پھولوں کی آہ

پھولوں کی آہ

میں ایک روز ڈان کو باغ چلا گیا ، ہر پھول رویا تھا اور ہر ایک کا چہرہ آنسوئوں سے تر تھا ۔۔۔ میں صبح پہنچا لگتا یوں تھا کہ رات بھر روئے ہیں سوئے نہیں ، میں نے پوچھا کیا ہوا ؟ کیوں روتے ہو ؟‌۔۔۔ ایک پھول نے وجہ بتائی ، پرسوں کی بات ہے میں نے ابھی پوری آنکھ بھی نہ کھولی تھی ، ایک انسان آیا اس کے ہاتھ میں قینچی تھی اس نے میرے سامنے تمام پھولوں کی گردنیں کاٹیں اور ٹوکری میں لےگیا، ہمیں نہیں معلوم ہمارے ساتھیوں کو کدھر لےگیا ۔۔۔ ہم ان کے متعلق جاننا چاہتے تھے ۔ کل شام کی بات ہے چند پھولوں کی روح (خوشبو) کا ادھر سے گزر ہوا ۔۔۔ میں نے اُن کو روک لیا ۔۔ ان سے پوچھنے لگا ۔۔۔ ایک نے بتایا کہ ہم سب کو وہ پھولوں کی منڈی میں لےگیا اور وہاں ہمارے اور بھائی بھی موجود تھے مختلف علاقوں سے قید کرکے لائے گئے اور سب کو مختلف ٹوکریوں میں پیک کرکے مختلف علاقوں میں بھیجا جارہا تھا ۔۔ اور میں ان پھولوں میں شامل تھا جنہیں ایک آدمی خرید کر قبرستان لےگیا ، وہاں‌پکی دکانیں بھی تھیں اور پھٹے بھی تھے جن پہ رکھ کر ہمیں بیچا جاتا تھا ۔۔۔ بس کچھ نہ پوچھو ۔۔۔ دکاندار نے ہمیں ٹوکری سے نکالا اور ایک بڑی سوئی گردن میں پرو کردی ہماری آہ و بکا بلند ہوگئی مگر قبرستان میں کون سنتا سب مُردے تھے ، اس ظالم نے مجھے اور میرے چند ساتھیوں‌کے گلے میں دھاگہ ڈالا اور ہمیں لٹکایا ۔۔۔۔
 یہ منظر ناقابل برداشت تھا کئی پھول تو اس تکلیف سے پتی پتی ہوگئے ۔۔۔ آیک آدمی آیا اس نے کچھ کاغذ کے ٹکڑوں کے عوض ہمیں خریدا اور اندر لے گیا اور جاکر ایک قبر پہ ڈال دیا ہم مظلوموں سے ہمدردی کرنے کے بجائے وہ ہمیں ایک مُردے کے پاس چھوڑ گیا وہ تھوڑی دیر کے بعد چلا گیا ۔۔۔
پھر کیا ہوا ۔۔۔۔
 کیا ہونا تھا ۔۔۔
آہ ۔۔۔اور کیا ؟

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s