حضرت سيد نا بلال

حضرت سيد نا بلال رضی اللہ تعا لٰی عنہا
مصنف :- علامہ سید ریاض حسین شاہ صاحب
ادارہ تعليما ت اسلاميہ پاکستان
آواز حسن ھے۔ايسا حسن جسے انقلاب کی پرکار کہا جا سکتا ھے۔آبشاروں کےگر نے سے پيد ا ھونے والی آوازیں ،بل کھا تی نديوں کے دوڑنے سے پيد ا ھونے والے ارتعا ش،چشموں اور جھرنوں کے اچھلنے کی صدائيں۔مضراب کی چھاتی سے نکلنے والے نغمے ،سا رنگی کی تا روں سے جنم لينے والی دھنيں ،پتوں کے ٹکرانے سے بجنے والی تا ليا ں حسن ھی حسن ہيں۔ايسا حسن جس سے صرف کان ھی لذت مندھوسکتےہيں۔فطرت نے سمع ذوقی کےان گنت ذریعےبنا ئے ھيں ليکن جو لطا فت اور مٹھا س،جو شیرینی اور حلاوت،جو کيف اور رنگ اور مستی و ذوق “انسانی
آوازوں”ميں بھرا ھے اس کی کو ئی نظير نہیں۔
اچھی آواز
خو بصورت آواز
سچی آواز
دلکش آواز
دل موہ آواز
اچھی سو چوں کا مظہر بن سکتی ھے
اچھے افکار کی دليل ھو سکتی ھے
اچھے جذبوں کی بر ھان بن سکتی ھے
اس میں شک نہيں اچھی آواز عشق کی اساس ھو تی ھے
درد کا اظہا ر ھو تی ھے
خو شگو ار تبد يليوں کی بنيا د ھو تی ھے
انقلاب کی ضرورت ھو تی ھے
اخلاق سازی کی دہليز ثا بت ھو سکتی ھے
انسا نی تا ريخ ميں بہت سے لوگ پيد ا ھو ئے جن کے پا س فطرت کا يہ نور
وافر مقدار ميں مو جود رہا۔ايسے لوگ بھی جن کے برق برق خطبوں نے دل ہلا دئيے
ايسے لو گ بھی جن کی با توں کی کرن کرن روشنی نے دل دھو ديئے ايسے لوگ بھی جن کے پھو ل پھول بو لوں نے انسا نی تقد ير بدل دی۔ايسے لوگ بھی جن کے نور نور واعظو ں نے علم کے دريا بہا ديئے اور ايسے لوگو ں کی بھی کمی نہيں رھی جن کی سريلی آوازوں نے نوری جذ بوں ميں سفلی سو چوں کی گند گی پيد ا کی گو يا آوازوں کی تا ريخ ميں جہاں سا خت کے اعتبار سے زيروبم ھے۔نشيب و فراز ھے ايسے ھی اثر اور تا ثر کے لحا ظ سے زمين اور آسمان کا فرق ھے ليکن تا ريخ کے کا نوں کو يہ بات اچھی طرح سن لينی چا ھيے کہ اس جہاں ميں بسنے والوں نے ايک آواز ايسی بھی سنی جو بلا شبہ کہکشاں کی چمک رکھتی تھی۔
بجليوں کا انداز رکھتی تھی
سورج کی روشني
اور چاند کے اجالے رکھتی تھی
ايسی آواز جس ميں ہميشہ کبريائی
نغموں ہی کی مٹھاس ملتی ہے
ايسی آواز جو فضا ميں مسکراتی
تو جنت کی حوريں بھی رقصاں
ہوتی ايسی آواز جو کانوں ميں
پڑتی تو دل جنت ہو اٹھتا ايسی
آواز جو رات کا کليجہ چيرتی تو فرشتے
درود پڑھتے ايسی آواز جو زماں کی
زمين پر بکھرتی تو دنيا مکلوتی نظاروں
کی نظير بن جاتی يہ خوبصورت آواز
يہ ميٹھی آواز
يہ جہير آواز
يہ گر جدار آواز
يہ نو رانی آواز
يہ نوری آواز تھی
حضرت سيد نا بلال رضی اللہ عنہ کی يہ نا زش کو نين محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی
محبت اور پيار سے سنتے بلکہ دعا ديتے۔حضرت سيد نا بلال رضی اللہ عنہ کو تا ريخ
نے جس تصو ير ی رنگ ميں پيش کيا وہ ھے
مظلوم بلال رضی اللہ عنہ
مسکين بلال رضی اللہ عنہ
ستم يا فتہ بلال رضی اللہ عنہ
مجبور بلال رضی اللہ عنہ
مقہور بلال رضی اللہ عنہ
غلام بلال رضی اللہ عنہ
فقير بلال رضی اللہ عنہ
ليکن
سمجھتا ھوں کہ بلال رضی اللہ عنہ فقير تھے ليکن فقير خد ا مست تھے عشق رسالتماب نے انہيں ہر دو جہاں سے بے نيا ز بنا ديا تھاانہيں خدا ئےرحمت و نعمت
نےاس دولت سے نو ازديا تھا کہ دينا کامال دار سے مال دار شخص بھی ان کے سامنے
ہيچ تھا۔رسول کريم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسلسل نظر کرم نےانھيں وہ مقا م عطا کرديا کہ حضر ت اميرالمومنين عمرفا روق رضی اللہ تعا لی عنہ ايسے بزرگ صحا بہ رضی اللہ تعا لی عنہ بھی انھيں”سيد نا ” کہہ کر پکا رتے۔سو بلا مبا لغہ کہا جا سکتا ھے کہ

خو دار بلال رضی اللہ تعا لی عنہ
با حو صلہ بلال رضی اللہ تعا لی عنہ
کا ر کشا بلال رضی اللہ تعا لی عنہ
با طل شکن بلال رضی اللہ تعا لی عنہ
کفر سو ز بلال رضی اللہ تعا لی عنہ
مجا ہد بلال رضی اللہ تعا لی عنہ
امين بلال رضی اللہ تعا لی عنہ
اور محب رسول صلی اللہ علیہ وسلم بلال رضی اللہ تعا لی عنہ
معتمد رسول بلال رضی اللہ تعا لی عنہ
عشق کيش نبی اور
عشق کيش رسول بلال رضی اللہ تعا لی عنہ
آپ کی والدہ کا نام “حما مہ “تھا اور والد “رباح” تھے۔حبشہ کے رہنے والے تھے غلام ھو کر جمح کے پا س مکہ پہنچ گئے۔حليہ مو ر خين نے لکھا کہ
رنگت سيا ہ تھی
قد طو لا نی تھا
ما تھا تھو ڑا اٹھا ھو ا تھا
آنکھيں سر خ جيسے
خون بستہ ھو تا ھے
ہا تھ لا بنے لا نبے
چھا تی کھلی ہڈ يوں
پر گو شت خفيف
جسم داغ دار
آواز گرج دار
لبا س سفيد اور شفا ف
عمامہ تاب دار
ہا تھوں ميں پھر تی جيسے برق پا رے بھر ے ھوں
قد موں ميں تيزی جيسے بجلياں شعلہ بہ پا ھوں
زبان
نغمہ زن
منہ گيت گو
دل لرزاں بہ وجد
بدن مستاں بہ کيف
نظر رقصا ں بہ عشق
سينہ پيچاں بہ درد
حا صل زند گی
احد ” احد ” ” احد احد ”
خو شی ھو يا غم ….. ” احد احد ”
اند ھيرے ھوں يا اجا لے….. ” احد احد ”
شب تيرہ و تار ھو يا روز روشن ….. ” احد احد ”
بولہبی کی ستيزہ کا رياں ھوں تو ….. ” احد احد ”
ذوق محبت کی کلکا رياں ھو ں تو ….. ” احد احد ”
گسيھٹنے والے گلے ميں رسياں ڈال کر تپتی ريت پر گھسيٹے جا رہے ھيں ليکن کہنے والا کہہ رہا ھے….. “احد احد ”
لو ھے کی تپتی سلا خو ں کے سا تھ جسم د ا غا جا رہا ھے ليکن زبان پر تر ا نہ نو ر جا ری ھے ….. “احد احد ”
جان سے ما ر ڈالنے کی دھمکياں و حشت نا ک صورت اختيا ر کر رھی ھيں ليکن عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم ميں ڈوبے ھو ئے دل کی ايک ھی پکا ر ايک ھی صدا ايک ھی آہ اور ايک ھی کر اہ …..”احد احد ”
“احد احد ” قول کا جو اب نہيں ليکن
[“احد احد ” کے قا ئل کی کو ئی بھی مثال نہيں
حضرت سيد نا بلال رضی اللہ تعا لی عنہ پہلے چھ يا سا ت لو گوں ميں سے ايک تھے جنہوں نے علی وجہ البصيرت “اسلام ” قبول کيا
ايمان کی تصو ير بنے
اطا عت کا مفہوم بتلا يا۔
اتبا ع کا نقشہ پيش کيا۔
عشق کی تفسير لکھی۔
درد کی داستان رقم کی۔
جذ بوں کی بہا ر ،جيتی آرزؤں کی نکھا ر۔
بلا شبہ انہی کے دم قد م سے تھی۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما يا:۔
سبقت لے جا نے والے چا ر ھيں
ميں عر بوں ميں
صہيب روميوں ميں
سليمان رضی اللہ تعا لی عنہ اہل فا رس ميں
اور بلال رضی اللہ تعا لی عنہ حبشہ والوں ميں
عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ تعا لی عنہ کی پيشا نی ميں
غير ت و حميت ،خو دی اور استغنا کے ما ھتاب رقصا ں کر رھے تھے۔يہی وجہ ھے کہ مکہ ھو يا مد ينہ ،ام القر ی ھو يا شہر نور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فدا
يوں کامر کز توجہ حضر ت بلال رضی اللہ تعا لی عنہ بن چکے تھے۔بڑے بڑے لوگ حضرت سيدنا بلال رضی اللہ تعالٰی عنہ کوتوصيفی جملوں سے نو ازتےتو آپ گھا ئل
ھو جا تے۔سر جھک جا تا ما تھے پہ ہلکے ہلکے پسينے آجا تے نگا ھوں سے عا جز ی امڈ آتی اور رخسا روں پر فرط نيا ز مند ی سے آ نسو ڈ ھلک جا تےاور آپ فرما تے:۔
انما انا حبشی…..
کنت بلا سس عبدا…..
ميں تو کچھ نہيں…..
سوائے اس کے کہ حبشی ھو ں …..
ہا ں ميں کيا ھو ں سواۓ اس کے کہ کل ميں غلام تھا ۔
کيا خو ب لکھا خا لد نے کہ يہ “اسلام” کا دائمی اور ابد فيضان ھے جس نے بلال کو وہ دوام بخش ديا کہ آج مغرب ھو يا مشرق
پا کستا ن ھو يا چين
ملا ئشيا ھو يا روس
تر کی ھو يا ايران
شام ھو يا سو ڈان
بچے بھی حضر ت سيد نا بلال رضی اللہ تعا لی عنہ کا نام جا نتے ھيں ۔اگر اسلام کا نو راورحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ان کے سينے ميں جذب نہ ھو ئی ھو تی تو آپ غلام ھی ھو تے اورغلاموں کی دينا ميں آج گم ھو تے اورکو ئی انہيں جا نتا
تک نہ ھو تا ۔
ھے تا زہ آج تک وہ نو ائے جگر گذار
صديوں سے سن رہا ھے جسے گوش چر خ پير

اقبال يہ کس کا فيض عام ھے
رومی فنا ھو ا حبشی کو دوام ھے

اللہ اکبر …..! ! !
اللہ اکبر …..! ! !
يہ حسين کلما ت اپنی دل آو يز ی ھی ميں بےمثال نہيں بلکہ نما ز کے لئے مسلمانوں
کو جمع کر نے کا ذريعہ بھی ھيں۔”الصلو ةجا معہ”ايسا مختصر جملہ ھويا”الصلوة
من النوم ” پر و جا ھت فقر ہ ہر ايک کے حسن ميں حضر ت بلال رضی اللہ تعا لی عنہ کی يا ديں مضمر ھيں اس لئے کہ انہيں سب سے پہلے حضو ر اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر آپ ھی نے ادا کيا تھا۔اذان بذات خو د بھی انقلاب پرورھے
چہ جا ئيکہ اسے بلال کا صو تی حسن ميسر آ جا ئے دل خو د بخو د کھينچتےھيں
اور بتيا بيوں ميں سجد ے بے تا ب ھو جا تے ھيں ۔
مسٹر جيمير نے لکھا تھا کہ
“مو ذن کی آواز جو سا دہ مگر نہا يت متين و دلکش ھو تی ھے ۔اگر چہ دن کے وقت شہر کے شو رو غل ميں بھی مسجد کی بلند ی سے دلچسپ اور خو ش آھند معلوم ھو تی ھے ليکن رات کے سنا ٹے ميں اس کا اثراوربھی عجيب طورسے شا عرا نہ معلوم ھو تا ھے يہا ں تک بہت سے اہل يو ر پ بھی پيغمبر صلی اللہ علیہ وسلم
کو اس امر پر مبا رک باد ديئے بغير نہيں رہ سکتے کہ اس نے انسا ن کی آواز کو
موسا ئياں کی تر ھی اور عيسا ئيوں کے گر جا کے گھنٹے پر تر جيع دی”—— ! ! !
اس ميں شک نہيں کہ قدس ،کعبہ اور مد ينتہ الرسول صلی اللہ علیہ وسلم کی
پا کيز ہ فضا ؤ ں کو سب سے پہلے اذان کی روح پر ور آ واز سے جس ہستی نے
مر تعش کيا اوران مقا ما ت کی نسيم ہا ئے قدس ميں شو ق و مستی کی خو شبو يں انڈ يليں وہ حضرت بلال رضی اللہ تعا لی عنہ ھی تھے اور آپ کا مو ذن ھو نا بذات خو د بڑ ی عظمت کی با ت ھے ليکن اس سے بھی زيا دہ قا بل تو جہ با ت يہ کہ بلال معما ر وقت تھے
نقيب وقت تھے
محا فظ وقت تھے
پا سبان وقت تھے
آشنا ئے وقت تھے
چو نکہ اوقا ت کی معر فت سب سے زيا دہ آ پ کو حا صل تھے اس لئے وہ معلن وقت ٹھہرئے۔اگر يہ سچ ھے کہ دينا کی قيمتی تر ين دولت وقت ھو تی ھے تو پھر اس لحا ظ سے متمول تر ين شخص وقت کا قدردان ھو تا ھے اس اعتبا ر سے يوں
کہا جا سکتا ھے کہ
بلا ل مسکين و فقير نہيں
غنی و عظيم تھے اس لئے
کہ کا ئنا ت کا قيمتی تر ين
سر ما يہ وقت ھر دم اور
ھمہ وقت انکی نگا ھو ں کے
سا منے رھتا تھا ۔ميں تو
يو ں کہو ں گا کہ بلال رضی اللہ تعا لی عنہ حضو ر
صلی اللہ علیہ وسلم کے ،صحا بہ کی گھڑ ی
تھے جن کی زبان حق
سے نکلنے والے سر مد ی ترانے
سن کر ھی وہ اللہ کے سامنے جھکتے تھے
فتح مکہ کے مو قع پر کعبہ کی چھت سے افق تا ريخ نے جس عظيم ھستی کی زبان نو ر سے اذان کی گو نج سنی وہ بھی حضرت بلال بن رباح رضی اللہ تعا لی عنہ تھے۔
تمام غزوات ميں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سا تھ سا تھ رھے۔ بد ر ميں آ ٹا
گو ند ھ رھے تھے کہ نظر اميہ بن خلف پر جا پڑ ی۔بجلی کی طر ح اٹھے اور تلو ار لے کر يکا يک اميہ پر حملہ کر ديا ،حضرت عبد الر حمان بن عوف رضی اللہ تعا لی عنہ نے ھر چند پکا را کہ اسے ميں نے پنا ہ دے دی ھے ليکن آپ نے فر ما يا۔
راس الکفر ،
اميہ بن خلف…
لا نجو ت …ان نجا
کفر کا سر غنہ اميہ بن خلف ھے
اگر کو ئی چھو ڑے بھی تو ميں اسے نہيں چھو ڑ سکتا
تھو ڑ ی ھی دير بعد تا ريخ بلال رضی اللہ تعا لی عنہ کو تپتی ريت پر گھسيٹنے والے اميہ بن خلف کا خون تلو اروں سے ٹپکتے ديکھ رھی تھی۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رفيق اعلی سے جا ملے تو حضرت بلال رضی اللہ تعا لی عنہ حضر ت ابو بکر صديق رضی اللہ تعا لی عنہ کی خد مت ميں حا ضر
ھو ئے اور عر ض کی
اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نا ئب !
ميں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فر ما تے سنا
مومن کا افضل عمل اللہ کی راہ ميں جہا د ھے …
حضر ت ابو بکر رضی اللہ تعا لی عنہ نے فرما يا”بلال تم کيا چا ھتے ھو”؟
“ميں اللہ کی راہ ميں جہا د کے لئے نکلنا چا ھتا ھوں
يہا ں تک کہ مجھے مو ت آ ئے”بلال رضی اللہ تعا لی عنہ نے فر مايا
حضرت صد يق رضی اللہ تعا لی عنہ نے فر ما يا”ھما را مو ذن کو ن ھو گا”۔
بلال رضی اللہ تعا لی عنہ کا پيما نہ صبر چھلک گيا۔آنکھوں سے آنسو جا ری ھو گئے اور فر ما يا حضو ر صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کے ليے بھی اذان نہيں کہہ سکتا ۔
حضرت ابو بکر صديق رضی اللہ تعا لی عنہ نے اصرار فر ما يا اور کہا
ميں نہيں جانے دوں گا
حضرت بلال رضی اللہ تعا لی عنہ فر ما نے لگے
“اگر تم نے مجھے اپنے ليے آزاد کر وايا تھا تو روک لو ليکن اگر اللہ کی رضا کے لئے يہ کا م کيا تھا تو مجھے جانے دو ميں نہيں رک سکتا”
حضرت بلال رضی اللہ تعا لی عنہ شام چلے گئے اور مر ابط و مجا ہد کی حيثيت سے شام ھی ميں رھے…
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عيدين کےتشريف لے جا تے تو بلال رضی اللہ تعا لی
عنہ آگے آگے چلتے۔آپ کے آگے آگے چلنے کا يہ جما ليا تی منظر کون بھو ل سکتا
ھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نےايک با رآپ سےپو چھا بلال رضی اللہ تعا لی عنہ تم کيا کر تےھوکہ ميں جنت ميں تمہا رے قدموں کی آھٹ اپنےسامنےمحسو س کر رہا ھوں آپ نے فر ما يا”ھر طہا رت کے بعد نماز ادا کرنا”۔عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنيوں ميں دين حق کا طا لب جب بھی خدام رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ديکھے گا بلال رضی اللہ تعا لی عنہ آگے آگے نظر آئيں گے ۔
محبت کی يہ بھی ايک ادا تھی کہ جو کچھ کھا نے کے لئے ملتا پہلے جان دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو پيش فر ما تے ايک مو قع پر کھجو ريں پيش کيں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پو چھا
“بلال !يہ کہاں سے…؟
آپ نے فر ما يا …
يا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !
“مير ے پا س جو کھجو ريں تھيں وہ خراب تھيں اس لئے ميں نے وہ دو صا ع دے کر ايک صا ع اس لئے لے ليں کہ آپ کو پيش کر وں ”
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما يا
افسوس… !
بلال رضی اللہ تعا لی عنہ !
“يہ تو سو د ھے اگر تمہيں لينی ھی تھيں تو پہلے اپنی کھجو ريں فر وخت کر تے پھر جو معا وضہ ملتا ان سے يہ کھجو ريں خر يد ليتے”۔
رسالتماب صلی اللہ علیہ وسلم کی طو يل صحبت نے مزاج اس قد ر لطيف بنا ديا کہ سچا ئی ملکہ راسخہ ھو گئی۔ايک مر تبہ آپ کے بھا ئی نے ايک عر بی خا تون کو پيغام نکا ح ديا”
خا ندان والوں نے کہا کہ اگر بلال رضی اللہ تعا لی عنہ تمہا رے عرب ھو نے کی تصد يق کر ديں تو شادی ممکن ھو سکتی ھے۔
آپ سے پو چھا گيا…
آپ فر ما نے لگے
بھا ئيو … !
ميں بلال رباح کا بيٹا ھوں يہ مير ا سگا بھا ئی ھے
دين ميں اونچا آدمی ھے
چا ھو تو شا دی کر و وگر نہ انکا ر کردو
آپ خو د فر ما يا کر تے تھے کہ مير ی اذان جس طر ح لو گوں کے ذہن اور دل ميں گو نجتی ھےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے يہ الفا ظ ہميشہ مير ےدل ميں گو
نجتےرہيں گے۔
بلال !
“فقير ھو کر مر نا نہ کہ غنی ھو کر”
يا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم يہ کيسے ممکن ھو گا ۔بلال رضی اللہ تعا لی عنہ نے فر ما يا
آپ صلی اللہ علیہ وسلم ارشا د فر ما نے لگے
جو رزق ملے اسے چھپا کر نہ رکھنا
اور جو کچھ تم سے ما نگا جا ئے
اسے روک کر نہ رکھنا
عرض کی يا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم يہ کيسے ممکن ھو گا؟
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مايا
“يہ چيز ھو گی يا پھر آگ”
اللہ اکبر !
جو اٹھتا ھے وہ دبتا ھے
اللہ اکبر !
جو چلتا ھے وہ رکتا ھے
اللہ اکبر !
جو بھيجتاھے وہ بلا تا ھے
وہ گھڑ ياں آ پہنچيں اور وہ سا عتيں
جب زما ن و مکاں کا يہ انو کھا منا دی ،
موذن،وفا کيش رسول صلی اللہ علیہ وسلم دينا سے اٹھنے
لگا جان کنی کا عالم طا ری ھوا۔
پاس مو جود بيوی محتر مہ کی زبان پر يہ الفاظ
جا ری ھو گئے
“واحرہ باہ”
ہا ئے مير ی مصيبت
عا شق رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے آنکھيں کھول ديں اور تڑپ کر فر مايا
“واطرہ با ہ”
واہ واہ مير ی خوش
اور…
پھر… !
محبت کا آخر ی گيت
پيا ر کا آخر ی نغمہ
اور عشق کا آخری ترانہ
لبوں سے ادا کيا
غداً نلقی الاحبہ
محمداًوصحبہ
کل ھم دوستوں سے مليں گے
جان محبت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور
آپ کے سا تھيوں کی زيا رت کر يں گے
اسی کے سا تھ شہيد محبت کی نطق نے
اسم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بو سے ليے اور جان
جاں آفريں کے سپر د کر دی
انا اللہ وانا اليہ راجعون
*******

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s