بیرونِ ملک ڈاک اخراجات میں ہوش ربا اضافہ

بیرونِ ملک ڈاک اخراجات میں ہوش ربا اضافہ۔
فروغِ علم اور پرنٹ میڈیا کے خلاف ایک سازش

                       محکمہ ڈاک نے بیرونِ پاکستان ڈاک کے نرخوں میں یکم جولائی 2006ءسے اندھادھند اضافہ کردیا ہے۔ اس اضافہ سے قبل 20گرام وزنی ڈاک لفافے پر تقریبا 25روپے خرچ آتا تھا جسے بڑھاکر پچپن روپے تک کردیا گیا ہے۔56 صفحات کا ایک ماہوار پرچہ 20روپے میں بیرونِ ملک (خصوصاً ہندوستان) جایا کرتا تھا۔ اب تقریباً 80 روپے لگتے ہیں۔ ایک کتاب، جس کا وزن سوا کلو گرام ہوتا تھا اور اس پر نرخ بڑھنے سے قبل تقریباً 160  روپے کے ڈاک ٹکٹ لگتے تھے، اب پتا کیا گیا تو پوسٹ آفس والوں نے ایک ہزار ایک سو روپے کے ڈاک ٹکٹ لگانے کے لئے کہا۔
                       اندازہ لگالیں، حکومت کے ان پالیسی ساز اداروں کی کارکردگی کا کہ یہ عام شہریوں کے لئے معلومات اور علم تک رسائی کو کس قدر مہنگا اور مشکل بنارہے ہیں۔ روزنامہ نوائے وقت کی ایک خبر کے مطابق یہ اضافہ محض اس لئے کیا گیا ہے کہ اسلامی لٹریچر بیرونِ ممالک کم سے کم تعداد میں پہنچ پائے کہ یہ حکومت کے لئے مشکلات کا سبب بنتا ہے۔

                        پاکستانی محکمہ ڈاک کا اگر ہندوستانی محکمہ ڈاک سے مقابلہ کیا جائے تو آپ حیران رہ جائیں گے کہ اس کی ڈاک انتہائی سستے ٹکٹوں میں پاکستان پہنچ رہی ہے۔ انڈین جرائد و رسائل تین روپے یا پانچ روپے کی ٹکٹوں کے ساتھ آتے ہیں، جبکہ پاکستان کے نرخ اس کے مقابلہ میں بہت ہی زیادہ ہیں۔ اس اندھادھند ڈاک خرچ اضافے پر جتنا بھی افسوس کیا جائے، وہ کم ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے تمام پرنٹ میڈیا اور ناشرین اداروں کا ایک نمائندہ وفد متحدہ طور پر متعلقہ حکومتی ادارے کے وزیر سے مل کر اس من مانے ہوشربا اضافہ کو ختم کرائے نیز سیاسی پارٹیوں کی معرفت قومی اسمبلی و سینیٹ میں بھی اس مسئلہ کو اٹھایا جائے اور حکومتِ وقت پر دباؤ ڈالا جائے کہ اس بے جا اضافے کو فوری طور پر واپس لے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s