جھگڑا

جھگڑا
 یہ لفظ اپنے اندر کم سختی رکھتا ہے ، جب کہا جاتا ہے کہ فلاں‌جگہ جھگڑا ہوا تو ذہن میں اول اول یہی آتا ہے کہ گفتگو میں سختی آگئی اور لڑائی کے لفظ میں زخم کا تصور ابھرتا ہے ، جھگڑا کی انتہائی صورت قتل ہے ، جھگڑے کا آغاز ناپسندیدگی سے ہوتا ہے ، کسی کی بات پسند نہ آئی یا عمل پسند نہ آیا ۔۔۔ نفرت پیدا ہوئی اور جھگڑے کی شروعات لوگ کہتے ہیں کہ لڑائی کی تین وجوہات ہیں‌۔
 زن ، زر، زمین
 میں کہتا ہوں کہ دو وجوھات ہیں
 ‌EGO اور حرص ۔
 آپ اگر غور فرمائیں تو مندرجہ بالا تینوں میں بھی حرص مشترک ہے ۔ ایک آدمی کے من میں خواہش پیدا ہوئی کہ فلاں عورت بڑی خوبصورت ہے ، کاش کہ وہ میرے قبضے میں ہوتی تو اس حرص نے اس کو ہر حربہ استعمال کرنے پر مجبور کیا ۔
 ایک صاحب نے لوگوں کو دیکھا کہ بڑی بڑی کوٹھیوں میں رہتے ہیں کاریں ہیں‌۔ بینک بیلنس ہے اس کے دل میں‌حرص پیدا ہوئی کاش یہ سب کچھ میرے پاس آجائے ۔۔۔ یہ حرص‌شدید ہوجائے تو وہ کوشاں‌ہوجاتا ہے۔
 پرانے زمانے میں امیر آدمی وہ گنا جاتا تھا جو بہت زیادہ زمینوں کا مالک ہوتا تھا ، جس کی زمین زیادہ ہوتی تھی وہ پورے گائوں کا مالک ہوتا ، اب کسی نے جاگیردار کی ٹھاٹھ باٹھ دیکھی تو زیادہ زمین کا مالک بننے کی حرص پیداہوئی ، یہ طمع حرص آدمی کو لڑاتی ہے اور بات قتل تک پہنچ جاتی ہے ، آپ اپنی چادر سے باہر پائوں‌کیوں‌نکالتے ہیں ؟‌ اپنی چادر میں ہی رکھیں‌دوسرے کی چادر لینے کی کوشش نہ کریں‌۔ حدود کے اندر رہتے ہوئے چیز کا حصول ثواب ہے ، حدود سے تجاوز ہی عذاب ہے ۔
 آپ کو عورت اچھی لگی اس کے ماں باپ سے مہذب طریقے سے مانگیے ، یہ ثواب ہے ، جبر سے لینا چاہوگے تو لڑائی کا آغاز ہوگا ۔
 آپ کاروبار کریں مال کمائیں‌مناسب منافع پہ بیچیں‌اور زر حاصل کریں‌، یہ تو ثواب ہے اگر چھین کر لیں چھپا کر لیں تو عذاب ہے ۔
 کوئی زمین بیچتا ہے تو خرید لیجیے لیکن قبضہ کروگے تو لڑائی کا آغاز ہوگا ۔
 یہ تھانے ، عدالتیں‌، حوالات حرص کی پیداوار ہیں‌آج انسان حرص چھوڑ دے صبر شروع کرے قناعت اپنالے وکلاء ختم ہوجائیں‌، ڈاکٹر کی ضرورت نہ رہے ، عدالتیں‌سنسان ہوجائیں اور حوالات خالی ہوں ۔
 ایک وجہ ( ای جی او ) ہے انسان اپنی ہر بات کو درست سمجھتا ہے خواہ وہ غلط ہی کیوں‌نہ ہو۔ یہ ‌( ای جی او ) ہی ہے یعنی جس نے شیطان کو ذلیل کرکے رکھ دیا اور اللہ تعالٰی کا نافرمان بنایا ۔ ( ای جی او ) اور حرص کی بناء پر لڑائیاں تو ہوتی ہی رہیں‌گی ، اب سوچنا یہ ہے کہ ختم کس طرح کی جائیں ؟‌پہلا حل تو یہ ہے کہ انسان کے اندر لڑنے کا جو جذبہ موجود ہے اس کا صحیح رخ تعین کیا جائے اور( ای جی او ) کا حل یہ ہے جب بھی کوئی بات ہو سامنے صرف خدا کی ذات ہو ، یعنی یہ نہ سوچیے اور دیکھیے کہ میرے حق میں ہے کہ نہیں بلکہ یہ دیکھیے کہ اس مقام پر خدا اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم کیا کہتا ہے ، اگر وہ آدمی اپنی ( ای جی او ) اللہ تعالٰی کی رضا کو بنالے تو پھر لڑائی ختم ہو جاتی ہے ۔
 باقی رہ گیا ، حرص و طمع ، اس کا سدباب یوں ہوسکتا ہے کہ طمع کرو اشاعت اسلام کا اور رسول نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت بڑھانے کا ۔ دوسرے مسلمانوں سے نیکی میں بڑھنے کا آدمی کو غصہ آنا چاہئے غصہ آنا ضروری ہے ، یہ بھی اللہ کی نعمت ہے لیکن غصہ تب آنا چاہیے جب دین کا نقصان ہورہا ہو ، اگر آپ کو غصہ نہ آتا ہوگا تو آپ دوسرے کو برائی سے کیسے روکیں گے ؟‌ بدمعاش کو کیسے ٹوکیں گے ؟  غصہ کرو برائی کے ظاہر ہونے پہ برائی کو روکنے کے لئے ۔۔۔۔
 لڑنا انسان کی فطرت ہے ، اسے اللہ نے ختم نہیں کیا بلکہ رخ‌متعین کردیا اور فرمایا ::: اللہ کی راہ میں‌لڑو ، شیطان سے لڑو ، نفس امارہ سے لڑو کیونکہ اسلام کے اندر لڑنے کا مقصد لڑائی کو ختم کرنا اور امن قائم کرنا ہے لڑائی کو ختم کرنے کا طریقہ
 C.C.Colton سے سنیے ::
 Two things well considered , would prevent many quarrelas, first to have it well ascer tained whether we are not disputing about terms rather than things, and secondly , to examine whether than on which we differ is worth contending about.
پہلا قتل حرص کی بناء پر ہوا ، قابیل کے من میں‌حرص پیدا ہوئی کہ خوبصورت عورت میں لوں‌اور بھائی کو ماردیا اور فرشتوں نے جو ہماری خامی بیان کی تھی وہ بھی یہی تھی کہ قتل و غارت کرے گا ۔ یہاں ایک نکتہ عرض کرتا جائوں‌، حضرت آدم علیہ السلام کےتذکرہ میں‌فرشتوں نے کہا کہ یہ قتل و غارت کرے گا اور جنگ بدر میں‌پانچ ہزار فرشتے مسلمانوں‌کی خاطر قتا ل کرنے آئے ۔
 آپ عورت کی خاطر ضرور لڑیں مگر وہ عورت آپ کی بہن ہو ، ماں ہو م بیٹی ہو ایک معشوقہ کے لیے ۔۔۔۔
 لڑو ملک و قوم کی بچیوں‌کی عزت کی خاطر ، ملک و قوم کی بیٹیوں‌کی عزت بچانے کے لیے لڑوگے تو ہیرو کہلائوگے عزت لوٹنے کے لیے لڑوگے تو زیرو کہلائوگے ۔
 آپ زمین کی خاطر لڑنا چاہتے ہیں ضرور لڑیئے مگر چند مرلوں کے لیے نہیں‌بلکہ سرزمین پاکستان کے لیے ، کفار سے لڑیے جنت کے حصول کے لیے ، جنت تو ہے ہی تلواروں‌کے سائے تلے ۔
 دولت کے لئے لڑنا چاہتے ہیں‌کہ آپ کو زیادہ دولت ملے تو دولت ایمان کے لیے لڑیے ۔
 زندگی میں صبر بہت ضروری ہے ، حرص جھگڑوں‌کی چابی ہے ، صبر تالا ہے ، جھگڑالو پریشان رہتا ہے اسے آئے دن پریشانیوں‌کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔
 Gay Fables کہتا ہے ::
 Those who in quarrels interpose , most often wipe a BLOODY nose.
جو جھگڑا میں پڑتا ہے وہ اکثر خونی ناک صاف کرتا ہے اور جھگڑا میں سچ بالکل غائب ہوجاتا ہے ۔
 Syorus کہتا ہے ::
 In quarreling the truth is always lost.

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s