شیخ نجدی کے والد

شیخ نجدی کے والد

شیخ محمد بن عبد الوہاب نجدی کے دادا سلیمان بن علی شرف حنبلی المسلک اور اپنے وقت کے مشہور عالم دین تھے ان کے چچا ابراہیم بن سلیمان بھی ممتاز عالم دین تھے ، ابراہیم کے بیٹے عبد الرحمان مشہور فقیہ اور ادیب تھے ۔ ( کتاب محمد بن عبد الوہاب مصنف مسعود عالم ندوی صفحہ 24 تا 25 )
شیخ نجدی کے والد متوفی 1740 ء 1153 ھ نہایت صالح العقیدہ بزرگ اور مشہور عالم دین اور فقیہ تھے ، وہ شیخ نجدی کو تنقیص رسالت ، توہین مآثر صحابہ اور تکفیر المسلمین جیسے گمراہ کن عقائد پر ہمیشہ سرزش کرتے رہتے تھے ( بحوالہ عثمان بن بشر نجدی متوفی 1288 ھ عنوان فی تاریخ نجد مطبوعہ ریاض جلد اول صفحہ 6 )
اسی طرح ان کے اساتذہ بھی اس کے تحزیبی افکار پر اس کو ہمیشہ ملامت کرتے رہتے تھے ۔ ( بحوالہ عثمان بن بشر نجدی متوفی 1288 ھ عنوان فی تاریخ نجد مطبوعہ ریاض جلد اول صفحہ 8 )
اس سلسلہ میں ایک غیر مقلد وہابی عالم شیخ نجدی کی سرگرمیوں کے بارے میں‌لکھتے ہیں :
جاہلوں کے غلط عقیدوں کی اصلاح معبودان باطل قبہ و قبر سے ہٹاکر پھر معبود حقیقی کی درگاہ میں لاکھڑا کرنا ان کا مقصود تھا ، پھر یہ ہر کس و ناکس کی بات نہ تھی ، اس کے لیے ایمان خالص اور سچی عزیمت کی ضرورت تھی ، اس راہ میں شیخ کو جن صبر آزما مصیبتوں سے دوچار ہونا پڑا اور جس خندہ پیشانی کے ساتھ انہوں نے اس راہ کی تکلیفوں کا استقبال کیا ، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ان اوصاف سے پوری طرح متصف تھے۔
توحید کی طرف دعوت دی ، غیر اللہ کے آگے سر خم کرنے ، قبروں ولیوں سے مدد مانگنے اور نیکو کار بندوں کو معبود ثانی بنانے سے روکنے کی کوشش کی ، قبروں کی زیارت میں مسنون طریقہ کے خلاف جو بدعتیں رائج ہوگئی تھیں ، ان کے مٹانے کو عملی قدم اٹھایا ، بس پھر کیا تھا مخالفت کا سیلاب امڈ آیا اعزّہ و اقرباء درپئے آزار ہوگئے ، خود باپ کو بھی یہ ادا پسند نہ آئی ، شیخ نے باپ کے ادب اور استاذ کی عزت کا پورا لحاظ کیا ، پر جو قدم آگے بڑھ چکاتھا، وہ پیچھے نہ ہٹا۔
( محمد بن عبد الوہاب نجدی مصنف مسعود عالم ندوی صفحہ 31 )
اس اقتباس سے یہ ظاہر ہوگیا کہ توحید کے نام پر تنقیص رسالت اور توہین صحابہ و اولیاء کی جو دعوت لے کر شیخ نجدی اٹھے تھے ، اس کی صدیوں پیچھے اسلام میں کوئی نظیر نہ تھی نہ جزیرہ عرب میں توحید کی اس نئی تشریح سے کوئی واقف تھا اور نہ شیخ نجدی کا اپنا خاندان اور ان کے اساتذہ اس سے واقف تھے ۔
شیخ‌عبدالوہاب رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے بیٹے شیخ نجدی کے درمیان عقائد کا جومنا قشہ تھا ، اس پر روشنی ڈالتے ہوئے علامہ طنطاوی لکھتے ہیں ۔
وجلس فی حلقۃ ابیہ یحضور دروسہ وینکر مایری من البدع والمخالفات فی ذلک حتی اثار علیہ الناس ولم یرتض ابوہ ھذا المسلک منہ ولم یقرہ علیہ وکان یرثو المسالمۃ ویکرہ العنف فنھاہ حتی وقع بینھما کلام ولکنہ استمر علٰی دعوتہ وانکارہ و استجاب لہ فریق من الناس وتابعوہ وصار طلبۃ العلم طائفتین قلیل منھم معہ والکثیر علیہ وکان ابوہ من راءی الطالفۃ الثانیۃ ۔
( محمد بن عبد الوہاب مصنف شیخ علی طنطاوی جوہری مصری 1335 ھ صفحہ 20،21 )
شیخ نجدی اپنے والد کے حلقہ درس میں حاضر ہوا کرتا تھا اور (نام نہاد) بدعات پر اعتراض کیا کرتا تھا ، یہاں تک کہ تمام لوگ اس کے مخالف ہوگئے اور اس کے والد بھی اس پر ناراض ہوئے اور اس کو سرزش کی ، شیخ عبد الوہاب صلح جو شخص تھے ، جھگڑے کو ناپسند فرماتے تھے ، انہوں نے اس کو ( شعار اہلسنت ) کی مخالفت کرنے سے منع کیا ۔
(لیکن شیخ نجدی باز نہ آیا ) اور اپنے والد سے سخت تکرار اور بحث کی اور (شعار اہل اسلام ) کی مخالفت پر قائم رہا ، چند لوگ اس کے ساتھ ہوگئے اور اکثر اس کی مخالفت کرنے لگے ، حتی کہ شیخ‌عبد الوہاب کے حلقہ درس کے طلباء میں‌دو گروہ قائم ہوگئے ، اقلیت شیخ نجدی کے ساتھ تھی اور اکثریت اس کے والد گرامی شیخ عبد الوہاب رحمہ اللہ کے ساتھ تھی ۔
اس اقتابس سے واضح ہوگیا کہ شیخ نجدی نے شعائر اہل اسلام اور طریقہ اہلسنت کی مخالفت میں اپنے والد کا بھی پاس نہیں‌کیا اور ان سے بھی تلخ کلامی سے پیش آتا رہا ، تاہم والد کی زندگی میں‌ شیخ‌نجدی کو کھل کر اپنے عقائد کے پرچار کا موقع نہ مل سکا لیکن والد کی وفات ہوتے ہی شیخ‌نجدی نے پوری قوت کے ساتھ اپنی دعوت اور تحریک کو آگے بڑھایا ، چنانچہ علامہ طنطاوی لکھتے ہیں :
وکان یرعی لابیہ حرمتہ ویوقرہ وان راءی ان حق ابیہ وطاعتہ لا تسوغ لہ التوقف عن دعوتہ ، فلما توفی ابوہ سنۃ 1153 انطلق الشیخ من عقالہ ونشط فی دعوتہ و بذل فیہ ما اعطٰی من وقۃ واند فاع۔
( محمد بن عبد الوہاب مصنف شیخ علی طنطاوی جوہری مصری متوفی 1335 ھ صفحہ 21 )
یعنی شیخ نجدی اپنے والد کا قدرے لحاظ ‌کرتا تھا ،لیکن اس کے باوجود اس کا عقیدہ تھا کہ والد کی عزت و توقیر اس بات کی جازت نہیں دیتی کہ وہ اپنے افکار کی دعوت سے دستبردار ہوجائے ، لیکن جب اس کے والد رحمہ اللہ 1153 ھ میں واصل بحق ہوئے ، تو شیخ نجدی کی دعوت میں‌رہی سہی زنجیریں بھی ٹوٹ گئیں ، پھر اس نے علی الاعلان اپنی دعوت کو پھیلانا شروع کیا اور اپنی قوت اور طاقت کو اس میں‌خرچ کردیا ۔
محمد منظورنعمانی دیوبندی ان کے بارے میں‌لکھتے ہیں :
ان کے والد شیخ‌ عبد الوہاب حنبلی بھی اگرچہ اپنے وقت کے بڑے عالم اور فقیہ تھے ،لیکن اپنے خاص‌صوفیانہ مزاج اور مسلک کی وجہ سے اپنے بیٹے شیخ محمد کی برپا کی ہوئی تحریک اور جدوجہد سے عملا الگ رہے ، بلکہ انہوں‌نے اپنے کو الگ اور ایک سو رکھنے کے لیے اپنے اصل وطن عینیہ کی سکونت ترک کرکے اس علاقے کے ایک دوسرے شہر حریملا میں‌سکونت اختیار کرلی تھی ، کیونکہ عینیہ شیخ محمد کی تحریک کا مرکز بن گیا تھا ، یہ بات ہر اس شخص کے علم میں ہے جو اس خاندان کی تاریخ سے کچھ واقفیت رکھتا ہے ۔
محمد منظور نعمانی ماہنامہ المنبر فیصل آباد جلد 3 شمارہ 6 )
اور عثمان بن بشر نجدی لکھتے ہیں :
فلما الشیخ محمد وصل الی بلد حریملا جلس عند ابیہ یقراء علیہ وینکر مایفعل الجھال من البدع و الشرک فی الاقوال والافعال اکثرمنہ الانکار لذالک ولجمیع المحظورات حتی وقع بینہ وبین ابیہ کلام وکذالک وقع بینہ وبین الناس فی البلد ،فاقام علی ذالک مدۃ سنین حتی توفی ابوہ عبدالوہاب فی سنۃ ثلاث وخمسین وماۃ والف ثم اعین بالدعوۃ والانکار والامر بالمعروف والنھی عن المنکر وتبعہ ناس من اھل البلد ومالوا معہ ! واشتھر بذالک ۔
( المجد فی تاریخ نجد مصنف عثمان بن بشیر نجدی متوفی 1288 ھ مطبوعہ ریاض جلد 1 صفحہ 8 )
ترجمہ : شیخ نجدی حریملا پہنچ گئے اور اپنے والد سے پڑھنا شروع کردیا اور وہاں کے لوگ اپنے جن معمولات میں مشغول تھے ، شیخ نجدی نے ان کو شرک اور بدعت قرار دیا اور اس بات میں ان کا اپنے والد عبد الوہاب سے بھی مباحثہ ہوا اور شہر کے دوسرے عمائدین نے بھی شیخ نجدی کی مخالفت کی ، کئی سال تک یونہی نزاع ہوتا رہا ،حتّی کہ شیخ نجدی کے والد عبد الوہاب رحمۃ اللہ علیہ 1153 ھ میں فوت ہوگئے ، والد کی وفات کے بعد شیخ‌نجدی نے کھل کر اپنی تحریک کو پھیلایا اور بہت سے لوگ شیخ نجدی کے تابع ہوگئے اور ان کی دعوت مشہور ہوگئی ۔
( المجد فی تاریخ نجد مصنف عثمان بن بشیر نجدی متوفی 1288 ھ مطبوعہ ریاض جلد 1 صفحہ 8 )
اس تفصیل سے ظاہر ہوگیا کہ شیخ نجدی کے والد عبد الوہاب رحمۃ اللہ علیہ صحیح العقیدہ مسلمان تھے اور عینیہ میں اس کے جو استاذ تھے وہ بھی ایک صالح اور دین دار شخص تھے، البتہ حجاز میں اس کو ابن السیف اور شیخ محمد حیات سندھی دو غیر مقلد استاذ ملے جنہوں نے اس کو ابن تیمیہ کی کتابیں پڑھاکر اسلاف کی روایات سے باغی بنادیا۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s