تقلید امام اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ

تقلید امام اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ
تحریر۔ ڈاکٹر الطاف حسین سعیدی ۔ ایم بی بی ایس
دین اسلام میں فقہی مذاہب

اﷲ تعالیٰ نےسورۃ فاتحہ میں ہمیں سکھایا ہےکہ مجھ سےصراطِ مستقیم پر چلنےکی دعا مانگو، پھر ساتھ ہی وضاحت بھی کردی کہ انعام یافتہ لوگوں کی راہ ہی صراط مستقیم ہی، سیدھی راہ ہی، انعام یافتہ لوگوں کی فہرست بھی بتا دی گئی کہ وہ انبیائ، صدیقین، شہداءاور صالحین ہیں (سورۃ النسائ، آیت٩٦) ، سابقہ انبیاءکرام علیہم السلام کےجو مسائل منسوخ ہوئےاُن کےسوا باقی مسائل صراط مستقیم ٹھہری، مگر صدیقین، شہداءاور صالحین میں بھی ایسےمسائل میں اختلاف واقع ہوا ہےجن میں بظاہر نص نہیں ملتی یا جن میں نصوص بظاہر مختلف ہیں اور ایسےمسائل میں وہ ادلہ شرعیہ کی راشنی میں پوری دماغی محنت وجُہد سےمسئلےکےحل میں استنباط و اجتہاد کرتےہیں اور مسائل اخذ کرتےہیں، والذین جاھدوا فینا لنھدینھم سبلنا (سورۃ عنکبوت، آخری آیت) یعنی اور جنہوں نےہماری ہماری راہ میں کوشش کی ضرور ہم انہیں اپنی راہ دکھائیں گی، یعنی اگر صراط مستقیم ایک چوڑی سڑک ہےتو یہ اجتہادی سبیلیں اُس کےاجزاءہیں، عرف عام میں کل کو دین اور اس کےہر جز و کو مذہب کہا جاتا ہی، اجتہاد واستنباط کرنےوالوں کی اس جماعت کو سورۃالنساءکی آیت نمبر ٣٨ میں اولی الامر کہا گیا ہےاور اسی سورۃ کی آیت نمبر٩٥ میں اولی الامر کی اطاعت کا حکم بھی دیا گیا ہی۔
مجتہد واحد کا اتباع
جن مسائل میں قرآن وحدیث بظاہر خاموش ہیں یا بظاہر مختلف ہیں، وہاں غیر مجتہد کےلئےلازم ہےکہ وہ کسی مجتہدِ عادل سےراہ نمائی لےکر عمل کری، یہ مقام اپنی خواہشِ نفس کو راہ نما بنانےکا نہیں ہی، مجتہد عادل ایک ہی پکڑ لیا جائےورنہ پھر وہی پریشان خیالی کا سامنا کرنا پڑےگا، پھرایک مجتہد عادل اگر ایک جگہ بظاہر کمی چھوڑ جاتا ہےتو دوسری جگہ اُسےپورا کردیتا ہی، مثلاً امام مالک کےیہاں نکاح میں گواہ شرط نہیں اور یہ بظاہر بڑی عجیب بات نظر آتی ہےمگر اُنہوں نےنکاح میں دف بجانا شرط قرار دیا ہی، جس سےکئی گواہ خود بخود پیدا ہوجاتےہیں، یہی وجہ ہےکہ قرآن مجید میں ہےواتبع سبیل من اناب اِلیَّ (سورۃ لقمان، آیت نمبر٥١) ”اور اس کی سبیل پر چل جس نےمیری طرف رجوع کیا“ ، گویااجتہادی سُبُل میں سےشخص واحد کی سبیل اختیار کرلی، بشرطیکہ وہ من اناب الی کا مصداق بھی ہو اور تمام اجتہادی یعنی فقہی مسائل میں اس کی مرتب کردہ سبیل بھی ہم تک براہ راست یا بالواسطہ پہنچ رہی ہو، جیسا کہ ائمہ اربعہ کا حال ہی، ائمہ اہل بیت سےایسی کوئی سبیل دستیاب نہیں ہی۔
مجتہد واحد سےمنسلک نہ ہونےوالوں کا حال بتاتےہوئےمولانا ابوالبرکات سید احمد لاہوری رحمۃ اﷲ علیہ نےاپنےرسالہ”عشرہ? کاملہ“ میں ایک حکایت پیش کی ہے:
”دائود ظاہری کےنزدیک تو جورو کی بیٹی حلال ہےجب کہ اپنی گود میں نہ پلی ہو، یوں غیر مقلدہ نےاپنےسوتیلےباپ غیر مقلد سےنکاح کرلیا، پھر دن چڑھےایک دوسرےغیر مقلد صاحب تشریف لائےتو اس نوجوان آفت جان سےفرمایا کہ یہ نکاح باجماع ائمہ اربعہ باطل محض ہوا، تو ہنوز بےشوہر ہےاب مجھ سےنکاح کرلی، غیر مقلدہ بولی کہ ہمارےمذہب کےتو مطابق ہوا ہی، اس پر مولوی صاحب بولےایک ہی مذہب پر جمنا نہ چاہئیی، غیر مقلدہ بولی کہ اچھا مگر نکاح کو تو گواہ درکار ہیں، وہ اس وقت کہاں؟ کہا نادان لڑکی ! مذہب امام مالک میں گواہوں کی حاجت نہیں ، اس پر یہ دوسرا نکاح ہوگیا ، دوپہر کو تیسرےغیر مقلد تشریف لائےاور کہا لڑکی تو اب بھی بےنکاحی ہی، ائمہ ثلاثہ کےنزدیک بےگواہوں کےنکاح نہیں ہوتا، حدیث میں ایسوں کوزانیہ فرمایا گیا ہے، میں دو گواہ لایا ہوں، مجھ سےنکاح کرلی، لڑکی نےکہا میرا ولی موجود نہیں، کہا حنفی مذہب میںجوان عورت کو ولی کی حاجت نہیں، یوں تیسرا نکاح ہوا، تیسرےپر چوتھےغیر مقلد آدھمکےاور لڑکی کو بےشوہر قرار دیا اور کہا امام شافعی کا قول ہےکہ بےولی کےنکاح نہیں ہوتا، تیرا ولی میرےساتھ ہےآ میرےساتھ نکاح کر، لڑکی بولی تم میرےکفو نہیں نسب میں گھٹیا ہو، کہا تیرا ولی راضی ہےاور ولی راضی ہو تو اکثر ائمہ کےنزدیک نکاح منعقد ہو جاتا ہی، الغرض چوتھا نکاح منعقد ہو گیا، دو گھڑی دن رہےپانچویں غیر مقلد صاحب نےآکر فتویٰ دیا تو اب بھی نکاح شرعی سےمحروم ہی، ہمارےبڑےابن عبدالوہاب نجدی، ابن قیم وابن تیمیہ صاحبان حنبلی تھی، حنبلی مذہب میں غیر کفو سےنکاح صحیح نہیں اگرچہ عورت وولی دونوں راضی ہوں، میں تیرا کفو ہوں ، تیرا وصل بنکاح چاہتا ہوں، یوں متلون مزاج غیر مقلد ہ ایک دن میں پانچوں فقہی مذاہب کی آغوش میں باری باری گئی“۔( ملخص بتغیر یسیر)
جہاں نصوص نہ ملیں یا باہم ٹکرائیں وہاں مجتہدین میں اختلاف واقع ہونا فطری بات ہی، عامی کےلئےکسی ایک مجتہد عادل سےوابستہ ہونا ہی پریشان خیالی اور ذ ہنی بےراہ روی سےمحفوظ رکھتا ہی۔
فقیہ ومجتہد کا مقام
قرآن پاک سےکثیر لوگ گمراہی مین پڑتےہیں اور کثیر لوگ اس سےہدایت پاتےہیں(سورۃ بقرہ۔ آیت نمبر٦٢)، یہی وجہ ہےکہ اسےھُدََی للمتقین بتایا گیا ہی، متقین کا دامن چھوڑ کر اس سےہدایت پانا محال ہی، یہی حال حدیث کا ہی، امام سفیان ابن عیینہ رحمۃ اﷲ علیہ کا فرمان ہےکہ الحدیث مضلۃ الا للفقھاء یعنی حدیث سےلوگ گمراہی میں پڑ سکتےہیںسوائےمجتہدین کے، اور مجتہدین کا دامن پکڑ کر ہی حدیث سےہدایت لینا ممکن ہے، مثال کےطور پربخاری شریف میں حدیث ہےجس میں نبی پاک صلی اﷲ علیہ وسلم کا کھڑےہوکر پیشاب فرمانا مروی ہی، عام آدمی جب ترجمہ پڑھتا ہےتو یا تو سنت سمجھ کر معمول بنا لیتا ہے، یا منکرِ حدیث بن جاتا ہےیا پھر فقہاء ومحدثین کی تشریح سےاپنا ایمان بچاتا ہی۔
یوں سمجھیں کہ تقلید چھوڑ کر حدیث پر عمل جب کہ رُتبہ? اجتہاد حاصل نہ ہو، دین میں گمراہی اور مسلمانوں کی راہ سےجدا چلنا ہے، امام بخاری رحمۃ اﷲ علیہ نےفقہ کو حدیث کا پھل قرار دیا ہی، امام ترمذی رحمۃ اﷲ علیہ نےلکھا ہےکہ فقہاءاحادیث کےمعنی سب سےزیادہ جانتےہیں ھم اعلم بمعانی الاحادیث ، تابعی محدّث حضرت سلیمان اعمش رحمۃ اﷲ علیہ نےفقہاءکو معالج اور محدثین کو دوا دینےوالےقرار دیاہی، بخاری شریف میں حدیث موجود ہےکہ اﷲ جس کی خیر کا ارادہ فرماتا ہےاُسےدین میں فقیہ بنا دیتا ہی، صحاح ستہ کےمصنف محدثین جزوی طور پر اجتہادی شان رکھنےکےباوجود مقلد بنےرہی، مگر آج صحاح ستہ کےناقص اُردو ترجمےپڑھنےوالا اس تقلید کو حرام ، بدعت یا شرک سمجھتا ہی۔ والی اﷲ المشتکی
امام اعظم، ابو حنیفہ رحمۃ اﷲ علیہ
آپ کی ولادت ٠٨ھ میں ہوئی(یعنی امام بخاری علیہ الرحمہ کی پیدائش سےایک صدی اور چودہ سال قبل)، حضرت انس رضی اﷲ عنہ (متوفی ٥٩ھ یا ٣٩ھ)، حضرت عبداﷲبن ابی اوفی رضی اﷲ عنہ بلکہ بقول ابن حجر مکی علیہ الرحمہ آٹھ صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کو امام ابوحنیفہ نےپایا ہی، خطیب بغدادی، دار قطنی، ابن جوزی ، نووی، ذہبی، ابن حجر عسقلانی، ابن حجر مکی اور امام سیوطی وغیرہم نےآپ کےتابعی ہونےکی تصریح فرمائی ہی، امام سیوطی شافعی نےرسالہ ”تبییض الصحیفہ “میں وہ روایات درج کی ہیںجو آپ نےبراہ راست صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم سےبیان کی ہیں، امام صاحب کی سند کبھی ایک ، کبھی دو، کبھی تین اور کبھی چار واسطوں سےرسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم تک پہنچتی ہی، امام اعظم نےچار ہزار شیوخ سےحدیث پڑھی، اسی لئےامام ذہبی وغیرہ نےآپ کو حفاظ حدیث کےطبقہ میں ذکر کیا ہی، آپ حافظ قرآن تھےاور ایک رکعت میں رات گزار دیتےاور اس میں سارا قرآن پڑھ جاتی(نووی)، آپ نے٠٥١ھ میں سجدہ کی حالت میں انتقال فرمایا، امام شافعی رحمۃ اﷲ علیہ فرماتےہیںکہ میں امام ابو حنیفہ سےبرکت حاصل کرتا ہوںاور ان کی قبر کےپاس آتا ہوں جب مجھےکوئی حاجت درپیش ہوتی ہی، دو رکعت نماز پڑھتا ہوں اور اﷲ سےدعا مانگتا ہوںاُن کی قبر کےپاس تو حاجت جلد پوری ہوجاتی ہی(شامی)، امام شافعی علیہ الرحمہ کا قول ہےکہ لوگ فقہ میں ابو حنیفہ کےعیال(نمک خوار) ہیں، امام مالک علیہ الرحمہ نےفرمایا ! یہ ابو حنیفہ ہیں عراق والےاگر یہ کہہ دیں کہ یہ ستون سونےکا ہےتو ایسا ہی نکل آئی(صمیری)، امام احمد بن حنبل رحمۃ اﷲ علیہ نےفرمایاکہ علم، ورع، زہد اور ایثار آخرت میں امام ابوحنیفہ کا مقام ادراک سےبالا ہی(الخیرات الحسان)، سفیان ثوری علیہ الرحمہ کو مشکل درپیش آتی تو کہتےاس کا بہترین جواب وہی دےسکتا ہےجس سےہم حسد کرتےہیںیعنی امام ابو حنیفہ(کردری)، محدّث عبدالعزیز بن ابی رواد کا قول ہےکہ جو ابو حنیفہ سےحُبّ رکھےوہ سُنی ہےاور جس نےبغض رکھا وہ بدعتی ہی(خیرات الحسان) ، حضرت عبداﷲ بن مبارک فرماتےہیں فلعنۃ ربنا اعداد رمل۔ علی من رد قول ابی حنیفہ یعنی لعنت ہو ہمارےرب کی ریت کےبرابر اس شخص پر جو امام ابو حنیفہ کےاجتہادی قول کو مردود ِ(یعنی کفر یاضلالت) قرار دیتا ہی، مکتوبات مجدد الف ثانی میں ہےکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اجتہادامام ابو حنیفہ کےاجتہاد کےموافق ہوگا، جاہل حاسد یا گمراہ لوگ ہر دور میں آپ کےخلاف ہرزہ سرائی کرتےرہے،کچھ نےپاکان امت کےنام سےبھی امام اعظم کےخلاف اقوال گھڑی، جن کو خطیب بغدادی نےتاریخ میں ذکر کردیا، دور حاضر میں بھی ہرزہ سرائی کا سلسلہ بند نہیں ہوا، اس کی نشان دہی مشہور غیر مقلد عالم مولانا دائود غزنوی نےیوں کی ہی:
”(بڑےدرد ناک لہجہ میں فرمایا)مولوی اسحاق! جماعت اہل حدیث کو حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اﷲ علیہ کی بد دعا لےکر بیٹھ گئی ہی، ہر شخص ابو حنیفہ ابو حنیفہ کہہ رہا ہےکوئی بہت ہی عزت کرتا ہےتو امام ابو حنیفہ کہہ دیتا ہی، پھر ان کےبارےمیں ان کی تحقیق یہ ہےکہ وہ تین حدیثیں جانتےتھےیا زیادہ سےزیادہ گیارہ، اگر کوئی بہت بڑا احسان کرےتو وہ انہیں سترہ حدیثوں کا عالم گردانتا ہی، جو لوگ اتنےجلیل القدر امام کےبارےمیں یہ نقطہ نظر رکھتےہوں ان میں اتحاد ویک جہتی کیونکر پیدا ہو سکتی ہی“۔(”حضرت مولانامحمد دائود غزنوی“ ازپروفیسر ابوبکر غزنوی، مطبوعہ مکتبہ غزنویہ شیش محل روڈ لاہور٤٧٩١ئ، ص٧٣١)

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s