گھریلو قتل

گھریلو قتل
 اس سے مراد وہ قتل لے رہا ہوں‌جو میاں‌بیوی کہ وجہ سے ہوتے ہیں ، ان کے آغاز معمولی سی بات سے ہوتا ہے ، بات طلاق اور قتل تک پہنچ جاتی ہے ، میاں‌بیوی میں‌جھگڑا عموماََ تین ماہ بعد شروع ہوجاتا ہے ، کیونکہ چیز پر مکمل قبضہ ہوجائے اور پوشیدہ کچھ نہ رہے تو ذہن میں کشش ختم ہوجاتی ہے ، عورت سمجھتی ہے شاید یہ توجہ نہیں دے رہا کسی اور طرف متوجہ ہوگیا ہے ، اس عورت نے کوئی بات کی اور خاوند صاحب گھوڑے چڑھ گئے اور بیوی کو پانچ سات سنادیں ، بیوی عقلمند ہو تو خاموش ہوجاتی ہے ، اگر بیوقوف ہو تو بات بڑھ جاتی ہے ، جب بحث و مباحثہ ہورہاہو تو ہر فریق کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ کوئی ایسی بات کروں‌کہ اگلا چپ ہوجائے اور یہ بات ایسی ہوتی ہے جو اگلے کو بچھاڑ کر رکھ دیتی ہے ، بس میاں‌بیوی میں سے کوئی ایسا جملہ بول دیتا ہے جس سے اگلا تڑپ کر رہ جاتا ہے ، اسے یہ یاد رہتا ہے پھر کبھی جھگڑا ہو تو تکار شروع ہوگئی ، پچھلی باتیں بھی مل گئیں ، اب زیادہ دیر جھگڑا رہا دونوں میں سے کسی نے ہار نہ مانی یہ جھگڑا طلاق پر ختم ہوگیا اگر آپ کا خاوند کسی اور عورت میں دلچسپی لے رہا ہے تو ایک بات اور یاد رکھیے آپ کے طنز بھرے جملے اور نفرت اور ناراضگی اُس عورت کو آپ کے خاوند کی محبوبہ بنادےگی ، وہ زیادہ دلچسپی لے گا ، آپ کا گھر اجڑ جائے گا ، اس کا بس جائے گا یہ عقلمندی نہیں ہے ۔
 اگر آپ کو شک ہوگیا ہے تو محبت میں اضافہ کیجیے اسے محسوس ہی نہ ہونے دیجیے وہ آپ کا زیادہ دیوانہ ہوجائے گا کیونکہ وہ خود سمجھتا ہے کہ میں کیا جرم کررہا ہوں‌، یہ احساس اس کے اندر سے روزانہ تنگ کرتا ہے آخر کار کب تک کوئی لڑے گا ، آپ کا خاوند اسے چھوڑ دیگا اور آپ کے قدموں میں آگرےگا، اگر آپ نے لڑنا شروع کردیا ، طنز بھرے جملے پکڑلیے اسے ذہنی طور پر جواب مل جائے گا میری بیوی اچھی نہیں ہے ،
کچھ لوگ بیوی سے اس لیے لڑتے ہیں کہ وہ سامان کم لیکر آئی ہے یہ لوگ انتہائی کمینے لوگ ہوتے ہیں ، زیادہ تر یہ جھگڑا ساس پیدا کرتی ہے وہ کسی اور کو گھر لانا چاہتی ہے سامان کا لالچ میں اسے پھر ہٹاتی ہے کئی ایسی ظالم ساسیں ہیں جو بہو کو جلادیتی ہیں‌، اسلام آباد کے اندر ایک کیس ہوا تھا ، ماں اور بیٹے نے ملکر عورت کو جلایا ، وہ بیچاری خاوند کی پیچھے بھاگتی رہی جان بچانے کے لیے اس نے جلتے ہوئی خاوند کی کلائی بھی پکڑی مگر اس ظالم نے زور سے دھکا دیا صحن کے درمیان دن کو جل کر مر گئی ، ان جھگڑوں ‌میں حرص‌کار فرما ہوتی ہے ، بیوی دوسرے مرد کی حرص کرتی ہے ، خاوند دوسری عورت کی خواہش کرتا ہے اور جھگڑا شروع ہوجاتا ہے ، بعض اوقات تو عورتیں خاوند کو اپنے آشنا کے ذریعے قتل کروادیتی ہیں‌۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s