اردو اسلامی پاکستانی معلوماتی بلاگ

دسمبر 23, 2006

کن اوقات ميں نماز منع ہے؟

درجہ بند بتحت: Home, ہوم, اسلامی مضامین, عبادات — sulemansubhani @ 10:35 am

کن اوقات ميں نماز منع ہے؟
جن اوقات ميں نماز پڑھنا مکروہ ہے ان ميں طلوع آفتاب سے بيس منٹ بعد تک، غروب آفتاب سے بيس منٹ قبل سے غروب تک اور ضحوہ کبري يعني نصف  النہار شرعي سے نصف النہار حقيقي يعني زوال تک کا وقت شامل ہيں
ان اوقات ميں کوئي نماز يا سجدہ تلاوت جائز نہيں، ان اوقات کے علاوہ ہر وقت قضا نمازيں اور نوافل پڑھے جاسکتے ہيں، البتہ صبح صادق سے طلوع آفتاب تک ، اور نماز عصر سے آفتاب غروب ہونے تک کوئي نفل نماز ، اور امام کے خطبہ جمعہ کے ليے کھڑے ہونے سے لے کر فرض جمعہ ختم ہونے تک نفل اور سنت دونوں جائز نہيں

ادارہ تحقیقات امام احمد رضا کے تحت علمی نشست

درجہ بند بتحت: Home, ہوم, اہلسنت اردو خبریں — sulemansubhani @ 10:20 am

کراچی (پ ر) ادارہ تحقیقات امام احمد رضا انٹرنیشنل کے تحت علمائے عرب کے اعزاز میں 23 دسمبر بروز ہفتہ‘ رات نو بجے مقامی ہوٹل میں ایک عشائیہ کا اہتمام کیا گیا ہے جبکہ اس موقع پر ادارہ کی جانب سے ایک علمی نشست بعنوان ”تحفظ ناموس رسالت اور عالم اسلام کی ذمہ داریاں“ منعقد ہو گی جس سے پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد‘ شیخ ابراہیم محمد اسماعیل قندیل (مصر)‘ شیخ عمر محمد سلیم (یمن)، فضیلتہ الشیخ عبدالکریم شیخ عبود (یمن)‘ شیخ صالح حامد (عراق)‘ حسنی شیخ عبداللہ (عراق)‘ پاکستان کے صاحبزادہ سید وجاہت رسول قادری‘ پروفیسر ڈاکٹر مجید اللہ قادری‘ مولانا شاہ انس نورانی‘ علامہ فیض احمد اویسی‘ مفتی منیب الرحمن‘ مولانا سید شاہ تراب الحق قادری اور دیگر علماء شریک ہوں گے۔

دسمبر 21, 2006

امام احمد رضا کی عالمی اہمیت

درجہ بند بتحت: Home, ہوم, امام احمد رضا خان — sulemansubhani @ 9:47 am

مضمون : امام احمد رضا کی عالمی اہمیت
از: انگریز نو مسلم ڈاکٹر محمد ہارون انگلینڈ 

امام احمد رضا کی عالمی اہمیت
اعلٰی حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان ہندوستان کے معروف سنی عالم تھے۔ وہ 1856ء میں پیدا ہوئے۔ اور 1921ء میں انہوں نے وصال فرمایا۔ وہ اپنے دور میں اہلسنت کے امام تھے- اور اس قدر عظیم تھے کہ انہیں اسلامی صدی کے مجدد کے لقب سے پکارا گیا۔ اسلامی صدی کا مجدد وہ ہوتا ہے جو اپنے دور کے تمام لوگوں میں اہم ترین شخصیت ہو۔ پہلی صدیوں کے مجدد دین امام غزالی علیہ الرحمہ کی طرح کے لوگ تھے- جنہوں نے اپنے زمانے میں عظیم ترین اپمیت کے مراتب حاصل کئے مثلاً امام غزالی وہ شخصیت ہیں جن سے پوروپ نے فلسفہ سیکھا ۔ اس مقالے کا مقصد تمام دنیا کے لئے امام احمد رضا بریلوی کی تعلیمات و نظریات کی اہمیت واضح کرنا ہے۔ کوئی بھی شخص دنیا بھر کے لئے اہم ہوتا ہے اگر اس کے یہاں اپنے دور کے اہم ترین مسائل کا حل موجود ہو ۔ کارل مارکس یالینن عالمی اہمیت کے حامل سمجھے جاتے تھے کیونکہ ان کے انکار و نظریات تمام انسانیت کی رہنمائی کرتے محسوس ہوتے تھے۔ اس مقالے میں ہم ثابت کریں گے کہ امام احمد رضا نے اپنے افکار و تعلیمات سے اس صدی کے اہم ترین مسائل کا حل پیش فرمایا ہے۔ ہماری صدی بھی امام احمد رضا کی صدی ہے۔ اور ہماری دنیا کو بھی اسی طرح کے مسائل درپیش ہیں۔ جس طرح کے امام احمد رضا کے وقت میں تھے۔ اس لئے امام احمد رضا کی اہمیت آج ہمارے لئے بھی اتنی ہی ہے جس قدر 1921ء میں ان کے وصال کے وقت کے لوگوں کے لئے تھی۔ بہتر ہو گا کہ ہم اپنے مقالے کا آغاز عہد جدید کے مزکزی مسائل کا احاطہ کرنے کی کوشش سے کریں۔ یہ جدید دور نئی تہذیب کی کامیابی پھر ناکامی کا دور ہے ۔ سوسال پہلے سائنس پر بہت گہرا اعتقاد تھا اس وقت سے اب تک ہم سائنس کی تنگ دامنی اور بہتر دنیا کی تعمیر میں ناکامی کا مشاہدہ کر چکے ہیں بلکہ سائنس نے اور بھی نئے خدشات کو جنم دیا ہے۔ جس سے سائنس پر یقین ختم ہو کر رہ گیا ہے ۔ اس عہد میں سرمایہ داری کا بحران بھی دیکھا ہے اور سرمایہ داری کے مغربی متبادل کی ناکامی بھی۔ کمیونز ناکام ہو گیا ہے۔ سفید نسلی تعصب اپنی تمام تر دپشتوں کے ساتھ نازی ازم میں ملاحظہ کیا جا چکا ہے۔ اور ایک جماعتی اجتماعیت کے نظریے نے بھی تصور سے کہیں بڑھ کر خوف پیدا کیا ہے۔ جدید زمانہ ایسا زمانہ ہے جس میں جدید ثقافت بھی ناکام ہو گئی ہے۔
یہ عہد یوروپ اور بقیہ دنیا دونوں میں جدید ثقافت کی تخریب کا عہد ہے۔ یہ عہد ہر طرف الحاد کے عروج کے ساتھ مذہب کی موت کا عہد ہے۔ بلکہ اس سے بھی اہم۔ دنیا میں موجود مذاہب کے زوال کے سبب مذاہب کے نئے نئے گھٹیا نمونوں کے ظہور کا عہد ہے۔ یہ عہد بھیڑیے کی سی چال کی ذہنیت اجتماعی تحریکوں، فرد کی تذلیل کا عہد ہے۔ جیسے ہم نے پہلے ذکر کیا ایک جماعتی اجتماعیت کے ذریعے انسان کی شرمناک کارستانیوں کا عہد ہے۔ جدید دور نے ان تمام جدتوں سے جن کا ہم نے ذکر کیا مسلم دنیا کو خاص طور پر متاثر کیا ہے۔
یہ جدید دور اسلام، اہل اسلام اور روح انسانی سب کے لئے گہری تاریک رات ہے۔ یہی وہ دور ہے جس میں مغرب نے روایتی مسلم معاشرہ کو کچل کر رکھ دیا ہے۔ اس کی وجہ مسلم سیاسی قوت کا زوال اور ان مسلمانوں کی روحانی سراندازی ہے۔ جنہوں نے مغرب کو قبول کیا اور اس کی پیروی کی۔ اس کی ستائش کی اور پرستش کی۔ یوں دنیا سے اللہ تعالٰی کو وجود کا تصور معدوم ہو گیا اور متعصب لادینیت اور دہرنیت نے اس کی جگہ لے لی۔ اسی سے وہابیت نے جنم یہاں اسلام دین کی حیثیت سے ختم ہو گیا ۔ اور جدید یدیت کی صورت میں مغرب کی بھونڈی تقلید اور بنیاد پرستی کی صورت میں کمیونزم اور فاشسزم طرز کی سماجی تحریک اس کی متبادل بن گئی۔ روایتی معاشرہ تباہ ہوا اور اس کی جگہ مغرب کا در آمد شدہ نو آبادیاتی نسلیت پرستی اور سرمایہ دارانہ معاشرہ آ گیا۔ اور پھر جب مغرب خود ہی ناکام ہو گیا تو اب ہم ان تمام کھنڈرات کے بیچ کھڑے ہیں۔ جنہیں مغرب نے کمیونزم سے فاشسزم، فاشسزم سے نیشنلزم ، اور نیشنلزم سے کیپٹلزم کی شکل میں تعمیر کرنے کی کوشش کی۔
عالمی حیثیت کی حامل وہی شخصیت ہو سکتی ہے جو دور جدید کی خوفناک شکستوں اور ناکامیوں میں انسانیت کی رہنمائی کی اہلیت رکھتی ہو۔ اعلٰی حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی کی زندگی کے اصل کام کو اختصار سے بیان کرنا بہت آسان ہے۔ جنہوں نے تمام عمر اہلسنت کے عقائد کے مطابق اسلام اور اسلامی سوسائٹی کا جدید دنیا کے حملوں کے خلاف دفع کیا ۔ خاص طور پر ان اندرونی حملوں کے خلاف جو ان مسلمانوں کی طرف سے تھے۔ جن کا مقصد اہلسنت کے عقائد کے مطابق اسلام سے جان چھڑا کر ایک نئی چیز کو رائج کرنا تھا۔ اہلسنت کے عقائد کے مطابق اسلام اور اسلامی سوسائٹی کے دفع کا کاوشیں ہی امام احمد رضا کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہیں۔ یہ عالمی اہمیت امام احمد رضا کے عالم دین ہونے اور سنی عالم کی حیثیت سے کام کرنے سے شروع ہوئی۔ انہوں نے زندگی بھر ایک عالم ہی کی حیثیت سے کام کیا۔ انہوں نے ہر اس شخص کے سوالوں کے جواب دیئے جس نے ان سے رابطہ کیا۔ ان کا کردار اسلام کا گہرا علم رکھنے والے ایک دانشوار کا کردار تھا۔ انہوں نے بطور ایک روایتی اسلامی اسکالر تعلیم پائی تھی۔ اور اس میں بھی بے پناہ وسعت تھی۔ وہ مختلف اسلامی اور دوسرے علوم میں ماہر تھے۔ جن میں اسلامی مذہبی علوم و فنون کے علاوہ ریاضی و فلکیات بھی شامل تھے۔ ایک متجر تعلیم یافتہ عالم کی حیثیت سے محض تحقیق طلب سوالوں کے جواب لکھ کر دنیا کو متاثر کرنا شاندار اہمیت رکھتا ہے۔
آج کل اجتماعی تنظیم سازی کا ایسا دور ہے۔ جس میں وسیع دفتری نظام نے فرد کونگل لیا ہے۔ امام احمد رضا نے اس طرز پر کام کرنے سے انکار کیا ہے۔ ان کے دور میں اجتماعی تحریکیں ابھرنا شروع ہو چکی تھیں۔ مگر وہ کسی کے قریب تک نہ گئے۔ انہوں نے کبھی بھی ایک بیوروکریٹ سیاستداں یا منتظم بننے کی خواہش نہ کی۔ اس اجتماعی تنظیم سازی کے تصور کو مودودی کی طرح کے لوگ اسلام میں داخل کرنے کا سبب بنے ۔ امام احمد رضا نے شروع دن ہی سے اس کی مخالفت کی۔ انہوں نے اجتماعی تحریکوں مثلاً تحریک خلافت وغیرہ میں شمولیت سے انکار کیا۔ اور ان تحریکوں کے لئے خود کوئی اجتماعی تحریک ترتیب دینے سے بھی مجتنب رہے۔
آج کے جدید دور کا انسان اندر سے مر چکا ہے۔ کیونکہ آج اچھے فرد کی مانگ نہیں رہی۔ بلکہ محض ایسا فرد درکار ہوتا ہے جو نعرہ لگائے اور جس طرح اسے کہا جائے عمل کرتا رہے۔ امام احمد رضا نے بتایا کہ عصر جدید میں فرد کو یوں مر جانے کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے عالمانہ رائے دیتے ہوئے بڑی سادگی سے اپنا کام کیا۔ ہٹلر، اسٹالن اور اجتماعی تشہیر کے اس دور میں آج بھی اچھے فرد پر بھروسہ کرنے کی عالمی اہمیت ہے۔ یہ دور حکمت و دانائی کی موت اور شعبہ جاتی تخصص کا دور بھی ہے۔

پہلے زمانے کے مقابلے میں آج ایک طالب علم کم سے کم شئی کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جانتا ہے۔ یونیورسٹی ایسی جگہ قرار پائی ہے جہاں پروفیسر بھی اپنے چھوٹے سے مخصوص مضمون کے بارے میں کافی علم نہیں رکھتا۔ کمیرج یونیورسٹی میں حکمت و دانش کا کوئی پروفیسر نہیں ہے۔ تعلیم یافتہ مسلمان اپنے ماضی سے کٹ چکے ہیں۔ کسی بھی روایتی تعلیم یا علم کا وجود اب کم ہی نظر آتا ہے۔ اب پڑھا لکھا طبقہ سابقہ ادوار کے روایتی علوم اور حکمت و دانش کو چھوئے بغیر محض اپنے محدودمضامین کا مطالعہ کرتا ہے۔ ایک ماہر فلکیات صرف فلکیات کا علم رکھتا ہے۔ اسے اس حکمت و دانش کی ذرہ بھر خبر نہیں ہوتی جو دوسو سال قبل کے ماہر فلکیات کو حاصل تھی۔ اعلٰی حضرت امام احمد رضا بریلوی اس علمی روایت کے لئے سامنے آئے جو مغرب میں اپنی موت مر چکی تھی ۔ ان کا مقصد علم کی ممکنہ حد تک وسیع کرنا تھا۔ ایسا علم جس کا ایک ہزار سالہ قدیم روایت سے گہرا رابطہ تھا۔ امام احمد رضا اپنی کتابوں میں ایک ہزار سال پہلے تک کے مصنفین کے حوالے دیتے تھے۔ امام احمد رضا بریلوی فلکیات، سیاسیات بلکہ بینک کاری اور کرنسی تک کے سوالوں پر بھی سیر حاصل عالمانہ رائے دیتے تھے۔ اور اس کے ساتھ ہی وہ روحانی وجدان سے متعلق مشکل ترین سوالات پر بھی تبصرہ و تجزیہ کرنے کی اہلیت رکھتے تھے۔ بلا شبہ امام احمد رضا اپنے اسلامی دور میں صدیوں پرانی ثقافت کا دفع کر رہے تھے۔ آج کی ثقافت تو بالکل بے بنیاد ہو کر رہ گئی ہے۔ ادب اور آرٹ کا ماضی کی روایات سے رابطہ منقطع ہو چکا ہے۔ آج یوروپی مصوری اور شاعری پچاس سال پہلے کی روایت کی پاسداری نہیں کر رہی جبکہ امام احمد رضا نے قدیم زبانوں تک کی فنی روایت کو نبھایا ہے۔ یہ پوری انسانی تاریخ سے کشید شدہ مکمل ثقافت تھی۔ اسی وجہ سے امام احمد رضا کی عالمی اہمیت ہے۔
امام احمد رضا محدث بریلوی نے طب میں بھی دلچسپی لی۔ طب جدید کا بڑا اصول یہ ہے کہ اس کا طب کی قدیم روایت سے کوئی سابقہ نہیں رہا اور یہ حکم و دانا انسانوں کے بجائے تنگ نظر سائنسدانوں کے ہاتھوں میں آگئی ہے۔ امام احمد رضا علیہ الرحمہ محض ایک دانا اور ذہین عالم دین، ماہر فنون اور طبیب ہی نہیں تھے بلکہ انہوں نے تمام تر قدیم روایتی حکمت و دانش کو اندرونی و بیرونی حملوں سے بچایا۔ شاید دنیا کے لئے امام احمد رضا کی سب سے زیادہ اہمیت اس بات میں تھی کہ انہوں نے ( مضرت رساں ) سائنس کی مخالفت کی۔ امام احمد رضا کی زندگی کے اکثر دور میں سائنس کی پرستش ہوتی تھی۔ یہ نیوٹن اور ڈارون پر مکمل ایمان کا دور تھا۔ اعلٰی حضرت امام احمد رضا کی زندگی کے آخری ایام کے قریب آئن سٹائن کے انقلاب نے سائنس کی پرستش کے بارے مٰن شکوک و شہبات پیدا کرنے شروع کئے ۔ یہ خاص طور پر مسلم دنیا ہی میں سائنس کی پوجا ہوتی تھی۔ اور سائنس ہی کو مغربی تسلط کی وجہ گردانا جاتا تھا۔ اسی سائنس کی مدد سے سفید فام اقوام نے نو آبادیات کے لوگوں پر قابو پا رکھا تھا۔ سائنس کی پرستش میں بہت سے نام نہاد مسلمان بھی شامل تھے۔ اور مسلمانوں میں سے سر سید احمد خان جیسے لوگوں نے اسلام کو اس طرح تبدیل کرنے کی کوشش کی کہ اسلام سائنس کے بارے میں مغرب کے نظریات کے مطابق ڈھل جائے۔ یہی نہیں بلکہ ان لوگوں نے اس سے بھی زیادہ کچھ نہیں کیا۔ انہوں نے سائنس ہی کو مسلمان پر استبدار، مسلط ہونے کی وجہ قرار دیا۔ مسلمان سائنس پرست نہیں تھے انہیں سائنس پرست بننے پر مجبور کیا گیا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ مسلمانوں کے لئے کہیں آزادی نہ ہو اور سائنس کے نام پر مسلمانوں کی مرضی کے بغیر مغربی ماہرین اور جدید مسلم ماہرین ہر جگہ حکومت کریں۔ یقینًا آج ہم جانتے ہیں یہ سائنس زیادہ تر حماقت ہے۔
امام احمد رضا کے وقت میں سائنس سخت نسلیت پرست تھی۔ اور 1921ء میں ان کے وصال کے وقت اس سائنس نے مغرب میں کمیونسٹ اور فاشٹ استبدار کا جواز فراہم کیا تھا۔ سائنس کی پرستش کے تباہ کن منطقی نتائج آج اچھی طرح سمجھے جا رہے ہیں۔ خاص طور پر مسلم دنیا نے سائنس کے ہاتھوں خوفناک نقصان اٹھائے ہیں۔ ان نقصانات میں سے ایک سائنس کو ہر غلطی سے مبرا سمجھنے والی نوعیت وسطی ایشیاء کی کمیونسٹ رجیم کے ہاتھوں ماحول کی مکمل تباہی کا سانحہ ہے۔ آج ساری دنیا سائنس سے منہ موڑ کر اس روایتی قدیم حکمت و دانش کی حکمرانی سے قبل موجود تھی۔ لیکن امام احمد ر ضا نے آج سے سو سال قبل سائنس کے خلاف جہاد کیا۔ اگر آپ سائنس پر امام احمد رضا کی تصانیف پڑھیں تو آپ محسوس کریں گے کہ انہوں نے سائنسدانوں کی کس طرح تذلیل کی ہے۔
امام احمد رضا کے نزدیک قرآن اور اسلام ہی میں کامل سچائیاں ہیں۔ اور کسی بھی طرح انکی تردید کی اجازت نہیں دی جا سکتی ہے۔ اگر کبھی سائنسدانوں نے ایسا کیا بھی تو امام احمد رضا نے ان کے دلائل کو اسلامی دلائل سے رد کیا اور انکے پرخچے اڑا دیئے۔ اس طرح امام احمد رضا سائنس میں عظیم تھے۔ اگرچہ امام احمد رضا کسی طور پر بھی عالم سائنسداں نہیں تھے مگر وہ ریاضی اور فلکیات اتنی اچھی طرح جانتے تھے کہ رات کو آسمان دیکھ کر گھڑی کا وقت درست کر لیتے تھے۔ وہ مغربی سائنسی نظریات سے بھی آگاہی رکھتے تھے انہوں نے ستاروں کے جھکاؤ کی بنا پر بڑی تباہی کی پیشن گائی کرنے والے ایک مغربی ماہر فلکیات کا جواب لکھا۔ اور اپنے جواب میں انہوں نے مکمل طور پر آسمانوں اور کشش ثقل سے متعلق مغربی نظریات کو بنیاد بنایا۔ اور صحیح طور پر پیشم گوئی فرمائی کہ کوئی تباہی نہیں آئے گی اور ان کی پیشم گائی صحیح ثابت پوئی۔ (1) آپ کانظریہ تھا کہ سائنس کو کسی طرح بھی اسلام سے فائق اور بہتر تسلیم نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی کسی اسلامی نظریے۔ شریعت کے کسی جزیا اسلامی قانون سے گلو خاصی کے لئے اس کی کوئی دلیل مانی جا سکتی ہے اگرچہ وہ خود سائنس میں خاصی مہارت رکھتے تھے- لیکن اگر کوئی اسلام میں سائنس سے مطابقت پیدا کرنے کے لئے کوئی تبدیلی لانا چاہتا تو آپ اسے ٹھوس علمی دلائل سے جواب دیتے تھے۔ یہی ان کی عالمی اہمیت کی ایک بڑی دلیل ہے۔

امام احمد رضا کے نزدیک کسی بھی روایتی حکمت اور دانش کو ترک نہیں کیا جانا چاہئے۔ بلکہ سائنس کو چاہئے کہ وہ حکمت و دانش کی رقیب یا متبادل بن کر نہیں بلکہ ہمیشہ اس کا خادم بن کر رہے۔ ایک سو سال بعد اب یہی صورت حال ہے جس کی طرف خود مغرب بھی رجوع کر رہا ہے جیسا کہ سبز سیاست اور سبز تحریک سے ظاہر ہے۔ لیکن دنیا میں اب بھی استبدار کی مدد کرنے والی سائنس کی احمقانہ پرستش جاری ہے۔ مغرب اب جان گیا ہے کہ اسٹالن کے جبر اور ہٹلر کے نسلی تعصب کے پیچھے سائنس کا کیا کردار تھا۔ اسی لئے مغرب نے سائنس کو اس کے اصل مقام پر رکھنا شروع کر دیا ہے۔ امام احمد رضا اس وقت ہی سائنس کو اس کے اصل مقام پر رکھ رہے تھے۔ جب کہ ابھی اس قدر نقصان نہیں ہوا تھا۔ وہ سائنس کو اس مقام پر رکھتے تھے جس کی وہ اہل تھی۔ روایتی حکمت و دانش ابھی زندہ تھی اور وہ خود بھی اس روایتی دانش سے لبریز تھے۔ وہ صحیح تھے اور مغرب غلطی پر تھا۔
ہاں مغرب کے اپنی غلطی کے اعتراف سے سو سال قبل اپنی زندگی میں امام احمد رضا نے سائنسدانوں کی حماقتوں کا جواب دینے کی جدو جہد فرمائی لیکن بلا شبہ احمق یوروپیوں کی پوری دنیا کے مقابل وہ یکہ و تنہا تھے۔ تاہم انہوں نے سائنس کو اس کے اصل مقام پر رکھنے کیلئے مسلمانوں کو ضروری کام پر لگا دیا۔ انہوں نے محسوس کر لیا تھا کہ سب سے بڑا چیلنج سائنس کی پرستش اور اس کا وہ طریقہ تھا جس سے وہ اسلامی حکمت و دانش کا دھمکا رہی تھی۔ امام احمد رضا کے زمانے کے مقابلے میں آج ہم سائنس کو چیلنج کرنے کی بہتر پوزیشن میں ہیں۔ کیونکہ آج مغرب میں بہت سے لوگ خود ہی سائنس کی محدودیت کو جان گئے ہیں۔ امام احمد رضا سائنس کے مقابل اسلام کا دفع کرنے اور سائنس کی حدیں واضح کرنے کی کاوشوں کی وجہ سے عالمی اہمیت کی حامل شخصیت ہیں۔ صرف امام احمد رضا کے طریق کو اپنا کر ہی مسلم دنیا اپنے تباہ کن ماضی اور حال سے پیچھے چھڑا سکتی ہے۔
اعلٰی حضرت امام احمد رضا بریلوی ایک اور سادہ طریقے سے بھی عالمی اہمیت رکھتے تھے۔ وہ ایک آفاقی تھے۔ جدید دور سخت نیشنلزم اور نسلیت پرستی کا دور ہے۔ لیکن امام احمد رضا چونکہ مسلمان تھے اس لئے کوئی ملک یا براعظم ان کا وطن نہیں تھا۔ پوری اسلامی دنیا انکی مادر وطن تھی۔ ان کی شہرت ساری اسلامی دنیا تک پھیلی ہوئی تھی۔ خود مکہ معظٌمہ میں ان کو قدر و منزلت کی ناگہ سے دیکھا جاتا تھا۔ (1) انہوں نے اسلام کی بین الاقوامی ثقافت کا تصور دیا۔ وہ تمام لوگوں سے مخاطب ہوئے۔ انہوں نے بہت سی زبانوں میں استفتاء کے جواب لکھے۔ وہ ہمیشہ اس زبان میں جواب دیتے جس زبان میں سوال کیا جاتا تھا۔
(2) آج کے دور میں خواتین و حضرات کتنے ہی زیادہ ہوں جب ایک ہی ملک ایک ہی گروہ یا ایک ہی نسل کی طرف دیکھتے ہیں تو بڑا عجیب لگتا ہے حتٰی کہ ایک عالمی شہرت کا حامل گلوکار بھی آفاقی نہیں ہوتا بلکہ محض امریکی کہلاتا ہے۔ امام احمد رضا ایک آفاقی شخصیت تھے۔ اور یقینًا وہ ایسے ہی تھے کیونکہ وہ ایک سنی مسلمان تھے۔ اور ان کا مقصد اہلسنت کے نظریات و عقائد کے مطابق اسلام کا دفع تھا۔ اہلسنت کے مطابق اسلام ہی تمام مذاہب میں سب سے زیادہ آفاقی ہے۔ عیسائیت کا مرکز اٹلی ہے۔ جبکہ اہلسنت کے مراکز بہت سارے ہیں اپنی تمام تر قدیم روایات کے ساتھ عرب، ترکی، وسط ایشیاء انڈیا مصر، یا اسی طرح کے دیگر ممالک امام احمد رضا کا پیغام آفاقی پیغام ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ عالمی اسلامی برادری میں شامل ہو جاؤ جو تمام ملکوں ، تمام نسلوں اور تمام قوموں میں موجود ہے۔ کس قدر اہم پیغام ہے یہ دنیا بھر کے لئے۔
آج ہم مرگ مذہب کے دور میں رہ رہے ہیں۔ مذہب کو سائنس کے مطابق اور جدید بنانے کی کاوشوں نے مذہب و روحانیت کو نکال باہر کیا ہے۔ سچی روحانیت تقریبًا ختم ہو گئی ہے اور مذہب محض سیکولر مقاصد کے لئے رہ گیا ہے۔
اسی طرح صیہونیت اور یہودیت ہر طرح سے نازی ازم کی طرح مذہب سے ایک غلبہ پسند نسلیت پرست تحریک میں تبدیل ہو گئی ہے۔ عیسائیت میں مذہب دائیں بازو کی انتہا پسند سیاست کی مدد کرنے کا ذریعہ بن گیا ہے۔ جیسا کہ سیاسی کیتھولک طریقہ یا جیری فال دیل کی انتہا پسند امریکی پروٹسنٹ بنیاد پرستی ہے۔ سری لنکا میں بدھ مت کے پیروکاروں میں مذہب نے نیشنلزم کی صورت اختیار کر لی ہے۔ اور مسلم دنیا میں اسلام ایک معاشرتی، اقتصادی اور سیاسی تحریک میں تبدیل ہو گیا ہے۔ جیسے مودودی اور خمینی کی سیاست میں اسلام کمیونزم اور فاشسزم کے نمونے پر تعمیر کیا گیا ہے۔
ان تمام صورتوں میں روحانیت غائب ہو جاتی ہے۔ لوگ خدا پر نہیں قوت و طاقت پر بھروسہ کرنے لگتے ہیں۔ صیہونیوں کی اصل امید امریکہ اور ایف۔14 پر ہے۔ وہ دعا کی بجائے اجتماعی پروپیگنڈہ اور اجتماعی تنظیم سازی پر یقین رکھتے ہیں۔ اعلٰی حضرت امام احمد رضا کی ساری تگ و تاز اس لئے تھی کہ کسی طرح روحانیت زندہ رہے۔
جیسا کہ ہم پہلے بیان کر چکے ہیں وہ کسی بھی صورت میں اسلام کو سائنس کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کو برداشت نہیں کر تے تھے۔ اس سے زیادہ اہم ان کی وہ کاوشیں ہیں جو انہوں نے اہلسنت کے عقائد کے مطابق اسلام کے روحانی اشغال کے دفاع کے لئے جاری رکھیں۔ انہوں نے صوفی ازم یا اسلامی تصوف کے دفاع کیلئے سخت محنت اٹھائی۔ اسلامی روحانیت کی بنیاد وہ مسلم درویش اور اولیائے کرام ہیں جن کا سلسلہ خود پیغمبر اسلام صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے زمانہ اقدس سے جا ملتا ہے۔ ان صوفیائے کرام کا ایک دوسرے سے اور ماضی بعید کے صوفی سلاسل سے گہرا ربط ہوتا ہے۔ اور اس طرح ایک نسل سے دوسری نسل تک صوفی ازم کا علم و عمل منتقل کرتے ہوئے وہ ایک زنجیر یا سلسلہ کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔
امام احمد رضا تمام اہم صوفی سلاسل میں مجاز تھے اور خود بھی ایک بلند پایہ صوفی اور مصلح تھے۔ انہوں نے خود اور ان کے پیروکاروں نے تصوف کی تمام روایات پر عمل کیا۔ امام احمد رضا کی تحریروں میں اسلامی تصوف اور روحانیت کی چودہ سو سالہ روایات ملاحظہ کر سکتے ہیں۔ مذہب کی تمام علمی دولتیں انہیں کے دم سے ہیں۔ وہ ایک جدید صوفی سے کہیں برتر و بالا ہیں۔ انہوں نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیتی مرگ مذہب کی تحریک کے خلاف پوری قوت سے اسلام کا دفاع کیا یہی وجہ تھی کہ انہوں نے متعصب اور نشہ میں ڈوبے ہوئے سائنسدانوں کے خلاف جہاد کیا اور ہاں ! یہی وجہ تھی کہ انہوں نے وہابیوں کے خلاف جدوجہد کی۔
امام احمد رضا جدید عصر کے تمام حملوں کے خلاف مذہب کے زبردست محافظ تھے۔ انہوں نے ایک بھر پور تحریک کی رہنمائی فرمائی۔ تاکہ اہلسنت کے عقائد کے مطابق اسلام اپنا کام جاری رجھ سکے۔ تنہا یہی کام امام احمد رضا کو عالمی اہمیت کی حامل شخصیت بنا دیتا ہے۔ بہت سی تقاریب اسلام اور اسلامی تصوف میں مرکزی حیثیت رکھتی ہیں۔ مثلاً پیغمبر اسلام صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی ولادت عید میلاد النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی تقریبات، یا بزرگان دین کے مزارات، یا دیگر مقامات پر ان کے عرسوں کی تقاریب وغیرہ، اس سارے تصوف اور مذہب کے ساتھ تمام طرح کی عبادات اور تقریبات کی مضبوط روایت کی بھر پور حفاظت فرمائی۔ انہوں نے تہیہ کر لیا تھا کہ وہ عصر جدید کو تصوف اور مذہب کی شاندار علمی روایات پر ڈاکہ نہیں ڈالنے دیں گے۔ مرگ مذہب کے خلاف یہ جدوجہد بجا طور پر عالمی اہمیت کی حامل ہے۔ صیہونیت، عیسائیت اور بدھ مت میں مذہب کی موت کے نتائج ہم ملاحظہ کر چکے ہیں۔ آج ہم جانتے ہیں کہ ہوشمندی اور عقل و شعور کا ایک ہی راستہ ہے کہ مرتے ہوئے مذہب کو پھر سے زندہ کر دیا جائے۔ انسانیت کے لئے ضروری ہے کہ ایک بار پھر خدا، حیات بعد از موت اور یوم حساب پر یقین کامل پیدا کرے۔ طاقت کی پرستش اور اخلاقی پستی کا جس میں انسانیت گزشتہ صدی سے گر چکی ہے فقط یہی ایک علاج ہے ۔ لیکن صحیح مذہب کو کوئی کہاں تلاش کرے۔ مذہب میں تو تحریفات ہو چکی ہیں۔ Bishop of Durham جیسے لوگوں کو ماننے والی عیسائیت کیسے یاد کرے کہ حقیقی مذہب کیسا تھا۔ لیکن ہمارے پاس امام احمد رضا اور ان کی رہنمائی میں چلنے والی سنی تحریک موجود ہے۔ ہم ان کے پیروکاروں اور ان کی تعلیمات کے ذریعہ جان سکتے ہیں کہ حقیقی مذہبی زندگی کیسے گزاری جاتی ہے۔ اور حقیقی روحانیت کیا ہوتی ہے۔ سائنسی قوم پرستی ، نسلیت پرستی اور اجتماعیت کے جدید عہد میں حقیقی مذہب کا دفاع اور حفاظت ہی امام احمد رضا کی عالمی اہمیت ہے۔

امام احمد رضا محدث بریلوی کی اہمیت، دیگر تمام خصوصیات مذہب کی موت کے خلاف ان کی دفاعی جدوجہد ان کی طرف سے سائنس کی مخالفت، ان کی آفاقیت اور روایتی آرٹ کے تحفظ عالمانہ کردار سے نمایاں ہوتی ہے۔ اور ان کی اصل اہمیت یہ ہے کہ وقت نے انہیں صحیح ثابت کر دیا ہے۔ کیونکہ آج سب نے روایتی مذہب کو ترک کرنے، سائنس کے پیچھے بھاگنے اور سائنس کی ساری تبلیغ کی غلطی کو جان لیا ہے۔ یقینًا امام احمد رضا نے عمومی مذہب کا دفاع نہیں کیا بلکہ انہوں نے اسلام اور خصوصی طور پر اہلسنت کے عقائد کے مطابق اسلام کا دفاع کیا۔ اور دنیا کے لئے ان کی اہمیت اسی میں تھی کہ انہوں نے اسلام کے دفاع اور حفاظت کے لئے کام کیا۔ امام احمد رضا بریلوی کی عالمی، جدوجہد، ان کی یہی جدوجہد ہے جس کے ذریعے انہوں نے اسلام کا دفاع کیا اور اسے آج کے دور کے مسلمانوں اور غیر مسلمانوں کے لئے محفوظ رکھا۔
انیسویں صدی میں زوال اقتدار کی وجہ سے اسلام کی بیرونی حملوں کا خطرہ در پیش تھا۔ لیکن اس کے ساتھ ہی اسلام کو اندرونی حملوں سے بھی خطرہ تھا۔ مسلمانوں میں اعلٰی معاشرتی مقام کے حامل بہت سے لوگوں نے سوچا کہ اب مسلمانوں کے ساتھ رہنے میں ان کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔ انہوں نے سوچا کہ وہ مسلم برادری کو چھوڑ کر یورپیوں اور امریکیوں جیسے غیر مسلم معاشرے میں اچھی زندگی گزار سکیں گے۔ وہ یہ بھی جانتے تھے کہ اس طرح کرنے کے لئے انہیں اسلام کو مغربی نظریات کے مطابق ڈھالنا پڑے گا۔ روایتی اسلامی طرز زندگی کو چھوڑ کر مغربی طرز کی زندگی کی تقلید کرنا پڑے گی۔ اس سے بھی اہم بات یہ تھی کہ اسلام کو یوں تبدیل کرنے کی ضرورت تھی کہ وہ جدید مغربی سائنس کی پرستش سے مطابقت پیدا کر سکے۔ اسلام میں مذہبیت کم ہو جائے اور وہ جدید مغربی نظریات کے مطابق ڈھل جائے۔ اب یہ سب کچھ کرنے کیلئے ان ( نام نہاد ) مسلمانوں کو پیغمبر اسلام صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے مرتبے و مقام کو گھٹانے کی ضرورت تھی ان کے معجزات کا انکار درکار تھا۔ انکو کسی خاص روحانی قوت سے محروم ایک عام انسان کی سطح تک گھٹانا مقصود تھا تاکہ مغربی سائنس سے ہم آہنگی ہو سکے۔ جب پیغمبر اسلام صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا مرتبہ و مقام کم کرنے کی کوشش کی گئی تو ان سائنس پرست مسلمانوں کا درجہ بزعم خویش بلند ہو گیا اور وہ اپنی مرضی کے مطابق اسلام کو تبدیل کرنے کے استحقاق کا دعوٰی کرنے لگے اب ان تمام ضرورتوں نے ان مسلمانوں کو وہابیت کے راستے پر ڈال دیا۔ وہابیت جسے اٹھارہویں صدی میں ابن عبدالوہاب نے شروع کیا وہ طاقت کے ذریعہ پروان چڑھی۔ وہابیت خالص مذہبیت اور خصوصا روایتی تصوف کو اتار کر دور پھینکنے اور اجتہاد کا دروازہ کھولنے کے کام آسکتی تھی۔ اجتہاد کا مطلب یہ تھا کہ اسلام کو مغربیت میں ڈھالنے کے خواشمند مسلمانوں کی مرضی کے مطابق اسلامی قانون کو دوبارہ لکھا جائے۔ تاکہ وہ غیر مسلم سوسائٹی میں اچھی نوکریاں حاصل کر سکیں اسی طرح امام احمد رضا کے دور میں اسلام کی شکست و ریخت کا عمل شروع ہو گیا اول اہلسنت کے عقائد کے مطابق روایت اسلامیہ پر حملہ کیا گیا اور اسے کمتر بتایا گیا اور پھر برطانوی حکومت میں مناصب کے خواہاں سر سید احمد خاں جیسے لوگوں نے اسلامی جدیدیت کو رواج دیا۔ اور بعد ازاں مغربی سرمایہ داری کو تقلید محض کرنے والے حکمرانوں کی تمام قوت اپنے ہاتھوں میں رکھ کر مسلم دنیا میں سرمایہ دارانہ نظام تشکیل دینے والے اسلامی جدت پسندوں نے اس جدیدیت کو مذید پروان چڑھایا اور جب یہ اسلامی جدیدیت ناکام ہو گئی تو پھر کمیونزم فاشسزم کی نقل کی صورت میں وہابیت ابھر آئی۔ فاشسزم اسلامی بنیاد پرستی ہے جو ایران اور دیگر ممالک میں مکمل ناکام اور تباہی پر منتج ہوئی ہے۔ آج ہم ایسے دور میں رہ رہے ہیں جس میں مغرب کے بہترین دوست سعودی حکومت کے سانحے، مسلم دنیا میں تمام تر کوششوں کے باوجود اسلامی جدیدیت کی ناکامی کی مصیبت اور آج کے دور میں بنیاد پرستی کی آفت کی صورت میں وہابیت اپنے انجام کو پہنچ رہی ہے۔ بنیاد پرستی کی آفت شاید ابھی مستقبل میں بھی باقی رہے امام احمد رضا محدث بریلوی نے بہت آغاز ہی میں ان تمام غلط راہوں کی نشاندہی اور بھر پور مخالفت کی تھی وہ مغرب اور سائنس سے کوئی ردرعایت نہیں رکھتے تھے۔ انہوں نے تمام عمر وہابیت کے خلاف جدوجہد میں صرف کی انہوں نے ہر اس شخص کی مخالفت کی جس نے پیغمبر اسلام صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے مرتبہ اور مقام کو گھٹانے کی کوشش کی- امام احمد رضا نے رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر کسی بھی طرح کی تنقید کرنے یا ان کی عظمت و کمال میں کوئی بھی شک پیدا کرنے کی اجازت دینے سے صاف انکار کیا۔ انہوں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے مرتبہ و کمال کو گھٹانے والے وہابی تراجم قرآن کے مقابلے میں اردو زبان میں قرآن حکیم کا بہت ہی خوبصورت ترجمہ پیش کیا۔ اعلٰی حضرت امام احمد رضا نے اسلام کے ان تمام غداروں کی سیاسی اسکیموں کی مخالفت کی جو اسلام کو اپنی قوت بڑھانے کے لئے استعمال کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے ان دیوبندیوں اور وہابیوں کو خوب خوب ہدف تنقید بنایا۔ جو سیکولر انڈیا میں ہندؤں کے ساتھ مل کر اعلٰی عہدوں پر پہنچنے کی آس لگائے پیٹھے تھے۔ امام احمد رضا نگاہ بصیرت سے ملاحظہ فرما چکے تھے یہ تمام کوششیں اشتمالیت اور وسیع قتل عام پر منتج ہونگی۔ کیونکہ ہندو کبھی بھی اقتدار میں ان وہابیوں، دیوبندیوں کی شرکت پسند نہیں کریں گے۔ امام احمد رضا نے ان وہابیوں کی عوامی سیاست پر سخت تنقید کی جو اعلٰی مناصب کے حصول کی اسکیموں میں مدد کے لئے مسلمانوں کو محض ووٹروں کے گلے میں بدل دینا چاہتے تھے۔ امام احمد رضا نے باب اجتہاد کھولنے کی کسی بھی کوشش کی بھر پور مخالفت کی۔ وہ کسی کو بھی اپنی ذاتی قوت کے حصول کے لئے اسلام کے ناکام استعمال یا اسلام کی تبدیلی کی اجازت نہیں دیتے تھے۔ ان سب باتوں سے بڑھ کر امام احمد رضا نے حقیقی اسلامی برادری کے تحفظ کی کوشش فرمائی۔

روایتی اسلامی سوسائٹی اگرچہ پیچیدہ تھی مگر اس کی بنیاد ناقابل تبدیل شریعت کے محافظ اور مسلمانوں کے راہبر علمائے کرام کے نظام مزارات، خانقاہوں اور مشائخ کرام کے ساتھ صوفی سلسلے کے مکمل وجود اور میلاد کی طرح کی تقریبات پر تھی۔ یہی سوسائٹی دنیا میں اللہ تعالٰی کی رضا اور پسند کے مطابق ڈھلی ہوئی سوسائٹی ہے۔ اور امام احمد رضا نے اسی کے دفاع کی کوششیں فرمائیں۔
انہوں نے بلاشبہ وہابیوں سے اس اسلامی سوسائٹی کو بچایا۔ اور بہت سے ایسے دوسرے لوگوں سے بھی جو علماء سے جان چھڑا کر مودودی کی طرح کے صحافی اور سیاست دانوں کو نگراں بنانا چاہتے تھے۔ تاکہ تصوف کے سلاسل کو مکمل طور پر تباہ کیا جا سکے۔ اپنی جگہ امام احمد رضا کے وقت ہی سے ان لوگوں نے سرمایہ داری یا اشتراکیت کے نمونے پر ایک خوفناک سوسائٹی تشکیل دے لی تھی۔ جس پر انہیں کی حکومت تھی۔ جس کا انہیں کو انکے خاندان کو اور ان کے دوستوں کو فائدہ تھا۔ اور اسی سائنس پرست سوسائٹی سے چھٹکارے کی کسی بھی کاوش کو دبانے کے لئے انہیں ہر جگہ خفیہ پولیس کی ضرورت تھی۔ اعلٰی حضرت امام احمد رضا نے یہ بھی رہنمائی فرمائی کہ مسلم کمیونٹی آج کی دنیا میں کس طرح صحیح معنی میں محفوظ رک سکتی ہے۔ 1912ء میں چار نکاتی پروگرام کے تحت یہ نظریہ پیش فرمایا کہ مسلمانوں کو آپس کے تنازعات باہم حل کرنا چاہئے۔ انہوں نے آپس میں خرید و فروخت کی طرف متوجہ ہونے کی رہنمائی فرما کر ان کے اتحاد، معاشی استحکام اور صحیح اسلامی معاشرے کی تشکیل کا راستہ بھی بتا دیا۔ یہی راستہ تھا جس پر چل کر مسلمان غیر مسلم سوسائٹی میں ڈھلے بغیر اپنی تمام روایات سمیت اپنی سوسائٹی کو محفوظ رکھ سکتے تھے۔ بدترین نسل پرستی، تعصب اور اشتمالیت سے اور شریعت و طریقت کو پروان چڑھا کر اپنی اسلامی جنت میں برقرار رہتے ہوئے جدید دنیا کو جہنم میں اترتے دیکھ سکتے تھے۔ اور مغربیت اور سائنس کی بیجا لادنیت سے بھی محفوظ رہتے اور وہابیت کی لعنتوں سے بھی محفوظ رہتے۔ کسی طرح کا سیاسی دام ان کو اپنی گرفت میں نہ لے پاتا۔
اعلٰی حضرت امام احمد رضا اور دیگر لوگوں نے اس منصوبہ بندی پر عمل کیا جس سے اسلام اور اہلسنت کی روایتی سوسائٹی بیسویں صدی کے تمام تر مضرات کے باوجود ندہ و سلامت رہی۔ آج تمام جدت پسندوں اور بنیاد پرستوں کی ناکامی کے بعد منصوبہ رضا کی عظمت کھل کر سامنے آرہی ہے۔ ان جدت پسندوں او بنیاد پرستوں نے مسلم دنیا میں کوئی پائیدار تعمیر نہیں کی۔ غیر مسلم بھی ایک اچھی سوسائٹی تشکیل دینے میں ناکام ہو رہے ہیں۔ کمیونزم اور فاشسزم دونوں ناکام ہو رہے ہیں۔ حتٰی کہ اعتدال پسند سوشلزم کے فوائد بھی معدوم ہو رہے ہیں۔ کیونکہ مغرب اب دوبارہ سرمایہ دارانہ نظام کی خالص اور بے رحم تعبیر کی طرف لوٹ رہا ہے اور دنیا دائنسی منصوبوب کی ناکامی محسوس کر رہی ہے۔ دریں حالات امام احمد رضا کی عالمی اہمیت اور بھی نمایاں ہو رہی ہے۔ انہوں نے جدید منصوبوں پر اس وقت تنقید کی جب وہ ابتدائی منزل طے کر رہے تھے۔ آج امام احمد رضا محدث بریلوی ہی کے نظریات سچ ثابت ہو رہے ہیں۔ ہہ ایک مرد مومن کی فراست اور اس کی بصیرت تھی۔ سب کچھ صدقہ تھا عشق رسول اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا۔ اعلٰی حضرت امام احمد رضا کا دور اب شروع ہوا ہے۔ ہم اسلام دشمن اور غیر اسلامی حکومتوں اور معاشروں کی دنیا میں رہ رہے ہیں جس کا مذہب سے رابطہ کٹ چکا ہے۔ ہمیں امام نے سکھایا ہے کہ ہم اس دنیا میں کس طرح ہر باطل کا مقابلہ کرتے ہوئے وقار کے ساتھ زندہ رہیں اب تک ہم وہ تمام پہلو ملاحظہ کر چکے ہیں جن کی وجہ سے امام احمد رضا اہمیت کے حامل ہیں۔ انہوں نے جدید دنیا کے حملوں کے خلاف عقائد اہلسنت کے مطابق اسلام کا دفاع کیا۔ امام احمد رضا عالمی اہمیت کے حامل ہیں۔ کیونکہ اہلسنت کے عقائد اور اسلام عالمی اہمیت کے حامل ہیں ۔ اور عقائد اہلسنت اور انکے نظریات ہی دنیا کے مسائل کا جواب رکھتے ہیں۔ انہی عقائد و نظریات کا نام اسلام ہے۔ اور یہی سچا مذہب ہے۔
اعلٰی حضرت امام احمد رضا پوری دنیا کے لئے تمام انسانیت کے لئے اہمیت رکھتے ہیں۔ کیونکہ وہ ایک اللہ اور اسکے سچے رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اور دین حق کی طرف لوٹنے کی دعوت دیتے ہیں۔ امام احمد رضا نے رسول کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی کامل و اکمل محبت اور عزت کو اسلام کا مرکز اپنی زندگی کا مرکز اور اپنی تمام علمی کاوشوں کا مرکز بنائے رکھا۔ اور یہی ان کی عالمی اہمیت کا سبب ہے۔

مولانا ریاض سہروردی کا عرس پیر کو ہوگا

درجہ بند بتحت: Home, ہوم, اہلسنت اردو خبریں — sulemansubhani @ 9:38 am

کراچی(پ ر) مرکزی انجمن عندلیبان ریاض رسول پاکستان کے بانی مولانا سید محمد ریاض الدین سہروردی کا عرس پیر25 دسمبرکو جامع بغدادی مسجد ٹرسٹ مارٹن کوارٹرز میں ہوگا۔ قاری غلام محمد سوہو اور علامہ ابرار احمد رحمانی بعد نماز عشاء خطاب کریں گے۔

دسمبر 20, 2006

باطل عزائم رکھنے والوں کی سازشیں ناکام بنادیں گے

درجہ بند بتحت: Home, ہوم, اہلسنت اردو خبریں — sulemansubhani @ 9:06 am

کراچی (پ ر) جماعت اہلسنت پاکستان کراچی کے امیر علامہ شاہ تراب الحق قادری نے کہا کہ غلامان مصطفی متحد و منظم ہوکر تمام باطل عزائم رکھنے والوں کی سازشوں کو ناکام بنادیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامع مسجد اولیاء چاندنی چوک پرانی سبزی منڈی میں منعقدہ محفل گیارویں شریف کے اجتماع سے خطاب میں کیا۔ اجتماع سے مفتی اشفاق احمد رضوی نے بھی خطاب کیا جبکہ اجتماع میں علامہ ابرار احمد رحمانی، محمد حسین لاکھانی، مولانا الطاف قادری، محمد احمد صدیقی، قاضی نور الاسلام شمس، علامہ اسماعیل ضیائی، علامہ عطاء المصطفیٰ، مفتی اکبر الحق قادری، مولانا نثار احمد قادری، علامہ لائق سعیدی، مولانا اقبال قادری کے علاوہ علماء و مشائخ اور عوام نے شرکت کی۔ علامہ شاہ تراب الحق قادری نے مزید کہا کہ اسلام دشمن قوتیں پاکستان کو کفر کی آماجگاہ بنانے کے لیے لادینیٹ، گمراہی مغربی تہذیب کو پھیلا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دینی اقدار اور حدود قوانین کی حفاظت نعروں اور سیاسی ایجنڈوں سے بالاتر ہوکر عملی جدوجہد کرکے ہی کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ علمائے اہلسنت مصلحت پسندی کی خاطر کسی سازش کو قبول نہیں کریں گے۔ تمام غیرشرعی قوانین اور خواتین ایکٹ کو ختم کرکے دم لیں گے۔ ممتاز عالم دین علامہ مفتی اشفاق احمد رضوی نے خطاب میں کہا کہ تحفظ حدود اللہ اور ناموس رسالت کے لیے کوئی مصالحت نہیں ہوسکتی پاکستان کا حقیقی مقصد ہی نظام مصطفی کا عملی نفاذ ہے۔

دسمبر 19, 2006

علماء و مشائخ نے ہر دور میں ملت کی رہنمائی کا فریضہ انجام دیا

درجہ بند بتحت: Home, ہوم, اہلسنت اردو خبریں — sulemansubhani @ 8:50 am

کراچی(پ ر) علامہ سید شاہ تراب الحق قادری نے کہا ہے کہ ملت اسلامیہ کے دور انحطاط میں صوفیائے کرام نے کردار و عمل سے اہل اسلام کی تطہیر کا فریضہ سرانجام دیا۔انہوں نے کہا کہ ہر دور میں علماء و مشائخ نے ملت اسلامیہ کی رہبری و رہنمائی کی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے دفتر جماعت اہلسنت میں لندن سے آئے ہوئے ممتاز عالم دین علامہ مفتی اشفاق احمد رضوی سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر علامہ ابرار احمد رحمانی، محمد حسین لاکھانی، قاضی نورالاسلام شمس، مولانا خلیل الرحمان چشتی، محمد احمد صدیقی، مولانا الطاف قادری، جاوید قادری، صاحبزادہ فخر الحسن شاہ، مولانا محمود حسین شاہ و دیگر بھی موجود تھے۔ علامہ سید شاہ تراب الحق قادری نے کہا کہ جماعت اہلسنت پاکستان مسلم امہ اور علماء و مشائخ کو منظم و متحد کرنے کیلئے پاکستان سمیت دنیا بھر میں فعال کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جماعت اہلسنت نے تحفظ ختم نبوت، تحفظ ناموس رسالت اور نظام مصطفی جیسی کامیاب تحریکیں چلائیں۔ علماء اور عوام نے اللہ اور اس کے رسول سے اپنی عقیدت کا اظہار گرانقدر قربانیوں کی صورت میں کیا۔علامہ مفتی اشفاق احمد رضوی نے کہا کہ اسوہٴ مصطفی کو رہنمائے منزل بنا کر ہی دور حاضر کے سماجی، معاشی، معاشرتی، قانونی اور عالمی مسائل کو حل کیا جا سکتا ہے انہوں نے کہا کہ اسلام ابدی دین ہے، دنیائے انسانیت کے حقوق کا ضامن ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج دنیا کو اخلاقی اور معاشرتی زوال سے بچانے کیلئے اسلام کی آفاقی تعلیمات کو عملی طور پر نافذ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہر قسم کے تعصبات سے بالاتر ہو کر اسلام کے اجتماعی مفادات کو مقدم رکھتے ہوئے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کے تمام علماء و مشائخ کو ایک پلیٹ فارم پر متحد ہو کر اسلام کی نشاة ثانیہ کیلئے عملی جدوجہد کرنا ہوگی۔

دسمبر 18, 2006

قرآن و سنت کے منافی خواتین بل کے خلاف جدوجہد جاری رہے گی

درجہ بند بتحت: Home, ہوم, اہلسنت اردو خبریں — sulemansubhani @ 12:17 pm

کراچی (اسٹاف رپورٹر) جماعت اہلسنت پاکستان کے مرکزی امیر اسلامی نظریاتی کونسل کے مستعفی رکن صاحبزادہ پروفیسر سید مظہر سعید کاظمی نے کہا ہے کہ وفاقی وزیر تعلیم کے حالیہ بیانات سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ وہ پاکستان کے نظریاتی تشخص کو ختم کرنے کے درپے ہیں لیکن پاکستان کے غیور مسلمان ان کے عزائم کو خاک میں ملادیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اہلسنت کراچی کے زیراہتمام النساء کلب گلشن اقبال میں منعقدہ اسلامی نظریاتی کونسل سے احتجاجاً مستعفی ہونے پر اپنے اعزاز میں دی گئی استقبالیہ تقریب سے خطاب میں کیا۔ جس سے جماعت اہلسنت کراچی کے امیر علامہ سید شاہ تراب الحق قادری‘ سپریم کونسل کے رکن‘ اسلامی نظریاتی کونسل کے مستعفی رکن حاجی محمد حنیف طیب نے بھی خطاب کیا۔ پروفیسر مظہر سعیدکاظمی نے کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل سے میرے استعفیٰ دینے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ نام نہاد خواتین بل واضح طور پر قرآن و سنت سے متصادم ہے‘ حکمرانوں کا یہ کہنا کہ اس بل میں قرآن و سنت کے خلاف کوئی بات نہیں ہے‘ دینی علم سے ناواقف ہونے کی دلیل ہے‘ پورے ملک کے علماء چاہے ان کا تعلق کسی بھی مکتبہٴ فکر سے ہو اور خصوصاً وہ علماء کمیٹی جس کو حکومت ہی نے نامزدکیا تھا اس نے بھی اس بل کی متعدد دفعات کواسلام کے خلاف قرار دیا ہے‘ ایسے ماحول میں جبکہ کتاب و سنت کے خلاف قانون سازی ہو رہی ہو، اسلامی نظریاتی کونسل کو بل ریفرکرنے سے گریزکیا جا رہا ہو،کونسل کے اراکین کو ایوان صدر بلاکر ان سے تفصیلی مشورہ کیے بغیرکونسل کی طرف سے حمایت کا اعلان کیا جانا میرے مزاج کے خلاف ہے‘ اس لیے ہم نے استعفیٰ دے دیا اور باہمی مشاورت سے جماعت اہلسنت پاکستان کی سپریم کونسل کے رکن حاجی حنیف طیب نے بھی استعفیٰ دے دیا۔ بعد ازاں چوہدری شجاعت حسین نے اسلامی نظریاتی کونسل سے استعفیٰ واپس لینے کی بھی جوگزارش کی تو ان کو جواب دے دیا گیا کہ یہ ہماری ایمانی غیرت کا مسئلہ ہے، جب تک حکومت قرآن و سنت کے منافی بل کو واپس نہیں لیتی، حکومت کے خلاف جدوجہد جاری رہے گی۔ جماعت اہلسنت پاکستان کراچی کے امیر علامہ سید شاہ تراب الحق قادری نے خطاب میں کہا کہ قرآن و سنت سے ماورائے قوانین پرکوئی مصالحت نہیں ہوسکتی۔ علمائے اہلسنت کسی سیاسی ڈپلومیسی‘ مصلحت پسندی کا شکار نہیں ہیں۔ پروفیسر سید مظہر سعیدکاظمی‘ حاجی حنیف طیب نے اسلامی نظریاتی کونسل سے احتجاجاً مستعفی ہوکر ایمانی غیرت و حمیت کا ثبوت دیا ہے‘ انہوں نے کہا کہ اعلائے کلمة الحق علمائے اہلسنت کا شعار ہے۔ جماعت اہلسنت پاکستان کی سپریم کونسل کے رکن اسلامی نظریاتی کونسل کے مستعفی رکن حاجی حنیف طیب نے خطاب میں کہا کہ خواتین ایکٹ کو اسلامی نظریاتی کونسل میں نہیں بھیجا گیا تو تعاون کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا لہٰذا ہم نے احتجاجاً کونسل سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا، انہوں نے کہا کہ مغربی نظام اور قوانین سے خواتین کے مسائل کو ہرگز حل نہیں کیا جا سکتا اجتماع میں جماعت اہلسنت کے قائدین نے اس عزم کا اظہارکیا کہ حدودالله کے نفاذ کے لیے جدوجہد جاری رہے گی اور غیر شرعی خواتین ایکٹ کو ختم کرکے دم لیا جائے گا۔

دسمبر 17, 2006

آخری سفر

درجہ بند بتحت: Home, ہوم, اسلامی مضامین — sulemansubhani @ 12:02 pm

آخری سفر:

ٹکٹ: مفت
سیڑ: محفوظ
مسافر کا نام: عبداللہ ابن آدم
عرفیت: انسان
شناخت: مٹی
پتہ: روئے زمین

سفر کی تفصیلات:

روانگی: ازدنیا
منزل: آخرت
مدت سفر:
چند ثانیے جس میں چند لمحوں کے لیے دو میٹر زیر زمین پرواز
پرواز کا وقت: وقت اجل
ریزرویشن: یقینی

ضروری ہدایات:
تمام مسافر ان سے درخواست کی جاتی ہے۔ کہ وہ ان لوگوں کو اپنی نظر میں رکھیں ۔ جو ان سے پہلے آخرت کی طرف سفر کر گئے ہیں۔ مزید تفصیلات کے لئے بغور پڑھ لیں۔ جو کتاب اللہ اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں درج ہیں ان پر عمل کریں اگر کچھ سوالات در پیش ہوں تو جواب کے لئے علماء امت سے رجوع کریں۔

کتنا سامان سفر ساتھ لئیں
ہر مسافر اپنے ساتھ پانچ میٹر سفید لٹھا اور تھوڑی سی روئی لے جا سکتا ہے لیکن وہ سامان کو در حقیقت آپ کے کام آئے ۔ نیک اعمال صدقہ جاریہ نیک اور صالح اولاد اور وہ علم ہو گا جس سے بعد میں دوسرے لوگ نفع حاصل کر سکیں گے۔ اس کے علاوہ سامان سفر ساتھ لانے کی کوشش کی گئی تو اس کے زمے دار آپ خود ہونگے تمام مسافران سے درخواست ہے کہ وہ پرواز کے لئے ہر وقت تیار رہیں۔ پرواز سے متعلق مزید معلومات کے لئے فوری طور پر کتاب اللہ اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے رابطہ رکھا جائے۔ اس سلسلے میں روزانہ پانچ وقت اللہ کے گھر کی حاضری ضروری ہے۔ آپ کی سہولت کے لئے دوبارہ عرض ہے ۔ کہ آپ کی سیٹ ریزرو ہو چکی ہے۔ اور اس سلسلے میں کسی دوبارہ گارنٹی کی حاجت نہیں ہے
ہمیں امید ہے کہ آپ سفر کے لئے تیار ھونگے، ہماری نیک تمنائیں اور دعائیں ، آپ ک ساتھ ہیں ۔ خدا آپ کا حامی و ناصر ہو۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

_________________
نعرہ فیض رضا ہم لگاتے رہیں
نجدیوں کے دلوں کو جلاتے رہیں
اور کلام رضا ہم سناتے رہیں
فیض احمد رضا تا قیامت رہے
آمین

آئیے! وصیت اعلٰیحضرت پر عمل کریں

درجہ بند بتحت: Home, ہوم, امام احمد رضا خان — sulemansubhani @ 11:57 am

مضمون: آئیے! وصیت اعلٰیحضرت پر عمل کریں
از: انصار احمد جامی نوری
انتخاب: آقا کا گدا

آئیے! وصیت اعلٰیحضرت پر عمل کریں
مصطفٰی جان رحمت، غمخوار امت صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی یادگارئ امت پہ قربان کہ پیدا ہوتے ہی اپنے رب کی وحدانیت، اپنی رسالت کی شہادت ادا فرما کر سب میں پہلی جو یاد آئی وہ ہماری ہی یاد تھی۔
دیکھو وہ اللہ کا نور، حضرت آمنہ کا لال شکم پاک مادر سے جدا ہوتے ہی سجدے میں ہے۔ اور نرم و نازک آواز سے کہہ رہا ہے رب ھب لی امتی رب ھب لی امتی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم،،
عمر بھر تو یاد رکھا، وقت پر کیا بھولنا ہو
وقت پیدائش نہ بھولے کیف ینسٰی کیوں قضا ہو

زندگی پاک میں بھی یاد فرماتے رہے اور اس قدر یاد فرمایا کہ پائے مبارک پر ورم آگیا۔ زار زار رو رہے ہیں روتے روتے صبح کر دی اور یہی عرض کرتے رہے رب امتی رب امتی،،
اشک شب بھر انتظار عفو امت میں بہیں
میں فدا چاند اور یوں اختر شماری واہ واہ

جب قبر انور میں تشریف لے گئے ویاں بھی آہستہ آہستہ یہی عرض کرتے رہے۔ رب امتی امتی اے میرے رب میری امت میری امت (صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم)
ہماری لاکھوں، کروڑوں نافرمانیوں کے بعد بھی ہمیں فراموش نہیں کیا بلکہ زبان رحمت سے یہی فرمایا ارے میری طرف آؤ ارے میری طرف آؤ ارے میری طرف آؤ مجھے چھوڑ کر کہاں جاتے ہو۔ یہی فرماتے رہے۔ تم پروانوں کی طرح آگ پر گرے پڑتے ہو اور میں تمہارا بند کمر پکڑے روک رہا ہوں۔ جب غلاموں نے اس شفقت و مہربانی اور رحمت و کرم فرمائی کو دیکھا تو وہ بھی سو جان سے اپنے پیارے آقا پر قربان ہونے کو تیار ہو گئے اور ان کے عشق ہی کو اپنا سب کچھ سمجھا کہ اسی میں رضائے محبوب تھی۔ اور محبوب کے رب کی رضا بھی اسی میں تھی۔ اور ظاہر ہے کہ عاشق یاد محبوب کی آتش سے جب اپنے سینے کو گرماتا ہے تو وصال محبوب کی مسرت میں دنیا و مافیہا سے بے نیاز ہو جاتا ہے۔ اور اس کے لبوں پر بے ساختہ یہ شعر جاری ہو جاتا ہے کہ،،
جان و دل ہوش و خرد سب تو مدینے ہہنچے
تم نہیں چلتے رضا سارا تو سامان گیا

اور جب عشق کی آگ مذید بھڑکتی ہو تو عقیدت کا اظہار یوں ہوتا ہے،،
الروح فداک فزد حرقا یک شعلہ دگر برزن عشقا
مورا تن من دھن سب پھونک دیا یہ جان بھی پیارے جلا جانا

کبھی آتش فراق کو ہوا دے کر عشق کی یوں حرارت بڑھائی جاتی ہے،،
اے عشق ترے صدقے جلنے سے چھٹے سستے
جو آگ بجھا دے گی وہ آگ لگائی ہے

حرارت عشق سے قلب کو کباب کر دینے والے پروانوں غم ہجراں میں خون کے آنسو بہانے والے عاشقوں میں ایک ہستی امام احمد رضا کی بھی ہے۔ آسمان ولایت کے در خشندہ ستاروں میں ایک نجم الہدٰی امام احمد رضا بھی ہے۔ یہ وہ نجم ہدایت اور پروانہ شمع عشق رسالت ہیں کہ جب اس عرب کے چاند اور عجم کے سورج پر وہابیہ دیوبندیہ توہین و تنقیص کی گرد اڑانے لگے اور گنبد خضرٰی کی طرف گستاخیوں کے تیر برسانے لگے تو امام احمد رضا حضرت حسان کے ایک شعر کی عملی تفسیر بن کر سینہ سپر ہو گئے۔ کہ
اے بدزبانو ! میں اس لئے تمہارے مقابل کھڑا ہوا ہوں کہ تم مصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی بدگوئی سے غافل ہو کر مجھے اور میرے باپ دادا کو گالیاں دینے میں مشغول ہو جاؤ میری اور میرے باپ دادا کی آبرو محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی عزت کی سپر ہو جائے۔ اور احمد رضا اللہ سبوح قدوس کی عظمت اور اس کے حبیب کریم علیہ الصلٰو ۃ و التسلیم کی عزت کی حمایت کرکے گالیاں کھائے۔ اور آقا و مولٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی سرکار میں پہرہ دینے والے کتوں میں اس کا چہرہ لکھا جائے۔ واللہ العظیم احمد رضا بخوشی راضی ہے۔ اگر یہ دشنامی حضرات بھی اس بدلے پر راضی ہوں کہ وہ اللہ رسول جل جلالہ و صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی جناب میں گستاخی سے باز آئیں اور یہ شرط لگائیں کہ روزانہ اس بندہء خدا کو پچاس ہزار مغلظہ گالیاں سنائیں اور لکھ لکھ کر شائع کرائیں۔
جس امت کے لئے حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم گریہ و زاری فرماتے رہے رب امتی امتی فرماتے رہے اس امت کی خدمت کے لئے امام احمد رضا نے اپنی پوری زندگی وقف فرمادی۔ زندگی بھر وعظ و نصیحت فرماتے رہے اور وصال سے قبل ایک ایمان افروز وصیت فرمادی کہ تم مصطفٰٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی بھولی بھیڑیں ہو بھیڑیئے تمھارے چاروں طرف ہیں یہ چاہتے ہیں کہ تمھیں بہکا دیں تمھیں فتنے میں ڈال دیں تمہیں اپنے ساتھ جہنم میں لے جائیں ان سے بچو اور دور بھاگو۔ دیوبندی ہو یا رافضی، نیچری ہو یا قادیانی، چکڑالوی ہو غرض کتنے ہی فرقے ہوں یہ سب بھیڑیئے تمہارے ایمان کی تاک میں ہیں۔ حضور سے صحابہ روشن ہوئے ان سے تابعین روشن ہوئے اور ان سے ائمہ مجتہدین روشن ہوئے ان سے ہم روشن ہوئے۔ اب ہم تم سے کہتے ہیں یہ نور ہم سے لو ہمیں اس کی ضرورت ہے کہ تم ہم سے روشن ہو وہ نور یہ ہے کہ اللہ و رسول کی سچی محبت اور ان کی تعظیم اور ان کے دوستوں کی خدمت اور ان کی تکریم۔ اور ان کے دوشمنوں سے سچی عداوت جس سے اللہ و رسول کی شان میں ادنیٰ توہین پاؤ پھر وہ تمہارا کیسا ہی پیارا کیوں نہ ہو فوراً اس سے جدا ہو جاؤ جس کو بارگاہ رسالت میں ذرا بھی گستاخ دیکھو پھر وہ تمہارا کیسا ہی بزرگ معظم کیوں نہ ہو اپنے اندر سے اسے دودھ سے مکھی کی طرح نکال کر پھینک دو۔ میں پونے چودہ برس کی عمر سے یہی بتا رہا ہوں اور اس وقت پھر یہی عرض کرتا ہوں اب میں قبر سے اٹھ کر تمہارے پاس بتانے نہ آؤں گا۔ جس نے اسے سنا اور مانا قیامت کے دن اس کے لئے نور و نجات ہے اور جس نے نہ مانا اس کے لئے ظلمت و ہلاکت۔
_________________
آقا کا گدا ہوں اے جہنم تو بھی سن لے
وہ کیسے جلے جو غلام مدنی ہو۔ ۔ ۔!
سنی دعوت اسلامی ڈاٹ نیٹ

قرآ ن شریف کے غلط ترجمو ں کی نشا ند ھی

درجہ بند بتحت: Home, ہوم, قرآن مجید, امام احمد رضا خان — sulemansubhani @ 11:50 am

اللہ جل جلا لہ اور رسو ل ا کرم صل اللہ علیہ وسلم کی شان پاک میں گستاخیاں
قرآ ن شریف کے غلط ترجمو ں کی نشا ند ھی
مولا نا قا ری رضا ئے المصطفی

بسم اللہ الر حمن الر حیم ، نحمدہ ‘ و نصلی علی رسو لہ الکر یم ،
ھر طرح کی تعر یف ا س ذات کریم کی جس نے ایسا رؤف و رحیم رسول عطا فرما یا کہ جس کو سا ری ساری شب ھما ری مغفر ت کا سا ما ن کرنا مطلو ب اور ھمیں ھر آ ن آ را م و را حت میں دیکھنا محبو ب، پھر کروڑوں درود و سلام ھوں اُس رحمت للعا لمین پر کہ جس نے اپنے کرم سےہمیں قیا مت تک کےفتنوں سے بار بار آ گا ہ کیا – کبھی حضرت عثما ن بن طلحہ رضی اللہ تعا لی عنہ سے بیت اللہ کی چا بیا ں لینے دینے کے دوران فرما یا کے یہ چابیاں تیری اولاد میں تب تک رھیں گی کے جب تک ایک ظا لم جا بر حا کم اپنے ظلم کے سبب تیری ا ولا د سے نہ چھین لے تو کبھی یمن و شام کے لیے دعا فرما کر اور نجد کے لیے باوجود صحا بہ کے اصرار پر دعا نہ فرما کر ہمیں نجد یوں کے فتنو ں سے آ گاہ فرمایا اور فرمایا کہ نجد سے شیطا ن کے سینگ نکلیں گے اور فتنہ انگیز نجدیوں کی علا مت یہ بیان کی کہ وہ کفا ر کو چھو ڑ یں گے اور مسلما نو ں کو قتل کریں گے ( ہند کے نجدیوں کا بھی یہی حال رہا ، انگریز سے مخبری کرکے1857ء میں لاکھوں مسلمانوں کو پھانسی دلوائی 1947ء میں ہندؤں کا ساتھ دیا مسلمانوں سے غداری کی اور یہی حال ان نجدیوں کا افغانستان میں بھی ہے )
حضو ر صل اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کے عین مطا بق عرب پر نجدیوں کے قبضے کے بعد لا کھوں عوام و علماء اھل سنت کو قتل (شھید) کرنا اور نہرو کو دعوت دے کر بلا نا ‘ پھر امن کا پیغمبر و رسول ا لسلام کا لقب دینا ‘ یھودی بنکوں میں سنکھوں روپیہ جمع کر کے مسلمانوں کے دشمن یھودیوں کی مدد کرنا حضو ر انور صل اللہ ءلیہ وسلم کے ارشادات کی تصد یق کرتا ھے -

انتقام
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان خداد پیش گوئیوں کے انتقام میں نجدیوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادوں ، صاحبزادیوں ، ازواج مطہرات جن پر ہمارے ماں باپ قربان اور تمام جلیل القدر صحابہ کے مزارات کو مسمار کیا ( تمام دنیائے اسلام کے احتجاج پر کسی کسی قبر کا نشان بنادیا ، باقی قبور کو سڑکوں وغیرہ میں تبدیل کیا پاکستان میں دیوبندی بھی ایسا ہی چاہتے ہیں ) اور انہی نجدیوں نے تاج کمپنی سے حضور علیہ السلام کے نناوے اسماء قرآن شریف کے آخر میں شائع ہونے بند کرائے اور اب حال ہی میں گستاخ رسول وہابیوں نے امام اہلسنت کے ترجمہ القرآن پر پابندی لگاکر ( کہ جہاں ملے اُسے پھاڑ دو یا جلادو کا حکم صادر کرکے ) اپنی آتش حسد سرد کرنے اور مسلمانوں کے دلوں میں آگ بھڑکانے کی کوشش کی اور جو ان گستاخوں کے دلوں میں ہے وہ اس سے بھی کہیں زیادہ جن نجدیوں کو مسجد نبوی سے متصل حضور انور کا روضہ گوارا نہ ہو اور آئے دن اس کو منتقل کرنے کے منصوبے بناتے ہیں ۔ پھر اہلسنت کا ترجمہ ان کی آنکھوں میں کیوں نہ خار کی طرح کھٹکے ؟ اُن کو وہی علماء پسند ہیں جو بتوں کی آیات انبیاء اور اولیاء پر چسپاں کریں اور وہی تراجم ان کو پسند ہیں جن میں خیانت کرکے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت مجروح کی گئی ہو ۔
قارین فیصلہ کریں
اگلے صفحات میں آپ اسی طرح کے تراجم قرآن اور اعلٰی حضرت مولا نا احمد رضا خاں‌کے چند آیات کے ترجمہ کا مختصر تقابلی مطالعہ فرما کر فیصلہ کریں کہ کس کا ترجمہ ناقص اور کس کا درست ہے ۔
وما علینا الا البلاغ
اعلٰی حضرت رحمتہ اللہ تعالٰی علیہ کے ترجمہ قرآن حکیم اور دیگراردو تراجم قرآن کا تقابلی مطالعہ
سیرت سرور کونین سمجھنے کے لئے
تم کو قرآن مقدس کو سمجھنا ہو گا

امام اہلسنت، مجدد ملت اعلٰی حضرت شاہ عبد المصطفٰے احمد رضا بریلوی رحمتہ اللہ تعالٰی علیہ کا شجرہ نسب اس طرح ہے۔ عبد المصطفٰے احمد رضا خاں بن مولانا محمد نقی علی خاں ابن مولانا رضا علی خاں۔
آپ کی ولادت با سعادت بریلوی شریف کے محلہ جسولی میں 10شوال المکرم 1282 مطابق 14 جون 1856ء بروز ہفتہ بوقت ظہر ہوئی۔ آپ کا تاریخی نام المختار ہے۔ آپ نے اپنا سن ولادت اس آیت کریمہ سے نکالا۔
اولٰئک کتب فی قلوبھم الایمان ا ایدھم بروح منہ (پ 28، سورہ مجادلہ، آیت 22)
‘ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ تعالٰی نے ایمان نقش فرما دیا اور اپنی طرف کی روحانیت سے ان کی مدد فرمائی‘۔
آپ کے والد ماجد حضرت مولانا محمد نقی علی خاں رحمتہ اللہ تعالٰی علیہ اپنے وقت کے ممتاز عالم اور مصنف تھے۔
اعلٰی حضرت رحمتہ اللہ علیہ نے تقریباً درسیات اپنے والد ماجد سے پڑھیں اور چودہ سال کی عمر میں ایک معرکتہ الآراء فتوٰی کا جواب تحریر کیا چنانچہ آپ کی اس استعداد اور خدا داد قابلیت کی بناء پر اس کم عمری میں آپ کو مفتی کا منصب عطا کر دیا گیا۔ اعلٰی حضرت نے استفتاء کے جوابات کے ساتھ ہی ساتھ تصنیف و تالیف کا کام بھی شروع کر دیا جس مسئلہ پر آپ نے قلم اٹھایا اپنے تبحر علمی کی بدولت اس کے ہر ہر پہلو پر نہایت عمدہ طریقے سے روشنی ڈالی اور ایسی واضح حجتیں اور براہین قائم فرمائیں کہ ہم عصر علماء و محدثین نے امام اہلسنت، مجددین و ملت کا خطاب دیا۔
یوں تو آپ کے علمی کارناموں کی تفصیل بڑی طویل ہے لیکن ان سب سے بڑا علمی کارنامہ ترجمہ قرآن مجید ہے۔ ترجمہ کیا ہے قرآن حکیم کی اردو میں ترجمانی ہے بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ آپ کا یہ ترجمہ الہامی ترجمہ ہے، توکچھ غلط نہ ہو گا۔
ترجمہ میں فصاحت، بلاغت، انداز خطاب اور سیاق و سباق کا خیال
ایک زبان سے دوسری زبان میں لفظی ترجمہ کچھ مشکل نہیں بلکہ بہت ہی معمولی اور آسان کام ہے کسی بھی درخواست کا لفظی ترجمہ تو عرائض نویس بھی فورًا کر دیتے ہیں۔ مگر کسی زبان کی فصاحت و بلاغت، سلاست و معنویت، اس کے محاورات اور انداز خطاب کو سمجھنا۔ سیاق و سباق کو دیکھ کر کلمہ اور جملہ کی تر جمانی کرنا انتہا ئی دقت طلب کام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم کی تشریح رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے کی۔ اس کی تفسیر آپ کے صحابہ نے بیان کی۔
ترجمہ میں مناسب معنی کا انتخاب
قرآن کریم کے دوسری زبانوں میں تراجم کے مطالعہ سے یہ بات واضع ہوتی ہے کہ کسی لفظ کا ترجمہ عموماً اس کے مشہور معنی کے مطابق کر دیا جاتا ہے۔ حالانکہ ہر زبان میں کسی بھی لفظ کے بہت سے معنی ہوتے ہیں۔ ان مختلف معانی سے کسی ایک مناسب معنی کا انتخاب مترجم کی ذمہ داری ہے۔ ورنہ لفظ کا ظاہری ترجمہ تو ایک مبتدی بھی کر سکتا ہے۔
بے احتیاطی کے نتائج
اعلٰی حضرت کا ترجمہ قرآن مجید دیکھنے کے بعد جب ہم دنیا بھر کے تراجم قرآن پر نظر ڈالتے ہیں تو یہ حقیقت منکشف ہو کر سامنے آتی ہے کہ اکثر مترجمین قرآن کی نظر الفاظ قرآنی کی روح تک نہیں پہنچ سکی اور ان کے ترجمہ سے قرآن کریم کا مفہوم ہی بدل گیا ہے بلکہ بعض مقامات پر تو سہواً یا قصداً ترجمے میں ان سے تحریف بھی ہو گئی ہے۔ یا لفظ بلفظ ترجمہ کرنے کے سبب حرمت قرآن، عصمت انبیاء اور وقار انسانیت کو بھی ٹھیس پہنچی ہے اور اس سے بھی آگے بڑھ کر اللہ تعالٰی نے جن چیزوں کو حلال ٹھرایا ہے ان تراجم کی بدولت وہ حرام قرار پا گئی ہیں اور انہیں تراجم سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ معاذ اللہ بعض امور کا علم اللہ رب العزت کو بھی نہیں ہوتا۔ اس قسم کا ترجمہ کر کے وہ خود بھی گمراہ ہوئے اور مسلما نوں کیلئے بھی گمراہی کا راستہ کھول دیا اور یہودیوں، عیسائیوں اور ہندوؤں کے ہاتھوں میں (اس طرح کا ترجمہ کر کے ) اسلام کے خلاف اسلحہ دے دیا گیا۔ چنانچہ ستیارتھ پرکاش نامی کتاب اسلام پر طنز سے بھری ہوئی ہے کہ جو خدا اپنے بندوں کے مکر، فریب، دغا میں آ جائے اور خود بھی مکر، فریب، دغا کرتا ہو، ایسے خدا کو دور سے سلام وغیرہ وغیرہ۔
اعلٰی حضرت نے جملہ مستند و مروج تفاسیر کی روشنی میں قرآن حکیم کی ترجمانی فرمائی۔ جس آیت کی وضاحت مفسرین کرام کئی کئی صفحات میں فرمائیں مگر اعلٰی حضرت کو اللہ تعالٰی نے یہ خوبی عنایت فرمائی کہ وہی مفہوم ترجمہ کے ایک جملہ یا ایک لفظ میں ادا فرمایا۔ قلیل جملہ کثیر مطالب اسی کو کہتے ہیں یہی وجہ ہے کہ اعلٰی حضرت کے ترجمہ سے ہر پڑھنے والے کی نگاہ میں قرآن کریم کا احترام، انبیاء کی عظمت اور انسانیت کا وقار بلند ہوتا ہے۔
ذیل میں اعلٰی حضرت کے ترجمہ قرآن کریم اور دیگر تراجم قرآن کا ایک تقابلی مطالعہ پیش کیا جاتا ہے ۔
ولما یعلم اللہ الذین جاھدوامنکم ۔ (پارہ 4 سورۃ آل عمران آیت 142 )
ترجمہ : اور ابھی معلوم نہیں کئے اللہ نے جو لڑنے والے ہیں تم میں (شاہ عبدالقادر )
ترجمہ : حالانکہ ابھی خدا نے تم میں سے جہاد کرنے والوں کو تو اچھی طرح معلوم کیا ہی نہیں ۔ ( فتح محمد جالندھری دیوبندی )
ترجمہ : وہ ہنوز تمیز نساختہ است خُدا آں را کہ جہاد کردہ انداز شما ۔ ( شاہ ولی اللہ )
ترجمہ : حالانکہ ابھی اللہ نے ان لوگوں کو تم میں سے جانا ہی نہیں جنہوں نے جہاد کیا۔(عبدالماجد دریابادی دیوبندی )
ترجمہ : اور ابھی تک اللہ نے نہ تو اُن لوگوں کو جانچا جو تم میں سے جہاد کرنے والے ہیں ۔ (ڈپٹی نذیر احمد دیوبندی )
ترجمہ : حالانکہ ہنوزاللہ تعالٰی نے اُن لوگوں کو تو دیکھا ہی نہیں جنہوں نے تم میں سے جہاد کیا ہو ۔ ( تھانوی دیوبندی )
ترجمہ : اور ابھی تک معلوم نہیں کیا اللہ نے جو لڑنے والے ہیں تم میں ۔ ( دیوبندی محمود الحسن )
اور ابھی اللہ نے تمہارے غازیوں کا امتحان نہ لیا ۔ ( سیدی اعلٰی حضرت)
کیا اللہ تعالٰی علیم و خبیر نہیں ؟
اللہ تعالٰی جو علیم و خبیر ہے، عالم الغیب و الشہادۃ ہے، علیم بزات الصدور ہے۔ ان مترجمین کے نزدیک اردو میں بے علم و بے خبر ہے آپ خود فصلہ کریں ترجمہ پڑھنے کے بعد علم الٰہی کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ؟ ایک طرف تو اللہ تعالٰی کی صفات کمالیہ ، دوسری طرف اس قدر بے خبری کہ مومنین میں سے کون لوگ جذبہ جہاد سے سرشار ہیں؟ اللہ کو اس کا علم نہیں۔ ابھی اس نے جانا ہی نہیں۔ گویا شان رسول کی تنقیص سے فارغ ہوئے تو شان الو ہیّت پر حرف گیری شروع کر دی۔
‘ اللہ نے نہیں جانا، شاہ رفیع الدّ ین صاحب کا خیال ہے۔ ‘ابھی معلوم نہیں کیا اللہ نے‘ شاہ عبدالقادر صاحب کی ایجاد ہے، ‘ ابھی تک معلوم نہیں کیا اللہ نے‘ محود الحسن صاحب فرماتے ہیں۔
بروز حشر خدا و رسول کی گرفت سے نہ بچ سکیں گے
ترجمہ لکھتے وقت کس قدر غیر حاضر تھے یہ مترجمین، کہ تفسیر کے مطالعہ کی زحمت ہی نہیں کی اور کس سادگی سے قلم چلا دیا۔ آج بھی ان حضرات کے معتقدین، مریدین، متبعین موجود ہیں۔ اگر ان تراجم پر ان کے پیرو کار مطمئن و خوش عقیدہ ہیں تو بروز حشر خدا اور رسول کی گرفت کے لئے تیار رہیں۔ ورنہ تفاسیر قرآن و ترجمہ اعلٰی حضرت کے مطابق آئندہ تمام ایڈیشن قرآن کریم کے درست کرا دیں، ورنہ ترجمہ پڑھنے والی نسل کی گمراہی کی ذمہ دار آپ ہوں گے۔
ویمکرون ویمکراللہ واللہ خیرالمٰاکرین۔ (پارہ 9 سورۃ الانفال آیت 30)
ترجمہ ::‌اور وہ بھی فریب کرتے تھے اور اللہ بھی فریب کرتا تھا اور اللہ کا فریب سب سے بہتر ہے ۔ ( شاہ عبدالقادر )
ترجمہ : اور مکر کرتے تھے وہ اور مکر کرتا تھا اللہ تعالٰی اور اللہ تعالٰی نیک مکر کرنے والوں کا ہے ۔ ( شاہ رفیع الدین )
ترجمہ : وایشاں بد سگالی می کردند و خدا بد سگالی می کرد ( یعنی بایشاں ) وخدا بہترین بد سگالی کنندگان است۔ ( شاہ ولی اللہ )
ترجمہ : اور وہ بھی داؤ کرتے تھے اور اللہ بھی داؤ کرتا تھا اور اللہ کا داؤ سب سے بہتر ہے ۔( محمود الحسن دیوبندی )
ترجمہ : اور حال یہ کہ کافر اپنا داؤ کر رہے تھے اور اللہ اپنا داؤ کررہا تھا اور اللہ سب داؤ کرنے والوں سے بہتر داؤ کرنے والا ہے ۔ ( ڈپٹی نذیر احمد )
ترجمہ : اور وہ تو اپنی تدبیر کر رہے تھے اور اللہ میاں اپنی تدبیر کر رہے تھے اور سب سے زیادہ مستحکم تدبیر والا اللہ ہے۔( تھانوی دیوبندی)
ترجمہ : اور وہ اپنا سا مکر کرتے تھے اور اللہ اپنی خفتہ تدبیر فرماتا تھا اور اللہ کی خفیہ تدبیر سب سے بہتر ۔ ( سیدی اعلٰی حضرت )
اردو ترجمہ میں جو الفاظ استعمال ہوئے وہ الُو ہیّت کے کسی طرح لائق نہیں ۔ اللہ تعالٰی کی طرف مکر ، فریب ، بدسگالی کی نسبت اس کی شان میں حرف گیری کے مترادف ہے ، یہ بنیادی غلطی صرف اس وجہ سے ہے کہ اللہ اور رسول کے افعال مقدسہ کو اپنے افعال پر قیاس کیا ، اسی وجہ سے مترجمین نے ہنسی ، مزاق ٹھٹھا ،مکر،فریب ، علم سے بےخبر ، بدسگالی کو اس کی صفت ٹھہرایا ہے۔
اللہ تعالٰی ‘ میاں ‘ کی صفت سے پاک
اللہ پاک کی عزت افزائی کے لئے تھانوی صاحب نے میاں استعمال کیا ہے۔ ان تمام الفاظ کو سامنے رکھ کر الوہیت کا آپ تصور کریں تو رب تبارک و تعالٰی انسانوں سے عظیم تر انسان ابھر کر آپ کے سامنے ہو گا۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی رسول کریم کی شان کے لائق کوئی تعریف کی جاتی ہے تو یہ چیخ اٹھتے ہیں کہ تم نے رسول کو اللہ سے ملا دیا اور خود موحّدوں کے امام نے میاں اللہ تعالٰی کو کہہ کر عام انسان کے برابر لا کھڑا کیا تو پھر بھی وہابی دیوبندی توحید میں بال برابر فرق نہیں آیا۔ مزکورہ آیت میں مکر کا ترجمہ اعلٰی حضرت نے تفاسیر کی روشنی میں کیا ہے ‘‘خفیہ تدبیر‘‘ اور لفظ مکر کو پہلے مقام پر ترجمہ میں کافروں کی طرف منسوب کر دیا۔ فافھم
ووجدک ضالا فھدیٰ ( پ 30، سورۃ والضحٰی، آیت7)
ترجمہ‌: اور پایا تجھ کو بھٹکتا پھر راہ دی۔ (شاہ عبدالقادر)
۔۔۔۔۔: اور پایا تجھ کو راہ بھولا ہوا پس راہ دکھائی۔ (شاہ رفیع الدین‌)
۔۔۔۔:دیافت تراراہ گم کردہ یعنی شریعت نمی دانستی پس راہ نمود۔( شاہ ولی اللہ‌)
۔۔۔۔: اور آپ کو بے خبر پایا سو رستہ بتایا۔ ( عبدالماجد دریا بادی دیوبندی‌)
۔۔۔: اور تم کو دیکھا کہ راہ حق کی تلاش میں بھٹکے بھٹکے پھر رہے ہو تو تم کو دین اسلام کا سیدھا راستہ دکھا دیا۔ ( دیوبندی ڈپٹی نزیر احمد)
۔۔۔۔: اور اللہ تعالٰی نے آپ کو ( شریعت سے) بے خبر پایا سو آپ کو شریعت کا راستہ بتلا دیا۔ ( اشرف علی دیوبندی تھانوی )
۔۔۔۔: اور تم کو بھٹکا ہوا پایا اور منزل مقصود تک پہنچایا۔ ( مقبول شیعہ )
۔۔۔۔: اور تمہیں اپنی محبت میں خود رفتہ پایا تو اپنی طرف راہ دی۔ ( اعلٰی حضرت‌)
آیت مزکورہ مٰن لفط ضا لاً استعمال ہوا ہے۔ اس کے مشہور معنی گمراہی اور بھٹکنا ہیں۔ چنانچہ بعض اہل قلم نے مخاطب پر نوک قلم کے بجائے خنجر پیوست کر دیا۔ یہ نہ دیکھا کہ ترجمہ میں کس کو راہ گرم کردہ، بھٹکتا، بےخبر، راہ بھولا کہا جا رہا ہے۔ رسول کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی عصمت باقی رہتی ہے یا نہیں، اس کی کوئی پرواہ نہیں- کاش یہ مفسرین تفا سیر کا مطالعہ کرنے کے بعد ترجمہ کرتے یا کم از کم اس آیت کا سیاق و سباق ( اوّل و آخر‌) بغور دیکھ لیتے۔ انداز خطاب باری تعالٰی پر نظر ڈال لیتے۔
ایک طرف ما ودعک ربک وما قلٰی وللاٰ خرۃ خیر لک من الا ولٰی تمہیں تمہارے ربّ نے نہ چھوڑا اور نہ مکروہ جانا اور بے شک پچھلی تمہارے لئے پہلی سے بہتر ہے۔ الخ اس کے بعد ہی رسول ذیشان کی گمراہی کا ذکر کیسے آگیا۔ آپ خود غور کریں حضور علیہ الصلٰو ۃ والسلام اگر کسی لحظہ گمراہ ہوتے تو راہ پر کون ہوتا یا یوں کہئے کہ جو خود گمراہ ہو، بھٹکتا پھرا پو، راہ بھولا ہو، وہ ہادی کیسے ہو سکتا ہے ؟
اور خود قرآن مجید میں نفی ضلالت کی صراحت موجود ہے۔ ماضل صاحبکم وما غوٰی ( پ28، سورۃ نجم ، آیت2) آپ کے صاحب (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) نہ گمراہ ہوئے اور نہ بے راہ چلے۔ جب ایک مقام پر ربّ کریم گمراہ اور بے رہی کی نفی فرما رہا ہے تو دوسرے مقام پر خود ہی کیسے گمراہ ارشاد فرمائے گا؟
انا فتحنا لک فتحا مبینا لیغفرلک اللہ ما تقدم من ذنبک وما تاخر ( پ 26، سورہ فتح، آیت 1)
ترجمہ :::: ہم نے فیصلہ کر دیا تیرے واسطے صریح فیصلہ تاکہ معاف کرے تجھ کو اللہ جو آگے ہوئے تیرے گناہ اور جو پیچھے رہے۔ (شاہ عبد القادر)
—-: تحقیق فتح دی ہم نے تجھ کو فتح ظاہر تو کہ بخشے واسطے تیرے خدا جو کچھ ہوا تھا پہلے گناہوں سے تیرے اور جو کچھ پیچھے ہوا- ( شاہ رفیع الدین)
—-: ہر آئینہ ما حکم کر دیم برائے توبفتح ظاہر عاقبت فتح آنست کہ بیا مرز ترا خدا آنچہ کہ سابق گزشت از گناہ تو و آنچہ پس ماند -( شاہ ولی اللہ )
—-:بے شک ہم نے آپ کو ایک کھلا فتح دی تاکہ اللہ آپ کی سب اگلی پچھلی خطائیں معاف کر دے- ( عبد الماجد دریا بادی دیوبندی)
—-: اے پیغمبر یہ حدیبیہ کی صلح کیا ہوئی در حقیقت ہم نے تمہاری کھلم کھلا فتح کرا دی تا کہ تم اس فتح کے شکریہ میں دین حق کی ترقی کےلئے اور زیادہ کوشش کرو اور خدا اس کے صلے میں تمہارے اگلے اور پچھلے گناہ معاف کر دے- ( ڈپٹی نزیر احمد دیوبندی)
—-: بے شک ہم نے آپ کو ایک کھلم کھلا فتح دی تا کہ اللہ تعالٰی آپ کی سب اگلی پچھلی خطائیں معاف فرما دے- ( تھانوی دیوبندی )
—-:اے محمد ہم نے تم کو فتح دی- فتح بھی صریح و صاف تا کہ خدا تمہارے اگلے اور پچھلے گناہ بخش دے- ( فتح محمد جالندھری یہی ترجمہ محمود الحسن کا ہے‌)
—-: بے شک ہم نے تمہارے لئے روشن فتح دی تاکہ اللہ تمہارے سبب سے گناہ بخشے تمہارے اگلے کے اور تمہارے پچھلوں کے- ( اعلٰی حضرت )
حضور معصوموں کے سردار ؟ یا گنہگار؟
عام تراجم سے ظاہر ہوتا ہے کہ نبی معصوم ماضی میں بھی گنہگار تھا- مستقبل میں بھی گناہ کرے گا- مگر فتح مبین کے صدقے میں اگلے پچھلے تمام گناہ معاف ہو گئے اور آئندہ گناہ رسول معاف ہوتے رہیں گے-
کاش یہ فتح مبین آپ کو نہ دی گئی ہوتی تا کہ آپ کے گناہوں پرسّتاری کا پردہ پڑا رہتا- اس معصوم رسول کے گنہگار ہونے کا صرف اللہ تعالٰی ہی جانتا- کھلم کھلا فتح کیا ملی کہ رسول معصوم کے تمام مخفی گناہ ترجمہ پڑھنے والوں کے سامنے آشکار ہو گئے اور معلوم ہوا کہ آئندہ بھی گناہ سرزد ہوتے رہیں گے- یہ دوسری بات ہے کہ ان گناہوں کی معافی کی پیشگی ضمانت ہو گئی ہے- ان مترجمین سے آپ دریافت کیجئے کہ اس آیت کی تفسیر میں جو تاویلات کی گئی ہے مفسرین نے جو معنی بیان کئے ہیں اس کے مطابق انہوں نے ترجمہ کیوں نہیں کیا- ترجمہ پڑھنے والوں کی گمراہی کا کون ذمہ دار ہے ؟ جب نبی معصوم گنہگار ہو تو لفظ عصمت کا اطلاق کس پر ہو گا ؟ عصمت انبیا ء کا تصّور اگر جزو ایمان ہے تو کیا گنہگار خطاکار نبی ہو سکتا ہے ؟ اقوال صحابہ مفسرین کی توجیہات سے ہٹ کر ترجمہ کرنے پر کس نے آپ کو مجبور کیا- ایک عربی یہودی یا نصرانی یا ہمارے یہاں جنہوں نے عربی زبان پڑھی ہے وہ بھی اس قسم کا ترجمہ کر سکتے ہیں تو آپ جو کہ عالم دین کہلاتے ہیں تفاسیر اور حدیث وفقہ کی تعلیم سے آراستہ ہیں- بغیر سوچے سمجھے لفظ بلفظ ترجمہ کردیں تو آپ میں اور ان میں کیا فرق ہو گا؟ افسوس کہ لفظ ذنب کی تفسیر میں امام ابوالّیث یا سلمٰی کی توجیہہ پڑھ لیتے تو اتنی فاش غلطی مترجمین سے نہ ہوتی- مگر یہ صاحبان جب تک رسول اللہ کی نقص جوئی نہ کر لیں ان کو اپنے علم پر اعتماد نہیں ہوتا- ڈپٹی نزیر احمد کا ترجمہ مطبوعہ تاج کمپنی نمبر پی 141 کے آخر میں مضامین قرآن مجید کی مکمل فہرست دی گئی ہے- اس فہرست کے حصہ دوم باب5 کا عنوان (سرخی) یہ ہے ،‘حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر جو خدا کی طرف سے عتاب ہوا یا آپ کی کسی بات پر گرفت ہوئی-‘ حوالے کے طور پر 9 آیات پیش کی گئی ہیں- اس سے آپ ان کی اللہ کے محبوب صلی اللہ ولیہ وسلم کی طرف سے دلی عداوت و بغض کا اندازہ کر سکتے ہیں-
لک میں ل سبب کے معنی ہیں
ظاہر ہے کہ اعلٰی حضرت کا جوش عقیدت جناب ختمی مرتبت کے لئے اپنے کمال پر ہے ، اُن کو بھی ترجمہ کے وقت یہ تشویش ہوئی ہوگی ، کہ عصمت رسول پر حرف نہ آئے ، اور قرآن کا ترجمہ بھی صحیح ہوجائے ، وہ عقیدت بھری نگاہ جو آستانہء رسول پر ہمہ وقت بچھی ہوئی ہے اس نے دیکھا کہ لک میں ل سبب کے معنٰی میں مستعمل ہوا ہے لہٰذا جب حضور کے سبب سے گناہ بخشے گئے تو وہ شخصیتیں اورہوئیں جن کے گناہ بخشے گئے ، اہل بصیرت کے لیے اشارہ کافی ہے معنویت سے بھرپور روشن فتح کے مطابق ترجمہ فرمادیا۔
فان یشاء اللہ تختم علٰی قلبک ( پ25، سورۃ شورٰی آیت24)
۔۔۔۔:: پس اگر خواہد خدا مہر نہد بر دل تو۔ ( شاہ ولی اللہ )
۔۔۔۔::اگر خدا چاہے تو اے محمد تمہارے دل پر مہر لگا دے۔ ( فتح مھًد جالندھری)
۔۔۔۔:: پس اگر چاہتا اللہ، مہر رکھ دیتا اوپر دل تیرے کے۔ ( شاہ رفیع الدین)
۔۔۔۔:: سو اگر اللہ چاہے مہر کر دے تیرے دل پر۔ ( شاہ عبدالقادر)
۔۔۔۔:: تو اگر اللہ چاہے تو آپ کے قلب پر مہر لگا دے۔ ( عبدالماجد دریا بادی دیوبندی )
۔۔۔۔::: سو خدا اگر چاہے تو آپ کے دل پر بند لگا دے۔ (سابقہ ترجمہ) ‘ دل پر مہر لگا دے‘۔ ( اشرف علی تھانوی دیوبندی)
۔۔۔۔:: اور اگر اللہ چاہے تو تمہارے دل پر اپنی رحمت و حفاظت کی مہر لگا دے۔ ( اعلٰی حضرت)
تمام تراجم سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ختم اللہ علٰٰی قلوبھم کے بعد مہر لگانے کی کوئی جگہ تھی تو یہی تھی۔ صرف ڈرا دھمکا کر چھوڑ دیا کس قدر بھیانک تصور ہے وہ ذات اطہر کہ جس کے سر مبارک پر اسرٰی کا تاج رکھا گیا۔ آج اس سے فرمایا جا رہا ہے کہ ہم چاہیں تو تمہارے دل پر مہر لگا دیں۔
مہر کی اقسام
مہر دو قسم کی ہوتی ہے۔ ایک تو وہ جو ختم اللہ علٰٰٰی قلوبھم میں استعمال ہوئی اور دوسری خاتم النبین کی۔ کاش تمام مترجمین تفاسیر کی روشنی میں ترجمہ کرتے تو ان کی نوک قلم سے رحمت عالم کا قلب مبارک محفوظ رہتا۔ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا قلب مبارک کہ جس پر اللہ تعالٰی کی رحمت اور انوار کی بارش ہو رہی ہے جس دل کو ہر شے سے محفوظ کیا گیا ہے اس آیت مبارک میں اس کی مزید توثیق ( وضاحت ) کر دی گئ-
ولئن اتبعت اھوا ئھم من بعد ماجائک من العلم انک اذا لمن الظلمین (پ2، سورۃ بقرہ، آیت 145)
۔۔۔۔:: اور کبھی چلا تو ان کی پسند پر بعد اس علم کے جو تجھ کو پہنچا تو تیرا کوئی نہیں اللہ کے ہاتھ سے حمایت کرنے والا نہ مدد گار ۔( شاہ عبدالقادر‌)
۔۔۔۔:: اور اگر پیروی کرے گا۔ تو خواہشوں ان کی پیچھے اس چیز سے کہ آتی تیرے پاس علم سے نہیں واسطے تیرے اللہ سے کوئی دوست اور نہ کوئی مددگار - ( شاہ رفیع الدین )
۔۔۔۔:: اگر پیروی کر دی آرزو ہائے باطل ایشاں راپس آنچہ آمدہ است بتواز دانش نہ باشد ترا برائے خلاص از عزاب خدا ہیچ دوستی ونہ یارے ہند - ( شاہ ولی اللہ )
۔۔۔۔:: اور اگر آپ بعد اس علم کے جو آپ کو پہینچ چکا ہے ان کی خواہشوں کی پیروی کرنے لگے تو آپ کیلئے اللہ کی گرفت کے مقابلے میں نہ کوئی یار ہو گا نہ مدد گار۔ ( عبدالماجد دریا بادی دیوبندی )
۔۔۔۔:: اور اے پیغمبر اگر تم اس کے بعد کہ تمہارے پاس علم یعنی قرآن آ چکا ہے ان کی خواہشوں پر چلے تو پھر تم کو خدا کے غضب سے بچانے والا نہ کوئی دوست اور نہ مدد گار۔ ( ڈپٹی نزیر دیوبندی و فتح محمد جالندھری‌)
۔۔۔۔:: اور اگر آپ اتباع کرنے لگیں ان کے غلط خیالات کا علم قطعی ثابت بالوجی آچکنے کے بعد تو آپ کا کوئی خدا سے بچانے والا نہ یار نکلے نہ مددگار۔ (تھانوی دیوبندی )
۔۔۔۔:: اور ( اسے سننے والے کے باشد‌) اگر تو ان کی خواہشوں پر چلا بعد اس کے کہ تجھ علم چکا تو اس وقت تو ضرور ستم گار ہو گا۔ ( اعلٰی حضرت )
ترجمہ تفسیر خازن کی روشنی میں
نبئ معصوم جن کی نسبت سے قرآنی صفحات بھرے ہیں۔ جن کو ٰطٰہ، ٰیس، مزمل، مدثر جیسے القاب وآداب دیئے گئے، اچانک اس قدر زجر و توبیح کے کلمات سے اللہ تعالٰی ان کو مخاطب کرے ؟ سیاق و سباق سے بھی کسی تہدید کا پتہ نہیں چلتا۔ لٰہذا مترجم کو چاہئے کہ کھوج لگائے نہ یہ کہ براہ راست کلمات کا ترجمہ کر دے جو بات ان کی عصمت کے خلاف ہے وہ کیسے امکانی طور پر ان کی طرف منسوب کی جا سکتی ہے۔
لٰہذا اعلٰی حضرت نےا س کی تحقیق فرمائی اور تفسیر خازن کی روشنی میں انہوں نے ترجمہ فرمایا کہ مخاطب ہر سامع ہے نہ کہ نبی ء معصوم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اور اسی طرح کتب معانی و بیان میں بھی اس بات کی تصریح ہے۔
تراجم مزکورہ میں بعض مترجمین نے خاصی حاشیہ آرائی کی ہے مگر کسی مترجم کو یہ توفیق نہیں ہوئی کہ وہ غور کرے کہ ڈانٹ ڈپٹ کے الفاظ حضور کی شان میں کہے جا رہے ہیں۔ جب کوئی وجہ نہیں تو مخا طبیت اللہ کے محبوب سے خاص نہیں بلکہ ہر سننے والے سے خطاب ہے۔
ما کنت تدری ما الکتب ولا الایمان ( پارہ 25 سورۃ شورٰی آیت 52 )
ترجمہ : تو نہ جانتا تھا کہ کیا ہے کتاب اور نہ ایمان۔ ( شاہ عبد القادر )
ترجمہ : تم نہ تو کتاب کو جانتے تھے اور نہ ایمان ( فتح محمد جالندھری )
ترجمہ : نہ جانتا تھا تو کیا ہے کتاب اور نہ ایمان ( شاہ رفیع الدین )
ترجمہ : نمی دانستی کہ چیست کتاب ونمی دانستی کہ چیست ایمان ( شاہ ولی اللہ )
ترجمہ : تمہیں کچھ پتا نہ تھا کہ کتاب کیا ہوتی ہے اور ایمان کیا ہوتا ہے ۔ ( مودودی )
ترجمہ : آپ کو نہ یہ خبر تھی کتاب کیا چیز ہے اور نہ یہ کہ ایمان کیا چیز ہے ۔( عبدالماجد دریابادی دیوبندی )
ترجمہ : تم نہیں جانتے تھے کہ کتاب اللہ کی کیا چیز ہے اور نہ یہ جانتے تھے کہ ایمان کس کو کہتے ہیں ۔ ( ڈپٹی نذیر احمد دیوبندی )
ترجمہ : آپ کو یہ نہ خبر تھی کہ کتاب ( اللہ ) کیا چیز ہے اور نہ یہ خبر تھی کہ ایمان کا (انتہائی کمال ) کیا چیز ہے ۔ (اشرف علی تھانوی دیوبندی)
ترجمہ : اس سے پہلے نہ تم کتاب جانتے تھے نہ احکام شرع کی تفصیل ۔ (سیدی اعلٰیحضرت )
ظھور نبوت سے قبل حضور کے مومن ہونے کی نفی؟
لوح و قلم کو علم ہی نہیں بلکہ جن کو عالم ماکان و مایکون کا علم ہے، معاذ اللہ آیت مزکورہ کے نزول سے پہلے مومن بھی نہ تھے کیونکہ مترجمین کے تراجم کے مطابق ایمان سے بھی نا بلد (کورے) تھے۔ تو غیر مسلم ہوئے۔ موحد بھی نہیں کہہ سکتے کہ وہ بھی آپ کی بعث سے پہلے مومن ہوتا ہے ( بعد میں رسالت پر ایمان لانا شرط ہے ) تراجم مزکورہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایمان کی خبر حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو بعد میں ہوئی۔
اعلٰی حضرت کے ترجمے سے اس قسم کے تمام اعتراضات ختم ہو گئے کہ آپ احکام شرع کی تفصیل نہ جانتے تھے ایمان اور احکام شرع کی تفصیل میں جو فرق ہے وہی اعلٰی حضرت اور دیگر مترجمین کے ترجمہ میں فرق ہے۔
الرحمٰن ہ علم القرآن ہ خلق الانسان ہ علمہ البیان ہ
(پارہ 27 سورۃ الرحمٰن آیت 1 تا 4 )

ترجمہ :: رحمٰن نے سکھایا قرآن ، بنایا آدمی ، پھر سکھائی اس کو بات ( شاہ عبد القادر )
ترجمہ :: رحمٰن نے سکھایا قرآن ، پیدا کیا آدمی کو ، سکھایا اس کو بولنا۔ ( شاہ رفیع الدین )
ترجمہ :: خدا آموخت قرآن را ، آفرید آدمی راوآمو ختش سخن گفتن- ( شاہ ولی اللہ )
ترجمہ ::‌خدائے رحمٰن ہی نے قرآن کی تعلیم دی ، اس نے انسان کو پیدا کیا ۔ اس کو گویائی سکھائی -( عبد الماجد دریا بادی دیوبندی )
ترجمہ : جنوں اور آدمیوں پر خدائے رحمان کے جہاں اور بےشمار احسانات ہیں ازاں جملہ یہ کہ اسی نے قرآن پڑھایا اسی نے انسان کو پیدا کیا پھر اس کو بولنا سکھایا ۔( ڈپٹی نذیر احمد دیوبندی)
ترجمہ :‌رحمٰن نے اپنے محبوب کو قرآن سکھایا ، انسانیت کی جان محمد کو پیدا کیا ، ماکان و مایکون کا بیان انہیں سکھایا۔( اعلٰی حضرت )
مندرجہ بالا تراجم کو غور سے پڑھئے، پھر اعلٰی حضرت کے ترجمہ کا بغور مطالعہ فرمائیں-
آیت نمبر 2 میں لفظ علم آیا- جو متعدی بدومفعول ہے- تمام تراجم میں رحمٰن نے سکھایا قرآن- سوال پیدا ہوتا ہے کہ کس کو قرآن سکھایا- اس سے کس کو انکارہو سکتا ہے- خود قرآن شاہد ہے علمک مالم تکن تعلم اللہ نے آپ کو ہر چیز کا علم دیا جو آپ نے جانتے تھے-
آیت نمبر3 کا ترجمہ ہے آدمی کو پیدا کیا وہ کون انسان ہے؟ مترجمین نے لفظ بلفظ ترجمہ کر دیا- بعض تراجم میں اپنی طرف سے بھی الفاظ استعمال کئے گئے پھر بھی لفظ انسان کی ترجمانی نہیں ہو سکی- اب آپ اس ذات گرامی کا تصور کریں جو اصل الاصول ہیں جن کی حقیقت ام الحقائق ہے- جن پر تخلیق کی اساس رکھی گئی- جو مبد خلق ہیں، روح کائنات، جان انسانیت ہیں- اعلٰی حضرت فرماتے ہیں انسانیت کی جان محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو پیدا کیا- الانسان سے جب حضور سرور کونین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی شخصیت کا تعین ہو گیا تو ان کی شان کے لائق اللہ تعالٰی کی طرف سے تعلیم بھی ہونی چاہیئے- چنانچہ عام مترجمین کی روش سے ہٹ کر اعلٰی حضرت فرماتے ہیں، ماکان ومایکون کا بیان انہیں سکھایا-
سوال—- اس جگہ گستاخ رسول ذہنوں میں ضرور سوال ابھرتا ہے کہ یہاں‘ ماکان و ما یکون کا بیان سکھانا‘ کہاں سے آ گیا- یہاں تو مراد ‘ بولنا سکھانا‘ ہے- یا یہ کہئے کہ قرآن کا علم دوسری آیت ظاہر کر رہی ہے تو اس چوتھی آیت مین اس کا ‘ بیان سکھابا ‘ مراد ہے-
جواب—- تو جواب اس کا یہ ہے کہ ماکان و مایکون ( جو کچھ ہوا اور جو کچھ قیامت تک ہو گا‌) کا علم لوح محفوظ میں اور لوح محفوظ قرآن شریف کے ایک جز میں اور قرآن کا بیان ( جس میں ماکان وما یکون کا بیان بھی شامل ہے‌) سکھایا- یہ تفسیری ترجمہ ایسا ہی ہے جیسا کہ کسی شاعر نے کہا کہ،
مگس کا باغ میں جانے نہ دینا—- کہ ناحق خون پروانوں کا ہو گا
مکھی کو باغ میں نہ جانے دو کہ یہ پھولوں کا رس چوس کر شہد و موم کا سبب بنے اور موم سے موم بتی اور موم بتی جب جلے گی تو پروانے جل کر قربان ہوں گے- اب بتائیے اعلٰی حضرت نے ترجمہ ( ماکان وما یکون کا بیان سکھایا) کیسا کیا‌؟
میں پورے وثوق سے کہتا ہوں کہ مذکورہ چار آیات کا ترجمہ متعدد بار پڑھیں- یقینًا آپ کے ایمان میں بے پناہ نکھار پیدا ہو گا اور عشق رسول میں آپ پر یقینًا ایک وجدانی کیفیت طاری ہو گی-
لا اقسم بھذا البلد ( پ30، سورۃ بلد، آیت 1)
ترجمہ) قسم کھاتا ہوں اس شہر کی اور تجھ کو قید نہ رہے اس شہر میں۔ ( شاہ عبدالقادر )
ترجمہ) قسم کھاتا ہوں میں اس شہر کی اور تو داخل ہونے والا ہے بیچ اس شہر کے۔ ( شاہ رفیع الدین)
ترجمہ) قسم می خورم بایں شہر ۔ ( اشرف علی تھانوی دیوبندی)
ترجمہ) میں قسم کھاتا ہوں اس شہر مکہ کی۔ ( عبدالماجد دریا بادی دیوبندی)
ترجمہ) میں قسم کھاتا ہوں اس شہر کی۔ ( محمود الحسن)
ترجمہ) ہم اس شہر مکہ کی قسم کھاتے ہیں۔ ( ڈپٹی نذیر احمد دیوبندی)
ترجمہ) قسم کھاتا ہوں اس شہر کی۔ ( مودودی وہابی)
ترجمہ) مجھے اس شہر کی قسم کہ اے محبوب تم اس شہر میں تشریف فرما ہو۔ (اعلٰی حضرت )
اللہ تعالٰی کھانے پینے سے پاک ہے
انسان قسم کھاتا ہے۔ اردو اور فارسی میں قسم کھائی جاتی ہے۔ اللہ تعالٰی کھانے پینے سے بے نیاز ہے مترجمین کرام نے اپنے محاورہ کا اللہ کو کیوں پابند کیا۔ کیا اس لئے کہ اس بےنیاز نے کچھ کھایا نہیں تو کم سے کم ہی کھائے۔ ایسی بھی کیا بے نیازی کہ کچھ نہیں کھایا، یا اس باریک مسئلہ کی طرف عام مترجمین کی توجہ نہیں۔ اعلٰی حضرت نے کس خوش اسلوبی سے ترجمہ فرما دیا۔ مجھے اس شہر کی قسم۔
ایاک نعبد و ایا ک نستعین (پ1، سورۃ فاتحہ، آیت4) ترجمہ) ترامی پر ستم واز تومدمی طلہم (شاہ ولی اللہ )
ترجمہ)ہم تیری ہی بندگی کرتے ہیں اور تجھی سے مدد مانگتے ہیں۔ ( فتح محمد جالندھری)
ترجمہ) تجھ ہی کو عبادت کرتے ہیں ہم اور تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں ہم۔ ( شاہ رفیع الدین محمود الحسن دیوبندی)
ترجمہ) ہم آپ ہی کی عبادت کرتے ہیں اور آپ ہی سے درخواست اعانت کرتے ہیں۔ ( اشرف علی تھانوی دیوبندی)
ترجمہ) ہم تجھی کو پوجیں اور تجھی سے مدد چاہیں۔ ( اعلٰی حضرت )
دعاء
سورہ فاتحہ، سورۃ الدعا ہے۔۔۔۔ دعا کے دوران دعائیہ کلمات کہے جاتے ہیں۔ خبر نہیں دی جاتی۔ جب کہ تمام تراجم میں خبر کا مفہوم ہے دعا کا نہیں اور ظاہر ہے عبادت کرتے ہیں۔ مدد چاہتے ہیں۔ دعائیہ کلمات نہیں ہیں یہ کلمات خبر کے ہیں جب کہ اعلٰی حضرت نے دعائیہ کلمات سے ترجمہ کیا ہے-
یا ایھا النبی (پارہ 10 سورہ انفال آیت 64 )
ترجمہ : اے نبی ( شاہ عبدالقادر )
ترجمہ : اے نبی ( عبد الماجد دریا بادی دیوبندی )
ترجمہ : اے پیغامبر ( شاہ ولی اللہ)
ترجمہ : اے پیغمبر ( ڈپٹی نذیر احمد دیوبندی )
ترجمہ : اے نبی ( شاہ رفیع الدین )
ترجمہ : اے نبی ( اشرف علی تھانوی دیوبندی )
ترجمہ : اے غیب کی خبریں بتانے والے ( اعلٰی حضرت )
قرآن کریم میں لفظ رسول اور نبی متعدد مقامات پر آیا ہے ، مترجم کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کا ترجمہ کرے ، رسول کا ترجمہ پیغمبر تو ظاہر ہے مگر نبی کا ترجمہ پیغمبر نامکمل ہے ، اعلٰی حضرت لفظ نبی کا ترجمہ اس اسلوب سے کیا ہے کہ لفظ کی معنویت اور حقیقت آشکار ہوکے سامنے آگئی ، مگر افسوس بعض لوگوں کو اس ترجمہ بہت صدمہ ہوا ہے کہ ان کی تنگ نظری اور بد عقیدگی کا جواب ترجمہ اعلٰی حضرت سے ظاہر ہوگیا۔
مفردات امام راغب میں ہے
والنبوۃ سفارۃ بین اللہ و بین ذوی العقول من عبادہ لا زاحۃ علتھم فی امر معادھم و معاشھم والنبی لکونہ منبا بما تسکن الیہ العقول الزکیۃ و ھو یصح ان یکون فعیلا، بمعنی فاعل لقو لہ بناء عبادی الخ۔
( نبوت اللہ تعالٰی اور اس کے ذوی العقول بندوں کے درمیان سفارت کو کہتے ہیں تاکہ ان کی تمام آخرت اور دنیا کی معاشی بیماریوں کو دور کیا جائے اور نبی خبر دیا ہوا ہوتا ہے ایسی باتوں کا جن پر صرف عقل سلیم اطمینان کرتی ہے اور یہ لفظ اسم فاعل بھی صحیح ہے اس لئے کہ بناء کا حکم آیا ہے۔)
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
ترجمہ : شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ( شاہ عبد القادر )
ترجمہ : شروع کرتا ہوں میں‌ساتھ نام اللہ بخشش کرنے والے مہربان کے ( شاہ رفیع الدین )
ترجمہ :‌ شروع اللہ نہایت رحم کرنے والے کے نام سے ( عبد الماجد دریا بادی دیوبندی )
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑے مہربان نہایت رحم والے ہیں ( اشرف علی تھانوی دیوبندی )
ترجمہ : اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا ( اعلٰی حضرت )
تمام اردو تراجم ملاحظہ کیجیے ۔۔۔۔۔ سب نے اسی طرح ترجمہ کیا ہے شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے یا شروع ساتھ نام اللہ کے ۔ چنانچہ مترجم کا قول خود اپنی زبان سے غلط ہوگیا ، کیونکہ شروع کرتا ہوں سے ترجمہ شروع کیا ہے اللہ کے نام سے شروع نہیں کیا ، اس پر طرّہ یہ کہ جناب اشرف تھانوی صاحب نے آخر میں ہیں بڑھادیا ان کے تلامذہ یا معتقدین بتائیں کہ ہیں کس لفظ کا ترجمہ ہے ۔ فافھم
وما اھل بہ لغیر اللہ (پ 2 سورہ بقرہ ‘ آیت 173)
ترجمہ : اور جس پر نام پکارا اللہ کے سوا کا- (شاہ عبد القادر )
ترجمہ : اور جس جانور پر نام پکارہ جائے اللہ کے سوا کسی اور کا- (محمود الحسن )
ترجمہ : اور جو کچھ پکارا جاوے اوپر اس کے واسطے غیر اللہ کے - ( شاہ رفیع الدین)
ترجمہ : وا آنچہ نام غیر خدا بوقت ذبح او یادکردہ شود-(شاہ ولی اللہ)
ترجمہ : اور جو جانور غیر اللہ کے لئے نا مزد کر دیا گیا ھو-(عبد الماجد دریا بادی دیو بندی )
ترجمہ : اور جس چیز پر خدا کے سوا کسی اور کا نام پکارا جائے حرام کر دیا ھے – ( اشرف علی تھانوی دیو بندی )
ترجمہ : اور وہ جس کے ذبح میں غیر خدا کا نام پکارا گیا ھو- (اعلٰی حضرت )
کسی پر غیر خدا کا نام حرام نھیں ورنہ ھر چیز حرام ھو گی -
جانور کبھی شادی کے لئے نا مزد ہوتا ھے کبھی عقیقہ،ولیمہ،قربانی، اور ایصال ثواب کے لئے مثلا گیارھویں شریف ، با رھویں شریف تو گویا ہر جانور جو ان مذکورہ ناموں پر نا مزد کیا گیا ہے وہ مترجمین کے نزدیک حرام ھے – اعلٰی حضرت نے حدیث و فقہ و تفسیر کے مطا بق ترجمہ کیا ‘‘جس کے ذبح میں غیر خدا کا نام پکارا گیا ھو‘‘ – اس ترجمہ سے وما اھل بہ لغیر اللہ کا مسئلہ واضح ھو گیا -
قران کریم کا تفسیری ترجمہ نہ کہ لفظی ترجمہ
اگر قران کریم کا لفظی ترجمہ کر دیا جائے تو اس سے بے شمار خرابیاں پیدا ہوں گی – کھیں شان الوہیت میں بے ادبی ہو گی تو کہیں شان انبیاء میں اور کہیں اسلام کا بنیادی عقیدہ مجروح ہوگا ۔ چنانچہ آپ مندرجہ بالا تراجم پر غور کریں تو تمام مترجمین نے قرآنی لفظ کے اعتبار سے براہ راست اردو میں ترجمہ کیا ہے مگر اس کے با وجود تراجم کانوں پر گراں ہیں اور اسلامی عقیدے کی رو سے مذ ہبی عقیدت کو سخت صدمہ پہنچ رہا ہے ۔
کیا آپ پسند کریں گے ؟
کہ کوئی کہے ‘ اللہ ان سے ٹھٹھا کرتا ہے ، اللہ ان سے ہنسی کرتا ہے، اللہ ان سے دل لگی کرتا ہے ، اللہ انھیں بنا رہا ہے ، اللہ ان کی ہنسی اڑاتا ہے،-
آیت کر یمہ اللہ یستھزئ بھم ( پ 1 ، سورہ بقرہ، آیت ؛ 15 ) کا اکثر مترجمین نے یھی ترجمہ کیا ہے۔ ان میں مشھو ر ڈپٹی نذیر احمد صاحب دیو بندی ، شیخ محمود الحسن صاحب و فتح محمد جا لند ھری و عبد الماجد دیو بندی دریا بادی ، مرزا حیرت دہلوی ( غیر مقلّد) و نواب و حیدالزّمان، سر سیّد احمد صاحب علی گڑھی ( نیچری) ، حضرت شاہ رفیع الدین صاحب وغیرہ ھیں۔
اسی طرح ایک مشہور آیت ہے، ثم استوی علی العرش پ 8، سورہ الاعراف، آیت: 54- لفظ استوٰی قرآن کریم میں متعدد مقامات پرآیا ہے- اکثر مترجمین نے اس کا ترجمہ کیا ہے، پھر قائم ہوا تخت پر، (عاشق الٰہی) پھر قرار پکڑا اوپر عرش کے، (شاہ رفیع الدین ) پھر اللہ عرش بریں پر جا برا جا، ( ڈپٹی نذیر احمد )‘ پھر بیٹھا تخت پر‘ ( شاہ عبدالقادر ) ‘ پھر تخت پر چڑھا‘ ( نواب وحید الزّمان غیر مقلّد ) ‘ پھر عرش پر دراز ہو گیا‘ ( وجدی صاحب و محمد یوسف صاحب کا کوری )-
اسی طرح آیت فاینما تو لوا فثم وجہ اللہ پ1، سورہ بقرہ، آیت:115میں وجہ اللہ کا ترجمہ اکثر مترجمین نے کیا ہے۔ اللہ کا منہ، اللہ کا رخ- چنانچہ شاہ رفیع الدین صاحب نے ترجمہ فرمایا ہے، ‘ پس جدھر کو منہ کرو پس وہیں ہے منہ اللہ کا۔ اللہ کا چہرہ ہے۔ ( نواب و حید الزمان غیر مقلد و محمد یوسف صاحب ) ‘ ادھر اللہ ہی کا رخ ہے‘ ( شیخ محمود الحسن و عاشق الٰہی دیوبندی صاحبان، ومولانا اشرف علی صاحب تھانوی دیوبندی ) ‘ ادھر اللہ کا سامنا ہے ‘ ( ڈپٹی نذیر احمد و مرزا حیرت غیر مقلّد دہلوی و سیّد عرفان علی شیعہ ) مذکورہ بالا تمام تراجم پڑھنے کے بعد اعلٰی حضرت، عظیم البرکت کا ترجمہ دیکھئے کہ ہر سہ آیات میں سے کسی آیت کا انہوں نے اردو میں ترجمہ نہیں کیا۔ اس لئے کہ قرآنی الفاظ ‘ استوٰی ‘ – استھزا‘ – ‘ وجہ اللہ‘- کا ترجمہ کرنے کیلئے اردو میں ایسا کوئی لفظ نہیں کہ لفظی ترجمہ کر کے مترجم شرعی گرفت سے اپنے کو محفوظ کر سکے- لٰہذا اعلٰی حضرت نے بلفظہ ترجمہ فرمایا ہے-1: ‘ اللہ ان سے استہزا فرماتا ہے‘ ( جیسا کہ اس کی شان کے لائق ہے )- 2: پھر عرش پر استوار فرمایا‘ ( جیسا کہ اس کی شان کے لائق ہے ) 3: ‘ تو تم جدھر منہ کرو ادھر وجہ اللہ ہے‘ ( خدا کی رحمت تمہاری طرف متوجہ ہے )- اس سے یہ معلوم ہوا کہ قرآن کریم کا لفظی ترجمہ کرنا ہر موقع پر تقریباً نا ممکن ہے- ان مواقع پر ترجمہ کا حل یہ ہے کہ تفسیری ترجمہ کیا جائے تا کہ مطلب بھی ادا ہو جائے اور ترجمہ میں کسی قسم کا سقم باقی نہ رہے۔ اعلٰی حضرت کے ایمان افروز ترجمہ کہ خوبیوں کو دیکھ کر یہ کہنا مبالغہ نہ ہو گا کہ تمام تراجم قرآن میں ایک معیاری ترجمہ ہے جو ترجمہ کی غلطیوں سے مبرّا ہے۔ ( دیگر مترجمین نے خالق کو مخلوق کے درجے میں لا کھڑا کیا )۔
دغا با زی ، فریب ،دھوکہ، اللہ کی شان کے لائق نہیں
انٌ للمنافقین یخا دعون اللہ وھو خا دعھم (پ 5، سورہ نسآء،آیت : 142 )
منافقیں دغا بازی کرتے ھیں اللہ سے اور اللہ بھی ان کو دغا دے گا ۔ ( ترجمہ عاشق الٰہی میر ٹھی ، شاہ عبد القادر صاحب، مولانا محمود الحسن صاحب)
اور اللہ فریب دینے والا ھے ان کو -(شاہ رفیع الدین صاحب)
خدا ان ھی کو دھوکہ دے رھا ھے۔ ( ڈپٹی نذیر احمد صاحب )
اللہ انھیں کو دھوکہ میں ڈالنے والا ھے۔ ( فتح محمد صا حب جا لندھری )
وہ ان کو فریب دے رہا ہے۔ ( نواب وحید الزّمان غیر مقلّد و مرزا حیرت غیر مقلّد دہلوی و سیٌد عرفان علی شیعہ )
دغا بازی، فریب، دھوکہ، کسی طرح اللہ کی شان نھیں ھے۔
lعلٰی حضرت نے تفسیری ترجمہ فرمایا،
بے شک منافق لوگ اپنے گمان میں اللہ کو فریب دیا چاھتے ھیں اور وھی ان کو غا فل کرکے مارے گا۔

تفا سیر قرآن کے مطالعے بعد اندازہ ھوتا ھے کہ اس ترجمہ میں آیت کا مکمل مفہوم نہایت محتاط طریقہ پر بیان کیا گیا ھے۔ یہ لفظی ترجمہ نہیں بلکہ تفسیری ترجمہ ہے۔
قل اللہ اسرع مکرًا (پارہ 11 سورہ یونس آیت 21)
کہہ دو اللہ سب سے جلد بناسکتا ہے حیلہ ( شاہ عبدالقادر ، فتح محمد جالندھری دیوبندی ، محمودالحسن صاحب دیوبندی ، عاشق الٰہی دیوبندی میرٹھی)
کہہ دو اللہ بہت جلد کرنے والا ہے مکر ۔ (شاہ رفیع الدین )
اللہ چالوں میں ان سے بھی بڑا ہوا ہے ( عبدالماجد دریا بادی دیوبندی )
کہہ دے اللہ کی چال بہت تیز ہے ( نواب وحید الزّمان غیرمقلّد )
صفت مکر (اردومیں ) اللہ تعالٰی کی شان کے لائق نہیں ۔
ان آیات کے ترجمہ میں اللہ تعالٰی کے لئے مکر کرنے والا، چال چلنے والا، حیلہ کرنے والا کہاگیا ہے ، حالانکہ یہ کلمات کسی طرح اللہ کے شان کے لائق نہیں ،
اعلٰٰی حضرت نے لفظی ترجمہ فرمایا ہے۔ پھر بھی کس قدر پاکیزہ زبان استعمال کی ہے- فرماتے ہیں
تم فرمادو اللہ کی خفیہ تدبیر سب سے جلد ہوتی ہے

نسوا اللہ فنسیھم (پ 10 ، سورہ توبہ،آیت 67،)
یہ لوگ اللہ کو بھول گئے اور اللہ نے ان کو بھلا دیا۔( فتح محمد دیو بندی جا لندھری ڈپٹی نذیر احمد دیوبندی)
وہ اللہ کو بھول گئے اللہ ان کو بھول گیا۔ ( شاہ عبد القادر صا حب ، شاہ رفیع الدین صاحب ، شیخ محمود الحسن دیو بندی )
اللہ تعالٰٰی کے لئے بھلا دینا،بھول جانے کے لفظ کا استعمال اپنے مفہوم اور معنٰی کے اعتبار سے کسی طرح درست نہیں ہے ، کیونکہ بھول سے علم کی نفی ہوتی ہے اور اللہ تعالٰی ہمیشہ عالم الغیب و الشہادۃ ہے۔ مترجمین کرام نے اس آیت کا لفظی ترجمہ کیا ہے جس کا نتیجہ ہر پڑھنے والے پر ظاہر ہے ۔ اعلٰی حضرت نے تفسیری ترجمہ فرمایا ہے ۔ فرماتے ہیں،وہ اللہ کو چھوڑ بیٹھے تو اللہ نے انہیں چھوڑ دیا‘-
یہ چند مثالیں تقابلی مطالعہ کی قارئین کے سامنے پیش کی گئیں۔ اس کے علاوہ بھی سینکڑوں مثالیں ہیں۔ اس مختصر سے مطالعہ کے بعد آپ نے ترجمہ کی اہمیت کو محسوس کر لیا ہو گا۔ اعلٰی حضرت فاضل بریلی بسا اوقات کسی ایک آیت کے ترجمہ کے لئے تمام مشہور تفاسیر قرآن کا مطالعہ کر کے مناسب و موزوں ترین ترجمہ کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ لفظ استہزا، استوی اور وجہ اللہ کا کوئی موزوں ترجمہ اردو میں نہیں کرسکے، اس لئے مجبوراً وہی لفظ ترجمہ میں بھی برقرار رکھے۔ یہ تقابلی مطالعہ صرف اس لئے آپ کی خدمت میں پیش کیا ہے کہ آپ ترجمہ قرآن کی اہمیت کو سمجھ سکیں۔ ورنہ غیر مناسب لفظی ترجمہ کی وجہ سے آپ کا ایمان خطرہ میں پڑ سکتا ہے یا کم از کم نیکی برباد گناہ لازم کا امکان تو بہت زیادہ ہے۔
( رضاء المصطفٰے اعظمی خطیب نیو میمن مسجد و مہتمم المجد داحمد رضا اکیڈمی کراچی )

« Newer PostsOlder Posts »

The WordPress Classic Theme Blog at WordPress.com.

Follow

Get every new post delivered to your Inbox.