آہ ۔۔۔۔ ہر جگہ

آہ ۔۔۔۔ ہر جگہ

آہ تو ہر جگہ ہے ۔اگر غریب آہیں بھرتا ہے تو امیر بھی یہی کام کرتا ہے ، کمزوری آہ کا سبب ہے تو طاقتور کو بھی روتے دیکھا ہے ۔ جہاں‌دکھ ۔۔۔وہاں آہ۔۔ اب آپ ہی بتائیں دنیامیں دکھ کہاں نہیں ہے ؟ کوئی بھی جگہ مجھے آہ سے خالی نظر نہیں آئی ۔ اگر آپ کے کان فضائی آواز کیچ کرنے کے قابل ہوجائیں‌تو آپ کو زیادہ آہیں‌ہی سنائی دیں‌گی ۔ اگر پاکستانی روتا ہے تو ہندوستانی بھی آہیں‌بھرتا ہے ، امریکہ کا فرد بھی غمگین ہوتا ہے اور افریقہ کا بندہ بھی درد سے آشنا ہے ۔ بدصورت رو رہا ہے تو خوبصورت کی آہ و بکا جاری ہے اگر بے اولاد رو رہا ہے بچہ دے تو صاحب اولاد کو میں نے خود روتے دیکھا ہے یا اللہ یہ اولاد واپس لےلے ۔ اکثر فلاسفر اور دانیان روزگار نے انسانی زندگی میں آہ کے حصے کو واہ کے حصے سے کئی گنا زیادہ بتایا ہے یہی وجہ ہے تھرپس کے قدیم لوگوں کے ہاں‌جب بچہ پیدا ہوتا تھا وہ آہ و زاری کرتے تھے اور اب بھی کچھ لوگ ایسے جو سالگرہ کو ( یوم الحزن ) قرار دیتے ہیں ۔
سب سے زیادہ آہیں‌انسان ہی بھرتا ہے اور کوئی مخلوق اس سے زیادہ رنج و الم سے آشنا نہیں ہے ۔
ھومر نے کہا تھا :: دنیا میں انسان سے زیادہ مغموم و محزون نہیں ہے ۔
خلیفہ عبد الرحمن سوم والی اندلس نے کہا :: میری زندگی میں صرف چودہ روز خوشی کے تھے ۔
ٹالسٹائی کہتا ہے ::: میری پوری زندگی دود و غم سے پر ہے ۔
فارسی کا شعر ہے
دریں‌دنیا کسے بے غم نہ باشد
اگر باشد اوبنی آدم نہ باشد
یعنی اس دنیا میں‌کوئی غم سے خالی نہیں اگر ہے تو وہ انسان نہیں‌۔
دنیا میں‌غم زیادہ ہیں‌اور خوشیاں کم ہیں۔ عید کاایک دن اور محرم کے دس دن ۔۔۔۔آہ و بکا تو آتے ہی شروع ہوگئی تھی ۔۔۔۔ زمین پر پہلے انسان حضرت آدم علیہ السلام نے جب قدم رکھا تو قہقہہ نہیں‌لگایا تھا آہ و فغان کی تھی ۔۔۔ یہی وجہ ہے جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو ہنستا نہیں روتا ہے ۔۔ پیدا ہوتے ہی آہ ۔۔۔۔۔سے پڑتا ہے واسطہ۔
پھول کا غم کی وجہ سے گریبان چاک ہے ۔۔ شبنم رو رہی ہے ۔۔ سورج زرد ہے ۔۔۔ رات نے سیاہ لباس پہنا ہے ۔۔۔ حسن رورہا ہے کہ دو دن میں‌ختم ہوجائونگا ۔۔۔ زمین نے رورو کر ندیاں نالے دریا جاری کردئیے ہیں ۔۔۔۔ پہاڑوں کے آنسوئو ں سے آبشار یں‌بہہ رہی ہیں‌۔۔ باغ میں کوئل آہ و بکا کررہی ہے ۔۔ پتے خزاں میں چیختے ہیں‌۔۔۔ لہریں‌ساحل سے سر مارمار کر روتی ہیں ۔۔۔ شمع ساری رات روتی ہے ۔۔۔۔ ہر جگہ ۔۔۔آہ کا غلبہ ۔
کچھ آہیں دن کو نکلتی ہیں اور رات کی تاریکی میں دب جاتی ہیں‌۔ ان میں سے اکثر آہوں کا تعلق جسمانی تکلیف سے ہوتا ہے ۔۔ کچھ آہیں‌رات کی تاریکی میں ابھرتی ہیں‌۔ یہ دل کی گہرائیوں سے نکلتی ہیں‌یہ زیادہ تو روحانی ہوتی ہیں‌۔۔۔ ربانی ہوتی ہیں ۔۔ آسمانی ہوتی ہیں‌۔۔۔ ہر پھول کے پہلو میں کانٹا ۔۔۔ ہر ہنسی کے ساتھ آنسو ۔۔۔ زندگی کے ساتھ موت۔۔۔۔ ہر خوشی کے ساتھ ایک آہ ۔۔۔ قیامت کے دن بھی آہوں کا شور برپا ہوگا۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s