دیوانی شرعی عدالت کا قیام اور مفکر اسلام احمد رضامحدث حنفی

دیوانی شرعی عدالت کا قیام اور مفکر اسلام احمد رضامحدث حنفی

پروفیسر دلاور خاں

پس منظر: (Back ground)

            عالم اسلام کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ ایک طرف تو وہ ممالک ہیں جہاں مسلمان اکثریت میں ہیں اور حکمران بھی مسلمان ہیں جبکہ دوسری طرف وہ ممالک ہیں جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں اور حکمران بھی غیر مسلم ہیں۔ اقلیتی تفاوت کی بناءپر مسلمان ہر جگہ اکژیت کے مقابلے میں معاشی،سیاسی،سماجی اور تعلیمی لحاظ سے بہت کمزور اور پسماندہ ہیں۔فقہائے کرام نے زمان و مکاں ،عرف و عادات کے فرق کا لحاظ رکھتے ہوئے کہا کہ اگر حالات اور عرف و عادات تبدیل ہو جائیں یا مطلوبہ نتائج تقاضا کریں تو ان میں تبدیلی کی جا سکتی ہے جس کی بے شمار مثالیں فقہائے احناف کے فتاوٰی میں جا بجا موجود ہیں۔

            غیر مسلم ممالک میں رہنے والے مسلمانوں کے حالات اور مسائل کا فرق اس سے کہیں زیادہ فراہمی سہولت کا شدت سے متقاضی ہے۔ اسی نکتہ کے پیش نظر شریعت نے مسلم اقلیت کے مخصوص حالات اور مسائل کے تحت انہیں کچھ رعایتیں دی ہیں تا کہ وہ شریعت اسلامیہ پر آسانی سے عمل کر سکیں اور ایسے اجتہادی فتاوٰی جو مختلف فیہ ہوں ،جن کے نفاذ سے مسلم اقلیت کے مسائل حل ہونے کے بجائے اضافے کا باعث ہوں تو ان کے مطالبے سے گریز کیا جائے۔

            مسلم اقلیت کو شریعت اسلامیہ پر آسانی سے عمل کرنے کے لیے جو سہولتیں انہیں دی جاتی ہیں ان کے مطالعے کا نام ”فقہ الاقلیات“ ہے یہاں اس امر کی وضاحت بھی نہایت ضروری ہے کہ ”فقہ الاقلیات“ میں شریعت کے احکام، صرف نظری افادیت کے لیے زیرِ بحث نہیں لائے جاتے بلکہ غیر مسلم معاشرہ میں رہتے ہوئے شریعت مطہرہ پر عمل پیرا ہونے کے لیے مکمل لائحہ عمل اور رہنمائی مہیا کرنے کے لئے لائے جاتے ہیں ۔ رکاو ٹوں اور مسائل کو دور کر کے شریعت پر عمل کو یقینی بنانے کی راہوں پر گامزن کرنے کے لیے تحقیق کی جاتی ہے۔ اس حقیقت کو یوں بآسانی سمجھا جا سکتا ہے کہ مریض کو تیمم کی سہولت وضو سے بچانے کے لیے ہر گز نہیں دی جاتی بلکہ اس لیے دی جاتی ہے کہ نماز کی ادائیگی کو یقینی بنایا جا سکے ۔ ”فقہ الاقلیات“ میں مسلم اقلیت کو جو بھی رعایتیں دی جاتی ہیں وہ صرف اس لئے کہ شریعت پر عمل آسانی سے ہو سکے اور یہ رعایتیں اور سہولتیں بھی وہی ہوتی ہیں جوشریعت خود انہیں عطا کرتی ہے مگر ہمارا فکری اور علمی جمود اس کے سامنے حائل ہوجاتا ہے۔

            فقیہ اسلام امام احمد رضا حنفی نے عالم اسلام کو زبوں حالی سے نکالنے کے لیے جو کار ہائے نمایاں انجام دیے ہیں انہی میں سے ایک کارنامہ، مسلم اقلیت کے مسائلِ معیشت و معاش کا ماحول اور زمانہ کے تغیرات کے مطابق حل پیش کرنا اور اس پر موثر طور پر عمل پیرا ہونے کے لئے جو رکاوٹیں حائل ہوں، انہیں شریعت اسلامی کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے دور کرنا ہے جس کا مقصد احکامِ شریعت پر بہرطور عمل کرانا ہے۔ آپ نے بطور ماہر فقہ الاقلیات تحقیقات پیش کر کے انہیں سیاسی، معاشی، سماجی، تعلیمی، لحاظ سے ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کی پوری کوشش کی اسی طرح انہیں ہر وہ سہولت اور رعایت فراہم کی جو شریعت مطہرہ نے انہیں اس ماحول میں مہیا کیں تاکہ وہ اسلام کے ضابطہ حیات پرآسانی سے عمل پےرا ہو سکیں اور غیر مسلم معاشرے میں اپنا معزز مقام بناتے ہوئے غیر مسلم اکثریت کے درمیان دعوت و تبلیغِ اسلام کا ایک موثر ذریعہ بن سکیں ۔

            فتاوٰی رضویہ کا بغور مطالعہ کیا جائے تو ہمیں ”فقہ الاقلیات“ کا باب نمایاں نظر آتا ہے۔ اگر اس سے متعلق جتنے بھی مسائل فتاوٰی رضویہ میں موجود ہیں انہیں یکجا کر لیا جائے تو مغرب میں یا جہاں جہاں مسلم اقلیت موجود ہے ان کے مخصوص مسائل حل کرنے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے جبکہ اسی موضوع کو حال ہی میں اسلامی اسکالر ز نے اپنی تحقیق کا مرکز بنایا ہے ۔مبلغ اسلام احمد رضا محدث حنفی نے مسلم اقلیت کے لئے شریعت میں دستیاب رعایتوں کو تحقیق و جستجو سے تلاش و جمع کرکے عوام الناس کو فیضیاب کرانے کی جو سعی کی ہے اس کی ایک بہترین مثال ایسے ملکوں میں بسنے والے مسلمانوں کے لئے ایک علیحدہ دیوانی اور شرعی عدالت کا قیام ہے۔ ملاحظہ ہو:

 شرعی عدالت کی ضرورت کا جائزہ: (Need Assesment)

            1912ءمیں مفسر قرآن احمد رضاحنفی نے مسلمانوں کے اصلاح ِحال کے لیے چند تدابیر پیش کی تھیں ،ان میں پہلی تدبیر،  شرعی عدالت کے قیام کی ضرورت کا جائزہ لیتے ہوئے فرماتے ہیں ۔

            ”اولاً باستثنا ان معدود باتوں کے جن میں حکومت کی دست اندازی ہو،اپنے تمام معاملات اپنے ہاتھوں میں لیتے،اپنے سب مقدمات اپنے آپ فیصل کرتے۔ یہ کروڑوں روپے جو اسٹامپ و وکالت میں گھسُے جاتے ہیں،گھر کے گھر تباہ ہوگئے اور ہوئے جاتے ہیں،محفوظ رہتے۔اول پر یہ عمل ہے کہ گھر کے فیصلے میں اپنے دعوے سے کچھ بھی کمی ہو تو منظور نہیں،اور کچہری جا کر اگرچہ گھر کی بھی جائے، ٹھنڈے دل سے پسند۔گرہ گرہ بھر زمین پر طرفین سے دو دو ہزار بگڑ جاتے ہیں ،کیا آپ ان حالتوں کو بدل سکتے ہیں؟فھل انتم منتھون۔“۲

مقاصد:  (Objectives)

             جہاں جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں وہاں شرعی عدالت کے قیام کے لئے فقیہہ اسلام نے درج ذیل مقاصد متعین کیے ہیں :

(۱) مسلمانوں کے مقدما ت کا فیصلہ شرعی قاضی (جسٹس ) کے ذریعے کرانا ۔

(۲) مسلمانو ں کے کروڑوں روپے جو اسٹامپ پرخرچ ہوتے ہیں انھیں بچانا۔

(۳) وکلاءکی بڑی بڑی فیسوں سے مظلوم عوام کو محفوظ رکھنا ۔

(۴) عرصہ دراز کی مقدمہ با زی سے گھروں کو تباہ ہو نے سے بچانا۔

(۵) کچہری کی ذلت سے مسلمانو ں کو بچانا۔

(۶) جلد اور سستا انصاف مہیا کرنا۔

(۷) مؤثر مسلم قیادت کو فروغ دینا ۔

الغر ض مفکرِ اسلام نے شرعی عدالت کے قیام کو مسلمانوں کے پیسوں ، عزت اور وقت کے ضیاع کو بچانے اور ان قیمتی اوقات کو مسلمانوں کی فلاح اور تعمیری کاموں میں صرف کرنے کی ترغیب اور تشویق اور آپس میں اتحاد و اتفاق اور فوری انصاف مہیاکرنے کو مرکزی مقصد قرار دیتے ہیں ۔

جذ بہ تحریک: (Motivation)

            جذبہ تحریک وہ عمل ہے جس کے تحت انسان اپنی ضروریات پوری کرنے کے لئے کوشاں رہتا ہے۔جذبہ تحریک کا عمل (۱)غیر مطمئن ضرورت کے ادراک (۲)منزل کے تعین (۳) اس منزل کی طرف لے جانے والے اقدامات کی درجہ بندی ،منزل کے حصول اور نتیجتاً ضرورت کے پورا ہونے کے عمل سے گزرتا ہے۔ انسانی وسائل (Human Resources ) کو منظم کرنے کے لیے جذبہ تحریک ایک موثر طریقہ ہے جو کہ نہ صرف انفرادی اور تنظیمی کار کردگی کو بہتر بناتا ہے بلکہ دائمی ترقی کے عمل میں بھی بھرپور کردار ادا کرتا ہے۔اہم تنظیمی نتائج حاصل کرنے کے لیے مثبت کمک کی کامیاب ترویج بے حد ضروری ہے ۔مفکر اسلام جذبہ تحریک کے نفسیاتی تقاضوں کو مدنظر رکھ کر شرعی عدالت کے قیام کے لیے مسلم اقلیت میں یوں جذبہ تحریک بیدار کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ 

            ”یہ خیال نہ کیجیے کہ ایک ہمارے کئے کیا ہوتا ہے ،ہر ایک نے یوں ہی سمجھا تو کوئی کچھ نہ کرے گا بلکہ ہر شخص یہی تصور کرے کہ مجھی کو کرنا ہے،یوں ان شاءاللہ تعالیٰ سب کر لیں گے۔چند جگہ جاری تو کیجیے پھر خربوزہ کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے ،خدا نے چاہا تو عام بھی ہو جائے گا،اس وقت آپ کو اس کی برکات نظر آئیں گی،وہی آیہ کریمہ کہ ابتداءسخن میں تلاوت ہوئی۔ان اللہ لا یغیر   الخ    جس طرح برے رویہ کی طرف اپنی حالت بدلنے پر تازیانہ ہے یوں ہی نیک روش کی طرف تبدیلی پر بشارت ہے کہ اپنے کرتب چھوڑو گے تو ہم تمہاری اس ردی حالت کو بدل دیں گے،اے رب ہمارے ہماری آنکھیں کھول اور اپنے پسندیدہ راستہ پر چلا،صدقہ رسولوں کے سورج،مدینہ کے چاند کا صلی اللہ تعالیٰ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ و بارک و کرم،آمین۔“۳

موثر ابلاغ عامہ: (Effective Mass Communication)

            یہ ابلاغ کی یہ وہ اہم ترین قسم ہے جس میں پیغام ایک شخص یا ادارے سے لوگوں کی وسیع تعداد تک پہنچ جاتا ہے یہ اشتراک معلومات، نظریات،خیالات یاتجر بات کے تبادلے کی صورت میں ہوتا ہے۔ ابلاغ کی یہ قسم چونکہ اپنے اندر بہت زیادہ وسعت رکھتی ہے اس لیے یہ ابلاغ کی دوسری تمام اقسام سے زیادہ اہمیت کی حامل ہے کیوں کہ کجا ایک انسان کا دوسرے کی رائے کو متاثر کرنا اور کہاں لاکھوں کروڑوں لوگوں کے ذہنوں کو متاثر کرنا۔

            جلسہ عام تیسری دنیا کے ممالک میں ابلاغ کا انتہائی اہم اور مؤثر ذریعہ ہے ۔جلسوں میں ابلاغ بہتر طور پر اس لئے بھی ہوتا ہے کہ لوگ براہ راست مقرر کو دیکھ اور سن رہے ہوتے ہیں ۔اس کی حرکات و سکنات اور انداز گفتگو سے الفاظ کا ٹھیک ٹھیک مفہوم اخذ کرتے ہیں ۔وہ ساتھ ساتھ عوام کے رد عمل سے بھی آگاہ ہوتے چلے جاتے ہیں۔غرضیکہ ہمارے ایسے معاشرے میں جلسہ عام ابلاغ کا بہت اہم ذریعہ ہے۔اس کا حلقہ اثر نسبتاً کافی وسیع ہے۔ دورِ حاضر میں الیکٹرونک میڈیا کا استعمال اس سے کہیں زیادہ وسیع تر اور دور رس نتائج کا حامل ہے۔

            اسی لئے شیخ الاسلام دیوانی شرعی عدالت کی ضرورت اور اہمیت کا جائزہ لینے اور مقاصدکے تعین کے بعد اپنے مقاصد کے حصول کی خاطر دانشوارانِ اسلام کو اس وقت کے اس ماس میڈیا کے استعمال یعنی جلسے منعقد کرنے کی تجویز یوں دیتے ہیں: ”اہل رائے (دانش ورانِ اسلام) ان وجوہ پر نظر فرمائیں اگر میرا خیال صحیح ہو تو شہر و قصبے میں( اس کی ضرورت کو اجاگر کرنے کے لیے )جلسے کریں اور مسلمانوں کو ان چار باتوں (جن میں سے ایک شرعی عدالت کا قیام ہے )پر قائم کر دیں پھر آپ کی حالت خوبی کی طرف نہ بدلے تو شکایت کیجیے ۔“۴

 طریقہ کار : (Procedure)

            شیخ الاسلام دیوانی عدالت کے مقاصد،اس کے ابلاغ، ترغیب، کے بعد اس عدالت کے قیام کے طریقہ کار کی وضاحت اس طرح کرتے ہیں کہ :

اذا اخلا الزمان من سلطان ذی کفایۃ فا لا مورمؤکلۃ الی العلماءویلزم الا مۃ الرجوع الیھم و یصیرون ولاة،فا ذا عسر جمعھم علی واحد استقل کل قطرباتباع علمائہ فان کثر و افا لمتبع اعلمھم۔

            جب زمانہ با کفایت سلطان سے خالی ہو تو معاملات علماءکے سپرد ہوتے ہیں اور امت پر ان کی طرف رجوع لازم ہوتا ہے اور علماءوالی بن جاتے ہیں ،تو جب لو گوں کو ایک عالم کی طرف رجوع دشوار ہو تو ہر علاقہ اپنے اپنے عالم کی طرف رجوع میں مستقل ہو گا،تو اگر علماءعلاقہ میں کثیر ہوں تو بڑا عالم قابل اتباع ہو گا۔۵(ت)

آپ مزید وضاحت فرماتے ہیں کہ:

            ”اسلامی ریاستوں میں قاضیان ذی اختیار شرعی کا موجود ہونا واضح،اور جہاں اسلامی ریاست اصلاً نہیں وہاں اگر مسلمانوں نے باہمی مشورہ سے کسی مسلمان کو اپنے فصل مقدمات کے لئے مقرر کر لیا تو وہی قاضی شرعی ہے“۶

            ”فی جامع الفصولین بعد ما مر عنہ اولا،واما فی بلا دعلیھا الاة کفار فیجوز للمسلمین اقامۃ الجمع والا عیادو یصیر القاضی قاضیا بتراضی المسلمین الخ و نحوہ فیما مر معہ من الکتاب۔“

            ”جامع الفصولین میں اولاًمذکورہ کے بعد ذکر کیا کہ لیکن وہ شہر جہاں کا فروالی ہوں تو وہاں مسلمانوں کی رضا و اتفاق سے جمعہ ،عیدین کا قیام اور قاضی کا تقرر جائز ہو گا الخ اور ایسا ہی اس کے ساتھ کتاب میں بھی مذکور ہے۔ (7)

             ”اور اگر ایسا نہ ہو تو شہر کا عالم کہ عالم دین وفقیہہ ہو اور اگر وہاں چند علماءہیں تو جوان سب میں زیادہ علم دین رکھتا ہو وہی حاکم شرع و والی دین اسلام و قاضی و ذوی اختیار شرعی ہے مسلمانوں پر واجب ہے کہ اپنے کاموں میں اس کی طرف رجوع کریں اور اس کے حکم پر چلیں،یتیمان بے ولی پر وصی اس سے مقرر کرائیں نا بالغان بے وصی کا نکاح اس کی رائے پر رکھیں ایسی حالت میں اس کی اطاعت من حیث العلم واجب ہونے کے علاوہ من حیث الحکم بھی واجبرہے یہ نکاح خوانی کے قاضی جو گاﺅں گاﺅں مقرر ہوتے ہیں یہ کوئی چیز نہیں،نہ انہیں کچھ ولایت،کما لا یخفی(جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔ت)واللہ تعالی اعلم۔“۸

             اپنی ان دینی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے اپنی تراضی سے ان امور کاقاضی مقرر کر لینا اور نصب امام و خطیب جمعہ و امام عیدین و تفریق لعان و عنین و تزویج قاصرین و قاصرات بلا ولی و فسخ نکاح بخیار بلوغ و امثال ذلک امور جن میں کوئی مزاحمت قانونی نہیں اس کے ذمہ رکھنا بلا شبہ میسر ہے،گورنمنٹ نے کبھی اس سے ممانعت نہ کی جن قو موں نے اپنی جماعتیں مقرر کر لیں اور اپنے معاملات مالی و دیوانی قسم اول بھی باہم طے کر لیتے ہیں گورنمنٹ کو ان سے بھی کچھ تعرض نہیں اور ایسے مقدمات جو عاقل لوگ مصارف ودا دوش سے بچنے کے لئے باہمی پنچایت سے فیصل کرلیتے ہیں گورنمنٹ ان کو کب مانع آتی ہے،مگر یہ کہئے کہ خود مسلمان کو اپنے دینی امور دینی طور پر( فیصل) ہونے منظور نہ ہوں تو گورنمنٹ کو اس سے کیا بحث۔تم مسلمان ہو،دین تمھارا ہے،تم جانو تمھارا کام۔“۹

            عدالت کے قیام کے طریقہ ءکار سے متعلق شیخ الاسلام احمد رضا محدث حنفی کی مذکورہ بالا تحقیقات کی روشنی میں درج ذیل نکات اخذ کیے جا سکتے ہیں ۔

(۱)غیر مسلم ملک میں مسلم اقلیت باہمی مشاور ت سے قاضی شرع مقرر کرے

(۲)اگر وہاں چند علماءہوں تو ان میں سے سب سے زیادہ علم دین رکھنے والا قاضی شرع ہو گا۔

)مسلم اقلیت اپنے دیوانی او ر مالی معاملات اسی شرعی عدالت سے حل کرائیں ۔

(۴)وہ اپنے فیصلے کی تکمیل شرعی عدالت سے کرائیں اور با وقت شدید ضرورت کچہری سے تنفیذ کرائی جا سکتی ہے۔

(۵)ایک قاضی کی طرف رجوع کرنا مشکل ہو تو اپنے علاقے کے ہی قاضی شرع کی طرف رجوع کیا جائے۔

فیصلے کا نفاذ: (Inforcement of Judjment)

            قاضی کے بعض فیصلے ایسے ہوتے ہیں جن کے نفاذ میں گورنمنٹ حائل نہیں ہوتی ان فیصلوں پر عمل در آمد کرنا آسان ہوتا ہے جبکہ بعض فیصلوں کے نفاذ کے لئے حکومتی کچہریوں سے تنفیذ کرانا ضروری ہوتا ہے اس مسئلے کے حل کے لئے الشیخ احمد رضا محدث حنفی رقم فرماتے ہیں کہ ”تکمیل نفاذ حسی کے لئے گورنمنٹ نے لاکھوں روپے ماہوار کے صرف سے کچہریاں کھول رکھی ہیں تنفیذ وہاں سے ہو جائے گی،یوں دونوں مقصد دین و دنیا حاصل ہیں اور بفضلہ تعالٰی تمام حاجتیں روا اور ضرورتیں زائل ہیں وللہ الحمد،بلکہ مسلمان اگر اپنے دین کو دین سمجھیں اور امور شرعیہ بطریقہ شرعیہ انجام دینا چاہیں تو تلاش کی بھی حاجت نہیں ،ہر قطرو ضلع میں جو عالم سنی صحیح العقیدہ متدین ہو حکم شرعی کی تکمیل اس کے یہاں کر لیں اور تنفیذ کے لئے گورنمنٹی محکمے کھلے ہوئے ہیں،فتاوی امام عتابی پھر حدیقہ ندیہ امام عبدالغنی نابلسی رحمہمااللہ تعالٰی میں اسی ولایت شرعیہ کی نسبت ہے“    10

گواہوں کے معیار کا جائزہ:    (Criteria for Evaluation Of Eye Witness)

  عدالتی کارروائی میں گواہوں کی بڑی اہمیت ہوتی ہے اکثرفیصلوں کا انحصار گواہوں کی شہادت پر ہوتا ہے اس اہمیت کے پیش نظرالشیخ احمد رضا محدث حنفی” معین الحکام“ کے حوالے سے لکھتے ہیں” گواہوں سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لئے قاضی ایسے حضرات کو مقرر کرے جو:

(الف) مناسب ترین                                   (ب)دیا نت میں متقی

(ج)سمجھداری میں بڑے                 (د)خبرداری میں کثیر

(ہ)اور پرکھنے کا زیادہ علم رکھتے ہوں

            تو ایسے لوگوں کو یہ معاملہ سپُرد کرے کیونکہ قاضی گواہوں کے عدل کو معلوم کرنے کا پابند ہے،تو اس پر واجب ہے کہ وہ اس معاملہ میں مبالغہ اور احتیاط سے کام لے۔“۱۱

محدث حنفی مزید فرماتے ہیں کہ :

             ”اگرشاہد (گواہ) کے ہمسائگان، مسکن وبازارو اہل محلہ میں کوئی ثقہ نہ ملے نہ اس کے بارے میں کوئی تواترصحیح شرعی ہو تو قاضی اہل محلہ کے بیان پردوشرط سے اعتماد کر سکتاہے

اول : (الف) وہ سب (اہل محلہ )بالاتفاق یک زبان ایک ہی بات کہتے ہوں سب اسے (گواہ کو)عادل کہیں

(ب)یاسب (گواہ کو)مجروح بتاتے ہوں

دو م : یہ کہ قاضی کے قلب میں آئے کے یہ سچ کہہ رہے ہیں تو اس وقت ان کا اتفاق مع اس تحری کے قائم مقام تواتر ہو جائے گا اور تواتر میں عدالت کی حاجت نہیں نہ یہ کہ جس نمازی صورت محلے والے مجہول الحال سے چاہیں پوچھ لے اور یہی کافی ہو یہ محض افتراءہے ۔“12

            شیخ الاسلام گواہوں کی مذید تحقیق کے لئے اس طرح رہنمائی فرماتے ہیں کہ:       

            ”اگر گواہوں پر کوئی بدگمانی ہو تو قاضی پر واجب ہے کہ انہیں جداجدا ادائے شہادت کا حکم دے مگر دو عورتوں کہ ان کی شہادت مل کر شرعاً بجائے شہادت واحدہ ہے ان میں تفریق نہیں ۔۔۔اگر قاضی کو اطمینان کافی ہو کہ یہ لوگ اہل صدق و دیانت ہیں ہر ایک اپنے علم کے مطابق شہادت دے گا نہ کہ دوسرے کی سنی سیکھی پر تو تفریق کی حاجت نہیں مگر اس زمانے میں ایسا اطمینان شاذونا در ہے“ ۔13

 قانونی مشاورت : ( Juris -Consultation)

            مفکر اسلام مشاورت کے بارے میں محیط وہندیہ کی عبا رت تحریر فرماتے ہیں(ترجمہ)” اگر یہ شخص قا ضی کو کسی چیز کا مشورہ دے اور اگر قاضی کی رائے اس کے خلاف ہو توقاضی اپنی رائے کو ترک نہ کرے اور اگر قاضی اپنی رائے کو اس بنا پر اہم نہ سمجھے کہ وہ شخص اس سے افقہ اور افضل ہے تو اس بنا پر اگر اس شخص کی رائے پر عمل کرلے تو مجھے امید ہے قاضی کو یہ گنجائش ہے اور اگر قاضی اس شخص کی رائے کو اہم نہیں سمجھتا تو اسے اپنی رائے کا ترک مناسب نہیں ہے ۔“14

            آپ درمختار کے حوالے سے مذید لکھتے ہیں ”اپنی رائے پر قاضی فیصلہ دے مگر جب غیر کی رائے کو فقہ اور وجوہ اجتہاد میں اقوٰی قرار دے تو اس کے مقابلے میں اپنی رائے کا ترک قاضی کو جائز ہے ۔“15

شرعی عدالت میں قاضی ومفتی کا معیار:

            آپ کتاب القضا کے حوالے سے مفتی و قا ضی کا یہ معیار مقرر فرماتے ہیں ”قاضی معتمد علیہ ہونا چاہئے پاک دامنی ،عقل ، صلح ، فہم اور علم میں اور مذکورہ علوم میں مفتی بھی قاضی کے مثل ہے ۔“16

شرعی عدالت کا قیام :(Execution of shariah Court)

حضرت مفتی برہان الحق جبل پوری فرماتے ہیں :

             ”ایک دن صبح تقریباً نو بجے اعلیٰ حضرت مکان سے باہر تشریف لائے تخت پر ایک قالین بچھانے کاحکم فرمایا ، ہم سب حیرت زدہ تھے کہ حضور یہ اہتمام کس لئے فر ما رہے ہیں پھر حضور امام اہل سنت ایک کرسی پر تشریف فرما ہوئے اور حضرت صدرالشریعہ مولانا امجد علی صاحب علیہ الرحمتہ کو مخاطب کرکے فرمایا :

 ”میں آج بریلی میں دارالقضا شرعی کے قیام کی بنیاد رکھتا ہوں “17

شرعی عدالت میں جسٹس کا تقرر :   (Appointment of the justice in shariah court)

            ”اور انھیں (مفتی امجد علی ) اپنی طرف بلا کر ان کا داہنا ہاتھ اپنے دست مبارک میں لے کر قالین پر انہیں بٹھا کر فرمایا ” میں آپ کو ہندوستا ن کے لئے قاضی ( جسٹس) شرع مقرر کرتا ہوں “۔18

جسٹس کے فیصلے کے ارکان:   (Judjment components of the justice)

            مفکر اسلام قاضی کے فیصلے کے چھ ارکان کی وضاحت ابن الغرس کی نظم کے ذریعے یوں کرتے ہیں:

اطراف کل قضیہ حکمیہ  ہر فیصلہ کے معاملہ میں چھ پہلو ہیں

ست یلوح بعد ھا التحقیق  جن کے بعد تحقیق واضح ہو گی

حکم و محکوم بہ و لہ    حکم ، محکوم بہ ، محکوم لہ،

و محکوم علیہ و حاکم و طریق  محکوم علیہ، حاکم اور وجہ حکم     19

جسٹس اور دعوٰی ثبوت کے طریقے:

  شیخ الاسلام قاضی کے لئے ثبوت دعوٰی کی خاطر تین طریقے رقم فرماتے ہیں اگر وہ طریقے معدوم ہوں تو قضا بحق مدعی نا ممکن ہو گا   “ان الحکم الا للہ“ (حکم صرف اللہ تعالی ہی کا ہے۔ ت) حکم شریعت کے لئے ہے اور بیشک حکم شریعت ہی کے لئے ہے۔ حکام اگر اس لئے مقرر ہوتے ہیں کہ مطابق شرع فیصلہ کریں اور بیشک وہ اسی لئے مقرر ہوتے ہیں اور یہی ان کا فرض ہے تو شریعت مطہرہ نے قاضی کے حضور ثبوت دعوٰی کے صرف تین طریقے رکھے ہیں : (و)بینہ (ب)اقرار (ج)نکول۔ اور جہاں تینوں معدوم ثبوت معدوم،اور قضا بحق مدعی ناممکن ”   20  

دیوانی شرعی عدالت کا دائرہ کا ر:(Limitation)

            آپ دیوانی شرعی عدالت میں جسٹس امجد علی اعظمی کی تقرری کے بعد عدالت کے دائرہ کار کو متعین کرتے ہوئے فرماتے ہیں ”مسلمانوں کے درمیان اگر ایسے مسائل پیدا ہوں جن کا شرعی فیصلہ قاضی شرع ہی کرسکتا ہے وہ قاضی شرع کا اختیار آپ کے ذمہ ہے “پھر دعا پڑھ کر کچھ کلمات فرمائے جن کا اقرار حضرت صدرالشریعہ نے کیا ۔   21

 شرعی عدالت میں مفتیوں کا تقرر:   (Appointment of juris- Consults)  

            مفتی یعنی (Juris-Consult)کا کام قانون کی تفسیر و تشریح اور قاضی (جسٹس)کی کسی معاملے میں، عمل تحقیق میں مدد دینا۔ اس عدالتی ضروریات کے پیش نظر الشیخ احمد رضا محدث حنفی نے اس شرعی عدالت میں دو مفتیوں کا تقرر فرمایا آپ کے اس فلسفے پر کسی حد تک پاکستان کی وفاقی شرعی عدالت عمل پیرا ہے ۔ تفصیل مفتی برہان الحق کی زبانی ملاحظہ ہو۔(صدر الشریعہ کو جسٹس بنانے کے بعد)حضور(امام احمد رضا)نے اس خادم برہان الحق کو بلایا اور اپنے دست مبارک میں میرا داہنا ہاتھ لے کر اس مسند پر حضرت صدر الشریعہ کے متصل بٹھا کر مجھ سے فر مایا۔

             ”میں نے تمہارے فتوے دیکھے،افتاءکے لئے تمہارے دماغ کو بہت مستعد پایا میں تمہیں مسند افتاءپر بٹھا کر دارالقضا شرعی کے لئے مفتی مقرر کرتا ہوں“۔اس کے بعد حضرت مفتی اعظم ہند علیہ الرحمة کے ہاتھ کو اپنے دست مبارک میں لے کر میرے پہلو میں بٹھایا اور یہی کلمات جو مجھ سے فرمائے تھے۔ان سے فر ما کر پھر ہم دونوں کو مخاطب کر کے فرمایا کہ”دارالقضا شرعی کے لئے قاضی شرع مولانا امجد علی کو اور آپ دونوں کو ان کی اعانت اور فتوٰی دینے کی اجازت دیتا ہوں۔آج سے تم دونوں ہندوستان کے دارالقضا شرعی،مرکز بریلی میں مفتی شرع کی حیثیت سے مقرر کیے جاتے ہو۔ہم دونوں سے کچھ کلمات فرمائے اور ہم دونوں نے اس سعادت عظیم پر سر نیاز خم کیا اور اٹھ کر ہم نے اعلی حضرت کی قدم بوسی کی ،اعلی حضرت نے دست مبارک اٹھا کر بہت دیر تک دعا فرما ئی۔  ۲۲

 شرعی عدالت کا پہلا فیصلہ:     (First Judjment Of Shariah Court)

             حضرت صدرالشریعہ نے دوسرے دن ہی قاضی شرع کی حیثیت سے پہلی نشست کی اور وراثت کے ایک معاملے کا فیصلہ فرمایا۔   23

شرع کا قاضی امام العصر نے تجھ کو کیا

تیری ہے یہ شان و عظمت حضرتِ امجد علی

نوری وبرہان ہوئے تیرے مشیرانِ قضا

سرِ زیب کرسیِ عدالت حضرتِ امجد علی   24

(علامہ بدرالدین)

 پروفیسر مجیب احمد لکھتے ہیں کہ:

             ”مفتی برہان الحق جبل پوری مارچ1921ءمیں مولانا احمد رضا کی طرف سے قائم کردہ شرعی دارالقضاة کے معین المفتی بھی رہے “  25

            اس سے معلوم ہوتا ہے کہ فقیہہ اسلام نے مارچ 1921ءمیں دیوانی شرعی عدالت قائم فرمائی اور چند ماہ بعد ہی 14جون 1921ءمیں آپ اپنے مالک حقیقی سے جا ملے ۔

            آج ہم دیکھتے ہیں کہ تمام مسلم ممالک اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے غیروں کی عدالتوں سے حق و انصاف کی بھیک مانگتے ہیں جہاں انہیں انصاف کی بجائے اپنے خلاف ویٹو کا سامنا کرنا پڑتا ہے مسلم امہ کے ساتھ اس نا انصافی کا حل فکر رضا ہی میں مضمر ہے کہ آج مسلم امہ عالمی سطح پر بین الاقوامی مسلم عدالت باہمی مشاورت سے قائم کرے تاکہ گھر کے فیصلے گھر ہی میں ہوں اور مسلمانوں کے وسائل اور قوت کو نقصان اور ضیاع سے بچا کر مجتمع کیا جاسکے۔جس کے نتیجے میں عالم گیر مسلم قیادت کی راہ ہموار ہو تا کہ مسلم نشاة ثانیہ کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے۔

ماخذ و مراجع:

(۱)احمد رضا ،امام ،بریلوی،فتاوٰی رضویہ،جلد 15،ص144‘مطبوعہ لاہور

(۲)نفس المصدر، ص 145   (۳)نفس المصدر ،ص146

(۴) نفس المصدر ،ص 146

(۵)احمد رضا ،امام ،بریلوی فتاوٰی رضویہ ج 18،ص ۰۵۵

(۶)نفس المصدر،ص176      (۷)نفس المصدر،ص  176

(۸)نفس المصدر،ص 177   (۹)نفس المصدر،ص549

(10)نفس المصدر،ص549    (۱۱)نفس المصدر،ص243

(12)نفس المصدر،ص244   (13)نفس المصدر،ص245

(14)نفس المصدر،ص498  (15)نفس المصدر،ص498

(16)نفس المصدر ،ص۱۲۱

(17)عطاءالرحمن ،حافظ ۔تذکرہ علیٰ حضرت با زبان صدرالشریعہ، ص 72مطبوعہ لاہور          

(18) نفس المصدر،ص،72

(19)احمد رضا،امام،بریلوی،فتاوٰی رضویہ،جلد 15،ص102 مطبوعہ لاہور

(20)نفس المصدر ،ص295

(21)عطاءالرحمن ،حافظ۔تذکرہ اعلیٰ حضرت بزبان صدرالشریعہ، ص37مطبوعہ لاہور

(22)نفس المصدر،ص73

(23)نفس المصدر،ص73    (24)نفس المصدر،ص73

(25)مجیب احمد،پروفیسر”منظر اسلام اور خدمت افتاء“مشمولہ  معارف رضا منظر اسلام نمبر2001،ص286کراچی

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s