اردو اسلامی پاکستانی معلوماتی بلاگ

دسمبر 23, 2006

نماز پڑھنے کا مسنون طريقہ

Filed under: Home, ہوم, اسلامی مضامین, عبادات — sulemansubhani @ 10:45 am

نماز پڑھنے کا مسنون طريقہ
با وضو قبلہ کي طرف منہ کر کے اس طرح کھڑے ہوں کہ دونوں پاؤں کے درميان چار انگل کا فاصلہ رہے پھر اپنے ہاتھ کانوں تک اس طرح اٹھائيں کہ درميان ميں چار انگل کا فاصلہ رہے پھر اپنے ہاتھ کانوں تک اس طرح اٹھائيں کہ انگوٹھے کانوں کي لو سے چھو جائيں اور انگلياں نہ ملي ہوئي ہوں نہ خوب کھلي ہوئي بلکہ اپني اصل حالت پر ہوں اور ہتھيلياں قبلہ رخ ہوں پھر نيت کر کے اللہ اکبر کہتے ہوئے ہاتھ ناف کے نيچے لا کر اس طرح باندھ ليں کہ داياں ہاتھ بائيں ہاتھ کي پشت پر اور درمياني تين انگلياں کلائي کي پشت پر ہوں پھر انگوٹھے اور چھوٹي انگلي سے حلقہ بنا کر بائيں کلائي کو پکڑ ليں اور ثناء پڑھيں
سبحانک اللھم وبحمدک وتبارک اسمک و تعالي جدک ولا الہ غيرک
ترجمہ ( پاک ہے تو اے اللہ ! اور ميں تيري حمد کرتا ہوں، تيرا نام برکت والا ہے اور تيري عظمت بلند ہے اور تيرے سوا کوئي معبود نہيں)
پھر تعوذ اور تسميہ پڑھ کر سورہ فاتحہ پڑھيں
اعو ذ با للہ من الشيطن الرحيم
بسم اللہ الرحمن الرحيم
(ميں پناہ مانگتا ہوں اللہ کي ،  سيطان مردود سے)
(اللہ کے نام سے شروع جو بہت مہربان رحمت والا ہے)
الحمد للہ رب العلمين
الرحمن الرحيم  ملک يوم الدين   اياک
نعبد واياک نستعين  اھدنا الصراط
المستقيم  صراط الذين انعمت عليم
غير المغضوب عليھم ولا الضالين?  آمين
(سب خوبياں اللہ کو جو مالک سارے جہان والوں کا، بہت مہربان رحمت والا، روز جزا کا مالک، ہم تجھي کو پوجيں اور تجھي سے مدد چاہيں، ہم کو سيدھا راستہ چلا، راستہ ان کا جن پر تو نے احسان کيا، نہ ان کا جن پر غضب ہوا، اور نہ بہکے ہوؤں کا) (کنز الايمان از اعلي حضرت امام اح-مد رضا محدث بريلوي رحمتہ اللہ عليہ)
سورہ فاتحہ کے بعد آہستہ سے آمين کہيں ، اسکے بعد کوئي سورت يا تين آيات باتين آيات کے برابر کوئي آيت پڑھيں
قل ھو اللہ احد  اللہ الصمد
لم يلد  ولم يولد  ولم يکن لہ کفوا  احد
(تم فرماؤ! وہ اللہ ہے وہ ايک ہے، اللہ بے نياز ہے، نہ اس کي کوئي اولاد اور نہ وہ کسي سے پيدا ہوا، اور نہ اس کے جوڑ کا کوئي)  (کنز الايمان)
پھر اللہ اکبر کہتے ہوئے رکوع ميں جائيں اور گھٹنوں کو انگلياں کھول کر مضبوطي سے پکڑليں اور اتنا جھکيں کہ سر اور کمر ايک سطح پر رہے? رکوع ميں نظر دونوں پاؤں کي پشت پر رہے جبکہ قيام کے دوران نگاہ سجدے کي جگہ رکھني چاہيے
رکوع ميں کم سے کم تين بار يہ پڑھيں
سبحان ربي العظيم
(پاک ہے ميرا پروردگار عظمت والا)  پھر تسميع کہتے ہوئے کھڑے ہوجائيں
سمع اللہ لمن حمد
(اللہ نے اس کي سن لي جس نے اس کي تعريف کي ) پھر تحميد کہيں
ربنا لک الحمد(اے ہمارے مالک! سب تعريف تيرے ہي ليے ہے)
پھر تکبير کہتے ہوئے يوں سجدہ ميں جائيں کہ پہلے گھٹنے اور پھر دونوں ہاتھ زمين پر رکھيں ، پھر ناک اور پھر پيشاني زمين پر جمائيں اور چہر ہ دونوں ہاتھوں کے درميان رکھيں
اس بات کا خيال رہے کہ سجدے کے دوران ناک کي ہڈي زمين پر صحيح لگي ہوئي ہو، نظر ناک کے سرے پر رہے، دونوں پاؤں کي تمام انگلياں زمين پر قبلہ رخ لگي ہوں اور دونوں ہتھيلياں زمين پر قبلہ رخ بچھي ہوں نيز دونوں بازو کروٹوں سے اور پيٹ رانوں سے اور رانيں پنڈليوں سے جدا رہيں? سجدے ميں کم اس کم تين باريہ تسبيح پڑھيں
سبحان ربي الاعلي
(پاک ہے ميرا پروردگار بہت بلند)
سجدے سے اٹھتے ہوئے تکبير کہيں اور باياں پاؤں بچھا کر اس پر بيٹھيں اور داياں پاؤں کھڑا کر کے اسکي انگلياں قبلہ رخ کر ليں اس دوران ہتھيلياں رانوں پر بچھا کر گھٹنوں کے پاس اس طرح رکھيں کہ انگلياں قبلہ رخ رہيں پھر تکبير کہتے ہوئے اسي طرح دوسرا سجدہ کريں? پھر اللہ اکبر کہتے ہوئے اس طرح کھڑے ہوں کہ پہلے سر اٹھائيں پھر ہاتھوں کو گھٹنوں پر رکھ کر پنجوں کے بل کھڑے ہو جائيں
اب صرف بسم اللہ الرحمن الرحيم  پڑھ کر قرات شروع کرديں پھر اسي طرح رکوع اور سجدے کر کے داياں پاؤں کھڑا کر کے بائيں پاؤں پر بيٹھ جائيں اور تشھد پڑھيں
التحيات للہ والصلوت والطيبت
السلام عليک ايھا النبي و رحمتہ اللہ و برکاتہ
السلام علينا  و علي عباد اللہ الصلحين
اشھد ان لا الہ الا اللہ واشھد ان محمدا
عبدہ  و رسولہ
(تمام قولي عبادتيں اور تمام فعلي عبادتيں اور تمام مالي عبادتيں اللہ ہي کے ليے ہيں، سلام ہو آپ پر اے نبي  اور اللہ کي رحمتيں اور برکتيں? ہم پر اور اللہ کے نيک بندوں پر سلام?ميں گواہي ديتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئي معبود نہيں اور گواہي ديتا  ہوں کہ محمد  اسکے بندے اور رسول ہيں)
تشھد پڑھتے وقت جب (اشھد ان لا)  کے قريب پہنچيں تو دائيں ہاتھ کي پيچ کي انگلي اور انگوٹھے کو ملا کر حلقہ بنائيں اور چھوٹي انگلي اور اسکے ساتھ والي انگلي کو ہتھيلي سے  ملاديں اور لفظ  (لا)  پر شہادت کي انگلي اٹھائيں اور (الا) پر نيچے کر ليں اورپھر سب انگلياں فورا سيدھي کرليں?  قعدہ کے دوران نطر اپني گود کي طرف رکھيں
اگر فرض نماز ہو اور دو سے زيادہ رکعتيں پڑھني ہوں تو تشھد کے بعد کھڑے ہو جائيں اور اگلي رکعتوں کے قيام ميں سورہ  کے بعد چھوٹي سورہ نہ ملائيں? آخري قعدہ ميں تشھد کے بعد درود شريف پڑھيں
اللھم صل علي محمد
وعلي ال محمد کما صليت علي ابراہيم و علي
ال ابراہيم انک حميد مجيد?  اللھم بارک
علي محمد و علي ال محمد کما بارکت علي
ابراہيم وعلي ال ابراہيم انک حميد مجيد
(اے اللہ! درود بھيج ہمارے سردار حضرت محمد ? پر اور انکي آل پر جس طرح تو نے درود بھيجا سيدنا ابراہيم عليہ السلام پر اور انکي آل پر، بيشک تو سراہا ہو ابزرگ ہے? اے اللہ !  برکت نازل کر ہمارے سردار حضرت محمد  پر اور انکي آل پر جس طرح  تو نے برکت نازل کي سيدنا ابراہيم عليہ السلام پر اور انکي آل پر ، بيشک تو سراہا ہوا  بزرگ ہے)
پھر يہ دعا  يا کوئي اور دعائے ماثورہ پڑھ ليں
اللھم رب اجعلني مقيم الصلوہ  ومن
ذريتي ربنا و تقبل دعاء  اللھم ربنا اغفرلي ولوالدي وللمومنين يوم يقوم الحساب
(اے اللہ اے ميرے رب!  مجھے نماز قائم کرنے والا رکھ اور کچھ ميري اولاد کو، اے ہمارے رب! اور ہماري دعا سن لے اے اللہ اے ہمارے رب ! مجھے بخش دے اور ميرے ماں باپ کو اور سب مسلمانوں کو جس دن حساب قائم ہوگا)
پھر پہلے دائيں کندھے کي طرف منہ کر کے سلام کہيں اور پھر بائيں طرف بھي
السلام عليکم و رحمتہ اللہ
(تم پر سلامتي ہو اور اللہ کي رحمت)
نماز کے بعد دونوں ہاتھ سينے کے مقابل اٹھا کر اللہ تعالي سے اخلاص  و  عاجزي سے دعا مانگيں اور دعا کے بعد اپنے ہاتھ چہرے پر پھيرليں? دعاؤں کے ليے فقير کي کتاب (مسنون دعائيں)  ملاحظہ فرمائيں
#اگرجماعت سے نماز پڑھيں تو پہلي رکعت کے قيام ميں صرف ثناء پڑھيں اور خاموش کھڑے رہيں يونہي ديگر رکعتوں کے قيام ميں بھي مقتدي کو قرات نہيں کرني چاہيے?  رکوع سے اٹھتے وقت سمع اللہ لمن حمدہ  صرف امام کہے اور مقتدي تحميد کہے

کن اوقات ميں نماز منع ہے؟

Filed under: Home, ہوم, اسلامی مضامین, عبادات — sulemansubhani @ 10:35 am

کن اوقات ميں نماز منع ہے؟
جن اوقات ميں نماز پڑھنا مکروہ ہے ان ميں طلوع آفتاب سے بيس منٹ بعد تک، غروب آفتاب سے بيس منٹ قبل سے غروب تک اور ضحوہ کبري يعني نصف  النہار شرعي سے نصف النہار حقيقي يعني زوال تک کا وقت شامل ہيں
ان اوقات ميں کوئي نماز يا سجدہ تلاوت جائز نہيں، ان اوقات کے علاوہ ہر وقت قضا نمازيں اور نوافل پڑھے جاسکتے ہيں، البتہ صبح صادق سے طلوع آفتاب تک ، اور نماز عصر سے آفتاب غروب ہونے تک کوئي نفل نماز ، اور امام کے خطبہ جمعہ کے ليے کھڑے ہونے سے لے کر فرض جمعہ ختم ہونے تک نفل اور سنت دونوں جائز نہيں

ادارہ تحقیقات امام احمد رضا کے تحت علمی نشست

Filed under: Home, ہوم, اہلسنت اردو خبریں — sulemansubhani @ 10:20 am

کراچی (پ ر) ادارہ تحقیقات امام احمد رضا انٹرنیشنل کے تحت علمائے عرب کے اعزاز میں 23 دسمبر بروز ہفتہ‘ رات نو بجے مقامی ہوٹل میں ایک عشائیہ کا اہتمام کیا گیا ہے جبکہ اس موقع پر ادارہ کی جانب سے ایک علمی نشست بعنوان ”تحفظ ناموس رسالت اور عالم اسلام کی ذمہ داریاں“ منعقد ہو گی جس سے پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد‘ شیخ ابراہیم محمد اسماعیل قندیل (مصر)‘ شیخ عمر محمد سلیم (یمن)، فضیلتہ الشیخ عبدالکریم شیخ عبود (یمن)‘ شیخ صالح حامد (عراق)‘ حسنی شیخ عبداللہ (عراق)‘ پاکستان کے صاحبزادہ سید وجاہت رسول قادری‘ پروفیسر ڈاکٹر مجید اللہ قادری‘ مولانا شاہ انس نورانی‘ علامہ فیض احمد اویسی‘ مفتی منیب الرحمن‘ مولانا سید شاہ تراب الحق قادری اور دیگر علماء شریک ہوں گے۔

دسمبر 21, 2006

امام احمد رضا کی عالمی اہمیت

Filed under: Home, ہوم, امام احمد رضا خان — sulemansubhani @ 9:47 am

مضمون : امام احمد رضا کی عالمی اہمیت
از: انگریز نو مسلم ڈاکٹر محمد ہارون انگلینڈ 

امام احمد رضا کی عالمی اہمیت
اعلٰی حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان ہندوستان کے معروف سنی عالم تھے۔ وہ 1856ء میں پیدا ہوئے۔ اور 1921ء میں انہوں نے وصال فرمایا۔ وہ اپنے دور میں اہلسنت کے امام تھے- اور اس قدر عظیم تھے کہ انہیں اسلامی صدی کے مجدد کے لقب سے پکارا گیا۔ اسلامی صدی کا مجدد وہ ہوتا ہے جو اپنے دور کے تمام لوگوں میں اہم ترین شخصیت ہو۔ پہلی صدیوں کے مجدد دین امام غزالی علیہ الرحمہ کی طرح کے لوگ تھے- جنہوں نے اپنے زمانے میں عظیم ترین اپمیت کے مراتب حاصل کئے مثلاً امام غزالی وہ شخصیت ہیں جن سے پوروپ نے فلسفہ سیکھا ۔ اس مقالے کا مقصد تمام دنیا کے لئے امام احمد رضا بریلوی کی تعلیمات و نظریات کی اہمیت واضح کرنا ہے۔ کوئی بھی شخص دنیا بھر کے لئے اہم ہوتا ہے اگر اس کے یہاں اپنے دور کے اہم ترین مسائل کا حل موجود ہو ۔ کارل مارکس یالینن عالمی اہمیت کے حامل سمجھے جاتے تھے کیونکہ ان کے انکار و نظریات تمام انسانیت کی رہنمائی کرتے محسوس ہوتے تھے۔ اس مقالے میں ہم ثابت کریں گے کہ امام احمد رضا نے اپنے افکار و تعلیمات سے اس صدی کے اہم ترین مسائل کا حل پیش فرمایا ہے۔ ہماری صدی بھی امام احمد رضا کی صدی ہے۔ اور ہماری دنیا کو بھی اسی طرح کے مسائل درپیش ہیں۔ جس طرح کے امام احمد رضا کے وقت میں تھے۔ اس لئے امام احمد رضا کی اہمیت آج ہمارے لئے بھی اتنی ہی ہے جس قدر 1921ء میں ان کے وصال کے وقت کے لوگوں کے لئے تھی۔ بہتر ہو گا کہ ہم اپنے مقالے کا آغاز عہد جدید کے مزکزی مسائل کا احاطہ کرنے کی کوشش سے کریں۔ یہ جدید دور نئی تہذیب کی کامیابی پھر ناکامی کا دور ہے ۔ سوسال پہلے سائنس پر بہت گہرا اعتقاد تھا اس وقت سے اب تک ہم سائنس کی تنگ دامنی اور بہتر دنیا کی تعمیر میں ناکامی کا مشاہدہ کر چکے ہیں بلکہ سائنس نے اور بھی نئے خدشات کو جنم دیا ہے۔ جس سے سائنس پر یقین ختم ہو کر رہ گیا ہے ۔ اس عہد میں سرمایہ داری کا بحران بھی دیکھا ہے اور سرمایہ داری کے مغربی متبادل کی ناکامی بھی۔ کمیونز ناکام ہو گیا ہے۔ سفید نسلی تعصب اپنی تمام تر دپشتوں کے ساتھ نازی ازم میں ملاحظہ کیا جا چکا ہے۔ اور ایک جماعتی اجتماعیت کے نظریے نے بھی تصور سے کہیں بڑھ کر خوف پیدا کیا ہے۔ جدید زمانہ ایسا زمانہ ہے جس میں جدید ثقافت بھی ناکام ہو گئی ہے۔
یہ عہد یوروپ اور بقیہ دنیا دونوں میں جدید ثقافت کی تخریب کا عہد ہے۔ یہ عہد ہر طرف الحاد کے عروج کے ساتھ مذہب کی موت کا عہد ہے۔ بلکہ اس سے بھی اہم۔ دنیا میں موجود مذاہب کے زوال کے سبب مذاہب کے نئے نئے گھٹیا نمونوں کے ظہور کا عہد ہے۔ یہ عہد بھیڑیے کی سی چال کی ذہنیت اجتماعی تحریکوں، فرد کی تذلیل کا عہد ہے۔ جیسے ہم نے پہلے ذکر کیا ایک جماعتی اجتماعیت کے ذریعے انسان کی شرمناک کارستانیوں کا عہد ہے۔ جدید دور نے ان تمام جدتوں سے جن کا ہم نے ذکر کیا مسلم دنیا کو خاص طور پر متاثر کیا ہے۔
یہ جدید دور اسلام، اہل اسلام اور روح انسانی سب کے لئے گہری تاریک رات ہے۔ یہی وہ دور ہے جس میں مغرب نے روایتی مسلم معاشرہ کو کچل کر رکھ دیا ہے۔ اس کی وجہ مسلم سیاسی قوت کا زوال اور ان مسلمانوں کی روحانی سراندازی ہے۔ جنہوں نے مغرب کو قبول کیا اور اس کی پیروی کی۔ اس کی ستائش کی اور پرستش کی۔ یوں دنیا سے اللہ تعالٰی کو وجود کا تصور معدوم ہو گیا اور متعصب لادینیت اور دہرنیت نے اس کی جگہ لے لی۔ اسی سے وہابیت نے جنم یہاں اسلام دین کی حیثیت سے ختم ہو گیا ۔ اور جدید یدیت کی صورت میں مغرب کی بھونڈی تقلید اور بنیاد پرستی کی صورت میں کمیونزم اور فاشسزم طرز کی سماجی تحریک اس کی متبادل بن گئی۔ روایتی معاشرہ تباہ ہوا اور اس کی جگہ مغرب کا در آمد شدہ نو آبادیاتی نسلیت پرستی اور سرمایہ دارانہ معاشرہ آ گیا۔ اور پھر جب مغرب خود ہی ناکام ہو گیا تو اب ہم ان تمام کھنڈرات کے بیچ کھڑے ہیں۔ جنہیں مغرب نے کمیونزم سے فاشسزم، فاشسزم سے نیشنلزم ، اور نیشنلزم سے کیپٹلزم کی شکل میں تعمیر کرنے کی کوشش کی۔
عالمی حیثیت کی حامل وہی شخصیت ہو سکتی ہے جو دور جدید کی خوفناک شکستوں اور ناکامیوں میں انسانیت کی رہنمائی کی اہلیت رکھتی ہو۔ اعلٰی حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی کی زندگی کے اصل کام کو اختصار سے بیان کرنا بہت آسان ہے۔ جنہوں نے تمام عمر اہلسنت کے عقائد کے مطابق اسلام اور اسلامی سوسائٹی کا جدید دنیا کے حملوں کے خلاف دفع کیا ۔ خاص طور پر ان اندرونی حملوں کے خلاف جو ان مسلمانوں کی طرف سے تھے۔ جن کا مقصد اہلسنت کے عقائد کے مطابق اسلام سے جان چھڑا کر ایک نئی چیز کو رائج کرنا تھا۔ اہلسنت کے عقائد کے مطابق اسلام اور اسلامی سوسائٹی کے دفع کا کاوشیں ہی امام احمد رضا کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہیں۔ یہ عالمی اہمیت امام احمد رضا کے عالم دین ہونے اور سنی عالم کی حیثیت سے کام کرنے سے شروع ہوئی۔ انہوں نے زندگی بھر ایک عالم ہی کی حیثیت سے کام کیا۔ انہوں نے ہر اس شخص کے سوالوں کے جواب دیئے جس نے ان سے رابطہ کیا۔ ان کا کردار اسلام کا گہرا علم رکھنے والے ایک دانشوار کا کردار تھا۔ انہوں نے بطور ایک روایتی اسلامی اسکالر تعلیم پائی تھی۔ اور اس میں بھی بے پناہ وسعت تھی۔ وہ مختلف اسلامی اور دوسرے علوم میں ماہر تھے۔ جن میں اسلامی مذہبی علوم و فنون کے علاوہ ریاضی و فلکیات بھی شامل تھے۔ ایک متجر تعلیم یافتہ عالم کی حیثیت سے محض تحقیق طلب سوالوں کے جواب لکھ کر دنیا کو متاثر کرنا شاندار اہمیت رکھتا ہے۔
آج کل اجتماعی تنظیم سازی کا ایسا دور ہے۔ جس میں وسیع دفتری نظام نے فرد کونگل لیا ہے۔ امام احمد رضا نے اس طرز پر کام کرنے سے انکار کیا ہے۔ ان کے دور میں اجتماعی تحریکیں ابھرنا شروع ہو چکی تھیں۔ مگر وہ کسی کے قریب تک نہ گئے۔ انہوں نے کبھی بھی ایک بیوروکریٹ سیاستداں یا منتظم بننے کی خواہش نہ کی۔ اس اجتماعی تنظیم سازی کے تصور کو مودودی کی طرح کے لوگ اسلام میں داخل کرنے کا سبب بنے ۔ امام احمد رضا نے شروع دن ہی سے اس کی مخالفت کی۔ انہوں نے اجتماعی تحریکوں مثلاً تحریک خلافت وغیرہ میں شمولیت سے انکار کیا۔ اور ان تحریکوں کے لئے خود کوئی اجتماعی تحریک ترتیب دینے سے بھی مجتنب رہے۔
آج کے جدید دور کا انسان اندر سے مر چکا ہے۔ کیونکہ آج اچھے فرد کی مانگ نہیں رہی۔ بلکہ محض ایسا فرد درکار ہوتا ہے جو نعرہ لگائے اور جس طرح اسے کہا جائے عمل کرتا رہے۔ امام احمد رضا نے بتایا کہ عصر جدید میں فرد کو یوں مر جانے کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے عالمانہ رائے دیتے ہوئے بڑی سادگی سے اپنا کام کیا۔ ہٹلر، اسٹالن اور اجتماعی تشہیر کے اس دور میں آج بھی اچھے فرد پر بھروسہ کرنے کی عالمی اہمیت ہے۔ یہ دور حکمت و دانائی کی موت اور شعبہ جاتی تخصص کا دور بھی ہے۔

پہلے زمانے کے مقابلے میں آج ایک طالب علم کم سے کم شئی کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جانتا ہے۔ یونیورسٹی ایسی جگہ قرار پائی ہے جہاں پروفیسر بھی اپنے چھوٹے سے مخصوص مضمون کے بارے میں کافی علم نہیں رکھتا۔ کمیرج یونیورسٹی میں حکمت و دانش کا کوئی پروفیسر نہیں ہے۔ تعلیم یافتہ مسلمان اپنے ماضی سے کٹ چکے ہیں۔ کسی بھی روایتی تعلیم یا علم کا وجود اب کم ہی نظر آتا ہے۔ اب پڑھا لکھا طبقہ سابقہ ادوار کے روایتی علوم اور حکمت و دانش کو چھوئے بغیر محض اپنے محدودمضامین کا مطالعہ کرتا ہے۔ ایک ماہر فلکیات صرف فلکیات کا علم رکھتا ہے۔ اسے اس حکمت و دانش کی ذرہ بھر خبر نہیں ہوتی جو دوسو سال قبل کے ماہر فلکیات کو حاصل تھی۔ اعلٰی حضرت امام احمد رضا بریلوی اس علمی روایت کے لئے سامنے آئے جو مغرب میں اپنی موت مر چکی تھی ۔ ان کا مقصد علم کی ممکنہ حد تک وسیع کرنا تھا۔ ایسا علم جس کا ایک ہزار سالہ قدیم روایت سے گہرا رابطہ تھا۔ امام احمد رضا اپنی کتابوں میں ایک ہزار سال پہلے تک کے مصنفین کے حوالے دیتے تھے۔ امام احمد رضا بریلوی فلکیات، سیاسیات بلکہ بینک کاری اور کرنسی تک کے سوالوں پر بھی سیر حاصل عالمانہ رائے دیتے تھے۔ اور اس کے ساتھ ہی وہ روحانی وجدان سے متعلق مشکل ترین سوالات پر بھی تبصرہ و تجزیہ کرنے کی اہلیت رکھتے تھے۔ بلا شبہ امام احمد رضا اپنے اسلامی دور میں صدیوں پرانی ثقافت کا دفع کر رہے تھے۔ آج کی ثقافت تو بالکل بے بنیاد ہو کر رہ گئی ہے۔ ادب اور آرٹ کا ماضی کی روایات سے رابطہ منقطع ہو چکا ہے۔ آج یوروپی مصوری اور شاعری پچاس سال پہلے کی روایت کی پاسداری نہیں کر رہی جبکہ امام احمد رضا نے قدیم زبانوں تک کی فنی روایت کو نبھایا ہے۔ یہ پوری انسانی تاریخ سے کشید شدہ مکمل ثقافت تھی۔ اسی وجہ سے امام احمد رضا کی عالمی اہمیت ہے۔
امام احمد رضا محدث بریلوی نے طب میں بھی دلچسپی لی۔ طب جدید کا بڑا اصول یہ ہے کہ اس کا طب کی قدیم روایت سے کوئی سابقہ نہیں رہا اور یہ حکم و دانا انسانوں کے بجائے تنگ نظر سائنسدانوں کے ہاتھوں میں آگئی ہے۔ امام احمد رضا علیہ الرحمہ محض ایک دانا اور ذہین عالم دین، ماہر فنون اور طبیب ہی نہیں تھے بلکہ انہوں نے تمام تر قدیم روایتی حکمت و دانش کو اندرونی و بیرونی حملوں سے بچایا۔ شاید دنیا کے لئے امام احمد رضا کی سب سے زیادہ اہمیت اس بات میں تھی کہ انہوں نے ( مضرت رساں ) سائنس کی مخالفت کی۔ امام احمد رضا کی زندگی کے اکثر دور میں سائنس کی پرستش ہوتی تھی۔ یہ نیوٹن اور ڈارون پر مکمل ایمان کا دور تھا۔ اعلٰی حضرت امام احمد رضا کی زندگی کے آخری ایام کے قریب آئن سٹائن کے انقلاب نے سائنس کی پرستش کے بارے مٰن شکوک و شہبات پیدا کرنے شروع کئے ۔ یہ خاص طور پر مسلم دنیا ہی میں سائنس کی پوجا ہوتی تھی۔ اور سائنس ہی کو مغربی تسلط کی وجہ گردانا جاتا تھا۔ اسی سائنس کی مدد سے سفید فام اقوام نے نو آبادیات کے لوگوں پر قابو پا رکھا تھا۔ سائنس کی پرستش میں بہت سے نام نہاد مسلمان بھی شامل تھے۔ اور مسلمانوں میں سے سر سید احمد خان جیسے لوگوں نے اسلام کو اس طرح تبدیل کرنے کی کوشش کی کہ اسلام سائنس کے بارے میں مغرب کے نظریات کے مطابق ڈھل جائے۔ یہی نہیں بلکہ ان لوگوں نے اس سے بھی زیادہ کچھ نہیں کیا۔ انہوں نے سائنس ہی کو مسلمان پر استبدار، مسلط ہونے کی وجہ قرار دیا۔ مسلمان سائنس پرست نہیں تھے انہیں سائنس پرست بننے پر مجبور کیا گیا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ مسلمانوں کے لئے کہیں آزادی نہ ہو اور سائنس کے نام پر مسلمانوں کی مرضی کے بغیر مغربی ماہرین اور جدید مسلم ماہرین ہر جگہ حکومت کریں۔ یقینًا آج ہم جانتے ہیں یہ سائنس زیادہ تر حماقت ہے۔
امام احمد رضا کے وقت میں سائنس سخت نسلیت پرست تھی۔ اور 1921ء میں ان کے وصال کے وقت اس سائنس نے مغرب میں کمیونسٹ اور فاشٹ استبدار کا جواز فراہم کیا تھا۔ سائنس کی پرستش کے تباہ کن منطقی نتائج آج اچھی طرح سمجھے جا رہے ہیں۔ خاص طور پر مسلم دنیا نے سائنس کے ہاتھوں خوفناک نقصان اٹھائے ہیں۔ ان نقصانات میں سے ایک سائنس کو ہر غلطی سے مبرا سمجھنے والی نوعیت وسطی ایشیاء کی کمیونسٹ رجیم کے ہاتھوں ماحول کی مکمل تباہی کا سانحہ ہے۔ آج ساری دنیا سائنس سے منہ موڑ کر اس روایتی قدیم حکمت و دانش کی حکمرانی سے قبل موجود تھی۔ لیکن امام احمد ر ضا نے آج سے سو سال قبل سائنس کے خلاف جہاد کیا۔ اگر آپ سائنس پر امام احمد رضا کی تصانیف پڑھیں تو آپ محسوس کریں گے کہ انہوں نے سائنسدانوں کی کس طرح تذلیل کی ہے۔
امام احمد رضا کے نزدیک قرآن اور اسلام ہی میں کامل سچائیاں ہیں۔ اور کسی بھی طرح انکی تردید کی اجازت نہیں دی جا سکتی ہے۔ اگر کبھی سائنسدانوں نے ایسا کیا بھی تو امام احمد رضا نے ان کے دلائل کو اسلامی دلائل سے رد کیا اور انکے پرخچے اڑا دیئے۔ اس طرح امام احمد رضا سائنس میں عظیم تھے۔ اگرچہ امام احمد رضا کسی طور پر بھی عالم سائنسداں نہیں تھے مگر وہ ریاضی اور فلکیات اتنی اچھی طرح جانتے تھے کہ رات کو آسمان دیکھ کر گھڑی کا وقت درست کر لیتے تھے۔ وہ مغربی سائنسی نظریات سے بھی آگاہی رکھتے تھے انہوں نے ستاروں کے جھکاؤ کی بنا پر بڑی تباہی کی پیشن گائی کرنے والے ایک مغربی ماہر فلکیات کا جواب لکھا۔ اور اپنے جواب میں انہوں نے مکمل طور پر آسمانوں اور کشش ثقل سے متعلق مغربی نظریات کو بنیاد بنایا۔ اور صحیح طور پر پیشم گوئی فرمائی کہ کوئی تباہی نہیں آئے گی اور ان کی پیشم گائی صحیح ثابت پوئی۔ (1) آپ کانظریہ تھا کہ سائنس کو کسی طرح بھی اسلام سے فائق اور بہتر تسلیم نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی کسی اسلامی نظریے۔ شریعت کے کسی جزیا اسلامی قانون سے گلو خاصی کے لئے اس کی کوئی دلیل مانی جا سکتی ہے اگرچہ وہ خود سائنس میں خاصی مہارت رکھتے تھے- لیکن اگر کوئی اسلام میں سائنس سے مطابقت پیدا کرنے کے لئے کوئی تبدیلی لانا چاہتا تو آپ اسے ٹھوس علمی دلائل سے جواب دیتے تھے۔ یہی ان کی عالمی اہمیت کی ایک بڑی دلیل ہے۔

امام احمد رضا کے نزدیک کسی بھی روایتی حکمت اور دانش کو ترک نہیں کیا جانا چاہئے۔ بلکہ سائنس کو چاہئے کہ وہ حکمت و دانش کی رقیب یا متبادل بن کر نہیں بلکہ ہمیشہ اس کا خادم بن کر رہے۔ ایک سو سال بعد اب یہی صورت حال ہے جس کی طرف خود مغرب بھی رجوع کر رہا ہے جیسا کہ سبز سیاست اور سبز تحریک سے ظاہر ہے۔ لیکن دنیا میں اب بھی استبدار کی مدد کرنے والی سائنس کی احمقانہ پرستش جاری ہے۔ مغرب اب جان گیا ہے کہ اسٹالن کے جبر اور ہٹلر کے نسلی تعصب کے پیچھے سائنس کا کیا کردار تھا۔ اسی لئے مغرب نے سائنس کو اس کے اصل مقام پر رکھنا شروع کر دیا ہے۔ امام احمد رضا اس وقت ہی سائنس کو اس کے اصل مقام پر رکھ رہے تھے۔ جب کہ ابھی اس قدر نقصان نہیں ہوا تھا۔ وہ سائنس کو اس مقام پر رکھتے تھے جس کی وہ اہل تھی۔ روایتی حکمت و دانش ابھی زندہ تھی اور وہ خود بھی اس روایتی دانش سے لبریز تھے۔ وہ صحیح تھے اور مغرب غلطی پر تھا۔
ہاں مغرب کے اپنی غلطی کے اعتراف سے سو سال قبل اپنی زندگی میں امام احمد رضا نے سائنسدانوں کی حماقتوں کا جواب دینے کی جدو جہد فرمائی لیکن بلا شبہ احمق یوروپیوں کی پوری دنیا کے مقابل وہ یکہ و تنہا تھے۔ تاہم انہوں نے سائنس کو اس کے اصل مقام پر رکھنے کیلئے مسلمانوں کو ضروری کام پر لگا دیا۔ انہوں نے محسوس کر لیا تھا کہ سب سے بڑا چیلنج سائنس کی پرستش اور اس کا وہ طریقہ تھا جس سے وہ اسلامی حکمت و دانش کا دھمکا رہی تھی۔ امام احمد رضا کے زمانے کے مقابلے میں آج ہم سائنس کو چیلنج کرنے کی بہتر پوزیشن میں ہیں۔ کیونکہ آج مغرب میں بہت سے لوگ خود ہی سائنس کی محدودیت کو جان گئے ہیں۔ امام احمد رضا سائنس کے مقابل اسلام کا دفع کرنے اور سائنس کی حدیں واضح کرنے کی کاوشوں کی وجہ سے عالمی اہمیت کی حامل شخصیت ہیں۔ صرف امام احمد رضا کے طریق کو اپنا کر ہی مسلم دنیا اپنے تباہ کن ماضی اور حال سے پیچھے چھڑا سکتی ہے۔
اعلٰی حضرت امام احمد رضا بریلوی ایک اور سادہ طریقے سے بھی عالمی اہمیت رکھتے تھے۔ وہ ایک آفاقی تھے۔ جدید دور سخت نیشنلزم اور نسلیت پرستی کا دور ہے۔ لیکن امام احمد رضا چونکہ مسلمان تھے اس لئے کوئی ملک یا براعظم ان کا وطن نہیں تھا۔ پوری اسلامی دنیا انکی مادر وطن تھی۔ ان کی شہرت ساری اسلامی دنیا تک پھیلی ہوئی تھی۔ خود مکہ معظٌمہ میں ان کو قدر و منزلت کی ناگہ سے دیکھا جاتا تھا۔ (1) انہوں نے اسلام کی بین الاقوامی ثقافت کا تصور دیا۔ وہ تمام لوگوں سے مخاطب ہوئے۔ انہوں نے بہت سی زبانوں میں استفتاء کے جواب لکھے۔ وہ ہمیشہ اس زبان میں جواب دیتے جس زبان میں سوال کیا جاتا تھا۔
(2) آج کے دور میں خواتین و حضرات کتنے ہی زیادہ ہوں جب ایک ہی ملک ایک ہی گروہ یا ایک ہی نسل کی طرف دیکھتے ہیں تو بڑا عجیب لگتا ہے حتٰی کہ ایک عالمی شہرت کا حامل گلوکار بھی آفاقی نہیں ہوتا بلکہ محض امریکی کہلاتا ہے۔ امام احمد رضا ایک آفاقی شخصیت تھے۔ اور یقینًا وہ ایسے ہی تھے کیونکہ وہ ایک سنی مسلمان تھے۔ اور ان کا مقصد اہلسنت کے نظریات و عقائد کے مطابق اسلام کا دفع تھا۔ اہلسنت کے مطابق اسلام ہی تمام مذاہب میں سب سے زیادہ آفاقی ہے۔ عیسائیت کا مرکز اٹلی ہے۔ جبکہ اہلسنت کے مراکز بہت سارے ہیں اپنی تمام تر قدیم روایات کے ساتھ عرب، ترکی، وسط ایشیاء انڈیا مصر، یا اسی طرح کے دیگر ممالک امام احمد رضا کا پیغام آفاقی پیغام ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ عالمی اسلامی برادری میں شامل ہو جاؤ جو تمام ملکوں ، تمام نسلوں اور تمام قوموں میں موجود ہے۔ کس قدر اہم پیغام ہے یہ دنیا بھر کے لئے۔
آج ہم مرگ مذہب کے دور میں رہ رہے ہیں۔ مذہب کو سائنس کے مطابق اور جدید بنانے کی کاوشوں نے مذہب و روحانیت کو نکال باہر کیا ہے۔ سچی روحانیت تقریبًا ختم ہو گئی ہے اور مذہب محض سیکولر مقاصد کے لئے رہ گیا ہے۔
اسی طرح صیہونیت اور یہودیت ہر طرح سے نازی ازم کی طرح مذہب سے ایک غلبہ پسند نسلیت پرست تحریک میں تبدیل ہو گئی ہے۔ عیسائیت میں مذہب دائیں بازو کی انتہا پسند سیاست کی مدد کرنے کا ذریعہ بن گیا ہے۔ جیسا کہ سیاسی کیتھولک طریقہ یا جیری فال دیل کی انتہا پسند امریکی پروٹسنٹ بنیاد پرستی ہے۔ سری لنکا میں بدھ مت کے پیروکاروں میں مذہب نے نیشنلزم کی صورت اختیار کر لی ہے۔ اور مسلم دنیا میں اسلام ایک معاشرتی، اقتصادی اور سیاسی تحریک میں تبدیل ہو گیا ہے۔ جیسے مودودی اور خمینی کی سیاست میں اسلام کمیونزم اور فاشسزم کے نمونے پر تعمیر کیا گیا ہے۔
ان تمام صورتوں میں روحانیت غائب ہو جاتی ہے۔ لوگ خدا پر نہیں قوت و طاقت پر بھروسہ کرنے لگتے ہیں۔ صیہونیوں کی اصل امید امریکہ اور ایف۔14 پر ہے۔ وہ دعا کی بجائے اجتماعی پروپیگنڈہ اور اجتماعی تنظیم سازی پر یقین رکھتے ہیں۔ اعلٰی حضرت امام احمد رضا کی ساری تگ و تاز اس لئے تھی کہ کسی طرح روحانیت زندہ رہے۔
جیسا کہ ہم پہلے بیان کر چکے ہیں وہ کسی بھی صورت میں اسلام کو سائنس کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کو برداشت نہیں کر تے تھے۔ اس سے زیادہ اہم ان کی وہ کاوشیں ہیں جو انہوں نے اہلسنت کے عقائد کے مطابق اسلام کے روحانی اشغال کے دفاع کے لئے جاری رکھیں۔ انہوں نے صوفی ازم یا اسلامی تصوف کے دفاع کیلئے سخت محنت اٹھائی۔ اسلامی روحانیت کی بنیاد وہ مسلم درویش اور اولیائے کرام ہیں جن کا سلسلہ خود پیغمبر اسلام صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے زمانہ اقدس سے جا ملتا ہے۔ ان صوفیائے کرام کا ایک دوسرے سے اور ماضی بعید کے صوفی سلاسل سے گہرا ربط ہوتا ہے۔ اور اس طرح ایک نسل سے دوسری نسل تک صوفی ازم کا علم و عمل منتقل کرتے ہوئے وہ ایک زنجیر یا سلسلہ کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔
امام احمد رضا تمام اہم صوفی سلاسل میں مجاز تھے اور خود بھی ایک بلند پایہ صوفی اور مصلح تھے۔ انہوں نے خود اور ان کے پیروکاروں نے تصوف کی تمام روایات پر عمل کیا۔ امام احمد رضا کی تحریروں میں اسلامی تصوف اور روحانیت کی چودہ سو سالہ روایات ملاحظہ کر سکتے ہیں۔ مذہب کی تمام علمی دولتیں انہیں کے دم سے ہیں۔ وہ ایک جدید صوفی سے کہیں برتر و بالا ہیں۔ انہوں نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیتی مرگ مذہب کی تحریک کے خلاف پوری قوت سے اسلام کا دفاع کیا یہی وجہ تھی کہ انہوں نے متعصب اور نشہ میں ڈوبے ہوئے سائنسدانوں کے خلاف جہاد کیا اور ہاں ! یہی وجہ تھی کہ انہوں نے وہابیوں کے خلاف جدوجہد کی۔
امام احمد رضا جدید عصر کے تمام حملوں کے خلاف مذہب کے زبردست محافظ تھے۔ انہوں نے ایک بھر پور تحریک کی رہنمائی فرمائی۔ تاکہ اہلسنت کے عقائد کے مطابق اسلام اپنا کام جاری رجھ سکے۔ تنہا یہی کام امام احمد رضا کو عالمی اہمیت کی حامل شخصیت بنا دیتا ہے۔ بہت سی تقاریب اسلام اور اسلامی تصوف میں مرکزی حیثیت رکھتی ہیں۔ مثلاً پیغمبر اسلام صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی ولادت عید میلاد النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی تقریبات، یا بزرگان دین کے مزارات، یا دیگر مقامات پر ان کے عرسوں کی تقاریب وغیرہ، اس سارے تصوف اور مذہب کے ساتھ تمام طرح کی عبادات اور تقریبات کی مضبوط روایت کی بھر پور حفاظت فرمائی۔ انہوں نے تہیہ کر لیا تھا کہ وہ عصر جدید کو تصوف اور مذہب کی شاندار علمی روایات پر ڈاکہ نہیں ڈالنے دیں گے۔ مرگ مذہب کے خلاف یہ جدوجہد بجا طور پر عالمی اہمیت کی حامل ہے۔ صیہونیت، عیسائیت اور بدھ مت میں مذہب کی موت کے نتائج ہم ملاحظہ کر چکے ہیں۔ آج ہم جانتے ہیں کہ ہوشمندی اور عقل و شعور کا ایک ہی راستہ ہے کہ مرتے ہوئے مذہب کو پھر سے زندہ کر دیا جائے۔ انسانیت کے لئے ضروری ہے کہ ایک بار پھر خدا، حیات بعد از موت اور یوم حساب پر یقین کامل پیدا کرے۔ طاقت کی پرستش اور اخلاقی پستی کا جس میں انسانیت گزشتہ صدی سے گر چکی ہے فقط یہی ایک علاج ہے ۔ لیکن صحیح مذہب کو کوئی کہاں تلاش کرے۔ مذہب میں تو تحریفات ہو چکی ہیں۔ Bishop of Durham جیسے لوگوں کو ماننے والی عیسائیت کیسے یاد کرے کہ حقیقی مذہب کیسا تھا۔ لیکن ہمارے پاس امام احمد رضا اور ان کی رہنمائی میں چلنے والی سنی تحریک موجود ہے۔ ہم ان کے پیروکاروں اور ان کی تعلیمات کے ذریعہ جان سکتے ہیں کہ حقیقی مذہبی زندگی کیسے گزاری جاتی ہے۔ اور حقیقی روحانیت کیا ہوتی ہے۔ سائنسی قوم پرستی ، نسلیت پرستی اور اجتماعیت کے جدید عہد میں حقیقی مذہب کا دفاع اور حفاظت ہی امام احمد رضا کی عالمی اہمیت ہے۔

امام احمد رضا محدث بریلوی کی اہمیت، دیگر تمام خصوصیات مذہب کی موت کے خلاف ان کی دفاعی جدوجہد ان کی طرف سے سائنس کی مخالفت، ان کی آفاقیت اور روایتی آرٹ کے تحفظ عالمانہ کردار سے نمایاں ہوتی ہے۔ اور ان کی اصل اہمیت یہ ہے کہ وقت نے انہیں صحیح ثابت کر دیا ہے۔ کیونکہ آج سب نے روایتی مذہب کو ترک کرنے، سائنس کے پیچھے بھاگنے اور سائنس کی ساری تبلیغ کی غلطی کو جان لیا ہے۔ یقینًا امام احمد رضا نے عمومی مذہب کا دفاع نہیں کیا بلکہ انہوں نے اسلام اور خصوصی طور پر اہلسنت کے عقائد کے مطابق اسلام کا دفاع کیا۔ اور دنیا کے لئے ان کی اہمیت اسی میں تھی کہ انہوں نے اسلام کے دفاع اور حفاظت کے لئے کام کیا۔ امام احمد رضا بریلوی کی عالمی، جدوجہد، ان کی یہی جدوجہد ہے جس کے ذریعے انہوں نے اسلام کا دفاع کیا اور اسے آج کے دور کے مسلمانوں اور غیر مسلمانوں کے لئے محفوظ رکھا۔
انیسویں صدی میں زوال اقتدار کی وجہ سے اسلام کی بیرونی حملوں کا خطرہ در پیش تھا۔ لیکن اس کے ساتھ ہی اسلام کو اندرونی حملوں سے بھی خطرہ تھا۔ مسلمانوں میں اعلٰی معاشرتی مقام کے حامل بہت سے لوگوں نے سوچا کہ اب مسلمانوں کے ساتھ رہنے میں ان کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔ انہوں نے سوچا کہ وہ مسلم برادری کو چھوڑ کر یورپیوں اور امریکیوں جیسے غیر مسلم معاشرے میں اچھی زندگی گزار سکیں گے۔ وہ یہ بھی جانتے تھے کہ اس طرح کرنے کے لئے انہیں اسلام کو مغربی نظریات کے مطابق ڈھالنا پڑے گا۔ روایتی اسلامی طرز زندگی کو چھوڑ کر مغربی طرز کی زندگی کی تقلید کرنا پڑے گی۔ اس سے بھی اہم بات یہ تھی کہ اسلام کو یوں تبدیل کرنے کی ضرورت تھی کہ وہ جدید مغربی سائنس کی پرستش سے مطابقت پیدا کر سکے۔ اسلام میں مذہبیت کم ہو جائے اور وہ جدید مغربی نظریات کے مطابق ڈھل جائے۔ اب یہ سب کچھ کرنے کیلئے ان ( نام نہاد ) مسلمانوں کو پیغمبر اسلام صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے مرتبے و مقام کو گھٹانے کی ضرورت تھی ان کے معجزات کا انکار درکار تھا۔ انکو کسی خاص روحانی قوت سے محروم ایک عام انسان کی سطح تک گھٹانا مقصود تھا تاکہ مغربی سائنس سے ہم آہنگی ہو سکے۔ جب پیغمبر اسلام صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا مرتبہ و مقام کم کرنے کی کوشش کی گئی تو ان سائنس پرست مسلمانوں کا درجہ بزعم خویش بلند ہو گیا اور وہ اپنی مرضی کے مطابق اسلام کو تبدیل کرنے کے استحقاق کا دعوٰی کرنے لگے اب ان تمام ضرورتوں نے ان مسلمانوں کو وہابیت کے راستے پر ڈال دیا۔ وہابیت جسے اٹھارہویں صدی میں ابن عبدالوہاب نے شروع کیا وہ طاقت کے ذریعہ پروان چڑھی۔ وہابیت خالص مذہبیت اور خصوصا روایتی تصوف کو اتار کر دور پھینکنے اور اجتہاد کا دروازہ کھولنے کے کام آسکتی تھی۔ اجتہاد کا مطلب یہ تھا کہ اسلام کو مغربیت میں ڈھالنے کے خواشمند مسلمانوں کی مرضی کے مطابق اسلامی قانون کو دوبارہ لکھا جائے۔ تاکہ وہ غیر مسلم سوسائٹی میں اچھی نوکریاں حاصل کر سکیں اسی طرح امام احمد رضا کے دور میں اسلام کی شکست و ریخت کا عمل شروع ہو گیا اول اہلسنت کے عقائد کے مطابق روایت اسلامیہ پر حملہ کیا گیا اور اسے کمتر بتایا گیا اور پھر برطانوی حکومت میں مناصب کے خواہاں سر سید احمد خاں جیسے لوگوں نے اسلامی جدیدیت کو رواج دیا۔ اور بعد ازاں مغربی سرمایہ داری کو تقلید محض کرنے والے حکمرانوں کی تمام قوت اپنے ہاتھوں میں رکھ کر مسلم دنیا میں سرمایہ دارانہ نظام تشکیل دینے والے اسلامی جدت پسندوں نے اس جدیدیت کو مذید پروان چڑھایا اور جب یہ اسلامی جدیدیت ناکام ہو گئی تو پھر کمیونزم فاشسزم کی نقل کی صورت میں وہابیت ابھر آئی۔ فاشسزم اسلامی بنیاد پرستی ہے جو ایران اور دیگر ممالک میں مکمل ناکام اور تباہی پر منتج ہوئی ہے۔ آج ہم ایسے دور میں رہ رہے ہیں جس میں مغرب کے بہترین دوست سعودی حکومت کے سانحے، مسلم دنیا میں تمام تر کوششوں کے باوجود اسلامی جدیدیت کی ناکامی کی مصیبت اور آج کے دور میں بنیاد پرستی کی آفت کی صورت میں وہابیت اپنے انجام کو پہنچ رہی ہے۔ بنیاد پرستی کی آفت شاید ابھی مستقبل میں بھی باقی رہے امام احمد رضا محدث بریلوی نے بہت آغاز ہی میں ان تمام غلط راہوں کی نشاندہی اور بھر پور مخالفت کی تھی وہ مغرب اور سائنس سے کوئی ردرعایت نہیں رکھتے تھے۔ انہوں نے تمام عمر وہابیت کے خلاف جدوجہد میں صرف کی انہوں نے ہر اس شخص کی مخالفت کی جس نے پیغمبر اسلام صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے مرتبہ اور مقام کو گھٹانے کی کوشش کی- امام احمد رضا نے رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر کسی بھی طرح کی تنقید کرنے یا ان کی عظمت و کمال میں کوئی بھی شک پیدا کرنے کی اجازت دینے سے صاف انکار کیا۔ انہوں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے مرتبہ و کمال کو گھٹانے والے وہابی تراجم قرآن کے مقابلے میں اردو زبان میں قرآن حکیم کا بہت ہی خوبصورت ترجمہ پیش کیا۔ اعلٰی حضرت امام احمد رضا نے اسلام کے ان تمام غداروں کی سیاسی اسکیموں کی مخالفت کی جو اسلام کو اپنی قوت بڑھانے کے لئے استعمال کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے ان دیوبندیوں اور وہابیوں کو خوب خوب ہدف تنقید بنایا۔ جو سیکولر انڈیا میں ہندؤں کے ساتھ مل کر اعلٰی عہدوں پر پہنچنے کی آس لگائے پیٹھے تھے۔ امام احمد رضا نگاہ بصیرت سے ملاحظہ فرما چکے تھے یہ تمام کوششیں اشتمالیت اور وسیع قتل عام پر منتج ہونگی۔ کیونکہ ہندو کبھی بھی اقتدار میں ان وہابیوں، دیوبندیوں کی شرکت پسند نہیں کریں گے۔ امام احمد رضا نے ان وہابیوں کی عوامی سیاست پر سخت تنقید کی جو اعلٰی مناصب کے حصول کی اسکیموں میں مدد کے لئے مسلمانوں کو محض ووٹروں کے گلے میں بدل دینا چاہتے تھے۔ امام احمد رضا نے باب اجتہاد کھولنے کی کسی بھی کوشش کی بھر پور مخالفت کی۔ وہ کسی کو بھی اپنی ذاتی قوت کے حصول کے لئے اسلام کے ناکام استعمال یا اسلام کی تبدیلی کی اجازت نہیں دیتے تھے۔ ان سب باتوں سے بڑھ کر امام احمد رضا نے حقیقی اسلامی برادری کے تحفظ کی کوشش فرمائی۔

روایتی اسلامی سوسائٹی اگرچہ پیچیدہ تھی مگر اس کی بنیاد ناقابل تبدیل شریعت کے محافظ اور مسلمانوں کے راہبر علمائے کرام کے نظام مزارات، خانقاہوں اور مشائخ کرام کے ساتھ صوفی سلسلے کے مکمل وجود اور میلاد کی طرح کی تقریبات پر تھی۔ یہی سوسائٹی دنیا میں اللہ تعالٰی کی رضا اور پسند کے مطابق ڈھلی ہوئی سوسائٹی ہے۔ اور امام احمد رضا نے اسی کے دفاع کی کوششیں فرمائیں۔
انہوں نے بلاشبہ وہابیوں سے اس اسلامی سوسائٹی کو بچایا۔ اور بہت سے ایسے دوسرے لوگوں سے بھی جو علماء سے جان چھڑا کر مودودی کی طرح کے صحافی اور سیاست دانوں کو نگراں بنانا چاہتے تھے۔ تاکہ تصوف کے سلاسل کو مکمل طور پر تباہ کیا جا سکے۔ اپنی جگہ امام احمد رضا کے وقت ہی سے ان لوگوں نے سرمایہ داری یا اشتراکیت کے نمونے پر ایک خوفناک سوسائٹی تشکیل دے لی تھی۔ جس پر انہیں کی حکومت تھی۔ جس کا انہیں کو انکے خاندان کو اور ان کے دوستوں کو فائدہ تھا۔ اور اسی سائنس پرست سوسائٹی سے چھٹکارے کی کسی بھی کاوش کو دبانے کے لئے انہیں ہر جگہ خفیہ پولیس کی ضرورت تھی۔ اعلٰی حضرت امام احمد رضا نے یہ بھی رہنمائی فرمائی کہ مسلم کمیونٹی آج کی دنیا میں کس طرح صحیح معنی میں محفوظ رک سکتی ہے۔ 1912ء میں چار نکاتی پروگرام کے تحت یہ نظریہ پیش فرمایا کہ مسلمانوں کو آپس کے تنازعات باہم حل کرنا چاہئے۔ انہوں نے آپس میں خرید و فروخت کی طرف متوجہ ہونے کی رہنمائی فرما کر ان کے اتحاد، معاشی استحکام اور صحیح اسلامی معاشرے کی تشکیل کا راستہ بھی بتا دیا۔ یہی راستہ تھا جس پر چل کر مسلمان غیر مسلم سوسائٹی میں ڈھلے بغیر اپنی تمام روایات سمیت اپنی سوسائٹی کو محفوظ رکھ سکتے تھے۔ بدترین نسل پرستی، تعصب اور اشتمالیت سے اور شریعت و طریقت کو پروان چڑھا کر اپنی اسلامی جنت میں برقرار رہتے ہوئے جدید دنیا کو جہنم میں اترتے دیکھ سکتے تھے۔ اور مغربیت اور سائنس کی بیجا لادنیت سے بھی محفوظ رہتے اور وہابیت کی لعنتوں سے بھی محفوظ رہتے۔ کسی طرح کا سیاسی دام ان کو اپنی گرفت میں نہ لے پاتا۔
اعلٰی حضرت امام احمد رضا اور دیگر لوگوں نے اس منصوبہ بندی پر عمل کیا جس سے اسلام اور اہلسنت کی روایتی سوسائٹی بیسویں صدی کے تمام تر مضرات کے باوجود ندہ و سلامت رہی۔ آج تمام جدت پسندوں اور بنیاد پرستوں کی ناکامی کے بعد منصوبہ رضا کی عظمت کھل کر سامنے آرہی ہے۔ ان جدت پسندوں او بنیاد پرستوں نے مسلم دنیا میں کوئی پائیدار تعمیر نہیں کی۔ غیر مسلم بھی ایک اچھی سوسائٹی تشکیل دینے میں ناکام ہو رہے ہیں۔ کمیونزم اور فاشسزم دونوں ناکام ہو رہے ہیں۔ حتٰی کہ اعتدال پسند سوشلزم کے فوائد بھی معدوم ہو رہے ہیں۔ کیونکہ مغرب اب دوبارہ سرمایہ دارانہ نظام کی خالص اور بے رحم تعبیر کی طرف لوٹ رہا ہے اور دنیا دائنسی منصوبوب کی ناکامی محسوس کر رہی ہے۔ دریں حالات امام احمد رضا کی عالمی اہمیت اور بھی نمایاں ہو رہی ہے۔ انہوں نے جدید منصوبوں پر اس وقت تنقید کی جب وہ ابتدائی منزل طے کر رہے تھے۔ آج امام احمد رضا محدث بریلوی ہی کے نظریات سچ ثابت ہو رہے ہیں۔ ہہ ایک مرد مومن کی فراست اور اس کی بصیرت تھی۔ سب کچھ صدقہ تھا عشق رسول اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا۔ اعلٰی حضرت امام احمد رضا کا دور اب شروع ہوا ہے۔ ہم اسلام دشمن اور غیر اسلامی حکومتوں اور معاشروں کی دنیا میں رہ رہے ہیں جس کا مذہب سے رابطہ کٹ چکا ہے۔ ہمیں امام نے سکھایا ہے کہ ہم اس دنیا میں کس طرح ہر باطل کا مقابلہ کرتے ہوئے وقار کے ساتھ زندہ رہیں اب تک ہم وہ تمام پہلو ملاحظہ کر چکے ہیں جن کی وجہ سے امام احمد رضا اہمیت کے حامل ہیں۔ انہوں نے جدید دنیا کے حملوں کے خلاف عقائد اہلسنت کے مطابق اسلام کا دفاع کیا۔ امام احمد رضا عالمی اہمیت کے حامل ہیں۔ کیونکہ اہلسنت کے عقائد اور اسلام عالمی اہمیت کے حامل ہیں ۔ اور عقائد اہلسنت اور انکے نظریات ہی دنیا کے مسائل کا جواب رکھتے ہیں۔ انہی عقائد و نظریات کا نام اسلام ہے۔ اور یہی سچا مذہب ہے۔
اعلٰی حضرت امام احمد رضا پوری دنیا کے لئے تمام انسانیت کے لئے اہمیت رکھتے ہیں۔ کیونکہ وہ ایک اللہ اور اسکے سچے رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اور دین حق کی طرف لوٹنے کی دعوت دیتے ہیں۔ امام احمد رضا نے رسول کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی کامل و اکمل محبت اور عزت کو اسلام کا مرکز اپنی زندگی کا مرکز اور اپنی تمام علمی کاوشوں کا مرکز بنائے رکھا۔ اور یہی ان کی عالمی اہمیت کا سبب ہے۔

مولانا ریاض سہروردی کا عرس پیر کو ہوگا

Filed under: Home, ہوم, اہلسنت اردو خبریں — sulemansubhani @ 9:38 am

کراچی(پ ر) مرکزی انجمن عندلیبان ریاض رسول پاکستان کے بانی مولانا سید محمد ریاض الدین سہروردی کا عرس پیر25 دسمبرکو جامع بغدادی مسجد ٹرسٹ مارٹن کوارٹرز میں ہوگا۔ قاری غلام محمد سوہو اور علامہ ابرار احمد رحمانی بعد نماز عشاء خطاب کریں گے۔

دسمبر 20, 2006

باطل عزائم رکھنے والوں کی سازشیں ناکام بنادیں گے

Filed under: Home, ہوم, اہلسنت اردو خبریں — sulemansubhani @ 9:06 am

کراچی (پ ر) جماعت اہلسنت پاکستان کراچی کے امیر علامہ شاہ تراب الحق قادری نے کہا کہ غلامان مصطفی متحد و منظم ہوکر تمام باطل عزائم رکھنے والوں کی سازشوں کو ناکام بنادیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامع مسجد اولیاء چاندنی چوک پرانی سبزی منڈی میں منعقدہ محفل گیارویں شریف کے اجتماع سے خطاب میں کیا۔ اجتماع سے مفتی اشفاق احمد رضوی نے بھی خطاب کیا جبکہ اجتماع میں علامہ ابرار احمد رحمانی، محمد حسین لاکھانی، مولانا الطاف قادری، محمد احمد صدیقی، قاضی نور الاسلام شمس، علامہ اسماعیل ضیائی، علامہ عطاء المصطفیٰ، مفتی اکبر الحق قادری، مولانا نثار احمد قادری، علامہ لائق سعیدی، مولانا اقبال قادری کے علاوہ علماء و مشائخ اور عوام نے شرکت کی۔ علامہ شاہ تراب الحق قادری نے مزید کہا کہ اسلام دشمن قوتیں پاکستان کو کفر کی آماجگاہ بنانے کے لیے لادینیٹ، گمراہی مغربی تہذیب کو پھیلا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دینی اقدار اور حدود قوانین کی حفاظت نعروں اور سیاسی ایجنڈوں سے بالاتر ہوکر عملی جدوجہد کرکے ہی کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ علمائے اہلسنت مصلحت پسندی کی خاطر کسی سازش کو قبول نہیں کریں گے۔ تمام غیرشرعی قوانین اور خواتین ایکٹ کو ختم کرکے دم لیں گے۔ ممتاز عالم دین علامہ مفتی اشفاق احمد رضوی نے خطاب میں کہا کہ تحفظ حدود اللہ اور ناموس رسالت کے لیے کوئی مصالحت نہیں ہوسکتی پاکستان کا حقیقی مقصد ہی نظام مصطفی کا عملی نفاذ ہے۔

دسمبر 19, 2006

علماء و مشائخ نے ہر دور میں ملت کی رہنمائی کا فریضہ انجام دیا

Filed under: Home, ہوم, اہلسنت اردو خبریں — sulemansubhani @ 8:50 am

کراچی(پ ر) علامہ سید شاہ تراب الحق قادری نے کہا ہے کہ ملت اسلامیہ کے دور انحطاط میں صوفیائے کرام نے کردار و عمل سے اہل اسلام کی تطہیر کا فریضہ سرانجام دیا۔انہوں نے کہا کہ ہر دور میں علماء و مشائخ نے ملت اسلامیہ کی رہبری و رہنمائی کی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے دفتر جماعت اہلسنت میں لندن سے آئے ہوئے ممتاز عالم دین علامہ مفتی اشفاق احمد رضوی سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر علامہ ابرار احمد رحمانی، محمد حسین لاکھانی، قاضی نورالاسلام شمس، مولانا خلیل الرحمان چشتی، محمد احمد صدیقی، مولانا الطاف قادری، جاوید قادری، صاحبزادہ فخر الحسن شاہ، مولانا محمود حسین شاہ و دیگر بھی موجود تھے۔ علامہ سید شاہ تراب الحق قادری نے کہا کہ جماعت اہلسنت پاکستان مسلم امہ اور علماء و مشائخ کو منظم و متحد کرنے کیلئے پاکستان سمیت دنیا بھر میں فعال کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جماعت اہلسنت نے تحفظ ختم نبوت، تحفظ ناموس رسالت اور نظام مصطفی جیسی کامیاب تحریکیں چلائیں۔ علماء اور عوام نے اللہ اور اس کے رسول سے اپنی عقیدت کا اظہار گرانقدر قربانیوں کی صورت میں کیا۔علامہ مفتی اشفاق احمد رضوی نے کہا کہ اسوہٴ مصطفی کو رہنمائے منزل بنا کر ہی دور حاضر کے سماجی، معاشی، معاشرتی، قانونی اور عالمی مسائل کو حل کیا جا سکتا ہے انہوں نے کہا کہ اسلام ابدی دین ہے، دنیائے انسانیت کے حقوق کا ضامن ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج دنیا کو اخلاقی اور معاشرتی زوال سے بچانے کیلئے اسلام کی آفاقی تعلیمات کو عملی طور پر نافذ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہر قسم کے تعصبات سے بالاتر ہو کر اسلام کے اجتماعی مفادات کو مقدم رکھتے ہوئے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کے تمام علماء و مشائخ کو ایک پلیٹ فارم پر متحد ہو کر اسلام کی نشاة ثانیہ کیلئے عملی جدوجہد کرنا ہوگی۔

دسمبر 18, 2006

قرآن و سنت کے منافی خواتین بل کے خلاف جدوجہد جاری رہے گی

Filed under: Home, ہوم, اہلسنت اردو خبریں — sulemansubhani @ 12:17 pm

کراچی (اسٹاف رپورٹر) جماعت اہلسنت پاکستان کے مرکزی امیر اسلامی نظریاتی کونسل کے مستعفی رکن صاحبزادہ پروفیسر سید مظہر سعید کاظمی نے کہا ہے کہ وفاقی وزیر تعلیم کے حالیہ بیانات سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ وہ پاکستان کے نظریاتی تشخص کو ختم کرنے کے درپے ہیں لیکن پاکستان کے غیور مسلمان ان کے عزائم کو خاک میں ملادیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اہلسنت کراچی کے زیراہتمام النساء کلب گلشن اقبال میں منعقدہ اسلامی نظریاتی کونسل سے احتجاجاً مستعفی ہونے پر اپنے اعزاز میں دی گئی استقبالیہ تقریب سے خطاب میں کیا۔ جس سے جماعت اہلسنت کراچی کے امیر علامہ سید شاہ تراب الحق قادری‘ سپریم کونسل کے رکن‘ اسلامی نظریاتی کونسل کے مستعفی رکن حاجی محمد حنیف طیب نے بھی خطاب کیا۔ پروفیسر مظہر سعیدکاظمی نے کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل سے میرے استعفیٰ دینے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ نام نہاد خواتین بل واضح طور پر قرآن و سنت سے متصادم ہے‘ حکمرانوں کا یہ کہنا کہ اس بل میں قرآن و سنت کے خلاف کوئی بات نہیں ہے‘ دینی علم سے ناواقف ہونے کی دلیل ہے‘ پورے ملک کے علماء چاہے ان کا تعلق کسی بھی مکتبہٴ فکر سے ہو اور خصوصاً وہ علماء کمیٹی جس کو حکومت ہی نے نامزدکیا تھا اس نے بھی اس بل کی متعدد دفعات کواسلام کے خلاف قرار دیا ہے‘ ایسے ماحول میں جبکہ کتاب و سنت کے خلاف قانون سازی ہو رہی ہو، اسلامی نظریاتی کونسل کو بل ریفرکرنے سے گریزکیا جا رہا ہو،کونسل کے اراکین کو ایوان صدر بلاکر ان سے تفصیلی مشورہ کیے بغیرکونسل کی طرف سے حمایت کا اعلان کیا جانا میرے مزاج کے خلاف ہے‘ اس لیے ہم نے استعفیٰ دے دیا اور باہمی مشاورت سے جماعت اہلسنت پاکستان کی سپریم کونسل کے رکن حاجی حنیف طیب نے بھی استعفیٰ دے دیا۔ بعد ازاں چوہدری شجاعت حسین نے اسلامی نظریاتی کونسل سے استعفیٰ واپس لینے کی بھی جوگزارش کی تو ان کو جواب دے دیا گیا کہ یہ ہماری ایمانی غیرت کا مسئلہ ہے، جب تک حکومت قرآن و سنت کے منافی بل کو واپس نہیں لیتی، حکومت کے خلاف جدوجہد جاری رہے گی۔ جماعت اہلسنت پاکستان کراچی کے امیر علامہ سید شاہ تراب الحق قادری نے خطاب میں کہا کہ قرآن و سنت سے ماورائے قوانین پرکوئی مصالحت نہیں ہوسکتی۔ علمائے اہلسنت کسی سیاسی ڈپلومیسی‘ مصلحت پسندی کا شکار نہیں ہیں۔ پروفیسر سید مظہر سعیدکاظمی‘ حاجی حنیف طیب نے اسلامی نظریاتی کونسل سے احتجاجاً مستعفی ہوکر ایمانی غیرت و حمیت کا ثبوت دیا ہے‘ انہوں نے کہا کہ اعلائے کلمة الحق علمائے اہلسنت کا شعار ہے۔ جماعت اہلسنت پاکستان کی سپریم کونسل کے رکن اسلامی نظریاتی کونسل کے مستعفی رکن حاجی حنیف طیب نے خطاب میں کہا کہ خواتین ایکٹ کو اسلامی نظریاتی کونسل میں نہیں بھیجا گیا تو تعاون کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا لہٰذا ہم نے احتجاجاً کونسل سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا، انہوں نے کہا کہ مغربی نظام اور قوانین سے خواتین کے مسائل کو ہرگز حل نہیں کیا جا سکتا اجتماع میں جماعت اہلسنت کے قائدین نے اس عزم کا اظہارکیا کہ حدودالله کے نفاذ کے لیے جدوجہد جاری رہے گی اور غیر شرعی خواتین ایکٹ کو ختم کرکے دم لیا جائے گا۔

دسمبر 17, 2006

آخری سفر

Filed under: Home, ہوم, اسلامی مضامین — sulemansubhani @ 12:02 pm

آخری سفر:

ٹکٹ: مفت
سیڑ: محفوظ
مسافر کا نام: عبداللہ ابن آدم
عرفیت: انسان
شناخت: مٹی
پتہ: روئے زمین

سفر کی تفصیلات:

روانگی: ازدنیا
منزل: آخرت
مدت سفر:
چند ثانیے جس میں چند لمحوں کے لیے دو میٹر زیر زمین پرواز
پرواز کا وقت: وقت اجل
ریزرویشن: یقینی

ضروری ہدایات:
تمام مسافر ان سے درخواست کی جاتی ہے۔ کہ وہ ان لوگوں کو اپنی نظر میں رکھیں ۔ جو ان سے پہلے آخرت کی طرف سفر کر گئے ہیں۔ مزید تفصیلات کے لئے بغور پڑھ لیں۔ جو کتاب اللہ اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں درج ہیں ان پر عمل کریں اگر کچھ سوالات در پیش ہوں تو جواب کے لئے علماء امت سے رجوع کریں۔

کتنا سامان سفر ساتھ لئیں
ہر مسافر اپنے ساتھ پانچ میٹر سفید لٹھا اور تھوڑی سی روئی لے جا سکتا ہے لیکن وہ سامان کو در حقیقت آپ کے کام آئے ۔ نیک اعمال صدقہ جاریہ نیک اور صالح اولاد اور وہ علم ہو گا جس سے بعد میں دوسرے لوگ نفع حاصل کر سکیں گے۔ اس کے علاوہ سامان سفر ساتھ لانے کی کوشش کی گئی تو اس کے زمے دار آپ خود ہونگے تمام مسافران سے درخواست ہے کہ وہ پرواز کے لئے ہر وقت تیار رہیں۔ پرواز سے متعلق مزید معلومات کے لئے فوری طور پر کتاب اللہ اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے رابطہ رکھا جائے۔ اس سلسلے میں روزانہ پانچ وقت اللہ کے گھر کی حاضری ضروری ہے۔ آپ کی سہولت کے لئے دوبارہ عرض ہے ۔ کہ آپ کی سیٹ ریزرو ہو چکی ہے۔ اور اس سلسلے میں کسی دوبارہ گارنٹی کی حاجت نہیں ہے
ہمیں امید ہے کہ آپ سفر کے لئے تیار ھونگے، ہماری نیک تمنائیں اور دعائیں ، آپ ک ساتھ ہیں ۔ خدا آپ کا حامی و ناصر ہو۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

_________________
نعرہ فیض رضا ہم لگاتے رہیں
نجدیوں کے دلوں کو جلاتے رہیں
اور کلام رضا ہم سناتے رہیں
فیض احمد رضا تا قیامت رہے
آمین

آئیے! وصیت اعلٰیحضرت پر عمل کریں

Filed under: Home, ہوم, امام احمد رضا خان — sulemansubhani @ 11:57 am

مضمون: آئیے! وصیت اعلٰیحضرت پر عمل کریں
از: انصار احمد جامی نوری
انتخاب: آقا کا گدا

آئیے! وصیت اعلٰیحضرت پر عمل کریں
مصطفٰی جان رحمت، غمخوار امت صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی یادگارئ امت پہ قربان کہ پیدا ہوتے ہی اپنے رب کی وحدانیت، اپنی رسالت کی شہادت ادا فرما کر سب میں پہلی جو یاد آئی وہ ہماری ہی یاد تھی۔
دیکھو وہ اللہ کا نور، حضرت آمنہ کا لال شکم پاک مادر سے جدا ہوتے ہی سجدے میں ہے۔ اور نرم و نازک آواز سے کہہ رہا ہے رب ھب لی امتی رب ھب لی امتی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم،،
عمر بھر تو یاد رکھا، وقت پر کیا بھولنا ہو
وقت پیدائش نہ بھولے کیف ینسٰی کیوں قضا ہو

زندگی پاک میں بھی یاد فرماتے رہے اور اس قدر یاد فرمایا کہ پائے مبارک پر ورم آگیا۔ زار زار رو رہے ہیں روتے روتے صبح کر دی اور یہی عرض کرتے رہے رب امتی رب امتی،،
اشک شب بھر انتظار عفو امت میں بہیں
میں فدا چاند اور یوں اختر شماری واہ واہ

جب قبر انور میں تشریف لے گئے ویاں بھی آہستہ آہستہ یہی عرض کرتے رہے۔ رب امتی امتی اے میرے رب میری امت میری امت (صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم)
ہماری لاکھوں، کروڑوں نافرمانیوں کے بعد بھی ہمیں فراموش نہیں کیا بلکہ زبان رحمت سے یہی فرمایا ارے میری طرف آؤ ارے میری طرف آؤ ارے میری طرف آؤ مجھے چھوڑ کر کہاں جاتے ہو۔ یہی فرماتے رہے۔ تم پروانوں کی طرح آگ پر گرے پڑتے ہو اور میں تمہارا بند کمر پکڑے روک رہا ہوں۔ جب غلاموں نے اس شفقت و مہربانی اور رحمت و کرم فرمائی کو دیکھا تو وہ بھی سو جان سے اپنے پیارے آقا پر قربان ہونے کو تیار ہو گئے اور ان کے عشق ہی کو اپنا سب کچھ سمجھا کہ اسی میں رضائے محبوب تھی۔ اور محبوب کے رب کی رضا بھی اسی میں تھی۔ اور ظاہر ہے کہ عاشق یاد محبوب کی آتش سے جب اپنے سینے کو گرماتا ہے تو وصال محبوب کی مسرت میں دنیا و مافیہا سے بے نیاز ہو جاتا ہے۔ اور اس کے لبوں پر بے ساختہ یہ شعر جاری ہو جاتا ہے کہ،،
جان و دل ہوش و خرد سب تو مدینے ہہنچے
تم نہیں چلتے رضا سارا تو سامان گیا

اور جب عشق کی آگ مذید بھڑکتی ہو تو عقیدت کا اظہار یوں ہوتا ہے،،
الروح فداک فزد حرقا یک شعلہ دگر برزن عشقا
مورا تن من دھن سب پھونک دیا یہ جان بھی پیارے جلا جانا

کبھی آتش فراق کو ہوا دے کر عشق کی یوں حرارت بڑھائی جاتی ہے،،
اے عشق ترے صدقے جلنے سے چھٹے سستے
جو آگ بجھا دے گی وہ آگ لگائی ہے

حرارت عشق سے قلب کو کباب کر دینے والے پروانوں غم ہجراں میں خون کے آنسو بہانے والے عاشقوں میں ایک ہستی امام احمد رضا کی بھی ہے۔ آسمان ولایت کے در خشندہ ستاروں میں ایک نجم الہدٰی امام احمد رضا بھی ہے۔ یہ وہ نجم ہدایت اور پروانہ شمع عشق رسالت ہیں کہ جب اس عرب کے چاند اور عجم کے سورج پر وہابیہ دیوبندیہ توہین و تنقیص کی گرد اڑانے لگے اور گنبد خضرٰی کی طرف گستاخیوں کے تیر برسانے لگے تو امام احمد رضا حضرت حسان کے ایک شعر کی عملی تفسیر بن کر سینہ سپر ہو گئے۔ کہ
اے بدزبانو ! میں اس لئے تمہارے مقابل کھڑا ہوا ہوں کہ تم مصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی بدگوئی سے غافل ہو کر مجھے اور میرے باپ دادا کو گالیاں دینے میں مشغول ہو جاؤ میری اور میرے باپ دادا کی آبرو محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی عزت کی سپر ہو جائے۔ اور احمد رضا اللہ سبوح قدوس کی عظمت اور اس کے حبیب کریم علیہ الصلٰو ۃ و التسلیم کی عزت کی حمایت کرکے گالیاں کھائے۔ اور آقا و مولٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی سرکار میں پہرہ دینے والے کتوں میں اس کا چہرہ لکھا جائے۔ واللہ العظیم احمد رضا بخوشی راضی ہے۔ اگر یہ دشنامی حضرات بھی اس بدلے پر راضی ہوں کہ وہ اللہ رسول جل جلالہ و صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی جناب میں گستاخی سے باز آئیں اور یہ شرط لگائیں کہ روزانہ اس بندہء خدا کو پچاس ہزار مغلظہ گالیاں سنائیں اور لکھ لکھ کر شائع کرائیں۔
جس امت کے لئے حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم گریہ و زاری فرماتے رہے رب امتی امتی فرماتے رہے اس امت کی خدمت کے لئے امام احمد رضا نے اپنی پوری زندگی وقف فرمادی۔ زندگی بھر وعظ و نصیحت فرماتے رہے اور وصال سے قبل ایک ایمان افروز وصیت فرمادی کہ تم مصطفٰٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی بھولی بھیڑیں ہو بھیڑیئے تمھارے چاروں طرف ہیں یہ چاہتے ہیں کہ تمھیں بہکا دیں تمھیں فتنے میں ڈال دیں تمہیں اپنے ساتھ جہنم میں لے جائیں ان سے بچو اور دور بھاگو۔ دیوبندی ہو یا رافضی، نیچری ہو یا قادیانی، چکڑالوی ہو غرض کتنے ہی فرقے ہوں یہ سب بھیڑیئے تمہارے ایمان کی تاک میں ہیں۔ حضور سے صحابہ روشن ہوئے ان سے تابعین روشن ہوئے اور ان سے ائمہ مجتہدین روشن ہوئے ان سے ہم روشن ہوئے۔ اب ہم تم سے کہتے ہیں یہ نور ہم سے لو ہمیں اس کی ضرورت ہے کہ تم ہم سے روشن ہو وہ نور یہ ہے کہ اللہ و رسول کی سچی محبت اور ان کی تعظیم اور ان کے دوستوں کی خدمت اور ان کی تکریم۔ اور ان کے دوشمنوں سے سچی عداوت جس سے اللہ و رسول کی شان میں ادنیٰ توہین پاؤ پھر وہ تمہارا کیسا ہی پیارا کیوں نہ ہو فوراً اس سے جدا ہو جاؤ جس کو بارگاہ رسالت میں ذرا بھی گستاخ دیکھو پھر وہ تمہارا کیسا ہی بزرگ معظم کیوں نہ ہو اپنے اندر سے اسے دودھ سے مکھی کی طرح نکال کر پھینک دو۔ میں پونے چودہ برس کی عمر سے یہی بتا رہا ہوں اور اس وقت پھر یہی عرض کرتا ہوں اب میں قبر سے اٹھ کر تمہارے پاس بتانے نہ آؤں گا۔ جس نے اسے سنا اور مانا قیامت کے دن اس کے لئے نور و نجات ہے اور جس نے نہ مانا اس کے لئے ظلمت و ہلاکت۔
_________________
آقا کا گدا ہوں اے جہنم تو بھی سن لے
وہ کیسے جلے جو غلام مدنی ہو۔ ۔ ۔!
سنی دعوت اسلامی ڈاٹ نیٹ

« Newer PostsOlder Posts »

The WordPress Classic Theme. Blog at WordPress.com.

Follow

Get every new post delivered to your Inbox.