امام احمد رضا کی ”تدبیر فلاح و نجات و اصلاح“۔

امام احمد رضا کی ”تدبیر فلاح و نجات و اصلاح“۔
حالاتِ حاضرہ کے تناظر میں بہترین لائحہ عمل
مدیر اعلیٰ صاحبزادہ سید وجاہت رسول قادری کے قلم سے

قارئین کرام!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
                       آج سے تقریباً نوّے سال قبل مسلمانانِ عالم کی کس مپرسی، انتشار و افتراق، افراتفری اور بے پری کے وہی حالات تھے جو بعض اختلافات کے ساتھ آج ہیں۔ سب سے بڑی سنّی اسٹیٹ سلطنتِ عثمانیہ ترکیہ کا، انگریزوں، یہودیوں اور یوروپین ممالک کی سازشوں کے تحت شیرازہ بکھر چکا تھا۔ عرب ممالک چھوٹی چھوٹی حدبندیوں میں مختلف آزاد مملکتوں میں بٹ چکے تھے۔ افریقہ میں سلطنتِ ترکیہ کے بعض صوبوں پر اٹلی، فرانس اور جرمنی قابض ہوچکے تھے۔ ہندوستان میں 1857ءکی جنگِ آزادی اور سلطنتِ مغلیہ کے زوال کے بعد برطانوی سامراج کا نام نہاد ”نہ ڈوبنے والا سورج“ طلوع ہوچکا تھا۔ ہندوستان کے مسلمانوں کی حالت سیاسی اور معاشی اعتبار سے زیادہ ابتر تھی کہ مسلمان انگریزوں کے محکوم ہوچکے تھے اور انگریز اور ہندو دونوں مل کر مسلمانوں کے مفادات پر یلغار کررہے تھے۔
                       غرضکہ جب اس دور کی ”سیاسیاتِ حاضرہ“ کی تماشہ گاہ پر نظر دوڑاتے ہیں تو مسلمان ہر طرف سے صاحبِ جبر و تسلط اور ظلم و استبداد کی حامل طاغوتی قوتوں کی مکرسامانیوں اور فریب کاریوں کے جال میں جکڑے نظر آتے ہیں۔ بعینہ بساطِ عالم کی سیاسیات کا نقشہ آج بھی ویسا ہی نظر آرہا ہے سوائے ایک تبدیلی کے کہ ”یونین جیک“ کی فسوں کاری کے بجائے اب ”انکل سام“ کی لمبی ہیٹ کا ”میجک شو“ دکھایا جارہا ہے۔ مسلمانوں کے سیاسی اور معاشی نشہ غلامی کو تیز تر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور غلاموں کے قلب و دماغ کو ”نیو ورلڈ آرڈر“ اور ”گلوبلائزیشن“ کی بستیوں کی دیوارِ مَحبَس میں آسودہ رہنے کی تعلیم دی جارہی ہے۔ ایسے مایوس کن، تاریک اور اعصاب شکن حالات میں صاحبِ صدق و صفا، وارثِ علوم انبیاء(علیہم الصلوٰة والسلام)، ”قائما بالقسط“ کی صفت سے متصف، ”اولوا الامر منکم“ کی تفسیرِ مجسم، اپنے عہد کے صاحبِ امروز، شیخ الاسلام والمسلمین، امام احمد رضا خاں محدثِ بریلوی قدس سرہ کی دلوں کو ڈھارس دینے والی آواز گونجتی ہے کہ مسلمانو! گھبراو نہیں، مایوس ہونے کی ضرورت نہیں، اب بھی تم عظمتِ رفتہ کی سطوت و شوکت کو واپس لاسکتے ہو، بشرطِ کہ تم یہ عزم کرلو:
                       ”تبدیل احکام الرحمن اور اختراعِ احکام الشیطان سے ہاتھ اُٹھاو،مشرکین (یہود و ہنود، نصاریٰ و دیگر دشمنانِ اسلام) سے اتحاد توڑو، مرتدین کا ساتھ چھوڑو کہ محمد رسول اللہﷺ کا دامنِ پاک تمہیں سایہ میں لے۔۔۔ دنیا ملے نہ ملے، دین تو ان کے صدقے میں ملے۔ یٰآاَیُّھَا الَّذِینَ اٰمَنُوا ادخُلُوا فِی السَّلمِ کَآفۃٍ وَّلَاتَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّیطَان اِنَّہ لَکُم عَدُوّ مُّبِین“       (المحجۃ الموتمنہ، بحوالہ ”اوراقِ گم گشتہ“، ص: ۲۹۹)
                       امام احمد رضا نے انتباہ فرمایا کہ قرآنی ارشاد کے مطابق کافر و مشرک، یہود و نصاریٰ، آتش پرست و ستارہ پرست سب ہی مسلمانوں کے دشمن ہیں۔

کافر، ہر فرد و فرقہ دشمن مارا                                   مرتد، مشرک، یہود و گبر و ترسا

(الطاری الداری، ص:۳، مطبوعہ بریلی، ص:۹۹)

                       امام موصوف نے دشمن کی نفسیات کا تجزیہ کرتے ہوئے مسلمانوں کو تلقین کی کہ: ”دشمن اپنے دشمن کے لئے تین باتیں چاہتا ہے:
                       اول، اس کی موت، کہ جھگڑا ہی ختم ہوجائے،
                       دوم، یہ نہ ہو تو اس کی جلا وطنی، کہ اپنے پاس نہ رہے،
                       سوم، یہ بھی نہ ہوسکے تو آخری درجہ اس کی بے پری کہ عاجز بن کررہے۔
                       مخالفت کے یہ (تینوں) درجے ان (مسلمانوں) پر (دشمنانِ اسلام نے) طے کردیئے اور ان کی آنکھیں نہیں کھلتیں، خیر خواہ ہی سمجھے جاتے ہیں۔“     

 (المحجۃ الموتمنہ، بحوالہ ”اوراقِ گم گشتہ“، ص:۹۹ ۲)

                       ذرا اس اقتباس کو آپ غور سے پڑھیں اور پھر دوبارہ پڑھیں کس قدر سچائی ہے اس میں! اور پھر آج کے حالات کے منظرنامے پر ایک نظر دوڑائیں۔ اس وقت دنیا میں روزانہ ظلماً ہلاک کئے جانے والوں میں سب سے زیادہ تعداد مسلمان شہداءکی ہے، کوسوو، بوسنیا، سربیا، کروشیا، کشمیر، فلسطین، چیچنیا، عراق، افغانستان، لبنان، شمالی اور وسطی افریقہ کے بعض وہ ممالک جہاں عیسائیوں کی حکومت ہے اور مسلمان اقلیت میں ہیں، یہ تمام خطہ ارض مسلمان شہداءکے خون سے رنگین ہے۔ امریکہ، برطانیہ، نیٹو، روس، یوروپین ممالک اور اس پر مستزاد امریکہ کا بغل بچہ یو۔این۔او، یہ سب لاکھوں لاکھ معصوم مسلمان مرد، عورت، بچوں اور بوڑھوں کی شہادت اور اربوں ڈالر کی ان کی جائداد کی تباہی کے ذمہ دار ہیں۔ پھر آپ دنیا کے مہاجرین (ہجرت شدہ افراد) کی شماریات پر نظر ڈالیں تو ان میں اکثریت مسلمانوں کی ہے۔ اس وقت کشمیر، افغانستان، عراق، فلسطین، بوسنیا، چیچنیا، کوسووو، پر عملی طور سے ہندوستان، امریکہ برطانیہ، نیٹو (یوروپین ممالک)، اسرائیل اور روس کی افواج کا غاصبانہ قبضہ ہے۔ جہاں پر اقوامِ متحدہ کی افواج تعینات ہیں، وہاں بھی مسلمان دوسروں کے رحم و کرم پر ہیں اور اپنی فوج سے محروم ہیں۔ بلکہ ان جگہوں پر مسلمانوں کی جان و مال اور عزت و آبرو سب سے زیادہ خطرہ میں ہے۔ اقوامِ متحدہ کا کام صرف ان ملکوں کی سرحدی سڑکوں کی سیر اور دوربین سے دونوں اطراف کے قدرتی مناظر کا نظارہ کرنا ہے۔ کوسووو، بوسنیا، سربیا، کروشیا اور اب لبنان میں اسی فوج نے لاکھوں مسلمانوں کو اپنی نگاہوں کے سامنے قتل کروادیا اور ”ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم“ کا مجسمہ بنے دیکھتے رہے۔ اس فوج کی تعیناتی بھی مسلمانوں کے خلاف ایک سامراجی سازش ہے تاکہ مسلمان نہ اپنا دفاع کرسکیں اور نہ اپنی سرحدوں پر کئے گئے حملے کا جواب دے سکیں۔ باقی تقریباً تمام ممالک (ماسوا ملائشیا) کی سیاسی بساط اور معاشی و اقتصادی مفادات امریکن نیوورلڈ آرڈر کے زیر نگیں ہیں۔
                       ایک مستفتی کے اس سوال کے جواب میں کہ ایسے حالات میں مسلمانوں کی کیا کرنا چاہئے، امام احمد رضا نے ”تدبیرِ فلاح و نجات و اصلاح“ (1331ھ/1912ء) کے نام سے ایک رسالہ لکھا۔
                       آپ نے تحریر فرمایا کہ اس کا جواب میں کیا دے سکتا ہوں، اس کا جواب تو خود قرآن شریف میں درج ہے۔ ”اللہ عزوجل نے تو مسلمانوں کی جان و مال، جنت کے عوض خریدے ہیں:
                       اِنَّ اللّٰہَ اشتَرٰی مِنَ المُومِنِینَ اَنفُسَھُم وَاَموَالَھُم بِاَنَّ لَھُمُ الجَنۃِ     مگر ہم ہیں کہ مبیع (قیمت) دینے سے انکار اور ثمن (مال) کے خواستگار۔“
                       اس کے بعد تلقین و نصیحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
                       ”بہتر ہے کہ مسلمان اپنی سلامت روی پر قائم رہیں، کسی شریر قوم کی چال نہ سیکھیں، اپنے اوپر مفت کی بدگمانی کا موقع نہ دیں۔“
                       امام احمد رضا کی یہ نصیحت آج کے حالات میں بھی اتنی ہی مفید ہے جتنی ان کے دور کے حالات میں تھی۔ وہ مسلمانوں کو سلامت روی کی راہ پر گامزن رہنے اور ہر قسم کے فتنہ و فساد اور دہشت گردی کی راہ (جسے وہ شریر قوموں کا وطیرہ قرار دے رہے ہیں) سے خود کو علیحدہ رکھنے کی ہدایت دے رہے ہیں تاکہ خواہ مخواہ دوسری شریر اور دشمن قوموں کو جو طاقتور بھی ہیں، ان پر فتنہ پروری اور دہشت گردی کا لیبل لگاکر پریشان کرنے کا موقع ہاتھ نہ آسکے۔
                       لہٰذا امام احمد رضا کے خیال میں ایسے حالات میں مسلمانوں کو چاہئے کہ جذبات کی رو میں بہہ جانے کے بجائے وہ پُرسکون اور پُرامن رہ کر اپنے تعمیری کاموں میں لگے رہیں اور خود کو معاشی، اقتصادی، علمی اور سیاسی طور پر طاقتور بنائیں تاکہ وقت آنے پر دشمن کے مقابل ہر طرح کے اسلحہ سے لیس ہوکر صف آراءہوسکیں اور اپنا حقِ دفاع استعمال کرسکیں اور جہادِ زندگانی میں کامیاب و کامران رہیں۔
                       پھر امام صاحب نے ملتِ اسلامیہ کی اخلاقی، معاشی، تعلیمی اور سیاسی فلاح و بہبود کے لئے چار تجاویز پیش کیں جن کا معاشی اور اقتصادی پہلو کے اعتبار سے لب و لباب یہ ہے:
                       (۱)             مسلمان اپنے وسائل پس انداز کریں، غیر ضروری اور غیر پیداواری اخراجات سے اجتناب کریں۔ مسلمان اپنے معاملات خود طے کریں۔ یعنی غیر ملکی حکومتوں کی عدالتوں، سپرطاقتوں یا دشمنانِ اسلام کی ساختہ انجمنِ اقوام (مثلاً یو۔این۔او وغیرہ) کے دفتروں سے رجوع نہ کریں کیونکہ مسلمانوں کے حق میں کوئی فیصلہ ان سے صادر ہونے کی توقع ہی عبث ہے اور خواہ مخواہ مسلمانوں کے قیمتی وقت، مال اور دیگر وسائل کا ضیاع ہوگا۔ وہی وسائل ملکی ترقی، تعلیم، سرمایہ کاری اور پیداواری صلاحیتوں کو بڑھانے میں صرف ہوسکتا ہے جس سے مسلمان اور مسلمان ملکوں کی طاقت اور معاشی خوشحالی میں اضافہ ہوگا۔
                       (۲) مسلمان ابتداً اپنے ملکوں کے تمام بڑے بڑے شہروں میں جدید خطوط پر اسلامی بینکاری کے نظام کا جال بچھائیں تاکہ مسلمان اس سے استفادہ کرتے ہوئے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر اپنی معیشت، تجارت اور صنعت و حرفت کو ترقی پذیر اور مستحکم بناسکیںاور جب وہ اقتصادی اور معاشی طور پر مضبوط ہوں گے تو لامحالہ عسکری قوت کا توازن بھی ان کے حق میں ہوجائے گا۔
                       (۳) مسلمان اپنی قوم کے سوا کسی سے کچھ نہ خریدیں۔ یعنی دشمنانِ اسلام، ہنود، یہود، نصاریٰ، مشرکین و کفار کی مصنوعات کا منصوبہ بند تجارتی بائیکاٹ کرکے صرف مسلمانوں اور مسلم ممالک کی مصنوعات کو فروغ دیں۔ اس طرح مسلمان تاجروں اور صنعتکاروں کو معاشی تحفظ ملے گا۔ اشیاءکی طلب کے ساتھ پیداوار میں اضافہ ہوگا، پیداوار میں اضافہ سے مسلمانوں کے روزگار اور آمدنیوں میں اضافہ ہوگا۔ مسلمان تاجروں کے کاروبار اور صنعت و حرفت کے فروغ کے ساتھ ساتھ مسلم ممالک کی اقتصادی قوت بین الاقوامی مارکیٹ میں دیگر قوموں کی معیشت کو متاثر کرکے تجارتی توازن اپنے حق میں برقرار رکھ سکے گی۔ اس نکتہ میں امام احمد رضا نے ایک بین الاقوامی مسلم مشترکہ منڈی کا تصور بھی پیش کیا ہے جسے علمِ معاشیات کی ایک نئی شاخ نظریہ وحدۃ التامیۃ الاقتصادیہ (Theory of Economic Integration ) کہا جاتا ہے۔ واضح ہوکہ جنگِ عظیم دوم (1946-1945ء) کے بعد جب معاہدہ روم کے تحت ”یوروپین مشترکہ منڈی“ کا قیام عمل میں آیا اس وقت ماہرین علماءاقتصادیات نے اس جدید نظریہ کو پیش کیا۔ حالآنکہ امام احمد رضا 1912ء ہی میں اقتصادیات کی اس نئی شاخ سے مسلمانوں کو متعارف کراچکے تھے۔
                       ) مسلمان علمِ دین کی ترویج و اشاعت کریں۔
                       یہ نکتہ بھی بہت اہم ہے۔ امام احمد رضا نے فروغِ علمِ حقیقی و نورانی کی ترغیب دی ہے اور اس کے حصول کی تشویق پیدا کی ہے۔ اگر بنظرِ غائر دیکھا جائے تو ایک لحاظ سے اس کا تعلق بھی مسلمانوں کی اقتصادیات اور سیاستِ مُدن سے ہے۔ پہلے تین نکات پر عمل کا جذبہ قومی اور ملی تصلب سے پیدا ہوتا ہے اور قومی تصلب و عصبیت کے لئے علمِ نافع کی تعلیم اور معاشرے میں اس کا فروغ لازم و ملزوم ہے تو اس طرح یہ آخری نکتہ بھی اقتصادیات و سیاستِ اسلامی سے متعلق ہے۔ جب ہم علومِ اسلامی کی تعلیم کی بات کرتے ہیں تو اس میں قرآن و سنت کے علاوہ اپنے دور کے وہ تمام عقلی و نقلی یعنی روایتی، سائنسی اور معاشرتی علوم شامل ہوتے ہیں جو کسی نہ کسی اعتبار سے دینِ اسلام کی اشاعت و تبلیغ، ملک و ملت اور معاشرے کے افراد کی ترقی اور ملک و قوم کی بقا اور قوت کے لئے معاون و ممد ہوسکتے ہیں یا بطورِ آلہ استعمال ہوسکتے ہیں۔ کیونکہ دینِ اسلام دینِ فطرت ہے۔ یہ ایک کُل کا نام ہے۔ اس میں فرد، معاشرہ اور ملت کی حیات کے تمام گوشوں کا احاطہ ہے اور ”علمِ دین“ کا حصول انہی گوشوں کی ضروریات کو پورا کرتا ہے۔ اس لئے ہر زمانہ اور ہر دور بلکہ صبحِ قیامت تک انسان ایک خدا ترس اور پُرامن معاشرہ کی تکمیل کے لئے اس کے حصول کا محتاج رہے گا۔
                       محدثِ بریلوی علیہ الرحمة اپنی تجاویز پیش کرنے اور اس کا معروضی تجزیہ کرنے کے بعد تحریر کرتے ہیں:
                       ”یہ وجوہ ہیں، یہ اسباب ہیں۔ مرض کا علاج چاہنااور سبب قائم رکھنا، حماقت نہیںتو کیا ہے، جس کی زندہ مثال یہ ترکوں کا تازہ واقعہ ہے۔ ولاحول ولاقوة الا باللہ العلی العظیم۔
                       اہل الرائے ان وجوہ پر نظر فرمائیں اگر میرا خیال صحیح ہو تو ہر شہر و قصبے میں جلسہ کریں اور مسلمانوں کو ان چار باتوں پر قائم کردیں۔ پھر آپ کی (یعنی مسلمانوں کی) حالت خوبی کی طرف نہ بدلے تو شکایت کیجئے۔“
                       امام احمد رضا کے مذکورہ نکات اور ان کا پیش کردہ لائحہ عمل حالاتِ حاضرہ کے تناظر میں آج بھی مسلمانانِ عالم کے لئے اتنا ہی پُرکشش اور بہترین طرزِ عمل کا داعی ہے جتنا کہ ان کے دور میں تھا۔ انہوں نے اُس دور میں وحدتِ اسلامیہ کی کوشش کی جب بانیِ پاکستان مسٹر محمد علی جناح اور علامہ ڈاکٹر محمد اقبال جیسے رہنما ہندو مسلم اتحاد کے داعی تھے۔ غالباً علامہ اقبال امام احمد رضا کے انہی افکار سے متاثر ہوکر ”مرغِ زیرک“ کی ”دانہ مستی“ پر تڑپ جاتے ہیں اور سیاسیاتِ حاضرہ کے فسوں کو توڑنے پر آمادہ ہوکر اس کی نسبت یوں نغمہ سرا ہوتے ہیں:

می کند بندِ غلاماں سخت تر

حریت می خواند اُو را بے بصر
در فضایش بال و پر نتواں کَشود

باکلیدش ہیچ در نتواں کَشود
گفت بامرغِ قفس ”اے درد مند

 آشیاں در خانہ صیاد بند
ہر کہ ساز و آشیاں در دشت و مَرغ

او نباشد ایمن از شاہین و چَرغ“
از فسونش مرغِ زیرک دانہ مست

نالہ ہا اندر گلوئے خود شکست
الحذر از گرمیِ گفتار اُو

الحذر از حرفِ پہلو دارِ اُو

ترجمہ:
                       ٭ (دورِ حاضر کی سیاست) غلامی کے بند (قید) کو اور سخت کردیتی ہے۔ حریت (آزادی) اسے بے بصر (اندھا) کہتی ہے۔
                       ٭ (سامراجیت کی) اس فضا میں پرواز ممکن نہیں۔ اس کی کنجی سے کوئی دروازہ نہیں کھل سکتا (یعنی کوئی مسئلہ حل نہیں ہوسکتا۔ مسئلہ کا حل صرف اسلامی تعلیمات میں ہے۔)
                       ٭ (سامراجیت) قفس میں قید پرندہ سے کہتی ہے کہ ”(غلامی پر رضامند ہوکر) شکاری کے گھر میں اپنا آشیانہ بنالے۔
                       ٭ جو کوئی بیاباں اور باغ میں آشیانہ بناتا ہے وہ شاہین اور چَرغ (یعنی شکار کرنے والے پرندوں) سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔“
                       ٭ اس کے جادو کے اثر سے عقلمند پرندہ بھی دانہ مست بن جاتا ہے اور اس کا نالہ اس کے گلے میں پھنس جاتا ہے۔
                       ٭ اس (سامراج) کی گرمیِ گفتار اور پرفریب باتوں سے اللہ پناہ میں رکھے۔

                        اللہ تعالیٰ ہمیں اور ہمارے حکمرانوں کو امام احمد رضا علیہ الرحمة کے افکار و تعلیمات اور ان کے پیش کردہ لائحہ عمل پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہِ سید المرسلینﷺ

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s