شیخ محمد بن عبد الوہاب نجدی

شیخ محمد بن عبد الوہاب نجدی 1703 ھ 1115 ع تا 1792 ھ 1602 ع بارھویں صدی کی ابتداء میں پیداہوئے ، ان کی شخصیت نے ملت اسلامیہ میں افتراق اور انتشار کا ایک نیا دروازہ کھولا ، اہل اسلام میں‌کتاب و سنت کے مطابق جو معمولات صدیوں سے رائج تھے ، انہوں نے ان کو کفر اور شرک قرار دیا ، مقابر صحابہ اور مشاہد و مآثر کی بے حرمتی کی ، قبہ جات کو مسمار کیا ، رسومات صحیحہ کو غلط معنی پہنائے اور ایصال ثواب کی تمام جائز صورتوں کی غلط تعبیر کرکے انہیں الذبح لغیر اللہ اور النزر لغیر اللہ کا نام دیا ، توسل کا انکار کیا اور انبیاء کرام علیہم السلام اور صلحاء امت سے استمداد اور استغاثہ کو یدعون من دون اللہ کا جامہ پہناکر عبادت لغیراللہ قرار دیا ، انبیاء علیہم السلام ، ملائکہ کرام ، اور حضور تاجدار مدنی محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم سے شفاعت طلب کرنے والوں‌کے قتل اور ان کے اموال لوٹنے کو جائز قرار دیا۔
شیخ نجدی نے جس نئے دین کی طرف لوگوں کو دعوت دی ، وہ عرف عام میں وہابیت کے نام سے مشہور ہوا اور ان کے پیروکار وہابی کہلائے چنانچہ خود شیخ نجدی کے متبعین اپنے آپ کو برملا وہابی کہتے اور کہلاتے ہیں چنانچہ علامی طنطاوی نے لکھا ہے :
امامحمد ، فھو صاحب الدعوۃ التی عرفت بالوھابیۃ
( محمد بن عبد الوہاب نے جس تحریک کی دعوت دی تھی ، وہ وہابیت کے نام سے معروف ہے )۔
( شیخ علی طنطناوی جوہری مصری متفوفی 1358 ھ ، محمد بن عبد الوہاب نجدی صفحہ 13 )

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s