عقائد متعلقہ ذات و صفات الہی

#####################
عقائد متعلقہ ذات و صفات الہی
رب تعالی کے لئے عیب محال ہے
متشابہ الفاظ کا حکم
رب کا کوئی فعل حکمت سے خالی نہیں
تقدیر کی قسمیں
بندوں کی ربانی صفات
استعانت کی قسمیں

#######################
عقائد متعلقہ ذات و صفات الہی
# ارشاد باری تعالی ہوا ، (تم فرماؤ وہ اللہ ہے وہ ایک ہے ، اللہ بے نیاز ہے ، نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا اور نہ اس کے جوڑ کا کوئی ) ۔ (سورہ الاخلاص ۔ کنزالایمان از امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ)
# دوسری جگہ ارشاد ہوا ، اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ، وہ آپ زندہ اور اوروں کا قائم رکھنے والا ( ہے ) ، اسے نہ اونگھ آئے نہ نیند ، اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ، وہ کون ہے جو اس کے یہاں سفارش کرے بے اسکے حکم کے ، جانتا ہے جو کچھ انکے آگے ہے اور جو کچھ انکے پیچھے، اور وہ نہیں پاتے اسکے علم میں سے مگر جتنا وہ چاہے ، اس کی کرسی میں سمائے ہوئے ہیں آسمان اور زمین ، اور اسے بھاری نہیں ان کی نگہبانی ، اور وہی ہے بلند بڑائی والا ) ۔ (البقرہ : ۲۵۵ ، کنزالایمان )
# اللہ تعالی واجب الوجود ہے یعنی اس کا وجود ضروری اوع عدم محال ہے اس کو یوں سمجھیے کہ اللہ تعالی کو کسی نے پیدا نہیں کیا بلکہ اسی نے سب کو پیدا کیا ہے وہ خود اپنے آپ سے موجود ہے اور ازلی و ابدی ہے یعنی ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا ۔ اس کی تمام صفات ا سکی ذات کی طرح ازلی و ا بدی ہیں۔
# اللہ تعالی سب کا خالق و مالک ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ۔ وہ جسے چاہے زندگی دے ، جسے چاہے موت دے ، جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلیل کرے، وہ کسی کا محتاج نہیں سب اس کے محتاج ہیں ، وہ جو چاہے اور جیسا چاہے کرے اسے کوئی روک نہیں سکتا ، سب اس کے قبضہء قدرت میں ہیں۔
# اللہ تعالی ہر شے پر قادر ہے مگر کوئی محال اس کی قدرت میں داخل نہیں ، محال اسے کہتے ہیں جو موجود نہ ہو سکے مثال کے طور پر دوسرا خدا ہونا محال یعنی ناممکن ہے تو اگر یہ زیر قدرت ہو تو موجود ہوسکے گا اور محال نہ رہے گا جبکہ اس کو مہال نہ مانناوحدانیت الہی کا انکار ہے ۔ اسی طرح اللہ عزوجل کا فنا ہونا محال ہے اگر فنا ہونے پر قدرت ما ن لی جائے تو یہ ممکن ہوگا اور جس کا فنا ہونا ممکن ہو وہ خدا نہیں ہوسکتا ۔ پس ثابت ہوا کہ محال و ناممکن پر اللہ تعالی کی قدرت ماننا اللہ عزوجل ہی کا انکار کرنا ہے۔
# تمام خوبیاں اور کمالات اللہ تعالی کی ذات میں موجود ہیں اور ہر وہ بات جس میں عیب یا نقص یا نقصان یا کسی دوسرے کا حاجتمند ہونا لازم آئے اللہ عزوجل کے لیے محال و ناممکن ہے جیسے یہ کہنا کہ (اللہ تعالی جھوٹ بول سکتا ہے ) اس مقدس پاک بے عیب ذات کو عیبی بتانا ہے ور درحقیقت اللہ تعالی کا انکار کرنا ہے ۔ خوب یاد رکھیے کہ ہر عیب اللہ تعالی کے لیے محال ہے اور اللہ تعالی ہر محال سے پاک ہے ۔
# اللہ تعالی کی تمام صفات اس کی شان کے مطابق ہیں ، بیشک وہ سنتا ہے ، دیکھتا ہے ، کلام کرتا ہے ، ارادہ کرتا ہے ، مگر وہ ہماری طرح دیکھنے کےلیے آنکھ ، سننے کے لےے کان ، کلام کرنے کے لیے زبان اور ارادہ کرنے کے لیے ذہن کا محتاج نہیں کیونکہ یہ سب اجسام ہیں ۔ اور وہ اجسام اور زماں و مکاں سے پاک ہے نیز اس کا کلام آواز و الفاظ سے بھی پاک ہے ۔
# قرآن و حدیث میں جہاں ایسے الفاظ آئے ہیں جو بظاہر جسم پر دلالت کرتے ہیں جیسے (ید ، وجھہ ، استوا ) وغیرہ ان کے ظاہری معنی لینا گمراہی و بد مذہبی ہے ۔ ایسے متشابہ الفاظ کی تاویل کی جاتی ہے ۔ کیونکہ ان کا ظاہری معنی رب تعالی کے حق میں محال ہے مثال کے طور پر ( ید ) کی تاویل قدرت سے ، ( وجھہ ) کی ذات سے اور استواء کی غلبہ و توجہ سے کی جاتی ہے ۔ بلکہ احتیاط اس میں ہے کہ بلا ضرورت تا ویل کرنے کی بجائے ان کے حق ہونے پر یقین رکھے ۔ ہمارا عقیدہ یہ ہونا چاہیے کہ ( ید ) حق ہے ، ( استواء ) حق ہے مگر اس کا ( ید ) مخلوق کا سا ( ید ) نہیں اور اس کا ( استواء ) نہیں ۔
# اللہ تعالی بے نیاز ہے وہ جسے چاہے اپنے فضل سے ہدایت دے اور جسے چاہے اپنے عدل سے گمراہ کرے۔ یہ اعتقاد رکھنا ہر مسلمان پر فرض ہے کہ اللہ تعالی عادل ہے ۔ کسی پر ذرہ برابر ظلم نہیں کرتا ، کسی کو اطاعت یا معصیت کے لیے مجبور نہیں کرتا ، کسی کو بغیر گناہ کے عذاب نہیں فرماتا ۔ اور نہ ہی کسی کا اجر ضائع کرتا ہے ، وہ استطاعت سے زیادہ کسی کو آزمائش میں نہیں ڈالتا اور یہ اس کا فضل و کرم ہے کہ مسلمانوں کو جب کسی تکلیف ب مصیبت میں مبتلا کرتا ہے اس پر بھی اجر و ثواب عطا فرماتا ہے ۔
# اس کے ہر فعل میں کثیر حکمتیں ہوتی ہیں خواہ وہ ہماری سمجھ میں آئے یا نہیں۔ اس کی مشیت اور اراد ے کے بغیر کچھ نہیں ہوسکتا مگر وہ نیکی سے خوش ہوتا ہے اور برائی سے ناراض ۔ برے کا م کی نسبت اللہ تعالی کی طرف کرنا بے ادبی ہے اس لیے حکم ہوا ، ( تجھے جو بھلائی پہنچے وہ اللہ کی طرف سے ہے اور جو برائی پہنچے وہ تیری اپنی طرف سے ہے ) ۔ ( النساء : ۷۹ ) پس برا کام کر کے تقدیر یا مشیت الہی کی طرف منسوب کرنا بہت بری بات ہے اس لیے اچھے کام کو اللہ عزوجل کے فضل و کرم کی طرف منسوب کرنا چاہیے اور بر ے کام کو شامت نفس سمجھنا چاہیے۔ اللہ تعالی کے وعدہ و وعید تبدیل نہیں ہوتے، اس نے اپنے کرم سے وعدہ فرمایا ہے کہ وہ کفر کے سوا ہر چھوٹے بڑے گناہ کو جسے چاہے معاف فرمادے گا، مسلمانوں کو جنت میں داخل فرمائے اور کفار کو اپنے عدل سے جہنم میں ڈالے گا۔
# بیشک اللہ تعالی رازق ہے وہی ہر مخلوق کو رزق دیتا ہے حتی کہ کسی کونے میں جالا بنا کر بیٹھی ہوئی مکڑی کے رزق کو پر لگا کر اڑاتا ہے ۔ اور اس کے پاس پہنچا دیتا ہے ۔ حدیث شریف میں ہے ، ( بیشک بندے کا رزق اس کو ایسے تلاش کرتا ہے جیسے اسے موت ڈھونڈتی ہے )۔ یعنی جب موت کا بروقت آنا یقینی ہے تو رزق کا ملنا بھی یقینی ہے۔ اللہ عزوجل جس کا رزق چاہے وسیع فرماتا ہے اور جس کا رزق چاہے تنگ کردیتا ہے ایسا کرنے میں اس کی بے شمار حکمتیں ہیں ، کبھی وہ رزق کی تنگی سے آزماتا ہے اور کبھی رزقی فراوانی سے ، پس بندے کو چاہیے کہ وہ حلال ذرائع اختیار کرے۔
مشکوہ میں ہے کہ ( رزق میں دیر ہونا تمہیں اس پر نہ اکسائے کہ تم اللہ تعالی کی نافرمانی سے رزق حاصل کرنے لگو ) ۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے ، ( اور جو ڈرتا رہتا ہے اللہ تعالی سے ، اس کے لیے و ہ نجات کا راستہ بنا دیتا ہے اور اسے وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں سے اس کو گمان بھی نہیں ہوتا ، اور جو اللہ تعالی پر بھروسہ رکھے گا تو اس کے لیے وہ کافی ہے )۔ (الطلاق : ۳)
# اللہ عزوجل کا علم ہر شے کو محیط ہے اس کے علم کی کوئی انتہا نہیں ، ہماری نیتیں اور خیالات بھی اس سے پوشیدہ نہیں ، وہ سب کچھ ازل میں جانتا تھا اب بھی جانتا ہے اور ابد تک جانے گا ، اشیاء بدلتی ہیں مگر اس کا علم نہیں بدلتا ۔ ہر بھلائی برائی اس نے اپنے ازلی علم کے مطابق تحریر فرمادی ہے جیسا ہونے والا تھا اور جو جیسا کرنے والا تھا اس نے لکھ لیا۔ یوں سمجھ لیجئے کہ جیسا ہم اپنے ارادے اور اختیار سے کرنے والے تھے ویسا اس نے لکھ دیا یعنی اسکے لکھ دینے نے کسی کو مجبور نہیں کردیا ورنہ جزا کا فلسفہ بے معنی ہر کر رہ جاتا ، یہی عقیدہ تقدیر ہے۔
قضا و تقدیر کی تین قسمیں ہیں
(۱) ۔ قضائے مبرم حقیقی
یہ لوح محفوظ میں تحریر ہے اور علم الہی میں کسی شے پر معلق نہیں، اس کا بدلنا ناممکن ہے اللہ تعالی کے محبوب بندے بھی اگر اتفاقا اس بار ے میں کچھ عرض کرنے لگیں تو انہیں خیال سے واپس فرما دیا جاتاہے ۔
( ۲) ۔ قضائے معلق
اس کا صحف ملائکہ میں کسی شے پر معلق ہونا ظاہر فرما دیا گیا ہے اس تک اکثر اولیاء اللہ کی رسائی ہوتی ہے یہ تقدیر ان کی دعا سے یا اپنی دعا سے یا والدین کی خدمت اور بعض نیکیوں سے خیر و برکت کی طرف تبدیل ہوجاتی ہے اور اسی طرح گناہ و ظلم اور والدین کی نافرمانی وغیرہ سے نقصان کی طرف تبدیل ہوجاتی ہے ۔
( ۳) ۔ قضائے مبرم غیر حقیقی
یہ صحف ملائکہ کے اعتبار سے مبرم ہے مگر علم الہی میں معلق ہے اس تک خاص اکابر کی رسائی ہوتی ہے نبی کریم ﷺ اور انبیاء کرام علیہم السلام کے علاوہ بعض مقرب اولیاء کی توجہ سے اور پر خلوص دعاؤں سے بھی یہ تبدیل ہوجاتی ہے ۔ سرکار غوث اعظم سیدنا عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ، میں قضائے مبرم کو رد کردیتا ہوں۔ حدیث پاک میں اسی کے بارے میں ارشاد ہوا ، بیشک دعا قضائے مبرم کو ٹال دیتی ہے ۔
مثال کے طور پر فرشتوں کے صحیفوں میں زید کی عمر (۶۰) برس تھی اس نے سرکشی و نافرمانی کی تو (۲۰) برس پہلے ہی اس کی موت کا حکم آ گیا یا اس نے نیکیاں کیں تو (۲۰) برس مزید زندگی کا حکم فرمایا دیا گیا ، یہ تقدیر میں تبدیلی ہوئی لیکن علم الہی ور لوح محفوظ میں وہی (۴۰) یا (۸۰) برس لکھی ہوئی تھی اور اسی کے مطابق ہوا۔
# قضا و قدر کے مسائل عام عقلوں میں نہیں آسکتے اس لیے ان میں بحث اور زیادہ غور و فکر کرنا ہلاکت و گمراہی کا سبب ہے صحابہ کرام علیہم الرضوان اس مسئلہ میں بحث کرنے سے منع فرمائے گئے تو ہم اور آپ کس گنتی میں ہیں ۔ بس اتنا سمجھ لیجے کہ اللہ تعالی نے آدمی کو پتھر کی طرح بے اختیار و مجبور نہیں پیدا کیا بلکہ اسے ایک طرح کا اختیار دیا ہے کہ وہ کوئی کام چاہیے کرے ، چاہے نہ کرے ور اسکے ساتھ ہی عقل بھی دی ہے کہ اپنے بھلے برے اور نفع نقصان کو پہچان سکے اور سکے لیے ہر قسم کے اسباب بھی مہیا کردیے ہیں ۔ جب بندہ کوئی کام کرنا چاہتا ہے اسی قسم کے اسباب اختیار کرتاہے اسی بنا پر مواخذہ اور جزا و سزا ہے خلاصہ یہ ہے کہ اپنے آپ کو بالکل مجبور یا بالکل مختار سمجھنا دونوں گمراہی ہیں ۔
# ہدایت دینے والا اللہ تعالی ہے حبیب کبریا ﷺ وسیلہ ہیں چنانچہ ارشاد ہوا ، (اور بیشک تم ضرور سیدھی راہ بتاتے ہو)۔ (الشوری : ۵۲) شفا دینے والا وہی ہے مگر اس کی عطا سے قرآن آیات اور دواؤ ں میں بھی شفا ہے ارشاد ہوا ، (اور ہم قرآن میں اتارتے ہیں وہ چیز جو ایمان والوں کے لیے شفا اور رحمت ہے)۔ (بنی اسرائیل : ۸۲) شہد کے بارے میں فرمایا گیا ، (اس میں لوگوں کے لیے شفا ہے)۔ (النحل : ۶۹)
بیشک اللہ تعا لی ہی اولاد دینے والا ہے مگر اس کی عطا سے اس کے مقرب بندے بھی اولاد دیتے ہیں حضرت جبریل علیہ السلام نے حضرت مریم علیہا السلام سے فرمایا، (میں تیرے رب کا بھیجا ہوا ہوں تاکہ میں تجھے ایک ستھرا بیٹا دوں)۔ (مریم : ۱۹ ، کنز الایمان )
اللہ عزوجل ہی موت اور زندگی دینے والا ہے مگر اسکے حکم سے یہ کام مقرب بندے کرتے ہیں ارشاد ہوا ، (تمہیں وفات دیتا ہے موت کا فرشتہ جو تم پر مقرر ہے)۔ (السجدہ : ۱۱)
حضرت عیسی علیہ السلام کا ارشاد ہے ، (میں مردے زندہ کرتا ہوں اللہ کے حکم سے )۔ (آل عمران : ۴۹) سورہ النزعت ، کی ا بتدائی آیات میں فرشتوں کا تصرف و اختیار بیان فرمایا گیا۔
قرآن حکیم میں اللہ تعالی کی بعض صفات بندوں کے لیے صراحتا بیان ہوئی ہیں جیسے سورہ الدھر آیت ۲ ، میں انسان کو (سمیع و بصیر ) کہا گیا ، سورہ البقرہ آیت ۱۴۳، میں حضور علیہ السلام کا (رؤف و رحیم ) ہونا بیان فرمایا گیا اسی طرح حیات ، علم ، کلام ، ارادہ وغیرہ متعدد صفات بندوں کے لیے بیان ہوئی ہوگی تو وہ ذاتی ، واجب ، ازلی ، ا بدی ، لا محدود اور شان خالقیت کے لائق ہوگی اور جب کسی مخلوق کے لیے ثابت ہوگی تو عطائی ، ممکن ، حادث ، عارضی، محدود اور شان مخلوقیت کے لائق ہوگی پس جس طرح اللہ تعالی کی ذات کسی اور ذات کے مشابہ نہیں اسی طرح اس کی صفات بھی مخلوق کی صفات کے مماثل نہیں۔
# استعانت کی دو قسمیں ہیں حقیقی اور مجازی ۔ استعانت حقیقی یہ ہے کہ کسی کو قادر بالذات ، مالک مستقل اور حقیقی مددگار سمجھ کر اس سے مدد مانگی جائے یعنی اس کے بارے میں یہ عقیدہ ہو کہ وہ عطائے الہی کے بغیر خود اپنی ذات سے مدد کرنے کی قدرت رکھتا ہے غیر خدا کے لیے ایسا عقیدہ رکھنا شرک ہے اور کوئی مسلمان بھی انبیاء کرام علیہم السلام اور اولیائے عظام کے متعلق ایسا عقیدہ نہیں رکھتا۔ استعانت مجازی یہ ہے کہ کسی کو اللہ تعالی کی مدد کا مظہر ، حصول فیض کا ذریعہ اور قضائے حاجات کا وسیلہ جا ن کر اس سے مدد مانگی جائے اور یہ قطعا حق ہے اور قرآن و حدیث کا وسیلہ جان کر اس سے مدد مانگی جائے اور یہ قطعا حق ہے اور قرآن و حدیث سے ثابت ہے۔
حضرت موسی علیہ السلام نے اپنے بھائی کو مددگار بنانے کی دعا کی جو قبول ہوئی ۔ ( طہ : ۳۶ ) حضرت عیسی علیہ السلام نو حواریوں سے مدد مانگی ۔ (آل عمران : ۵۲ ) ایمان والوں کو صبر اور نماز سے مدد مانگنے کا حکم دیا گیا ۔ ( البقرہ : ۱۵۳ ) حضرت ذوالقرنین کا لوگوں سے مدد مانگنا بھی قرآن میں مذکور ہے ۔ (الکہف : ۹۵) نیک کاموں میں مسلمانوں کو مدد گار بننے کا حکم دیا گیا ہے۔ (المائدہ : ۲) ایک جگہ صالحین اور فرشتوں کا مددگار ہونا یوں بیان فرمایا گیا ، بیشک اللہ ان کا مددگار ہے اور جبریل اور نیک ایمان والے اور اس کے بعد فرشتے مددگار ہیں)۔ (التحریم : ۴) ایک جگہ یوں ارشاد ہوا ، (بیشک تمہارے مددرگار تو صرف اللہ تعالی اور اس کا رسول اور ایمان والے ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں اور زکوہ دیتے ہیں اور اللہ کے حضور جھکے ہوئے ہیں)۔ (المائدہ : ۵۵)
ان دلائل و براہین سے ثابت ہوا کہ حقیقی مددگار و مشکل کشا اللہ تعالی ہی ہے ۔ اور اس کی عطا سے اس کے محبوب بندے بھی مددگار ہوتے ہیں ۔ پس محبوبان خدا کو مددگار و متصرف سمجھنا اور ان سے مدد مانگنا ہرگز شرک نہیں کیونکہ اللہ تعالی کا مددگار و مشکل کشا ہونا بالذات اور مخلوق سے بے نیاز و غنی ہو کر ہے جبکہ انبیاء کرام ، اولیاء عظام اور مومنوں کا مددگار و مشکل کشا ہونا اللہ تعالی کی عطا سے ہے اور یہ سب اللہ عزوجل کے فضل و کرم کے محتاج ہیں ۔ نیز ان کا تصرف و اختیار اور طاقت و قدرت اذن الہی کے تابع ہے۔
( وصلی اللہ تعالی علی خیر خلقہ سیدنا محمد و آلہ و اصحابہ اجمعین )

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s