طہارت کا بيان

طہارت کا بيان
 آقا و مولي صلی اللہ علیہ وسلم  کا ارشاد گرامي ہے، (جنت کي کنجي نمازہے اور نماز کي کنجي طہارت ہے)  (مسلم)  يہاں طہارت سے مراد يہ ہے کہ نماز کي جگہ اور نمازي کا لباس پاک ہو نيز اس کا جسم حدث اکبر اور حدث اصغر سے پاک ہو يعني نمازي پر غسل واجب نہ ہو اور وہ با وضو ہو۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمايا، (اس گھر ميں رحمت کے فرشتے نہيں آتے جہاں تصوير، کتا  يا حالت جنابت ميں کوئي شخص ہو)۔ (ابو داؤد)
اب پہلے يہ سمجھ ليجئے کہ غسل يا وضو کيسے پاني سے کيا جائے۔
فقہاء فرماتے ہيں کہ پاني بے رنگ، بے بو اور بے ذائقہ يعني قدرتي حالت ميں ہو نيز پاني استعمال شدہ نہ ہو? اگر بدن پر کوئي نجاست نہ لگي ہو تو جو پاني وضو يا غسل کرنے ميں بدن سے گرے وہ پاک ہے مگر اس سے وضو يا غسل جائز نہيں۔ اسي طرح اگر بے وضو شخص کا ہاتھ يا انگلي يا ناخن يا بدن کا وہ حصہ جو دھلا نہ ہو، يا جس پر غسل فرض ہے اسکے جسم کا بے دھلا حصہ پاني ميں پڑ جائے يا پاني سے چھو جائے تو وہ پاني مستعمل ہو گيا، اب اس سے وہ وضو يا غسل نہيں ہوسکتا۔ اس کا پينا اور اس سے آٹا گوندھنا مکروہ ہے البتہ اسے کپڑے دھونے کے ليے استعمال کيا جاسکتا ہے۔
مستعمل پاني کو وضو يا غسل کے ليے استعمال  کے قابل بنانے کا طريقہ يہ ہے کہ اچھا پاني اس سے زيادہ اس ميں ملاديں يا اس ميں اتنا پاني ڈاليں کہ برتن کے کناروں سے بہنے لگے، اب اس پاني سے وضوا يا غسل جائز ہے۔

Advertisements

2 thoughts on “طہارت کا بيان

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s