہوہي جائے گا
غم تو ان کو بھول کر لپٹا ہے يوں
جيسے اپنا کام ہوہي جائے گا
مٹ کہ گريوں ہي رہا قرض حيات
جان کا نيلام ہوہي جائے گا
عاقلو ان کي نظر سيدھي رہے
بوروں کا بھي کام ہوہي جائے گا
اب تو لائي شفاعت عفو پر
بڑھتے بڑھتے عام ہوہي جائے گا
اے رضا ہر کام کا اک وقت ہے
دل کو بھي آرام ہوہي جائے گا

محمد مظہر کامل ہے حق کي شان عزت کا

Filed under: Home, ہوم, حدائق بخشش, نعت رسول مقبول — sulemansubhani @ 2:51 pm

نعت  شريف
محمد مظہر کامل ہے حق کي شان عزت کا
نظر آتا ہے اس کثرت ميں کچھ انداز وحدت کا
يہي ہے اصل عالم مادہ? ايجاد خلقت کا
يہاں وحدت ميں برپا ہے عجب ہنگامہ کثرت کا
گدا بھي منتظر ہے خلد ميں نيکوں کي دعوت کا
خدا دن خير سے لائے سخي کے گھر ضيافت کا
گنہ مغفور دل روشن خنک آنکھيں جگر ٹھنڈا
تعالي اللہ ماہ طيب عالم تيري طلعت کا
نہ رکھي گل کے جوش حسن نے گلشن ميں جا باقي
چٹکتا پھر کہاں غنچہ کوئي باغ رسالت کا
بڑھا يہ سلسلہ رحمت کا دور زلف والا ميں
تسلسل کالے کوسوں رہ گيا عصياں کي ظلمت کا
صف ماتم اٹھے خالي ہو زنداں ٹوٹيں زنجيريں
گنہگارو چلو مولي نے در کھولا ہے جنت کا
سکھايا ہے يہ کس گستاخ نے آئينہ کا يارب
نظارہ روئے جاناں کا بہانہ کرکے حيرت کا
ادھر امت کي حسرت پر ادھر خالق کي رحمت پر
نرالا طور ہوگا گردش چشم شفاعت کا
بڑھيں اس درجہ موجيں کثرت افضال والا کي
کنارہ مل گيا اس نہر سے دريائے وحدت کا
خم زلف نبي ساجد ہے محراب دو ابرو ميں
کہ يارب توہي والي ہے سيہ کاران امت کا
مدد اے جوشش گريہ بہادے کوہ اور صحرا
نظر آجائے جلوہ بے حجاب اس پاک تربت کا
ہوئے کمخوابي ہجراں ميں ساتوں پردے کمخوابي
تصور خوب باندھا آنکھوں نے استار تربت کا
يقيں ہے وقت جلوہ لغزشيں پائے نگہ پائے
ملے جوش صفائے جسم سے پابوس حضرت کا
يہاں چھڑ کا نمک واں مرہم کافور ہاتھ آيا
دل زخمي نمک پروردہ ہے کس کي ملاحت کا
الہٰي منتظر ہوں وہ خرام ناز فرمائيں
بچھا رکھا ہے فرش آنکھوں نے کمخواب بصارت کا
نہو آقا کو سجدہ آدم و يوسف کو سجدہ ہو
مگر سد ذرائع داب ہے اپني شريعت کا
زبان خار کس کس درد سے ان کو سناتي ہے
تڑپنا دشت طيبہ ميں جگر افگار فرقت کا
سرہانے ان کے بسمل کے يہ بيتابي کا ماتم ہے
شہ کوثر ترحم تشنہ جاتا ہے زيارت کا
جنہيں مرقد ميں تا حشر امتي کہہ کہ پکارو گے
ہميں بھي ياد کرلو ان ميں صدقہ اپني رحمت کا
وہ چمکيں بجلياں يارب تجلي ہائے جاناں سے
کہ چشم طور کا سرمہ ہو دل مشتاق رويت کا
رضائے خستہ جوش بحر عصياں سے نہ گھبرانا
کبھي تو ہاتھ آجائے گا دامن ان کي رحمت کا

October 18, 2006

سوہنے محمدورگا ڈٹھا لجپال کوئی نئیں

Filed under: Home, ہوم, نعت رسول مقبول — sulemansubhani @ 2:55 pm

سوہنے محمدورگا ڈٹھا لجپال کوئی نئیں
اللہ دےبعد اوہدی مِلدی مثال کوئی نئیں

آمنہ بی بی ویکھو ڈاہڈی مسرُور ہوئی
کلّی حلیمہ دی وی اج نور و نور ہوئی
کسےمائی نہ جمیا ایہو جیہا لعل کوئی نئیں
اللہ دےبعد اوہدی مِلدی مثال کوئی نئیں
مائی حلیمہ منگر خوشیاں دےگاندی پھر دی
سوہنےمحمد دیاں نعتاں سناوندی پھر دی
سوہنےمحمد ورگا صاحبِ جمال کوئی نئیں
اللہ دےبعد اوہدی مِلدی مثال کوئی نئیں
چن تائیں توڑ وکھاونا سورج نوں موڑ لیاونا
پلک چمکن دےاندر عرشاں تےاونا جانا
سوہنےمحمد لئی اےسجنوں محال کوئی نئیں
اللہ دےبعد اوہدی مِلدی مثال کوئی نئیں
نبی دی آل ویکھو نانےدا دین بچایا
نانےدےدین پچھےکنبہ سارا کوہایا
نبی دی آل ورگی کسےدی آل کوئی نئیں
اللہ دے بعد اوہدی مِلدی مثال کوئی نئیں

غم ہوگئے بے شمار آقا

Filed under: Home, ہوم, حدائق بخشش, نعت رسول مقبول — sulemansubhani @ 2:15 pm

نعت  شريف
غم ہوگئے بے شمار آقا
بندہ تيرے نثار آقا
بگڑا جاتا ہے کھيل ميرا
آقا آقا سنوار آقا
منجدھار پہ آکے ناؤ ڈوبي
دے ہاتھ کہ ہوں ميں پار آقا
ٹوٹي جاتي ہے پيٹھ ميري
للہ يہ بوجھ اتار آقا
ہلکا ہے اگر ہمارا پلہ
بھاري ہے ترا وقار آقا
مجبور ہيں ہم تو فکر کيا ہے
تم کو تو ہے اختيار آقا
ميں دور ہوں تم تو ہو ميرے پاس
سن لو ميري پکار آقا
مجھ سا کوئي غم زدہ نہ ہوگا
تم سا نہيں غم گسار آقا
گرداب ميں پڑگئي ہے کشتي
ڈوبا ‘ ڈوبا اتار آقا
تم وہ کہ کرم کو ناز تم سے
ميں وہ کہ بدي کو عار آقا
پھر منہ نہ پڑے کبھي خزاں کا
دے دے ايسي بہار آقا
جس کي مرضي خدا نہ ٹالے
مرا ہے وہ نامدار آقا
ہے ملک خدا پہ جس کا قبضہ
مرا ہے وہ کامگار آقا
سويا کئے نابکار بندے
رويا کئے زار زار آقا
کيا بھول ہے ان کے ہوتے کہلائيں
دنيا کے يہ تاجدار آقا
ان کے ادنيٰ گدا پہ مٹ جائيں
ايسے ايسے ہزار آقا
بے ابر کرم کے ميرے دھبے
لا تغسلہا البحار آقا
اتني رحمت رضا پہ کرلو
لا يقربہ البوار آقا

October 17, 2006

بلغ العلیٰ بکمالہ

Filed under: Home, ہوم, نعت رسول مقبول — sulemansubhani @ 12:12 pm

بلغ العلیٰ بکمالہ

بلغ العلیٰ بکمالہ
کشف الدجیٰ بجمالہ
حسنت جمیع خصالہ
صلوا علیہ وآلہ

وہ عجیب رات سعید تھی
یہاں شادی تھی وہاں عید تھی
جو نبی کو حسرت دید تھی
تو خدا کو شوق وصال تھا

بلغ العلیٰ بکمالہ

وہی جلوہ اپنا دکھا گئے
میرے دل میں جن کا خیال تھا
وہی خواب میں مرے آگئے
کہ نظر میں جن کا جمال تھا

بلغ العلیٰ بکمالہ

نہ بشر کا حسن نہ حور کا
کہ وہ سایہ نور تھا نور کا
تھا عجب جمال حضور کا
کہ خدا بھی محو جمال تھا

بلغ العلیٰ بکمالہ

ملا نور اپنے ہی نور سے
ملے اور انبیاء دور سے
کوئی بڑھ سکا نہ حضور سے
یہ تو آپ ہی کا کمال تھا

بلغ العلیٰ بکمالہ

(تضمین بر رباعی حضرت شیخ سعدی رحمۃ اللہ علیہ)

ہم خاک ہيں اور خاک ہي ماویٰ ہے ہمارا

Filed under: Home, ہوم, حدائق بخشش, نعت رسول مقبول — sulemansubhani @ 11:54 am

نعت  شريف
ہم خاک ہيں اور خاک ہي ماویٰ ہے ہمارا

خاکي تو وہ آدم جد اعلٰی  ہے ہمارا
اللہ ہميں خاک کرے اپني طلب ميں
يہ خاک تو سرکار سے تمغا ہے ہمارا
جس خاک پہ رکھتے تھے قدم سيد عالم
اس خاک پہ قرباں دل شيدا ہے ہمارا
خم ہوگئي پشت فلک اس طعن زمين سے
سن ہم پہ مدينہ ہے وہ رتبہ ہے ہمارا
اس نے لقب خاک شہنشاہ سے پايا
جو حيدر کرار کہ مولي ہے ہمارا
اے مدعيو خاک کو تم خاک نہ سمجھے
اس خاک ميں مدفوں شہ بطحا ہے ہمارا
معمور اسي خاک سے قبلہ ہے ہمارا
ہم خاک اڑائيں گئے جو وہ خاک نہ پائي
آباد رضا جس پہ مدينہ ہے ہمارا

October 13, 2006

واہ کیا جود و کرم ہے شہ بطحا تیرا

Filed under: Home, ہوم, حدائق بخشش, نعت رسول مقبول — sulemansubhani @ 2:40 pm

ذریعہ قادریہ
الحمد للہ رب العالمین والصلٰوۃ والسلام علیک سید العالمین والہ وابنہ و حزبہ اجمعین
وصل اول درنعت اکرم حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم
بسم اللہ الرحمن الرحیم
واہ کیا جود و کرم ہے شہ بطحا تیرا
نہیں سنتا ہی نہیں مانگنے والا تیرا
دھارے چلتے ہیں عطا کے وہ ہے قطرہ تیرا
تارے کھلتے ہیں سخا کے وہ ہے ذرہ تیرا
فیض ہے یا شہ تسنیم نرالا تیرا
آپ پیاسوں کے تجسس میں ہے دریا تیرا
اغنیا پلتے ہیں د ر سے وہ ہے باڑا تیرا
اصفیا چلتے ہیں سر سے وہ ہے رستا تیرا
فرش والے تیری شوکت کا علو کیا جانیں
خسروا عرش پہ اڑتا ہے پھریرا تیرا
آسماں خوان زمین خوان زمانہ مہمان
صاحب خانہ لقب کس کا ہے تیرا تیرا
میں تو مالک ہی کہوں گا کہ ہو مالک کے حبیب
یعنی محبوب و محب میں نہیں میرا تیرا
تیرے قدموں میں جو ہیں غیر کا منہ کیا دیکھیں
کون نظروں پہ چڑھے دیکھ کے تلوا تیرا
بحر سائل کا ہوں سائل نہ کنویں کا پیاسا
خود بجھا جائے کلیجا مرا چھینٹا تیرا
چور حاکم سے چھپا کرتے ہیں یا ں اسکے خلاف
تیرے دامن میں چھپے چور انوکھا تیرا
آنکھیں ٹھنڈی ہوں جگر تازے ہوں جانیں سیراب
سچے سورج وہ دل آرا ہے اجالا تیرا
دل عبث خوف سے پتا سے اڑا جاتا ہے
پلہ ہلکا سہی بھاری ہے بھروسا تیرا
ایک میں کیا مرے عصیاں کی حقیقت کتنی
مجھ سے سو لاکھ کو کافی ہے اشارہ تیرا
مفت پالا تھا کبھی کام کی عادت نہ پڑی
اب عمل پوچھتے ہیں ہائے نکما تیرا
تیرے ٹکڑوں سے پلے غیر کی ٹھوکر پہ نہ ڈال
جھڑکیاں کھائیں کہاں چھوڑ کے صدقہ تیرا
خوار و بیمار خطا وار گنہ گار ہوں میں
رافع و نافع و شافع لقب آقا تیرا
میری تقدیر بری ہو تو بھلی کردے کہ ہے
محو و اثبات کے دفتر پہ کروڑا تیرا
تو جو چاہے تو ابھی میل مرے دل کے دھلیں
کہ خدا دل نہیں کرتا کبھی میلا تیرا
کس کا منہ تکئے کہاں جائیے کس سے کہئے
تیرے ہے قدموں پہ مٹ جائے یہ پالا تیرا
تو نے اسلام دیا تو نے جماعت میں لیا
تو کریم اب کوئی پھرتا ہے عطیہ تیرا
موت سنتا ہوں ستم تلخ ہے زہرا بہ ٴ  ناب
کون لادے مجھے تلوؤں کا غسالہ تیرا
دور کیا جانیئے بدکار پہ کیسی گزرے
تیرے ہی در پہ مرے بے کس و تنہا ہے تیرا
تیرے صدقے مجھے اک بوند بہت ہے تیری
جس دن اچھوں کو ملے جام چھلکتا تیرا
حرم طیبہ و بغداد جدھر کیجئے نگاہ
جوت پڑتی ہے تیری نور ہے چھنتا تیرا
تیری سرکار میں لاتا ہے رضا اس کو شفیع
جو مرا غوث ہے اور لاڈلا بیٹا تیرا

October 12, 2006

منزل کا کچھ پتہ دو۔ صلی علیٰ محمد۔ صلی اللہ علیہ وسلم

Filed under: Home, ہوم, نعت رسول مقبول — sulemansubhani @ 8:29 am

صلی علیٰ محمد۔ صلی اللہ علیہ وسلم

منزل کا کچھ پتہ دو۔ صلی علیٰ محمد۔ صلی اللہ علیہ وسلم
اب راستہ دکھا دو۔ صلی علیٰ محمد۔ صلی اللہ علیہ وسلم
کب سےبھٹک رہےہیں۔ کب سےترس رہےہیں
آنکھوں سےآنسوئوں کےساون برس رہےہیں
اک بار تو ہنسا دو۔ صلی علیٰ محمد۔ صلی اللہ علیہ وسلم
دل کی کلی کھلا دو۔ صلی علیٰ محمد۔ صلی اللہ علیہ وسلم
مانا خطا ہوئی ہےاور بارہا ہوئی ہی
وہ ذاتِ باری تعالیٰ ہم سےخفا ہوئی ہی
تم ہم کو بخشوا دو۔ صلی علیٰ محمد۔ صلی اللہ علیہ وسلم
سچی دعا کرا دو۔ صلی علیٰ محمد۔ صلی اللہ علیہ وسلم
کرتےہیں پھر سےوعدہ۔ پکا ہےاب ارادہ
ہرگز نہیں کریں گی۔ ہم بھول کا اعادہ
قدموں میں گھر جگہ دو۔ صلی علیٰ محمد۔ صلی اللہ علیہ وسلم
در سےنہ یوں اٹھا دو۔ صلی علیٰ محمد۔ صلی اللہ علیہ وسلم
کملی کا کر دو سایہ۔ ہم پھر سےنیک ہوں گی
اسلام کےقلعہ میں۔ ہم سارےایک ہوں گی
احساس کو جگا دو۔ صلی علیٰ محمد۔ صلی اللہ علیہ وسلم
تھوڑا سا آسرا دو۔ صلی علیٰ محمد۔ صلی اللہ علیہ وسلم
اب کےجو عید آئی۔ اچھی نوید لائی
چھٹ جائیں غم کےسائی۔ دل میں امید آئی
غیروں سےجاں چھڑا دو۔ صلی علیٰ محمد۔ صلی اللہ علیہ وسلم
اپنوں سےدل ملا دو۔ صلی علیٰ محمد۔ صلی اللہ علیہ وسلم
(ریاض الرحمن ساغر

October 11, 2006

کاش ہو اس وقت اُن کا ذیلِ عالی ہاتھ میں

Filed under: Home, ہوم, نعت رسول مقبول — sulemansubhani @ 9:26 am

نعتِ رسولِ مقبول

از: مولانا صاحبزادہ ابوالحسن واحد رضوی

کاش ہو اس وقت اُن کا ذیلِ عالی ہاتھ میں        

جب لوائِ حمد لیں گے وہ مثالی ہاتھ میں

چاند ہو ٹکڑے، پھر سورج، رواں ہو آب بھی

طاقتیں رکھتے ہیں وہ ایسی نرالی ہاتھ میں

ہاتھ خالی ان کے در سے کوئی بھی پلٹا نہیں

کچھ نہ کچھ جاتا ہے لے کر ہر سوالی ہاتھ میں

جس کو چاہیں، جس قدر چاہیں عطا کرتے ہیں وہ

”دو جہاں کی نعمتیں ہیں اُن کے خالی ہاتھ میں“

باغِ عالم کا اُنہیں حق نے بنایا باغباں

پتہ پتہ ملک میں ہے، ڈالی ڈالی ہاتھ میں

دشمنِ جاں پر بھی ہوتی ہے عنایت کی نظر           

باگ ملک عفو کی آقا نے کیا لی ہاتھ میں

تشنہ لب واحد کی آقا! ختم کیجئے تشنگی

یہ بھی لے کر در پہ آیا ہے پیالی ہاتھ میں

« Newer PostsOlder Posts »

Blog at WordPress.com.