:::: کِتَا بُ الصَّوم ::: روزہ ::::

:::: کِتَا بُ الصَّوم ::: روزہ ::::

بہتر رزلٹ میں دیکھنے کے لیے یہاں کلک کیجئے

1

ترجمہ :: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جب ماہ ِ رمضان شروع ہوتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیںاور ایک اور روایت میں ہے کہ جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کردیے جاتے ہیںاور شیاطین زنجیروں میں جکڑ دیے جاتے ہیں اور ایک روایت میں ہے کہ رحمت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں ۔(بخاری و مسلم )
حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں کہ ::
کشادہ شدن درہائے آسمان کنایت ست از پیاپے فرستادن رحمت و صعود اعمال بے مائع واجابت دعا۔ وکشادہ شدن درہائے بہشت از بذل توفیق و حسن قبول ۔ و بستہ شدن درہائے دوزخ از تنزیہہ نفوس روزہ داران از آلودگی فواحش و تخلص از بوا عث معاصی و قمع شہوات و درزنجیر کردن شیاطین از بستہ شدن طرف معاصی وو سادس ( اشعہ اللمعات جلد دوم صفحہ 72 )
یعنی :: آسمان کے دروازے کھول دیے جانے کا مطلب ہے پے در پے رحمت کا بھیجا جانا اور بغیر کسی رکاوٹ کے بارگاہ ِا لہٰی میں اعمال کا پہنچنا اور دعا کا قبول ہونا اور جنت کے دروازے کھول دیے جانے کا معنی ہے نیک اعمال کی توفیق اور حسن ِ قبول عطا فرمانا ۔اور دوزخ کے دروازے بند کیے جانے کا مطلب ہے روزہ داروں کے نفوس کو ممنوعات شرعیہ کی آلودگی سے پاک کرنا اور گناہوں پر ابھارنے والی چیزوں سے نجات پانا اور دل سے لذتوں کے حصول کی خواہشات کا توڑنا اور شیاطین کو زنجیروں میں جکڑ دیے جانے کا معنی ہی ہے بُرے خیالات کے راستوں کا بند ہوجانا۔
2
۰ ترجمہ :: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص ایمان کے ساتھ ثواب کی امید سے روزے رکھے گا تو اس کے اگلے گناہ بخش دیے جائیں گے جو شخص ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے رمضان کی راتوں میں قیام یعنی عبادت کرے گا و اس کے اگلے گناہ بخش دیے جائیں گے اور ایمان کے ساتھ ثواب حاصل کرنے کی غرض سے شب قدر میں قیام کرے گا و اس کے اگلے گناہ بخش دیے جائیں گے ( بخاری ۔ مسلم )
3
۰ ترجمہ :: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب ماہ ِ رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے تو شیاطین و سرکش جن قید کرلیے جاتے ہیںاور جہنم کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں(پھر رمضان بھر)ان میں سے کوئی دروازہ کھولا نہیں جاتااور جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں تو ان میں سے کوئی دروازہ بن نہیں کیا جاتا اور منادی پکارتا ہے کہ اے خیر کے طلب کرنے متوجہ ہوجا اور اے برائی کا ارادہ رکھنے والے ! برائی سے باز رہ ،اور اللہ بہت سے لوگوں کو دوزخ سے آزاد کرتا ہے اور ہر رات ایسا ہی ہوتا ہے ۔
( ترمذی ۔ ابن ماجہ )
4
۰ ترجمہ :: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رمضان آیا یہ برکت کا مہینہ ہے اللہ تعالیٰ نے اس کے روزے تم پر فرض کیے ہیں ،اس میں آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کردیے جاتے ہیںاور سرکش شیاطین کو طوق پہنائے جاتے ہیں اور اس میں ایک رات ایسی ہے جو ہزار مہینوں سے افضل ہے جو اس کی برکتوں سے محروم رہا وہ بے شک محروم رہا ۔( احمد ۔نسائی ۔مشکوٰۃ)
5
۰ ترجمہ ::حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شعبان کے آخر میں و عظ فرمایا ۔اے لوگو ! تمہارے پاس عظمت والا برکت والا مہینہ آنے والا ہے ، وہ مہینہ جس میں ایک رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے اس کے روزے اللہ تعالیٰ فرض کیے اور اس کی رات میں قیام کرنا (نماز پڑھنا )قطوع یعنی نفل قراردیا ہے جو اس میں نیکی کا کوئی کام یعنی نفل عبادت کرے تو ایسا ہے جیسے اور مہینوں میں فرض ادا کیا اور جس نے ایک فرض ادا کیا تو ایسا ہے جیسے اور دنوں میں ستر فرض ادا کیے یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا ثواب جنت ہے ، اور یہ غم خوری کا مہینہ ہے ،اور اس مہینہ میں مومن کا رزق بڑھا یا جاتا ہے جو اس میں روزہ دار کو افطار کرائے اس کے گناہوں کے لیے مغفرت ہے اور اس کی گردن دوزخ سے آزاد کردی جائے گی اور اس میں افطار کرانے والے کو ویسا ہی ثواب ملے گا جیسا روزہ رکھنے والے کو ملے گا بغیر اس کے کہ اُس کے ثواب میں کچھ کمی واقع ہو ، ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں کا ہر شخص وہ چیز نہیں پاتا جس سے روزہ افطار کرائے ، حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کا یہ ثواب اس شخص کو بھی دے گا جو ایک گھونٹ دودھ یا ایک کھجور یا ایک گھونٹ پانی سے افطار کرائے اور جس نے روزہ دار کو پیٹ بھر کر کھانا کھلایا ا س کو اللہ تعالیٰ میرے حوض کوثر سے سیراب کریگا کبھی پیا سا نہ ہوگا ،یہاں تک کہ جنت میں داخل ہوجائے گا یہ وہ مہینہ ہے کہ جس کا ابتدائی حصہ رحمت ہے اورا س کا درمیانی حصہ مغفرت ہے اور اس کا آخری حصہ جہنم سے آزادی ہے ۔اور جو اپنے غلام پر اس مہینے میں تخفیف کرے یعنی کام لینے میں کمی کردے تو اللہ تعالیٰ اسے بخش دے گا اور جہنم سے آزاد فرمائے گا (بیہقی )
6
۰ ترجمہ:: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رمضان کی اخیر رات میں اس امت کی مغفرت ہوتی ہے ، عرض کیا گیا کیا وہ شب قدر ہے ؟ فرمایا نہیں ، لیکن کام کرنے والوں کو اس وقت مزدوری پوری دی جاتی ہے ، جب وہ کام پورا کرلے ۔(احمد )
7
۰ ترجمہ :: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کو روزہ کی حالت میں قے آجائے اس پر قضا واجب نہیں ۔ اور جو قصدََا قے کرے اس پر قضا واجب ہے ۰ ( ترمذی ۔ ابودائود )
8
۰ ترجمہ :: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص (روزہ رکھ کر ) بری بات کہنا اور اس پر عمل کرنا ترک نہ کرے تو خدائے تعالیٰ کو اس کی پرواہ نہیں کہ اس نے کھانا پینا چھوڑ دیا ہے ۔ (بخاری )
اس حدیث کے تحت حضر ت شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ::
ایں کنایت از عدم یعنی مقصود از ایجاب صوم و شرعیت آں ہمیں گرسنگی و تشنگی نیست بلکہ کسر شہوت و اطفائے نائرہ نفسانیت است تا نفس ازا مارگی بر آید و مطمئنہ کردد۔
یعنی مطلب یہ کہ روزہ قبول نہ ہوگا اس لیے کہ روزہ کے مشروع اور واجب کرنے کا مقصد یہی ہے بھوک اور پیاس نہیں بلکہ لذتوں کی خواہشات کا توڑنا اور خود غرضی کی آگ کو بجھانا مقصود ہے تاکہ نفس خواہشات کی جانب راغب ہونے کے بجائے حکم الہٰی پر چلنے والا ہوجائے ۔( اشعۃ اللمعات جلد دوم صفحہ 85 )
9
۰ ترجمہ :: حضرت سلمہ بن محبق رضی اللہ عنہ نے کہا حضور ﷺ نے فرمایا جس شخص کے پاس ایسی سواری ہے جو آرام سے منزل تک پہنچادے تو اس کو چاہیے کہ روزہ رکھے جہاں بھی رمضان آجائے ۔ (ابودائود )
10
۰ ترجمہ :: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے (شرعی )مسافرسے آدھی نماز معاف فرمادی (یعنی مسافر چار رکعت والی فرض نماز دو پڑھے ) اور مسافر ،دودھ پلانے والی ، اور حاملہ عورت سے روزہ معاف کردیا ( یعنی لوگوں کو اجازت ہے کہ اس وقت روزہ نہ رکھیں بعد میں قضا کرلیں ۔(ابودائود ۔ترمذی )
حضر ت شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں کہ ::
افطار مرمرضع و حبلی را بر تقدیر ے است کہ اگر زیاں کند بچہ را یا نفس ایشاں را ۔
(اشعۃ اللمعات جلد دوم صفحہ 94 )
یعنی دودھ پلانے والی اور حاملہ عورت کو روزہ نہ رکھنے کی رخصت صرف اس صورت میں ہے کہ بچہ کو یا خود اس کو روزہ سے نقصان پہنچے ورنہ رخصت نہیں ہے۔
11
۰ ترجمہ :: حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے رمضان کا روزہ رکھا پھرا س کے بعد چھ روزے شوال کے رکھے تو اس نے گویا ہمیشہ روزہ رکھا ۔ (مسلم )
12
۰ ترجمہ :: حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول ِ کریم ﷺ نے فرمایا کہ مجھے خدائے تعالیٰ کی رحمت سے امید ہے کہ عرفہ کے دن کو روزہ ایک سال اگلے اور ایک سال پچھلے کا گناہ دور کردے گا ۔ (مسلم )
واضح ہو کہ عرفہ کا روزہ میدان عرفات میں منع ہے (بہار شریعت )
13
۰ ترجمہ :: حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے فرما یا کہ چار چیزیں ہیں جنہیں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نہیں چھوڑتے تھے ، عاشوہ کا روزہ ، ذی الحجہ کے روزے (ایک سے نو تک )، ہر مہینے کے تین روزے ، دو رکعتیں فجرکے فرض سے پہلے ۔ (نسائی )
14
۰ ترجمہ ::حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اے ابو ذر ! جب (کسی ) مہینہ میں تین دن رکھتا ہو تو تیرہ ، چودہ اور پندرہ تاریخ کو (روزہ ) رکھو۔(ترمذی ۔ نسائی )
انتباہ ::
1 یکم شوال اور 10,11,12 ذی الحجہ کو روزہ رکھنا مکروہ تحریمی اور ناجائز ہے ۔
(طحطاوی صفحہ 387 ، درمختار ، ردالمحتاج جلد 2 صفحہ 86 )
2احتلام ہوجانے یا ہمبستری کرنے کے بعد غسل نہ کیا اور اسی حالت میں پورا دن گزاردیا تو وہ نمازوں کے چھوڑ دینے کے سبب سخت گناہگار ہوگا مگر روزہ ادا ہوجائے گا ۔ بحرالرائق جلد دوم صفحہ 273 میں ہے :: لواصبح جنبا لا یضرہ کذانی فی المحیط اور فتاویٰ عالمگیری جلد اول مصری صفحہ 187 میں ہے :: من اصبح جنبا اوا حتلم فی النھار لم یضرہ کذانی محیط السوخسی
3 مریض کو مرض بڑھ جانے یا دیر سے اچھا ہونے یا تندرست کو بیمار ہوجانے کا گمان غالب ہو تو روزہ توڑنے کی اجازت ہے غالب گمان کی تین صورتیں ہیں ۔ اس کی ظاہر نشانی پائی جاتی ہے، یا اس شخص کا ذاتی تجربہ ہے یا کسی سنی مسلمان طبیب حاذق مستور الحال یعنی غیر فاسق نے اس کی خبر دی ہو ۔ اگر نہ کوئی علامت ہو، نہ تجربہ ، نہ اس قسم کے طبیب نے اسے بتایا بلکہ کسی کافر یا فاسق یا بد مذہب ڈاکٹر یا طبیب کے کہنے سے روزہ توڑ دیا تو کفارہ لازم آئے گا ۔ ( ردالمختار جلد دوم صفحہ 120 ۔بہار شریعت )
4 جو شخص رمضان میں بلا عذر اعلانیہ قصدََا کھائے تو سلطان اسلام اسے قتل کردے (شامی ۔بہار شریعت )
5معتکف کے سوا دوسروں کو مسجدوں میں روزہ افطار کرنا کھانا پینا جائز نہیں ۔(درالمختار ۔فتاویٰ رضویہ ) لہذا دوسرے لوگ اگر مسجد میں افطار کرنا چاہتے ہیں تو اعتکاف کی نیت کرکے مسجد میں جائیں کچھ ذکر یا درود شریف پڑھنے کے بعد کھا پی سکتے ہیں مگر اس صورت میں بھی مسجد کا احترام ضروری ہے ۔ آج کل اکثر مقامات پر افطار کے وقت مسجدوں کی بڑی بے حرمتی کی جاتی ہے ، جو ناجائز اور حرام ہے امام اور متولیان مسجد کو اس امر پر توجہ دینا ضروری ہے ورنہ قیامت کے دن ان سے سخت باز پرس ہوگی۔

بہتر رزلٹ میں دیکھنے کے لیے یہاں کلک کیجئے

از افادات :: مولانا جلال الدین امجدی

والسلام :: سلیمان سبحانی نور مدینہ نیٹ ورک ٹیم

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s