اذان کا بيان

اذان کا بيان
سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان عاليشان ہے، (اذان دينے والوں کي گردنيں قيامت کے دن سب سے زيادہ دراز ہوں گي)۔  (مسلم)  يعني وہ رحمت الہي سے زيادہ اميد وار اور ثواب کے زيادہ مستحق ہوں گے۔
نبي کريم صلی اللہ علیہ وسلم  کا ارشاد گرامي ہے، (جو سات برس ثواب کے ليے اذان کہے، اللہ تعالي اسے جہنم کي آگ سے محفوظ رکھتا ہے)  (ترمذي ، ابن ماجہ)
آقا و مولي صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمايا، (جو اذان دينے والا محض ثواب کا طالب ہو وہ اس شہيد کي مثل ہے جو خون ميں آلودہ ہے اور جب وہ مرے گا قبر ميں اس کا بدن کيڑے سے محفوظ رہے گا۔  (بہار شريعت بحوالہ طبراني)
مسجد ميں باجماعت پانچوں فرض نمازوں کي وقت پر ادائيگي کي ليے اذان سنت موکدہ ہے اور اس کا حکم واجب کي مثل ہے کہ اگر اذان نہ کہي تو وہاں کے سب لوگ گناہگار ہونگے۔ بے وضو اذان کہنا مکروہ ہے۔ ہر فرض نماز کے ليے اذان اس نماز کا وقت شروع ہونے کے بعد کہي جاسکتي ہے۔ جو اذان وقت سے قبل کہي گئي اسے وقت پر لوٹا ناچاہيے۔
شريعت ميں اذان ايک خاص قسم کا اعلان ہے جس کے ليے يہ الفاظ مقرر ہيں۔
   اللہ اکبر  اللہ اکبر     ۔    اللہ اکبر  اللہ اکبر
    اشھد ان لا الہ الا اللہ   ۔ اشھد ان لا الہ الا اللہ
        اشہد ان  محمد ارسول اللہ   اشہد ان  محمد ارسول اللہ
حي علي الصلوہ                  حي علي الصلوہ
    حي علي  الفلاح           حي علي  الفلاح
اللہ اکبر  اللہ اکبر           لا الہ الا اللہ
ترجمہ۔  (اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے۔ ميں گواہي ديتا ہوں  کہ اللہ کے سوا کوئي معبود نہيں،ميں گواہي ديتا ہوں  کہ اللہ کے سوا کوئي معبود نہيں۔  ميں گواہي ديتا ہوں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہيں، ميں گواہي ديتا ہوں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم  اللہ کے رسول ہيں  آؤ نماز کي طرف،آؤ نماز کي طرف،آؤکاميابي کي طرف،آؤکاميابي کي طرف،  اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ تعالي کے سوا کوئي عبادت کے لائق نہيں)۔
اذان اور اقامت دونوں ميں (حي علي الصلوہ)  کہتے وقت دائيں اور  (حي علي الفلاح)  کہتے وقت بائيں طرف منہ کرنا چاہيے۔  اذان سن کر اسکا جواب دينے کا حکم ہے يعني جو کلمہ موذن کہے سننے والا وہي کلمہ کہے مگر حي علي الصلوہ حي علي الفلاح کے جواب ميں  (لا حول ولا قوہ الا باللہ )  کہے۔
فجر کي اذان ميں حي علي الفلاح کے بعد دو مرتبہ يہ کہا جائے۔
الصلوہ خير من النوم
(نماز نيند سے بہتر ہے)۔  اس کے جواب ميں يہ کہيں۔ (صدقت و بررت وبالحق نطقت)، ترجمہ (تم نے سچ کہا اور اچھا کام کيا اور تم نے حق کہا ہے)۔
جب اذان ہو تو اتني دير کے ليے سلام و کلام اور تلاوت وغيرہ تمام اشغال موقوف کردے، اذان کو غور سے سنے اور جواب دے، اقامت کا بھي يہي حکم ہے۔ جو اذان کے وقت باتوں ميں مشغول رہے اس پر معاذ اللہ خاتمہ برا ہونے کا خوف ہے۔
جب موذن (اشھد ان محمد ارسول اللہ)۔  کہے تو  سننے والا درود شريف پڑھے، (صلي اللہ عليک يا رسول اللہ)  اور مستحب ہے کہ اپنے انگوٹھوں  کو بوسہ دے کر آنکھوں سے لگائے اور يہ پڑھے، (قرہ عيني بک يا رسول اللہ،  اللھم متعني  بالسمع والبصر )۔  ايسا کرنے والے کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھ جنت ميں لے جائيں گے۔
جماعت کے وقت جو کلمات کہے جاتے ہيں انہيں اقامت کہتے ہيں، يہ اذان کي مثل ہے سوائے اس کے کہ اقامت ميں حي علي الفلاح کے بعد دو مرتبہ يہ بھي کہا جاتا ہے،  (قد قا مت الصلوہ)،
(نماز کے ليے جماعت کھڑي ہوگئي)،  اسکے جواب ميں يہ کہاجائے۔  (افامھا اللہ واذا مھا ما دامت السموت  والارض)۔   (اللہ اس کو  قائم رکھے اور ہميشہ رکھے جب تک آسمان اور زمين قائم ہيں)۔
اقامت کے وقت کوئي شخص آيا تو اسے کھڑا ہو کر انتظار کرنا مکروہ ہے، اسے چاہيے کہ بيٹھ جائے اور جب مکبر حي علي الفلاح پر پہنچے اس وقت کھڑا ہو، يونہي جو لوگ مسجدميں بيٹھے ہيں وہ بھي بيٹھے رہيں اور اس وقت کھڑے ہوں جب مکبر حي علي الفلاح پر پہنچے،  يہي حکم امام کے ليے ہے۔
اگر چند اذانيں سنے تو سننے والے کو پہلے اذان کا جواب دينا چاہيے اور بہتر ہے کہ سب کا جواب ديديا جائے، خطبہ کي اذان کا جواب زبان سے دينا مقتديوں کو جائز نہيں، اذان کے بعد درود شريف پڑھ کر يہ دعا پڑھني چاہيے۔
اللھم رب ھذہ الدعوہ التامہ
والصلوۃ القائمہ آت سيدنا محمد
الوسيلہ والفضيلہ والدرجہ الرفيعہ و
البعثہ مقاما محمو د الذي وعدتہ وارزقنا
شفاعتہ يوم القيتہ  انک لا تخلف الميعاد،
(اے اللہ ! اے اس دعوت کامل اور قائم ہونے والي نماز کے مالک! تو ہمارے سردار حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو وسليہ، فضيلت اور بلند درجہ عطا کر اور ان کو اس مقام محمود پر فائز فرما جس کا تو نے ان سے وعدہ فرمايا ہے، اور ہميں قيامت ميں ان کي شفاعت عطا فرما، بيشک تو اپنے وعدے کے خلاف نہيں کرتا)۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s