خشوع و خضوع کی اہمیت

خشوع و خضوع کی اہمیت
آقا و مولٰی صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان عالیشان ہے ،  (اللہ تعالی کی عبادت ایسے کیا کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو، اگر یہ نہ ہوسکے تو کم از کم یہ ضرور یقین رکھو کہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے)۔  (بخاری)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جو شخص اچھی طرح وضو کر کے سب نمازیں وقت پر ادا کرے، خشوع و خضوع سے قیام کرے، رکوع اور سجدہ بھی اطمینان سے کرے اور پوری نماز اچھے طریقے سے تو وہ نماز چمکدار بن جاتی ہے اور اسے یوں دعا دیتی ہے، اے نمازی ! اللہ تیری ایسے ہی حفاظت کرے جیسے تو نے میری حفاظت کی۔ اور جو نماز کو بری طرح ادا کرے یعنی صحیح وضو نہ کرے، رکوع و سجدہ بھی اچھی طرح نہ کرے تو وہ نماز بد دعا دیتی ہے کہ اللہ تجھے ایسا ہی برباد کرے جیسے تو نے مجھے برباد کیا۔ پھر وہ نماز پرانے کپڑے کی طرح لپٹ کر نمازی کے منہ پر ماردی جاتی ہے۔ (طبرانی)
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، بد ترین چور وہ ہے جو نماز میں سے چوری کرے۔ صحابہ کرام نے عرض کی،یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !  وہ نماز میں سے کیسے چوری کرتا ہے؟ فرمایا، وہ رکوع اور سجدے اچھی طرح ادا نہیں کرتا۔ (مسند احمد، طبرانی)
ایک اور حدیث پاک میں پابندی سے سب نمازیں خشوع و خضوع سے ادا کرنے والوں کو مغفرت کی خوشخبری دی گئی۔ (ابو داؤد)
حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ارشاد ہے کہ (خشوع کرنے والے وہ ہیں جو اللہ تعالی سے ڈرتے ہیں نماز سکون سے پڑھتے ہیں)۔
ان احادیث مبارکہ سے معلوم ہوا کہ تمام حقوق آداب کا لحاظ رکھتے ہوئے خشوع و خضوع اور اطمینان و سکون سے نماز ادا کرنی چاہیے۔

Advertisements

One thought on “خشوع و خضوع کی اہمیت

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s