عالمی اسلامی اقتصادی فورم کی سفارشات

عالمی اسلامی اقتصادی فورم کی سفارشات

شیخ الاسلام امام احمد رضا کے چار نکاتی معاشی و تعلیمی پروگرام کی بازگشت

مدیر اعلیٰ صاحبزادہ سید وجاہت رسول قادری کے قلم سے

            قارئین کرام!

            السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

            آپ کو یاد ہوگا کہ معارفِ رضا، ماہِ اکتوبر 2003ءکے اداریئے میں ہم نے عالمِ اسلام کو متوجہ کیا تھا کہ موجودہ حالات کے تناظر میں امام احمد رضا کی پیش کردہ ”تدبیر فلاح و نجات و اصلاح“ آج بھی بہترین لائحۂ عمل ہے۔

            حال ہی میں اسلام آباد، پاکستان میں منعقدہ تین روزہ عالمی اسلامی اقتصادی فورم کے اختتام پر جو مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا ہے اور جسے ملک اور بیرونِ ملک کے تمام پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا نے نشر کیا ہے، آپ اس کو ملاحظہ فرمائیں تو آپ کو شیخ الاسلام احمد رضا خاں قادری حنفی علیہ الرحمۃ کے درج ذیل چار نکاتی معاشی و تعلیمی پروگرام کی بازگشت مزید تشریح و تفصیل کے ساتھ سنائی دے گی۔

            1۔ مسلمان اپنے وسائل پس انداز کریں، غیر ضروری اور غیر پیداواری اخراجات سے اجتناب کرکے صنعت و حرفت و تجارت میں سرمایہ کاری کرکے اپنی پیداواری صلاحیت کو بڑھائیں۔

            2۔ مسلمان اپنے ملکوں کے تمام اہم شہروں میں جدید اسلامی بینکاری کا جال بچھائیں، جس سے ایک طرف پس انداز کرنے والے اور سرمایہ کاری کرنے والے تمام افراد کو ترغیب ملے اور دوسری جانب اقتصادی ترقی کے لئے فنڈ کی فراوانی کی سہولیات میسر آئیں۔

            3۔ مسلمان ممالک اپنی مشترکہ منڈی قائم کریں اور ایک دوسرے کے وسائل کے بہتر استعمال کے ساتھ اپنی صنعت و حرفت و تجارت کو عالمی پیمانہ پر اسطرح فروغ دیں کہ دوسری قوموں کی دست نگری سے نجات حاصل ہوکر خودانحصاری کی منزل کی طرف گامزن ہوجائیں۔

            4۔ مسلمان علمِ دین (یعنی علمِ نافع) کی ترویج و اشاعت کریں۔

            (واضح ہو کہ جب امام احمد رضا علمِ دین کی اشاعت کی بات کرتے ہیں تو اس میں قرآن و سنت کے علاوہ اپنے دور کے وہ تمام عقلی و نقلی یعنی روایتی، سائنسی اور معاشرتی علوم شامل ہوتے ہیں جو کسی نہ کسی اعتبار سے دینِ اسلام کی اشاعت و تبلیغ، ملک و ملت اسلامیہ اور معاشرے کے افراد کی ترقی اور ملک و قوم کی بقا اور عسکری و صنعتی قوت کے لئے معاون و ممد ہوسکتے ہیں یا بطورِ آلہ استعمال ہوسکتے ہیں۔)

            اسلامی اقتصادی فورم کے مشترکہ اعلامیہ میں جن خاص خاص باتوں پر زور دیا گیا ہے اور جن پر تفصیلی و سَیر حاصل بحث و مباحثہ کیا گیا ہے، وہ درج ذیل ہیں:

            1۔ مسلم دنیا جلد اپنا آزاد تجارتی علاقہ بنائے۔

            2۔ تجارت میں اضافہ کے لئے نجی سرمایہ کاری اور محنت کے بہاو ¿ میں تیزی لائی جائے۔

            3۔ اسلامی بینکاری، فائنانس اور انشورنس کے فروغ پر توجہ دے۔

            4۔ ریجنل اور سب ریجنل تجارت میں اضافہ کے لئے اسلامی ٹریڈ ایریا قائم کیا جائے۔

            5۔ سرمایہ کاری اور اقتصادی ترقی کے لئے مطلوب فضا پیدا کی جائے۔

            6۔ اسلامی دنیا میں چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے درمیان رابطوں کو فعال بنایا جائے اور اس کے لئے ایک عالمی نیٹ ورک قائم کیا جائے۔

            7۔ تعلیم، سائنس اور ٹیکنالوجی، صحت، سرمایہ کاری اور دیگر شعبوں میں تعاون بڑھایا جائے اور اس میں او۔آئی۔سی اپنا فعال کردار ادا کرے۔ تعلیم کے فروغ کے لئے ورلڈ ایجوکیشن ٹاسک فورس بنائی جائے۔

            بلاشبہ اسلامی اقتصادی فورم میں جو خوبصورت تجاویز، تصورات، خیالات اور نظریات پیش کئے گئے ہیں وہ اپنی افادیت کے اعتبار سے نہایت اہم ہیں، کوئی بھی ذی فہم شخص اس کی اہمیت سے انکار نہیں کرسکتا لیکن ان کے فوائد کا حصول جب ہی ممکن ہے جب مسلم ممالک اس اہم فورم کی سفارشات پر پورے خلوص و انہماک تدبر اور غیرجانبداری کے ساتھ عمل کریں اور اس کے لئے اسلامی کانفرنس تنظیم (او۔آئی۔سی) کو فعال بنانا ناگزیر ہے۔ اس سے قبل او۔آئی۔سی کے اجلاسوں میں بڑی اچھی اچھی تجاویز سامنے آتی رہی ہیں لیکن دنیا نے دیکھا کہ وہ محض کاغذی کاروائی تک محدود رہیں۔ اسی طرح ملائیشیا میں منعقدہ پہلے عالمی اسلامی اقتصادی فورم میں بھی متعدد مفید تجاویز و سفارشات پیش کی گئیں اور او۔آئی۔سی کے مختلف اجلاسوں میں اس کو عملی جامہ پہنانے پر زور بھی دیا گیا لیکن عملی طور پر آپس میں تجارت کے حجم میں اضافہ نظر آیا اور نہ ہی صنعتی ترقی کے لئے مشترکہ کوششیں دیکھنے میں آسکیں۔ حالآنکہ دوسری جانب ہمارے سامنے یورپ کے ایسے چھوٹے چھوٹے ممالک کی مثالیں موجود ہیں جنہوں نے معدنی اور قدرتی وسائل نہ ہونے کے باوجود اپنی صنعتوں پر توجہ دی اور ہم سے بہت آگے نکل گئے۔

            اس وقت جبکہ گلوبل سطح پراقتصادی، فوجی اور سیاسی تبدیلیاں بہت تیزی سے رونما ہورہی ہیں اور خصوصاً عالمِ اسلام کو سنگین چیلنجوں کا سامنا ہے، ہم مزید کوتاہیوں کے متحمل نہیں ہوسکتے۔

            اگر آپ دنیا کے نقشے کو ملاحظہ کریں تو آپ دیکھیں گے مسلم دنیا انڈونیشیا سے مراکش کے علاقہ تک ایک وسیع و عریض خطے پر جغرافیائی بلاک کی صورت میں پھیلی ہوئی ہے۔ دنیا بھر آزاد و خودمختار مسلم ممالک کی تعداد 57 کے لگ بھگ ہے۔ دنیا میں مسلمانوں کی آبادی ایک ارب 52کروڑ کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے جو دنیا کی کُل آبادی کا 19فیصد ہے۔ وسائل، افرادی قوت آور صلاحیت کے اعتبار سے صورتحال بڑی امید افزا ہے۔ دنیا میں 70فیصد تیل کے ذخائر مسلم ممالک کے پاس ہیں جن میں عراق، ایران، سعودی عرب اور خلیجی ریاستوں کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ لیکن انتہائی افسوسناک صورتحال یہ ہے کہ امتِ مسلمہ کی اکثریت آج بھی غربت و پس ماندگی کا شکار ہے۔ دنیا کے مسلمانوں کی تقریباً 39 فیصد آبادی آج بھی غربت کی انتہائی سطح سے بھی نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے۔ دنیا کی آبادی کا 19فیصد ہونے کے باوجود آمدن میں مسلمانوں کا حصہ بمشکل 6فیصد اور بین الاقوامی تجارت میں 8فیصد ہے جبکہ باہمی تجارت 13فیصد تک ہے اور زیادہ تر مسلم ممالک اربوں ڈالر کے تجارتی خسارے میں پھنسے ہوئے ہیں۔ بے پناہ وسائل کے حامل ہونے کے باوجود عالمِ اسلام، پس ماندگی، وسائل کے ضیاع، صنعت و حرفت و تجارت، تعلیم اور سیاست کے عصری تقاضوں سے لاعلمی اور بے خبری اور عالمی نظام کے حقائق سے دیدۂ دانستہ چشم پوشی کی بیماری میں مبتلا ہے۔

            اقتصادی تجزیہ نگاروں کے مطابق وسائل سے مالامال ان مسلم ممالک کی اقتصادی پس ماندگی کے جہاں دیگر اسباب مثلا انسانی اور قدرتی وسائل کے ضیاع اور ”گڈگورنینس“ کی صلاحیتوں کا فقدان ہے، وہیں اس کا ایک بہت بڑا سبب ان ممالک پر آمرانہ ذہنیت کے افراد کی حکمرانی اور موروثی نظام حکومت (بادشاہت) ہے۔ ایک طرف تو کثیر معدنی وسائل سے مالامال ہونے کے باوجود ان ممالک میں پس ماندگی کا فیصد کم ہونے کی بجائے بڑھتا ہی جارہا ہے تو دوسری طرف ملک کے عیاش حکمراں اور بادشاہ ان وسائل سے حاصل شدہ کھربوں ڈالر کی دولت کو اپنے نجی کھاتوں میں جمع کرکے یورپ و امریکہ کے یہودی اور نصرانی بینکوں میں منتقل کرتے جارہے ہیں۔ اگر یہ خود غرض حکمراں صرف ان بینکوں سے نکلواکر انہیں مسلمان ملکوں کے بینکوں میں جمع کرادیں اور ان کی صنعتی اور معاشی ترقی میں سرمایہ کاری کے لئے استعمال کریں تو نہ صرف یہ کہ یورپی ممالک اور امریکہ کی معیشت کا شیرازہ بکھرجائے گا بلکہ مسلم ممالک کے عوام کی غربت میں بے پناہ کمی اور خوشخال میں حیرت انگیز اضافہ ہوگا۔

            اسلامی اقتصادی یونین کا قیام ہر مسلمان کے دل کی تمنا اور مسلم امہ کے اصلی تصور کے مطابق ایک فطری امر ہے۔ بات صرف حکمرانوں کی نیک نیتی، خشیتِ الٰہی، اللہ تعالیٰ پر کامل ایمان، اس کے رسولِ مکرم کے ساتھ سچی محبت اور ان کی اتباع، پھر خلوصِ نیت کے ساتھ عمل اور عزم و استقلال کے ساتھ حصولِ مقاصد کے لئے جدوجہد کی ہے۔ اسلامی اقتصادی فورم کے چیئرمین موسیٰ حطام صاحب نے اس فورم کے اختتام پر مسلم ممالک کو متنبہ کیا ہے کہ ”اگر اس فورم کے بعد بھی مسلم امّہ نے اقتصادی ترقی کے لئے ترتیب دی گئی مربوط سفارشات پر عمل نہ کیا تو اسلامی دنیا کو کوئی فائدہ نہ ہوگا۔“ لیکن شیخ الاسلام امام احمد رضا علیہ الرحمۃ نے مسلمانوں کے فلاح و نجات و اصلاح کے لئے جو تجاویز پیش کی ہیں ان کے اختتام پر نہایت واضح الفاظ میں تنبیہ کی ہے اور ایک نہایت اہم نکتہ کی نشاندہی کی ہے کہ معاشی اور اقتصادی ترقی کے حصول کی لالچ میں یہود و نصاریٰ کی بود و باش اختیار نہ کی جائے بلکہ:

            ”بہتر ہے کہ مسلمان اپنی سلامت روی پر قائم رہیں اور کسی شریر قوم کی چال نہ سیکھیں۔“

            دوسری جگہ مزید تحریرکرتے ہیں:

            ”یہ وجوہ ہیں، یہ اسباب، مرض کا علاج چاہنا اور سبب قائم رکھنا حماقت نہیں تو اور کیا ہے۔“

            کاش کہ مسلمانانِ عالم خصوصاً جنوبی ایشیاءکے مسلمان آج سے سو سال قبل امام احمد رضا کی آواز پر لبیک کہتے تو آج معاشی، اقتصادی اور فوجی طاقت کا تواز مسلمانوں کے حق میں ہوتا۔

            اسلامی اقتصادی فورم کی جو سفارشات سامنے آئی ہیں ان میں تعلیم، سائنس اور ٹیکنالوجی اور خواتین کی ترقی اور ان کی تعلیم و تربیت پر بھی زور دیا گیا ہے اور یہ ایک اہم امر کی طرف نشاندہی کی گئی ہے۔ اس سے کسی کو اختلاف نہیں ہوسکتا۔ لیکن جو اہم بات ہے وہ یہ کہ اسلامی اقتصادی فورم تعلیم کے فروغ کے لئے جو نصاب مرتب کرنا چاہتا ہے وہ کیا ہوگا؟ کیا مسلم ممالک میں سیکولر نظامِ تعلیم کو فروغ دینا مطمحِ نظر ہے؟ اس کا جواب اس کی تفصیل میں ہی دیکھا جاسکتا ہے۔ لہٰذا ہم مسلم ممالک کے حکمرانوں خصوصاً پاکستان کے حکمرانوں پر یہ بات واضح کردینا چاہتے ہیں کہ اسلامی اقتصادی فورم کی سفارشات کے تحت فروغ تعلیم کے لئے آپ جو بھی لائحۂ عمل بنائیں، بنیادی اسلامی تعلیم کا ڈھانچہ برقرار رہے، اس میں کسی قسم کی کتربیونت یا بیرونی پیوندکاری مسلمان برداشت نہیں کریں گے۔ اس لئے کہ ہم اول و آخر مسلمان ہیں،ہمارا حق ہے کہ ہم اپنے مذہب ومسلک کے متعلق جو ضروری معلومات ہیں وہ حاصل کریں اور اسی کے مطابق اپنی زندگیاں گذاریں۔ ایک مسلمان کا یہی سب سے بڑا شرف ہے۔ ہمارا دین، دینِ فطرت ہے۔ ہمارے دین نے دین اور دنیا دونوں کی فلاح کے اصول دیئے ہیں۔ اس لئے ہمیں کسی جدید یا سیکولر نظامِ تعلیم سے مشرف ہونے کی ضرورت نہیں۔ دوسرے یہ کہ اسلامی مدارس جو اسلامی علوم کے تخصص کی فیکلٹی ہیں، ان کے نصاب میں جدید دور کے حالات کے اعتبار سے ضرور ردّ و بدل کی جائے تاکہ وہاں کا فارغ التحصیل طالب معاشرہ کا ایک باخبر اور کارآمد فرد بن سکے، لیکن قرآن و حدیث کے جو نقلی علوم صدیوں سے ہمارا قیمتی ورثہ چلے آرہے ہیں اور جو دین کی ترویج و اشاعت اور اس کی تشریح و تبلیغ کے لئے نہایت اہم منبع ہیں ان کا نصاب سے اخراج مسلمانوں کے لئے ناقابلِ قبول ہوگا،سردھڑ کی بازی لگاکر وہ اس کو جاری رکھیں گے۔

            تیسرے یہ کہ خواتین ہمارے معاشرہ کا ایک بہت بڑا حصہ ہیں۔ آئندہ نسل کی صحیح تعلیم و تربیت اور صالح معاشرہ کے قیام میں ان کی بڑی ذمہ داری ہے۔ ان کی تعلیم وتر بیت اور صحت کے متعلق ایک جامع پروگرام وقت کی اہم ضرورت ہے خصوصاً دیہاتی علاقوں کی خواتین کی ناگفتہ بہ حالت کے سنوارنے کے لئے ایسے پروگرام کو ملک گیر پیمانے پر عمل در آمد کروانے کی اشد ضرورت ہے تاکہ ان مظلوم خواتین کے سدھار کے ساتھ صالح معاشرہ آئندہ تشکیل پذیر رہے لہٰذا اس کے لئے بھی خواتین کو بنیادی اسلامی تعلیمات سے آگاہ کرنا از بس ضروری ہے۔ لیکن فی الوقت حکومت کی آشیرباد کے ساتھ ملک کے پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا خواتین کو سرِ بازار لاکر فحاشی و عریانی کے فروغ میں جو کردار ادا کررہا ہے۔ اس کے پیشِ نظر خدشہ پیدا ہوتا ہے کہ اسلامی اقتصادی فورم کے اس پروگرام کو عملی جامہ پہنانے والے حکومت کے سیکولر ذہن کے ارباب و حل و عقد اس کو بھی اپنے مذموم مقاصد کے لئے استعمال نہ کریں۔ اگر خدانخواستہ ایسا ہوا تو حکمرانوں پر واضح ہوجانا چاہئے کہ پاکستان کے مسلمان اسے برداشت نہیں کریں گے۔ پھر ان کے لئے اپنی بساطِ سیاست لپیٹ لینے کے علاوہ کوئی چارۂ کار نہیں ہوگا۔

            ان چند تحفظات کے باوجود ہم اسلامی اقتصادی فورم کی ان سفارشات کا خیرمقدم کرتے ہیں اور حسنِ ظن رکھتے ہوئے توقع کرتے ہیں کہ مسلم حکمران خصوصاً اسلامی جمہوریہ پاکستان کے حکمران جنہوں نے اسلامی قوانین کے نفاذ کا حلف اٹھایا ہوا ہے، خلوصِ نیت اور خشیتِ الٰہی کے ساتھ پاکستان اور عالمِ اسلام کے مسلمانوں کی دنیاوی اور اخروی فلاح کی خاطر اسلامی اقتصادی فورم کی جائز سفارشات کو جلد از جلد عملی جامہ پہنانے کی کوشش کریں گے۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی خوشنودی کی خاطر وہ جو کام بھی کریں گے ان شاءاللہ فتوحات ان کے ساتھ ہوں گی۔ ہم بھی ان کی کامیابی کے لئے دعاگو ہیں اور علامہ اقبال کا یہ شعر ان کی نذر کرتے ہیں:

آج بھی ہو جو براہیم کا ایماں پیدا

آگ کرسکتی ہے اندازِ گلستاں پیدا

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s