لطف ان کا عام ہو ہي جائے گا

نعت  شريف
لطف ان کا عام ہو ہي جائے گا

شاد ہر ناکام ہوہي جائے گا
جان دے دو وعدہ ديدار پر
نقد اپنا دام ہوہي جائے گا
ياد رہ جائيں گي يہ بے باکياں
نفس تو تو رام ہوہي جائے گا
بے نشانوں کا نشا مٹتا نہيں!
مٹتے مٹتے نام ہوہي جائے گا
ياد گيسو ذکر حق ہے آہ کر
دل ميں پيدا لام ہوہي جائے گا
ايک دن آواز بدليں گے يہ ساز
چہچہا کہرام ہوہي جائے گا
سائلو دامن سخي کا تھام لو
کچھ نہ کچھ انعام ہوہي جائے گا
ياد ابرو کر کے تڑپو بلبلو
ٹکڑے ٹکڑے دام ہوہي جائے گا
مفلسو ان کي گلي ميں جا پڑو
باغ خلد اکرام ہوہي جائے گا
گريوں ہي رحمت کي تاويليں رہيں
مدح ہرالزام ہوہي جائے گا
بادہ خواري کا سماں بندھنے تو دو
شيخ درد آشام ہوہي جائے گا
غم تو ان کو بھول کر لپٹا ہے يوں
جيسے اپنا کام ہوہي جائے گا
مٹ کہ گريوں ہي رہا قرض حيات
جان کا نيلام ہوہي جائے گا
عاقلو ان کي نظر سيدھي رہے
بوروں کا بھي کام ہوہي جائے گا
اب تو لائي شفاعت عفو پر
بڑھتے بڑھتے عام ہوہي جائے گا
اے رضا ہر کام کا اک وقت ہے
دل کو بھي آرام ہوہي جائے گا

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s