علوم قرآن اور ملت اسلامیہ

علوم قرآن اور ملت اسلامیہ

مدیر “معارف رضا”   پروفیسر ڈاکٹر مجید اللہ قادری   کے قلم سے

                        قارئین کرام!

            آیاتِ ربانی و ارشاداتِ حضرت رسولِ گرامی صلی اللہ علیہ وسلم اس ملتِ اسلامیہ کو قرآن مجید کے ساتھ مضبوط وابستگی کا درس دے رہے ہیں، یہ ملتِ اسلامیہ نہ گمراہ ہوگی، نہ مغلوب جب تک اس کتاب اللہ اور صاحبِ کتاب کے دامن کو تھامے رہے گی اور الحمدللہ اس ملتِ اسلامیہ کا وہ سنہرا زمانہ تاریخ میں محفوظ ہے کہ ہند سے لے کر یورپ کے آخری کنارے اسپین تک اسی قرآن و حدیث کے پیروکاروں کی حکومت تھی اور لگ بھگ ایک ہزار برس تک مسلمان مدبر (سائنسدان) پوری دنیا پر چھائے رہے، یہ سب ان کی قرآن مجید سے وابستگی کا نتیجہ تھی۔ جیسے جیسے مسلمانوں نے قرآن مجید کا دامن چھوڑا، علوم و فنون کے دروازے بھی بند ہوتے چلے گئے اور نوبت یہاں تک آپہنچی کہ دنیاوی علوم جو دنیا کی ہزاروں جامعات میں پڑھائے جاتے ہیں وہ سب کے سب غیرمسلموں کی لکھی ہوئی کتابوں کی روشنی میں پڑھائے جاتے ہیں، ان کتابوں میں شاید چند کتابیں مسلمانوں سائنسدانوں کی لکھی ہوئی ہوں گی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا مسلمانوں نے علم حاصل کرنا چھوڑ دیا یا بہت ہی قلیل تعداد دنیاوی علوم حاصل کررہی ہے یا پھر مسلمانوں نے تدبر اور تفکر جیسے اعلیٰ وصف کو ترک کردیا، آیئے اس کا ایک سرسری جائزہ لیتے ہیں۔

            اللہ تعالیٰ کا قرآنِ مجید و فرقانِ حمید میں ارشاد ہے:

أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآَنَ وَلَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللَّهِ لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا (النساء:82)

            تو کیا غور نہیں کرتے قرآن میں اور اگر وہ غیر اللہ کے پاس سے ہوتا تو ضرور اس میں بہت سے اختلاف پاتے۔

            ایک اور مقام پر ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

            أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآَنَ وَلَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللَّهِ لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا  (ص: 29)

            یہ ایک کتاب ہے کہ ہم نے تمہاری طرف اتاری برکت والی تاکہ اس کی آیتوں کو سوچیں اور عقلمند نصیحت مانیں۔

            نبی آخر الزماں حضرت محمد مصطفی نے آخری خطبہ (حج) عام میں لگ بھگ ایک لاکھ چوبیس ہزار اصحاب کے سامنے خطاب میں ارشاد فرمایا:

            اولھما کتاب اللہ فیہ الھدی والنور فخذوا بکتاب اللہ واسمتسکوا بہ فحث علی کتاب اللہ ورغب فیہ

            پہلی چیز کتاب اللہ ہے، اس میں ہدایت اور نور ہے تو خدا کی کتاب کو پکڑے رہو اور اسی سے دلیل لیا کرو۔ لوگوں کو کتاب اللہ کی طرف رغبت دلا۔

            ایک مقام پر یوں بھی ارشاد فرمایا:

            لوگو! کتاب اللہ کو پکڑے رہو، جب تک اس کتاب اللہ کو پکڑے رہو گے، گمراہ نہ ہوگے۔

            حضرت امام عبد الرحمن السیوطی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ارشاد گرامی ہے:

            کائنات میں کوئی ایسی چیز نہیں جس کا استخراج اور استنباط آپ قرآن کریم سے نہ کرسکیں لیکن یہ علوم و معارف اس پرآشکار ہوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے فہم عطا فرمایا ہے۔

            نبی کریم نے ظاہری دنیا سے پردہ فرماتے وقت ایک لاکھ چوبیس ہزار سے زیادہ صحابہ کرام کا گروہ رہتی دنیا تک کی تعلیم و تربیت کے لئے اپنے پیچھے چھوڑا۔ یہ سب کے سب ہدایت کے نور تھے۔ کیوں؟ اس لئے کہ یہ سب پورے قرآن مجید کے عامل اور حضور کی تمام احادیث کے مکمل پیروکار تھے۔ چنانچہ تمام صحابہ کرام عملاً سرچشمہ ہدایت تھے اور انہوں نے یہ نور اپنی next generation تابعین میں پورا پورا منتقل کیا اور تابعین کے گروہ نے تبع تابعین میں یہ قرآن و حدیث کا ذخیرہ منتقل کیا اور یہ سلسلہ صدیوں چلتا رہا۔ احقر یہاں سیاسی، مولی معاملات پر بحث نہیں کرے گا مگر اس بات کی نشاندہی ضرور کرے گا کہ لگ بھگ قرآن مجید کے نزول کے ایک ہزار برس تک مسلمانوں میں قرآن مجید سے تفکر و تدبیر کا رشتہ قائم رہا اور جب تک یہ سلسلہ قائم رہا۔ مسلمان دنیاوی علوم پر بھی دنیا میں غالب رہے اور نئی نئی ایجادات کا سلسلہ جاری رہا ہے لیکن جب غیر مسلموں نے دنیاوی علوم میں مسلمانوں کا مقابلہ شروع کیا تو مسلمانوں نے نہ جانے کیوں ہتھیار ڈالنا شروع کردیئے اور آہستہ آہستہ غیر مسلم سائنسدان غالب ہوتے چلے گئے اور اب حال یہ ہے کہ آج ہم صحابہ کرام کے دور کے مقابلہ میں کم از کم 2000 گنا تعداد میں زیادہ ہیں مگر قرآن مجید کی روشنی میں دنیاوی علوم و فنون کا مقابلہ کرنے والے شاید دورِ حاضر میں ایک بھی جید مسلمان سائنسدان نہیں ہے۔ افسوس کہ قرآن مجید بار بار نشاندہی فرماتا ہے:

مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِنْ شَيْءٍ (الانعام:38)

ہم نے اس کتاب میں کچھ اٹھا نہ رکھا۔

We have left out nothing in the Book.

وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ تِبْيَانًا لِكُلِّ شَيْءٍ  (النحل:89)

اور ہم نے تم پر یہ قرآن اتارا کہ ہر چیز کا روشن بیان ہے۔

And we have sent down this Quran on You in which, everything (knowledge) is clearly explained.

وَلَا رَطْبٍ وَلَا يَابِسٍ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُبِينٍ (الانعام:59)

اور نہ کوئی تر اور نہ خشک جو ایک روشن کتاب میں لکھا نہ ہو۔

And nor anything wet or nor dry which is not written in a luminous book.

            قارئین کرام! آیئے تاریخ کے صفحات کو الٹتے ہیں، دیکھئے کیا شاندار ماضی ہے ہمارے مسلمان سائنسدانوں کا۔۔۔

مسلمان سائنسدانوں کی خدمات کا انتہائی سرسری جائزہ:

1۔         ابو اسحاق ابراہیم بن جندب (م 157ھ/ 776ء)

            دور بین کا موجد

2۔         جابر بن حیان (م 198ھ/ 817ء)

            علمِ کیمیا کا بانی اور کئی مرکبات کا موجد

3۔         عبد المالک اصمعی (م 213ھ/ 831ء)

            علمِ حیوانات، نباتیات کی ابتدائی 5 کتابوں کا مصنف

4۔         حکیم یحییٰ منصور (م 214ھ/ 832ء)

            دنیا کی پہلی observatory کا صدر اور فلکیاتی جدول کا بانی/ موجد

5۔         محمد بن موسیٰ خوارزمی (م 232ھ/ 850ء)

            الجبرا کا موجد اور الجبرا و حساب کی کتابوں کامصنف

6۔         احمد بن موسیٰ شاکر (م 240ھ/ 850ء)

            پہلا Mechanical Eng. اور اس موضوع پر پہلی کتاب کا مصنف

7۔         ابو عباس احمد محمد کثیر (م 243ھ/ 861ء)

            زمین کا صحیح محیط Circumferences معلوم کرنے والا پہلا سائنسدان

8۔         ابو یوسف یعقوب بن اسحاق کندی (م 254ھ/ 873ء)

            پہلا مسلم فلسفی

9۔         محمد ذکریا رازی (م 308ھ…. 932ء)

            طب کا امام، میزانِ طبعی اور الکحل کا خالق

10۔       حکیم ابو نصر محمد بن فارابی (م 338ھ/ 961ء)

            علمِ نفسیات کا عظیم ماہر

11۔       ابو علی حسن ابن الہیثم (م 410ھ/ 1021ء)

            کیمرہ کا موجد، آنکھ کی پتلی کا محقق، انعطاف نور کے نظریہ کا ماہر

12۔       احمد بن محمد علی مکویہ (م 421ھ/ 1032ء)

            نباتیات، حیوانات کا ماہر، دماغی ارتقاءکی دریافت کرنے والا

13۔       شیخ حسین عبد اللہ بن علی سینا (م 428ھ/ 1039ء)

            علمِ طبیعیات، علم الامراض، الادویہ کے فنون کا موجد، سب سے زیادہ کتابوں کا مصنف

14۔       ابو ریحان محمد بن احمد البیرونی (م 439ھ/ 1049ء)

            پہلا جغرافیہ داں، ماہر آثارِ قدیمہ و ارضیات، دھاتوں کی کثافت کا موجد، برصغیر کا پہلا مورخ

15۔       امام محمد غزالی (م 505ھ/ 1111ء)

            جدید فلسفہ اخلاق کا موجد، نفسیات اور فلسفہ کا عظیم محقق

16۔       امام احمد رضا خاں بریلوی (م 1340ھ/ 1921ء)

تمام ہی تمام دنیاوی علوم و فنون کا ماہر، خاص کر ہیئت، حساب، ٹگنومیٹری، فلسفہ، ارضیات، فلکیات، اقتصادیات، معاشیات، عمرانیات، سیاسیات وغیرہا۔

            دورِ حاضر کے مسلمانوں کا قرآن کریم سے جو رشتہ کمزور ہوگیا تو اس کو ان اشعار میں آسانی سے سمجھا جاسکتا ہے:

درسِ قرآن نہ اگر ہم نے بھلایا ہوتا                             یہ زمانہ نہ زمانے نہ دکھایا ہوتا

ہم نے قرآن کو مسلک جو بنایا ہوتا                           قوم کے خفیہ نصیبوں کو جگایا ہوتا

چاٹ لیں تم نے کتب فلسفہ و منطق کی                     ہاتھ بھولے سے بھی قرآں کو لگایا ہوتا

لائی ہر ڈاک، تِرے واسطے لندن سے کتاب                   گھر سے ہمسائے کے قرآن بھی منگایا ہوتا

وہ جو انجیل یہاں تجھ کو سنانے آئے                         تُونے قرآن وہاں جاکے سنایا ہوتا

قوم کے درد کا درماں ہے تو ہے قرآن                            مفلسی میں کوئی ساماں ہے تو ہے قرآن

            قارئین کرام! راقم نے یہاں چند قرآنی آیات عنوانات کے تحت درج کی ہیں تاکہ ہم اس بات کا احساس کرلیں کہ ہماری یہ کتابِ مبین ہمیں ہر علم کےبارے میں ہدایت فراہم کررہی ہے۔ آیئے چند آیات اور ان کا ترجمہ ملاحظہ کریں۔

القرآن:    كِتَابٌ أَنْزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِيَدَّبَّرُوا آَيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ (ص: 29)

            یہ ایک کتاب ہے کہ ہم نے تمہاری طرف اتاری برکت والی تاکہ اس کی آیتوں کو سوچیں اور عقلمند نصیحت مانیں۔

We have sent down a Book to you that is blessed, so prudent men may ponder over its verses and therebye be reminded.

القرآن:   إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآَيَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ O الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ O  (اٰلِ عمران: 190-191)

            بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات دن کی باہم بدلیوں میں نشانیاں ہیں عقلمندوں کے لئے۔ جو لوگ اللہ کی یاد کرتے ہیں کھڑے اور بیٹھے اور کروٹ پر لیٹے اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے ہیں، اے رب ہمارے تُونے یہ بیکار نہ بنایا۔

In the Creation of Heavens and Earth and the atternation between night and day light, there are signs for prudent persons who remember Allah while standing, sitting and lying on their sides, and mediate on the creation of Heaven and Earth (by saying) Our Lord, You have not created this in vain. Glory be to You, shield us from tormont of fire.

القرآن:   وَعِنْدَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا هُوَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَا تَسْقُطُ مِنْ وَرَقَةٍ إِلَّا يَعْلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِي ظُلُمَاتِ الْأَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَلَا يَابِسٍ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُبِينٍ   (الانعام: 59)

            اور اسی کے پاس ہیں کنجیاں غیب کی، انہیں وہی جانتا ہے اور جانتا ہے جو کچھ خشکی اور تری میں ہے اور جو پتا گرتا ہے وہ اسے جانتا ہے اور کوئی دانہ نہیں زمین کی اندھیریوں میں اور نہ کوئی تر اور نہ خشک جو ایک روشن کتاب میں لکھا نہ ہو۔

He holds the keys to the Unseen, Only He knows them! He known whatever exists on the land and at sea; No leaf drops down unless He knows it, And there is no grain in the darkness of the Earth, and nor anything wet and nor dry which is not written in luminous Books.

پیدائشِ کائنات

القرآن:   الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ  (الفرقان: 95)

            جس نے آسمان و زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے چھ دن میں بنائے پھر عرش پر استویٰ فرمایا (جیسا اس کی شان کے لائق ہے)

He is the one who created Heaven and the Earth as wel as whatever lies in between them, in six days.

علمِ ارضیات

القرآن:   وَالْأَرْضَ بَعْدَ ذَلِكَ دَحَاهَا O  أَخْرَجَ مِنْهَا مَاءَهَا وَمَرْعَاهَا O وَالْجِبَالَ أَرْسَاهَا O (النزعت:30-32)

            اور اس کے بعد زمین پھیلائی۔ اس میں سے اس کا پانی اور پارہ نکالا۔ اور پہاڑوں کو لبھایا۔

And after that He spread out the Earth. He brought forth there from its water and its pasture. And set firmly the mountains.

علمِ نباتات

القرآن: وَجَعَلْنَا سِرَاجًا وَهَّاجًا O وَأَنْزَلْنَا مِنَ الْمُعْصِرَاتِ مَاءً ثَجَّاجًا O لِنُخْرِجَ بِهِ حَبًّا وَنَبَاتًاO (النباء:13-15)

            اور ان میں ایک نہایت چمکتا چراغ رکھا اور پھر بدلیوں سے زور کا پانی اتارا کہ اس سے پیدا فرمائیں اناج اور سبزہ۔

And set a bleezing lamp (Source of Energy and light) there. And send down torrentail rains through (heavy and dark) clouds. So We may (crops out) produce grain and vegitation.

القرآن:  وَاللَّهُ أَنْبَتَكُمْ مِنَ الْأَرْضِ نَبَاتًا O  ثُمَّ يُعِيدُكُمْ فِيهَا وَيُخْرِجُكُمْ إِخْرَاجًا O  (نوح:17-18)

اور اللہ نے نہیں سبزے کی طرح زمین سے اگایا۔ پھر تمہیں اس میں لے جائے گا اور دوبارہ نکالے گا۔

Allah makes you grow out of the Earth like Plants. Later He will return you to it and bring you forth once more.

علمِ حیوانات

القرآن:   وَإِنَّ لَكُمْ فِي الْأَنْعَامِ لَعِبْرَةً نُسْقِيكُمْ مِمَّا فِي بُطُونِهِ مِنْ بَيْنِ فَرْثٍ وَدَمٍ لَبَنًا خَالِصًا سَائِغًا لِلشَّارِبِينَ

 (النحل: 66)

            اور بے شک تمہارے لئے چوپایوں میں نگاہ حاصل ہونے کی جگہ ہے۔ ہم تمہیں پلاتے اس چیز میں سے جو ان کے پیٹ میں ہے گوبر اور خون کے بیچ میں سے خالص دودھ گلے سے سہل اترتا پینے والوں کے لئے۔

You have a lesson livestock (Cattle) [Have you think over it] How we let you drinks of milk that comes from (extracted or sringed from) bellies in between the cud (dung) and blood pure refreshing milk easy to swallow for those whodrink it.

چاند سورج کی حرکات

القرآن:    وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ كُلٌّ يَجْرِي لِأَجَلٍ مُسَمًّى ط۔۔۔ (الرعد:2، الزمر: 5)

            وَقَدَّرَ مَنَازِلَ   (یونس:5)

            سورج اور چاند کو مسخر کیا، ہر ایک، ایک پڑائے ہوئے وعدے تک چلتا ہے۔

            اور اس کی کے لئے منزلیں ٹھہرائیں۔

Made the moon and sun sbservient. Each one runs (move in an orbit) to a term stated [completing their movements or rotation in their orbits in fixed time daily, yearly].

سکونتِ آسمان و زمین

القرآن:  إِنَّ اللَّهَ يُمْسِكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ أَنْ تَزُولَا وَلَئِنْ زَالَتَا إِنْ أَمْسَكَهُمَا مِنْ أَحَدٍ مِنْ بَعْدِهِ  ۔۔۔ (فاطر:41)

            بے شک اللہ روکے ہوئے آسمانوں اور زمین کو کہ جنبش نہ کریں اور اگر وہ ہٹ جائیں تو انہیں کون روکے اللہ کے سوا۔

Allah has definitely withhold the heavens and the Earth, Lest they move. If either should slip or move out of place (static position) no one else would hold on to them beside him Allah.

پیدائشِ انسان

القرآن:   فَإِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ تُرَابٍ  (الحج:5)   ہم نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا۔    Sticky cloy, ringing cloy

القرآن: خلقکم من طین  (الانعام:2)     تمہیں (باریک) مٹی سے پیدا کیا۔    dust/soil, mud clay sond.

القرآن: خلقنھم من طین الاذب (الصفت:11)

چپکتی مٹی سے بنایا۔  We first created you from black smelling mud, extract of clay.

            قارئین کرام! آپ نے ملاحظہ کیا۔ ہماری یہ کتاب قرآن مجید صرف نماز، روزے کے مسائل تک محدود نہیں بلکہ اس کائنات کے اندر موجود تمام اصول و ضوابط کی نشاندہی کرتی ہے، اب اسے آگے بڑھانا ایک مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ ان آیات کے اصول پر تفکر اور تدبر کرے اور اپنے سائنسی علوم کو آگے بڑھانے کے لئے صرف اور صرف قرآن و حدیث کے اصول کو حقیقی اور صحیح جانے اور دنیا کو ایک دفعہ پھر بتائے کہ وہی اصولِ صحیحہ تسلیم کیا جائے گا جو قرآنی اصول کے مطابق ہوگا اگر ہم دورِ حاضر میں کسی مسلمان سائنسدان کو قرآن و حدیث کا عالم نہ پاسکیں تو ماضی قریب میں نظر میں دوڑائیں تو آپ کو 100 سال قبل صرف اور صرف امام احمد رضا قادری برکاتی محدث بریلوی نظر آئیں گے جو ایک طرف مجدد، مجتہد و فقیہہ ہیں تو دوسری طرف طرف ایک عظیم سائنسدان جو سائنس کے کسی ایک علم پر نہیں بلکہ سائنس کے تمام علوم مثلاً علم ہیئت، فلکیات، حساب، الجبرا، ٹگنومیٹری، علمِ نجوم، علمِ کیمیا، ارضیات، حجریات، وغیرہ۔۔ اسی طرح سوشل سائنس کے علوم، سیاسیات، عمرانیات، فلسفہ، نفسیات، اقتصادیات، معاشیات، غرض یہ کہ تمام ہی تمام علوم و فنون جو ان کے دور کے تھے۔ سب پر نہ صرف عبور رکھتے تھے بلکہ ان پر کتابیں اور مقالات یادگار چھوڑے ہیں جن کی تعداد 250 سے زیادہ ہے اور یہ رسائل اردو، فارسی اور عربی تینوں زبانوں میں تحریر کئے گئے ہیں۔ احقر پوری ملتِ اسلامیہ کو اس طرف توجہ دلانا چاہتا ہے کہ ہم مسلمان بالعموم اور دور جدید کے علوم پڑھے ہوئے مسلمان بالخصوص اپنے فرقہ وارانہ معاملات کو ایک طرف رکھیں اور سب کے سب متحد ہوکر مل جل کر قرآن کریم کی ان آیات بینات پر خاص کر غور و فکر کریں جو ہمیں جدید علوم کی طرف رہنمائی کریں اور ہم مغرب اور غیرمسلموں کی تھیوری اور قوانین کے بجائے قرآن و حدیث کی اصول کی روشنی میں قوانین وضع کریں اور ان کو آگے بڑھائیں اور جو قوانین دورِ حاضر کی سائنسی علوم کے قرآن و حدیث سے متضاد ہیں، ان کا حل ہم قرآنی اصول سے مہیا کریں۔

            قرآن کریم کی ان آیات و بینات کی تفصیل سمجھنے کے لئے جس کا تعلق دورِ جدید کی سائنسی علوم سے امام احمد رضا کی کتب اور مقالات تفصیل سے پڑھنے کی ضرورت ہے کیونکہ امام احمد رضا نے دورِ جدید کے علوم سے متعلق اتنا کچھ لکھ دیا ہے کہ اگر ہم مسلمان ان کی تعلیمات کو مطالعہ کریں تو ہم دورِ حاضر کی جدید علوم کی دور میں اپنا انفرادی مقام حاصل کرسکتے ہیں۔ یاد رکھئے ترقی اس بات کا نام نہیں کہ آپ دوسروں کی ٹکنالوجی کو اپنے ملک میں لے آئیں اور اس سے Product حاصل کریں یوں تو ہم نے ان کی تعلیمات کو 100 فیصد قبول کرلیا۔ ترقی کی دوڑ میں ہم اس وقت شامل سمجھے جائیں گے جب ہم اپنی تھیوری اور اپنی ٹکنا لوجی دوسروں کے سامنے پیش کریں ۔ہم مسلمانوں نے تو بالکل ہتھیار ڈال دئیے ہیں جو کچھ باہر کتابوں میں پڑھایا جاتاہے جوکچھ سکھایا جاتا ہے ہم من و عن اسے قبول کرلیتے ہیں اور جب وہ تھیوری غلط ہوجاتی ہے تو ہم بھی اس کو ٹھکرادیتے ہیں صرف ایک مثال دے رہاہوں ۔ مثلاً

            آج سے چند سال پہلے تک دور حاضر کے سائنسدانوں کی تحقیق یہ سامنے آئی کہ ماں کے دودھ کے بجائے پاڈر کا دودھ بچے کو پلائیں تو اس سے بچے کی نشوونما تیزہوگی اور عورت کی صحت پر کوئی اثر نہ پڑے گا اور دودھ پلانے سے عورت کا جسم بے ڈھنگا ہوجاتا ہے اس کی صحت بھی خراب ہوجاتی ہے اس کو ہمارے ملک میں بھی شدت کے ساتھ مشتہر کیا گیا T.V پر اشتہار اس قسم کے آنے لگے کہ ماں نے اپنے بچوں کو دودھ پلانا چھوڑ دیا۔ جب اس پر عمل درآمد کیا گیا تو عورتوں کو کثرت سے سینہ کا کینسر ہونے لگا اب سائنسدانوں نے اپنی تھیوری بدلی اور دوبارہ اس طرف آگئے کہ ماں کا دودھ بچے کے لئے انتہائی مفید ہے اور دوسال تک ماں بچے کو دودھ پلائے ۔ ہمارے کسی مسلم ملک کے کسی مسلمان سائنسدان نے قرآن وحدیث کی روشنی میں دنیا کو یہ باور نہ کردیا کہ نہیں جب ہمارا قرآن بچے کی پرورش کے لئے ماں کے دودھ کو لازم قرار دے رہا ہے اور دوسال تک پلانے کی اجازت دے رہا ہے تو پھر کیونکر بچے یا ماں پر اس کے منفی اثرات مرتب ہوں گے لیکن افسوس کہ مسلمانوں کے مغرب زدہ طبقہ نے مغرب کو معاذ اللہ خدا مان لیا ہے جو وہ کہتا ہے ہم اسی کو حق تسلیم کرتے ہیں۔

            قارئین کرام! ملت اسلامیہ اس وقت تباہی کے بالکل آخری کنارے پر پہنچ گئی ہے ہم مسلمان دنیا کی دہشت گرد قوم قراد دیئے جاچکے ہیں ، دنیا کی ترقی میں بحیثیت ملت قوم مسلمانوں کا 5 فیصد حصہ بھی نظر نہیں آتا۔ 65اسلامی ملکوں کے باوجود دنیا کے علوم فنون میں ہماری 65 تھیوریز بھی رائج نہیں ہیں سوچئے اس کا حل کیا ہے؟ اس کا حل صرف اور صرف یہ ہے کہ فرقہ وارانہ باتوں کو ایک کونے میں ڈالیں قرآن کے دامن کو مضبوطی سے تھامیں اور اس قرآن کی مکمل تعلیم جامعات میں دی جائے خاص کر ان آیات بینات کی جو علوم وفنون کے اصول سے تعلق رکھتی ہیں امام احمدرضا کی کتب اور رسائل کو جلد از جلد عام کیا جائے اور ان سے استفادہ کیا جائے اور ملت اسلامیہ اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرنے کے لئے سر دھڑ کی بازی لگادے ان شاءاللہ کامیابی ہمارے قدم چومے گی ۔

طریقہ احمد مرسل پہ مجھکو استقامت دے

میرے سینے میں یارب حکمت قرآن عطافرما

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s