باپ

باپ
 يہ تين حرفي لفظ ہے ، يہ تين حرف نہ ہوں تو بچے کے ليے ايک حرف سيکھنا مشکل ہوجاتا ہے ، يہي ہستي اُسے حرف سے آشنا کرتي ہے تاکہ اس کي زندگي پر حرف نہ آئے ، پھر وہ حرف شناس بن جاتا ہے ، باپ نہ ہو وہ حرف ناشنوا بن جائے، حرف گيري اور حرف اندازي سے يہي بچاتا ہے ، يہ تين حرف نہ ہوں تو تم سے حرف نہ اٹھ سکے اور حرف و حکايت خوبصورت نہ ہو تو حرف آتا ہے ، ان تين حرفوں کي عزت کرو ، ورنہ تم حرف نِدبہ بن جائوگے ، لفظ ماں اور باپ کے تين تين حرف ہيں مگر بچہ ايک حرف آگے ہي ہوتا ہے ،
 ب + چ+چ+ہ –بچہ
باپ گھر کی عمارت کا دروازہ ہے ،
 باپ گھر کی عمارت کا ستون ہے ،
 باپ گھر کی عمارت کا چھت ہے ،
 دروازہ نہ تو گھر میں کتے اور چور داخل ہوجاتے ہیں ،
 چھت نہ ہو تو گھر بدلتے موسم کا مقابلہ نہیں کرسکتا ،
 ستون نہ ہوتو چھت گرنے کا خطرہ ہوتا ہے ،
 ہر زندہ شے کا باپ ہوتا ہے ، اللہ تعالٰی فرماتا ہے خَلَقَ کُل شیئ زَوجَین یعنی ہر شے کا ( نر ومادہ ) جوڑا بنایا ۔ یعنی پودوں‌کے بھی نرومادہ ہوتے ہیں‌اور پھل پھول ان کے ملاپ سے ہی لگتے ہیں‌اور جانوروں‌کے تو ماں باپ ہوتے ہی ہیں ،
 میں‌کہنا یہ چاہتا ہوں کہ پرندوں‌، درندوں ، خزندوں ، چرندوں اور انسانوں میں سے ہر ایک بچے کا باپ ہوتا ہے ، لیکن واحد انسان کا باپ ہے جو ان سب میں سے زیادہ عرصہ تک اپنے بچے کی دیکھ بھال کرتا ہے بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ مرتے دم تک ۔ انسانوں کے علاوہ دوسری مخلوق میں سے کچھ تو پیدائش سے پہلے ہی دور ہوجاتے ہیں ، کچھ ، کچھ عرصہ ساتھ رہتے ہیں جونہی وہ اڑنے یا چلنے کے قابل ہوئے تو یہ چھوڑ دیتے ہیں‌، اب ان کا اولاد سے کوئی سروکار نہیں ، لیکن انسان کا باپ جب تک مر نہیں جاتا ، اولاد ہی کا خیال رکھتا ہے جب تک باپ زندہ ہے اولاد کا سکھ سہتا ہے ، باپ ہوم اسٹیٹ کا صدر بھی ہوتا ہے اور وزیرخزانہ بھی ،  جس کی جیپ سے بیوی اور بچوں کا خرچہ چلتا ہے اس لئے فرانسیسی کہاوت ہے ۔
 A father is a banker provided by nature
باپ سورج کی مانند ہے ، سورج گرم تو ہوتا ہے مگر نہ یو تو اندھیرا چھا جاتا ہے ، فصلیں‌کچی رہ جاتی ہیں ، باپ کےمر جانے سے بھی گھر مشکلات کے اندھیرے میں گھر جاتا ہے ، باپ کی سختی صرف بچوں کو پختہ کرنے کے لیے ہوتی ہے ، یہ اللہ تعالٰی کا بڑا شکر ہے کہ اس نے ماں باپ میں سے اکثر باپ کو سخت طبیعت کا بنایا اگر ایسا نہ ہوتا تو بچے بے خوف و خطر شیطان کے پھندے میں پھنس جاتے ، ماں کو چاند کی طرح ٹھنڈا اور باپ کو سورج کی طرح گرم ۔ جس طرح ہماری زمین کا ایک ہی سورج ایک ہی چاند ہے اسی طرح‌ہم سے ہر بچے کا ایک ہی حقیقی باپ ہے اور ایک ہی حقیقی ماں ہے ، ماں چاند ہے تو باپ سورج ، یہ بات تو آپ جانتے ہی ہیں چاند سورج سے ہی روشنی لیتا ہے ، ماں جنت ہے تو باپ دروازہ ، ماں‌جنم دیتی ہے تو باپ زندگی دیتا ہے ، ماں چلنا سیکھاتی ہے تو باپ دوڑنا سیکھاتا ہے ، ماں کھڑا ہونا سیکھاتی ہے تو باپ کھڑا رہنا سیکھاتا ہے ، ماں بچے کی حفاظت کرتی ہے تو باپ دونوں کی حفاظت کرتا ہے ، ماں گھر سجاتی ہے تو باپ بناتا ہے ، ماں کی گود مدرسہ ہے تو باپ عمارت ہے ، ماں استاد ہے تو باپ ہیڈ ماسٹر ہے ، ماں کے قدموں تلے جنت ہے تو باپ ہی اسے جنت دیتا ہے ۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s