نعت کيا ھے؟

نعت کيا ھے؟

سيد رياض حيسن شاہ
ادارہ تعليما ت اسلاميہ پاکستان
بسم اللہ الرحمن الر حيم

رسول کريم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت سر مايہ اہل ايمان ھےاور محبت ميں اظہا ر عقيدت،يادمحبوب،بيان حسن،مبالغہ وصف،مدحتِ خُلق،تحسين ِسيرت اور تذکار حُليہ فطری امر ھے۔ يہی وجہ ھے کہ رسول کريم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت ميں جتنی وسعت ھے،اس سے کہيں بڑھ کر ان کی چا ہنے والوں کی کثرت ھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چاہنے والے جس قدر مطلع موجود پر پھيلے ھوئے ھيں،اس سے بڑھ کر کا ئنات ميں ان کی عقيدتوں اور محبتوں کا نور بکھراھو ا ھے۔جس قدر حضورانور صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت و مودّت،عقيدت و تعلق ،رابطہ و عشق موجود ھے۔اس سے کہيں زيادہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حُسن و حقيقت کی تعر يف کی ضرورت ھے۔رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح و نعت اپنی جگہ عظمت مآب ھے ليکن يہ اس ليے بھی ضروری ھے کہ اس کے بغير انسا نيت کی ضرورتيں پو ری نہيں ھو تيں اور شا يد محبت اور اظہا ر محبت کی انہی معنوی حقيقتوں کی نشا ن دہی رسول کريم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس ارشاد ميں فر ما ئی:
لا يو من احد کم حتٰی اکون احب اليہ من والدہ و ولد والناس اجمعين۔
(تم ميں سے کسی ايک کا بھی ايمان مکمل نہيں ھو سکتا جب تک کہ وہ اپنے ماں
باپ،اپنی اولاد اور سب سے بڑھ کر مجھ سے محبت کر نے والا نہ ھو)۔
عربی زبان ميں بيان حسن ،اظہا ر عقيدت،اعتراف ِحق وغيرہ کے ليے جو الفا ظ استعمال کيے جا تے ھيں وہ عموما ً تعر يف،مد ح،ثنا،تحميد،تو صيف،شکر اور نعت ھيں۔ان ميں سے ھر ايک معنوی اعتبا ر سے ايک دوسر ے کا مترادف بھی استعمال ھو تا ھے اور صنعت کے اعتبار سے متضاد بھی لا يا جا سکتا ھے۔ بذات خود حضور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح ميں يہ تمام ما دۓ مختلف مقا مات پر استعمال کئے گئے ھيں ليکن کثرت کے سا تھ جو اصطلاح مدح پيغمبر عليہ الصلٰوۃ والسلام ميں استعمال ھو ئی ھے،وہ نعت ھے۔۔۔۔۔۔عربی ادب ميں اگر چہ رسول کريم صلی اللہ علیہ وسلم کے مد حيہ شہ پاروں کے ليے مد يح و نشيد ايسے الفا ظ استعمال ھو ئے ھيں ليکن” نعت ” سے مراد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نثری يا شعری تعر يف لی گئی ھے ۔ رسول کريم صلی اللہ علیہ وسلم کی نعت ميں يہ صحابہ ھی سے مر وی ھے کہ:
“يقول نا عتہ، لم ار قبلہ ولا بعدہ”
نعت کيا ھے؟اور اس کا لغو ی معنٰی کيا ھے؟ اور اسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بنفس ِ خود کن کن معنوں ميں استعمال کيا ھے؟۔۔۔۔۔يہ وہ سوالات ھيں جن کا جواب حاصل کرنے کے بعد کسی حد تک نعت گوئی اور نعت فہمی کی ذمہ داری پو ری کی جا سکتی ھے۔
“تاج العروس”ميں علامہ زبيدی حنفی لکھتے ھيں کہ”نعت”کا ما دہ ن،ع اور ت ھے۔يہ لفظ جب باب”فتح يفتع”سے آئے تواس کا معنٰی وصف ھو تا ھے اور باب” تقبل يتقبل “سے آئےتو اس کا مطلب کسی کی تعر يف ميں مبا لغہ کر نا ھو تا ھے۔ابن کثير کہتے ھيں کہ نعت کا تعلق بنيادی طور پر بيان حسن سے ھو تا ھے اور اس لحا ظ سے”وصف”اورنعت ميں يہ فرق ھو تا ھے کہ وصف ميں”حسن و قبح”دونوں بيان کيے جا سکتے ھيں جبکہ نعت صرف اور صرف “حسن”ھی کے بيان کے ليے آتی ھے۔
“ثعلب”نے نعت اور وصف ميں يہ فرق بھی لکھا ھے کہ نعت صرف ذي جسم کی ھو سکتی ھے اور تو صيف کے ليے مشخصات ضروری نہيں۔ يہی وجہ ھے کہ کہا جا تا ھے کہ”اللہ يو صف ولا ينعت”(اللہ کی تو صيف ھو تی ھے ليکن نعت نہيں)۔اس ليے کہ نعت ميں تشخصات ضروری ھو تے ھيں۔اظہری نے” نعت ” کا معنی “العتيق السباق”بھی لکھا ھے۔اس لحا ظ سے نعت صرف اس ذات کی ھو سکے گی جو اللہ کی ذات کے بعد سب سے زيا دہ قديم اور اوصاف و کما لات ميں سب سے آگے ھو اور ظاھر ھے کہ وہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم ھی ھيں۔”لسان العرب”ميں ابن منظورنے” نعت “کا معنی کسی ذات کا اپنی جنس کی ديگرانواع سے افضل ھونا لکھا۔”صحاح”ميں جو ھر ی نے لکھا کہ نعت جس وقت باب”کرم يَکرم” سے آئے تو معنی اس کا چہرے کا حسين ھو نا ھو تا ھے۔اسی سے”نعيت”اسم علم بھی استعمال ھو تا ھے۔
ابن ماجہ ميں حضرت زيد بن ارقم رضی اللہ تعا لی عنہ سے ايک روايت نقل کی گئی ھے جس ميں رسول کريم صلی اللہ علیہ وسلم نے بذات خود لفظ ” نعت” کو خواص بتا نے کے معنوں ميں استعمال فر ما يا۔حد يث کے الفا ظ ھيں:
” نعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من ذات الجنب ورساً و قسطاً و زيتا يلد بھ”
حليہ اور اوصاف بيان کرنے کے معنوں ميں جامع ترمذی ميں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت ابو بکرہ نے روايت نقل کی جس ميں لفظ نعت استعمال کيا گيا۔خلا صہ روايت يہ ھے کہ راوی کہتے ھيں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کے ماں باپ کا حال و حليہ ھم سے بيان کيا۔حد يث کے الفاظ يہ ھيں:” نعت لنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابو يھ”۔۔۔۔وصف بيان کرنے کےليے لفظ نعت کااستعمال سنن نسائی کی ايک حديث ميںملا حظہ کہا جا سکتا ھے:
“قا ل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الشہرھٰکذاوھٰکذاوصفق محمد بن عبيد بيد يھ ينعتھا ثلا ثاً۔”

مسندامام احمد بن حنبل رحمتہ اللہ ميں يہ لفظ تقر يباًپند رہ مقامات پراستعمال ھو ا ھے اور نعت کے قريباًسارے ھی معنوی مترادفات اور متضا دات لائے گئے ھيں۔البتہ ايک آدھ روايت ايسی بھی نقل کی گئی ھے جس ميں بيان حسن کے ساتھ سا تھ بيان قبح کا مفہوم بھی لفظ نعت کے اند ر سمويا معلوم ھو تا ھے۔مسند امام رحمتہ اللہ کے الفاظ “فجات علی العنت المکروہ” ھيں۔رسول کريم صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف و کمالات اور حال حليہ کے ليے لفظ نعت غالباً سب سے پہلے حضرت علی المر تضٰی کرم اللہ وجہہ نے استعمال فر مايا۔اور اسے امام تر مذی رحمتہ اللہ نے شمائل ميں ان الفاظ کے سا تھ نقل کيا:”ويقول ناعتہ لم ارقبلہ ولا بعد ہ مثلہ”اسی طرح سنن رارمی رحمتہ اللہ نے”کيف تجد نعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی التورة”لکھ کر لفظ نعت کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کے ساتھ خاص قرار ديا۔سنن ابی داؤد ميں ابواب الديات اور الصيح البخا ری ميں ابواب انبيا ميں علی التر تيب “انہ ليس با لنعت اورلقيت عيسٰی ،موسٰی لنعتہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم ميں لفظ نعت بيان احوال اور حليہ وغيرہ کے معنوں ميں استعمال ھوا۔اسی طرح يہ لفظ امام مسلم رحمتہ اللہ نے اپنی جامع ميں(باب الا يمان)ميں، نعت اليہ رجل منھم،کی صورت ميں نقل کيا۔ بعض صوفيا کے اقوال سے مترشح ھو تا ھے کہ نعت کا معنی شان بھی آتا ھے۔طبرانی کی ايک روايت ميں نعت کا معنی سفا رش کرنا بھی لا يا گيا ھے۔عر بی کی طر ح فا رسی زبان ميں نعت کا لفظ اپنے عمومی مفہوم وصف بيانی اورخصو صی معنوں يعنی ثنائے مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کے ليے استعمال ھوا ھے ۔ اردو ميں اگر چہ معنی وصف گوئی وغيرہ ھو تا ھے ليکن اب صرف اورصرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف وکمالات کے تذکرے کے سا تھ خاص ھو گيا ھے۔
لُغت اورآثار وروايات کی مدد سے نعت کے جو مفا ہيم و مطالب حاصل ھو ئے،ان کی تر تيب يہ ھے:
ا : اوصاف بيان کرنا
ب: احوال بيان کرنا
ج: حُليہ واضح کرنا
د: تعريف ميں مبا لغہ کرنا
ہ: سفارش کرنا
و: نقل کرنا يا نقل اتارنا
ز: جوھر سا منے لا نا
خ: کسی جنس کا اپنی انواع پر فضيلت ثا بت کرنا
ط: خواص منکشف کرنا
ی: عمدہ صفات رکھنا
ک: کسی شے کا قديم الا صل ھونا
ل: دوڑ ميں آگے بڑھ جانا
م: صفت کو موصوف کے سا تھ ملانا
ن: ايک خاص نشان رکھنا
س: اور ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح و تحميد بجا لانا
نعت کے مذکورہ صدر لغوی معا نی و مطا لب کی روشنی ميں اصطلا حی نعت کا مو ضوع آسا نی سے متعين کيا جا سکتا ھے۔ نعت کا مدار چونکہ رسول کريم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مسعود ھے،اس اعتبار سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے لے کر صفات تک،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے افکار سے لے کر اعمال تک زندگی کاکوئی ايسا پہلو نھيں جو نعت کا مو ضوع نہ بن سکتا ھو۔
اخلاق ، سيرت ،معجزات،غزوات، خطبات، عبادات، مناکحات ، معاملات ، معمولات
عادات،تعليمات،سب تک نعت کا دامن پھيلا ھو ا ھے۔ نعت کا تعلق چونکہ نثر اور شعر دونوں سے ھے،اس ليے رسول کريم صلی اللہ علیہ وسلم کا نعتيہ ورثہ بھی ازحد بسيط ھے۔ حضرت ابو ھر يرہ رضی اللہ عنہ کی حديث دانی،حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی فقہی معر کہ آرائياں،حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی سنجيدہ
تا ريخ،حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے متين فيصلے،حضرت علی المر تضٰی رضی اللہ عنہ کا علمی تہور،حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے قرآنی،حضرت ابوذرہ رضی اللہ عنہ کی سياسی سوچ،حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی سپاہيانہ
تا ريخ،حضرت عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ کا تحذيبی با نکپن ،حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کی پر شوق شا عری ،حضرت عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے کفر سوز رجز،حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کی خطيبانہ آن بان،دراصل رسول کريم صلی اللہ علیہ وسلم کی نعت ھی کی صورتيں ھيں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کا يہ نعتيہ شوق ھی تھا کہ رسول کريم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے لمحہ لمحہ کو انہوں نے شعر و ادب ميں محفوظ کر ليا اور يہی ان کا ورثہ ھے جو قوموں کے عر وج کا سبب بنا اور بجا طور پر انسا نيت نے اس سے جلا پا ئی اور قيا مت تک يہ سلسلہ انسا نيت کی تقد ير بد لتا رھے گا ۔
نعت کے ضمن ميں اس کا ايک اہم ما دہ بحث شر يعت مطہرہ کے سا تھ اس کا تعلق ھے۔ احکام شر يعت کی روشنی ميں اس موضوع پر بھی دو طر ح گفتگو کی جا سکتی ھے۔ ايک تو ايمان کے سا تھ اس کے تعلق کی بحث ھے اور دوسرا جذبہ ايثار و اطا عت اور عمل کے ساتھ اس کا تعلق ھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھنا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کر نا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درودوسلام پڑھنا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سيرت کی جستجو کرنا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ميلا نات اپنا نا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حيات سعيد کو سمجھنا ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کريمانہ کو سننا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ايک ايک عمل کو محفوظ کر نا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے علمی اور دينی سرمايہ کو اگلی نسلوں کی طرف منتقل کرنا تقاضا ئے شر يعت ھے،اور يہ سب کچھ نعت کا موضوع ھے۔اس لحا ظ سے نعت کہنا،نعت سننا،نعت پڑھنا،نعت پسند کرناشر يعت مطہرہ کا اولين مقصود ھے اور قرآن مجيد نعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ايک انمٹ اور لا زوال نقش ھے۔ نثر کے ميدان ميں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لا ئق،بلند صفت اور عظيم صحا بہ رضی اللہ عنہ نے بلا شبہ يہ منشا ئے شر يعت پو را کيا ھے۔ البتہ شعر ی نعت کے ميدان ميں محبتوں،عقيدتوں اور کفيتوں کی بھر مار ھے۔ تلميحات،استعا رات اور تشبيہات کے آئنيے ميں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خوب خوب تعر يف کی کو شش کی گئی ھے ليکن آپ کی سيرت و صورت،حسن و جمال،رنگ وادا،دعوت و تعليم،صدق وامانت،تحذيب و صفات،سيا ست و معا ش،معجزات وآيات،عدالت و نجابت،حرب وضرب،و قا ئع و سرايا،اما نت و ديا نت،جودوسخا،فضل و عنا يت اور علم و حلم کو تا ريخی ضرورتوں کت تحت دامن نعت ميں سمونے کی بھر پو ر کو شش نہيں۔ ضرورت جوں کی توں مو جود ھے کہ “شا ہنا مہ اسلام “کی طرز پر نعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی يہ گراں بہا دولت شعر و ادب کے دامن ميں محفوظ کی جا ئے۔
نعت کا دوسرا تعلق جذبہ اثياروعمل سے ھے۔ رسول کريم صلی اللہ علیہ وسلم کے حُليہ اقدس،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ظا ھر و با طن اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت وادا کو رب کريم نے انسا نيت کے ليے واجب الا طاعت قرار ديا،گويا حصور صلی اللہ علیہ وسلم کی حيات مسعود کے مختلف پہلو جس وقت کلام ميں سجيں تو يہ قو لی نعت کی صورت بنتی ھے اور جس وقت رسول کريم صلی اللہ علیہ وسلم کا دامن پکڑنے والے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کو عمل ميں محفوظ کر ليں تو يہ عملی نعت کی صورت بنتی ھے اور بلا شبہ انسا نوں کی يہ اشد ذمہ داری ھے کہ وہ نعت کی اس قسم کی طرف بھی تو جہ ديں اس ليے کہ ان کی اصل ذمہ داری يہی ھے۔جہاں تک حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح و ثنا کا تعلق ھے تو وہ کو شش کی جا سکتی ھے،نعت گوئی کا حق ادا نہيں کيا جا سکتا اور بلا شبہ يہ کو شش بھی پر وانہ نجات ملنے کے مترادف ھے۔بقول غالب ھر نعت گو کو يہ کہنا ھی پڑتا ھے :
غالب ثنائے خواجہ بہ يزداں گز ا شتيم
کاں ذات پاک مر تبہ دانٍ محمد صلی اللہ علیہ وسلم است
لُغت اور تا ريخ کے اعتبار سے نعت کا مفہوم اگر چہ بحر ِبے کراں ھے ليکن عربی،فارسی،ہندی،اُردو،پنجابی،پشتواور بنگالی بے شمار زبانوں کے ادب ميں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح و ثنا جو موزوں صورت ميں ھو ‘نعت کہلاتی ھے اور اہل فن کے نزديک اس نو عيت کی ايک نعت ايک مشکل صنف ھے۔
مولانا الشا ہ احمد رضا خان بريلوی رحمتہ اللہ نے ايک مر تبہ ارشاد فر مايا:
“حقيقتہً نعت لکھنا بہت مشکل کام ھے جس کو لوگ آسان سمجھتے ھيں ۔ اس ميں تلوار کی دھار پر چلنا ھے۔اگر شا عر بڑھتا ھے تو الُوہيت ميں پہنچ جاتا ھے اور کمی کرتا ھے تو تنقيص ھو تی ھے۔البتہ حمد آسان ھے کہ اس ميں راستہ صاف ھے جتنا چاھے بڑھ سکتا ھے۔ غرض حمد ميں اس جانب اصلا ً کو ئی حد نہيں اور نعت شريف ميں دونوں جانب ہخت حد بند ی ھے۔”
اہل ادب کے نزديک نعت کا مفہوم کچھ بھی کيوں نہ ھو اور اس کے ليے بحروں کے چناؤ ميں کو ئی بھی طريقہ استعمال کيا جائے۔۔۔۔۔۔اصل ذوق،اہل محبت اور اہل عشق کے ہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا تصور،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور پھر ان کی محبت ميں رونا،رُلانا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح و ستائش کرنا، آپ کی زيارت کے ليے بے تاب ھونا،دل کی تاروں پر زبان کی ھم آہنگی کے سا تھ صلٰوۃ وسلام پڑھنا،ان کے حکم پر تن من دھن وارنا،ان کے ادب ميں حفظِ قول و عمل بجا لانا سب نعت ھے اور اس لحاظ سے ھر مسلمان نعت گو ھے،نعت پسند ھے،نعت خواں ھے اور نعت گر ھے۔ کتاب و سنت کا تقا ضا يہی ھے کہ دنیا کا ھر
انسان حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نعت ميں ڈھل جائے۔
*******

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s