الٓمّٓۚ الف لام میم البقرہ 1

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
الٓمّٓۚ
الف لام میم۔
 
اللہ کا ارشاد ہے : الف ‘ الام ‘ میم ‘ (البقرہ : ١)
اللہ تعالیٰ نے اس سورت کو ان حروف مقطعات کے ساتھ شروع فرمایا تاکہ قرآن مجید کے وصف اور اس کے اعجاز پر تنبیہ ہو ‘ اور اس چیلنج کی طرف اشارہ ہو کہ کوئی انسان قرآن مجید کی چھوٹی سے چھوٹی سورت کی مثل بھی نہیں لاسکتا ‘ اور یہ اللہ کا کلام ہے جس کے مشابہ کسی بشر کا کلام نہیں ہے ‘ گویا اللہ تعالیٰ نے یہ واضح کیا کہ یہ قرآن عربوں کی لغت اور ان کے حروف تہجی مثل الف ‘ لام ‘ میم سے مرکب ہو کر نازل ہوا ہے ‘ اگر یہ کسی انسان کا کلام ہے تو انہی حروف سے ایک کلام بنا کر تم بھی لے آؤ کیونکہ یہ ان حروف ھجاء سے مرکب ہے جن سے ہر اہل زبان کلام کرتا ہے ‘ اس کے باوجود جب تم اس کلام کی نظیر لانے سے ہمیشہ عاجز رہے تو پھر مان لو کہ یہ انسان کا نہیں اللہ کا کلام ہے۔
حروف مقطعات علم کی تحقیق :
علماء کا اس میں اختلاف ہے کہ آیا ” الم “ اور اس کی مثل دیگر حروف مقطعات کا معنی کسی کو معلوم ہے یہ نہیں ! ایک قول یہ ہے کہ ان کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے ‘ خلفاء راشدین اور دیگر صحابہ (رض) سے اس قسم کی روایات منقول ہیں
علامہ بیضاوی لکھتے ہیں :
خلفاء راشدین اور دیگر صحابہ کرام (رض) کی مراد یہ ہے کہ یہ حروف مقطعات اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے درمیان اسرار اور رموز ہیں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علاوہ کسی اور کو ان حروف مقطعات پر مطلع کرنے کا قصد نہیں کیا گیا ‘ اور یہ نہیں ہوسکتا کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھی ان حروف کے معانی کا علم نہ ہو ورنہ لازم آئے گا کہ غیر مفید کلام کے ساتھ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خطاب کیا گیا اور یہ بہت بعید ہے (انوار التنزل مع الخفاجی ‘ ج ١ ص ١٧٨ مطبوعہ دار صادر ‘ بیروت ‘ ١٢٨٣ ھ)
علامہ آلوسی لکھتے ہیں :
ظن غالب یہ ہے کہ حروف مقطعات کا علم مخفی ہے ‘ علماء اس کی تاویل سے عاجز ہیں ‘ حضرت ابن عباس (رض) کا یہی قول ہے اور حضرت صدیق اکبر (رض) نے فرمایا : ہر کتاب کے اسرار ہوتے ہیں اور قرآن مجید کے اسرار اوائل سورة ہیں ‘ امام شعبی (رح) نے کہا : اللہ تعالیٰ کے اسرار کا کھوج نہ لگاؤ اس لیے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد ان کی معرفت صرف اولیاء کرام کو ہے جو وارث علم رسول ہیں ‘ ان کو اسی دربار سے معرفت حاصل ہوتی ہے اور بعض اوقات یہ حروف خود ان کو اپنا معنی بتا دیتے ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مبارک ہاتھوں میں سنگریزوں نے تسبیح کا نطق کیا ‘ اور گوہ اور ہرن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ہم کلام ہوئے۔ بعض علماء نے کہا : اگر ان حروف کا کوئی معنی نہ ہو تو یہ مہمل ہوں گے ‘ یہ قول صحیح نہیں ہے ‘ کیونکہ اگر یہ مراد ہو کہ تمام لوگوں کو ان حروف کا معنی معلوم ہو تو یہ ضروری نہیں اور اگر یہ مراد ہو کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان کا معنی معلوم ہو تو کوئی مومن اس میں شک نہیں کرسکتا اور ہر صاحب ایمان کا یہ ایمان ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان حروف کے معنی معلوم ہیں :
(روح المعانی ج ١ ص ١٠١۔ ١٠٠‘ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت)
حروف مقطعات متشابہات میں سے ہیں اور فقہاء شافعیہ اور حنفیہ کا اس پر اجماع ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دنیا میں متشابہات کا علم اللہ تعالیٰ نے عطا فرما دیا۔
ملاجیون لکھتے ہیں :
متشابہ کا حکم یہ ہے کہ یہ اعتقاد رکھا جائے کہ اس کی مراد حق ہے ‘ اگرچہ قیامت سے پہلے ہم کو وہ مراد معلوم نہیں ہے اور قیامت کے بعد متشابہ ہر ایک پر منکشف ہوجائے گا اور یہ امت کے حق میں ہے اور بہرحال نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو متشابہات کا قطعی طور پر علم ہے ‘ ورنہ آپ کو ان سے خطاب کرنے کا فائدہ باطل ہوجائے گا اور یہ مہمل کلام سے خطاب کرنے کی طرح ہوگا جیسے حبشی کے ساتھ عربی میں گفتگو کی جائے اور یہ تقریر ہمارے نزدیک ہے اور امام شافعی کے نزدیک تمام ” راسخین فی العلم “ کو متشابہات کا علم ہے۔ (نورالانوار ص ٩٣‘ مطبوعہ ایچ۔ ایم سعید اینڈ کمپنی ‘ کراچی)
قاضی ثناء اللہ مظہر نقشبندی لکھتے ہیں :
میرے نزدیک حق یہ ہے حروف مقطعات متشابہات میں سے ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے درمیان اسرار ہیں ‘ ان حروف سے عام لوگوں کو سمجھانے کا قصد نہیں کیا گیا بلکہ صرف رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان حروف سے افہام مقصود تھا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے کامل متبعین میں سے جن کو چاہیں ان کا معنی سمجھا دیں (الی قولہ) علامہ سجاوندی (رح) نے کہا ہے کہ یہ حروف مقطعات اللہ تعالیٰ اور اس کے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے درمیان اسرار ہیں اور کبھی محبین کے درمیان کچھ کلمات بہ طور معمہ ہوتے ہیں، ان میں یہ اشارہ ہوتا ہے کہ ان کلمات کو محرمان راز کے سوا اور کوئی نہیں سمجھ سکتا۔
ایک قول یہ ہے کہ حروف مقطعات اور متشابہات کا علم اللہ تعالیٰ نے صرف اپنے ساتھ مخصوص کرلیا ہے ‘ ان کا علم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عطا کیا ہے اور نہ آپ کے متبعین کو ‘ یہ قول بہت بعید ہے ‘ کیونکہ خطاب افہام کے لیے ہوتا ہے اگر ان حروف سے افہام نہ ہو تو ان سے خطاب کرنا مہمل کلمات سے خطاب کرنے کی طرح ہوگا ‘ یا جیسے عربی کے ساتھ ہندی میں خطاب کیا جائے ‘ نیز پورا قرآن بیان اور ہدایت نہیں رہے گا (کیونکہ جب ان الفاظ کا کوئی مفہوم حاصل نہ ہو تو ان سے ہدایت کیسے حاصل ہوگی) اور اللہ تعالیٰ نے جو یہ وعدہ فرمایا ہے :
(آیت) ” ثم ان علینا بیانہ (القیامہ : ١٩) (ترجمہ) پھر اس قرآن کا بیان کرنا ہمارے ذمہ ہے
اس وعدہ کا خلاف لازم آئے گا ‘(اسی طرح ” الرحمان علم القران “ کا بھی خلاف لازم آئے گا ‘ کیونکہ حروف مقطعات بھی قرآن ہیں اور رحمان نے ان کو نہیں سکھایا) ’ اس آیت کا تقاضا یہ ہے کہ قرآن خواہ محکم ہو یا متشابہ ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کا بیان واجب اور ضروری ہے۔
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ میں ” راسخین فی العلم “ سے ہوں اور میں ان علماء سے ہوں جن کو ان کی تاویل کا علم ہے ‘ اسی طرح مجاہد سے مروی ہے ‘ حضرت مجدد الف ثانی (رح) نے یہ دعوی کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر حروف مقطعات کی تاویل کو ظاہر فرما دیا ہے اور ان کے اسرار کو بیان کردیا ہے لیکن عام لوگوں کے لیے ان کا بیان ممکن نہیں ہے کیونکہ ان کا بیان کرنا ان کے اسرار الہیہ ہونے کے منافی ہے۔ (تفسیر مظہری ج ١ ص ١٥۔ ١٤‘ مطبوعہ بلوچستان بک ڈپو ‘ کوئٹہ)
شیخ محمود الحسن لکھتے ہیں :
ان حروف کو مقطعات کہتے ہیں ان کے اصلی معنی تک اوروں کی رسائی نہیں بلکہ یہ بھید ہے اللہ اور اس کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے درمیان جو بہ وجہ مصلحت و حکمت ظاہر نہیں فرمایا۔ (حاشیۃ القرآن ص ٣ مطبوعہ کمپنی لمیٹڈ ‘ کراچی)
ہم نے پہلے ذکر کیا کہ اکثر علماء ان حروف مقطعات کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے درمیان اسرار قرار دیتے ہیں اور بعض علماء نے ان حروف کی تاویلات کی ہیں ‘
علامہ بیضاوی (رح) لکھتے ہیں :
ایک قول یہ ہے کہ حروف مقطعات ان سورتوں کے اسماء ہیں ‘ ایک قول یہ ہے کہ یہ تنبیہ کے لیے حروف زائدہ ہیں ‘ ایک قول یہ ہے کہ ان حروف سے ان کلمات کی طرف اشارہ ہے جو ان حروف سے مرکب ہیں جیسے حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : الف سے مراد آلاء اللہ (اللہ تعالیٰ کی نعمتیں) ہیں اور لام سے مراد اللہ کا لطف ہے اور میم سے مراد اس کا ملک ہے ‘ اور حضرت ابن عباس (رض) سے یہ بھی مروی ہے کہ ” الرحم “ اور ” ن “ اس کے مجموعہ سے ” الرحمن “ مراد ہے اور یہ روایت بھی ہے کہ ” الم “ سے مراد ہے ” انا اللہ اعلم “ (میں اللہ ہی خوب جانتا ہوں) اور باقی سورتوں کے شروع میں جو حروف مقطعات ہیں ان سے بھی اسی طرح کے کلمات مراد ہیں ‘ حضرت ابن عباس (رض) سے یہ روایت بھی ہے کہ الف سے اللہ کی طرف ’ لام سے جبرائیل (علیہ السلام) کی طرف اور میم سے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف اشارہ ہے یعنی یہ قرآن اللہ نے لسان جبریل سے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل کیا، یا ان حروف سے بعض اقوام کی مدتوں کی طرف اشارہ ہے کیونکہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس یہود آئے تو آپ نے ان پر ” الم “ البقرہ “ کی تلاوت کی انہوں نے حساب کرکے کہا : ہم اس دین میں کیسے داخل ہوں جس کی مدت اکہتر سال ہے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسکرائے ‘ انہوں نے کہا : اس کے علاوہ بھی کچھ ہے ؟ تو آپ نے پڑھا : (آیت) ” المص، الر، المر “ وہ کہنے لگے ‘ آپ نے ہم پر حساب مشتبہ کردیا ‘ اس کے علاوہ بھی تاویلات ہیں۔ (انوار التنزل مع الخفاجی ‘ ج ١ ص ١٧٤‘ ملخصا مطبوعہ دار صادر ‘ بیروت )
 
Advertisements

صِرَاطَ الَّذِيۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَيۡهِمۡ ۙ غَيۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَيۡهِمۡ وَلَا الضَّآلِّيۡنَ فاتحہ 7

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
 
صِرَاطَ الَّذِيۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَيۡهِمۡ ۙ غَيۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَيۡهِمۡ وَلَا الضَّآلِّيۡنَ
 
ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام فرمایا نہ ان لوگوں کا راستہ جن پر غضب ہو اور نہ گمراہوں کا۔
 
نیز شیخ محمد سرفراز خاں صفدر لکھتے ہیں :
علاوہ ازیں متعدد کتابوں میں آپ کی قبر مبارک پر حاضر ہو کر طلب دعا کا تذکرہ ہے ‘ چناچہ حافظ ابن کثیر (رح) لکھتے ہیں کہ ایک جماعت نے عتبی سے یہ مشہور حکایت نقل کی ہے جس جماعت میں شیخ ابومنصور الصباغ بھی ہیں ‘ انہوں نے اپنی کتاب ” الشامل “ میں بیان کیا ہے کہ عتبی فرماتے ہیں کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر کے پاس بیٹھا ہوا تھا ‘ کہ ایک اعرابی آیا اور اس نے کہا : السلام علیک یا رسول اللہ ! میں نے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد سنا ہے ” اور اگر بیشک وہ لوگ جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا تیرے پاس آتے پس وہ اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتے اور ان کے لیے رسول بھی اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتا تو وہ ضرور اللہ تعالیٰ کو توبہ قبول کرنے والا مہربان پاتے “ اس لیے میں اپنے گناہوں کی معافی مانگے کے لیے آپ کو اللہ تعالیٰ کے ہاں سفارشی پیش کرنے آیا ہوں۔ اس کے بعد اس نے درد دل سے چند اشعار پڑھے اور جذبہ محبت کے پھول نچھاور کرکے چلا گیا ‘ اور اسی واقعہ کے آخر میں مذکور ہے کہ خواب میں اس کو کامیابی کی بشارت بھی مل گئی۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اے عتبی ! جا کر اعرابی سے کہہ دو کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی مغفرت کردی ہے (تفسیر ابن کثیر ج ١ ص ٥٢٠) یہ واقعہ امام نووی نے ” کتاب الاذکار “ ص ١٨٥‘ طبع مصر میں اور علامہ ابوالبرکات عبداللہ بن احمد النسفی الحنفی المتوفی ٧١٠ ھ نے اپنی تفسیر ” مدارک “ ج ١ ص ٣٩٩ میں اور علامہ تقی الدین سبکی نے ” شفاء السقام “ ص ٤٦ میں اور شیخ عبدالحق نے ” جذب القلوب “ میں ص ١٩٥ میں اور علامہ بحرالعلوم عبدالعلی نے ” رسائل الارکان “ ص ٢٨٠ طبع لکھنؤ میں نقل کیا ہے ‘ اور علامہ علی بن عبدالکافی السبکی اور علامہ سمہودی لکھتے ہیں کہ۔
عتبی کی حکایت اس میں مشہور ہے اور تمام مذاہب کے مصنفین نے مناسک کی کتابوں میں اور مورخین نے اس کا ذکر کیا ہے اور سب نے اس کو مستحسن قرار دیا ہے ‘ اس اسی طرح دیگر متعدد علماء نے قدیما وحدیثا اس کو نقل کیا ہے اور حضرت تھانوی (رح) لکھتے ہیں کہ مواہب میں بسند امام ابومنصور صباغ (رح) اور ابن النجار (رح) اور ابن عساکر (رح) اور ابن الجوزی (رح) اللہ تعالیٰ نے محمد بن حرب ہلالی (رح) سے روایت کیا ہے کہ میں قبر مبارک کی زیاررت کرکے سامنے بیٹھا تھا کہ ایک اعرابی آیا اور زیارت کرکے عرض کیا کہ یا خیرالرسل ! اللہ نے آپ پر ایک سچی کتاب نازل فرمائی جس میں ارشاد ہے : (آیت) ” ولوانہم اذ ظلموا انفسھم جآءوک فاستغفرواللہ واستغفر لھم الرسول لوجدوا اللہ توابا رحیما “ (النساء : ٦٤) اور میں آپ کے پاس اپنے گناہوں سے استغفار کرتا ہوا اور اپنے رب کے حضور میں آپ کے وسیلہ سے شفاعت چاہتا ہوا آیا ہوں پھر دو شعر پڑھے ‘ اور اس محمد بن حرب کی وفات ٢٢٨ ھ میں ہوئی ہے ‘ ١ ھ۔ غرض زمانہ خیر القرون کا تھا اور کسی سے اس وقت نکیر منقول نہیں بس حجت ہوگیا۔ (نشر الطیب ص ٢٥٤) اور حضرت مولانا نانوتوی یہ آیت کریمہ لکھ کر فرماتے ہیں : ” کیونکہ اس میں کسی کی تخصیص نہیں آپ کے ہم عصر ہوں یا بعد کے امتی ہوں ‘ اور تخصیص ہو تو کیونکر ہو آپ کا وجود تربیت تمام امت کے لیے یکساں رحمت ہے کہ پچھلے امتیوں کا آپ کی خدمت میں آنا اور استغفار کرنا اور کرانا جب ہی متصور ہے کہ قبر میں زندہ ہوں ‘ ١ ھ (آب حیات ص ٤٠) اور حضرت مولانا ظفر احمد عثمانی یہ سابق واقعہ ذکر کرکے آخر میں لکھتے ہیں کہ پس ثابت ہوا کہ اس آیت کریمہ کا حکم آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بعد بھی باقی ہے۔ (اعلاء السنن ج ١٠ ص ٣٣٠) ان اکابر کے بیان سے معلوم ہوا کہ قبر پر حاضر ہو کر شفاعت مغفرت کی درخواست کرنا قرآن کریم کی آیت کے عموم سے ثابت ہے ‘ بلکہ امام سبکی فرماتے ہیں کہ یہ آیت کریمہ اس معنی میں صریح ہے۔ (شفاء القام ص ١٢٨) اور خیر القرون میں یہ کارروائی ہوئی مگر کسی نے انکار نہیں کیا جو اس کے صحیح ہونے کی واضح دلیل ہے۔ (تسکین الصدور ص ٣٦٥۔ ٣٦٢‘ ملخصا ‘ مطبوعہ ادارہ نصرۃ العلوم ‘ گوجر انوالہ)
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے روضہ مبارک پر حاضر ہو کر دعا کی درخواست کرنے کو ناجائز ثابت کرنے کے لیے شیخ ابن تیمیہ (رح) ‘ شیخ ابن قیم (رح) اور شیخ ابن الہادی (رح) وغیرہم کی ایک یہ دلیل ہے کہ حضرت صحابہ کرام (رض) ‘ ائمہ دین اور سلف صالحین سے ایسی کارروائی ثابت نہیں ‘ اگر یہ جائز ہوتی تو وہ ضرور ایسا کرتے ‘ اس کے جواب میں شیخ محمد سرفراز خان صفدر لکھتے ہیں۔
یہ ان حضرات کا ایک علمی مغالطہ ہے کیونکہ قبر کے پاس حاضر ہو کر سفارش کرانا اور طلب دعا ‘ نہ تو فرض و واجب ہے اور نہ سنت مؤکدہ ‘ تاکہ یہ حضرات اس پر خواہ مخواہ ضرور عمل کر کے دکھاتے اور اس کا رروائی کے نہ کرنے پر وہ ملامت کئے جاتے ‘ اس کارروائی کے مقر اس کو صرف جائز ہی کہتے ہیں اور جواز کے اثبات کے لیے حضرت بلال بن الحارث (رض) کا یہ فعل جس کی حضرت عمر (رض) اور دیگر حضرات صحابہ کرام (رض) نے تائید کی ہے کیا کم ہے ؟ اگر حضرت ابن عمر (رض) صحابی ہیں جنہوں نے ایسا نہیں کیا تو یقین جانئے کہ بلال بن الحارث اور ان کی اس کارروائی کے مصدقین بھی صحابہ کرام (رض) ہیں ‘ اگرچہ حافظ ابن تیمیہ (رح) یہ کارروائی تسلیم نہیں کرتے لیکن اس کا اقرار کرتے ہیں کہ یہ کارروائی بعض متاخرین سے ثابت ہے۔ (محصلہ قاعدہ جلیلہ ص ٧٢) (تسکین الصدور ص ٣٥٤‘ ملخصا ‘ مطبوعہ ادارہ نصرۃ العلوم ‘ گوجر انوالہ)
خلاصہ یہ ہے کہ تمام اکابر اور اصاغر علماء دیوبند کے نزدیک یا رسول اللہ کہنا جائز ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور دیگر مقربین کے وسیلہ سے دعا کرنا اور ان سے دعا کی درخواست کرنا بھی جائز ہے ‘ بلکہ سنت اور مستحب ہے اور ہم بھی اس سے زیادہ نہیں کہتے۔
نداے غیر الہ اور توسل کے متعلق مصنف کا موقف :
انبیا کرام (علیہم السلام) اور اولیاء کرام سے استمداد کے متعلق جو ہم نے احادیث اور فقہاء اسلام کی عبارات نقل کی ہیں اس سے ہمارا صرف یہ منشاء ہے کہ عام مسلمان جو شدائد اور ابتلاء میں یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہہ کر پکارتے ہیں ‘ ان کا یہ پکارنا شرک نہیں ہے اور اس نداء کو شرک کہنا شدید ظلم اور زیادتی ہے کیونکہ یہ لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بہرحال اللہ کی مخلوق اور اس کا مقرب بندہ گردانتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ حقیقی کارساز صرف اللہ تعالیٰ ہے اور انبیاء کرام (علیہم السلام) اور اولیاء کرام کا ہر فعل اور ہر تصرف اللہ کے اذن ‘ اس کی مشیت اور اس کی دی ہوئی قدرت کے تابع ہے ‘ انبیاء کرام (علیہم السلام) اور اولیاء کرام ہوں یا عام انسان ‘ اس کائنات میں جس سے بھی جو فعل صادر ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی قدرت سے صادر ہوتی ہے ‘ اور اللہ تعالیٰ کے بغیر کسی انسان کو کسی شے پر ذرہ بھی قدرت نہیں ہے ‘ اور اس اعتقاد کے ساتھ ندائے غیر اللہ کو علماء دیوبند بھی جائز کہتے ہیں ‘ جیسا کہ شیخ گنگوہی کے حوالے سے گزر چکا ہے۔
اس اعتقاد کے ساتھ انبیاء کرام (علیہم السلام) اور اولیاء کرام سے استمداد اور استغاثہ کرنا ہر چندی کہ جائز ہے لیکن افضل ‘ احسن اور اولی یہی ہے کہ حال میں اور ہر معاملہ میں اللہ تعالیٰ سے سوال کیا جائے اور اسی سے استمداد اور استعانت کی جائے ‘ امام ترمذی (رح) اپنی سند کے ساتھروایت کرتے ہیں :
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں ایک دن ایک سواری پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا ‘ آپ نے فرمایا : اے بیٹے ! میں تم کو چند باتوں کی تعلیم دیتا ہوں ‘ تم اللہ کو یاد رکھو ‘ اللہ تعالیٰ تمہاری حفاظت کرے گا ‘ تم اللہ کو یاد رکھو ‘ تم اللہ کو سامنے پاؤ گے ‘ جب تم سوال کرو تو اللہ تعالیٰ سے کرو اور جب تم مدد طلب کرو تو اللہ تعالیٰ سے کرو اور جان لو کہ اگر تمام امت تم کو نفع پہچانے کیلیے جمع ہوجائے تو وہ تم کو صرف اسی چیز کو نفع پہنچا سکتی ہے جو اللہ تعالیٰ نے پہلے تمہارے لیے لکھ دیا ہے ‘ اگر تمام لوگ تم کو نقصان پہنچانے کیلیے جمع ہوجائیں تو وہ تم کو صرف اسی چیز کا نقصان پہنچا سکتے ہیں جو اللہ نے لکھ دیا ہے ‘ قلم اٹھا لیے گئے ہیں اور صحیفے خشک ہوچکے ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی ص ٣٦١‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)
اس حدیث کو امام ابو یعلی (رح) ١ (امام ابو یعلی (رح) احمد بن علی بن المثنی الموصلی ٣٠٧ ھ ‘ مسندابو یعلی موصلی ج ٣ ص ٨٥۔ ٨٢‘ مطبوعہ مؤسسۃ علوم القرآن ‘ بیروت) امام بن سنی (رح) ٢ ( حافظ ابوبکر احمد بن محمد بن اسحاق دینوری المعروف بابن سنی متوی ٣٦٤ ھ ‘ عمل الیوم واللیلۃ ص ١٣٦) اور امام ابن عبد البر (رح) ٣ (حافظ ابو عمرو ابن عبدالبر (رح) مالکی متوفی ٤٦٣ ھ ‘ تمہید ج ٤ ص ١١١‘ مطبوعہ مکتبہ قدوسیہ ‘ لاہور ‘ لاہور ‘ ١٤٠٤ ھ) نے بھی روایت کیا ہے۔
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اس تعلیم اور تلقین کے پیش نظر مسلمانوں کو چاہے کہ اللہ تعالیٰ سے سوال کریں اور اسی سے مدد چاہیں ‘ اور دعا میں مستحسن طریقہ یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وسیلہ سے دعا مانگیں ‘ زیادہ محفوظ اور زیادہ سلامتی اس میں ہے کہ وہ دعائیں مانگی جائیں جو قرآن مجید اور احادیث میں مذکور ہیں تاکہ دعاؤں میں بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت سایہ افگن رہے ‘ اگر کسی خاص حاجت میں دعا مانگنی ہو تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وسیلہ سے مانگنی چاہیے۔
ہمارے فاضل معاصر علامہ محمد عبدالحکیم صاحب شرف قادری ثم نقشبندی لکھتے ہیں :
البتہ یہ ظاہر ہے کہ جب حقیقی حاجت روا ‘ مشکل کشا اور کارساز اللہ تعالیٰ کی ذات ہے تو احسن اور اولی یہی ہے کہ اسی سے مانگا جائے اور اسی سے درخواست کی جائے اور انبیاء واولیاء کا وسیلہ اس کی بارگاہ میں پیش کیا جائے ‘ کیونکہ حقیقت ‘ حقیقت ہے اور مجاز ‘ مجاز ہے ‘ یا بارگاہ انبیاء واولیاء سے درخواست کی جائے کہ آپ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کریں کہ ہماری مشکلیں آسان فرمادے اور حاجتیں برلائے اس طرح کسی کو غلط فہمی بھی پیدا نہیں ہوگی اور اختلافات کی خلیج بھی زیادہ وسیع نہیں ہوگی۔
(ندائے یا رسول اللہ ص ١٢‘ مطبوعہ مرکزی مجلس رضا ‘ لاہور ‘ ١٤٠٥ ھ)
خلاصہ یہ ہے کہ نداء غیر اللہ اعتقاد مذکور کے ساتھ ہرچند کہ جائز ہے ‘ لیکن افضل ‘ اولی اور احسن یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے سوال کیا جائے اور اسی سے استمداد اور استعانت کی جائے جیسا کہ حدیث مذکور تقاضا ہے۔
انبیاء کرام (علیہم السلام) اور اولیاء کرام سے استمداد ‘ نداء اور توسل کے متعلق میں نے بہت طویل بحث کی ہے کیونکہ ہمارے زمانہ میں اس مسئلہ میں جانبین سے غلو کیا جاتا ہے ‘ شیخ ابن تیمیہ (رح) ابن القیم (رح) اور ابن الہادی (رح) کے پیروکار اور علماء نجد ‘ غیر اللہ سے استمداد اور وصال کے بعد ان کے توسل دعا مانگنے کا ناجائز اور شرک کہتے ہیں اور بعض غالی اور ان پڑھ عوام ‘ اللہ سے دعامانگنے کے بجائے ہر معاملہ میں غیر اللہ کی دہائی دیتے ہیں ‘ انہی کو پکارتے ہیں اور انہی کی نذر مانتے ہیں ‘ سو میں نے چاہا کہ قرآن مجید ‘ احادیت صحیحہ ‘ آثار صحابہ اور فقہاء اسلام کی عبارات کی روشنی میں حق کو واضح کروں ‘ تاکہ بلاوجہ بلاوجہ کسی مسلمان کو مشرک کہا جائے نہ اللہ تعالیٰ سے دعا اور استعانت کا رابطہ منقطع کیا جائے اور نہ انبیاء کرام (علیہم السلام) اور اولیاء کرام کی تعظیم و تکریم میں کوئی کمی کی جائے۔
الہ العلمین ! ان سطور میں اثر آفرینی پیدا فرمایا ‘ اور جانبین سے غلو کرنے والوں کو اعتدال کی راہ اور صراط مستقیم پر گامزن فرما ‘ اس کتاب کو میری بخشش کا ذریعہ بنا دے اور اس کو میرے لیے صدقہ جاریہ کردے۔ واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العلمین والصلوۃ والسلام علی سیدنا محمد خاتم النبیین قائد المرسلین شفیع المذنبین وعلی الہ الطیبین الطاھرین و اصحابہ الکاملین الراشدین وازواجہ امھات المومنین واولیاء امتہ الواصلین و علماء ملتہ الراسخین والائمۃ والمجتھدین المحدثین والمفسرین وسائرالمسلمین اجمعین الی یوم الدین۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ہم کو سیدھا راستہ پر چلا (الفاتحہ : ٥)
ہدایت کا لغوی معنی اور اس کی اقسام :
’ اھد “ کا لفظ ” ھدایۃ “ سے مشتق ہے ‘ علامہ راغب اصفہانی ” ھدایۃ “ کا معنی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
جو چیز مطلوب تک پہنچا دے اس کی طرف ملائمت اور نرمی سے رہنمائی کرنا ہدایت ہے ‘ فلاں شخص کو ہدایت دی یعنی اس کی راہنمائی کی ‘ اللہ تعالیٰ نے انسان کو چار قسم کی ہدایت دی ہے۔
(١) عقل اور شعور کی ہدایت اور بدیہیات کا علم ہر شخص کو عطا فرمایا ہے :
(آیت) ” اعطی کل شیء خلقہ ثم ھدی (طہ : ٥٠) جس نے ہر چیز کو اس کی (مخصوص) بناوٹ عطا فرمائی پھر ہدایت دی
(٢) انبیاء کرام (علیہم السلام) کی زبانوں سے اور آسمانی کتابوں کے ذریعہ ہدایت عطا فرمائی :
(آیت) ” وجعلنھم ائمۃ یھدون بامرنا “۔ (الانبیاء : ٧٣) اور ہم نے ان کو پیشوا بنایا ‘ وہ ہمارے حکم سے ہدایت کرتے تھے۔
(٣) توفیق الہی جو ہدایت یافتہ لوگوں کے ساتھ مخصوص :
(آیت) والذین اھتدوا زادھم ھدی واتھم تقوھم (محمد : ١٧) اور جن لوگوں کو ہدایت کی توفیق مل گئی (یعنی جنہوں نے ہدایت قبول کی) اللہ نے ان کی ہدایت کو زیادہ کردیا اور انہوں نے تقوی عطا فرمایا
(٤) آخرت میں جنت کی طرف پہنچانا :
(آیت) ” قالوا الحمد للہ الذی ھدنا لھذا “ (الاعراف : ٤٣) جنتی کہیں گے : اللہ ہی کے لیے سب تعریفیں ہیں جس نے ہم کو یہاں تک پہنچایا۔
یہ چاروں ہدایتیں ترتیب وار ہیں کیونکہ جس چیز کو ہدایت کی پہلی قسم (عقل و شعور) حاصل نہیں ہے اس کو باقی اقسام بھی حاصل نہیں ہوں گی بلکہ وہ مکلف بھی نہیں ہے ‘ جیسے حیوانات ‘ اور جس کو دوسری قسم کی ہدایت حاصل نہیں ہوئی اس کو باقی دو قسمیں بھی حاصل نہیں ہوں گی ‘(اس میں اشکال ہے) اور جس کو تیسری قسم حاصل نہیں ہوئی جیسے کفار اس کو چوتھی قسم حاصل نہیں ہوگی اور جس کو چوتھی قسم حاصل ہوگی اس کو پہلی تین قسمیں حاصل ہوچکی ہوں گی۔ (المفردات ص ٥٣٩۔ ٥٣٨‘ مطبوعہ المکتبۃ المرتضویہ ‘ ایران ‘ ١٣٤٢ ھ)
ہدایت کی اقسام کی مزید تفصیل :
اس تفصیل میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ ہدایت کی پہلی قسم وجدان ہے جو انسان کو مبدء ولادت میں عطا کیا جاتا ہے ‘ جس اس کو بھوک اور پیاس کا ادراک ہوتا ہے ‘ جب وہ غذا کی طلب کے لیے روتا اور چلاتا ہے ‘ اور دوسری قسم جو اس کی ہدایت ہے اور یہ قسمیں انسان اور حیوان میں مشترک ہیں ‘ اور تیسری قسم عقل کی ہدایت ہے جو انسان کے ساتھ مخصوص ہے ‘ عقل کی ہدایت سے انسان حواس کی اصلاح کرتا ہے مثلا صفراوی مزاج والا میٹھی چیزوں کو کڑوا محسوس کرتا ہے تو عقل ہدایت دیتی ہے کہ یہ میٹھی چیز ہے ‘ ہدایت کی چوتھی قسم دین اور شریعت کی ہدایت ہے ‘ اور ہدایت کی پانچویں قسم توفیق ہے۔
وجدان ‘ حواس اور عقل کی ہدایت کے متعلق اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
(آیت) ” الم نجعل لہ عینین ولسانا و شفتین وھدینہ النجدین (البلد : ١٠۔ ٨) کیا ہم نے اس کی دو آنکھیں زبان اور ہونٹ نہیں بنائے اور ہم نے اسے (نیکی اور بدی) دونوں واضح راستے دکھادیئے
اور دین اور شریعت کی ہدایت کے متعلق فرمایا :
(آیت) ” واما ثمود فھدینہم فاستحبوا العمی علی الھدی (حم السجدۃ : ١٧) اور رہے ثمود کے لوگ تو ہم نے ان کو ہدایت دی سو انہوں نے گمراہی کو ہدایت پر پسند کرلیا۔
اور ہدایت کی توفیق کے متعلق فرمایا :
(آیت) ” اھدنا الصراط المستقیم (الفاتحہ : ٥) ہم کو سیدھے راستے پر چلا
اصل مقصود اللہ تعالیٰ کی ذات کا دیدار ‘ اس کی رضا اور جنت الفردوس کی ہدایت ہے ‘ اس ہدایت کے حصول کے لیے اللہ تعالیٰ نے پہلے ہم کو وجدان ‘ عقل اور شعور (حواس سے ادراک) کی ہدایت عطا فرمائی ‘ پھر سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن کریم کے واسطے سے ہم کو دین اور شریعت کی ہدایت میسر کی ‘ اب ہم دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ ! ہم کو دین اور شریعت پر چلا اور اس کی توفیق مرحمت فرماتا کہ ہم کو جنت کی ہدایت حاصل ہو سکے۔
اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہدایت کا فرق :
ہدایت کا ایک معنی ” ایصال الی المطلوب الخیر “ (نیک مطلوب تک پہنچانا) ہے اور دوسرا معنی ” ارشاد “ اور ” اراءۃ الطریق “ (راستہ دکھانا) ہے ‘ مطلوب خیر تک پہنچانا یہ اللہ تعالیٰ کی شان ہے ‘ اس کو ہدایت یافتہ بنانا اور باطن میں ہدایت دینے سے بھی تعبیر کرتے ہیں اور ” راستہ دکھانا “ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا منصب ہے ‘ اس کو ہدایت نافذ کرنے اور ظاہرا ہدایت دینے سے بھی تعبیر کرتے ہیں۔ قرآن مجید میں جہاں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف ہدایت کی نسبت کی گئی ہے اس سے مراد راستہ دکھانا ہے اور جہاں آپ سے ہدایت دینے کی نفی کی گئی اس سے مراد ہدایت یافتہ بنانا ہے ‘ مثلا قرآن مجید میں ہے :
(آیت) ” انک لا تھدی من احببت ولکن اللہ یھدی من یشآء (القصص : ٥٦) بیشک آپ اس کو ہدایت یافتہ نہیں بناتے جس کو آپ چاہیں ‘ لیکن اللہ جس کو چاہتا ہے ہدایت یافتہ بنا دیتا ہے۔
لیس علیک ھدھم ولکن اللہ یھدی من یشآء (البقرہ : ٢٧٢) انہیں ہدایت یافتہ بنانا آپ کے ذمہ نہیں لیکن اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت یافتہ بنا دیتا ہے۔
ہدایت یافتہ بنانا ‘ مطلوب خیرتک پہنچانا اور باطن میں ہدایت دینا یہ آپ کا منصب نہیں ہے ‘ آپ کا منصب اللہ کی ہدایت کو نافذ کرنا ‘ ظاہرا ہدایت دینا اور راستہ دکھانا ہے اسی اعتبار سے فرمایا :
(آیت) وانک لتھدی الی صراط مستقیم “ اور بیشک آپ ضرور صراط مستقیم دکھاتے ہیں (الشوری : ٥٢)
صراط مستقیم کا لغوی اور شرعی معنی :
دونقطوں کو ملانے والے سب سے چھوٹے خط کو لغت میں صراط مستقیم کہتے ہیں اور شریعت میں صراط مستقیم سے مراد وہ عقائد ہیں جو سعادت دارین تک پہنچاتے ہیں ‘ یعنی وہ دین اسلام جس کو دے کر تمام انبیاء اور رسل کو مبعوث کیا گیا اور ان تمام کی نبوات اور رسالات کو حضرت سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت اور رسالت پر ختم کردیا گیا ‘ جس دین سے اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صحیح معرفت ہو اور تمام احکام شرعیہ کا علم ہو وہ صراط مستقیم ہے۔ یہ صراط مستقیم کا خاص معنی ہے ‘ اور اس کا عام معنی یہ ہے :
تمام اخلاق ‘ اعمال اور امور میں افراط اور تفریط کے درمیان متوسط طریقہ :
خواص مسلمین کے نزدیک صراط مستقیم کا معنی یہ ہے :
کفر ‘ فسق ‘ جہل ‘ بدعت اور ہوائے نفسانیہ کے جہنم کی پشت پر علم ‘ عمل ‘ خلق اور حال کے اعتبار سے شریعت پر استقامت کا پل :
اس معنی میں صراط مستقیم سے ذہن آخرت کے پل صراط کی طرف متوجہ ہوتا ہے ‘ پل صراط کے متعلق احادیث میں ہے کہ وہ بال سے زیادہ باریک اور تلوار سے زیادہ تیز ہے اور شریعت پر استقامت بھی بال سے زیادہ اور تلوار سے زیادہ تیز ہے ‘ مثلا ہمارے ہاں عام طور پر دیور اور بھا بھی میں پردہ نہیں ہوتا، حالانکہ شریعت میں ان کے درمیان پردہ کی سخت تاکید ہے ‘ سرکاری ملازمتیں رشوت ‘ سود اور بےایمانی کی آمدنی کے بغیر نہیں ‘ یونیورسٹیوں میں اعلی تعلیم مخلوط طریقہ تعلیم کے بغیر ناممکن ہے ‘ دکاندار اور ٹھیلے والے پولیس کو بھتہ دیئے بغیر اپنا کاروبار نہیں چلا سکتے ‘ نجی اداروں اور دفاتر میں مردوں اور عورتوں کا مخلوط اسٹاف ہوتا ہے ‘ استقبالیہ اور معلوماتی کاؤنٹر پر بےپردہ خواتین سے گفتگو کرنی پڑتی ہے ‘ سرکاری ٹیندرز پر کوئی ٹھیکہ رشوت کے بغیر منظور نہیں ہوسکتا ‘ پولیس اور دیگر سرکاری محکموں میں کوئی رشوت میں ملوث ہوئے بغیر ملازمت نہیں کرسکتا غرضیکہ پورا معاشرہ شریعت کی خلاف ورزیوں اور اخلاقی پستیوں میں ڈوبا ہوا ہے ‘ ایسے معاشرہ میں اگر کوئی شخص شریعت پر مستقیم رہنا چاہے تو یہ صراط مستقیم بال سے زیادہ باریک اور تلوار سے زیادہ تیز ہے اور جو اس صراط مستقیم پر آسانی سے گزر گیا وہ آخرت کی پل صراط سے بھی آسانی سے گزر جائے گا۔
اور عوام مسلمین کے اعتبار سے صراط مستقیم کا یہ معنی ہے :
اللہ تعالیٰ کے ہر حکم کو ماننا اور اس پر عمل کرنا اور ہر اس کام سے رکنا جس سے اللہ تعالیٰ نے منع کیا ہے۔
خواص جب (آیت) ” اھدنا الصراط المستقیم “ کہتے ہیں تو اس کا معنی یہ ہے : اے اللہ ہمیں ” سیرالی اللہ “ کے بعد ” سیر فی اللہ “ عطا فرما اور ہم پر اپنے جمال اور جلال کی صفات غیر متناہیہ منکشف کر دے اور جب عوام (آیت) ” اھدنا الصراط المستقیم “ کہتے ہیں تو اس کا معنی ہے : اے اللہ ہمیں اپنے تمام احکام پر عمل کی توفیق عطا فرما۔
کیا نمازی کا صراط مستقیم کی دعا کرنا تحصیل حاصل ہے ؟
اس جگہ ایک مشہور سوال یہ ہے کہ جب نماز نماز میں کہتا ہے (آیت) ” اھدنا الصراط المستقیم “ سو وہ تو خود صراط مستقیم کی ہدایت پر ہے ‘ اگر صراط مستقیم پر نہ ہوتا تو نماز کیسے پڑھتا ‘ لہذا یہ تحصیل حاصل ہے، اس کے دو جواب ہیں :
(١) اس دعا کا معنی یہ ہے کہ اے اللہ مجھ کو صراط مستقیم کی ہدایت پر قائم اور ثابت رکھ اور اس میں دوام عطا فرما۔ معنی عوام مسلمین کے اعتبار سے ہے اور اس کی تائید قرآن مجید کی اس آیت میں ہے :
(آیت) ” ربنا لاتزع قلوبنا بعد اذھدیتنا “ (آل عمران : ٨) اے ہمارے رب ! ہمیں ہدایت دینے کے بعد ہمارے ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کر۔
اور اس حدیث میں بھی اس کی تائید ہے : امام ترمذی روایت کرتے ہیں :
” عن انس قال کان رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یکثر ان یقول یا مقلب القلوب ثبت قلبی علی دینک “ (جامع ترمذی ص ٣١٢‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی) حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ بہ کثرت یہ کہتے تھے : اے دلوں کے پلٹنے والے ! میرے دل کو بھی اپنے دین پر قائم اور ثابت رکھ۔
(٢) اللہ تعالیٰ کی صفات اور اس کی معرفت کے درجات غیرمتناہی ہیں اور نمازی معرفت کے جس درجہ میں ہے وہ اس سے اگلے مقام کی معرفت کی دعا کرتا ہے ‘ خلاصہ یہ ہے کہ میری ہدایت میں ترقی عطا فرما۔ یہ خواص مسلمین کے اعتبار سے ہے۔ اور اس کی تائید ان آیات میں ہے :
(آیت) ” ویزید اللہ الذین اھتدوا ھدی “۔ (مریم : ٧٦) اور ہدایت یافتہ لوگوں کی ہدایت میں اللہ تعالیٰ زیادتی فرماتا ہے۔
(آیت) ” والذین اھتدوا زادھم ھدی واتہم تقوہم (محمد : ١٧) اور ہدایت یافتہ لوگوں کی ہدایت کو اللہ نے زیادہ کیا اور انہیں ان کا تقوی عطا فرمایا۔
(آیت) ” وللاخرۃ خیر لک من الاولی ’ (الضحی : ٤) اور بیشک آپ کی ہر بعد کی گھڑی ‘ پہلی گھڑی سے بہتر ہے۔
جمع کے صیغہ سے دعا کرنے کی وجہ اور ربط آیات :
دوسرا سوال یہ ہے کہ یہاں جمع کے صیغہ سے دعا کی تعلیم ہے ‘” ہم کو سیدھے راستہ پر چلا “ واحد کا صیغہ کیوں نہیں ہے ؟ ” مجھ کو سیدھے راستہ پر چلا “ اس کا جواب یہ ہے کہ جب نمازی تمام مسلمانوں کے لیے دعا کرے گا تو ان میں کچھ اللہ کے مقرب اور مقبول بندے بھی ہوں گے جن کے حق میں اللہ تعالیٰ دعا کو قبول فرمائے گا اور یہ اس کے کرم عمیم سے بعید ہے کہ وہ بعض کے حق میں دعا قبول کرے اور باقی بعض کے حق میں دعا کو مسترد کردے۔
ان آیات میں ربط اس طرح ہے کہ جب بندوں نے کہا : اے پروردگار ! ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد چاہتے ہیں تو گویا اللہ تعالیٰ نے فرمایا : تمہاری مہمات یا عبادات میں ‘ میں تمہاری کیسے مدد کروں ؟ پس بندوں نے کہا : ہمیں دین اسلام پر چلا اور چونکہ دین اسلام پر چلنا اللہ کی خاص نعمت ہے اس لیے فرمایا :
ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام فرمایا نہ ان لوگوں کا راستہ جن پر غضب ہوا اور نہ گمراہوں کا (الفاتحہ : ٧)
جن لوگوں پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا ہے وہ گزشتہ امتوں میں سے انبیاء ‘ صدیقین ‘ شہداء اور صالحین ہیں۔ امام ابن جریر (رح) نے اپنی سند کے ساتھ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے : ہمیں ان لوگوں کے راستہ پر چلا جن پر تو نے اپنی اطاعت اور عبادت کا انعام کیا ہے جو ملائکہ ‘ انبیاء ‘ صدیقین ‘ شہداء اور صالحین ہیں ‘ جنہوں نے تیری اطاعت اور عبادت کی۔ (جامع البیان ج ١ ص ٥٩۔ ٥٨‘ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)
یہاں پر اللہ تعالیٰ نے انعام یافتہ لوگوں کا اجمالا ذکر کیا ہے اور اس کی تفصیل ان آیتوں میں ہے :
انعام یافتہ لوگوں کا بیان :
(آیت) ” ومن یطع اللہ والرسول فاولئک مع الذین انعم اللہ علیہم من النبین والصدیقین والشھدآء والصلحین۔ (النساء : ٦٩) اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کریں گے وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام کیا جو انبیاء ‘ صدیقین ‘ شہداء اور صالحین ہیں۔
(آیت) اولئک الذین انعم اللہ علیہم من النبین من ذریۃ ادم وممن حملنا مع نوح، ومن ذریۃ ابرھیم واسرآء یل وممن ھدینا واجتبینا اذا تتلی علیہم ایت الرحمن خروا سجدا وب کیا (مریم : ٥٨) جن لوگوں پر اللہ نے انعام کیا وہ اولاد آدم میں سے انبیاء ہیں اور ان لوگوں (کی نسل) سے جن کو ہم نے نوح کے ساتھ (کشتی میں) سوار کیا ‘ اور ابراہیم اور یعقوب کی نسل سے اور ان میں سے جن کو ہم نے ہدایت دی اور ان کو منتخب کرلیا ‘ جب ان پر رحمن کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو وہ سجدہ کرتے ہیں اور روتے ہوئے گرپڑتے ہیں
انعام یافتہ لوگوں کے راستوں کا بیان :
ان انعام یافتہ نفوس قدسیہ پر چلنے کا تقاضا یہ ہے کہ بندہ اپنے آپ کو بالکلیہ اطاعت الہی اور اس کی قضاء پر راضی ہونے میں جذب کرلے ‘ اور ایسا ہوجائے کہ اگر اس کو یہ حکم دیا جائے کہ وہ اپنے بیٹے کو ذبح کر دے تو اس کی اس طرح اطاعت کرے جیسے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کی تھی ‘ اور اگر خود اس کو ذبح ہونے کا حکم دیا جائے تو اپنے آپ کو حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی طرح ذبح کے لیے تیار پائے، اور اگر کسی بڑے منصب پر فائز ہونے کے بعد اس کو کسی سے علم حاصل کرنے کا حکم دیا جائے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرح طلب علم کے لیے روانہ ہوجائے ‘ اور اپنی بڑائی کو عار نہ بنائے اور اگر اس کو یہ حکم دیا جائے کہ نیکی کا حکم دے اور برائی سے روکے خواہ اس راہ میں اس کو آرے سے چیر دیا جائے تو حضرت یحییٰ (علیہ السلام) اور زکریا (علیہ السلام) کی طرح قتل ہوجائے اور اف نہ کرے ‘ سخت موذی بیماریوں میں مبتلا کیا جائے تو حضرت ایوب (علیہ السلام) کی طرح صبر کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دے ‘ اگر قاضی اور حاکم بنے تو عدل اور انصاف کے سامنے جھکنے میں عار محسوس نہ کرے اور اگر اس کے بیٹے کا کیا ہوا فیصلہ اس کے کے ہوئے فیصلہ کے مقابلہ میں صحیح ہو تو قبول حق کے راستہ میں انانیت کو نہ آنے دے ‘ جیسے حضرت داؤد (علیہ السلام) نے اپنے کئے ہوئے فیصلہ کے مقابلہ میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے فیصلہ کو راجح قرار دیا تھا ‘ اور سلطنت اور شاہی ملے تو حکومت کے رعب اور دبدبہ میں اللہ کی یاد ‘ عبادت و ریاضت اور شب بیداری کو نہ بھولے ‘ جیسے حضرت سلیمان (علیہ السلام) اتنی عظیم الشان حکومت ملنے کے باوجود اطاعت الہی سے غافل نہ تھے اور رکوع اور سجدوں میں راتیں گزارتے تھے اور اگر قضاء الہی سے کسی بلا اور مصیبت میں گرفتار ہوجائے تو شکوہ و شکایت نہ کرے بلکہ اپنے قصور نفس کا اعتراف کرے اور اللہ تعالیٰ کی تسبیح وتہلیل میں مصروف رہے جیسے حضرت یونس (علیہ السلام) مچھلی کے پیٹ میں گرفتار ہو کر بھی اللہ تعالیٰ کی تسبیح وتہلیل کرتے رہے ‘ اگر نوجوان ‘ حسین و جمیل اور پیارا بیٹا گم ہوجائے تو حرف شکایت زبان پر نہ لائے اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی طرح صبر جمیل کرے ‘ اور اگر کوئی بااختیار واقتدار حسین و جمیل عورت کسی جوان مرد کو گناہ کی دعوت دے تو قید خانے میں جانا منظور کرلے اور گناہ سے دامن بچائے رکھے اور جب قید خانہ میں جائے تو وہاں بھی دعوت و ارشاد کو نہ بھولے اور وہاں کے قیدیوں کو اللہ کی توحید اور اس کی اطاعت کی دعوت دے اور یہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا اسوہ اور نمونہ ہے اور ان کا راستہ ہے۔
یہ سابق انعام یافتہ لوگوں کی سیرتوں کا اجمالی بیان ہے اور سب سے زیادہ انعام حضرت سید المرسلین و سیدنا محمد مصطفے (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر کیا گیا ہے اور ان کی سیرت تمام انبیاء سابقین کی سیرتوں کی جامع ‘ کامل ‘ اتم اور اکمل ہے اور یہ سارا قرآن انہی کی سیرت کا بیان ہے اور اس کی تفصیل آپ کی احادیث اور سنت میں ہے ‘ اس لیے قرآن اور سنت ہی دراصل صراط مستقیم ہے ‘ اس لیے جو شخص انعام یافتہ نفوس قدسیہ کی صراط مستقیم پر چلنا چاہتا ہو وہ قرآن اور سنت کو دانتوں سے پکڑ لے اور اس پر پورا پورا عمل کرے۔
(آیت) ” مغضوب “ کا معنی :
علامہ راغب اصفہانی (رح) لکھتے ہیں : غضب کا معنی ہے : انتقام کے ارادے سے دل کے خون کا کھولنا اور جوش میں آنا ‘ اس لیے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : غضب سے بچو کیونکہ یہ ایک انگارہ ہے جو بنو آدم کے دلوں میں دہکتا ہے کیا تم غضبان شخص کی گردن کی پھولی ہوئی رگوں اور اس کی سرخ آنکھوں کو نہیں دیکھتے ‘ اور جب اس لفظ کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو اس سے صرف انتقام مراد ہوتا ہے۔
قرآن مجید میں ہے :
(آیت) ” وغضب اللہ علیہ ولعنہ “ (النساء : ٩٤) اور اللہ (مومن کے قاتل سے) انتقام لے گا اور اس کو اپنی رحمت سے دور کرے گا۔
(آیت) المغضوب علیہم “ کی تفسیر میں ایک قول یہ ہے کہ اس سے یہود مراد ہیں۔ (المفردات ص ٣٦١‘ مطبوعہ المکتبۃ المرتضویہ ‘ ایران ‘ ١٣٤٢ ھ)
(آیت) ” المغضوب علیہم “ کی ماثور تفسیر :
امام ابن جریر (رح) نے متعدد اسانید کے ساتھ حضرت عدی بن حاتم (رض) ، حضرت ابن عباس (رض) ، حضرت ابن مسعود (رض) اور دیگر صحابہ کرام (رض) سے روایت کیا ہے کہ (آیت) ” المغضوب علیہم “ سے مراد یہود ہیں (جامع البیان ج ١ ص ٦٢۔ ٦١‘ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)
مغضوب کا معنی بیان کرنے میں بعض علماء کی لغزش :
سید ابو الاعلی مودودی (رح) نے (آیت) ” المغضوب علیہم “ کے ترجمہ میں لکھا ہے ” اور جو معتوب نہیں ہوئے “۔ (تفہیم القرآن ج ١ ص ٤٥‘ مطبوعہ ادارہ ترجمان القرآن ‘ لاہور ‘ ١٩٨٣ ء)
ہمارے شیخ علامہ سید احمد کا ظمی قدس سرہ العزیز اس پر تعاقب کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
ایک معاصر نے (آیت) ” غیر المغضبوب علیہم “ کا ترجمہ کرتے ہوئے لکھا ” جو معتوب نہیں ہوئے “ یہاں ” مغضوب “ کا ترجمہ ” معتوب “ صحیح نہیں ‘ عہد رسالت سے لے کر آج تک کسی نے یہ ترجمہ نہیں کیا ‘ بلکہ ادنی تامل سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ غضب سے عتاب مراد لینا مراد الہی کے قطعا خلاف ہے ‘ اس لیے کہ اللہ کا غضب انہی لوگوں کے ساتھ ہے جن سے اللہ تعالیٰ نے ارادہ انتقام متعلق فرمایا۔ رہا ” عتاب “ توفی الجملہ وہ رسولوں کی طرف بھی متوجہ ہوا۔ صحیحن کی متفق علیہ حدیث میں ہے۔ ” عتب اللہ علیہ “ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو عتاب فرمایا۔ “ (صحیح بخاری ج ١ ص ٢٣) بلکہ سورة (آیت) ” عبس و تولی “ کی تفسیر میں یہ حدیث وارد ہے ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عبداللہ ابن مکتوم کی آمد پر فرمایا : ” مرحبا بمن عانبنی فیہ ربی “ جس کی وجہ سے مجھ پر عتاب ہوا اس کو خوش آمدید (تفسیر ابن کبیرج ٨ ص ٤٧٠، روح المعانی ج ٣٠ ص ٣٩، ابن جریر ج ٣٠۔ ٢٩۔ ٢٨، ارشاد الساری ج ٧ ص ٤١١) جس سے ظاہر ہوا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف بھی عتاب متوجہ ہوا۔ اگر ” مغضوب “ کا ترجمہ ” معتوب “ صحیح مان لیاجائے تو معاذ اللہ حبیب و کلیم علیہما الصلوۃ والتسلیم بھی (آیت) ” مغضوب علیہم “ میں شامل ہوجائیں گئے۔ واضح رہے کہ غضب جو اللہ کی صفت ہے اس کی بنیاد صرف عقوبت اور ارادہ انتقام ہے ‘ اور اس عتاب کا مبنی مودت و محبت ہے۔ اہل لغت نے عتاب کے معنے ” مخاطبۃ الادلال “ لکھے ہیں یعنی محبوب کی لاپروائی یا بےتوجہی پر محبت بھری خفگی کا اظہار۔ صاحب ” لسان العرب “ اور ” صاحب تاج العروس “ نے اس معنی پر بطور شاہد یہ شعر نقل کئے :
اعاتب ذا المودۃ من صدیق اذا ما رابنی منہ اجتناب
اذا ذھب العتاب فلیس ود ویبقی الودمابقی العتاب۔
(لسان العرب ج ١ ص ٥٧٧، تاج العروس ج ١ ص ٣٦٥)
” محبت والے دوست کے ساتھ میں عتاب سے پیش آتا ہوں ‘ جب مجھے اس کی کنارہ کشی کا اندیشہ ہو ‘ جب عتاب گیا تو محبت بھی نہ رہی کہ محبت اسی وقت تک رہتی ہے جب تک عتاب باقی رہے “ یعنی عتاب سے پیش آنا محبت کی نشانی ہے۔ اگر کہا جائے کہ اردو لغت کی کتابوں میں ” غضب “ کے معنی عتاب اور ” عتاب “ کے معنی غضب اور ” مغضوب “ کے معنی ” زیر عتاب “ لکھے ہیں تو عرض کروں گا کہ ہر زبان کے علماء لغت کی طرح اردو لغت والوں نے بھی اپنی اردو زبان کے استعمالات ومحاورات کو اردو لغت کی کتابوں میں جمع کردیا ‘ مگر قرآن مجید ” اردو “ میں نہیں بلکہ عربی زبان میں نازل ہوا ہے۔ ہر زبان کے محاروات و استعمالات اس کے ساتھ مخصوص ہوتے ہیں ‘ اس لیے اردو استعمالات پر عربی استعمالات کا قیاس درست نہیں ‘ بالخصوص قرآنی استعمالات میں غضب اللہ سے عتاب مراد لینا یا مغضوب کا ترجمہ معتوب کرنا کسی طرح صحیح نہیں۔ (التبیان ج ١ ص ٣٣۔ ٣٢ مطبوعہ کا ظمی پبلیکیشنز ‘ ملتان ١٩٩٣ ء)
” ضالین “ کے معنی :
علامہ راغب اصفہانی (رح) لکھتے ہیں :
ضلال کے معنی ہیں : طریق مستقیم سے عدول اور اعراض کرنا ‘ اس کی ضد ہدایت ہے ‘ قرآن مجید میں ہے : (آیت) ” من اھتدی فانما یھتدی لنفسہ، ومن ضل فانما یضل علیھا “۔ (بنی اسرائیل : ١٥) جس نے ہدایت قبول کی تو اس نے اپنے ہی نفع کے لیے ہدایت قبول کی اور جو گمراہ ہوا تو اس کی گمراہی کا وبال اسی پر پڑا۔
صحیح راستہ سے ہر انحراف کو ضلال کہتے ہیں خواہ وہ انحراف عمدا ہو یا سہوا ‘ کم ہو یا زیادہ کیونکہ جو صحیح راستہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ ہے اس پر چلنا بہت دشوار ہے ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مستقیم رہو اور تم ہرگز اس کا احاطہ نہ کرسکو گے ‘ بعض حکماء نے کہا : ہمارے صحت اور صواب پر ہونے کی ایک وجہ ہے اور ہمارے ضلال پر ہونے کی بہت سی وجوہ ہیں ‘ بعض صالحین نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خواب میں زیارت کی تو پوچھا : آپ نے یہ کیوں فرمایا تھا کہ مجھے سورة ھود اور اس کی نظائر نے بوڑھا کردیا ! ان میں آیت نے آپ کو بوڑھا کردیا ‘ فرمایا : (آیت) ” فاستقم کما امرت “ جس طرح تمہیں حکم دیا گیا ہے اس طرح مستقیم رہو۔ “ (ھود : ١١٢) اور جب کہ ضلال کا معنی ہے : طریق مستقیم کو ترک کرنا ‘ خواہ یہ ترک کرنا عمدا ہو یا سہوا ‘ کم ہو یا زیادہ تو ضلال کا استعمال متعدد وجوہ سے ہوتا ہے ‘ یہ لفظ انبیاء کرام (علیہم السلام) کے لیے بھی استعمال ہوا ہے اور کفار کے لیے بھی استعمال ہوا ہے اگرچہ دونوں کی ضلالت میں بہت زیادہ فرق ہے ‘ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے متعلق ان کے بیٹوں نے کہا :
(آیت) ” قالوا تاللہ انک لفی ضللک القدیم (یوسف : ٩٥) (ترجمہ) وہ بولے : اللہ کی قسم ! یقیناً آپ اسی اپنی پرانی محبت میں ہیں
حضرت یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو شدید محبت تھی اور یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کے خیال میں یہ بےجا محبت تھی ‘ اس لیے انہوں نے اس محبت کو ضلال کے ساتھ تعبیر کیا۔ اسی طرح نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو اللہ تعالیٰ کی محبت میں بالکل وارفتہ ہوگئے تھے تو آپ کو امت کی طرف متوجہ کرنے کے لیے فرمایا :
(آیت) ” ووجدک ضآلا فھدی (الضحی : ٧) (ترجمہ) اور آپ کو (اپنی محبت میں) وارفتہ پایا تو (امت کی طرف) راہ دی
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا :
(آیت) ” قال فعتھا اذا وانا من الضالین “۔ (الشعراء : ٢٠) (ترجمہ) موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا : میں نے وہ کام اس وقت کیا جب میں بیخبروں میں سے تھا
اس میں یہ تنبیہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے قبطی کا قتل سہوا ہوا تھا ضلال نسیان کے معنی میں بھی مستعمل ہے :
(آیت) ” ان تضل احدہما فتذکر احدھما الاخری : (البقرہ : ٢٨٢) (ترجمہ) کہ ان دو میں سے کوئی ایک (عورت) بھول جائے تو ان میں سے دوسری اس کو یاد دلائے۔
علم اور عمل کے اعتبار سے ضلال کے دو اور معنی ہیں : ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ کی معرفت ‘ اس کی وحدانیت اور نبوت اور رسالت میں کوئی شخص صحیح راہ سے بھٹک جائے ‘ اس معنی کا استعمال اس آیت میں ہے :
(آیت) ” ومن یکفر باللہ وملٓئکتہ وکتبہ ورسلہ والیوم الاخر فقد ضل ضلابعید (النساء : ١٣٦) (ترجمہ) جو شخص اللہ ‘ اس کے فرشتوں ‘ اس کی کتابوں ‘ اس کے رسولوں اور روز قیامت کے ساتھ کفر کرے تو بیشک وہ گمراہ ہوگیا (سیدھ راہ سے) بہت دور جا پڑا
دوسرا معنی ہے : عبادات اور احکام شرعیہ میں صحیح راہ سے بھٹک جانا، اس معنی کا استعمال اس آیت میں ہے۔
(آیت) ” ان الذین کفروا وصدوا عن سبیل اللہ قدضلوا ضللا بعیدا (النساء : ١٦٧) بیشک جن لوگوں نے کفر کیا اور (لوگوں کو) اللہ کی راہ سے روکا یقیناً وہ گمراہ ہوگئے (سیدھی راہ سے) بہت دورجاپڑے
ضلال غفلت کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے :
(آیت) ” قال علمھا عندربی فی کتب، لایضل ربی ولاینسی (طہ : ٥٢) (ترجمہ) (موسی (علیہ السلام) نے کہا : پچھلی قوموں کا) علم میرے رب کے پاس ایک کتاب (لوح محفوظ) میں ہے ‘ میرا رب نہ غافل ہوتا ہے نہ بھولتا ہے
زیربحث آیت میں ضالین سے مراد نصاری ہیں۔ (المفردات ص ١٩٨۔ ١٩٧‘ مطبوعہ المکتبۃ المرتضویہ ‘ ایران)
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام (رض) سے ضالین کی منقول تفسیر :
امام ابن جریر (رح) لکھتے ہیں :
حضرت ابن مسعود (رض) اور کئی اصحاب (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : (آیت) ” الضالین “ سے مراد نصاری ہیں۔ (جامع البیان ج ١ ص ٦٤‘ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)
ہر وہ شخص جو سیدھے راستہ سے انحراف کرے اس کو عرب ضال کہتے ہیں ‘ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے عیسائیوں کو ضالین فرمایا ‘ کیونکہ انہوں نے سیدھے راستہ سے انحراف کرکے غلط راستہ اختیار کرلیا۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ یہود نے بھی تو طریق مستقیم سے انحراف کر کے غیر طریق مستقیم اختیار کرلیا ‘ پھر کیا وجہ ہے کہ ان کو مغضوب کی صفت کے ساتھ مخصوص کیا اور نصاری کو ضالین کی صفت کے ساتھ ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ دونوں ہی ضالین ہیں لیکن نصاری نبی کی محبت میں گمراہ ہوئے اور نبی کو خدا کا بیٹا کہا ‘ اور یہود نبی سے بغض میں گمراہ ہوئے کیونکہ انہوں نے کئی نبیوں کو قتل کر ڈالا ‘ اس لیے یہود پر اللہ تعالیٰ کا غضب زیادہ ہے اور ان کو مغضوب فرمایا۔
جن لوگوں تک اسلام کا پیغام نہیں پہنچا آیا وہ شریعت کے مکلف ہیں یا نہیں ؟
ضالین کا مصداق وہ لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ کی بالکل معرفت حاصل نہیں ہوئی ‘ یا ان کو اللہ تعالیٰ کی صحیح معرفت حاصل نہیں ہوئی ‘ اول الذکر وہ لوگ ہیں جن کو نبوت کا پیغام نہیں پہنچا ‘ اور ثانی الذر وہ لوگ ہیں جن کو پیغام نبوت پہنچا لیکن ان پر حق اور باطل اور صواب اور خطا میں اشتباہ ہوگیا ‘ اور جن لوگوں کے زمانہ میں نبی معبوث نہیں ہوا ‘ وہ اصحاب فترت ہیں ‘ وہ کسی شریعت کے مکلف ہیں نہ آخرت میں ان کو عذاب ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
(آیت) ” وما کنا معذبین حتی نبعث رسولا (بنی اسرائیل : ١٦) (ترجمہ) اور جب تک رسول کو نہ بھیج دیں ‘ ہم عذاب دینے والے نہیں ہیں
جمہور کی رائے یہی ہے ‘ لیکن علماء کی ایک جماعت کا یہ نظریہ ہے کہ شریعت کا مکلف ہونے کے لیے صرف عقل کافی ہے ‘ سو جس شخص کو عقل دی گئی ہے اس پر لازم ہے کہ آسمانوں اور زمین کی نشانیوں میں غور وفکر کرے اور ان کے خالق کی معرفت حاصل کرے اور جس طرح اس کی عقل ہدایت دے اس کے مطابق خالق کی تعظیم اور عبادت کرے اور نعمتوں پر اس کا شکر بجالائے۔
علامہ محب اللہ بہاری (رح) لکھتے ہیں :
جو شخص دور دراز کے پہاڑوں میں بلوغت کی عمر پالے اور اس کو پیغام نہ پہنچے اور وہ عقائد صحیحہ کا معتقد نہ ہو اور احکام شرعیہ پر عمل نہ کرے تو معتزلہ اور بعض احناف کے نزدیک اس کو آخرت میں عذاب ہوگا ‘ کیونکہ جن امور کا عقل ادراک کرسکتی ہے اس نے ان کے تقاضوں پر عمل نہیں کیا ‘ اور اشاعرہ اور جمہور احناف کے نزدیک اس کو آخرت میں عذاب نہیں ہوگا ‘ کیونکہ انسان احکام کا مکلف شریعت سے ہوتا ہے اور فرض یہ کیا گیا ہے کہ اس کو شریعت کی دعوت نہیں پہنچی۔ (مسلم الثبوت مع شرحہ للخیر آبادی ص ٦٢‘ مطبوعہ مکتبہ اسلامہ ‘ کوئٹہ)
آمین کا معنی :
علامہ ابن منطور افریقی (رح) لکھتے ہیں :
یہ وہ کلمہ ہے جو دعا کے بعد کہا جاتا ہے ‘ یہ اسم اور فعل سے مرکب ہے اور اس کا معنی ہے : ” اللہم استجب لی “۔ اے اللہ ! میری دعا کو قبول فرما “ اور اس کی دلیل یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون اور اس کے حامیوں کے لیے دعاء ضرر کی اور فرمایا :
(آیت) ” ربنا اطمس علی اموالہم واشدد علی قلوبہم “۔ (یونس : ٨٨) اے ہمارے رب ! ان کے اموال کو تباہ و برباد کر دے اور ان کے دلوں کو سخت کر دے۔
جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ دعا کی تو حضرت ہارون (علیہ السلام) نے کہا : آمین۔
ایک قول یہ ہے کہ آمین کا معنی ہے : اسی طرح ہوگا۔ زجاج نے کہا ہے : اس میں دو لغتیں ہیں : امین اور آمین۔ ابوالعباس نے کہا ہے کہ آمین عاصین کی طرح جمع کا صیغہ ہے ‘ لیکن یہ صحیح نہیں ہے ‘ کیونکہ حسن سے منقول ہے کہ آمین اللہ عزوجل کے اسماء میں سے ایک اسم ہے ‘ مجاہد نے بھی کہا ہے کہ یہ اللہ کا ایک اسم ہے اور یہ یا اللہ کے معنی میں ہے اور اس کے بعد ” استجب “ مقدر ہے ‘ ازھری نے کہا : یہ قول صحیح نہیں ہے۔
حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ آمین رب العالمین کی اپنے بندوں پر مہر ہے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ بندوں کی آفات اور بلیات کو آمین سے دور کردیتا ہے جیسے جب کسی لفافے پر مہر گا دی جائے تو اس مہر کی وجہ سے اس میں فاسد اور ناپسندیدہ چیز داخل نہیں ہوسکتی۔ حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ امین جنت میں ایک درجہ ہے ‘ ابوبکر (رض) نے کہا اس کا معنی یہ ہے کہ آمین کہنے والے کو جنت میں ایک درجہ ملے گا۔
(لسان العرب ج ١٣ ص ٢٧۔ ٢٦ مطبوعہ نشر ادب الحوذۃ ‘ قم ‘ ایران ١٤٠٥ ھ)
نماز میں آمین کہنے کے متعلق مذاہب اربعہ :
علامہ شمس الدین محمد بن ابی العباس الرملی الشافعی لکھتے ہیں :
سورة فاتحہ یا اس کے قائم مقام کسی دعا کے بعد کچھ وقفہ سے آمین کہنا سنت ہے ‘ خواہ وہ نماز میں ہو یا غیر نماز میں ‘ لیکن نماز میں یہ بہت زیادہ مستحب ہے کیونکہ حدیث میں ہے کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سورة فاتحہ کی قرات سے فارغ ہوتے تو بلند آواز کے ساتھ آمین کہتے اور الف کو کھینچ کر (دراز کر کے) آمین کہتے۔ (نہایۃ المحتاج ج ١ ص ٤٨٩۔ ٤٨٨‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ ١٤١٤ ھ)
علامہ محمد بن عبداللہ خرچی مالکی لکھتے ہیں :
” ولا الضالین “ کے بعد آہستہ آواز کے ساتھ آمین کہنا مستحب ہے ‘ سری نماز میں صرف امام آمین کہے اور جہری نماز میں امام اور مقتدی دونوں پست آواز کے ساتھ آمین کہیں کیونکہ آمین دعا ہے اور دعا میں اصل یہ ہے کہ پست آواز کے ساتھ کی جائے۔ (الخرشی علی مختصر خلیل ج ١ ص ٢٨٢‘ مطبوعہ دار صادر ‘ بیروت)
علامہ ابن قدامہ حنبلی لکھتے ہیں :
سنت یہ ہے کہ جہری نمازوں میں امام اور مقتدی جہرا آمین کہیں اور سری نمازوں میں دونوں سرا آمین کہیں۔ امام ابوحنفیہ (رح) اور امام مالک کے نزدیک آمین آہستہ کہیں ‘ ہماری دلیل یہ ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بہ آواز بلند آمین کہی اور آپ نے امام کے آمین کہنے کے وقت آمین کہنے کا حکم دیا ‘ اگر امام نے بلند آواز سے آمین نہ کہی تو امام کی آمین پر مقتدی کی آمین نہیں ہو سکے گی۔ (المغنی ج ١ ص ٢٩٠‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٤٠٥ ھ)
علامہ حصکفی حنفی لکھتے ہیں :
امام اور مقتدی پست آواز سے آمین کہیں خواہ سرا ہو یا جہرا اور جس حدیث میں یہ ہے کہ جب امام آمین کہے تو آمین کہو یہ پست آواز سے آمین کہنے کے منافی نہیں ہے ‘ کیونکہ یہ معلوم اور متعین ہے کہ ” ولا الضالین “ کے بعد آمین کہی جاتی ہے ‘ اس لیے مقتدی کا آمین کہنا ‘ امام سے سننے پر موقوف نہیں ہے ‘ کیونکہ سورة فاتحہ کے اخیر میں آمین کہی جاتی ہے ‘ حدیث میں ہے : جب امام (آیت) ” ولا الضالین “ کہے تو آمین کہو۔ (درمختار مع حاشیۃ الطحطاوی ‘ ج ١ ص ٢٢٠۔ ٢١٩‘ مطبوعہ دارالمعرفتہ ‘ بیروت)
آمین کہنے کی فضیلت میں احادیث :
امام بخاری روایت کرتے ہیں :
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص آمین کہتا ہے تو آسمان میں فرشتے (بھی) آمین کہتے ہیں ‘ پس جب ایک فریق کی آمین دوسرے کے موافق ہوجائے تو اس کے پچھلے گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ١٠٨‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)
اس حدیث کو امام مسلم (صحیح مسلم ج ١ ص ١٧٦) ‘ امام ابودادؤ (سنن ابوداؤد ج ١ ص ١٣٥) ‘ امام نسائی (سنن نسائی ج ١ ص ١٤٧) ’ امام مالک (موطا امام مالک ص ٦٩ ) ‘ اور امام احمد (مسند احمد ج ٢ ص ٤٥٩) نے بھی روایت کیا ہے۔
امام ابن ماجہ روایت کرتے ہیں :
حضرت ابودرداء (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب کوئی شخص اپنے مسلمان بھائی کے لیے پس پست دعا کرتا ہے تو وہ قبول ہوتی ہے ‘ جب بھی وہ اپنے بھائی کے لیے خیر کی دعا کرتا ہے تو اس کے پاس کھڑا ہوا ایک فرشتہ آمین کہتا ہے اور وہ فرشتہ اس کے لیے بھی وہی دعا کرتا ہے۔ (سنن ابن ماجہ ص ٢٠٨‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)
اس حدیث کو امام احمد نے بھی روایت کیا ہے۔ (مسند احمد ج ١ ص ‘ ١٩٥‘ ج ٦ ص ٤٥٢ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت)
امام ابن ماجہ روایت کرتے ہیں :
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہود تم سے کسی چیز پر اتنا حسد نہیں کرتے جتنا وہ تم سے آمین پر حسد کرتے ہیں سو تم بہ کثرت آمین کہا کرو۔ (سنن ابن ماجہ ص ٦١‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)
آمین بالجہر کے متعلق احادیث :
امام ابوداؤد روایت کرتے ہیں :
حضرت وائل بن حجر (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (آیت) ” ولا الضالین “ پڑھتے تو بہ آواز بلند فرماتے : آمین (سنن ابوداؤد ج ١ ص ١٣٥۔ ١٣٤ مطبوعہ مطبع مجتبائی ‘ پاکستان ‘ لاہور)
امام ترمذی (رح) نے اس حدیث کو اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے ‘ اس میں ” رفع بھا صوتہ “ کی بجائے ” مدبھا صوتہ “ (آمین کو مد کے ساتھ پڑھا) ہے۔ (جامع ترمذی ص ٦٣‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)
نیز امام ابوداؤد روایت کرتے ہیں :
حضرت وائل بن حجر (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اقتداء میں نماز پڑھی تو آپ نے بہ آواز بلندآمین کہی۔ (سنن ابوداؤد ج ١ ص ١٣٥ مطبوعہ مطبع مجتبائی ‘ پاکستان ‘ لاہور)
امام نسائی روایت کرتے ہیں :
حضرت وائل بن حجر (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اقتداء میں نماز پڑھی ‘ آپ نے اللہ اکبر کہہ کر کانوں کے بالمقابل رفع یدین کیا ‘ پھر آپ نے سورة فاتحہ پڑھی اور اس سے فارغ ہو کر بہ آواز بلند آمین کہی۔ (سنن نسائی ج ١ ص ١٤٠ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی) بقیہ اگلی آیت میں۔
 

اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِيْمَ فاتحہ 6

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِيْمَ
ہم کو سیدھے راستہ پر چلا۔
 
علامہ نووی (رح) نے اس حدیث کو امام ابن ماجہ (رح) اور امام ترمذی (رح) کے حوالوں سے بیان کیا اور اس میں یا محمد کے الفاظ ہیں ‘ علامہ نووی (رح) نے لکھا ہے کہ امام ترمذی (رح) نے اس حدیث کو حسن صحیح لکھا ہے۔ امام نسائی (رح) نے اس حدیث کو سنن کبری (ج ٦ ص ١٦٩‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ ١٤١١ ھ) میں روایت کیا ہے۔
امام محمد جزری (رح) نے اس حدیث کو امام ترمذی (رح) ‘ امام حاکمرحمۃ اللہ علیہ اور امام نسائی (رح) کے حوالوں سے ذکر کیا اور اس میں بھی یا محمد کے الفاظ ہیں۔ (الاذکار ص ١٢٧‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٣٧٥ ھ)
قاضی شوکانی (رح) ” حصن حصین “ کی شرح میں لکھتے ہیں :
اس حدیث کو امام ترمذی (رح) ‘ امام حاکم (رح) نے ” مستدرک “ میں اور نسائی (رح) نے روایت کیا ہے جیسا کہ مصنف (رح) نے بیان کیا ہے ‘ امام طبرانی (رح) نے اس حدیث کو تمام اسانید بیان کرنے کے بعد کہا : یہ حدیث صحیح ہے ‘ امام ابن خزیمہ (رح) نے بھی اس حدیث کو صحیح کہا ‘ سو ان ائمہ نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے البتہ نسائی کی روایت میں یہ تفرد ہے کہ اس میں یہ ذکر بھی ہے : اس نے دو رکعت نماز پڑھی ‘ اس حدیث میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا وسیلہ پیش کرنے کے جواز کی دلیل ہے ‘ اس لیے ساتھ یہ اعتقاد لازم ہے کہ حقیقۃ دینے والا اور منع کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے ‘ جو وہ چاہتا ہے وہ ہوجاتا ہے اور جو وہ نہیں چاہتا وہ نہیں ہوتا۔ (تحفۃ الذاکرین ص ١٣٨۔ ١٣٧‘ مطبوعہ مطبع مصطفے البابی و اولا دہ ‘ مصر ‘ ١٣٥٠ ھ)
حضرت عثمان بن حنیف (رض) کی یہ حدیث جس کی بکثرت محدثین نے اپنی اپنی تصانیف میں صحت سند کی صراحت کے ساتھ روایت کیا ہے اس مطلوب پر قوی دلیل ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وسیلہ سے دعا کرنا اور آپ سے دعا کی درخواست کرنا جائز اور مستحسن ہے اور چونکہ آپ کی ہدایات قیامت تک کے مسلمانوں کے لیے حجت ہیں ‘ اس لیے آپ کے وصال کے بعد بھی آپ کے وسیلہ سے دعا کرنا اور آپ سے دعا کی درخواست کرنا جائز ہے اور بالخصوص آپ کے وصال کے بعد آپ کے توسل سے دعا کے جواز پر دلیل یہ ہے کہ حضرت عثمان بن حنیف (رض) نے حضرت عثمان (رض) کے زمانہ خلافت میں ایک شخص کو اس کی قضاء حاجت کے لیے یہ دعا تعلیم کی ‘ اس حدیث کو امام طبرانی (رح) اور امام بیہقی (رح) نے اپنی اپنی تصانیف میں صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے ‘ جیسا کہ عنقریب ہم بیان کریں گے۔ یہاں تک جو ہم نے احادیث بیان کی ہیں ان میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حیات ظاہرہ میں آپ کے توسل پر دلیل ہے ‘ اب ہم ایسی احادیث پیش کررہے ہیں جن میں آپ کی وفات کے بعد آپ کے توسل پر دلیل ہے۔
حضرت عمر (رض) کے زمانہ خلافت میں صحابہ (رض) کا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دعا کی درخواست کرنا۔
حضرت عمر (رض) کے زمانہ میں ایک سال قحط پڑگیا تو حضرت بلال بن حارث مزنی (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے روضہ پر حاضر ہوئے اور عرض کیا : اپنی امت کے لیے بارش کی دعا کیجیے۔
حافظ ابن ابی شیبہ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :
مالک الدار ‘ جو حضرت عمر (رض) کے وزیر خوراک تھے وہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) کے زمانہ میں (ایک بار) لوگوں پر قحط آگیا ‘ ایک شخص (حضرت بلال بن حارث مزنی (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر مبارک پر گیا اور عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اپنی امت کے لیے بارش کی دعا کیجئے کیونکہ وہ (قحط سے) ہلاک ہو رہی ہے ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس شخص کے خواب میں تشریف لائے اور فرمایا : عمر کے پاس جاؤ ان کو سلام کہو اور یہ خبر دو کہ تم پر یقیناً بارش ہوگی ‘ اور ان سے کہو : تم پر سوجھ بوجھ لازم ہے ‘ تم پر سوجھ بوجھ لازم ہے ‘ پھر وہ حضرت عمر (رض) کے پاس گئے اور ان کو یہ خبر دی ‘ حضرت عمر (رض) رونے لگے اور کہا : اے اللہ ! میں صرف اسی چیز کو ترک کرتا ہوں جس میں میں عاجز ہوں۔ (المصنف ج ١٢ ص ٣٢‘ مطبوعہ ادارۃ القرآن ‘ کراچی ‘ ١٤٠٦ ھ)
نیز حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں :
حافظ ابوبکر بیہقی (رح) اپنی سند کے ساتھ مالک سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن الخطاب کے زمانہ میں (ایک بار) قحط واقع ہوا ایک شخص (حضرت بلال بن حارث مزنی (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر مبارک پر حاضر ہوا اور عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اپنی امت کے لیے بارش کی دعا کیجئے کیونکہ وہ (قحط سے) ہلاک ہو رہی ہے ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس شخص کے خواب میں تشریف لائے اور فرمایا : عمر کے پاس جاؤ ان کو سلام کہو اور یہ خبر دو کہ تم پر یقیناً بارش ہوگی ‘ اور ان سے کہو : تم پر سوجھ بوجھ لازم ہے ‘ تم پر سوجھ بوجھ لازم ہے ‘ پھر وہ حضرت عمر (رض) کے پاس گئے اور ان کو یہ خبر دی ‘ حضرت عمر (رض) عنہنے کہا : اے میرے رب ! میں صرف اسی چیز کو ترک کرتا ہوں جس میں میں عاجز ہوں۔ اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ (البدایہ والنہایہ ج ٧ ص ٩٢۔ ٩١ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت)
حافظ ابوعمرو بن عبدالبر ١ (حافظ عمرو یوسف بن عبداللہ عبدالبر قرطبی مالکی متوفی ٤٦٣ ھ ‘ الاستیعاب علی ہامش الاطابہ ج ٢ ص ٤٦٤‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت) اور حافظ ابن کثیر نے بھی اس روایت کو ذکر کیا ہے۔ (الکامل فی التاریخ ج ٢ ص ٣٩٠۔ ٣٨٩‘ مطبوعہ دارالکتاب العربیہ بیروت ‘ ١٤٠٠ ھ)
علم حدیث میں حافظ ابن کثیر کی شخصیت موافقین اور مخالفین سب کے نزدیک مسلم ہے اور حافظ ابن کثیر (رح) نے امام بیہقی (رح) کی اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے اور اس روایت میں یہ تصریح ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وصال کے بعد حضرت بلال بن حارث مزنی (رض) نے آپ کے قبر انور پر جا کر آپ سے بارش کی دعا کے لیے درخواست کی اور حضرت عمر (رض) سے یہ واقعہ اور اپنا خواب بیان کیا اور حضرت عمر (رض) نے اس کو مقرر رکھا اور اس پر انکار نہیں کیا ‘ اس سے معلوم ہوا کہ حضرت عمر (رض) کے نزدیک بھی وصال کے بعد صاحب قبر سے دعا کی درخواست کرنا جائز ہے۔
اس حدیث کے متعلق حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں :
امام ابن ابی شیبہ نے سند صحیح کے ساتھ حضرت عمر کے خازن مالک الدار سے روایت کیا ہے کہ حضرت عمر (رض) کے زمانہ میں (ایک بار) قحط واقع ہوا ‘ ایک شخص نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر مبارک پر حاضر ہوا اور عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اپنی امت کے لیے بارش کی دعا کیجئے ‘ کیونکہ وہ ہلاک ہورہی ہے ‘ پھر اس شخص کو خواب میں آپ کی زیارت ہوئی اور یہ کہا گیا کہ عمر کے پاس جاؤ ‘ الحدیث۔ سیف نے ” فتوح “ میں روایت کیا ہے کہ جس شخص نے یہ خواب دیکھا تھا وہ یکے از صحابہ حضرت بلال بن حارث مزنی (رض) تھے۔ (فتح الباری ج ٢ ص ٤٩٦ مطبوعہ دار نشر الکتب الاسلامیہ ‘ لاہور ١٤٠١ ھ)
اس حدیث کو حافظ ابن کثیر اور حافظ ابن حجر عسقلانی دونوں نے سندا صحیح قرار دیا ہے اور ان دونوں کی تصحیح کے بعد کسی تردد کی گنجائش باقی نہیں رہتی اور نہ کسی کا انکار درخور اعتناء ہے۔
حضرت عثمان (رض) کے زمانہ خلافت میں صحابہ (رض) کا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دعا کی درخواست کرنا :
حضرت عثمان بن حنیف (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص اپنے کسی کام سے حضرت عثمان بن عفان (رض) کے پاس جاتا تھا اور حضرت عثمان (رض) اس کی طرف متوجہ نہیں ہوتے تھے ‘ اور نہ اس کے کام کی طرف دھیان دیتے تھے ‘ ایک دن اس شخص کی حضرت عثمان بن حنیف (رض) سے ملاقات ہوئی ‘ اس نے حضرت عثمان بن حنیف (رض) سے اس بات کی شکایت کی ‘ حضرت عثمان (رض) نے اس سے کہا : تم وضو خانہ جا کر وضو کرو ‘ پھر مسجد میں جاؤ اور وہاں دو رکعت نماز پڑھو ‘ پھر یہ کہو : اے اللہ ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور ہمارے نبی، نبی رحمت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وسیلہ سے تیری طرف متوجہ ہوتا ہوں ‘ اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں آپ کے واسطے سے آپ کے رب عزوجل کی طرف متوجہ ہوا ہوں تاکہ وہ میری حاجت روائی کرے اور اپنی حاجت کا ذکر کرنا ‘ پھر میرے پاس آنا حتی کہ میں تمہارے ساتھ جاؤں ‘ وہ شخص گیا اور اس نے حضرت عثمان بن حنیف (رض) کے بتائے ہوئے طریقہ پر عمل کیا ‘ پھر وہ حضرت عثمان بن عفان (رض) کے پاس گیا ‘ دربان نے ان کے لیے دروازہ کھولا اور ان کو حضرت عثمان بن عفان (رض) کے پاس لے گیا، حضرت عثمان (رض) نے اس کو اپنے ساتھ مسند پر بٹھایا اور پوچھا ‘ تمہارا کیا کام ہے ؟ اس نے اپنا کام ذکر کیا ‘ حضرت عثمان (رض) نے اس کا کام کردیا : تم نے اس سے پہلے اب تک اپنے کام کا ذکر نہیں کیا تھا اور فرمایا : جب بھی تمہیں کوئی کام ہو تو تم میرے پاس آجانا ‘ پھر وہ شخص حضرت عثمان (رض) کے پاس چلا گیا اور جب اس کی حضرت عثمان بن حنیف (رض) سے ملاقات ہوئی تو اس نے کہا : اللہ تعالیٰ آپ کو جزاء خیر دے ‘ حضرت عثمان (رض) میری طرف متوجہ نہیں ہوتے تھے اور میرے معاملہ میں غور نہیں کرتے تھے حتی کہ آپ نے ان سے میری سفارش کی ‘ حضرت عثمان بن حنیف (رض) نے کہا : بخدا ! میں نے حضرت عثمان (رض) سے کوئی بات نہیں کی، لیکن ایک مرتبہ میں رسول کی خدمت میں موجود تھا ‘ آپ کے پاس ایک نابینا شخص آیا اور اس نے اپنی نابینائی کی آپ سے شکایت کی ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تم اس پر صبر کرو گے ؟ اس نے کہا : یا رسول اللہ ! مجھے راستہ دکھانے والا کوئی نہیں ہے اور مجھے بڑی مشکل ہوتی ہے ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے فرمایا : تم وضو خانے جاؤ اور وضو کرو ‘ پھر دو رکعت نماز پڑھو ‘ پھر ان کلمات سے دعا کرو ‘ حضرت عثمان بن حنیف (رض) نے کہا : ابھی ہم الگ نہیں ہوئے تھے اور نہ ابھی زیادہ باتیں ہوئی تھیں کہ وہ نابینا شخص آیا درآں حالیکہ اس میں بالکل نابینائی نہیں تھی، یہ حدیث صحیح ہے۔
حافظ زکی الدین عبد العظیم بن عبد القوی منذری متوفی ٦٥٦ ھ نے ” الترغیب والترہیب “ (ج ١ ص ٤٧٦۔ ٤٧٤‘ مطبوعہ دار الحدیث ‘ قاہرہ ‘ ١٤٠٧ ھ) میں اور حافظ الہیثمی (رح) نے مجمع الزوائد (ج ٢ ص ٢٧٩‘ مطبوعہ بیروت) میں اس حدیث کو بیان کرکے لکھا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے۔
شیخ ابن تیمیہ کے حوالے سے حضرت عثمان بن حنیف (رض) کی روایت کی تائید ‘ توثیق اور تصیح :
امام طبرانی (رح) نے اس حدیث کو روایت کر کے کہا : اس حدیث کو شعبہ نے ابوجعفر سے روایت کیا ہے اور شعبہ سے اس حدیث کو صرف عثمان بن عمر (رض) نے روایت کیا ہے اور وہ اس روایت کرنے میں متفرد ہے (یعنی اس کا کوئی متابع نہیں ہے اور یہ حدیث غریب ہے) اور حدیث صحیح ہے ‘ شیخ ابن تیمیہ نے امام طبرانی (رح) پر اعتراض کیا کہ اس حدیث کو شعبہ سے روایت کرنے میں صرف عثمان بن عمر (رض) متفرد نہیں ہے بلکہ روح بن عبادہ نے بھی اس حدیث کو شعبہ سے روایت کیا ہے اور یہ اسناد صحیح ہے ‘ اس کا خلاصہ یہ ہے امام طبرانی (رح) کی یہ روایت دو صحیح سندوں سے مروی ہے ‘ شیخ ابن تیمیہ کی اصل عبارت یہ ہے :
امام طبرانی (رح) نے کہا : اس حدیث کو شعبہ نے ابوجعفر سے روایت کیا ہے اور اس کا نام عمر بن ابی یزید ہے اور وہ ثقہ ہے ‘ عثمان بن ابی عمر ‘ شعبہ سے اس روایت میں متفرد ہے۔ ابوعبداللہ مقدسی نے کہا : اور حدیث صحیح ہے۔
میں کہتا ہوں کہ امام طبرانی (رح) نے اپنے مبلغ علم کے اعتبار سے عثمان بن ابی عمر (رض) کو متفرد کہا ہے ‘ ان کو یہ معلوم نہیں ہوا کہ روح بن عبادہ نے بھی شعبہ سے اس حدیث کو روایت کیا ہے اور یہ اسناد صحیح ہے ‘ اس سے معلوم ہوا کہ عثمان بن ابی عمر (رض) اس روایت میں متفرد نہیں ہے۔ (مجموع الفتاوی ج ١ ص ١٩٥۔ ١٩٤‘ مطبوعہ دارالجیل ‘ ریاض ‘ ١٤١٨ ھ)
طبرانی کی روایت مذکورہ کا صحاح کی دوسری روایت سے تعارض کا جواب :
ایک سوال یہ ہوسکتا ہے کہ حضرت عثمان بن حنیف (رض) کی اس روایت کو امام ترمذی (رح) ‘ امام ابن ماجہ (رح) ‘ امام احمد (رح) اور امام ابن سنی (رح) نے روایت کیا اور اس میں حضرت عثمان (رض) کے زمانہ خلافت میں وسیلہ کے ساتھ دعا کا ذکر نہیں ہے ‘ اس کے برخلاف امام طبرانی (رح) اور امام بیہقی (رح) نے حضرت عثمان بن حنیف (رض) کی اس روایت میں حضرت عثمان (رض) کے زمانہ خلافت میں بھی حضور سے توسل کرنے کا ذکر کیا ہے ‘ اس کی کیا وجہ ہے ؟
اس سوال کا جواب یہ ہے کہ ایک حدیث کو بعض ائمہ اختصار کے ساتھ روایت کرتے ہیں اور بعض ائمہ تفصیل کے ساتھ روایت کرتے ہیں ‘ اعتراض کا محل یہ تھا کہ اس روایت کی سند صحیح نہ ہوتی یا ضعیف ہوتی اور جب شیخ ابن تیمیہ نے خود بیان کیا کہ طبرانی (رح) کی مفصل حدیث دو صحیح سندوں کے ساتھ مروی ہے تو پھر اعتراض کی کب گنجائش ہے ؟
امام بیہقی (رح) نے پہلے دوسندوں کے ساتھ اس حدیث کو اختصارا روایت کیا (دلائل النبوۃ ج ٢ ص ١٦٧۔ ١٦٦) پھر اس حدیث کو روح بن قاسم عن ابی جعفر مدینی عن ابی امامہ بن سہل بن حنیف کی سند سے تفصیل کے ساتھ روایت کیا جیسا کہ امام طبرانی نے روایت کیا ہے اور اس کے بعد مزید یہ کہا :
اس حدیث کو ہشام دستوائی نے از ابو جعفر از ابوامامہ بن سہل از عم خود روایت کیا ہے ‘ ابوامامہ کے چچا حضرت عثمان بن حنیف (رض) ہیں۔ (لائل النبوۃ ج ٦ ص ١٦٨‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت)
امام بیہقی (رح) کی اس مفصل روایت کا اور اس دوسری سند کا شیخ ابن تیمیہ نے بھی ذکر کیا ہے ‘ لکھتے ہیں :
امام بیہقی (رح) نے اس سند کے ساتھ قصہ کو روایت کیا ہے اور اس سے آپ کے وصال کے بعد آپ سے توسل پر استدلال کیا جاتا ہے ‘ بشرطیکہ یہ روایت صحیح ہو (فتاوی ابن تیمیہ ج ١ ص ٢٦٨‘ مطبوعہ بامر فہد بن عبدالعزیز آل السعود)
توسل بعد از وصال پر شیخ ابن تیمیہ کے اعتراضات اور مصنف کے جوابات :
شیخ ابن تیمیہ (رح) نے یہ تو کہا ہے کہ اگر اس حدیث کی سند صحیح ہو تو اس حدیث سے وفات کے بعد وسیلہ ثابت ہے ‘ لیکن انہوں نے اس حدیث کی سند پر کوئی اعتراض نہیں کیا اور اس میں کوئی ضعف نہیں نکال سکے ‘ علاوہ امام بیہقی (رح) کی روایت بیان کرنے کے بعد انہوں نے اسی روایت کو امام طبرانی (رح) کے حوالہ بیان کرچکے ہیں ‘ لہذا جب امام طبرانی (رح) کی روایت صحیح ہے اور اس روایت کی دوسری سند بھی صحیح ہے تو شیخ ابن تیمیہ کے اپنے اقرار کے مطابق وفات کے بعد وسیلہ ثابت ہوگیا اور یہ واضح ہوگیا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وصال کے بعد آپ سے دعا کی درخواست کرنا اور آپ کو یا محمد کے صیغہ سے ندا کرنا صحابہ کرام (رض) کے نزدیک جائز تھا، جبھی حضرت عثمان بن حنیف (رض) نے ایک شخص کو یہ دعا تلقین کی کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں آپ کے وسیلہ سے آپ کے رب کی طرف متوجہ ہوتا ہوں تاکہ وہ میری حاجت پوری کر دے۔
شیخ ابن تیمیہ (رح) نے اس بحث میں جو آخری اعتراض کیا ہے وہ یہ ہے :
حافظ ابوبکر بن خیثمہ نے اپنی تاریخ میں اس حدیث کو ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے :
حضرت عثمان بن حنیف (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک نابینا شخص نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا : میری بینای چلی گئی ہے ‘ آپ اللہ تعالیٰ سے میری لیے دعا کیجئے ‘ آپ نے فرمایا : جا کر وضو کرو اور دو رکعت نماز پڑھو ‘ پھر کہو : اے اللہ ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور تیرے نبی محمد نبی رحمت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وسیلہ سے تیری طرف متوجہ ہوتا ہوں ‘ اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں اپنے رب کے حضور اپنی بصارت لوٹانے کے لیے آپ کی شفاعت طلب کرتا ہوں ‘ اے الہ ! میرے حق میں میری شفاعت کو قبول کر اور میری بصارت لوٹانے میں میری نبی کی شفاعت قبول فرما ‘ اور اگر تمہیں کوئی اور کام ہو تو پھر اسی طرح کرنا پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی بصارت لوٹا دی۔ (فتاوی ابن تیمیہ ج ١ ص ٢٧٥‘ مطبویہ بامر فہد بن عبدالعزیز آل السعود)
اس روایت پر شیخ ابن تیمیہ نے حسب ذیل اعتراضات کیے ہیں :
(١) اگر تمہیں کوئی اور کام ہو تو اسی طرح کرو “ یہ حضرت عثمان بن حنیف (رض) کے الفاظ ہیں ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے الفاظ نہیں ہیں۔
(٢) دوسرے راویوں کی روایت میں یہ الفاظ نہیں ہیں (جیسا کہ گزر چکا ہے) اور اگر بالفرض یہ الفاظ ثابت ہوں تب بھی یہ دلیل نہیں ہے ‘ کیونکہ اس سے زیادہ سے زیادہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ دعا کے بعض الفاظ کافی ہیں ‘ کیونکہ انہوں نے مشروع دعا کرنے کا حکم نہیں دیا بلکہ دعا کے بعض الفاظ کہنے کا حکم دیا ہے۔
(٣) حضرت عثمان بن حنیف (رض) نے یہ گمان کیا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بعد بھی اس طرح (یعنی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وسیلہ سے) دعا کرنا جائز ہے ‘ حالانکہ حدیث کے الفاظ اس کے خلاف ہیں ‘ کیونکہ نابینا صحابی (رض) نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ سوال کیا تھا کہ آپ اس کے لیے دعا کریں اور اس کو یہ یقین تھا کہ آپ اس کے لیے دعا کریں گے اور آپ نے اس کو حکم دیا تھا کہ وہ دعا میں یہ کہے کہ اے اللہ ! حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شفاعت میرے حق میں قبول فرما ! اور اس طریقہ سے یہ دعا اس وقت صحیح ہوگی جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے لیے دعا کریں اور اس کی شفاعت کریں اور جس کو آپ کی دعا کرنے اور آپ کے شفاعت کرنے کا علم نہیں ہے، اس کا اس طریقہ سے دعا کرنا صحیح نہیں ہے ‘ اس طریقہ سے دعا کرنا اور شفاعت طلب کرنا آپ کی حیات دنیاوی میں ہی درست تھا اور یا قیامت کے دن درست ہوگا جب آپ شفاعت فرمائیں گے۔ (فتاوی ابن تیمیہ ج ١ ص ٢٧٦۔ ٢٧٤‘ مطبوعہ بامر فہدبن عبدالعزیز)
پہلے سوال کا جواب یہ ہے کہ اگر یہ الفاظ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نہ ہوں بلکہ حضرت عثمان بن حنیف (رض) ہی کے ہوں تب بھی کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ کسی چیز کے جائز ناجائز ہونے میں شیخ ابن تیمیہ کی بہ نسبت صحابی رسول کی فہم اور ان کے اجتہاد پر اعتماد کرنا زیادہ قرین قیاس ہے۔
دوسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ حافظ ابن ابی خیثمہ کی اس روایت سے ہمارا استدلال نہیں ہے ‘ اگر اس پر شیخ کو اعتراض ہے تو اس روایت کو ہم چھوڑ دیتے ہیں ‘ ہمارا استدلال تو امام طبرانی (رح) کی روایت ہے جس کے متعلق خود شیخ ابن تیمیہ (رح) نے تصریح کی ہے کہ یہ دو صحیح سندوں سے مروی ہے۔
تیسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ جب ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دعا کی درخواست کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ آپ کی اس درخواست کی طرف متوجہ کردیتا ہے یا اس درخواست پر مطلع کردیتا ہے ‘ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہماری دعا کی قبولیت کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور شفاعت کرتے ہیں اور اس میں کون سا شرعی یا عقلی استبعاد ہے ؟
امام مسلم (رح) روایت کرتے ہیں :
حضرت ابوذر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھ پر میری امت کے اچھے اور برے تمام اعمال پیش کیے جاتے ہیں۔ (صحیح مسلم ج ١ ص ٢٠٧‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)
اس حدیث کے پیش نظر جب آپ کا کوئی امتی آپ سے دعا کی درخواست کرے گا تو آپ کو اس کا علم ہوجائے گا اور آپ اس کی شفاعت فرمائیں گے ‘ کیونکہ آپ نے خود اپنے وسیلہ سے دعا کرنے اور دعا کی درخواست کرنے کی ہدایت دی ہے اور اس ہدایت کو عام رکھا ہے اور اس میں حیات یا بعد از وفات کی قید نہیں لگائی ‘ اس لیے شیخ ابن تیمیہ (رح) کا یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ ” اور اس طریقہ سے دعا اس وقت صحیح ہوگی، جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے لیے دعا کریں اور اس کی شفاعت کریں اور جس کو آپ کے دعا کرنے اور آپ کے شفاعت کرنے کا علم نہیں ہے اس کا اس طریقہ سے دعا کرنا صحیح نہیں ہے “ کیونکہ حیات اور ممات میں وسیلہ کے جواز اور عدم جواز کا فرق علم کے ہونے یا نہ ہونے کی وجہ سے ہوسکتا تھا اور آپ کے ہر دو صورت میں علم حاصل ہے۔
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تمام احکام مسلمانوں کے لیے قیامت تک کے لیے حجت ہیں اور آپ کے افعال مسلمانوں کے لیے اسوہ اور نمونہ ہیں ‘ اگر آپ کا کوئی حکم صرف آپ کی حیات مبارکہ کے ساتھ مخصوص ہو اور بعد کے لوگوں کے لیے اس کا کرنا جائز ہو تو آپ پر لازم ہے کہ آپ یہ بیان فرمائیں کہ یہ حکم میری زندگی کے ساتھ خاص ہے اور بعد کے لوگوں کے لیے اس حکم عمل کرنا جائز نہیں ہے جیسا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوبردہ بن نیار (رض) کو ایک شش ماہہ بکرے کی قربانی کرنے کا حکم دیا اور فرما دیا : تمہارے بعد کسی کے لیے یہ عمل جائز نہیں ہے ‘ امام بخاری روایت کرتے ہیں :
حضرت براء (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو بردہ (رض) نے نماز عید سے پہلے قربانی کرلی ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کے بدلہ میں اور قربانی کرو ‘ انہوں نے کہا : میرے پاس صرف چھ ماہ کا ایک بکرا ہے جو سال کے بکرے سے فربہ ہے آپ نے فرمایا : اس کے بدلہ میں اس کی قربانی کردو ‘ اور تمہارے بعد کسی اور کے لیے شش ماہہ بکرے کی قربانی جائز نہیں ہوگی۔ (صحیح بخاری ج ٢ ص ٨٣٤‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)
نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ استثناء اس لیے بیان فرمایا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تمام اقوال اور افعال مسلمانوں کے حق میں قیامت تک کے لیے حجت ہیں اگر آپ یہ استثناء نہ فرماتے تو چھ ماہ کے بکرے کی قربانی سب کے لیے قیامت تک جائز ہوجاتی ‘ شیخ ابن تیمیہ (رح) کہتے ہیں : وفات کے بعد کسی بزرگ سے دعا کی درخواست کرنا شرک کی طرف لے جاتا ہے۔
ہر چند کہ انبیاء اور صالحین اپنی اپنی قبروں میں زندہ ہیں اور اگر یہ فرض کیا جائے کہ وہ زندوں کے لیے دعا کرتے ہیں اور بیشک اس کی تائید میں احادیث بھی ہیں ‘ پھر بھی کسی شخص کے لیے ان سے دعا کو طلب کرنا جائز نہیں ہے اور پہلے لوگوں میں سے کسی نے یہ نہیں کیا کیونکہ یہ شرک کا سبب ہے ‘ اور اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کا ذریعہ ہے ‘ اس کے برخلاف اگر ان کی زندگی میں ان سے دعا طلب کی جائے تو یہ شرک نہیں ہے۔ (فتاوی ابن تیمیہ ج ١ ص ٣٣٠‘ مطبوعہ بامر فہد بن عبدالعزیز آل السعود)
شیخ ابن تیمیہ (رح) کا یہ قاعدہ باطل ہے کیونکہ وفات کے بعد کسی سے دعا کی درخواست کرنا شرک کا سبب ہوتا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس نابینا صحابی سے فرما دیتے کہ اس طریقہ سے دعا کرنا صرف میری زندگی میں جائز ہے اور میرے وصال کے بعد اس طریقہ سے دعا کرنا جائز نہیں ہے ‘ بلکہ شرک کا سبب ہے ‘ کیونکہ آپ کی بعثت کا مقصد ہی شرک کی بیخ کنی کرنا تھا اور جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بغیر کسی استثناء کے نابینا صحابی کو دعا کا یہ طریقہ تعلیم کیا تو معلوم ہوا کہ قیامت تک اس طریقہ سے دعا کرنا جائز ہے اور صحابی رسول حضرت عثمان بن حنیف (رض) نے اس حدیث سے یہی سمجھا تھا ‘ اسی وجہ سے انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد بھی ایک شخص کو دعا کا یہ طریقہ بتلایا اور ہمارے لیے صحابی رسول کے طریقہ کی اتباع کرنا ‘ شیخ ابن تیمیہ (رح) کے افکار کی اتباع کرنے سے بہتر ہے۔
توسل بعد از وصال کے متعلق شیخ عبدالحق محدث دہلوی کا نظریہ :
شیخ عبدالحق محدث دہلوی لکھتے ہیں :
کاش میری عقل ان لوگوں کے پاس ہوتی ‘ جو لوگ اولیاء اللہ سے استمداد اور ان کی امداد کا انکار کرتے ہیں ‘ یہ اس کا کیا مطلب سمجھتے ہیں ؟ جو کچھ ہم سمجھتے ہیں وہ یہ ہے کہ دعا کرنے والا ‘ اللہ کا محتاج ہے اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہے اور اس سے اپنی حاجت کو طلب کرتا ہے اور یہ عرض کرتا ہے کہ اے اللہ ! تو نے اپنے اس بندہ مکرم پر جو رحمت فرمائی ہے اور اس پر جو لطف و کرم کیا ہے اس کے وسیلہ سے میری اس حاجت کو پورا فرما ‘ کہ تو دینے والا کریم ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ وہ اس اللہ کے ولی کو ندا کرتا ہے اور اس کو مخاطب کرکے یہ کہتا ہے کہ اے بندہ خدا اور اے اللہ کے ولی ! میری شفاعت کریں اور اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کریں کہ وہ میرا سوال اور مطلوب مجھے عطا کرے اور میری حاجت برلائے ‘ سو مطلوب کو دینے والا اور حاجت کو پورا کرنے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے ‘ اور یہ بندہ درمیان میں صرف وسیلہ ہے ‘ اور قادر ‘ فاعل اور اشیاء میں تصرف کرنے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے ‘ اور اولیاء اللہ ‘ اللہ تعالیٰ کے فعل ‘ سطوت ‘ قدرت اور غلبہ میں فانی اور ہلاک ہیں اور ان کو اب قبر میں افعال پر قدرت اور تصرف حاصل ہے اور نہ اس وقت قدرت اور تصرف حاصل تھا ‘ جب وہ زندہ تھے۔
اور امداد واستمداد کا جو معنی میں نے ذکر کیا ہے اگر موجب شرک اور غیر اللہ کی طرف توجہ کو مستلزم ہوتا جیسا کہ منکر کا زعم فاسد ہے تو چاہیے یہ تھا کہ صالحین سے طلب دعاء اور توسل زندگی میں بھی ناجائز ہوتا حالانکہ یہ بجائے ممنوع ہونے کے بالاتفاق جائز اور مستحسن ومستحب ہے ‘ اور اگر منکر یہ کہیں کہ موت کے بعد اولیاء اللہ اپنے مرتبہ سے معزول ہوجاتے ہیں اور زندگی میں جو فضیلت و کرامت انہیں حاصل تھی وہ باقی نہیں رہی تو اس پر کیا دلیل ہے ؟
اور اگر یوں کہیں کہ بعد موت کے وہ ایسی آفات وبلیات میں مبتلا ہوئے کہ انہیں دعا وغیرہ کی فرصت نہ رہی تو یہ قاعدہ کلیہ نہیں ہے اور نہ اس پر دلیل ہے کہ اولیاء کے لیے ابتلا قیامت تک رہتا ہے ‘ زیادہ سے زیادہ جو کہا جاسکتا ہے وہ یہ ہے کہ ہر اہل قبر سے استمداد سود مند نہیں ہوتی بلکہ یہ بھی ممکن ہے کہ بعض اولیاء جذب و استغراق کی کیفیت میں ہوں اور عالم لاہوت کے مشاہدہ میں اس طرح منہمک ہوں کہ اس دنیا کے حالات کی طرف توجہ اور شعور نہ رہے تو وہ اس دنیا میں تصرف نہ کریں جیسا کہ دنیا میں بھی اولیا اللہ کے حالات مختلف ہوتے ہیں۔ ہاں اگر اولیاء اللہ کے حق میں زائرین کا یہ اعتقاد ہو کہ وہ مدد کرنے میں مستقل ہیں اور اللہ کی جانب میں توجہ کئے بغیر بطور خود ذاتی قدرت سے امداد کرتے ہیں ‘ جیسے بعض جہلاء کا عقیدہ ہے کہ وہ قبرکو بوسہ دیتے ہیں اور سجدہ کرتے ہیں اور اس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے ہیں ‘ یہ تمام افعال ممنوع اور حرام ہیں اور ناواقف عوام کے افعال کا کوئی اعتبار نہیں ‘ اور وہ خارج از بحث ہیں اور عارف بشریعت و عالم بہ احکام بہ احکام دین ان تمام منکرات سے سخت بیزار ہیں اور مشائخ اور اہل کشف سے ارواح کا ملہ سے استفادہ کے بارے میں جو کچھ مروی ہے وہ حصر سے خارج ہے اور ان کی کتابوں میں مشہور اور مذکور ہے ‘ حاجت نہیں کہ ہم اس کا ذکر کریں اور ممکن ہے کہ وہ منکر متعصب کو فائدہ نہ دے۔ اللہ تعالیٰ ہم کو اس بدعقیدگی سے محفوظ رکھے۔ (اشعۃ اللمعات ج ٣ ص ٤٠٢۔ ٤٠١ مبطوعہ مطبع تیج کمار ‘ لکھنو)
توسل بعد از وصال کے متعلق علامہ آلوسی (رح) کا نظریہ :
علامہ آلوسی (رح) لکھتے ہیں :
نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی میں اور آپ کے وصال کے بعد آپ کی عزت اور وجاہت کے وسیلہ سے اللہ سے دعا کرنے میں میرے نزدیک کوئی حرج نہیں ہے ‘ اور آپ کی وجاہت سے یہاں اللہ تعالیٰ کی ایک صفت مراد ہے۔ مثلا اللہ تعالیٰ کی آپ سے وہ کامل محبت جس کا یہ تقاضا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کی دعا کو مسترد نہ کرے اور آپ کی شفاعت کو قبول فرمائے ‘ اور جب کوئی شخص دعا میں کہتا ہے : اے اللہ ! میں اپنی اس حاجت کے پورا ہونے میں تیری محبت کو وسیلہ بناتا ہوں اور اس دعا میں اور تمہارے اس قول میں کوئی فرق نہیں ہے کہ اے اللہ ! میں تیری رحمت کو وسیلہ بناتا ہوں کہ تو میرا یہ کام کردے ‘ بلکہ میں یہ کہنا بھی جائز سمجھتا ہوں کہ کوئی شخص یہ کہے کہ اے اللہ ! میں تجھ کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وجاہت کی قسم دیتا ہوں کہ تو یہ کام کر دے۔
وجاہت اور حرمت کے ساتھ سوال کرنے میں ایک جیسی بحث ہے ‘ توسل اور ذات محض کی قسم دینے میں یہ بحث جاری نہیں ہوگی ‘ ہاں وجاہت اور حرمت کے وسیلہ سے دعا کرنا کسی صحابی سے منقول نہیں ہے اور شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ صحابہ (رض) وسیلہ کے ساتھ دعا کرنے سے اس لیے اجتناب کرتے تھے کہ لوگوں کے ذہنوں میں کوئی بدعقیدگی جگہ نہ پکڑے ‘ کیونکہ ان کا زمانہ بتوں کے ساتھ توسل کرنے کے قریب تھا ‘ اس کے بعد ائمہ طاہرین نے بھی صحابہ (رض) کی اقتداء میں وسیلہ کے ساتھ دعا نہیں کی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کعبہ کی اس وقت کی عمارت کو منہدم کر کے بناء ابراہیم پر اس کو دوبارہ تعمیر کرنا چاہتے تھے ‘ لیکن چونکہ آپ کی قوم تازہ تازہ کفر سے نکلی تھی ‘ اس لیے آپ نے فتنہ پیدا ہونے کے خدشہ سے اپنے ارادہ کو ترک کردیا جیسا کہ حدیث صحیح میں ہے ‘ میں نے وجاہت سے توسل اور قسم دینے کا جواز اور اس کی توجیہ اس لیے بیان کی ‘ تاکہ عام مسلمانوں کو اس دعا میں حرج نہ ہو ‘ کیونکہ بعض لوگ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وجاہت کے وسیلہ سے دعا کرنے پر گمراہی کا حکم لگانے کا دعوی کرتے ہیں، اس تقریر سے میرا یہ مقصد نہیں ہے کہ اس طرح وسیلہ سے دعا کرنا ان دعاؤں سے افضل ہے ‘ جو قرآن مجید اور احادیث میں مذکور ہیں اور جن دعاؤں پر صحابہ کرام (رض) کاربند رہے اور اخیار تابعین نے جس طریقہ کو اپنا یا ‘ یقیناً دعا کا یہی طریقہ زیادہ اچھا ‘ زیادہ جامع ‘ زیادہ نفع آور اور زیادہ سلامتی والا ہے۔ (روح المعانی ج ٦ ص ١٢٨‘ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت)
توسل بعدازوصال کے متعلق غیر مقلد عالم شیخ الزمان کا نظریہ :
شیخ وحید الزمان لکھتے ہیں : جب دعا میں غیر اللہ کے وسیلہ کا جواز ثابت ہے تو اس کو زندوں کے ساتھ خاص کرنے پر کیا دلیل ہے ؟ حضرت عمر (رض) نے جو حضرت عباس (رض) کے وسیلہ سے دعا کی تھی، وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وسیلہ سے ممانعت پر دلیل نہیں ہے ‘ انہوں نے حضرت عباس (رض) کے وسیلہ سے اس لیے دعا کی تاکہ حضرت عباس (رض) کو لوگوں کے ساتھ دعا میں شریک کریں ‘ اور انبیاء (علیہم السلام) اپنی قبروں میں زندہ ہیں ‘ اسی طرح شہداء اور صالحین بھی زندہ ہیں ‘ ابن عطاء نے ہمارے شیخ ابن تیمیہ کے خلاف دعوی کیا ‘ پھر اس کے سوا اور کچھ ثابت نہیں کیا کہ بطور عبادت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے استعانت کرنا جائز نہیں ہے ‘ ہاں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا وسیلہ پیش کرنا جائز ہے ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بعد حضرت عثمان بن حنیف (رض) نے اس شخص کو آپ کے وسیلہ سے دعا تعلیم کی جو حضرت عثمان (رض) کے پاس جاتا تھا اور حضرت عثمان (رض) اس کی طرف التفات نہیں کرتے تھے، اس دعا میں یہ الفاظ تھے : اے اللہ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور ہمارے نبی محمد نبی رحمت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وسیلہ سے تیری طرف متوجہ ہوتا ہوں، اس حدیث کو امام بیہقی (رح) نے سند متصل کے ساتھ ثقہ راویوں سے روایت کیا ہے : کاش میری عقل ان منکرین کے پاس ہوتی ! جب کتاب اور سنت کی تصریح سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اعمال صالحہ کا وسیلہ پیش کرنا جائز ہے تو صالحین کے وسیلہ کو بھی اس پر قیاس کیا جائے گا اور امام جزری نے ” حصن حصین “ کے آداب دعا میں لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں انبیاء اور صالحین کا وسیلہ پیش کرنا چاہیے ‘ اور ایک اور حدیث میں ہے : یا محمد ! میں آپ کے وسیلہ سے اپنے رب کی طرف متوجہ ہوتا ہوں ‘ سید نے کہا کہ یہ حدیث حسن ہے موضوع نہیں ہے ‘ امام ترمذی (رح) نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے ‘ ایک حدیث میں ہے : میں تیرے نبی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور موسیٰ (علیہ السلام) کے وسیلہ سے سوال کرتا ہوں ‘ اس کو علامہ ابن اثیر (رح) نے ” نہایہ “ میں اور علامہ طاہر پٹنی (رح) نے ” مجمع بحار الانوار “ میں ذکر کیا ہے ‘ اور امام حاکم (رح) ‘ امام طبرانی (رح) اور امام بیہقی (رح) نے ایک حدیث میں حضرت آدم (علیہ السلام) کی اس دعا کو روایت کیا ہے : اے اللہ ! میں تجھ سے بحق محمد سوال کرتا ہوں ‘ اور ابن منذر (رح) نے روایت کیا ہے : اے اللہ ! تیرے نزدیک محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جو وجاہت اور عزت ہے میں اس کے وسیلہ سے سوال کرتا ہوں ‘ علامہ سبکی (رح) نے کہا ہے کہ وسیلہ پیش کرنا ‘ مدد طلب کرنا اور شفاعت طلب کرنا مستحسن ہے ‘ علامہ قسطلانی (رح) نے یہ اضافہ کیا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وسیلہ سے اللہ کی طرف متوجہ ہو کر آہ وزاری کرنے کا متقدمین اور متاخرین میں سے کسی نے انکار نہیں کیا تھا حتی کہ ابن تیمیہ آیا اور اس نے انکار کیا ‘ قاضی شوکانی نے کہا کہ انبیاء میں سے کسی نبی ‘ اولیاء میں سے کسی ولی اور علماء میں سے کسی عالم کا بھی وسیلہ پیش کرنا جائز ہے جو شخص قبر پر جا کر زیارت کرے یا فقط اللہ سے دعا کرے اور اس میت کے وسیلہ سے دعا کرے کہ اللہ میں تجھ سے یہ دعا کرتا ہوں کہ تو مجھے فلاں بیماری سے شفاء دے اور میں اس نیک بندے کے وسیلہ سے تجھ سے سوال کرتا ہوں تو اس دعا کے جواز میں کوئی شک نہیں ہے۔ قاضی شوکانی کا کلام ختم ہوا۔ (ہدیۃ المہدی ص ٤٩‘ مطبوعہ میور پریس ‘ دہلی ‘ ١٣٢٥ ھ)
توسل بعد از وصال کے متعلق غیر مقلد عالم قاضی شوکانی کا نظریہ :
غیرمقلد عالم شیخ مبارکپوری ” الدرالنضید “ سے قاضی شوکانی کی عبارت نقل کرتے ہیں :
انبیاء اور صالحین کے توسل سے منع کرنے والے قرآن مجید کی ان آیات سے استدلال کرتے ہیں : ہم ان کی صرف اس لیے عبادت کرتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ کے قریب کردیں۔ (الزمر : ٣) اللہ کے ساتھ کسی کی عبادت نہ کرو۔ (جن : ١٨) اسی کو (معبود سمجھ کر) پکارنا برحق ہے ‘ اور جو لوگ اللہ کے سوا دوسروں کو (معبود سمجھ کر) پکارتے ہیں جو ان کو کوئی جواب نہیں دے سکتے۔ (الرعد : ١٤) ان آیات سے استدلال صحیح نہیں ہے ‘ کیونکہ سورة زمر کی آیت نمبر ٣ میں یہ تصریح ہے کہ مشرکین بتوں کی عبادت کرتے تھے اور جو شخص مثلا کسی عالم کے وسیلہ سے دعا کرتا ہے وہ اس کی عبادت نہیں کرتا بلکہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس عالم کے علم کی وجہ سے اس کی اللہ تعالیٰ کے نزدیک فضیلت اور وجاہت ہے ‘ وہ اس وجہ سے اسی کے وسیلہ سے دعا کرتا ہے وہ اس کی عبادت نہیں کرتا بلکہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس عالم کے علم کی وجہ سے اس کی اللہ تعالیٰ کے نزدیک فضیلت اور وجاہت ہے ‘ وہ اس وجہ سے اس کے وسیلہ سے دعا کرتا ہے ‘ اس طرح سورة جن کی آیت نمبر ١٨ میں اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک کرکے پکارنے (یا عبادت کرنے) سے منع کیا ہے ‘ مثلا کوئی شخص کہے : میں اللہ اور فلاں کی عبادت کرتا ہوں ‘ اور جو شخص مثلا کسی عالم کے وسیلہ سے دعا کرتا ہے وہ صرف اللہ سے دعا کرتا ہے اور اللہ کے بعض نیک بندوں کے اعمال صالحہ کے وسیلہ پیش کرتا ہے، جیسا کہ ایک غار میں تین شخص تھے اور اس غار کے منہ پر ایک چٹان گرگئی تو انہوں نے اپنے اعمال صالحہ کے وسیلہ سے دعا کی ‘ اسی طرح سورة رعد کی آیت نمبر ١٤ میں ان لوگوں کی مذمت کی ہے جو ان لوگوں کو (معبود سمجھ کر) پکارتے تھے جو ان کو کوئی جواب نہیں دے سکتے تھے اور اپنے رب کو نہیں پکارتے تھے جو ان کی دعا قبول کرتا ہے اور جو شخص مثلا کسی عالم کے وسیلہ سے دعا کرتا ہے ‘ وہ صرف اللہ سے دعا کرتا ہے اور کسی اور سے دعا نہیں کرتا ‘ اللہ کے بغیر نہ اللہ کے ساتھ۔ (تحفۃ الاحوذی ج ٤ ص ٢٨٣‘ مطبوعہ نشر السنۃ ‘ ملتان)
انبیاء (علیہم السلام) اور بزرگان دین سے براہ راست استمداد کے متعلق احادیث :
انبیاء (علیہم السلام) اور بزرگاں دین سے براہ راست مدد طلب کرنے کی اصل یہ حدیث ہے :
امام ابن ابی شیبہ (رح) روایت کرتے ہیں :
حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : کراما کاتبین کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے فرشتے مقرر کیے ہیں جو درختوں سے گرنے والے پتوں کو لکھ لیتے ہیں ‘ جب تم میں سے کسی شخص کو سفر میں کوئی مشکل پیش آئے تو وہ یہ ندا کرے : اے اللہ کے بندو ! تم پر اللہ رحم فرمائے میری مدد کرو۔ (المصنف ج ١٠ ص ٣٩٠ مطبوعہ ادارۃ القرآن ٗکراچی ٗ ٦۔ ١٤ ھ)
حافظ ابوبکر دینوری معروف بابن السنی اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم میں سے کسی ایک شخص کی سواری ویران زمین میں بھاگ جائے تو وہ یہ ندا کرے : اے اللہ کے نیک بندو ! اس کو روک لو ‘ اے اللہ کے نیک بندو اس کو روک لو ‘ کیونکہ زمین میں اللہ عزوجل کے کچھ روکنے والے ہیں جو اس کو روک لیتے ہیں۔ (عمل الیوم واللیلہ ص ١٦٢‘ مطبوعہ مطبع مجلس الدائرۃ المعارف ‘ حیدر آباد دکن ‘ ١٣١٥ ھ)
امام بزار (رح) اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کراما کاتبین کے سوا ‘ اللہ تعالیٰ کے فرشتے ہیں جو درخت سے گرنے والے پتوں کو لکھ لیتے ہیں ‘ جب تم میں سے کسی شخص کو جنگل کی سرزمین میں کوئی مشکل پیش آئے تو وہ یہ ندا کرے : اے اللہ کے نیک بندو ! میری مدد کرو۔
(کشف الاستار عن زوائد البزارج ٤ ص ٣٤‘ مطبوعہ، وسستہ الرسالۃ بیروت)
حافظ الہیثمی (رح) بیان کرتے ہیں :
حضرت عتبہ بن غزوان (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص کسی چیز کو گم کر دے درآن حالیکہ وہ کسی اجنبی جگہ پر ہو تو اس کو یہ کہنا چاہیے کہ اے اللہ کے بندو ! میری مدد کرو ‘ کیونکہ اللہ کے کچھ ایسے بندے ہیں جن کو ہم نہیں دیکھتے۔ یہ امر مجرب ہے ‘ اس حدیث کو امام طبرانی (رح) نے روایت کیا اور اس کے بعض راویوں کے ضعف کے باوجود ان کی توثیق کی گئی ہے ‘ البتہ یزید بن علی نے حضرت عتبہ کو نہیں پایا۔ (مجمع الزوائد ج ١٠ ص ١٣٢‘ مطبوعہ دارالکتاب العربی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٢ ھ)
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کراما کاتبین کے سوا اللہ کے فرشتے ہیں جو درخت سے گرنے والے پتوں کو لکھ لیتے ہیں ‘ جب کسی ویران زمین پر کسی کو مشکل پیش آئے تو وہ یہ ندا کرے : اے اللہ کے نیک بندو ! میری مدد کرو (مجمع الزوائد ج ١٠ ص ١٣٢‘ مطبوعہ دارالکتاب العربی ‘ بیروت ‘ ١٣٠١٤ ھ)
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم میں سے کسی ایک کی سواری ویران زمین میں بھاگ جائے تو وہ یہ ندا کرے : اے اللہ کے نیک بندو ! روک لو ‘ اے اللہ کے نیک بندو ! روک لو ‘ اے اللہ کے نیک بندو روک لو ‘ کیونکہ زمین میں اللہ تعالیٰ کے روکنے والے ہیں جو اس کو عنقریب روک لیں گے ‘ اس کو امام ابویعلی (رح) اور طبرانی (رح) نے روایت کیا ہے اور طبرانی (رح) کی روایت میں یہ اضافہ ہے : وہ اس کو تمہارے لیے روک لیں گے۔
(مجمع الزوائد ج ١٠ ص ١٣٢‘ مطبوعہ دارالکتاب العربی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٢ ھ)
رجال غیب (ابدال) سے استمداد کے متعلق فقہاء اسلام کے نظریات :
علامہ نووی ‘ امام ابن السنی کی کتاب سے حضرت عبد اللہ بن مسعود (رض) کی روایت نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں : مجھ سے میرے بعض اساتذہ نے بیان کیا جو بہت بڑے عالم تھے کہ ایک مرتبہ ریگستان میں ان کی سواری بھاگ گئی، ان کو اس حدیث کا علم تھا انہوں نے یہ کلمات کہے : (اے اللہ کے بندو ! روک لو) اللہ تعالیٰ نے اس سواری کو اسی وقت روک دیا۔ (علامہ نووی فرماتے ہیں :) ایک مرتبہ میں ایک جماعت کے ساتھ سفر میں تھا ‘ اس جماعت کی ایک سواری بھاگ گئی ‘ وہ اس کو روکنے سے عاجز آگئے ‘ میں نے یہ کلمات کہے تو بغیر کسی اور سبب کے صرف ان کلمات کی وجہ سے وہ سواری اسی وقت رک گئی۔ (کتاب الاذکار ص ٢٠١‘ مطبوعہ دار الفکر ‘ بیروت ‘ طبع رابع ‘ ١٣٧٥ ھ)
ملاعلی قاری نے بھی علامہ نووی کی عبارت کو نقل کیا ہے۔ (الحرز الثمین شرح حصن حصین علی ہامش الدرالغالی ص ٣٧٨‘ مطبوعہ المبطعۃ المنیریہ ‘ مکہ مکرمہ ‘ ١٣٠٤ ھ)
شیخ شوکانی نے بھی علامہ نووی (رح) کی اس عبارت کو نقل کیا ہے (تحفۃ الذاکرین بعدۃ الحصن الحصین ص ١٥٥‘ مطبوعہ مطبع مصطفے البابی واولادہ مصر ‘ ١٣٥٠ ھ)
ملاعلی قاری ” یاعباد اللہ “ کی شرح میں لکھتے ہیں :
” اے اللہ کے بندو “ اس سے مراد فرشتے ہیں یا مسلمان جن یا اس سے مردان غیب مراد ہیں جن کو ابدال کہتے ہیں (یعنی اولیاء اللہ) ۔ (الحرز المثین علی ہامش الدرالغالی ص ٣٧٨‘ مطبوعہ المطبعۃ المیریہ ‘ مکہ مکرمہ ‘ ١٣٠٤ ھ)
شیخ محمد بن جزری نے ” حصن حصین “ میں اس حدیث کو طبرانی ‘ ابویعلی ‘ ابن السنی ‘ بزار اور ابن ابی شیبہ کے حوالوں سے درج کیا ہے ‘ ان تمام ورایات کو درج کرنے کے بعد ملاعلی قاری لکھتے ہیں :
بعض ثقہ علماء نے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن ہے اور مسافروں کو اس کی ضرورت پڑتی ہے اور مشائخ سے مروی کہ یہ امر مجرب ہے۔ (الحرز المثین علی ہامش الدرالغالی ص ٣٧٩‘ مطبوعہ المطبعۃ المیریہ ‘ مکہ مکرمہ ‘ ١٣٠٤ ھ)
شیخ شوکانی ‘ حضرت ابن عباس (رض) کی روایت میں لکھتے ہیں :
مجمع الزوائد میں ہے کہ اس حدیث کے روای ثقہ ہیں ‘ اس حدیث میں ان لوگوں سے مدد حاصل کرنے پر دلیل ہے جو نظر نہ آتے ہوں ‘ جیسے فرشتے اور صالح جن ‘ اور اس میں کوئی حرج نہیں ہے ‘ جیسا کہ جب سواری کھسک جائے یا بھاگ جائے تو انسانوں سے مدد حاصل کرنا جائز ہے۔ (تحفۃ الذاکرین ص ١٥٦۔ ١٥٥‘ مطبوعہ مطبع مصطفے البابی و اولا دہ ‘ مصر ‘ ١٣٥٠ ھ)
امام ابن اثیر اور حافظ ابن کثیر کے حوالوں سے عہد صحابہ (رض) میں ندائے یا محمداہ کا رواج :
عہد صحابہ اور تابعین میں مسلمانوں کا یہ شعار تھا کہ وہ شدائد اور ابتلاء کے وقت ” یا محمداہ “ کہہ کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ندا کرتے تھے۔
جنگ یمامہ میں جب مسیلمہ کذاب اور مسلمانوں کے درمیان گھمسان کی لڑائی ہو رہی تھی ‘ اس کا نقشہ کھینچنے کے بعد علامہ ابن اثیر لکھتے ہیں :
پھر حضرت خالد بن ولید نے (دشمن کو) للکارا اور للکارنے والوں کو دعوت (قتال) دی ‘ پھر مسلمانوں کے معمول کے مطابق یا محمداہ کہہ کر نعرہ لگایا ‘ پھر وہ جس شخص کو بھی للکارتے اس کو قتل کردیتے تھے۔ (الکامل فی التاریخ ج ٢ ص ٢٤٦‘ مطبوعہ دار الکتاب العربیہ بیروت)
حافظ ابن کثیر بھی جنگ کے اس منظر کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں :
پھر حضرت خالدرضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مسلمانوں کے معمول کے مطابق نعرہ لگایا اور اس زمانہ میں ان کا معمول یا محمداہ کا نعرہ لگانا تھا۔ (البدایہ والنہایہ ج ٦ ص ٣٢٤‘ مطبوعہ دارا الفکر ‘ بیروت)
حافظ ابن اثیر اور ابن کثیر نے یہ تصریح کی ہے کہ عہد صحابہ اور تابعین میں شدائد اور ابتلاء کے وقت یا محمداہ کہنے کا معمول تھا ‘ ندائے غائب کے منکرین کے ہاں حافظ ابن کثیر کی بہت پذیرائی ہے اور ان کا یہ لکھنا کہ عہد صحابہ وتابعین میں یا محمداہ کہنے کا معمول تھا ‘ ان کے خلاف قوی حجت ہے۔
حافظ ابن حجر عسقلانی نے ” المطالب العالیہ “ میں ذکر کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر عیسیٰ میری قبر پر کھڑے ہو کر ” یا محمد “ کہیں تو میں ان کو ضرور جواب دوں گا۔ (المطالب العالیہ ج ٤ ص ٣٤٩‘ مطبوعہ مکہ مکرمہ)
ندائے یا محمد اور توسل میں علماء دیوبند کا موقف :
شیخ رشید احمد گنگوہی ” یا رسول اللہ انظرحالنا ‘ یا نبی اللہ اسمع قالنا “ کے جواز یاعدم جواز کی بحث میں لکھتے ہیں : یہ خود معلوم آپ کو ہے کہ ندا غیر اللہ تعالیٰ کو دور سے شرک حقیقی جب ہوتا ہے کہ ان کو عالم سامع مستقل عقیدہ کرے ورنہ شرک نہیں ‘ مثلا یہ جانے کہ حق تعالیٰ انکو مطلع فرما دیوے گا یا باذنہ تعالیٰ انکشاف ان کو ہوجاوے گا یا باذنہ تعالیٰ ملائکہ پہنچا دیویں گے جیسا کہ درود کی نسبت وارد ہے ‘ یا محض شوقیہ کہتا ہو محبت میں یا عرض حال محل تحسر و حرمان میں ‘ ایسے مواقع میں اگرچہ کلمات خطابیہ بولتے ہیں لیکن ہرگز نہ مقصود اسماع ہوتا ہے نہ عقیدہ ‘ پس ان ہی اقسام سے کلمات مناجات واشعار بزرگان کے ہوتے ہیں کہ فی حد ذاتہ نہ شرک ہیں نہ معصیت مگر ہاں بہ وجہ موہم ہونے کے ان کلمات کا مجامع میں کہنا مکروہ ہے کہ عوام کو ضرر ہے اور فی حد ذاتہ ابہام بھی ہے ‘ لہذا نہ ایسے اشعار کا پڑھنا منع ہے اور نہ اس کے مولف پر طعن ہوسکتا ہے (الی قولہ) مگر اسی طرح پڑھنا اور پڑھوانا کہ اندیشہ عوام کا ہو بندہ پسند نہیں کرتا گو اس کو معصیت بھی نہیں کہہ سکتا مگر خلاف مصلحت وقت کے جانتا ہے۔ (فتاوی رشیدیہ کامل ص ٢٨‘ مطبوعہ محمد سعید اینڈ سنز ‘ کراچی)
گویا محمد یا رسول اللہ کے نعروں سے علماء دیوبند کا منع کرنا ذاتی نا پسندیدگی کی وجہ سے ہے کوئی حکم شرعی نہیں ہے۔ شیخ گنگوہی سے سوال کیا گیا :
سوال : اشعار اس مضمون کے پڑھنے : ” یا رسول کبریا فریاد ہے ‘ یا محمد مصفطے فریاد ہے ‘ مدد کر بہر خدا حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میری تم سے ہر گھڑی فریاد ہے “ کیسے ہیں ؟
جواب : ایسے الفاظ پڑھنے محبت میں اور خلوت میں بایں خیال کہ حق تعالیٰ آپ کی ذات کو مطلع فرما دیوے یا محض محبت سے بلا کسی خیال سے جائز ہیں اور بعقیدہ عالم الغیب اور فریاد رس ہونے کے شرک ہیں اور مجامع میں منع ہیں کہ عوام کے عقائد کو فاسد کرتے ہیں ‘ لہذا مکروہ ہوں گے۔ (فتاوی رشیدیہ کامل ص ٩٥‘ مطبوعہ محمد سعید اینڈ سنز کراچی)
عام مسلمان رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عالم الغیب نہیں سمجھتے ‘ عالم الغیب صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے ‘ البتہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایسی صفت عطا فرمائی ہے جس سے آپ پر حقائق غیبیہ منکشف ہوجاتے ہیں جس طرح ہم کو ایسی صفت عطا فرمائی ہے جس سے ہم پر عالم شہادت کے واقعات منکشف ہوجاتے ہیں ‘ نہ ہم بذاتہ شہادت (عالم ظاہر) کے عالم ہیں نہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بذاتہ غیب کے عالم ہیں۔ ہم پر اللہ تعالیٰ نے عالم شہادت منکشف کیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اللہ عزوجل نے عالم غیب بھی منکشف کیا۔ یہی عام مسلمانوں کا عقیدہ ہے اور شیخ گنگوہی کی تصریح کے مطابق یہ شرک اور معصیت نہیں ہے بلکہ جائز ہے ‘ علماء اہل سنت اپنی تقاریر اور تصانیف میں عوام کو یہ فرق ہمیشہ سے ہر دور میں بتاتے رہتے ہیں اور عام مسلمان اس فرق کو جانتے ہیں ‘ اس لیے عوام کے جلسوں میں بھی اس قسم کے اشعار پڑھنا جائز ہیں کیونکہ جو شخص اللہ تعالیٰ کو وحدہ لاشریک مانتا ہے اور اس کی عبادت بجا لاتا ہے اس کے متعلق یہ تصور نہیں کیا جاسکتا کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مستقل سامع یا مستقل عالم گردانتا ہے ‘ البتہ ذاتی ناپسندیدگی کا ہمارے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔
شیخ رشید احمد گنگوہی لکھتے ہیں :
اور اولیاء کی نسبت بھی یہ عقیدہ ایمان ہے کہ حق تعالیٰ جس وقت چاہے ان کو علم و تصرف دیوے اور عین حالت تصرف میں حق تعالیٰ ہی مصرف ہے ‘ اولیاء ظاہر میں مصرف ہی معلوم ہوتے ہیں ‘ عین حالت کرامت و تصرف میں حق تعالیٰ ہی ان کے واسطے سے کچھ کرتا ہے (فتاوی رشیدیہ کامل ص ٤٩‘ مطبوعہ محمد سعید اینڈ سنز کراچی)
شیخ محمود الحسن (آیت) ” ایاک نستعین “ کی تفسیر میں لکھتے ہیں :
اس کی ذات پاک کے سوا کسی سے حقیقت میں مدد مانگنی بالکل ناجائز ہے ‘ ہاں اگر کسی مقبول بندہ کو محض واسطہ رحمت اور غیر مستقل سمجھ کر استعانت ظاہری اس سے کرے تو یہ جائز ہے کہ یہ استعانت درحقیقت حق تعالیٰ ہی سے استعانت ہے۔ (حاشیتہ القرآن الحکیم ص ٢‘ مطبوعہ تاج کمپنی ‘ کراچی)
مفتی محمد شفیع دیوبندی لکھتے ہیں :
اور حقیقی طور پر اللہ کے سوا کسی کو حاجت روانہ سمجھے اور کسی کے سامنے دست سوال دراز نہ کرے ‘ کسی نبی یا ولی وغیرہ کو وسیلہ قرار دے کر اللہ تعالیٰ سے دعا مانگنا اس کے منافی نہیں (معارف القرآن ‘ مطبوعہ ادارۃ المعارف ‘ کراچی ‘ ١٣٩٧ ھ)
شیخ رشید احمد گنگوہی اس سوال کے جواب میں لکھتے ہیں کہ دعا میں بحق رسول وولی اللہ کہنا ثابت ہے یا نہیں ‘ بعض فقہا ومحدثین منع کرتے ہیں ‘ اس کا کیا سبب ہے ؟
جواب : بحق فلاں کہنا درست ہے اور معنی یہ ہیں کہ جو تو نے اپنے احسان سے وعدہ فرمالیا ہے اس کے ذریعہ سے مانگتا ہوں مگر معتزلہ اور شیعہ کے نزدیک حق تعالیٰ پر حق لازم ہے اور وہ بحق فلاں کے یہی معنی مراد رکھتے ہیں ‘ سو اس واسطے معنی موہم اور مشابہ معتزلہ ہوگئے تھے ‘ لہذا فقہاء نے اس لفظ کا بولنا منع کردیا ہے تو بہتر ہے کہ ایسا لفظ نہ کہے جو رافضیوں کے ساتھ تشابہ ہوجاوے فقط۔ (فتاوی رشیدیہ کامل ص ٩٤‘ مطبوعہ محمد سعید اینڈ سنز کراچی)
شیخ محمد سرفراز خاں صفدر لکھتے ہیں :
یہاں ہم صرف ” المہند “ کی عبارت پر اکتفاء کرتے ہیں جو علماء دیوبند کے نزدیک ایک اجماعی کتاب کی حیثیت رکھتی ہے۔
جواب : ہمارے نزدیک اور ہمارے مشائخ کے نزدیک دعاؤں میں انبیاء واولیاء و صدیقین کا توسل جائز ہے ‘ ان کی حیات میں یا بعد وفات کے بایں طور کہے کہ یا اللہ ! میں بوسیلہ فلاں بزرگ کے تجھ سے دعا کی قبولیت اور حاجت برائی چاہتا ہوں ‘ اسی جیسے اور کلمات کہے ‘ چناچہ اس کی تصریح فرمائی ہے ہمارے مولانا محمد اسحاق دہلوی ثم المکی نے ‘ پھر مولانا رشید احمد گنگوہی نے بھی اپنے فتاوی میں اس کو بیان فرمایا ہے جو چھپا ہوا آج کل لوگوں کے ہاتھ میں موجود ہے اور یہ مسئلہ اس کی پہلی جلد کے صفحہ نمبر ٩٣ پر مذکور ہے ‘ جس کا جی چاہے دیکھ لے۔ (انتہی المہند ص ١٢۔ ١٣) (تسکین الصدور ص ٤١٣‘ مطبوعہ ادارہ نصرۃ العلوم ‘ گوجرانوالہ)
شیخ اشرف علی تھانوی (رح) امام طبرانی (رح) اور امام بیہقی (رح) کے حوالوں سے حضرت عثمان بن حنیف (رض) کی روایت ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں :
(ف) اس سے توسل بعد الوفات بھی ثابت ہوا اور علاوہ ثبوت بالروایۃ کے درایۃ بھی ثابت ہے کیونکہ روایت اول کے ذیل میں جو توسل کا حاصل بیان کیا گیا تھا ‘ وہ دونوں حالتوں میں مشترک ہے۔ (نشر الطیب ص ٢٥٣‘ مطبوعہ تاج کمپنی ‘ کراچی)
حضرت بلال بن حارث (رض) نے حضرت عمر (رض) کے زمانہ میں جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے روضہ مبارک پر حاضر ہو کر بارش کی دعا کے لیے درخواست کی تھی اس کے متعلق شیخ محمد سرفراز خاں صفدر لکھتے ہیں :
اس روایت کے سب راوی ثقہ ہیں اور حافظ ابن کثیر ‘ حافظ ابن حجر اور علامہ سمہودی وغیرہ اس روایت کو صحیح کہتے ہیں ‘ امام ابن جریر (رح) اور حافظ ابن کثیر (رح) فرماتے ہیں کہ یہ واقعہ ١٧ ھ اور ١٨ ھ کی ابتداء (تاریخ طبری ج ٤ ص ٩٨‘ البدایہ والنہایہ ج ٧ ص ٩١) اور مورخ عبدالرحمان بن محمد بن خلدون (المتوفی ٨٠٨ ھ) فرماتے ہیں کہ یہ واقعہ ١٨ ھ کا ہے۔ (ابن خلدون ج ٢ ص ٩٦٩)
یہ واقعہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات حسرت آیات سے تقریبا سات آٹھ سال بعد پیش آیا ‘ اس وقت بکثرت حضرات صحابہ کرام (رض) موجود تھے۔ خواب دیکھنے والے کوئی مجہول شخص نہیں تھے ‘ بلکہ جلیل القدر صحابی حضرت بلال بن حارث مزنی (المتوفی ٦٧ ھ) (رض) تھے۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر مبارک کے پاس حاضر ہو کر طلب دعا اور سوال شفاعت شرک نہیں ورنہ یہ جلیل القدر صحابی یہ کارروائی ہرگز نہ کرتے۔
یہ معاملہ نرے خواب کا نہیں ہے بلکہ اس سچے خواب کو خلیفہ راشد حضرت عمر (رض) کی تائید وتصویب حاصل ہے اور اس کارروائی کا حکم پہلے تو ” علیکم بسنتی وسنۃ الخلفاء الراشدین الحدیث “ کے تحت سنیت کا ہوگا ورنہ استحباب اور اقل درجہ جواز سے کیا کم ہوگا (تسکین الصدور ص ٣٥٢۔ ٣٤٩“ ملخصا ‘ مطبوعہ ادارہ نصرۃ العلوم ‘ گوجرانوالہ )
بقیہ تشریح اگلی آیت میں

اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ فاتحہ 4

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ
اے پروردگار ! ) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مددچاہتے ہیں۔
 
اللہ تعالیٰ کا ارشاد : (اے پروردگار ! ) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد چاہتے ہیں۔ (الفاتحہ : ٤)
عبادت کا لغوی معنی :
علامہ جوہری (رح) لکھتے ہیں :
عبودیت کی اصل خضوع اور ذلت ہے ‘ عبادت کا معنی ہے : اطاعت کرنا اور تعبد کا معنی ہے : تنسک (فرمانبرداری کرنا) (الصحاح ج ٢ ص ٥٠٣‘ مطبوعہ دارا العلم ‘ بیروت ‘ ١٤٠٤ ھ)
علامہ ابن منظور افریقی لکھتے ہیں :
لغت میں عبادت کا معنی ہے خضوع (تواضع اور عاجزی) کے ساتھ اطاعت کرنا۔ (لسان العرب ج ٣ ص ١٧٣ مطبوعہ نشر ادب الحوذۃ ‘ قم ‘ ایران )
علامہ سید زبیدی لکھتے ہیں :
عبادت کا معنی ہے طاعت ‘ بعض ائمہ نے کہا کہ عبودیت کی اصل ذلت اور خشوع ہے ‘ دوسرے ائمہ نے کہا : عبودیت کا معنی ہے : رب کے فعل پر راضی ہونا ‘ اور عبادت کا معنی ہے : ایسا فعل کرنا جس سے رب راضی ہو ‘ اسی وجہ سے کہا گیا ہے کہ آخرت میں عبادت ساقط ہوجائے گی عبودت ساقط نہیں ہوگی ‘ کیونکہ عبودت یہ ہے کہ دنیا اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کے حقیقت میں متصرف ہونے کا عقیدہ نہ رکھے ‘ ہمارے شیخ نے کہا : یہ صوفیہ کی اصطلاح ہے ‘ اس میں لغت کا دخل نہیں ہے ‘ ازہری نے کہا : غلام جو اپنے مولی کی خدمت کرتا ہے اس کو عبادت نہیں کہتے اور مسلمان جو اپنے رب کی اطاعت کرتا ہے اس کو عبادت کہتے ہیں اللہ عزوجل نے فرمایا : (آیت) ” اعبدوا ربکم “ اس کا معنی ہے اپنے رب کی اطاعت کرو ‘ اور ” ایاک نعبد “ کا معنی ہے : ہم خضوع اور عاجزی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتے ہیں۔ ابن الاثیر نے کہا : عبادت کا لغت میں معنی ہے : عاجزی کے ساتھ اطاعت کرنا۔ (تاج العروس شرح القاموس ج ٢ ص ٤١٠‘ مطبوعہ المطبعۃ الخیریہ ‘ مصر ‘ ١٣٠٦ ھ)
عبادت کا اصطلاحی معنی :
علامہ میر سید شریف (رح) لکھتے ہیں :
نفس کی خواہش کے خلاف ‘ اپنے رب کی تعظیم کے لیے مکلف کا کوئی کام کرنا عبادت ہے۔ عہد کو پورا کرنا ‘ اللہ کی حدود کی حفاظت کرنا ‘ جو مل جائے اس پر راضی رہنا اور جو نہ ملے اس پر صبر کرنا ‘ عبودیت ہے۔ (کتاب التعریفات ص ٦٣‘ مطبوعہ المطبعۃ الخیریہ ‘ مصر ٦، ١٣ ھ)
قرآن مجید میں عبادت کا لفظ توحید اور اطاعت کے لیے استعمال ہوا ہے :
(آیت) ” واعبدوا اللہ ولا تشرکوا بہ شیئا (النساء : ٣٦) اللہ کو واحد مانو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔
(آیت) ” الم اعھد الیکم یبنی ادم ان لا تعبدوا الشیطن “۔ (یس : ٦٠) اے اولاد آدم ! کیا میں نے تم سے یہ عہد نہیں لیا تھا کہ تم شیطان کی اطاعت نہ کرنا۔
یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ عبادت کا اصطلاحی معنی ہے : اعتقاد الوہیت کے ساتھ کسی کی تعظیم اور اطاعت کرنا اور (آیت) ” یایھا الناس اعبدوا ربکم “ کا معنی ہے : اے لوگو ! اپنے رب کو الہ مان کر اس کی تعظیم اور اطاعت کرو ‘ اور (آیت) ” ایاک نعبد “ کا معنی ہے : ہم اعتقاد الوہیت کے ساتھ تیری تعظیم اور اطاعت کرتے ہیں۔
قرآن مجید میں عبد کے اطلاقات :
قرآن مجید میں پانچ قسم کے لوگوں پر عبد کا اطلاق کیا گیا ہے :
(١) غلام اور مملوک پر عبد کا اطلاق کیا گیا ہے :
(آیت) ” العبد بالعبد، (البقرہ : ١٧٨) غلام کے بدلہ میں غلام (کوقتل کیا جائے)
(آیت) ” ضرب اللہ مثلا عبدا مملوکا لایقدر علی شیء “ (النحل : ٧٥) اللہ مثال بیان فرماتا ہے ایک مملوک (غلام) کی جس کو کسی چیز پر قدرت نہیں ہے۔
(٢) جو اللہ کی تسخیر سے عبد ہیں :
ان کل من فی السموت والارض الا اتی الرحمن عبدا (مریم : ٩٣) آسمانوں اور زمین میں جو کوئی بھی ہیں وہ اللہ کی بارگارہ میں بطور عبد حاضر ہوں گے۔
(٣) جو اپنے اختیار سے اللہ کے عبد ہیں اور عبدیت میں کامل ہیں :
(آیت) ” ذریۃ من حملنا مع نوح ‘ انہ کان عبدا شکورا “۔ (بنی اسرائیل : ٣) ان لوگوں کی اولادجن کو ہم نے نوح کے ساتھ (کشتی پر) سوار کیا تھا ‘ بیشک وہ (نوح) عبد شاکر تھے۔
(آیت) ” سبحن الذی اسری بعبدہ لیلا من المسجد الحرام الی المسجد الاقصا، (بنی اسرائیل : ١) سبحان ہے وہ جو اپنے (مقدس) عبد کو رات کے ایک قلیل حصہ میں مسجد حرام سے مسجد اقصی تک لے گیا۔
(٤) جو اپنے اختیار سے اللہ کے عبد ہیں اور عبدیت میں ناقص ہیں : rnّ (آیت) ” ان تعذبھم فانہم عبادک وان تغفرلہم فانک انت العزیز الحکیم (المائدہ : ١١٨) اگر تو انہیں عذاب دے تو بیشک وہ تیرے بندے ہیں ‘ اور اگر تو انہیں بخش دے تو بیشک تو ہی بہت غالب ہے۔ بڑی حکمت والا ہے
(آیت) ” قل یعبادی الذین اسرفوا علی انفسہم لا تقنطوا من رحمۃ اللہ “۔ (الزمر : ٥٣) کہیے : اے میرے وہ بندو ! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے ‘ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔
(٥) جو اپنے اختیار سے غیر اللہ کے عبد ہیں :
(آیت) ” ویوم یحشرھم وما یعبدون من دون اللہ فیقول ءانتم اضللتم عبادی ھؤلآء ام ھم ضلوا السبیل (الفرقان : ١٧) اور جس دن اللہ انہیں جمع کرے گا اور جن کی وہ اللہ کے سوا عبادت کرتے تھے ‘ پھر اللہ ان (معبودوں) سے فرمائے گا : کیا تم نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا تھا وہ خود ہی گمراہ ہوگئے تھے ؟
(آیت) ” یحسرۃ علی العباد مایاتیھم من رسول الا کانوابہ یستھزء ون (یس : ٣١) ہائے افسوس ان بندون پر ان کے پاس جو رسول بھی آیا یہ اس کا مذاق اڑاتے تھے۔
خلاصہ یہ ہے کہ جو مملوک اور غلام ہیں ‘ جو تسخیرا عبد ہیں ‘ جو اپنے اختیار سے اللہ کے عبد ہیں اور عبد کامل ہیں اور جو اپنے اختیار سے اللہ کے عبد ہیں اور عبد ناقص ہیں اور جو اپنے اختیار سے غیر اللہ کے عبد ہیں ان سب پر قرآن مجید میں عبد کا اطلاق کیا گیا ہے۔
اپنے غلام کو ” میرا عبد “ کہنے کی کراہت اور عبدالنبی وغیرہ نام رکھنے کی تحقیق :
غلام کے لیے اپنے مالک کو میرا رب کہنا مکروہ تنزیہی ہے ‘ اسی طرح مالک کا غلام کو میرا عبد کہنا مکروہ تنزیہی ہے۔
امام بخاری روایت کرتے ہیں :
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں کوئی شخص یہ نہ کہے کہ اپنے رب کو کھلاؤ ‘ اپنے رب کو پلاؤ ‘ بلکہ میرا سید اور میرا مولا کہے ‘ اور تم میں سے کوئی شخص یہ نہ کہے : میرا عبد اور میری بندی ‘ اسے یہ کہنا چاہیے : میرا نوکر ‘ میری نوکرانی اور میرا غلام۔ (صحیح بخاری ج ٢ ص ٣٤٧۔ ٣٤٦‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)
امام احمد بن حنبل (رح) روایت کرتے ہیں :
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے کوئی شخص اپنے مملوک کے لیے میرا عبد نہ کہے، لیکن میرا خادم کہے ‘ اور نہ مملوک اپنے مالک کو میرا رب کہے لیکن میرا سید کہے۔ (مسند احمد ج ٢ ص ٤٤٤‘ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)
علامہ ابن اثیر جزری (رح) لکھتے ہیں :
حضرت ابوہریرہ (رض) کی حدیث میں ہے : کوئی شخص اپنے مملوک کو میرا عبد نہ کہے بلکہ میرا نوکر یا خادم کہے ‘ یہ ممانعت اس لیے کی گئی ہے تاکہ مالک سے تکبر اور بڑائی کی نفی کی جائے اور مالک کی طرف غلام کی عبودیت کی نسبت کی نفی کی جائے کیونکہ اس کا مستحق صرف اللہ تعالیٰ ہے اور وہی تمام بندوں کا رب ہے۔ (نہایہ ج ٣ ص ١٧٠ مطبویہ موسستہ مطبوعاتی ‘ ایران ‘ ١٣٦٤ ھ)
علامہ بدرالدین عینی حنفی (رح) لکھتے ہیں :
کسی شخص کا اپنے مملوک کو میرا عبد کہنا مکروہ تنزیہی ہے حرام نہیں ہے ‘ کراہت کی وجہ یہ ہے کہ اس کا مملوک اللہ کا عبد ہے اور اس کی عبادت کرتا ہے ‘ اب اگر اس کا مالک بھی اس کو اپنا عبد کہے تو یہ شرک اور مشابہت کو واجب کرتا ہے ‘ لہذا اس سے احتراز کے لیے مستحب ہے کہ وہ اس کو میرا نوکر اور میرا خادم کہے ‘ اور یہ حرام اس لیے نہیں ہے کہ قرآن مجید میں مالک کی طرف عبد کی اضافت کی گئی ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
(آیت) ” وانکحوالایامی منکم والصلحین من عبادکم وامآئکم (النور : ٣٢) اور تم اپنے بےنکاح (آزاد) مردوں اور عورتوں کا اپنے نیک عباد (غلاموں) اور باندیوں سے نکاح کردو۔
علامہ ابن بطال نے کہا کہ اس آیت کی رو سے کسی شخص کا اپنے غلام کو میرا عبد کہنا جائز ہے اور احادیث میں ممانعت تغلیظ کے لیے ہے تحریم کے لیے نہیں، اور یہ مکروہ اس لیے ہے کہ یہ لفظ مشترک ہے کیونکہ اس کا غلام بہرحال اللہ کا عبد ہے ‘ اب اگر وہ اسے میرا عبد کہے گا تو اس سے اس غلام کا مشترک ہونا لازم آگیا۔ (عمدۃ القاری ج ١٣ ص ١١٠‘ مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ ‘ مصر ١٣٤٨ ھ)
بعض لوگوں کا نام عبدالنبی اور عب الرسول رکھا جاتا ہے۔
شیخ اشرف علی تھانوی (رح) نے کفر اور شرک کی باتوں کا بیان اس عنوان کے تحت لکھا ہے :
علی بخش ‘ حسین بخش ‘ عبد النبی ‘ وغیرہ نام رکھنا۔ (بہشتی زیور ج ١ ص ٣٥ مطبوعہ ناشران قرآن لمیٹڈ لاہور)
ظاہر ہے کہ یہ دین میں غلو اور زیادتی ہے ‘ عبد النبی اور عبدالرسول نام رکھنا ‘ سورة نور کی اس آیت کے تحت جائز ہے اور احادیث میں جو ممانعت وارد ہے اس کی وجہ سے مکروہ تنزیہی ہے۔ ہمارے نزدیک مختار یہی ہے کہ عبد النبی ‘ عبدالرسول اور عبدالمصطفی ‘ نام رکھنا ‘ ہرچند کہ جائز ہے لیکن چونکہ احادیث میں اس کی ممانعت ہے ‘ اس لیے مکروہ تنزیہی ہے ‘ اس لیے افضل اور اولی یہی ہے کہ ان کے بجائے غلام رسول اور غلام مصطفیٰ نام رکھے جائیں۔
علامہ شامی (رح) لکھتے ہیں :
فقہاء نے عبد فلاں نام رکھنے سے منع کیا ہے ‘ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ عب النبی نام رکھنا ممنوع ہے ‘ علامہ مناوی نے علامہ دمیری (شافعی) سے نقل کیا ہے کہ ایک قول جواز کا ہے جب کہ اس نسبت سے مشرف ہونا مقصود ہو ‘ اور اکثر فقہاء نے اس خدشہ سے منع کیا ہے کہ کوئی حقیقت عبودیت کا اعتقاد کرے ‘ جیسے عبدالدار نام رکھنا جائز نہیں ہے۔ (رد المختار ج ٥ ص ٣٦٩ مطبوعہ مطبعہ عثمانیہ استنبول ‘ ١٣٢٧ ھ)
عبادت کا اللہ تعالیٰ میں منحصر ہونا :
(اے پروردگار ! ) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں، اس آیت میں عبادت کا اللہ تعالیٰ کا اللہ تعالیٰ میں حصر کردیا ہے ‘ بعض علماء نے اس پر بھی بحث کی ہے کہ اس حصر کی وجہ کیا ہے ‘ اس کا صحیح جواب یہ ہے کہ اللہ کے سوا اور کوئی الہ (مستحق عبادت) نہیں ہے ‘ اس لیے ہم اسی کی عبادت کرتے ہیں اور کسی کی عبادت نہیں کرتے ‘ اور اس کی یہ توجیہ بھی کی گئی ہے کہ عبادت نہایت تعظیم کو کہتے ہیں اور نہایت تعظیم اسی کی کی جائے گی جس نے بیشمار نعمتیں دی ہوں اور چونکہ تمام نعمتیں اسی کی دی ہوئی ہیں ‘ اس لیے عبادت بھی اسی کی کی جاتی ہے ‘ دیکھئے اللہ ہم کو عدم سے وجود میں لایا ‘ جہل سے نکال کر علم عطا فرمایا ‘ پھر تمام زمین ‘ آسمان ‘ سیارگان ‘ جمادات ‘ نباتات اور حیوانات کو ہمارے نفع کے لیے مسخر کردیا !
(آیت) ” وقد خلقتک من قبل ولم تک شیئا (مریم : ٩) اور بیشک میں نے تم کو اس سے پہلے پیدا کیا ‘ حالانکہ تم کچھ بھی نہ تھے ؛
(آیت) ” واللہ اخرجکم من بطون امھتکم لا تعلمون شیئا وجعل لکم السمع والابصار والافئدۃ لعلکم تشکرون (النحل : ٧٨) اور اللہ نے تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹ سے پیدا کیا ‘ حالانکہ تمہیں کسی چیز کا علم نہ تھا اور تمہارے کان ‘ آنکھیں اور دل بنائے تاکہ تم شکر بجالاؤ
(آیت) ” وسخرلکم مافی السموت وما فی الارض جمیعا منہ (الجاثیہ : ١٣) اور جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمینوں میں ہے سب کو اس نے اپنی طرف سے تمہارے نفع کے لیے مسخر کردیا۔ اس سے بڑا اور کیا انعام ہوگا ! تو اس کے سوا اور کون عبادت کا مستحق ہوگا۔
” ایاک نعبد “ میں حرف خطاب کو مقدم کرنے کے اسرار اور نکات :
اس آیت میں یوں نہیں فرمایا : ” نعبدک “ ہم تیری عبادت کرتے ہیں ‘ بلکہ فرمایا ہے : (آیت) ” ایاک نعبد “ تیری ہی عبادت کرتے ہیں ہم ‘ اللہ تعالیٰ کا ذکر پہلے ہے اور ہماری عبادت کرنے کا ذکر بعد میں ہے ‘ اس کی وجہ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ پہلے ہے ‘ اور ہم اور ہماری عبادات بعد میں ہیں۔ بعض علماء نے کہا ہے : جس شخص کی نظر نعمت کے وقت نعمت کی بجائے منعم پر ہو ‘ تو مصیبت کے وقت اس کی نظر مصیبت کی بجائے مصیبت میں مبتلا کرنے والے پر ہوتی ہے ‘ پھر مصیبت ‘ مصیبت نہیں رہتی اور نعمت آنے کے بعد اگر وہ نعمت زائل ہوجائے تو اس کو ملال نہیں ہوتا ‘ اور جس کی نظر نعمت پر ہوتی ہے تو حصول نعمت کے وقت بھی وہ پریشان رہتا ہے کہ کہیں وہ نعمت زائل نہ ہوجائے اور مصیبت کے وقت بھی وہ رنج اور افسوس میں مبتلا رہتا ہے ‘ اور جس کی نظر ہرحال میں اللہ پر ہو وہ ہمیشہ خوش رہتا ہے ‘ لہذا ان کے مقام کا کیا کہنا جن کی توجہ ہرحال میں صفات کی بجائے ذات کی طرف رہتی ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی امت سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” واذکروا نعمتی “ میری نعمت کو یاد کرو اور حضرت سیدنا محمد کی امت سے فرمایا : (آیت) ” فاذکرونی اذکرکم “ تم مجھے (میری ذات کو) یاد کرو ‘ میں تمہیں یاد کروں گا ‘ ان کی رسائی صفت تک تھی ہماری رسائی ذات تک کردی ہے اور جب اس تصور سے انسان کہے گا : تیری ہی عبادت کرتے ہیں ہم ‘ اور اس کی ذات کا اس لیے مقدم ذکر کرے گا کہ وہ ہرحال میں پہلے اس کو دیکھتا ہے بعد میں اور کو دیکھتا ہے تو پھر (آیت) ” ایاک نعبد “ پڑھنے کا کچھ اور لطف ہوگا !
نیز اس میں یہ اشارہ بھی ہے کہ کام عبادت یہ ہے کہ تم اس طرح عبادت کرو کہ گویا تم اس کو دیکھ رہے ہو اور اس سے بالمشافہ خطاب کررہے ہو، اور اس میں یہ حکمت بھی ہے کہ عبادت میں صعوبت اور مشقت تو بہت ہے لیکن جب عابد کی نظر معبود کے جمال پر ہو اور وہ محونظارہ ذات ہو تو پھر کسی مشقت اور صعوبت کا پتا نہیں چلتا جس طرح مصر کی عورتوں کی نظر جب حسن یوسف پر پڑی تو انہوں نے پھل کی جگہ انگلیاں کاٹ ڈالیں اور ان کو کچھ درد نہیں ہوا ‘ یہی وجہ ہے کہ ایک صحابی کو نماز کے دوران تیر لگتے رہے ‘ خون بہتا رہا اور وہ اسی انہماک سے نماز پڑھتے رہے۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ٢٩) مسجد کی چھت سے سانپ گرپڑا بھگدڑ مچ گئی اور امام ابوحنفیہ (رح) اسی محویت سے نماز پڑھتے رہے۔ (تفسیر کبیر ج ١ ص ١٢٩) امام بخاری (رح) کو نماز میں تتیہ نے سترہ ڈنک مارے اور ان کو کچھ پتا نہیں چلا۔ (فتح الباری ج ١٤ ص ٤٨١۔ ٤٨٠) عروہ بن زبیر کے کسی عضو میں زخم ہوگیا ‘ اس عضو کا کاٹنا ضروری تھا ‘ جب انہوں نے نماز شروع کی تو لوگوں نے وہ عضو کاٹ دیا اور ان کو ذرا احساس نہیں ہوا۔ (تفسیر کبیر ج ١ ص ١٢٩)
(آیت) ” میں جمع کا صیغہ لانے کے اسرار اور نکات :
اس آیت میں فرمایا ہے : ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں ‘ یہاں پر لفظ جمع لایا گیا ہے ‘ کیونکہ اگر بندہ یوں کہتا کہ میں تیری عبادت کرتا ہوں تو اس سے تکبر اور عجب کا وہم ہوتا اور جب کہا : ہم (سب) تیری ہی عبادت کرتے ہیں تو اس کا حاصل یہ ہے کہ میں تیرے عبادت گزار بندوں میں سے ایک عبادت گزار بندہ ہوں اور اس میں تواضع اور انکسار ہے۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ بندہ اپنی عبادت کو اس لائق نہیں سمجھتا کہ اس کا اللہ تعالیٰ کے سامنے ذکر کرے ‘ اس میں بہت سے نقائص اور تقصیرات ہیں ‘ اس لیے وہ اپنی عبادت کو تمام عبادت گزاروں کی عبادت میں درج کرکے ذکر کرتا ہے کہ ان عبادت گزاروں میں صالحین اور مقبولین بھی ہیں ‘ جن کی عبادتوں کو اللہ تعالیٰ قبول فرمائے گا ‘ اور یہ اس کے کرم سے بعید ہے کہ وہ بعض کی عبادتیں قبول کرے اور بعض کو مسترد کر دے۔
علامہ محی الدین درویش لکھتے ہیں :
ایک شرعی مسئلہ یہ ہے کہ جو آدمی مختلف جنس کی چیزوں کو بیع واحد کے ساتھ فروخت کرے ‘ پھر خریدار بعض چیزوں کے کسی عیب پر مطلع ہو تو اس کو تمام چیزیں واپس کرنے کا اختیار ہے ‘ یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ بعض چیزوں کو رکھ لے اور بعض کو واپس کردے ‘ کیونکہ تمام چیزیں بیع واحد کے ساتھ فروخت کی گئی ہیں ‘ وہ ان میں تفریق نہیں کرسکتا (مثلا کوئی شخص سیبوں کا ایک کریٹ خریدے اور کوئی ایک سیب داغدار ہو تو وہ صرف اس سیب کو واپس نہیں کرسکتا یا سب کو واپس کرے گا یا سب کو رکھے گا) علی ھذا القیاس جب عبادت گزارنے اپنی عبادت کو ناقص اور معیوب جانا تو اس نے اپنی عبادت کو الگ نہیں پیش کیا بلکہ تمام عابدوں کی عبادت میں درج کردیا “ اس امید سے کہ تمام عبادات مسترد نہیں ہوں گی ‘ کیونکہ ان میں بعض مقبولین کی عبادتات بھی ہیں اور جب باقی مقربین کی عبادات مقبول ہوں گی تو اس کی عبادت بھی مقبول ہوجائے گی اور یہی اس کے کرم عظیم کے مناسب اور فضل عمیم کے لائق ہے۔ (اعراب القرآن الکریم وبیانہ ج ١ ص ١٨‘ دار ابن کثیر بیروت الطبعۃ الثالثہ ١٤١٢ ھ)
حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : گھر میں نماز پڑھنے پر ایک نماز کا اجر ہے اور قبائل کی مسجد (محلہ کی مسجد) میں نماز پڑھنے پر پچیس نمازوں کا اجر ہے (بعض روایات کے مطابق ستائیس نمازوں کا اجر ہے) اور جامع مسجد میں نماز پڑھنے پر پانچ سو نمازوں کا اجر ہے ‘ اور مسجد اقصی میں پچاس ہزار نمازوں کا اجر ہے ‘ اور میری مسجد (مسجدنبوی) میں نماز پڑھنے کا (بھی) پچاس ہزار نمازوں کا اجر ہے ‘ اور مسجد حرام میں نماز پڑھنے کا اجر ایک لاکھ نمازوں کا اجر ہے۔ (مشکوۃ ص ٧٢‘ مطبوعہ اصح المطابع ‘ دہلی)
اجر میں اس اضافہ کی وجہ ایک تو ان مساجد کی عظمت اور خصوصییت ہے ‘ دوسری وجہ یہ ہے کہ محلہ کی مسجد کی نسبت جامع مسجد میں زیادہ نمازی ہوتے ہیں ‘ اور جہاں زیادہ نمازی ہوں گے وہاں اللہ کے نیک بندے بھی زیادہ ہوں گے ‘ اللہ تعالیٰ اپنے مقرب اور نیک بندوں کو زیادہ اجر عطا فرمائے گا اور ان کے واسطے سے سب نمازیوں کو زیادہ اجر وثواب عطا فرما دے گا ‘ علی ھذا القیاس جیسے جیسے نمازیوں کی تعداد بڑھتی جائے گی اجر وثواب بڑھتا جائے گا ‘ اس لیے بندہ اپنی عبادت کا علیحدہ ذکر نہیں کرتا بلکہ تمام عابدوں کی عبادت میں اپنی عبادت ضم کر کے ذکر کرتا ہے تاکہ اسے بھی وہ برکتیں مل جائیں جو مقربین بارگاہ نازل کے طفیل سب عابدوں کو ملیں گی۔
غبوبت سے خطاب کی طرف التفات کے اسرار اور نکات :
بلاغت کا ایک اسلوب یہ بھی ہے کہ کلام کے پیرائے کو مثلا صیغہ غائب سے صیغہ خطاب کی طرف منتقل کیا جائے ‘ اس کو اصطلاح میں التفات کہتے ہیں ‘ کیونکہ مسلسل ایک طرز سے سننے والا اکتا جاتا ہے اور جب کلام کا پیرایہ تبدیل کیا جاتا ہے تو سننے والے کا ذہن حاضر اور بیدار رہتا ہے اور اس کا شوق برقرار رہتا ہے اور تجسس بڑھتا رہتا ہے۔
سورة فاتحہ کے شروع کی آیات میں اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا صیغہ غائب کے ساتھ ذکر کیا گیا اور اس کی حمد وثناء کی گئی ‘ پھر (آیت) ” ایاک نعبد ‘ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں “ میں اس سے بالمشافہ خطاب کیا گیا ‘ اس میں صنعت التفات کے علاو حسب ذیل اسرار ہیں :
(١) جب بندہ نے اللہ تعالیٰ کی صفت ربوبیت ‘ رحمت اور اس کے مالک ہونے کا ذکر کیا تو اس کو حریم ناز میں داخل ہونے کی اجازت ملی اور اس سے کہا گیا کہ اب تو کہنا ہے بالمشافہ کہو تو بندہ نے کہا (آیت) ” ایاک نعبد وایاک نستعین “۔
(٢) دعا اور سوال میں اصل یہ ہے کہ بالمشافہ خطاب کر کے سوال کیا جائے جیسے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” قل رب زدنی علما “۔ (طہ : ١١٤) ” آپ کہئے کہ اے رب ! میرے علم کو زیادہ کر ‘ سو اسی نہج پر یہاں بہ صورت خطاب دعا کی گئی ہے۔
(٣) (آیت) ” الحمد “ سے (آیت) ” مالک یوم الدین “ تک اللہ کی حمد وثناء ہے ‘ اور تعریف میں اصل یہ ہے کہ غیاب میں کی جائے اور (آیت) ” ایاک نعبد “ میں عبادت کا ذکر ہے اور عبادت میں اصل یہ ہے کہ حضور میں اور بالمشافہ ہو ‘ کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” ان تعبد اللہ کا نک تراہ “۔ تم اس طرح عبادت کرو گویا کہ اللہ کو دیکھ رہے ہو۔ (امام ابو الحسین مسلم بن حجاج قشیری متوفی ٢٦١ ھ، صحیح مسلم ج ١ ص ‘ ٢٧ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)
استعانت کے معنی :
استعانت کا لفظ عون سے ماخوذ ہے ‘ علامہ زبیدی عون کا معنی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
کسی کام پر مدد کرنے والے کو عون کہتے ہیں ‘ عرب کہتے ہیں : جب قحط آتا ہے تو اس کے ساتھ اس کے اعوان بھی آتے ہیں ‘ یعنی ٹڈیاں ‘ مکھیاں اور بیماریاں ‘ لیث نے کہا : ہر وہ چیز جو تمہاری مدد کرے وہ تمہاری عون ہے ‘ جیسے روزہ عبادت کے لیے عون ہے ‘ اس کی جمع عوان ہے ‘ اور عرب کہتے ہیں : ” استعنتہ فاعاننی “ میں نے اس سے مدد طلب کی تو اس نے میری مدد کی۔ (تاج العروس ج ٩ ص ٢٨٥‘ مطبوعہ المطبعۃ الخیریہ ‘ مصر ‘ ١٣٠٦ ھ)
(آیت) ” ایاک نستعین “ کی تفسیر :
علامہ ابو جعفر محمد بن جریر طبری (رح) لکھتے ہیں :
(آیت) ” ایاک نستعین “ کا معنی یہ ہے : اے ہمارے ! ہم اپنی عبادات ‘ اپنی طاعات اور اپنے تمام معاملات میں صرف تجھ سے ہی مدد طلب کرتے ہیں ‘ تیرے سوا اور کوئی مددگار نہیں ہے ‘ کفار اپنے معاملات میں اپنے باطل معبودوں سے مددطلب کرتے ہیں اور ہم اخلاص کے ساتھ تیری عبادت کرتے ہیں اور اپنے تمام امور میں تجھ سے ہی مدد طلب کرتے ہیں۔ حضرت ابن عباس (رض) نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا : ہم اپنی اطاعت اور تمام امور میں تجھ سے ہی مدد طلب کرتے ہیں۔ (جامع البیان ج ١ ص ٥٣‘ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)
عبادت کو استعانت پر مقدم کرنے کی وجوہ :
اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ عبادت بھی اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر نہیں ہوسکتی ‘ پھر بہ ظاہر یہ چاہیے تھا کہ پہلے (آیت) ” ایاک نستعین “ ہوتا پھر (آیت) ” ایاک نعبد “ ہوتا ‘ اس کا ایک جواب یہ ہے کہ واؤ ترتیب کا تقاضا نہیں کرتی جیسا کہ قرآن مجید میں ہے :
(آیت) ” یمریم اقنتی لربک واسجدی وارکعی مع الرکعین (آل عمران : ٤٣) اے مریم ! اپنے رب کی عبادت کر ‘ سجدہ کر اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کر۔
اس آیت میں پہلے سجدہ اور پھر رکوع کا ذکر ہے حالانکہ ترتیب کے اعتبار سے پہلے رکوع اور پھر سجدہ ہے۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ وسیلہ مقصود پر مقدم ہوتا ہے ‘ بندہ کو یہ تعلیم دی گئی ہے کہ جب تم نے دعا اور سوال کرنا ہو تو اس سے پہلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو ‘ تاکہ تمہاری دعا قبول ہو ‘ اس لیے مدد طلب کرنے سے پہلے عبادت کرنے کا ذکر کیا گیا ‘ تیسرا جواب یہ ہے کہ اس سے پہلے (آیت) ” الحمد للہ رب العلمین ‘ اور ” مالک یوم الدین “ فرمایا تھا تو اسی وزن پر (آیت) ” ایاک نعبد وایاک نستعین “ فرمایا اگر (آیت) ” ایاک نستعین وایاک نعبد “ ہوتا تو ان آیات کے آخری الفاظ کا اختتام ایک فصل اور ایک وزن پر نہ ہوتا۔
اولیاء اللہ سے استعانت کی تحقیق :
علامہ سید محمود آلوسی لکھتے ہیں :
استعانت میں عموم مراد ہے ‘ ہر چیز میں ہم صرف تجھ سے ہی استعانت کرتے ہیں کیونکہ حدیث صحیح میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابن عباس (رض) سے فرمایا :
اذا استعنت فاستعن باللہ ‘۔ (جامع ترمذی ص ٣٦١) جب تم مدد طلب کرو تو اللہ سے۔
اسی حدیث کی وجہ سے حضرت ابن عباس (رض) نے استعانت میں عموم کا قول اختیار کیا ہے ‘ سو جس شخص نے اپنے اہم معاملات بلکہ دوسرے غیر اہم معاملات میں بھی غیر اللہ سے مدد چاہی ہو تو اس نے ایک عبث عمل کیا ‘ اللہ تعالیٰ سے کیوں نہیں مدد طلب کی جاتی حالانکہ وہ غنی کبیر ہے اور دوسروں سے کیسے مدد طلب کی جائے گی جب کہ سب اس کے محتاج ہیں ‘ اور محتاج کا محتاج سے مدد طلب کرنا ناپختہ رائے ہے اور عقل کی کج روی ‘ اور میں نے کتنے لوگوں کو دیکھا جنہوں نے غیر اللہ سے عزت اور دولت طلب کی اور وہ ذلیل اور فقیر ہوئے ‘ سو اللہ کے سوا اور کوئی لائق نہیں کہ اس سے مدد طلب کی جائے۔ (روح المعانی ج ١ ص ٩١‘ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت)
علامہ مراغی (رح) لکھتے ہیں :
اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ہمیں یہ حکم دیا ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور کسی کو اس کی عبادت میں شریک نہ کریں اور نہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی ایسی تعظیم کریں جیسی معبود کی تعظیم کی جاتی ہے اور اللہ کے سوا کسی سے مدد نہ طلب کریں اور کسی کام کو پورا کرنے کے لیے جو طاقت درکار ہوتی ہے وہ کسی اور سے نہ مانگیں ماسوا ان اسباب کے جن کا کسب کرنا اور جن کو حاصل کرنا ہمارے لیے عام اسباب میں مشروع اور میسر ہے۔
اس کا بیان یہ ہے کہ اللہ نے اپنی حکمت سے اسباب کو مسببات کے ساتھ مربوط کیا ہے ‘ اسی طرح ارتفاع موانع پر بھی ان کو موقوف کیا ہے اور ان اسباب کے حصول کے لیے انسان کو علم اور معرفت سے نوازا ہے اور موانع اور رکاوٹوں کے دور کرنے پر انسان کو قدرت عطاکی ہے اور اسی اعتبار سے ہم کو حکم دیا ہے کہ ہم ایک دوسرے کی مدد کریں اور تعاون کریں :
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
(آیت) ” وتعاونوا علی البر والتقوی ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان “ (المائدہ : ٢) اور تم نیکی اور پرہیزگاری کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرتے رہو اور گناہ اور ظلم میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرو۔
(آیت) ” قال مامکنی فیہ ربی خیر فاعینونی بقوۃ اجعل بینکم وبینہم ردما (الکہف : ٩٥) ذوالقرنین نے کہا : میرے رب نے جس پر مجھے قدرت دی ہے وہ (تمہارے مال سے) بہتر ہے تو تم (محنت کے کام میں) طاقت سے میری مدد کرو میں تمہارے اور ان کے درمیان نہایت مضبوط دیوار بنا دوں گا۔
اسی اعتبار سے ہم بیماروں کی شفا کے لیے اطباء سے دوائیں طلب کرتے ہیں اور دشمنوں پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے ہتھیاروں اور سپاہیوں سے مدد طلب کرتے ہیں اور اپنی فصلوں کی فراوانی کے لیے حشرات الارض اور مضر کیڑوں مکوڑوں کو دور کرتے ہیں اور ان کو ہلاک کرتے ہیں، اور ان اسباب کے بغیر اگر ہم بیماروں کے لیے شفاء اور دشمن پر غلبہ چاہتے ہوں تو اس کے لیے صرف اللہ تعالیٰ سے استعانت کی جائے گی اور زمین و آسمان کی تمام حاجات کے لیے صرف اللہ تعالیٰ کے سامنے دست سوال دراز کیا جائے گا اور نبی کی حیات طیبہ میں ہمارے لیے اسوہ اور نمونہ ہے، آپ نے مختلف غزوات میں کفار کے خلاف غلبہ اور فتح کے لیے صرف اللہ کے آگے ہاتھ پھیلائے ہیں، اسی سے فتح اور نصرت کی دعائیں کی ہیں اور اسی سے بیماری میں حصول شفا کے لیے دعا کی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہم سے وعدہ کیا ہے کہ تم مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعاؤں کو قبول کروں گا اور فرمایا ہے کہ میں تمہاری شہ رگ سے بھی زیادہ تم سے قریب ہوں۔
سو جو شخص اپنی حاجات پوری کرانے کے لیے کسی بیمار کی شفا کے لیے ‘ دشمن پر غلبہ کے لیے یا اولاد کی طلب کیلیے اولیاء اللہ کے مزارات پر جا کر ان سے مدد مانگتا ہے وہ شخص سیدھے راستہ سے گمراہ ہوگیا ‘ اس نے اللہ کی شریعت سے اعراض کیا اور اس نے زمانہ جاہلیت کے بت پرستوں کا سا کام کیا۔ (تفسیر المراغی ج ١ ص ٣٤۔ ٣٣‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی ‘ بیروت)
ہمارے نزدیک علامہ مراغی کا یہ فتوی علی الاطلاق صحیح نہیں ہے ‘ زمانہ جاہلیت میں کفار بتوں کو مستحق عبادت قرار دیتے تھے اور اسی عقیدہ کے ساتھ ان سے استعانت کرتے تھے ‘ لیکن جو مسلمان اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو مستحق عبادت قرار نہ دیتا ہو، اور نہ اولیا اللہ کو متصرف بالذات سمجھتا ہو ‘ نہ ان کو تصرف میں مستقل سمجھتا ہو، بلکہ یہ سمجھتا ہو کہ اولیاء اللہ ‘ اللہ کی دی ہوئی قدرت اور اس کے اذن سے اس کائنات میں تصرف کرتے ہیں اور اسی عقیدہ کے ساتھ ان سے استعانت کرے تو اس مسلمان کا یہ فعل شرک ہے نہ زمانہ جاہلیت کے بت پرستوں کا سا کام ہے ‘ تاہم ہمارے نزدیک شریعت کا اصل تقاضا یہی ہے کہ ان تمام امور میں صرف اللہ تعالیٰ سے استعانت کرنی چاہیے ‘ اولیاء اللہ بھی اللہ کے محتاج ہیں اور ہم بھی اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں ‘ تو سلامت روی اسی میں ہے کہ ہر حاجت اللہ سے طلب کی جائے اور ہر ضرورت میں اس کے آگے دست سوال دراز کیا جائے۔
ہم نے ان پڑھ عوام اور جہلاء کو اولیاء اللہ کے مزارات پر بارہا سجدہ کرتے ہوئے دیکھا ہے ‘ جو منع کرنیکے باوجود باز نہیں آتے ‘ اسی طرح ان کو مزارات پر صاحب مزار کی نذر اور منت مانتے ہوئے دیکھا ہے حالانکہ سجدہ عبادت ہو یا سجدہ تعظیم اللہ کے غیر کے لیے جائز نہیں ہے اور نذر بھی عبادت ہے اور غیر اللہ کی نذر ماننا جائز نہیں۔
(آیت) ” ھو الذی یسیرکم فی البر والبحر حتی اذا کنتم فی الفلک وجرین بھم بریح طیبۃ وفرحوا بھاجآء تھا ریح عاصف وجآء ھم الموج من کل مکان وظنوا انھم احیط بھم دعوا اللہ مخلصین لہ الدین لئن انجیتنا من ھذہ لنکونن من الشکرین فلما انجہم اذا ھم یبغون فی الارض بغیر الحق : (یونس : ٢٣۔ ٢٢) وہی ہے جو تم کو خشک زمین اور سمندر میں چلاتا ہے، حتی کہ جب تم کو کشتیاں موافق ہوا کے ساتھ لے کر چلتی ہیں اور وہ اس پر خوش ہوتے ہیں، تو (اچانک) کشتیوں پر تندو تیز آندھیاں آئیں اور سمندر کی موجوں نے ان کو ہر طرف سے گھیر لیا اور (مسافروں نے) سمجھ لیا کہ وہ طوفان میں گھر گئے ‘ تب سب نے اپنے دین کو خالص اللہ کے لیے کر کے دعائیں مانگیں کہ اگر تو نے ہمیں اس (طوفان سے بچا لیا تو ہم ضرور تیرے شکر گزاروں میں سے ہوجائیں گے پھر جب اللہ نے ان کو بچا لیا تو وہ ناگہاں زمین میں ناحق زیادتی کرنے لگے۔
جب انسان مصائب کے گرداب اور پریشانیوں کے طوفان میں گھر جائے تو کٹر سے کٹر مشرک بھی صرف اللہ ہی کی طرف رجوع کرتا ہے ‘ سو مسلم اور موحد اس بات کے زیادہ لائق اور مستحق ہے کہ وہ اپنی مصیبتوں اور پریشانیوں میں صرف اللہ تعالیٰ سے التجاء کرے، اسی سے مدد مانگے اور اس کے آگے ہاتھ پھیلائے۔
امام رازی سورة یونس آیت : ١٠ کی تفسیر میں لکھتے ہیں :
ان کافروں نے انبیاء (علیہم السلام) اور اولیاء کرام کی صورتوں کے بت بنالیے تھے اور ان کا یہ زعم تھا کہ جب وہ ان بتوں کی عبادت کریں گے تو وہ بت اللہ کے پاس ان کی شفاعت کریں گے ‘ اور اس زمانہ میں اس کی نظیر یہ ہے کہ بہت لوگ اولیاء اللہ کی قبروں کی تعظیم کرتے ہیں اور ان کا یہ اعتقاد ہوتا ہے کہ جب وہ ان قبروں کی تعظیم کریں گے تو وہ اللہ کے پاس ان کی شفاعت کریں گے۔ (تفسیر کبیر ج ٤ ص ٥٥٦‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)
قبر کو سجدہ کرنا ‘ قبر کا طواف کرنا اور حصول منفعت کے لیے صاحب قبر کی نذر ماننا قبر کے سامنے جھکنا ‘ یہ تمام امور ناجائز اور حرام ہیں۔
اولیاء اللہ سے استعانت کا صحیح طریقہ :
ہونا یہ چاہیے کہ اولیاء اللہ کے مزارات کی زیارت کی جائے کیونکہ زیارت قبور سنت ہے ‘ ان کے مزارات پر ایصال ثواب کیا جائے ‘ یہ بھی احادیث سے ثابت ہے ‘ ان کی مغفرت اور ان کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی جائے ‘ کیونکہ قرآن مجید میں وفات یافتہ مسلمانوں کے لیے دعا کرنے کی تعلیم ہے ‘ اور ان کے وسیلہ سے اپنی حاجات کی قبولیت کی دعا کی جائے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت فاطمہ بنت اسد کی مغفرت کے لیے اپنے اور انبیاء سابقین کے وسیلہ سے دعا فرمائی ہے اور زیادہ سے زیادہ یہ ہے کہ اولیاء اللہ سے یہ درخواست کی جائے کہ وہ ہماری حاجت روائی کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کردیں اور اس کی اصل نابینا کی حدیث ہے جس کو انشاء اللہ ہم عنقریب تفصیل سے بیان کریں گے ‘ اب ہم وسیلہ اور غیر اللہ سے استمداد کے موضوع پر تفصیل سے لکھ رہے ہیں۔ فنقول وباللہ التوفیق وبہ الاستعانۃ یلیق۔
وسیلہ کا لغوی معنی :
علامہ ابن اثیر جزری (رح) لکھتے ہیں :
ھی فی الاصل مایتوصل بہ الی الشیء ویتقرب بہ : جس چیز سے کسی شے کا تقرب حاصل کیا جائے وہ وسیلہ ہے۔ (علامہ محمد بن اثیر جزری (رح) متوفی ٦٠٦ ھ نہایہ ج ٥ ص ١٨٥‘ مطبوعہ مؤسسۃ مطبوعاتی ‘ ایران ‘ ١٣٦٤ ھ)
علامہ ابن منظور افریقی (رح) لکھتے ہیں :
الجوھری : الوسیلۃ ما یتقرب بہ الی الغیر ‘ امام لغت علامہ جوہری (رح) نے کہا ہے کہ جس چیز سے غیر کا تقرب حاصل کیا جائے وہ وسیلہ ہے۔ (سید جمال الدین محمد بن مکرم ابن منظور افریقی (رح) متوفی ٧١١ ھ ‘ لسان العرب ج ١١ ص ٧٢٥۔ ٧٢٤ مطبوعہ نشر ادب الحوذۃ ‘ قم ‘ ایران ١٤٠٥ ھ)
علامہ زبیدی نے ابن اثیر (رح) اور علامہ جوہری (رح) کے حوالوں سے وسیلہ کی تعریف میں مذکور الصدر عبارات نقل کی ہیں۔ (تاج العروس ج ٨ ص ١٥٤‘ مطبوعہ المطبعۃ الخیریہ ‘ مصر ‘ ١٣٠٦ ھ)
علامہ ابن منظور افریقی (رح) اور علامہ زبیدی (رح) نے علامہ جوہری (رح) کی جس عبارت کا حوالہ دیا ہے وہ یہ ہے :
جس چیز سے غیرکا تقرب کیا جائے وہ وسیلہ ہے۔ (الصحاح ج ٥ ص ١٨٤١‘ مطبوعہ دارالعلم ‘ بیروت ‘ ١٤٠٤ ھ)
ائمہ لغت کی ان تصریحات سے واضح ہوگیا کہ جس چیز سے غیر کا تقرب حاصل کیا جائے وہ وسیلہ ہے ‘ اللہ تعالیٰ کا تقرب اعمال صالحہ اور عبادات سے حاصل ہوتا ہے ‘ تاہم انبیاء (علیہم السلام) اور اولیاء کرام کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں جو عزت اور وجاہت حاصل ہے ‘ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قبولیت دعا کے لیے اس عزت اور وجاہت کو پیش کرنا اور ان سے دعا کی درخواست کرنا بھی جائز ہے ‘ زندگی میں اور وفات کے بعد بھی۔
انبیاء (علیہم السلام) اور اولیاء کرام کی ذوات سے توسل کے متعلق فقہاء اسلام کی عبارات :
امام محمد بن جزری آداب دعا میں لکھتے ہیں : اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں انبیاء (علیہم السلام) اور صالحین کا وسیلہ پیش کرے۔ (حصن حصین مع تحفۃ الذاکرین ص ٣٤‘ مطبوعہ مطبع مصطفے البانی ‘ مصر ‘ ١٣٥٠ ھ)
ملاعلی قاری اس کی شرح میں لکھتے ہیں :
مصنف نے کہا : دعا میں انبیاء اور صالحین کا وسیلہ پیش کرنا امور مستحبہ میں سے ہے کیونکہ ” صحیح بخاری “ کی کتاب الاستقاء میں ہے :
حضرت عمر (رض) نے فرمایا : پہلے ہم اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وسیلہ سے دعا کرتے تھے تو (اے اللہ ! ) تو بارش نازل فرماتا تھا ‘ اب ہم اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عم محترم کے وسیلہ سے دعا کرتے ہیں تو ہم پر بارش نازل فرما ‘ پھر ان پر بارش ہوجاتی ‘ اور جیسا کہ نابینا کی حدیث میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وسیلہ سے دعا کا ذکر ہے جس کا کو امام حاکم نے اپنی ” مستدرک “ میں روایت کیا اور کیا یہ کہا کہ یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط کے مطابق صحیح ہے ‘ اور امام ترمذی نے کہا : یہ حدیث صحیح ‘ غریب ہے اور ہم نے اس کو ” حصن “ میں ذکر کیا ہے اور حدیث ابوامامہ کی بناء پر جس کو ہم نے صبح کی دعاؤں میں ذکر کیا ہے ‘ اس حدیث کو امام طبرانی نے ” معجم کبیر “ اور ” کتاب الدعاء “ میں ذکر کیا ہے۔ (الحرز الثمین ص ١٧٦‘ مطبوعہ مطبعہ امیریہ ‘ مکہ مکرمہ ‘ ١٣٠٤ ھ)
امام جزری نے حضرت ابوامامہ کی جس حدیث کا حوالہ دیا ہے وہ یہ ہے :
اسئلک بنور وجھک الذی اشرقت لہ السموات والارض وبکل حق ھو لک وبحق السائلین علیک : (امام محمد بن جزری متوفی ٨٣٣ ھ ‘ حصن حصین مع تحفۃ الذاکرین ص ٦٨‘ مطبوعہ مطبع مصطفے البابی واولادہ ‘ مصر ‘ ١٣٥٠ ھ)
ملاعلی قاری اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :
سوال کرنے والوں کا اللہ پر اس لیے حق ہے کہ اللہ تعالیٰ نے (اپنے کرم سے) ان کی دعا قبول کرنے کا وعدہ فرمایا ہے : گویا کہ بندے نے اللہ تعالیٰ سے بندوں پر اس کے حق کے وسیلہ سے ‘ اور سائلین کا اللہ پر جو حق ہے اس کے وسیلہ سے سوال کیا ‘ اللہ تعالیٰ کا حق یہ ہے کہ بندے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کریں ‘ اس کی حمد وثناء کریں ‘ اس کے احکام پر عمل کریں ‘ اور اس کی منع کی ہوئی چیزوں سے رکیں ‘ اور بندوں کا اللہ پر یہ حق ہے یہ حق ہے کہ وہ اپنے وعدہ کے مطابق ان کو ثواب عطا کرے ‘ کیونکہ اس کے وعدہ کا پورا ہونا واجب ہے ‘ کہ اس کا وعدہ حق ہے اور اس کی خبر صادق ہے۔ (الحزر الثمین ص ١٧٦‘ مطبوعہ امیریہ ‘ مکہ مکرمہ ‘ ١٣٠٤ ھ)
شیخ ابن تیمیہ لکھتے ہیں :
ہم یہ کہتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ سے دعا کرنے والا یہ کہتا ہے کہ میں تجھ سے فلاں کے حق اور فلاں فرشتے اور انبیاء اور صالحین وغیرھم کے حق سے سوال کرتا ہوں یافلاں کی حرمت اور فلاں کی وجاہت کے وسیلہ سے سوال کرتا ہوں، اس دعا کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ کے نزدیک ان مقربین کی وجاہت ہو، اور یہ دعا صحیح ہے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان مقربین کی وجاہت اور حرمت ہے ‘ جس کا یہ تقاضا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند کرے اور ان کی قدر افزائی کرے اور جب یہ شفاعت کریں تو ان کی شفاعت قبول کرے ‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ سبحانہ نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر کون اس سے شفاعت کرسکتا ہے۔ (فتاوی ابن تیمیہ ج ١ ص ٢١١‘ مطبوعہ بامر فہدبن عبدالعزیز)
غیر مقلد عالم قاضی شوکانی (رح) لکھتے ہیں :
یہ بھی ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ پر سائلین کے حق میں مراد یہ ہو کہ اللہ تعالیٰ ان کی دعا کو مسترد نہ کرے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے یہ وعدہ فرمایا ہے : مجھ سے دعا کرو ‘ میں تمہاری دعا کو قبول کروں گا۔ (تحفۃ الذاکرین ٦٩‘ مطبوعہ مطبع مصطفے البابی و اولا دہ ‘ مصر ‘ ١٣٥٠ ھ)
نیز قاضی شوکانی لکھتے ہیں :
میں کہتا ہوں کہ انبیاء (علیہم السلام) کے وسیلہ کے جواز پر وہ حدیث دلیل ہے جس کو امام ترمذی (رح) نے روایت کر کے کہا : یہ حدیث حسن ‘ صحیح اور غریب ہے ‘ امام نسائی ‘ امام ابن ماجہ ‘ اور امام ابن خزیمہ نے اپنی صحیح میں اور امام حاکم نے اس کو روایت کرکے کہا یہ حدیث امام بخاری (رح) اور امام مسلم (رح) کی شرط پر صحیح ہے ‘ حضرت عثمان بن حنیف (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک نابینا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ میری بصارت بحال کر دے ‘ آپ نے فرمایا : یا میں رہنے دوں ؟ اس نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھ پر نابینائی بہت دشوار ہے ‘ آپ نے فرمایا : جاؤ وضو کر کے دو رکعت نماز پڑھو ‘ پھر کہو : اے اللہ ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں ‘ اور محمد نبی رحمت کے وسیلہ سے میں تیری طرف متوجہ ہوتا ہوں ‘ الحدیث۔ ” حصن حصین “ کے باب صلوۃ الحاجۃ میں اس حدیث کا ذکر آئے گا ‘ اور صالحین کے توسل کے جواز پر وہ حدیث دلیل ہے جو صحیح (بخاری) میں ہے کہ صحابہ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عم محترم حضرت عباس (رض) کے وسیلہ سے بارش کے لیے دعا کی اور حضرت عمر (رض) نے کہا : اے اللہ ! ہم تیرے نبی کے عم محترم کے وسیلہ سے دعا کرتے ہیں۔ (تحفہ الذاکرین ص ٣٧‘ مطبوعہ مطبع مصطفے البابی واولادہ ‘ مصر ‘ ١٣٥٠ ھ)
حضرت آدم (علیہ السلام) کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وسیلہ سے دعا کرنا :
نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ولادت سے پہلے حضرت آدم (علیہ السلام) نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وسیلہ سے دعا مانگی جس کو خود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیان فرمایا :
امام بیہقی (رح) اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :
حضرت عمر بن الخطاب (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب حضرت آدم (علیہ السلام) سے (اجتہادی) خطاء ہوگئی تو انہوں نے کہا : اے رب ! میں تجھ سے بہ حق (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سوال کرتا ہوں کہ تو مجھے بخش دے ‘ اللہ عزوجل نے فرمایا : اے آدم ! تم نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کیسے جانا حالانکہ میں نے ابھی ان کو پیدا نہیں کیا ؟ حضرت آدم (علیہ السلام) نے کہا : کیونکہ اے رب ! جب تو نے مجھے اپنے دست قدرت سے پیدا کیا اور تو نے مجھ میں اپنی پسندیدہ روح پھونکی تو میں سراٹھا کر دیکھا تو عرش کے پایوں پر ” لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ “ لکھا ہوا تھا ‘ سو میں نے جان لیا کہ تو نے جس کے نام کو اپنے نام کے ساتھ ملا کر لکھا ہے وہ تجھ کو تمام مخلوق میں سب سے زیادہ محبوب ہوگا۔ اللہ عزوجل نے فرمایا : اے آدم تم نے سچ کہا وہ مجھے مخلوق میں سب سے زیادہ محبوب ہیں اور کیونکہ تم نے انکے وسیلہ سے سوال کیا ہے اس لیے میں نے تم کو بخش دیا اور اگر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پیدا کرنا نہ ہوتا تو میں تم کو پیدا نہ کرتا۔ (دلائل النبوۃ ص ٤٨٩‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت )
اس حدیث کی سند میں عبدالرحمن بن زید بن اسلم ایک ضعیف راوی ہے لیکن فضائل میں حدیث ضعیف معتبر ہوتی ہے۔ امام طبرانی (رح) نے بھی اس حدیث کو اپنی سند کے ساتھ حضرت عمر (رض) سے روایت کیا ہے (معجم صغیر ج ٢ ص ٨٣۔ ٨٢‘ مطبوعہ مکتبہ سلفیہ ‘ مدینہ منورہ ‘ ١٣٨٨ ھ)
امام ابن جوزی (رح) نے بھی اس حدیث کو حضرت عمر (رض) سے روایت کیا ہے ‘ اور حضرت میسرہ (رض) سے بھی اس مضمون کی حدیث کو روایت کیا ہے۔ (الوفاء ص ٣٣‘ مطبویہ مکتبہ نوریہ رضویہ ‘ فیصل آباد)
شیخ ابن تیمیہ نے بھی ان دونوں حدیثوں کو روایت کیا ہے ‘ لیکن انہوں نے لکھا ہے کہ ابونعیم حافظ نے اس حدیث کو ” دلائل النبوۃ “ میں روایت کیا ہے ‘ اس نسبت میں شیخ ابن تیمیہ (رح) کو خطا لاحق ہوئی ‘ یہ حدیث حافظ ابونعیم کی ” دلائل النبوۃ “ میں نہیں ہے بلکہ حافظ بیہقی (رح) کی ” دلائل النبوۃ “ میں ہے ‘ ان دونوں حدیثوں کے متعلق شیخ ابن تیمیہ لکھتے ہیں :
یہ دونوں حدیثیں احادیث صحیحہ کی تفسیر کے درجہ میں ہیں۔ (مجموع الفتاوی ج ٢ س ٩٦‘ مطبوعہ دارالجیل ‘ ریاض ‘ ١٤١٨ ھ)
حضرت عمر (رض) کی اس روایت کو حافظ الہیثمی نے بھی ذکر کیا ہے ‘ وہ اس روایت کو درج کرنیکے بعد لکھتے ہیں : اس حدیث کو امام طبرانی (رح) نے ” معجم صغیر “ اور ” معجم اوسط “ میں روایت کیا ہے اور اس کے ایک راوی کو میں نہیں پہچانتا۔ (مجمع الزوائد ج ٨ ص ٢٥٣‘ مطبوعہ دارالکتاب العربی ‘ ١٤٠٢ ھ)
شیخ ناصر الدین البانی نے بھی اس حدیث کا ذکر کیا ہے۔ (توسل ص ١٠٦‘ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت)
امام حاکم نیشا پوری نے بھی اس حدیث کو حضرت عمر (رض) سے روایت کیا ہے اور اس کو صحیح الاسناد لکھا ہے۔ (المستدرک ج ٢ ص ٦١٥ دار الباز للنشر والتوزیع ‘ مکہ مکرمہ)
امام حاکم نیشا پوری نے ایک اور حدیث اس کے مقارب روایت کی ہے۔
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرف یہ وحی کی : اے عیسیٰ (علیہ السلام) ! محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لاؤ ‘ اور جو تمہاری امت میں سے ان کا زمانہ پائے اس کو بھی ان پر ‘ ایمان لانے کا حکم دو ‘ کیونکہ اگر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نہ ہوتے تو میں آدم (علیہ السلام) کو پیدا نہ کرتا اور اگر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نہ ہوتے تو جنت اور دوزخ کو پیدا نہ کرتا اور میں نے عرش کو پانی پر پیدا کا تو وہ ہلنے لگا ‘ پھر میں نے اس پر لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ لکھا تو وہ ساکن ہوگیا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور امام بخاری (رح) اور امام مسلم (رح) نے اس کو روایت نہیں کیا۔ (المستدرک ج ٢ ص ٦١٥‘ مطبوعہ دارالباز للنشر والتوزیع ‘ مکہ مکرمہ)
علامہ ذہبی (رح) نے ان دونوں حدیثوں کے راویوں کی صحت سے اختلاف کیا ہے ‘ لیکن شیخ ابن تیمیہ کی تصحیح مقدم ہے۔
علامہ سیوطی (رح) نے امام حاکم ‘ امام بیہقی (رح) ‘ امام طبرانی (رح) امام ابونعیم (رح) اور امام ابن عساکر حوالے سے حضرت عمر (رض) کی روایت کو بیان کیا ہے۔ (خصائص کبری ج ١ ص ٦‘ مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ ‘ فیصل آباد)
علامہ قسطلانی (رح) نے بھی حضرت عمر (رض) کی روایت کو امام حاکم (رح) کے حوالے سے نقل کیا ہے۔ (المواہب اللدنیہ مع الزرقانی ج ١ ص ٤٤ مطبوعہ دار الفکر بیروت ‘ ١٣٩٣ ھ)
علامہ زرقانی (رح) نے اس کی شرح میں امام حاکم (رح) اور ابو الشیخ کے حوالے سے حضرت ابن عباس (رض) کی مذکور الصدر روایت بیان کی ہے اور لکھتے ہیں کہ امام حاکم (رح) اور ابوالشیخ کے حوالے سے حضرت ابن عباس (رض) کی مذکور الصدر روایت بیان کی ہے اور لکھتے ہیں کہ امام حاکم (رح) نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے اور علامہ سبکی (رح) نے ” شفاء القام “ میں اور علامہ بلقینی (رح) نے اپنے فتاوی میں اس تصحیح کی تائید کی ہے اور کہا ہے کہ اس قسم کی بات رائے سے نہیں کہی جاسکتی ‘ اس لیے یہ حدیث حکما مرفوع ہے ‘ علامہ ذہبی (رح) نے کہا : اس کی سند میں عمرو بن اوس ہے ‘ پتا نہیں وہ کون ہے ؟ اور امام دیلمی (رح) نے حضرت ابن عباس (رض) سے مرفوعا روایت کیا ہے کہ میرے پاس حضرت جبرائیل آئے اور انہوں نے کہا : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اگر آپ نہ ہوتے تو میں جنت کو پیدا کرتا نہ نار کو پیدا کرتا۔ (شرح المواہب اللدنیہ ج ١ ص ٤٤‘ مطبوعہ دار الفکر ‘ بیروت ‘ ١٣٩٣ ھ)
ملاعلی قاری نے بھی امام دیلمی (رح) کی اس روایت کو استشہاد کے طور پر پیش کیا ہے۔ (موضوعات کبیر ص ٥٩ مطبوعہ مطبع مجتبائی ‘ دہلی ‘ ١٣١٥ ھ)
حضرت مجدد الف ثانی (رح) نے حقیقت محمدی پر بحث کرتے ہوئے یہ دو حدیثیں لکھی ہیں :
اگر آپ کو پیدا کرنا نہ ہوتا تو میں افلاک کو پیدا نہ کرتا ‘ اگر آپ کو پیدا کرنا نہ ہوتا تو میں اپنی ربوبیت کو ظاہر نہ کرتا۔ (مکتوبات دفتر سوم ‘ حصہ دوم ‘ مکتوب نمبر ١٢٢)
یہ حدیثیں ہرچند کہ ان الفاظ کے ساتھ کتب حدیث میں مذکور نہیں ہیں لیکن یہ معنی ثابت ہیں ‘ حدیث لولاک پر ” مقالات سعیدی “ میں ہمارا ایک تفصیلی مقالہ ہے۔
ان حادیث سے یہ واضح ہوگیا کہ مقربین بارگاہ کے وسیلہ سے دعا کرنا ابتداء آفرینش سے مشروع اور معمول ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مقام مدح میں اس دعا کا ذکر فرما کر اس کے جواز اور استحسان کو بیان فرمادیا۔
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا خود اپنے وسیلہ سے دعا فرمانا :
حافظ الہیثمی (رح) بیان کرتے ہیں :
حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت علی (رض) کی والدہ حضرت فاطمہ بنت اسد بن ہاشم (رض) فوت ہوگئیں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کی لحد کھودنے سے فارغ ہوگئے تو آپ ان کی لحد میں لیٹ گئے اور یہ دعا کی : اللہ ہی جلاتا ہے اور وہی مارتا ہے ‘ اور وہی زندہ ہے جسے موت نہیں آئے گی ‘ اے اللہ ! اپنے نبی اور مجھ سے پہلے انبیاء (علیہ السلام) کے وسیلہ سے میری ماں فاطمہ بنت اسد کی مغفرت فرما ‘ ان کو حجت القا فرما ‘ اس کی قبر کو وسیع کر ‘ بلاشبہ تو سب سے زیادہ رحم فرمانے والا ہے ‘ پھر آپ نے ان کی نماز جنازہ پڑھی اور آپ نے ‘ حضرت عباس (رض) نے، اور حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے ان کو قبر میں اتارا ‘ اس حدیث کو امام طبرانی (رح) نے ” کبیر “ اور ” اوسط “ میں روایت کیا ہے ‘ اس میں روح بن صلاح نام کا ایک روای ہے ‘ امام حبان اور امام حاکم نے اس کی توثیق کی ہے اور اس میں ضعف ہے ‘ اور اس کے باقی روای حدیث صحیح کے روای ہیں۔ (مجمع الزوائد ج ٩ ص ٢٥٧‘ مطبوعہ دارالکتاب العربی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٢ ھ)
اس حدیث کو علامہ نورالدین سمہودی (رح) نے بھی ذکر کیا ہے۔ (وفاء الوفاء ج ٣ ص ٨٩٩۔ ٨٩٨‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی ‘ بیروت)
شیخ ناصر الدین البانی (رح) نے بھی اس حدیث کا ذکر کیا ہے۔ (توسل ص ١٠٢‘ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وسیلہ سے دعا کرنا نہ صرف حضرت آدم (علیہ السلام) کی بلکہ خود نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بھی سنت ہے۔
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا خود اپنے وسیلہ سے دعا کرنے کی ہدایت دینا :
انبیاء کرام (علیہم السلام) اور بزرگان دین کے وسیلہ سے دعا کرنے کی اصل یہ حدیث ہے :
حضرت عثمان بن حنیف (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک نابینا شخص نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ اس نے عرض کیا : آپ اللہ سے دعا کیجیے کہ اللہ تعالیٰ میری آنکھیں ٹھیک کردے آپ نے فرمایا : اگر تم چاہو تو میں اس کام کو موخر کر دوں اور یہ تمہارے لیے بہتر ہوگا اور اگر تم چاہو تو (ابھی) دعا کر دوں ‘ اس نے کہا : آپ دعا کردیجیے آپ نے فرمایا : تم اچھی طرح وضو کرو دو رکعت نماز پڑھو ‘ اس کے بعد یہ دعا کرو :” اے اللہ ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور محمد نبی رحمت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وسیلہ سے تیری طرف متوجہ ہوتا ہوں ‘ اے محمد ! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں آپ کے وسیلہ سے اس حاجت میں اپنے رب کی طرف متوجہ ہوا ہوں تاکہ میری یہ حاجت پوری ہو ‘ اے اللہ ! نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو میرے لیے شفاعت کرنے والا بنا دے۔ (سنن ابن ماجہ ص ٩٩ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)
اس حدیث کو امام ترمذی (رح) نے بھی روایت کیا ہے۔ (جامع ترمذی ص ٥١٥‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)
اس حدیث کو امام احمد (رح) نے بھی روایت کیا ہے۔ (مسند احمد ج ٤ ص ١٣٨‘ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)
اس حدیث کو امام حاکم (رح) نے بھی روایت کیا ہے۔ (مستدرک ج ١ ص ٥١٩‘ مطبوعہ دارالباز للنشر والتوزیع ‘ مکہ مکرمہ)
اس حدیث کو امام ابن عساکر (رح) نے بھی روایت کیا ہے۔ (مختصر تاریخ دمشق ج ٣ ص ٣٠٤‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ دمشق)
امام ابن ماجہ (رح) ‘ امام ترمذی (رح) امام احمد (رح) اور امام حاکم (رح) نے اس حدیث کو عمارہ بن خزیمہ بن ثابت کی سند سے روایت کیا ہے اور امام بیہقی (رح) نے اس حدیث کو اس سند کے علاوہ ابوامامہ بن سہل بن حنیف کی سند سے بھی روایت کیا ہے اس روایت میں یہ اضافہ ہے :
قال عثمان : فو اللہ ماتفرقنا ولا طال الحدیث حتی دخل الرجال وکانہ لم یکن بہ ضرقط۔ (امام ابوبکر احمد بن حسین بیہقی (رح) متوفی ٤٥٨ ھ ‘ دلائل النبوۃ ج ٦ ص ١٦٧‘ مطبوعہ دار الکتاب العلمیہ بیروت) حضرت عثمان بن حنیف (رض) نے کہا : بہ خدا ! ابھی ہم اس مجلس سے اٹھے نہیں تھے اور نہ ابھی سلسلہ گفتگو دراز ہوا تھا کہ وہ (نابینا) شخص اس حال میں داخل ہوا کہ اس کی آنکھ میں کوئی تکلیف نہیں تھی۔
امام ابن السنی نے بھی اس حدیث کو ابو امامہ بن سہل بن حنیف کی سند سے روایت کیا ہے ‘ جس میں مذکورہ الصدر اضافہ ہے۔ (عمل الیوم واللیلہ ص ٢٠٢‘ مطبوعہ مجلس الدائرۃ المعارف ‘ دکن ‘ ١٣١٥ ھ)

کپڑے موڑ کر نماز پڑھنے کا حکم

سوال: آج کل ہمارے نوجوانوں میں یہ بیماری پھیلتی جارہی ہے، خصوصا وہ نوجوان جو پینٹ شرٹ میں ملبوس ہوتے ہیں، وہ مسجد میں داخل ہوتے ہی اپنی پینٹ کے پائنچوں کو موڑ لیتے ہیں اور بہت زیادہ موڑتے ہیں اور بعض لوگ شلوار کو نیفے کی طرف گھرستے ہیں یا موڑتے ہیں۔ اس کا شرعی حکم کیا ہے؟
جواب: ہم جب نماز کا ارادہ کرتے ہیں تو گویا ہم اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہورہے ہیں جو سارے حاکموں کا حاکم ہے۔ اس کی بارگاہ سے بڑھ کر کوئی بارگاہ نہیں۔ لہذا اس کی بارگاہ میںانتہائی ادب کے ساتھ حاضر ہونا چاہئے۔ نہایت ہی سلیقے کے ساتھ اچھا لباس پہن کر حاضر ہوں۔ اس مثال کو یوں سمجھ لیجئے کہ آپ ہم کسی دنیاوی افسر کی خدمت میں جاتے ہیں توپہلے اپنا حلیہ اچھا کرتے ہیں پھر اپنا لباس درست کرتے ہیں، آستیں چڑھی ہوئی ہوتی ہیں تو اسے سیدھی کرلیتے ہیں۔ شلوار کا پائنچا اگر اوپر نیچے ہو تو اسے درست کرتے ہیں تو جب دنیاوی دربار کا اس قدر احترام ہے تو جو بارگاہ تمام بارگاہوں سے افضل و اعلیٰ ہے اس بارگاہ کا احترام کس قدر ہونا چاہئے۔ اب شلوار کو نیفے کی طرف سے یا پینٹ کے پائنچے کو نیچے سے موڑنے کی مذمت میں احادیث مبارکہ ملاحظہ فرمائیں۔
حدیث= عن ابن عباس امر النبی ﷺ ان یسجد علی سبعۃ اعضاء ولا یکف شعراء ولا ثوبا الجبھۃ، والیدین، والرکبتین، والرجلین (بخاری شریف، باب السجود علی سبعۃ اعظم، کتاب الاذان، حدیث 809، ص 155، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، لبنان)
ترجمہ= حضرت عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی پاک صاحب لولاکﷺ نے سات اعضاء پر سجدہ کرنے اور بالوں اور کپڑے کو نہ موڑنے کا حکم دیا ہے (وہ سات اعضاء یہ ہیں) پیشانی، دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے اور دونوں پائوں۔
شارح بخاری علامہ بدر الدین عینی علیہ الرحمہ اس حدیث شریف کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ شریعت کی اصطلاح میں کپڑے کا موڑنا (فولڈ کرنا) اور سجدہ میں جاتے وقت اپنے کپڑے کو اوپر کی طرف کھینچنا ہے۔ یہ فعل کپڑے کاٹخنوں کے نیچے رہنے سے زیادہ قبیح و نقصان دہ ہے کیونکہ پہلی صورت میں یعنی کپڑا بغیر تکبر کی نیت کے ٹخنے سے نیچے رکھنے میں نماز مکروہ تنزیہی (برا) ہے یا خلاف اولیٰ ہوگی اور کف ثوب کی صورت میں خواہ نیفے یا پائنچے کی طرف سے موڑے (مکروہ تحریمی ہے) اور اسی طرح آدھی کلائی سے زیادہ آستین وغیرہ موڑنے یا دامن سمیٹ کر نماز پڑھنا مکروہ تحریمی واجب الاعادہ (نماز کو دوبارہ لوٹانا ہے)
(بحوالہ: عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری، جلد 6، ص 90)
علامہ بدر الدین عینی علیہ الرحمہ کی شرح سے دو باتیں سامنے آئیں کہ اگر شلوار، ازار یا پینٹ بغیر تکبر کی نیت سے ٹخنوں سے نیچے ہو تو مکروہ تنزیہی یعنی برا فعل ہے جبکہ شلوار ازار یا پینٹ کو اوپر یا نیچے سے موڑنا (فولڈ کرنا) مکروہ تحریمی ہے یعنی نماز لوٹانی ہوگی۔ عقل کا تقاضا بھی یہی ہے کہ اگر ہمارے سامنے دو مصیبتیں ہوں، ایک چھوٹی اور ایک بڑی تو چھوٹی مصیبت اپنا لینی چاہئے لہذا ازار یا پینٹ بڑی ہے تو مکروہ تحریمی سے بچنے کے لئے فولڈ نہ کریں۔ کوشش کریں کہ شلوار، ازار یا پینٹ جب بھی سلوائیں ٹخنوں کی اوپر ہی سلوائیں، بالفرض یہ بات علم میں نہ تھی تو اب جس قدر ہوسکے ، اوپر کرلیں، باوجود اوپر کرنے کے بھی ٹخنوں تک آجاتی ہے تو اب اوپر یا نیچے سے فولڈ نہ کریں۔ اسی حالت میں نماز پڑھ لیں۔
در مختار میں ہے اور اس کے تحت علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ کف ثوب مکروہ تحریمی ہے یعنی کپڑے کا موڑنا اگرچہ کپڑے کو مٹی سے بچانے کی نیت سے ہو، جیسے آستین دامن موڑنا اگر ایسی حالت میںنماز میں داخل ہوا کہ اس کی آستین یا اس کا دامن موڑا ہوا تھا جب بھی مکروہ تحریمی ہے اور اس قول سے اس بات کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ یہ موڑنا (فولڈ) کرنا حالت نماز کے ساتھ ہی مخصوص نہیں، خواہ نماز شروع کرنے سے پہلے یا دوران نماز ہو سب صورتوں میں مکروہ تحریمی ہے (در مختار، جلد اول، ص 598)
کپڑا ٹخنے سے اوپر رکھنے کا حکم
حدیث= عن عبداﷲ ابن عمر رضی اﷲ عنہما قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم من جرثوبہ خیلاء لم ینظر اﷲ الیہ یوم القیمۃ فقال ابوکر ان احد شقی ثوبی یسترخی الا ان اتعاھدذلک منہ فقال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم انک لست تصنع ذلک خیلاء (بخاری کتاب فضائل اصحاب النبی، باب قول النبی لو کنت متخذا خلیلا،حدیث 3665، ص 667، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان)
ترجمہ: حضرت عبداﷲ ابن عمر رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا جو ازراہ تکبر و غرور کپڑا گھسیٹ کر چلے، قیامت کے دن اﷲ تعالیٰ اس کی طرف نظر رحمت نہیں فرمائے گا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے کہا یا رسول اﷲﷺ میرے کپڑے کا ایک کونہ لٹک جاتا ہے مگر یہ کہ میں اس کی دیکھ بھال کرتا ہوں۔رسول اﷲﷺ نے فرمایا (اے ابوبکر) تم یہ تکبر و غرور سے نہیں کرتے۔
اس حدیث شریف سے واضح ہوگیا کہ کپڑے ٹخنے سے نیچے لٹکانے کی دو صورتیںہیں۔
1۔ تکبر کے ساتھ
2۔ بغیر تکبر کے
پہلی صورت تکبر کے ساتھ شلوار ٹخنوں کے نیچے لٹکانا حرام اور مکروہ تحریمی ہے۔ دوسری صورت میں بغیر تکبر کی نیت سے شلوار ٹخنوں سے نیچے رکھنا مکروہ تنزیہی ہے۔
سوال: شلوار کو ٹخنوں سے نیچے رکھناہی تو تکبر ہے؟
جواب: یہ بات درست نہیں ہے۔ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہوتا ہے۔ موجودہ دورمیں ہر دوسرے آدمی کی شلوار ٹخنوں سے نیچے ہوتی ہے تو کیا سب کو متکبر (تکبر کرنے والوں میں) شمار کیا جائے گا۔ ایسا کہنا زیادتی ہے کیونکہ صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ کو رسول پاکﷺ کی جانب اجازت سے کامل جانا کہ اے ابوبکر رضی اﷲ عنہ! تم تکبراً نیچے کرنے والے نہیں ہو، ثابت کرتا ہے کہ اس میں نیت کا بڑا عمل دخل ہے۔
سوال: لوگوں کی کافی تعداد مسجد میں داخل ہوتے ہی اپنی شلوار اوپر سے اور پینٹ نیچے سے فولڈ کرلیتی ہے اور مسجد سے باہر نکلتے ہی فورا اپنی شلوار اور پینٹ درست کرلیتی ہے؟
جواب: یہ سب لاعلمی کی وجہ سے ہے۔ ایک بات ذہن نشین رکھیں کہ شلوار یا پینٹ کو ٹخنوں سے اوپر رکھنے کا حکم ہروقت ہے۔ صرف نماز کے لئے خاص نہیں ہے۔مذکورہ حدیث میں کہیں یہ نہیں حکم دیا گیا کہ نماز کے وقت یہ اہتمام کرو بلکہ ہر وقت اس کی احتیاط ضروری ہے۔

مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ فاتحہ 3

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
 
مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ
 
روز جزاء کا مالک ہے۔
 
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : روز جزاء کا مالک ہے (الفاتحہ : ٣)
مالک اور ملک کی دو قراءتیں :
مالک اور ملک اس آیت میں دونوں متواتر قراءتیں ہیں ‘ امام عاصم ‘ امام کسائی اور امام یعقوب کی قراءت میں مالک ہے۔ باقی پانچ ائمہ کی قرات میں ملک ہے۔
مالک اس شخص کو کہتے ہیں جو اپنی مملوکہ چیزوں میں جس طرح چاہے تصرف کرنے پر قادر ہو اور ملک اس شخص کو کہتے ہیں اپنی رعایا میں احکام (امر و نہی) نافذ کرتا ہو۔
قرآن مجید کی بعض آیات مالک کی موافقت میں ہیں اور بعض ملک کی۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
(آیت) ” قل اللہ ملک الملک تؤتی الملک من تشآء وتنزع الملک ممن تشآء وتعزمن تشآء وتذل من تشآء، بیدک الخیر۔ (آل عمران : ٢٦) کہیے : اے اللہ ! ملک کے مالک ! تو جس کو چاہتا ہے ملک دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے ملک چھین لیتا ہے اور تو جس کو چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ذلت میں مبتلا کرتا ہے ‘ اور تمام بھلائی تیری ہاتھ میں ہے۔
(آیت) ” یوم لا تملک نفس لنفس شیئا، والامر یومئذ للہ (الانفطار : ١٩) یہ وہ دن ہے جس میں کوئی شخص کسی شخص کے لیے کسی چیز کا مالک نہیں ہوگا ‘ اور اس دن اللہ ہی کا ہوگا۔
ان دونوں آیتوں سے مالک کی تائید ہوتی ہے۔
(آیت) ” قل اعوذ برب الناس ملک الناس “۔ (الناس : ٢۔ ١) آپ کہیے : میں تمام لوگوں کے رب ‘ تمام لوگوں کے بادشاہ کی پناہ میں آتا ہوں۔
(آیت) ” لمن الملک الیوم ‘ للہ الواحدالقھار “۔ (المومن : ١٦) آج کس کی بادشاہی ہے ؟ اللہ کی جو واحد ہے اور سب پر غالب ہے۔
(آیت) ” الملک یومئذللہ یحکم بینہم “۔ (الحج : ٥٦ ) ۔ اس دن صرف اللہ ہی کی بادشاہی ہوگی ‘ وہی ان کے درمیان فیصلہ فرمائے گا۔
اور ان دو آیتوں سے ملک کی تائید ہوتی ہے۔
یوم کا عرفی اور شرعی معنی :
علامہ آلوسی لکھتے ہیں :
عرف میں طلوع شمس سے لے کر غروب شمس تک کے زمانہ کو یوم کہتے ہیں ‘ اور اعمش کے سو اہل سنت کے نزدیک شریعت میں طلوع فجر ثانی سے لے کر غروب شمس تک کے وقت کو یوم کہتے ہیں اور یوم قیامت اپنے معروف معنی میں حقیقت شرعیہ ہے۔ (روح المعانی ج ١ ص ٨٤‘ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت)
یوم قیامت کی مقدار :
قیامت کے دن کے متعلق قرآن مجید میں ہے :
(آیت) ” تخرج الملئکۃ والروح الیہ فی یوم کان مقدارہ خمسین الف سنۃ (المعارج : ٤) جبرئیل اور فرشتے اس کی طرف عروج کرتے ہیں (جس دن عذاب ہوگا) اس دن کی مقدار پچاس ہزار سال ہے۔
امام ابو یعلی روایت کرتے ہیں :
حضرت ابوسعید خدری (رض) روایت کرتے ہیں ‘ عرض کیا گیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قرآن مجید میں اس دن کے متعلق ہے کہ وہ پچاس ہزار برس کا ہوگا ‘ یہ کتنا لمبادن دن ہوگا ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قسم اس ذات کی جس کے قبضہ وقدرت میں (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ہے ! مومن پر اس دن میں تخفیف کی جائے گی ‘ حتی کہ وہ جتنی دیر میں دنیا میں فرض نماز پڑھتا تھا اس پر وہ دن اس سے بھی کم وقت میں گزرے گا۔ (مسند ابو یعلی ج ٢ ص ١٣٤‘ مطبوعہ دارالمامون ترات ‘ بیروت ‘ ١٤٠٤ ھ)
اس حدیث کو حافظ ابن جریر (جامع البیان ج ٢٩ ص ٤٥) اور حافظ ابن کثیر (تفسیر ابن کثیر ج ٧ ص ١١٣) نے بھی اپنی اپنی سندوں کے ساتھ روایت کیا ہے اور امام ابن حبان نے بھی اس کو روایت کیا ہے۔ (موارد الظمان الی زاوائد ابن حبان ‘ ص ٦٣٨‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت)
امام بیہقی (رح) نے بھی اس کو روایت کیا ہے۔
علامہ سیوطی (رح) نے بھی اس کو امام احمد (رح) ‘ امام ابویعلی (رح) ‘ امام ابن جریر (رح) ‘ امام ابن حبان (رح) ‘ اور امام بیہقی (رح) ‘ کے حوالوں سے ذکر کیا ہے۔ (الدرالمنثور ج ٦ ص ٢٦٥۔ ٢٦٤‘ مطبوعہ مکتبہ آیۃ اللہ العظمی ‘ ایران)
علامہ آلوسی (رح) نے بھی اس کو مذکور الصدر حوالہ جات کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ (روح المعانی ج ٢٩ ص ٥٧‘ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت)
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی حدیث مذکور کے متعلق حافظ الہیثمی (رح) لکھتے ہیں :
اس حدیث کو امام احمد اور امام ابو یعلی (رح) نے روایت کیا ہے ‘ اس کا ایک راوی ضعیف ہے اور اس کی سند حسن ہے۔ (مجمع الزوائد ج ١٠ ص ٣٣٧‘ مطبوعہ دارالکتاب العربی ‘ ١٤٠٢ ھ)
نیز حافظ الہیثمی (رح) لکھتے ہیں :
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لوگ رب العلمین ‘ کے سامنے آدھے دن تک کھڑے رہیں گے جو پچاس ہزار برس کا ہوگا اور مومن پر آسانی کردی جائے گی ‘ جیسے سورج کے مائل بہ غروب ہونے سے اس کے غروب ہونے تک ‘ اس حدیث کو امام ابو یعلی نے روایت کیا ہے اور یہ حدیث صحیح ہے۔ (مجمع الزوائد ج ١٠ ص ٣٣٧‘ مطبوعہ دارالکتاب العربی ‘ ١٤٠٢ ھ)
امام احمد روایت کرتے ہیں :
حضرت ابو سعید خدری (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں کہ کافر کے لیے قیامت کا دین پچاس ہزار برس کا مقرر کیا جائے گا کیونکہ اس نے دنیا میں نیک عمل نہیں کئے۔ (مسند ج ٣ ص ٧٥‘ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)
عدل و انصاف کا یہ تقاضا ہے کہ جو لوگ دنیا میں اس طرح نماز پڑھتے ہیں کہ گویا وہ نماز میں اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہے ہیں ‘ پھر وہ اس میں اس طرح محو ہوجاتے ہیں کہ انہیں گرد وپیش کا ہوش نہیں رہتا ‘ امام ابوحنیفہ (رح) نماز پڑھ رہے تھے کہ مسجد کی چھت سے سانپ گرپڑا ‘ افراتفری مچ گئی مگر وہ اسی محویت سے نماز پڑھتے رہے ‘ ایک انصاری صحابی کو نماز کے دوران تیر لگا ‘ خون بہتا رہا اور وہ اسی انہماک سے نماز پڑھتے رہے ‘ امام بخاری کو نماز میں تتیہ نے سترہ ڈنک مارے اور انہیں احساس تک نہ ہوا ‘ سو ایسے ہی کاملین کی یہ جزاء ہوگی کہ قیامت کے دن ان کو فی الواقع دیدار الہی عطا کیا جائے اور جب ان کو دیدار الہی عطا کیا جائے گا تو وہ اس کی دید میں ایسے مستغرق ہوں گے کہ قیامت کے ہنگامہ خیز پچاس ہزار برس گزر جائیں گے اور ان کو یوں معلوم ہوگا جیسے ایک فرض نماز پڑھنے کا وقت گزرا ہو ‘ لیکن اللہ تعالیٰ ہم پر عدل نہیں کرم فرماتا ہے ‘ عدل کے لحاظ سے تو ہم دنیا میں بھی کسی نعمت کے مستحق نہیں ہیں ‘ اللہ تعالیٰ دنیا میں بھی ہم کو دنیکوں کے صدقہ میں نعمتیں دیتا ہے ‘ سو آخرت میں بھی ان نیکوں کے طفیل ہم پر قیامت کا دن بہ قدر فرض نماز گزرے گا اور اپنے دیدار سے معمور فرمائے گا۔
وقوع قیامت پر عقلی دلیل :
ہم اس دنیا میں دیکھتے رہتے ہیں کہ بعض لوگ ظلم کرتے کرتے مرجاتے ہیں اور ان کو ان کے ظلم پر کوئی سزا نہیں ملتی اور بعض لوگ ظلم سہتے سہتے مرجاتے ہیں اور ان کی مظلومیت پر کوئی جزا نہیں ملتی ‘ اگر اس جہان کے بعد کوئی اور جہان نہ ہو تو ظالم سزا کے بغیر اور مظلوم جزا کے بغیر رہ جائے گا اور یہ چیز اللہ تعالیٰ کی حکمت کے خلاف ہے ‘ اس لیے یہ ضروری ہے کہ اس عالم کے بعد کوئی اور عالم ہو جس میں ظالم کو سزا دی جائے اور مظلوم کو جزا۔
اور جزاء اور سزاء کے نظام کے برپا کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ اس عالم کو بالکلیہ ختم کردیا جائے ‘ کیونکہ جزاء اور سزا اس وقت جاری ہوسکتی ہے جب بندوں کے اعمال ختم ہوجائیں ‘ اور جب تک تمام انسان اور یہ کائنات ختم نہیں ہوجاتی لوگوں کے اعمال کا سلسلہ ختم نہیں ہوگا ‘ مثلا قابیل نے قتل کرنے کا طریقہ ایجاد کیا ‘ اب اس کے بعد جتنے قتل ہوں گے ان کے قتل کے جرم سے قابیل کے نامہ اعمال میں گناہ لکھا جاتا رہے گا ‘ اس لیے جب تک قتل کا سلسلہ ختم نہیں ہوجاتا قابیل کا نامہ اعمال مکمل نہیں ہوگا ‘ اسی طرح ہابیل نے ظالم سے بدلہ نہ لینے کی رسم ایجاد کی ‘ اب اس کے بعد جو شخص بھی یہ نیکی کرے گا اس کی نیکی میں سے ہابیل کے نامہ اعمال میں نیکی لکھی جاتی رہے گی ‘ اس لیے جب تک اس نیکی کا سلسلہ ختم نہیں ہوجاتا ہابیل کا نامہ اعمال مکمل نہیں ہوگا ‘ اسی طرح ایک شخص مسجد یا کنواں بنا کر مرجاتا ہے تو جب تک اس مسجد میں نماز پڑھی جاتی رہے گی ‘ جب تک اس کنوئیں سے پانی پیا جاتا رہے گا ‘ اس شخص کے نامہ اعمال میں نیکیاں لکھی جاتی رہیں گی اور کوئی شخص بت خانہ یا شراب خانہ بنا کر مرگیا تو جب تک وہاں بت پرستی یا شراب نوشی ہوتی رہے گی اس کے نامہ اعمال میں برائیاں لکھی جاتی رہیں گی۔
اس لیے جب تک یہ دنیا اور اس دنیا میں انسان موجود ہیں اس وقت تک لوگوں کا نامہ اعمال مکمل نہیں ہوسکتا اور لوگوں کے نامہ اعمال کو مکمل کرنے کے لیے دنیا اور دنیا والوں کو مکمل ختم کرنا ضروری ہے اور اسی کا نام قیامت ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حکمت اس کی متقاضی ہے کہ جزا اور سزا کا نظام قائم کیا جائے اور جزا اور سزا کو نافذ کرنے سے پہلے قیامت کا قائم کرنا ضروری ہے۔
وقوع قیامت پر شرعی دلائل :
یہ دنیا دارالامتحان ہے اور اس میں انسان کی آزمائش کی جاتی ہے اور اس امتحان کا نتیجہ اس دنیا میں ظاہر نہیں ہوتا لیکن نیک اور بد ‘ اطاعت گزار اور نافرمان ‘ موافق اور مخالف اور مومن اور کافر میں فرق کرنا ضروری ہے اور یہ فرق صرف قیامت کے دن ظاہر ہوگا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :۔
(آیت) ” لیجزی الذین اسآء وا بما عملوا ویجزی الذین احسنوا بالحسنی (النجم : ٣١) تاکہ برے کام کرنے والوں کو ان کی سزا دے اور نیکی کرنے والوں کو اچھی جزا دے۔
(آیت) ” ام نجعل الذین امنوا وعملوا الصلحت کالمفسدین فی الارض ام نجعل المتقین کالفجار (ص : ٢٨) کیا ہم ایمان والوں اور نیکی کرنے والوں کو زمین میں فساد کرنے والوں کی طرح کردیں گے ؟ یا ہم پرہیزگاروں کو بدکاروں جیسا کردیں گے ؟۔
(آیت) ” ام حسب الذین اجترحوا السیات ان نجعلہم کالذین امنوا وعملوا الصلحت ‘ سوآء محیاھم ومماتھم سآء ما یحکمون۔ (الجاثیہ : ٢١) کیا برے کام کرنے والوں نے یہ گمان کرلیا ہے کہ ہم ان کو ان لوگوں کی طرف کردیں گے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کئے کہ (ان سب کی) زندگی اور موت برابر ہوجائے ؟ وہ کیسا برا فیصلہ کرتے ہیں۔
(آیت) ” افنجعل المسلمین کالمجرمین مالکم کیف تحکمون (القلم : ٣٦۔ ٣٥) کیا ہم فرمانبرداروں کو مجرموں جیسا کردیں گے تمہیں کیا ہوا ‘ تم کیسا فیصلہ کرتے ہو ؟
دنیا میں راحت اور مصیبت کا آنا مکمل جزاء اور سزا نہیں ہے :
ہر چند کہ بعض لوگوں کو دنیا میں ہی ان کی بداعمالیوں کی سزا مل جاتی ہے۔ مثلا ان کا مالی نقصان ہوجاتا ہے ‘ یا وہ ہولناک بیماریوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں یا ان پر دشمنوں کا خوف طاری ہوجاتا ہے ‘ لیکن یہ ان کی بداعمالیوں کی پوری پوری سزا نہیں ہوتی ‘ اور ہم کتنے ہی لوگوں کو دیکھتے ہیں کہ وہ ساری عمر عیش پرستی ‘ ہوس ناکیوں اور ظلم وستم کرنے میں گزار دیتے ہیں ‘ پھر اچانک ان پر کوئی مصیبت ٹوٹ پڑتی ہے اور ان کی دولت اور طاقت کانشہ کافور ہوجاتا ہے۔ لیکن ان کے جرائم کے مقابلہ میں یہ بہت کم سزا ہوتی ہے ‘ اس لیے ان کی مکمل سزا کے لیے ایک اور جہاں کی ضرورت ہے جہاں قیامت کے بعد ان کو پوری پوری سزا ملے گی۔
(آیت) ” ولنذیقنھم من العذاب الادنی دون العذاب الاکبر لعلہم یرجعون۔ (السجدہ : ٢١) اور ہم ان کو بڑے عذاب سے پہلے (دنیا میں) ہلکا عذاب ضرور چکھائیں گے تاکہ وہ باز آجائیں۔
اس طرح بہت سے نیک بندے ساری عمر ظلم وستم سہتے رہتے ہیں اور مصائب برداشت کرتے رہتے ہیں اور انہیں اپنی زندگی میں آرام اور راحت کا بہت کم موقعہ ملتا ہے ‘ اس لیے اللہ تعالیٰ قیامت کو قائم کرے گا اور ہر شخص کو اسکی نیکی اور بدی کی پوری پوری جزا اور سزا دے گا۔
(آیت) ” فمن یعمل مثقال ذرۃ خیرا یرہ ومن یعمل مثقال ذرۃ شرا یرہ (الزلزال : ٨۔ ٧) سو جو ذرہ برابر نیکی کرے گا وہ اس کی (جزا) پائے گا اور جو ذرہ برابر برائی کرے گا وہ اس کی (سزا) پائے گا۔
دین کا لغوی معنی :
علامہ زبیدی لکھتے ہیں :
دین کا معنی ہے جزا اور مکافات ‘ قرآن مجید میں (آیت) ” مالک یوم الدین “ کا معنی ہے : یوم جزاء کا مالک ‘ دین کا معنی عادت بھی ہے ‘ کہا جاتا ہے :” مازال ذالک دینی “ میری ہمیشہ سے یہ عادت ہے ‘ اور دین کا معنی اللہ تعالیٰ کی عبادت ہے ‘ اور دین کا معنی طاعت ہے ‘ حدیث میں ہے :
یمرقون من الدین مروق السھم من الرمیۃ : وہ امام کی اطاعت سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔
(علامہ سید محمد مرتضی حسینی زبیدی حنفی متوفی ١٢٠٥‘ تاج العروس ج ٩ ص ٢٠٨۔ ٢٠٧‘ مطبوعہ المطبعۃ الخیریہ ‘ مصر ١٣٠٦ ھ)
دین ‘ شریعت اور مذہب وغیرہ کی تعریفات : میر سید شریف لکھتے ہیں :
دین ایک الہی دستور ہے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ہوتا ہے جو عقل والوں کو قبول کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ دین اور ملت متحد بالذات ہیں اور مختلف بالاعتبار ہیں کیونکہ شریعت بہ حیثیت اطاعت دین ہے اور بہ حیثیت ضبط اور تحریر ملت ہے ‘ اور جس حیثیت سے اس کی طرف رجوع کیا جائے مذہب ہے ‘ ایک قول یہ ہے کہ دین اللہ کی طرف منسوب ہے اور ملت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف منسوب ہے اور مذہب مجتہد کی طرف منسوب ہے۔ (کتاب التعریفات ص ٤٧‘ مطبوعہ المطبعۃ الخیریہ ‘ مصر ١٣٠٦ ھ)
عبودیت کا التزام کرکے حکم ماننا شریعت ہے ‘ ایک قوم یہ ہے کہ شریعت دین کا ایک راستہ ہے۔ (کتاب التعریفات ص ٥٥‘ مطبوعہ المطبعۃ الخیریہ ‘ مصر ١٣٠٦ ھ)
علامہ بدرالدین (رح) عینی لکھتے ہیں :
” شرعۃ ومنھاجا “ کی تفسیر میں قتادہ (رض) نے کہا : دین ایک ہے اور شریعت مختلف ہے۔ (عمدۃ القاری ج ١ ص ١١٧‘ مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ ‘ مصر ١٣٤٨ ھ)
علامہ قطبی مالکی (رح) لکھتے ہیں :
اللہ تعالیٰ نے اہل تورات کے لیے تورات مقرر کی اور اہل انجیل کے لیے انجیل اور اہل قرآن کیلیے قرآن مقرر کیا اور یہ تقرر شریعتوں اور عبادتوں میں ہے اور اصل توحید ہے جس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ (الجامع الاحکام القرآن ج ٢ ص ٢١١ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران ٗ ١٣٨٧ ھ)
امام بخاری (رح) مجاہد (رح) سے روایت کرتے ہیں :
اے محمد ! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم نے آپ کو اور حضرت نوح (علیہ السلام) کو ایک ہی دین کی وصیت کی ہے۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ‘ ٦ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)
قرآن مجید میں ہے :
اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے اسی دین کا راستہ مقرر کیا ہے جس کا حکم اس نے نوح کو دیا تھا اور جس دین کی ہم نے آپ کی طرف وحی فرمائی ہے اور جس کا حکم ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) ، موسیٰ (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) کو دیا تھا کہ اسی دین کو قائم رکھو اور اس میں تفرقہ نہ دالو۔
اس آیت سے معلوم ہوا کہ تمام انبیاء (علیہم السلام) کا دین واحد ہے اور وہ اسلام ہے۔
(آیت) ” لکل جعلنا منکم شرعۃ ومنھا جاء “۔ (المائدہ : ٤٨) ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لیے الگ الگ شریعت اور واضح راہ عمل بنائی ہے۔
اس آیت سے معلوم ہوا کہ ہر نبی کی شریعت الگ ہے۔
قرآن مجید کی ان آیات اور احادیث اور عبارات علماء کا حاصل یہ ہے کہ جو عقائد اور اصول تمام انبیاء میں مشترک ہیں مثلا توحید ‘ رسالت قیامت جزاء ‘ سزا ‘ اللہ کی تعظیم اور اس کے شکر کا واجب ہونا ‘ قتل اور زنا کا حرام ہونا ‘ ان کا نام دین ہے اور ہر نبی نے اپنے زمانہ کے مخصوص حالات کے اعتبار سے عبادات اور نظام حیات کے جو مخصوص احکام بتائے وہ شریعت ہے ‘ ان کو مدون اور منضبط کرنا ملت ہے اور امام اور مجتہد نے کتاب اور سنت سے جو احکام مستنبط کیے ان کا نام مذہب ہے ‘ اور مشائخ طریقت نے جو اوراد اور وظائف کے مخصوص طریقے بتائے ان کا نام مسلک اور مشرب ہے اور کسی مخصوص درسگاہ کے نظریات کا نام مکتب فکر ہے ‘ مثلا یہ کہا جاسکتا ہے کہ ہم دین کے اعتبار سے مسلمان ہیں ‘ شریعت کے اعتبار سے محمدی ہیں ‘ مذہب کے اعتبار سے ماتریدی اور حنفی ہیں اور مسلک اور مشرب کے اعتبار سے قادری ہیں اور مکتب فکر کے لحاظ سے بریلوی ہیں۔
اللہ ‘ رب ‘ رحمن ‘ رحیم اور مالک یوم الدین میں وجہ ارتباط :
سورة فاتحہ کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پانچ اسماء ذکر کئے ہیں : اللہ ‘ رب ‘ رحمن ‘ رحیم اور مالک یوم الدین اور ان میں ارتباط اس طرح ہے کہ ” اللہ “ کے تقاضے سے اس نے انسان کو پیدا کیا ‘ ” رب “ کے تقاضے سے اس نے غیر متناہی نعمتوں سے انسان کی پرورش کی ‘ ” رحمن “ کے تقاضے سے انسان کے گناہوں پر پردہ رکھا ‘” رحیم “ کے تقاضے سے انسان کی توبہ قبول کرکے اس کو معاف فرمایا اور (آیت) ” مالک یوم الدین “ کے تقاضے سے انسان کو اس کے اعمال صالحہ کی جزاء عطا فرمائی۔
اگر یہ سوال ہو کہ ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ میں بھی اللہ تعالیٰ کی صفت رحمن و رحیم کا ذکر ہے اور سورة فاتحہ کی ابتداء میں پھر ان صفات کا ذکر ہے ‘ اس کی کیا وجہ ہے کہ رحمن اور رحیم کو دو مرتبہ ذکر کیا ہے اور باقی اسماء کا دو مرتبہ ذکر نہیں ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ہوسکتا ہے کہ اس میں یہ اشارہ ہو کہ اللہ تعالیٰ پر رحمت کا غلبہ ہے اس لیے بندہ کو اس سے مایوس نہیں ہونا چاہیے اور ہر وقت اس کی رحمت پر نظر رکھنی چاہیے ‘ اس کے بعد (آیت) ” مالک یوم الدین “ فرمایا کہ کہیں اس کی رحمت سے دھوکا کھا کر انسان گناہوں پر دلیر نہ ہوجائے کیونکہ وہ ” مالک یوم الدین “ بھی ہے۔
جس طرح اس آیت میں فرمایا ہے :
غافر الذنب وقابل التوب شدید العقاب ذی الطول۔ (المومن : ٤٠) وہ گناہ بخشنے والا اور توبہ قبول کرنے والا ‘ بہت سخت عذاب دینے والا قدرت والا ہے۔
” الحمد للہ “ میں مسند الیہ مقدم ہے اور خبر معرفہ ہے اور عربی قواعد کے مطابق ایسی ترکیب مفید حصر ہوتی ہے ‘ نیز اللہ تعالیٰ کی صفات رب ’ رحیم ‘ اور (آیت) ” مالک یوم الدین “ بہ منزلہ علت ہیں ‘ اس اعتبار سے معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی حمد کا مستحق نہیں ہے کیونکہ وہی رب ہے ‘ وہی رحمن، رحیم اور مالک روز جزاء ہے ‘ اور اس میں یہ رمز ہے کہ جس میں یہ صفات نہ ہوں وہ تو ستائش کے لائق بھی نہیں ہے چہ جائیکہ وہ پرستش کا مستحق ہو اور جب یہ معلوم ہوگیا کہ اللہ ہی حمد وثناء کے لائق ہے اور وہی عبادت کا مستحق ہے تو ہم سے یہ کہلوایا : اے پروردگار ! ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد چاہتے ہیں۔
 

الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ آیت نمبر 2

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
نہایت رحم فرمانے والا بہت مہربان ہے۔
تمام تعریفوں کے لیے اللہ تعالیٰ کے استحقاق پر دلیل :
” الحمد للہ “ میں الف لام یا استغراق کے لیے ہے یا جنس کے لیے ہے ‘ اگر یہ لام استغراق ہو تو اس کا معنی یہ ہے کہ ہر حامد کی ہر زمانہ میں ہر حمد اللہ کا حق ہے اور اس کے ساتھ خاص ہے ‘ اور اگر لام جنس کا ہو تو معنی یہ ہے کہ حمد کی ماہیت اور حقیقت اللہ کا حق اور اس کی ملک ہے ‘ اور یہ اس کی منافی ہے کہ حمد کا کوئی فرد اللہ کے غیر کے لیے ثابت ہو ‘ تو ہر دو طریقوں سے یہ معلوم ہوا کہ حمد صرف اللہ کا حق ہے کسی اور کا حق نہیں ہے ‘ کیونکہ تعریف کسی حسن اور کمال کی ہوتی ہے اور تمام محاسن اور کمالات کا مبدا اللہ تعالیٰ ہے تو ثابت ہوا کہ تمام تعریفات کا مستحق بھی اللہ تعالیٰ ہے۔ ” للہ “ میں لام ‘ یا اختصاص لائق کیلیے ہے یا ملک کے لیے ہے ‘ پہلی صورت میں معنی یہ ہے کہ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لائق ہیں ‘ کیونکہ ہر چیز کو اس نے پیدا کیا ہے اور ہر چیز اس کے فضل اور احسان سے معمور ہے ‘ دوسری صورت میں معنی یہ ہے کہ تمام تعریفوں کا اللہ ہی مالک ہے کیونکہ ہر چیز ہرحال میں اللہ کی مملوک ہے تو جس حال میں وہ حمد کرتے ہیں اس حال میں بھی وہ اللہ کی مملوک ہیں ‘ لہذا وہ حمد بھی اللہ کی مملوک ہے۔ اس کا معنی یہ ہے کہ اگر کوئی شخص بہ ظاہر کسی پھول کی خوشبو کی تعریف کر رہا ہے ‘ یا کسی عالم کے علم کی تعریف کر رہا ہے تو وہ درحقیقت اللہ ہی کی تعریف ہے اور اسی ایک جملہ سے مخلوق پرستی کی جڑ کٹ جاتی ہے کیونکہ جو شخص سورج کی ‘ کسی نبی کی یا کسی دیوی اور دیوتا کی پرستش کرتا ہے وہ ان میں کسی خوبی اور کمال کو دیکھ کر ان کی پرستش کرتا ہے حالانکہ وہ کمال اور حسن ان کا اپنا ذاتی نہیں ہے اللہ تعالیٰ کا پیدا کیا ہوا اور اس کا عطا کردہ ہے اس لیے پرستش کا حق دار صاحب کمال نہیں ہے خالق کمال ہے۔
مخلوق کا شکر ادا کرنے پہلے خالق کا شکر ادا کیا جائے۔
اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ کیا محسن شکریہ ادا کئے جانے کا مستحق نہیں ہے ‘ امام ابوداؤد روایت کرتے ہیں :
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص لوگوں کو شکر ادا نہیں کرتا وہ اللہ کا شکر ادا نہیں کرتا۔ (سنن ابوداؤد ج ٢ ص ٣٠٦‘ مطبوعہ مطبع مجتبائی ‘ پاکستان لاہور ‘ ١٤٠٥ ھ)
اس کا جواب یہ ہے کہ ہر محسن اور ہر منعم کا شکر ادا کرنا چاہیے اور ہم اس سے منع نہیں کرتے ‘ بلکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ ہر نعمت درحقیقت اللہ تعالیٰ سے ملتی ہے ‘ اس لیے کسی منعم کے انعام اور کسی محسن کے احسان پر اس کی تعریف کرنے اور اس کا شکر ادا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کی حمد کی جائے اور اس کا شکر ادا کیا جائے۔ کیونکہ ہر نعمت اور ہر احسان درحقیقت اللہ کی دی ہوئی نعمت اور اس کا احسان ہے ‘ مثلا کسی بھوکے شخص کو بھوک سے بلبلاتے دیکھ کر کوئی شخص اس کو کھانا کھلا دیتا ہے ‘ بہ ظاہر اس شخص کا احسان ہے ‘ لیکن غور کیجئے اگر اللہ تعالیٰ کھانا ہی پیدا نہ کرتا تو وہ شخص بھوکے کو کیسے کھلاتا ‘ یا کھانا تو پیدا کیا تھا لیکن اس شخص کے پاس کھانا خریدنے کے لیے پیسے نہ ہوتے تو کہاں سے کھلاتا ‘ کھانا بھی ہوتا ‘ اس کے حصول کے لیے پیسے بھی ہوتے لیکن اس کے دل میں بھوکے کو دیکھ کر رحم نہ پیدا ہوتا تو بھوکے کو کب کھلا سکتا تھا ‘ یہ سب کچھ ہوتا لیکن بھوکے آدمی میں کھانے کی صلاحیت نہ ہوتی مثلا اس کے منہ میں ناسور ہوتا ‘ یا اوپر کا جبڑا نچلے جبڑے پر بیٹھ جانے کی وجہ سے اس کا منہ بند ہوگیا ہوتا تو وہ بھوکے کو کب کھلا سکتا تھا ؟ تو نعمت بھی اس نے پیدا کی ‘ نعمت کے حصول پر منعم کو قدرت بھی اس نے دی، نعمت دینے کے لیے منعم میں رحم کا جذبہ بھی اس نے پیدا کیا اور نعمت سے فائدہ اٹھانے کی منعم علیہ میں صلاحیت بھی اس نے پیدا کی ‘ تو پھر حمد اور شکر کا کون مستحق ہوگا ؟ اس لیے اولا اسی کی حمد کی جائے اور اسی کا شکر ادا کیا جائے ‘ اب یہ اس کا کرم ہے کہ اس نے ظاہری وسائل اور اسباب کو بھی نظر انداز نہیں کیا اور اس ظاہری منعم اور محسن کا بھی شکر ادا کرنا کا حکم دیا ہے۔
اللہ تعالیٰ کی کما حقہ حمد وثنا سے مخلوق کا عاجز ہونا :
اللہ تعالیٰ کی نعمتیں لامحدود ہیں ‘ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
(آیت) ” وان تعدوا نعمۃ اللہ لا تحصوھا “۔ (النحل : ١٨) اور اگر تم اللہ کی نعمتیں گنوتو انہیں گن نہ سکو گے۔
تو جب ہم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو گن نہیں سکتے تو ان کا شکر کیسے ادا کرسکتے ہیں ؟ نیز اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی توفیق اور قدرت کے بغیر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں ہوسکتا ‘ اس لیے جب انسان کسی نعمت پر شکر ادا کرے تو اس شکر ادا کرنے کی توفیق اور قدرت پر بھی شکر ادا کرے، پھر اس دوسرے شکر کی توفیق پر شکر ادا کرے اور یوں ساری عمر ختم ہونے کے باوجود اس کی کسی ایک نعمت کا شکر ادا نہیں ہوسکتا ‘” تفسیر کبیر “ میں منقول ہے کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے یہی عرض کیا کہ خدایا ! میں تو تیری ایک نعمت کا بھی شکر ادا نہیں کرسکتا کجا غیر متناہی نعمتوں کا شکر ادا کیا جائے ‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے داؤد ! جب تم نے یہ جان لیا کہ تم ہماری نعمتوں کا شکر ادا کرنے سے عاجز ہو تو ہمارا شکر ادا ہوگیا ‘ بس تم اپنی قدرت اور طاقت کے مطابق ہمارا شکر ادا کرتے رہو !
ایک قول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ازل میں علم تھا کہ بندے اس کی حمد کرنے سے عاجز ہیں اور اس کی استاعت نہیں رکھتے ‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے خود اپنی حمد کی اور فرمایا (آیت) ” الحمد للہ رب العلمین “ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بڑھ کر اللہ کی ذات وصفات اور اس کی نعمتوں کا عارف ‘ اور اس کی حمد وثناء میں رطب اللسان رہنے والا کون ہوسکتا ہے ! اس کے باوجود آپ بار گاہ الہیہ میں عرض کرتے ہیں : ” لا احصی ثناء علیک انت کما اثنیت علی نفسک ‘ میں تیری ایسی ثنا نہیں کرسکا جیسی ثنا تو خود اپنی کرتا ہے “ (صحیح مسلم ج ١ ص ١٩٢‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)
اللہ کی حمد کرنے کے احوال اور اوقات :
امام ابو داؤد (رح) روایت کرتے ہیں :
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس کلام کی ابتداء ” الحمد للہ “ سے نہیں کی جائے گی وہ ناتمام رہے گا۔ (سنن ابوداؤد ج ٢ ص ٣٠٩‘ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ)
امام ابن ماجہ روایت کرتے ہیں :
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس مہہتم بالشان کام کی ابتداء ” الحمد للہ “ سے نہیں کی گئی وہ ناتمام رہے گا۔ (سنن ابن ماجہ ص ١٣٥، مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب، کراچی)
امام احمد (رح) روایت کرتے ہیں :
حضرت سعد بن ابی وقاص (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے تعجب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مومن کا کیسا نصیب رکھا ہے ! اس کو اگر بھلائی پہنچتی ہے تو اپنے رب کی حمد کرتا ہے اور اس کا شکر ادا کرتا ہے اور اگر اس کو مصیبت پہنچتی ہے تو اپنے رب کی حمد کرتا ہے اور صبر کرتا ہے۔ (مسند احمد ج ٢ ص ١٨٢۔ ١٧٧۔ ١٧٣‘ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)
امام ترمذی (رح) روایت کرتے ہیں :
حضرت ابوموسی اشعری (رض) روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب ایک بندہ کا بچہ فوت ہوتا ہے تو ہے تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتا ہے : تم نے میرے بندہ کا بچہ اٹھالیا ؟ وہ کہتے ہیں : ہاں ! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : تم نے اس کے دل کا ٹکڑا اٹھالیا ‘ وہ کہتے ہیں : ہاں ! اللہ فرماتا ہے : میرے بندہ نے کیا کیا ؟ وہ کہتے ہیں تیری حمد کی اور ” انا للہ واناالیہ راجعون “ پڑھا ‘ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میرے بندہ کے لیے جنت میں ایک گھر بنادو اور اس کا نام بیت الحمد رکھ دو ۔ (جامع ترمذی ص ١٦٦‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)
اس حدیث کو امام احمد (رح) نے بھی روایت کیا ہے۔ (مسند احمد ج ٤ ص ٤١٥‘ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)
امام ترمذی (رح) روایت کرتے ہیں :
حضرت ابوسعید (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب کھاتے یا پیتے تو دعا کرتے : تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے ہم کو کھلایا اور پلایا اور مسلمان بنایا۔ (جامع ترمذی ص ٤٩٩‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)
حضرت معاذ بن انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے کھانا کھا کر کہا : تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں ‘ جس نے مجھے یہ کھانا کھلایا اور مجھ کو بغیر کوشش اور طاقت کے یہ رزق دیا ‘ تو اس کے تمام پچھلے گناہ معاف کردیئے جائیں گے۔ (جامع ترمذی ص ٤٩٩‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)
امام بخاری روایت کرتے ہیں :
حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے تھے : جب تم میں سے کوئی شخص اپنا پسندیدہ خواب دیکھے تو وہ اللہ کی طرف سے ہے اور اس پر ” الحمد للہ “ کہے۔ (صحیح بخاری ج ٢ ص ١٠٣٤‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم میں سے کسی شخص کو چھینک آئے تو وہ ” الحمد للہ “ کہے۔ (صحیح بخاری ج ٢ ص ٩١٩‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)
امام ترمذی روایت کرتے ہیں :
حضرت حذیفہ بن یمان (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب سونے کا ارادہ کرتے تو دعا کرتے : اے اللہ ! میں تیرے نام سے مرتا ہوں اور زندہ ہوتا ہوں اور جب بیدار ہوتے تو دعا کرتے : تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے میرے نفس پر موت وارد کرنے کے بعد اس کو زندہ کیا ‘ اور اس کی طرف اٹھنا ہے۔ (جامع ترمذی ص ٤٩٢‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)
امام احمد روایت کرتے ہیں :
حضرت انس (رض) کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب کسی ٹیلے یا کسی بلندی پر چڑھتے تو فرماتے : اے اللہ ! ہر بلندی سے زیادہ بلندی تیری لیے ہے ‘ اور ہر حمد سے بالاحمد تیرے لیے ہے۔ (مسند احمد ج ٢ ص ١٢٧‘ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)
اللہ کی حمد کی فضیلت اور اجر وثواب :
امام مسلم روایت کرتے ہیں :
حضرت ابومالک اشعری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پاکیزگی نصف ایمان ہے ‘ ” الحمد للہ “ میزان کو بھر دیتا ہے اور ” سبحان اللہ “ اور ” الحمد للہ “ آسمان اور زمین کے درمیان کو بھر دیتے ہیں۔ (صحیح مسلم ج ١ ص ١١٨‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)
یعنی ” الحمد للہ “ یا اس کے اجر کو اگر مجسم کیا جائے تو اس سے میزان بھر جائے گی ‘” سبحان اللہ “ سے مراد اللہ کی تنزیہہ ہے اور ” الحمد للہ “ سے مراد اس کی ثناء ہے گویا آسمان اور زمین کے درمیان ہر چیز اللہ تعالیٰ کے نقص سے بری ہونے اور اس کی تعریف اور ثناء پر دلالت کرتی ہے۔
امام احمد روایت کرتے ہیں :
حضرت سمرہ (رض) روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قرآن کے بعد چار کلام افضل ہیں اور وہ بھی قرآن سے ہیں ‘ تم ان میں جس سے بھی ابتداء کرو کوئی مضائقہ نہیں ہے ” سبحان اللہ ‘ الحمد للہ ‘ لا الہ الا اللہ “ اور ” اللہ اکبر “۔ (مسند احمدج ٥ ص ٢٠ ج ٤ ص ٣٦‘ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)
امام ترمذی روایت کرتے ہیں :
عمرو بن شعیب اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے سو مرتبہ صبح اور سو مرتبہ شام کو ” سبحان اللہ “ کہا اس نے گویا سو حج کئے اور جس نے سو مرتبہ صبح اور سو مرتبہ شام کو ” الحمد للہ “ کہا اس نے گویا جہاد فی سبیل اللہ کے لیے سو گھوڑے مہیا کئے۔ (جامع ترمذی ص ٥٠٠‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)
امام ابن جریر اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :
حضرت ابن عباس (رض) نے کہا : ” الحمد للہ “ شکر ہے ‘ اللہ کی فرمانبرداری کرنا ہے اور اس کی نعمت اور ہدایت کا اقرار کرنا ہے۔ (جامع البیان ‘ مطبوعہ دارالمعرفتتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)
نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم کہتے ہو : (آیت) ” الحمد للہ رب العلمین “ تو تم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہو اور وہ تم کو زیادہ نعمت دے گا۔ (جامع البیان ج ١ ص ٤٦‘ مطبوعہ دارالمعرفتتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)
علامہ قرطبی (رح) بیان کرتے ہیں :
امام مسلم (رح) حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ بندہ کی اس بات سے خوش ہوتا ہے کہ وہ کچھ کھائے تو اللہ کی حمد کرے اور کچھ پیے تو اللہ کی حمد کرے۔
حسن بصری (رح) نے کہا : ہر نعمت کی بہ نسبت ” الحمد للہ “ کہنا افضل ہے۔
امام ابن ماجہ (رح) نے حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت کیا ہے کہ جب کوئی بندہ اللہ کی دی ہوئی کسی نعمت پر ” الحمد للہ “ کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو اس سے افضل نعمت عطا فرماتا ہے۔
” نوادر الاصول “ میں حضرت انس بن مالک (رض) کی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایک روایت ہے جس کا خلاصہ یہ ہے : اگر کسی کو تمام دنیا دے دی جائے ‘ پھر اس کو ’‘’ الحمد للہ “ کہنے کی توفیق دی جائے تو ” الحمد للہ “ کہنے کی نعمت تمام دنیا سے افضل ہے۔ (الجامع الاحکام القرآن ج ١ ص ١٣١ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران)
خود اپنی حمد وثنا کرنے کی شرعی نوعیت :
جس طرح کبریائی صرف اللہ تعالیٰ کو زیبا ہے اور انسان کے لیے تکبر کرنا حرام ہے ‘ اسی طرح انسان کا عیوب سے اپنی تنزیہہ اور محاسن سے خود اپنی حمد وثناء کرنا مکروہ اور ناپسندیدہ ہے ‘ کیونکہ تسبیح اور تنزیہہ اور حمد وثنا اللہ تعالیٰ ہی کی شان ہے ‘ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خود ستائی سے منع فرمایا ہے اور اس کو ناپسندیدہ قرار دیا ہے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
(آیت) ” فلا تزکوا انفسکم ھو اعلم بمن اتقی “۔ (النجم : ٣٢) خود ستائی نہ کرو ‘ پرہیزگاروں کو وہی زیادہ جانتا ہے۔
تزکیہ کا معنی ہے : عیوب اور قبائح سے منزہ کرنا یعنی نہ عیوب سے اپنی براءت بیان کرو نہ اپنے محاسن بیان کرو۔
علامہ آلوسی اس آیت کے شان نزول میں لکھتے ہیں :
یہ آیت ان مسلمانوں کے حق میں نازل ہوئی ہے جو نیک اعمال کرتے ‘ پھر اپنی نمازوں ‘ اور حج کا ذکر کرتے تھے۔ (روح المعانی ج ٢٧ ص ٦٤‘ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت)
علامہ قرطبی (رح) نے لکھا ہے کہ جب یہود و نصاری نے اپنی تعریف کی اور یہ کہا : ” نحن ابناء اللہ واحباءہ “ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے محبوب ہیں اور بعض روایات میں ہے کہ یہودیوں نے کہا : ہم بچوں کی طرح گناہوں سے پاک ہیں تو یہ آیت نازل ہوئی :
(آیت) ” الم ترالی الذین یزکون انفسھم بل اللہ یزکی من یشآء ‘(النساء : ٤٩) کیا آپ نے ان کو نہیں دیکھا جو اپنی پاکیزگی کا دعوی کرتے ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے پاکیزہ بنا دیتا ہے۔ (الجامع الاحکام القرآن ج ٥ ص ٢٤٦‘ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران ٗ ١٣٨٧ ھ)
امام مسلم روایت کرتے ہیں :
ابن عطا کہتے ہیں : میں نے اپنی بیٹی کا نام برہ (نیکوکارہ) رکھا ‘ مجھ سے حضرت زینب بنت ابی سلمہ نے کہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس نام منع فرمایا ہے ‘ میرا نام پہلے برہ تھا (یعنی نیکی کرنے والی) تو میرا نام زینب رکھا گیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم خود ستائی نہ کرو ‘ اللہ ہی خوب جانتا ہے کہ تم میں سے نیکی کرنے والا کون ہے ‘ صحابہ (رض) نے پوچھا : پھر ہم اس کا کیا نام رکھیں ؟ آپ نے فرمایا : اس کا نام زینب رکھو۔ (صحیح مسلم ج ٢ ص ٨٠٢‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)
قرآن مجید کی ان آیات اور اس حدیث سے یہ واضح ہوگیا کہ انسان کا خود اپنی تعریف اور حمد و ثنا کرنا اور اپنے آپ کو عیوب اور قبائح سے بری اور پاک دامن کہنا ‘ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نزدیک ناپسندیدہ ہے ‘ تسبیح اور تنزیہہ اور حمد و ثنا صرف اللہ تعالیٰ ہی کو زیبا ہے ‘ وہی ہر عیب اور نقص سے پاک ہے اور وہی تمام خوبیوں اور کمالات کا جامع ہے اور وہی تمام تعریفوں اور حمد و ثنا کا مستحق ہے۔
تاہم اگر کسی غرض صحیح کی وجہ سے انسان اپنی تعریف کرے تو یہ جائز ہے جیسے حضرت عثمان (رض) نے باغیوں کے سامنے اپنی تعریف و توصیف کی تاکہ وہ باغی بغاوت سے باز آجائیں اور ان پر اللہ کی حجت تمام ہوجائے۔
امام ترمذی (رح) روایت کرتے ہیں :
ابو عبدالرحمان سلمی بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت عثمان (رض) کا محاصرہ کرلیا گیا تو انہوں نے اپنے گھر کی چھت سے ان کی طرف متوجہ ہو کر کہا : میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر یاد دلاتا ہوں کہ جب جبل حراء ہلنے لگا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے حراء ! پرسکون ہوجا ! کیونکہ تجھ پر صرف نبی ہے یا صدیق ہے یا شہید ہے ‘ باغیوں نے کہا : ہاں ! آپ نے کہا : میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر یاد دلاتا ہوں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غزوہ تبوک لیے یہ فرمایا تھا ‘ اس کے لیے کون مقبول خرچ مہیا کرتا ہے ؟ اس وقت مسلمان سخت مشکل اور تنگ دستی میں تھے تو میں نے اس لشکر کے لیے زاد راہ مہیا کیا ‘ باغیوں نے کہا : ہاں ! پھر آپ نے کہا : میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر یاد دلاتا ہو کیا تمہیں علم ہے کہ چاہ رومہ (ایک کنواں) سے صرف قیمت دے کر پینے کے لیے پانی حاصل کیا جاتا تھا ‘ میں نے اس کنویں کو خرید کر امیروں ‘ غریبوں اور مسافروں کے لیے وقف کردیا ‘ باغیوں نے کہا : ہاں ! اس کے علاوہ اور بہت سی نیکیاں حضرت عثمان (رض) نے گنوائیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی ص ٥٣١۔ ٥٣٠‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)
نیز امام ترمذی (رح) روایت کرتے ہیں :
ثمامہ بن حزن قشیری بیان کرتے ہیں کہ حضرت عثمان (رض) نے باغیوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا : میں تم کو اللہ کی اور اسلام کی قسم دیتا ہوں کیا تم کو علم ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ میں آئے تو چاہ رومہ کے سوا اور کوئی میٹھے پانی کا کنواں نہیں تھا ‘ تو رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کوئی ہے جو چاہ رومہ کو خرید کر مسلمانوں کے لیے وقف کردے ؟ اور اس نیکی کے عوض میں جنت لے لے ! میں نے اس کنویں کو خالص اپنے مال سے خریدا اور آج تم مجھ کو اس کنویں کا پانی پینے نہیں دیتے ! حتی کہ میں سمندر کا کھارا پانی پی رہا ہوں ! باغیوں نے کہا : ہاں ! آپ نے فرمایا : میں تم کو اللہ کی اور اسلام کی قسم دیتا ہوں کیا تم کو علم ہے کہ مسجد نبوی میں جگہ کم تھی تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کوئی ہے جو فلاں شخص سے زمین خرید کر اس مسجد کو وسیع کرے ؟ اور اس نیکی کے عوض جنت لے لے ! پھر اس جگہ کو میں نے اپنے خالص مال سے خریدا تھا اور آج تم مجھے اس میں دو رکعت نماز پڑھنے نہیں دیتے ! باغیوں نے کہا : ہاں ! آپ نے فرمایا : میں تم کو اللہ کی اور اسلام کی قسم دیتا ہوں کیا تم کو علم ہے کہ غزوہ تبوک کے لیے میں نے اپنے مال سے خرچ مہیا کیا تھا ‘ انہوں نے کہا : ہاں ! آپ نے پھر فرمایا میں تم کو اللہ کی اور اسلام کی قسم دیتا ہوں کیا تم کو علم ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ میں جبل ثبیر پر کھڑے ہوئے اور آپ کے ساتھ حضرت ابوبکر (رض) ، حضرت عمر (رض) ، تھے اور میں تھا ‘ اس وقت پہاڑ ہلنے لگا ‘ حتی کہ اس کے پتھر نیچے گرنے لگے ‘ تو آپ نے اس پر اپنا پیر مارا اور فرمایا : اے ثبیر ! ساکن ہوجا ! تجھ پر نبی ہے ‘ صدیق ہے اور دو شہید ہیں ‘ باغیوں نے کہا : ہاں ! آپ نے تین بار فرمایا : اللہ اکبر ! خدا کی قسم ان باغیوں نے میرے حق میں گواہی دے دی اور میں شہید ہوں۔ (جامع ترمذی ص ٥٣١‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)
حضرت عثمان (رض) نے باغیوں کے سامنے اپنی حمد وثناء اس لیے کی تھی کہ یہ باغی اسلام کے لیے حضرت عثمان (رض) کی خدمات اور بارگاہ رسالت میں ان کے مقام کو پہچان کر بغاوت سے باز آجائیں ‘ تو ایسی کوئی غرض صحیح ہو مثلا غاصبوں کے سامنے اپنا استحقاق ثابت کرنے کے لیے یا محض اللہ تعالیٰ کے انعامات بیان کرنے کے لیے اپنی تعریف کی جائے اور اس سے اپنی بڑائی کا اظہار کرنا مقصود نہ ہو تو پھر اپنی تعریف کرنا جائز ہے اور اگر حمد وثنا سے اپنی بڑائی کا اظہار کرنا مقصود ہو تو اس کے حرام ہونے میں کوئی شک نہیں ‘ حمد وثناء اور کبریائی صرف اللہ تعالیٰ کا حق ہے اور اسی کو زیبا ہے۔
کسی دوسرے شخص کے سامنے اس کی حمد وثنا کرنے کی شرعی نوعیت :
جس طرح بغیر کسی غرض صحیح کے خود اپنی تعریف کرنا مکروہ اور ناپسندیدہ ہے اسی طرح کسی غرض صحیح کے بغیر کسی دوسرے شخص کے سامنے اس کی تعریف کرنا بھی مکروہ اور ناپسندیدہ ہے۔
امام مسلم (رح) روایت کرتے ہیں :
حضرت ابوبکر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے ایک شخص نے کسی کی تعریف کی ‘ آپ نے فرمایا : تم پر افسوس ہے تم نے تو اپنے صاحب کی گردن کاٹ دی ‘ یہ جملہ آپ نے کئی بار فرمایا : جب تم میں سے کسی شخص نے اپنے صاحب کی لامحالہ تعریف کرنی ہو ‘ تو یوں کہو کہ میرا فلاں کے متعلق یہ گمان ہے اور اس کو حقیقت میں اللہ ہی جاننے والا ہے ‘ اور میں کسی کو اللہ کے نزدیک سراہا ہو انہیں کہتا ‘ خواہ وہ اس کے متعلق اسی طرح جانتا ہو۔
حضرت ابوبکر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے ایک شخص کا ذکر کیا گیا ‘ ایک شخص نے کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد کوئی شخص فلاں فلاں چیز میں اس سے افضل نہیں ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم پر افسوس ہے ! تم نے اپنے صاحب کی گردن کاٹ دی۔ یہ جملہ آپ نے کئی بار فرمایا ‘ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر تم میں سے کسی شخص نے خواہ مخواہ اپنے بھائی کی تعریف کرنی ہو ‘ تو یہ کہے : میرا فلاں کے متعلق یہ گمان ہے خواہ وہ اس کو اسی طرح سمجھتا ہو اور وہ یہ نہ کہے کہ وہ اللہ کے نزدیک ایسا ہی ہے۔ (صحیح مسلم ج ٢ ص ٤١٤‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)
ان احادیث میں کسی شخص کے سامنے اس کی تعریف سے منع کیا گیا ہے اور بعض احادیث سے اس کا جواز بھی ثابت ہے ‘ امام بخاری (رح) روایت کرتے ہیں :
حضرت ابوسعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خطبہ میں فرمایا کہ اللہ سبحانہ نے ایک بندے کو دینا اور اس کے پاس ہے ‘ اس کے درمیان اختیار دیا تو اس نے اس چیز کو اختیار کرلیا تو اللہ کے پاس ہے ‘ حضرت ابوبکر (رض) یہ سن کر رونے لگے ‘ حضرت ابوسعید (رض) کہتے ہیں : میں نے دل میں سوچا : اگر اللہ نے ایک بندے کو دنیا اور جو اس کے پاس ہے اس کے درمیان اختیار دے دیا ہے اور اس نے جو اللہ کے پاس ہے اس کو پسند کر لیاتو اس بوڑھے کو کیا چیز رلاتی ہے ؟ لیکن آپ کے اس ارشاد میں بندے سے مراد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تھے اور حضرت ابوبکر (رض) ہم سب سے زیادہ عالم تھے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابوبکر ! بیشک اپنی صحبت اور مال سے مجھ پر سب سے زیادہ احسان کرنے والے ابوبکر ہیں ‘ اور اگر میں اپنی امت میں سے کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکر (رض) کو بناتا لیکن اسلام کی اخوت اور محبت قائم رہے گی ‘ اور ابوبکر کے دروازے کے سوا مسجد میں (کھلنے والا) ہر دروازہ بند کردیا جائے ‘ باقی نہ رکھا جائے۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ‘ ٥١٦۔ ٦٧ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)
اس حدیث کو امام ترمذی نے بھی روایت کیا ہے۔ (جامع ترمذی ص ٥٢٦۔ ٥٢٥‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)
نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوبکر (رض) ‘ حضرت عمر (رض) اور حضرت عثمان (رض) کے سامنے بھی ان کی تعریف کی ہے۔
امام ترمذی (رح) روایت کرتے ہیں :۔
حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ‘ حضرت ابوبکر (رض) ، حضرت عمر (رض) اور حضرت عثمان (رض) احد (پہاڑ) پر چڑھے ‘ وہ ہلنے لگا ‘ آپ نے فرمایا : اے احد ساکن ہوجا ‘ تجھ پر صرف نبی “ صدیق اور دو شہید ہیں۔ (جامع ترمذی ص ٥٣٠‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)
اور آپ نے حضرت علی (رض) کے سامنے بھی ان کی تعریف کی ہے، امام ترمذی (رح) روایت کرتے ہیں :
حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) سے فرمایا : تم میرے لیے ایسے ہو جیسے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے لیے ہارون (علیہ السلام) تھے مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ (جامع ترمذی ص ٥٣٥‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)
منہ پر تعریف کرنے کے جواز اور عدم جواز کا محمل :
امام مسلم نے ایسی احادیث ذکر کی ہیں جن میں کسی کے سامنے اس کی تعریف کرنے سے منع کیا گیا ہے ’ جبکہ ” معجم طبرانی “ میں ایسی روایات ہیں جن میں کسی کے سامنے تعریف کرنے کی اجازت ہے اور صحاح ستہ میں بکثرت ایسی روایات ہیں جن میں خود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بعض صحابہ کے سامنے ان کی تعریف کی ہے ‘ اس لیے علماء کرام نے ان احادیث میں یہ تطبیق دی ہے کہ اگر کسی کے سامنے اس کی تعریف کرنے سے اس کے فتنہ میں مبتلا ہونے کا خدشہ ہو تو پھر اس کے سامنے اس کی تعریف نہ کی جائے اور اگر یہ خدشہ نہ ہو تو پھر اس کے سامنے اس کی تعریف جائز ہے۔
علامہ یحییٰ بن شرف نووی (رح) لکھتے ہیں :
امام مسلم (رح) نے وہ احادیث ذکر کی ہیں جن میں کسی کے منہ پر تعریف کرنے سے منع کیا گیا ہے ‘ صحیح بخاری ‘ صحیح مسلم اور بکثرت کتب حدیث میں ایسی روایات بھی ہیں جن میں منہ پر تعریف کی گئی ہے ‘ ان احادیث میں تطبیق اس طرح ہے کہ کسی کی بےجا تعریف کرنا یا تعریف میں مبالغہ کرنا ‘ یا دنیاوی طمع کی وجہ سے تعریف کرنا یا جس کے متعلق یہ اندیشہ ہے کہ وہ تعریف سن کر اکڑ جائے گا یا تکبر میں مبتلا ہوجائے گا ‘ اس کے منہ پر تعریف کرنا منع نہیں ہے ‘ اور جس شخص کے کمال تقوی اور عقل میں پختگی کی وجہ سے یہ خدشہ نہ ہو اس کے منہ پر تعریف کرنا منع نہیں ہے ‘ بہ شرطی کہ وہ بےجا تعریف نہ ہو اور دنیاوی طمع کی وجہ سے نہ ہو ‘ بلکہ اگر کسی دینی مصلحت کی وجہ سے تعریف کی جائے یا کسی شخص میں کسی نیک خصلت کے حصول یا اس کی زیادتی کے لیے یا اس کو اس نیک خصلت پر برقرار رکھنے کے لیے یا اس نیک خصلت کی اقتداء کے لیے اس کے منہ پر تعریف کی جائے تو یہ تعریف کرنا مستحب ہے۔ (شرح مسلم ج ٢ ص ٤١٤‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)
علامہ ابن حجر عسقلانی (رح) لکھتے ہیں :
علامہ ابن بطال نے کہا ہے کہ ممانعت کا خلاصہ یہ ہے کہ جو شخص کسی کی ان اوصاف کے ساتھ تعریف کرے گا جو اس میں نہ ہوں تو ہوسکتا ہے کہ وہ شخص اپنے متعلق ان اوصاف کا یقین کرلے اور ان اوصاف پر اعتماد کر کے وہ شخص اپنے اعمال ضائع کر دے اور نیکی کی جدوجہد کرنا چھوڑ دے (مثلا ایک شخص کسی سے کہے : میں نے تم کو خواب میں بارگاہ رسالت میں دیکھا ہے۔ اور تمہارے جنتی ہونے کی بشارت سنی ہے یا کہے کہ میں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ سنا ہے کہ جو تمہارے ہاتھ پر بیعت کرے گا وہ جنتی ہوگا ‘ یا جو تمہارے وعظ میں شریک ہوگا وہ جنتی ہوگا۔ (العیاذ باللہ) اس لیے جس حدیث میں یہ ہے کہ تعریف کرنے والوں کے منہ میں مٹی ڈال دو ‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ جھوٹی تعریف کرنے والوں کے منہ میں مٹی ڈال دو اور جس شخص نے ان اوصاف کے ساتھ تعریف کی جو موصوف میں موجود ہوں تو وہ اس حکم میں داخل نہیں ہے، کیونکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے بعض صحابہ (رض) نے اپنے اشعار اور خطاب میں آپ کی تعریف کی اور آپ نے ان کے منہ میں مٹی نہیں ڈالی۔
علامہ ابن بطال کا کلام ختم ہوا
امام مسلم (رح) نے روایت کیا ہے کہ کسی شخص نے حضرت عثمان (رض) کے سامنے ان کی تعریف کی تو حضرت مقداد (رض) نے اس کے منہ پر کنکریاں پھینکیں اور مذکور الصدر حدیث سے استدلال کیا ‘ اس حدیث کا دوسرا محمل یہ ہے کہ منہ پر مٹی ڈالنے کا مطلب ہے اس کو ناکام اور نامراد کرنا یعنی جھوٹی تعریف کرنے والے کی غرض اور مقصد کو پورا نہ کرو ‘ تیسری توجیہ یہ ہے کہ اس سے کہو : تمہارے منہ میں مٹی ‘ چوتھی توجیہ یہ ہے کہ ممدوح اور موصوف اس جھوٹی تعریف سے دھوکا نہ کھائے اور تعریف کرنے والے سے کہے : تم غلط کہہ رہے ہو میں ایسا نہیں ہوں ‘ اور یہ اس کے منہ میں مٹی ڈالنا ہے ‘ پانچویں توجیہ یہ ہے کہ وہ شخص جس مقصد اور غرض سے تعریف کر رہا ہے اس کا وہ مقصد پورا کرکے اس کا منہ بند کردیا جائے اور اس کو روانہ کردیا جائے ‘ مثلا کوئی شخص کسی سے کچھ رقم مانگنے کے لیے اس کی بےجا تعریف کر رہا ہے تو وہ اس کو وہ رقم دے کر کہے : یہ رقم لو اور جاؤ ‘ اور یہ اس کے منہ کو بند کرنا ہے جو اس کے منہ میں مٹی ڈالنے کے مترادف ہے ‘ علامہ بیضاوی (رح) اور علامہ طیبی (رح) نے اسی توجیہ کو اختیار کیا ہے۔
امام غزالی نے ” احیاء العلوم “ میں لکھا ہے کہ مدح کی آفت یہ ہے کہ مدح کرنے والا کبھی جھوٹ بولتا ہے اور کبھی اپنی مدح سے ممدوح کو مزید برائی میں مبتلا کرتا ہے ‘ خصوصا جب وہ فاسق یا ظلم کی مدح کرے ‘ امام ابویعلی (رح) نے حضرت انس (رض) سے روایت کیا ہے کہ جب فاسق کی مدح کی جائے تو اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے ‘ اور کبھی وہ ایسی تعریف کرتا ہے جو اس کے نزدیک متحقق نہیں ہوتی، اور جس شخص کی مدح کی جائے وہ اس خطرہ سے خالی نہیں ہے کہ وہ اترانے لگے یا تکبر کرے یا تعریف کی شہرت پر اعتماد کر کے عمل میں کمی کردے ‘ اگر تعریف ان قباحتوں سے خالی ہو تو پھر اس میں حرج نہیں ہے، بلکہ بعض اوقات تعریف مستحب ہوتی ہے ‘ ابن عیینہ نے کہا : جو شخص اپنے نفس کو پہچانتا ہو اس کو کسی کی تعریف سے ضرر نہیں ہوتا اور بعض سلف نے کہا : جب کسی کے منہ پر تعریف کی جائے تو وہ دعا کرے : اے اللہ ! میرے ان کاموں کو بخش دے جن کو یہ لوگ نہیں جانتے اور ان کی تعریف کی وجہ سے میری پکڑ نہ کر اور مجھے ان کے گمان سے بہتر بنا دے۔ (فتح الباری ج ١٠، ص ٤٧٨۔ ٤٧٧‘ مبطوعہ دارالکتب الاسلامیہ ‘ لاہور)
رب کا لغوی اور شرعی معنی :
علامہ زبیدی لکھتے ہیں :
الرب اللہ عزوجل ہے ‘ اور وہ ہر چیز کا رب ہے ‘ یعنی ہر چیز کا مالک ہے ‘ اور تمام مخلوق اس کی ملک میں ہے ‘ اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور وہ ” رب الارباب “ اور ” مالک الملوک “ ہے ‘ ابومنصور نے کہا : لغت میں مالک ‘ سید ‘ مدبر اور مہتمم پر رب کا اطلاق ہوتا ہے اور جب اس پر الف لام ہو (الرب) تو پھر اس کا اللہ عزوجل کے غیر پر اطلاق نہیں ہوتا ‘ اور جب اللہ تعالیٰ کے غیر پر رب کا اطلاق کیا جائے تو پھر اس کی کسی چیز کی طرف اضافت کی جاتی ہے جیسے ” رب الدار “ (مکان کا مالک ) ‘ حدیث میں علامات قیامت کے ذکر میں ہے : ” ان تلدالامۃ رب تھا “ باندی اپنی مالکہ کو جنم دے گی “ یعنی بہت زیادہ باندیاں ہوں گی، اور اذان کی دعا میں ” اللہم رب ھذہ الدعوۃ ‘ اے اس نداء کے صاحب “ اور حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ کوئی مملوک اپنے مالک کو میرا رب نہ کہے ‘ آپ نے اس کو ناپسند کیا کہ مالک کو رب قرار دے کر اس کو ربوبیت میں اللہ کے ساتھ شریک کیا جائے قرآن مجید میں ہے ؛ ” اذکرنی عند ربک “ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے قیدی سے کہا : تم اپنے رب کے سامنے میرا ذکر کرنا ‘ اور یہاں عزیز مصر پر رب کا اطلاق کیا ہے ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا یہ کلام اس زمانہ اور ان لوگوں کے عرف کے مطابق تھا ‘ اس طرح نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے گم شدہ اونٹ کے متعلق فرمایا : ” حتی یلقاھا ربھا “۔ اونٹ چرتا پھرے گا حتی کے اپنے رب (مالک) سے مل جائے گا “ کیونکہ جانور عبادت کرتے ہیں نہ احکام کے مخاطب ہوتے ہیں ‘ بلکہ جانور مال و متاع کے حکم میں ہیں اور جس طرح رب الدار وغیرہ کی اضافت جائز ہے اسی طرح ان کی طرف اضافت بھی جائز ہے ‘ اور حضرت یوسف (علیہ السلام) نے جو فرمایا تھا : (آیت) ” انہ ربی احسن مثوای “۔ بیشک وہ عزیز مصر میرا صاحب ہے ‘ اس نے مجھے اچھی رہائش دی ہے۔ “ یہاں بھی صاحب پر رب کا اطلاق ان کے عرف کے مطابق ہے ‘ یا اس سے مراد اللہ تعالیٰ ہے ‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے مجھے اچھی رہائش دی ہے رب کی جمع ارباب اور ربوب ہے ‘ اور راسخ عالم ‘ یا عالم باعمل ‘ یا بہت بڑے عالم کو ربانی کہتے ہیں ‘ جب حضرت ابن عباس (رض) فوت ہوئے تو محمد بن حنفیہ (رح) نے کہا : آج اس امت کے ربانی فوت ہوگئے (تاج العروس ج ١ ص ٢٦٠‘ مطبویہ المطبعۃ الخیریۃ ‘ مصر ‘ ١٣٠٦ ھ)
العلمین کا لغوی اور عرفی معنی :
علامہ زبیدی (رح) لکھتے ہیں :
عالم ‘ خاتم ‘ طابق اور دانق کے وزن پر ہے ‘ اس کا معنی ہے : کل مخلوق ‘ اس طرح صحاح میں ہے ‘ یا آسمان اور اس کے نیچے جو جواہر اور اعراض ہیں وہ عالم ہیں ‘ جس طرح خاتم مہر لگانے کا آلہ ہے اسی طرح عالم اسم آلہ ہے ‘ اس کا معنی ہے موجد کو جاننے کا آلہ ‘ حضرت جعفر صادق (رح) نے کہا : عالم کی دو قسمیں ہیں ‘ عالم کبیر اور عالم صغیر۔ آسمان اور جو کچھ اس کے اندر ہے وہ عالم کبیر ہے اور انسان عالم صغیرے اور انسان میں وہ سب کچھ ہے جو عالم کبیر میں ہے، ہمارے شیخ نے کہا ہے کہ مخلوق کو عالم اس لیے کہتے ہیں کہ وہ صانع پر علامت ہے ‘ بعض مفسرین نے کہا : عالم اس کو کہتے ہیں جس سے خالق کا علم حاصل ہو ‘ پھر بہ طور تغلیب جن اور انس میں سے عقلاء پر اس کا اطلاق کیا گیا ‘ یا جن اور انس پر انسان اور فرشتوں پر اور سید شریف کا مختار یہ ہے کہ اس کا اطلاق ہر جنس پر کیا جاتا ہے ‘ اور تمام اجناس کے مجموعہ پر بھی کیا جاتا ہے۔
زجاج نے کہا : عالم کا اس لفظ سے کوئی واحد نہیں ہے اور اس کے علاوہ اور کسی لفظ کی جمع واؤ اور نون (عالمون یا عالمین) کے ساتھ نہیں آتی ‘” بصائر “ میں مذکور ہے کہ اس کی جمع اس لیے آتی ہے کہ موجودات کی ہر نوع ایک عالم ہے مثلا عالم انسان ‘ عالم نار ‘ وغیرہ اور روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دس ہزار سے زیادہ عالم پیدا کیے ہیں اور اس کی جمع سالم اس لیے آتی ہے کہ انسان بھی عالم کا ایک فرد ہے (ورنہ غیر ذوی العقول کی جمع ‘ جمع مکسر ہوتی ہے) ایک قول یہ ہے کہ اس کی جمع سالم اس لیے آتی ہے کہ اس سے مراد مخلوق کی اصناف میں سے صرف ملائکہ ‘ جن اور انس ہیں اور دوسرے غیر ذوی العقول یا غیر ذوی العلوم اس سے مراد نہیں ہیں ‘ یہ حضرت ابن عباس (رض) کا قول ہے ‘ جعفر صادق نے کہا : اس سے صرف انسان مراد ہے اور ہر انسان ایک عالم ہے ‘ میں کہتا ہوں کہ حضرت ابن عباس (رض) نے ” رب العلمین “ کی تفسیر میں کہا : ” رب الجن والانس “ اور قتادہ (رض) نے اس کی تفسیر میں کہا : تمام مخلوق کے رب ‘ ازہری نے کہا : حضرت عباس (رض) کے قول کی دلیل یہ آیت ہے : ” لیکون للعلمین نذیرا “۔ (الفرقان : ١) تاکہ آپ عالمین کے لیے نذیر ہوجائیں۔
اور سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جانوروں اور فرشتوں کے لیے نذیر نہیں ہیں حالانکہ وہ بھی اللہ کی مخلوق ہیں ‘ آپ صرف جن اور انس کے لیے مبعوث ہوئے ہیں ‘ اور وھب بن منبہ سے مروی ہے کہ کل اٹھارہ ہزار عالم ہیں اور یہ دنیا ان میں سے ایک عالم ہے۔ (تاج العروس ج ٨ ص ٤٠٧‘ مطبوعہ المطبعۃ الخیریۃ ‘ مصر ‘ ١٣٠٦ ھ)
علامہ قرطبی (رح) لکھتے ہیں :
حضرت ابوسعید خدری (رض) نے کہا : اللہ تعالیٰ نے چالیس ہزار عالم پیدا کئے اور یہ دنیا شرق سے غرب تک ایک عالم ہے ‘ مقاتل نے کہا : اسی ہزار عالم ہیں ‘ چالیس ہزار خشکی میں ہیں اور چالیس ہزار سمندر میں ‘ ابوالعالیہ سے مروی ہے کہ جن ایک عالم ہے ‘ انس ایک عالم ہے ‘ ان کے سوا زمین کے چار زاویے ہیں اور ہر زاویہ میں پندرہ سو عالم ہیں۔ (الجامع الاحکام القرآن ج ١ ص ١٣٨ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران ٗ ١٣٨٧ ھ)
العلمین کے متعلق اقوال میں مصنف کا مختار :
میں کہتا ہوں کہ ان تمام اقوال میں صحیح قول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا ہر موجود عالم ہے اور مخلوق عالم میں شامل ہے، اور اس کی دلیل یہ ہے کہ قرآن مجید میں ہے :
(آیت) ” قال فرعون وما رب العلمین قال رب السموت والارض وما بینھما ان کنتم موقنین۔ (الشعراء : ٢٤۔ ٢٣) فرعون نے کہا : رب العلمین کیا ہے ؟ (موسی (علیہ السلام) نے) کہا : وہ آسمانوں ‘ زمین اور ان کے درمیان ہر چیز کا رب ہے ‘ اگر تم یقین کرنے والے ہو۔
اس آیت میں یہ تصریح ہے کہ تمام آسمان ‘ زمینیں اور ان کے درمیان ہر چیز عالم ہیں ‘ اور اس کی جمع عالم کی انواع اور اصناف کے اعتبار سے لائی گئی ہے۔
اللہ تعالیٰ کی تربیت میں غور وفکر :
ایک بیج زمین میں گرا دیا جاتا ہے پھر زمین میں وہ پھول جاتا ہے ‘ پھولنے کے بعد وہ ہر طرف سے پھٹ سکتا تھا لیکن اللہ تعالیٰ کی حکمت بالغہ کی وجہ سے وہ صرف اوپر اور نیچے سے پھٹتا ہے ‘ اوپر سے پھٹ کر اس میں سے ایک جز زمین کو پھاڑ کر نکلتا ہے اور درخت بن جاتا ہے ‘ اس میں شاخیں پھوٹتی ہیں ‘ پھر ان شاخوں میں پھول کھلتے ہیں اور پھل بنتے ہیں اور پھلوں میں چھلکا بنتا ہے ‘ مغز بنتا ہے اور مغز میں روغن ہوتا ہے ‘ اور بیج کے نیچے سے جو جز زمین کو پھاڑ کر نکلتا ہے وہ جڑ بنتی ہے اور زمین کی گہرائی میں راستہ بناتی ہوئی وہ جڑیں نکل جاتی ہیں اور مٹی اور پانی سے اپنی طبعی غذا حاصل کر کے پورے درخت کو پہنچاتی ہیں اور اس کو سرسبز اور شاداب رکھتی ہیں۔
باپ کی پشت سے ایک قطرہ نکل کر ماں کی رحم میں پہنچتا ہے ‘ پھر وہ قطرہ پہلے جما ہوا خون بن جاتا ہے ‘ پھر گوشت کا ٹکڑا ‘ پھر اس میں ہڈیاں ‘ رگیں اور مختلف اعضاء بنتے ہیں ‘ پھر ان میں الگ الگ اثرات کی قوتیں رکھی جاتی ہیں ‘ آنکھ میں دیکھنے کی کان میں سننے کی اور زبان میں گویائی کی قوت رکھی جاتی ہے تو سبحان ہے وہ جس نے ہڈی میں سماعت ‘ چربی میں بصارت اور گوشت کے ایک ٹکڑے میں گویائی رکھی !
ماں باپ کے دل میں ایسا جذبہ رکھا کہ انہوں نے اپنے سکھ اور آرام کو چھوڑ کر اسکی پرورش کی ‘ ماں کے سینے میں اس کے لیے دودھ اتارا اور باپ کے دل میں شفقت رکھی اور یوں تدریجا اس کو پالتا رہا ‘ تربیت کرتا رہا ‘ بڑھاتا رہا اور جب وہ اپنی نشو و نما کے کمال طبعی کو پہنچ کر بالغ ہوگیا ‘ اس کا شعور پختہ اور عقل کامل ہوگئی تب کہا : اب ہماری ان نعمتوں کا شکر ادا کرو ‘ ہمارے ان کمالات کی حمد وثناء کرو جن کے نتیجہ میں تم اس کمال طبعی تک پہنچے ہو ‘ دیکھو ! اس نے تمہارے چلنے کے لیے زمین بنائی ہے ‘ تمہارے سانس لینے کے لیے ہواؤں کے سمندر رواں دواں کئے ہوئے ہیں ‘ تمہارے پینے کیلیے آسمان سے پانی اتارا اور زمین کی تہوں میں چشمے جاری کیے ‘ تمہیں روشنی پہنچانے کے لیے دن بنایا ‘ تمہارے آرام کے لیے رات بنائی ‘ سورج کی حرارت سے تمہاری کھیتیاں پکتی ہیں اور چاند کی کرنوں سے ان میں ذائقہ پیدا ہوتا ہے ‘ کیا اللہ تعالیٰ کے ان تمام احسانوں اور نعمتوں کو دیکھنے اور غور کرنے کے بعد تمہارے دلوں میں اس کی حمد و ثنا کرنے اور اس کا شکر بجالانے کا کوئی جذبہ پیدا نہیں ہوتا !
کمال ذات ‘ گزشتہ احسان ‘ رجا اور خوف سے حمد وثناء کا تقاضا “
دنیا میں انسان کسی شخص کی چار وجوہ سے تعریف کرتا ہے : یا اس لیے کہ وہ شخص اپنی ذات وصفات میں کامل ہے اور عیوب اور نقائص سے بری ہے ‘ خواہ اس نے اس انسان پر کوئی احسان کیا ہے یا نہیں ‘ وہ محض کمال ذات کی وجہ سے اس تعریف کرتا ہے ‘ دوسری وجہ یہ ہے کہ اس نے اس پر ماضی میں احسانات کیے ہیں اور انعامات دیے ہیں تو وہ ان گزشتہ احسانوں کی وجہ سے اس کی تعریف کرتا ہے ‘ تیری وجہ یہ ہے کہ وہ مستقبل میں اس سے انعامات کی توقع رکھتا ہے ‘ چوتھی وجہ یہ ہے کہ وہ اس کے غیظ و غضب اور اس کے قہر اور قدرت سے ڈر کر اس کی تعریف کرتا ہے ‘ تو گویا اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اگر تم کمال ذات کی وجہ سے کسی کی حمد وثناء کرتے ہو تو میری ذات کامل ہے ‘ سو میری حمد کرو اور اس کی طرف ” الحمد للہ “ سے اشارہ ہے اور اگر گزشتہ نعمتوں کی وجہ سے حمد وثناء کرتے ہو تو ساری نعمتیں میں نے دی ہیں ‘ میری تعریف کرو ‘ میں ہی (آیت) ” رب العلمین “ ہوں ‘ اور اگر مستقبل میں نعمتیں حاصل کرنے کے لیے تعریف کرتے ہو تو میں (آیت) ” الرحمن الرحیم “ ہوں ‘ سو میری حمد کرو اور اگر ڈر اور خوف کی وجہ سے حمد وثنا کرتے ہو تب بھی میری حمد و ثنا کرو میں ہی ” مالک یوم الدین “ ہوں۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : نہایت رحم فرمانے والا بہت مہربان ہے۔ (الفاتحہ : ٢)
بعض مفسرین کی فروگزاشت :
” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ کی تفسیر میں ہم ” الرحمن الرحیم “ کی تفسیر کو بیان کرچکے ہیں ‘ یہاں پر ہم بعض مفسرین کی ایک فروگزاشت پر متنبہ کرنا چاہتے ہیں۔
سیدابو الاعلی مودودی لکھتے ہیں :
انسان کا خاصہ ہے کہ جب کوئی چیز اس کی چیز اس کی نگاہ میں بہت زیادہ ہوتی ہے تو وہ مبالغہ کے صیغوں میں اس کو بیان کرتا ہے ‘ اور اگر ایک مبالغہ بول کر وہ محسوس کرتا ہے کہ اس شے کی فراوانی کا حق ادا نہیں ہوا ‘ تو پھر وہ اس معنی کا ایک اور لفظ بولتا ہے تاکہ وہ کمی پوری ہوجائے جو اس کے نزدیک مبالغہ میں رہ گئی ہے۔ اللہ کی تعریف میں رحمن کا لفظ استعمال کرنے کے بعد پھر رحیم کا اضافہ کرنے میں بھی یہی نکتہ پوشیدہ ہے۔ رحمان عربی زبان میں بڑے مبالغہ کا صیغہ ہے لیکن خدا کی رحمت اور مہربانی اپنی مخلوق پر اتنی زیادہ ہے ‘ اس قدر وسیع ہے ‘ ایسی بےحد و حساب ہے کہ اس کے بیان میں بڑے سے بڑا مبالغہ لفظ بول کر بھی جی نہیں بھرتا ‘ اس لیے اس کی فراوانی کا حق ادا کرنے کے لیے پھر رحیم کا لفظ مزید استعمال کیا گیا۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ہم کسی شخص کی فیاضی کے بیان میں ” سخی “ کا لفظ بول کر جب تشنگی محسوس کرتے ہیں تو اس پر ” داتا “ کا اضافہ کرتے ہیں۔ رنگ کی تعریف میں جب ” گورے “ کو کافی نہیں پاتے تو اس پر ” چٹے “ کا لفظ اور بڑھا دیتے ہیں۔ درازی قد کے ذکر میں جب ” لمبا “ کہنے سے تسلی نہیں ہوتی تو اس کے بعد ” تڑنگا “ بھی کہتے ہیں۔ (تفہیم القرآن ج ١ ص ٤٤‘ مطبوعہ ادارہ ترجمان القرآن ‘ لاہور ‘ ١٩٨٣ ء)
ہمارے شیخ علامہ سید احمد سعید کا ظمی قدس سرہ العزیز نے اس پر دو اعتراض کئے ہیں ‘ اول یہ کہ اگر کسی اہم چیز کا بیان مبالغہ کے صیغوں سے کرنا انسان کا خاصہ ہے تو اس کو اللہ کے کلام پر منطبق کرنا درست نہیں ہے کیونکہ خاصہ کی تعریف یہ ہے کہ وہ جس چیز کا خاصہ ہو اسی میں پایا جاتا ہے ‘ دوسرے میں نہیں پایا جاتا ‘ دوسرا اعتراض یہ ہے کہ ” الرحمن الرحیم “ کی مثال گورے چٹے اور لمبے تڑنگے سے دینا صحیح نہیں ہے کیونکہ ” الرحمن الرحیم “ دونوں مبالغہ کے صیغہ ہیں اور گورے چٹے اور لمبے ‘ تڑنگے میں سے کوئی لفظ بھی مبالغہ کا صیغہ نہیں ہے۔ (التبیان ص ٣٠۔ ٢٩‘ کا ظمی پبلیکیشنز ‘ ملتان ‘ ١٩٩٣ ء)