پیسے لے کر فتوے دینے پر دیوبند کے کئی مفتی معطل

پہلے اسے پڑھیں۔۔۔ بلاتبصرہ

پیسے لے کر فتوے دینے پر دیوبند کے کئی مفتی معطل

رقم کے عیوض من چاہے فتوے جاری کئے جاتے تھے، نجی چینل کے آپریشن میں انکشاف

             دہلی (ایکسپریس نیوز) ہندوستان کے ایک اہم ادارے دارالعلوم دیوبند نے مبینہ طور پر پیسے لے کر فتوے جاری کرنے والے بعض مفتیوں کو معطل کردیا ہے۔ ایک نجی ٹی وی چینل نے ایک سٹنگ آپریشن کی مدد سے دکھایا کہ مفتی کس طرح فتووں کی تجارت کرتے ہیں اور پیسے لے کر کسی بھی طرح من چاہے فتوے جاری کرتے ہیں۔ یہ آپریشن کوبرا پوسٹ ڈاٹ کام نے انجام دیا تھا تاکہ لوگوں کو سچائی معلوم ہوسکے۔ ایڈیٹر انرودھ کو جب پتہ چلا کہ فتوے بھی بکتے ہیں تو اس کا پردہ فاش کرنے کا خیال آیا۔ اہم عہدوں پر فائز مفتیوں نے پیسے لے کر جو فتوے جاری کئے ہیں ان کے مطابق میاں بیوی کا ڈبل بیڈ پر سونا، ساتھ ٹی۔وی یا فلم دیکھنا حرام ہے، مسلم لڑکیوں سے دوستی ناجائز، بینک سے قرض لینا اور کریڈٹ کارڈ کا استعمال غیر اسلامی قرار دیا گیا۔ دارالعلوم دیوبند کے دارالفقی کے صدر قاری عثمان کا کہنا ہے کہ پورے معاملے کی تفتیش کے بعد کے بعد ملوث مفتیوں کو معطل کردیا گیا ہے، تمام پہلووں کا جائزہ لے کر ان کے خلاف کاروائی کی جائے گی، کسی سازش کے نظر آنے پر چینل کے خلاف بھی مقدمہ کیا جائے گا، بعض فتوے مسلکی تنازعات کو ہوا دینے کے لئے اور بعض انتقام لینے کے لئے بھی دیے جاتے ہیں۔ جمعیت علمائے ہند کے سیکریٹری مولانا محمود مدنی نے کہا کہ بعض اصلاحات پر غور کیا گیا ہے۔ اس سسٹم میں سختی برتنے کی ضرورت ہے، اب یہ علماءپر ہے کہ وہ کیا اصلاحات کرتے ہیں۔ چینل کے آپریشن پروگرام کو دیکھ کر عوام میں سخت غصہ پایا جاتا ہے، کچھ کے مطابق آج کل کے علماءجدید مسائل سمجھنے سے قاصر ہیں اس لئے وہ الٹی سیدھی حرکتیں کرتے ہیں، ایک خاتون کے مطابق اگر مولوی ہی بک جائیں گے تو پیروکاروں کا کیا ہوگا۔ مختلف فتووں سے ہندوستان کے مسلمانوں کو معاشی و تعلیمی مسائل کا سامنا ہے دوسری جانب مختلف نوعیت کے فتوں سے ان کی سماجی زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

)بحوالہ روزنامہ ”ایکسپریس“ کراچی۔ مورخہ 23ستمبر 2006ء۔ سنیچر(

پیسے لے کر فتوے دینے پر دیوبند کے کئی مفتی معطل

پھر یہ بھی پڑھیں

الحمد للہ یہاں فتویٰ پر فیس نہیں لی جاتی۔ شیخ الاسلام امام احمد رضا خاں حنفی

            (بریلی) 17جنوری 1914ء۔ بہاولپور اسٹیٹ کے چیف کورٹ کے جسٹس دین محمد صاحب نے مبلغ پانچ روپے ۱ فیس کے ساتھ وراثت/ وصیت سے متعلق ایک لاینحل مسئلہ شیخ الاسلام امام احمد رضا حنفی کے پاس دارالعلوم بریلی (منظر اسلام) مدلل و مفصل فیصلے کے لئے بھیجا۔ اس سے قبل جسٹس دین محمد صاحب یہ استفتاءہندوستان کے آٹھ جید علماء(لاہور، بہاولپور، خانپور، دیوبند، سہارنپور، تھانہ بھون وغیرہ) مع ان کی فیس کے بھیج چکے تھے۔ چنانچہ ان آٹھوں علماءکے فتاویٰ مع دیگر تیس کے قریب علماءکی تصدیقات کے ساتھ انہوں نے اس استفتاءکے ساتھ شیخ الاسلام کو بھی بھیجے۔ حضرت شیخ الاسلام نے ان کو ملاحظہ فرماکر تقریباً پچاس صفحات پر مشتمل اس کا مفصل محققانہ جواب جسٹس دین محمد صاحب کو اپنے ایک خط کے ساتھ بھیجا۔ خط کا متن درج ذیل ہے:

            ”الحمد للہ رب العالمین وبہ ثم برسولہ نستعین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم وبارک علیہ وعلیٰ الٰہ وصحبہ اجمعین۔

            الحمدللہ یہاں فتویٰ پر فیس نہیں لی جاتی۔ ان اجری الا علی رب العلمین۔ منی آرڈر واپس کردیا، سوالات اور ان کے متعلق آٹھ فتوے ملاحظہ ہوئے، مفتیوں کے نام نہ لکھنا عجب نہ تھا۔ ایک کے فتویٰ میں دوسرے کا جو ذکر تھا وہ لکھ کر محو کردیا گیا یا بیاض چھوڑی ہے یہاں اس سے کوئی بحث نہیں بعونہ عزوجل تحقیق حق سے کام ہے۔ مگر اتنی گزارش مناسب ہے بحمدہ تعالیٰ یہاں مسائل میں نہ کسی دوست کی رعایت ہے، ہمارے رب عزوعلا نے نہ فرمایا: یا ایھا الذین امنوا کونوا قوامین بالقسط شھداءللہ ولو علی انفسکم۔ نہ کسی مخالف سے ضد اور نفسانیت۔ کیا ہمارے مولیٰ تبارک و تعالیٰ نے نہ فرمایا: لایجرمنکم شنان قوم علی ان لاتعدلوا اعدلوا ھو اقرب للتقوی۔

            مولیٰ سبحانو تعالیٰ کی عنایت پھر مصطفی کی اعانت سے امید واثق ہے کہ لایخافون لومۃ لائم سے بہرہ وافی عطا فرمایا ہے، وللہ الحمد ، اسی بنا پر بہت افسوس کے ساتھ گزارش کہ آٹھوں فتووں میں اصلاً ایک بھی صحیح نہیں، اکثر سراپا غلط ہیں اور بعض مشتمل بر اغلاط۔

(فتاویٰ رضویہ جدید۔ جلد :25، ص:542، مطبوعہ: رضا فاونڈیشن، لاہور)

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s