سعودی عرب کا واقعہ

سعودی عرب کا واقعہ
 22 نومبر 1998 کی بات ہے میں عمرہ کے لیے گیا ، 10 دسمبر کو جدہ میں اپنے دوست انور کے پاس ٹھرا ، وہاں بیٹھے ہوئے ایک دوست نے ایک قتل کی روئیداد سنائی ، آپ بھی ملاحظہ فرمائیں ۔
 ایک آدمی نے پاکستان شادی کی وہ بیوی کو اور اس کی ایک پہلے سے بیٹی کو بھی سعودی عرب لایا کافی عرصہ تو وہ ٹھیک رہی اس کی بچی بھی جوان ہوگئی ، خاوند کام پہ چلا جاتا یہ پیچھے اکیلی ہوتی تھی اس کے محلہ کے ایک آدمی سے تعلقات ہوگئے وہ خاوند کی عدم موجودگی میں آجاتا ، بات ہوا کے دوش پہ سوار ہوگئی اور محلے میں پھیل گئی اور خاوند تک پہنچ گئی ، اس نے بیوی سے بات کی ، بیوی نے سمجھداری سے کام لیا خاموش ہوگئی ، جب وہ کام پر چلا گیا تو اس نے اپنے آشنا سے کہا کہ میرے خاوند کو پتہ چل گیا ہے اب کیا کریں کہیں واپس نہ بھیج دے ، طلاق نہ دےدے پھر میں کیا کروں گی ، آشنا نے مشورہ دیا خاوند کو قتل کردو اور تم میرے ساتھ رہنا اس ظالم ماں بیٹی نے نشہ آور شے پلائی بعد میں ذبح کردیا ، سر کاٹ کے علیحدہ کیا اور مسخ کیا اور باقی اعضاء کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کرکے بڑے بڑے کالے شاپرز بیگ میں پیک کیا اور جاکر رات کو ان ڈبوں میں ڈال دیا جو سڑکوں اور محلوں میں گند ڈالنے کے لیے پڑے ہوتے ہیں ، صبح گاڑی آئی آٹومیٹک طریقے سے لوہے کا ڈبہ اُٹھایا اور الٹایا اور گاڑی گند لیکر چل پڑی ۔
 ان ماں‌بیٹی نے قتل کرنے سے ایک ہفتہ پہلے ہی مشہور کردیا تھا کہ ہم پاکستان جارہے ہیں‌، شہر سے دور شہر کا تمام گند گاڑیاں پھینک کر چلی جاتی ہیں‌، شیول مشین اٹھاکر ایک جگہ اکٹھا کرتی ہے اور بعد میں‌آگ لگادی جاتی ہے جب وہ اٹھانے لگی تو بلیڈ لگا اور شاپر پھٹ گیا اس نے جب کچرا اوپر اٹھایا تو سر لڑھکتا ہوا نیچے گرا اس نے مشین روک کر پولیس کو اطلاع دی پولیس آئی انہوں نے اس سے ملتے جلتے تمام شاپرز بیگ دیکھے اور پولیس ان کے گھر پہنچ گئی ، آپ حیران ہونگے پولیس صحیح پتے پر کیسے پہنچے ؟
وہ اس طرح کہ مقتول نے قتل سے ایک ماہ پہلے نیا ٹی وی خریدا تھا اس کے گتے پر اس کا نام و پتہ لکھا ہوا تھا ، وہ بھی عورت نے شاپر میں ڈال دیا ، وہ پتہ پڑھ کر پولیس پہنچی ، محلہ والوں سے پوچھا کہ اس نام کا آدمی ادھر ہے محلہ والوں نے بتایا کہ وہ پاکستان چلے گئے ہیں ، پولیس نے کیس فائل کردی  ، کافی عرصہ بعد جب مقتول کی کوئی اطلاع پاکستان نہ پہنچی تو پاکستان والوں‌نے فیکٹری سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا یہ بندہ تو پاکستان جا چکا ہے گھر والوں نے کہا وہ ادھر تو نہیں آیا ، پولیس نے پھر تفتیش شروع کردی ، آشنا کو معلوم ہوگیا کہ پولیس کبھی نہ کبھی ہم تک پہنچنے والی ہے اس نے ٹکٹ لی اور پاکستان فرار ہوگیا ، پولیس تفتیش کرتے کرتے وہاں‌تک پہنچ گئی ماں بیٹی نے اقرار جرم کرلیا گرفتار ہوئے عدالت نے سرقلم کرنے کا حکم دےدیا لیکن قاضی نے کہا بیٹی تمہاری جوان ہے ہم تو دونوں کو قتل کردیں گیں اگر چاہو تو بیٹی کو بچاسکتی ہو قتل اپنے سر لےلو ، چنانچہ ماں نے تمام جرم اپنے سرلیا ماں کا سر کاٹ دیاگیا اور بیٹی کو پاکستان سفارت خانے کے حوالے کردیا۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s