ایمان

اللہ عزوجل قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے ” ( پ ۷ رکوع ۸۱ 
 یہ ہے اللہ عزوجل تمہارا رب اور اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں ہر چیز کا بنانے والا تو اسے پوجو، وہ ہر چیز پر نگہبان ہے ۔       ( کنزالایمان )
 حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے ، اچانک ایک شخص ہمارے سامنے آیا جس کے کپڑے نہایت سفید اور بال کالے سیاہ تھے ۔ نہ اس پر سفر کی کوئی علامت دکھائی دیتی تھی اور نہ ہم میں سے کوئی اسے جانتا تھا ۔ آخروہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھ گیا اور اس نے اپنے گھٹنے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنوں سے ملا دئیے اور اپنے دونوں ہاتھ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے رانوں پر رکھ دئیے۔ پھر کہنے لگا : اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) مجھے اسلام کے بارے میں بتائیے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسلام یہ ہے کہ تو گواہی دے کہ اللہ د کے سواکو ئی معبود نہیں اور محمد( صلی اللہ علیہ وسلم )اللہ کے رسول ہیں ۔ اور تو نماز پڑھے ، زکوة دے ، رمضان کے روزے رکھے اور کعبة اللہ کا حج کرے اگر تو اس کے راستے کی استطاعت رکھتا ہو ۔  اس نے جواب دیا : آپ نے سچ فرمایا ۔( راوی کہتے ہیں ) ہمیں اس پر تعجب ہوا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال بھی کرتا ہے اور پھر ان کی تصدیق بھی کرتا ہے ۔ پھر اس نے کہا : مجھے ایمان کے بارے میں بتائیے ۔ رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( ایمان یہ ہے کہ ) اللہ کے فرشتوں ، اس کی کتابوں ، اس کے رسولوں ، اور آخرت کے دن پر اور بھلی ، بُری تقدیرپرایمان لائے۔اس شخص نے کہا:آپ نے سچ فرمایا۔پھر اس نے کہا ” مجھے احسان کے بارے میں بتائیے “۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( احسان یہ ہے کہ ) تو اللہ عزوجل کی عبادت اس طرح کرے کہ گویا تو اسے دیکھ رہاہے ۔ اگر تو اسے دیکھ نہیں سکتا تو ( کم از کم اتنا خیال ہو کہ ) وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔ ( مسلم شریف)
  میرے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے پیارے دیوانو ! مذکورہ بالا حدیث پاک کی تشریح کرتے ہوئے حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمة اللہ تعالیٰ علیہ تحریر فرماتے ہیں ”اسلام ، ظاہری اعمال کا نام ہے (مثلانماز پڑھنے ، روزہ رکھنے ، زکوٰة دینے ، وغیرہم کا ) اور ایمان نام ہے اعتقاد باطن کا( مثلاً اللہ عزوجل اور اس کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دل سے ماننے کا )اور اسلام و ایمان کے مجموعے کا نام دین ہے ۔“
ایمان باللہ عزوجل اور اس کے تقاضے
  میرے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے پیارے دیوانو !اللہ عزوجل پرایمان لانے کے بعداس کا تقاضہ یہ ہے کہ بندہء مومن اپنے معبودِبرحق کے ہر ہر حکم کا تابع و فرمانبردار رہے ۔ اور اس کے نائب مطلق ،نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں سرشار ہوکر آپ کی لائی ہوئی شریعت کے احکامات کا پابند رہے ۔ تاکہ بندہ، رِضائے الٰہی کا حقدار ہو جائے ۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s