نماز با جماعت کی فضیلت

نماز با جماعت کی فضیلت

 آقا و مولٰی صلی اللہ علیہ وسلم  کا ارشاد گرامی ہے، (با جماعت نماز پڑھنا  اکیلے نماز پڑھنے سے ستائیس (۲۷) درجے زیادہ افضل ہے)۔ (بخاری ، مسلم)
محبوب کبریا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، (میرا دل چاہتا ہے کہ چند جوانوں سے کہوں کہ بہت سا ایندھن جمع کر کے لائیں پھر میں ان کے پاس جاؤں جو بلا عذر گھروں میں نمازیں پڑھتے ہیں اور ان کے گھروں کو جلادوں)۔  (مسلم، ابو داؤد)
نور مجسم صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان عالیشان ہے، (جو اپنے گھر سے طہارت و وضو کر کے فرض نماز ادا کرنے کے لئے مسجد جاتا ہے اسکے ہر ایک قدم پر ایک گناہ معاف ہوتا ہے اور دوسرے قدم پر ایک درجہ بلند ہوتا ہے)۔  (مسلم)
حضور صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا، (جو شخص اذان کی آواز سنے اور بلا عذر نماز کو نہ جائے اور گھر میں پڑھ لے، اس کی وہ نماز قبول نہیں ہوتی)۔  صحابہ نے عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !  عذر سے کیا مراد ہے؟ ارشاد فرمایا، (خوف یا مرض)۔  (ابو داؤد)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے، (اگر نماز با جماعت سے پیچھے رہ جانے والا جانتا کہ اس جانے والے کے لیے کیا اجر ہے تو وہ گھسٹتا ہو احاضر ہوتا)۔  (طبرانی)

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s