تذکرہ امام احمد رضا رضی اللہ عنہ

تذکرہ امام احمد رضارضی اللہ عنہ —-

الحمد للہ رب العٰلمین والصلوٰۃ والسلام علٰی سید المرسلین اما بعد فاعوذباللہ من الشیطٰن الرجیم ط بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ط

شفاعت کی بشارت

رحمت عالم،نورمجسم، شاہ نبی آدم، شفیع اُمم،رسول اکرم کا فرمان شَفاعت نشان ہے- جومجھ پردرود پاک پڑھے گا
میں اس کے شفاعت فرماؤں گا- (القولُ البریع صفحہ 117دارللکتب العلمیۃ بیروت)

ولادت با سعادت :
میرے آقا اعلٰیحضرت، امام اہلسنت، ولئ نعمت، عظیم البرکت، عظیم المرتبت، پروانہ شمع رسالت، مجددِ دین وملّت، حا مئ سنّت، ما حئ بد عت، عَالمِ شریعت، پیر طریقت ،باعثِ خیر و برکت، حضرت علّامہ مو لینٰا الحاج الحافظ القاری الشّاہ امام احمد رضا خان ( رحمتہ اللہ علیہ ) کی ولادت با سعادت بریلی شریف کے محلّہ جسولی میں 10 شوال المکرّم 1272ھ، بروزِ ہفتہ بوقتِ ظہر مطابق 14 جون 1856ھ، کو ہوئی- سنِ پیدائش کے اعتبار سے آپ کا تاریخی نام المختار (1272ھ) ہے-
( حیاتِ اعلٰی حضرت، ج1، ص58، مکتبتہ المدینہ بابُ المدینہ کراچی )
آپ کا نامِ مبارک محمد ہے، اور آپ کے دادا نے احمد رضا کہہ کر پکارا اور اسی نام سے مشہور ہوئے-
( الملفوظ، حصہ اول، ص3، مشتاق بک کارنر مرکز اولیاء لاہور )
بچپن کی ایک حکایت :

جناب سید ایوب علی صاحب( رحمتہ اللہ علیہ ) فرماتے ہیں کہ بچپن میں آپ( رحمتہ اللہ علیہ ) کو گھر پر ایک مولوی صاحب قرآن مجید پڑھانے آیا کرتے تھے ایک روز کا ذکر ہے کہ مولوی صاحب کسی آیئہ کریمہ میں بار بار ایک لفظ آپ کو بتاتے تھے مگر آپ کی زبان مبارک سے نہیں نکلتا تھا- وہ “ زبر “ بتاتے تھے- آپ “ زیر “ پڑھتے تھے یہ کیفیت آپ ( رحمتہ اللہ علیہ ) کے دادا مولانا رضا علی خان صاحب( رحمتہ اللہ علیہ ) نے بھی دیکھی حضور کو اپنے پاس بلایا اور کلام پاک منگوا کر دیکھا تو اس میں کاتب نے غلطی سے زیر کی جگہ زبر لکھ دیا تھا، یعنی جو اعلی ٰحضرت ( رحمتہ اللہ علیہ ) کی زبان سے نکلتا تھا وہ صحیح تھا- آپ کے دادا نے پوچھا کہ بیٹے جس طرح مولوی صاحب پڑھاتے تھے تم اُسی طرح کیوں نہیں پڑھتے تھے- عرض کیا میں ارادہ کرتا تھا مگرزبان پر قابو نہ پاتا تھا-اس قسم کے واقعات مولوی صاحب کو بارہا پیش آئے تو ایک مرتبہ تنہا ئی میں مولوی صاحب نے پوچھا— صاحبزادے ! سچ سچ بتا دو میں کسی سے کہوں گا نہیں تم انساں ہو یا جن‌؟ آپ نے فرمایا اللہ کاشکرہے میں انسان ہی ہوں، ہاں اللہ کا فضل و کرم شامل حال ہے-
حیاتِ اعلٰی حضرت رحمتہ اللہ علیہ، ج1، 68ً مکتبتہ المدینہ، باب المدینہ کراچی )
پہلا فتوٰی :
میرے آقا حضرت ( رحمتہ اللہ علیہ ) نے صرف تیرہ(13) سال دس (10) ماہ چار (4) دن کی عمر میں تمام مروجہ علوم کی تکمیل اپنے والدِ ماجد رئیس المتکلمین مولانا نقی علی خان علیہ الرحمتہ المنّا ن سے کر کے سند فراغت حاصل کر لی- اسی دن آپ نے ایک سوال کے جواب میں پہلا فتوٰی تحریر فرمایا تھا- فتوٰی صحیح پا کر آپ کے والدِ ماجد نے مسند افتاء آپ کے سپرد کر دی اور آخر وقت تک فتاویٰ تحریر فرماتے رہے-
(حیاتِ اعلٰی حضرت رحمتہ اللہ علیہ، ج1، ص 279، مکتبتہ المدینہ، باب المدینہ کراچی )
صلو ا علی الحبیب صلی اللہ تعالٰی علٰی محمد صلی اللہ علیہ و سلم
اعلیٰ حضرت کی ریاضی دانی

اللہ تعالٰی نے آپ رحمۃ اللہ علیہ کو بے اندازہ علوم جلیلہ سے نوازا تھا ، آپ رحمۃ اللہ علیہ نے کم و بیش 50 پچاس علوم میں قلم اٹھایا اور قابل قدر کتب تصنیف فرمائیں ، آپ رحمۃ اللہ علیہ کو ہر فن میں کافی دسترس تھی ، علم توقیت ( علم تو ۔ قی ۔ت ) میں اس قدر کمال حاصل کا تھا کہ دن کو سورج اور رات کو ستارے دیکھ کر گھڑی ملالیتے ، وقت بالکل صحیح ہوتا اور کبھی ایک منٹ کا بھی فرق نہ ہوا ، علم ریاضی میں آپ یگانہ روزگار تھے ، چنانچہ علی گڑھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر ضیا الدین جو کہ ریاضی میں غیر ملکی ڈگریاں اور تمغہ جات حاصل کیے ہوئے تھے آپ رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں ریاضی کا ایک مسئلہ پوچھنے کے لیے آئے ارشاد ہوا فرمائیے انہوں نے کہا کہ وہ ایسا مسئلہ نہیں جسے اتنی آسانی سے عرض کروں ، اعلٰی حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کچھ تو فرمائیے وائس چانسلر صاحب نے سوال پیش کیا تو اعلٰی حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے اُسی وقت اس کا تشفی بخش جواب دیا انہوں نے انتہائی حیرت سے کہا کہ میں اس مسئلے کے لیے جرمنی جانا چاہتا تھا اتفاقا ہمارے دینیات کے پروفیسر مولانا سید سلیمان اشرف صاحب نے میری راہنمائی فرمائی اورمیں یہاں حاضر ہوگیا یوں معلوم ہوتا ہے کہ آپ اسی مسئلہ کو کتاب میں دیکھ رہے تھے ڈاکٹر صاحب بصد فرحت ومسرت واپس تشریف لے گئے اور آپ رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت سے اس قدر متاثر ہوئے کہ داڑھی رکھ لی اور صوم و صلوۃ کے پابند ہوگئے ( حیات اعلٰی حضرت جلد اول صفحہ 223، 228 مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی ) علاوہ ازیں اعلٰی حضرت رحمۃ اللہ علیہ علم تکسیر ، ہیئت ، علم جفر وغیرہ میں بھی کافی مہارت رکھتے تھے ۔
صلو علی الحبیب ! صلی اللہ تعالٰی علی محمد صلی اللہ علیہ وسلم
حیرت انگیز قوت حافظہ:
حضرت ابو حامد ِسّد محمد محدّث کچھو کچھوی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ تکمیل جواب کے لئے جُزئیاتِ فقہ کی تلاشی میں جو لوگ تھک جاتے وہ اعلیٰ حضرت رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ کی خدمت میں عرض کرتے اور حوالہ جات طلب کرتے تو اُ سی وقت آپ فرما دیتے کہ ردالمختار جلد فلاں کے فلاں صفحہ پر فلاں سطر میں اب الفاظ کے ساتھ جزئیہ موجود ہے- دُ رّ مُختار کے فلاں صفحے پر فلاں سطر میں عبارت یہ ہے- عالمگیری میں بقید جلد و صفحہ و سطر یہ الفاظ موجود ہیں- ہندیہ میں خیریہ میں مبسوط میں ایک ایک کتاب فقہ کی اصل عبارت مع صفحہ و سطر بتا دیتے اور جب کتابوں میں دیکھا جاتا تو وہی صفحہ و سطر و عبارت پاتے جو زبانِ اعلیٰ حضرت رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا تھا- اس کو ہم زیادہ سے زیادہ یہی کہہ سکتے ہیں کہ خدا داد قوّ تِ حافظہ سے چودہ سو سال ( 1400) کی کتابیں حفظ تھیں-
( حیات اعلٰی حضرت، ج1ص210، مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی )
صرف ایک ماہ میں قر آن حفظ
حضرت جناب سید ایوب علی صاحب رحمتہ اللہ علیہ کا بیان ہے کہ ایک روز اعلیٰ حضرت رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ نے ارشاد فرمایا کہ بعض ناواقف حضرات ،یرے نام کے آگے حافظ لکھ دیا کرتے ہیں، حالانکہ میں اس لقب کا اہل نہیں ہوں- سید ایوب صاحب رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ اعلیٰ حضرت رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ نے اسی روز سے ورد شروع کر دیا جس کا وقت غالبًا عشاء کا وضو فرمانے کے بعد سے جماعت قائم ہونے تک مخصوص تھا- روزانہ ایک پارہ یاد فرمالیا کرتے تھے، یہاں تک کہ تیسویں (30) روز تیسواں (30) پارہ یاد فرما لیا-
ایک موقہ پر فرمایا کہ میں نے کلامِ پاک بالترتیب بکوشش یاد کر لیا اور یہ اس لئے کہ ان بند گانِ خدا کا ( جو میرے نام کے آگے حافظ لکھ دیا کرتے ہیں ) کہنا غلط ثابت نہ ہو-
( حیات اعلٰی حضرت، ج1،ص208، مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی )
صلو علی الحبیب ! صلی اللہ تعالٰی علی محمد صلی اللہ علیہ وسلم
عشقِ رسول (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم )
آپ رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ سراپا عشق رسول (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ) کے نمونہ تھے- آپ رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ کا نعتیہ کلام ( حدائق بخشش ) اس امر کا شاہد ہے- آپ رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ کی نوک قلم بلکہ گہرائی قلب سے نکلا ہوا ہر مصرعہ آپ کی سرورِ عالم(صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ) سے بے پایاں عقیدت و محبت کی شہادت دیتا ہے، آپ رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ نے کبھی کسی دینوی تاجدار کی خوشامد کے لئے قصیدہ نہیں لکھا اس لئے کے آپ رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ نے حضور تاجدارِ رسالت (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ) کی اطاعت و غلامی کو دل و جان سے قبول کر لیا تھا- اس کا اظہار آپ نے اپنے ایک شعر میں اس طرح فرمایا—
انہیں جانا انہیں مانا نہ رکھا غیر سے کام
للہ الحمد میں دنیا سے مسلمان گیا

حکام کی خوشامد سے اجتناب
ایک مرتبہ ریاست نانپارہ (ضلع بہرائچ یوپی ) کے نواب کی مدح میں شعراء نے قصائد لکھے، کچھ لوگوں نے آپ رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ سے بھی گزارش کی کہ حضرت آپ بھی نواح صاحب کی مدح میں کوئی قصیدہ لکھ دیں، آپ رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس کے جواب میں ایک نعت شریف لکھی جس کا مطلع یہ ہے—
وہ کمالِ حسنِ حضور(صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ) ہےکہ گمانِ نقص جہان نہیں
یہی پھول خار سے دور ہے یہی شمع ہے کہ دھواں نہیں
اور مقتع (2) میں نانپارہ کی بندش کتنے لطیف اشارہ میں ادا کرتے ہیں-
کروں مدح اہل دول رضا— پڑے اس بلا میں میری بلا
میں گدا ہوں اپنے کریم کا— میرا دین پارہ نہ نہیں

فرماتے ہیں کہ میں ایل ثروت کی مدح سرائی کیوں کروں، میں تو اپنے کریم اور سرور عالم (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ) کے در کا فقیر ہوں- مرا دین “ پارہ نان “ نہیں- “نان“ کا معنی روٹی اور پارہ “ یعنی “ٹکڑا“- مطلب یہ کہ میرا دین روٹی کا ٹکڑا نہیں ہے جس کہ لئے میں مالداروں کی خوشامدیں کرتا پھروں- الحمداللہ (عزوجل ) میں دنیا کے تاجداروں کے ہاتھ بکنے والا نہیں ہوں-
صلو علی الحبیب ! صلی اللہ تعالٰی علی محمد صلی اللہ علیہ وسلم
بیداری میں دیدارِ مصطفٰی ( صلی اللہ علیہ وسلم )
جب آپ رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ دوسری بار حج کے لئے تشریف لے گئے تو زیارت نبی رحمت ( صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ) کی آرزو لئے روضئہ اطہر کے سامنے دیر تک صلٰوتہ سلام پڑھتے رہے، مگر پھلی رات قسمت میں یہ سعادت نہ تھی- مولانا نے اس موقہ پر وہ معروف نعتیہ غزل لکھی جس کے مطلع میں دامن ِ رحمت سے وابستگی کی اُمید دکھائی ہے-
وہ سوئے لا لہ زار پھرتے ہیں—تیرے دن اے بہار پھرتے ہیں
لیکن مقتع میں مذکورہ واقعہ کی یاس انگیز کیفیت کے پیشِِ نظر اپنی بے مائیگی کا نقشہ یوں کھنیچا ہے
کوئی کیوں پوچھے تیری بات رضا—تجھ سے شیدا ہزار پھرتے ہیں
( اعلحضرت رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ نے مصرع ثانی بطورِ عاجزی اپنے لئے “کتے“ کا لفظ استعمال فرمایا ہے، مگر سگِ مدینہ عفی عنھہ نے ادبًا یہاں “ شیدا“ لکھ دیا ہے-)
یہ غزل عرض کر کے انتظار میں مئودب بیٹھے تھے کہ قسمت جاگ اُ ٹھی اور چشمانِ سر سے بیداری میں زیارت حضور اقدس ( صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ) سے مشرف ہوئے-
( حیات اعلحضرت، ج1، ص92،مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی )
سبحان اللہ (عزوجل )! قربان جائیے ان آنکھوں پر کہ جنھوں نے عالم بیداری میں محبوب خدا ( صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ) کا دیدار کیا- کیوں نہ ہو آپ رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ کے اندر عشق رسول ( صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ) کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا اور آپ “ فنافی الرسول“ کے اعلیٰ منصب پر بائز تھے آپ رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ کا نعتیہ کلام اس امر کا شاہد ہے-
صلو علی الحبیب ! صلی اللہ تعالٰی علی محمد صلی اللہ علیہ وسلم
سیرت کی جھلکیاں‌
آپ رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے اگر کوئی میرے دل کے دو ٹکڑے کردے تو ایک پر لا الہ الا اللہ اور دوسرے پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لکھا ہوا پائے گا ۔ (سوانح امام احمد رضا صفحہ 96 مکتبۃ نوریہ رضویہ سکھر‌)
تاجدار اہلسنت شہزادہ اعلٰیحضرت حضور مفتی اعظم ہند مولانا مصطفٰی رضا خان علیہ الرحمۃ الحنان سامان بخشش میں فرماتے ہیں ::
خدا (عزوجل) ایک پر ہو تو ایک پر محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )
اگر قلب اپنا دو پارہ کروں میں

مشائخ زمانہ کی نظر میں آپ واقعی فنافی الرسول تھے ، اکثر فراق مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم میں غمگین رہتے ، اور سرد آہیں بھرتے رہتے ، جب پیشہ ور گستاخوں کی گستاخانہ عبارت کو دیکھتے تو آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگ جاتی اور پیارے مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کی حمایت میں‌گستاخوں کا سختی سے رد کرتے تاکہ وہ جھنجھلاکر اعلٰی حضرت رحمۃ اللہ علیہ کو برا کہنا اور لکھنا شروع کردیں‌۔ آپ اکثر اس پر فخر کیا کرتے کہ باری تعالٰی نے اس دور میں‌مجھے ناموس رسالتمآب صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ڈھال بنایا ہے ، طریق استعمال یہ ہے کہ بد گویوں کا سختی اور تیز کلامی سے رد کرتا ہوں ، اس طرح وہ مجھے برا بھلا کہنے میں مصروف ہوجائیں ، اس وقت تک کے لیے آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے سے بچے رہیں گے۔
کروں‌تیرے نام پہ جاں فدا نہ بس ایک جاں دوجہاں فدا
دوجہاں سے بھی نہیں جی بھرا کروں کیا کروڑوں جہاں نہیں

غرباء کو بھی خالی ہاتھ نہ لوٹاتے تھے ، ہمیشہ غریبوں کی امداد کرتے رہے ، بلکہ آخری وقت بھی عزیز و اقارب کو وصیت کی کہ غرباء کا خاص خیال رکھنا ، ان کو خاطرداری سے اچھے اچھے اور لذیذ کھانے اپنے گھر سے کھلایا کرنا اور کسی غریب کو مطلق نہ جھڑکنا ۔
آپ رحمۃ اللہ علیہ اکثر تصانیف و تالیف میں لگے رہتے ، نماز ساری عمر باجماعت ادا کی ، آپ رحمۃ اللہ علیہ کی خوراک بہت کم تھی ، اور روزانہ ڈیڑھ ، دو گھنٹہ سے زیادہ نہ سوتے ۔

( حیات اعلٰی حضرت جلد 1 صفحہ 96 مکتبۃ المدینۃ کراچی )
سونے کا منفرد انداز
سوتے وقت ہاتھ کے انگوٹھے کو شہادت کی انگلی پر رکھ دیتے تا کہ انگلیوں سے لفظ ‘‘ اللہ ‘‘ بن جائے آپ رحمتہ اللہ تعالٰی علیہ پیر پھیلا کر کبھی نہ سوتے، بلکہ دہنی کروٹ لیٹ کر دونوں پاتھوں کو ملا کر سر کے نیچے رکھ لیتے، اور پاؤ ں مبارک سمیٹ لیتے اس طرح جسم سے لفظ ‘‘ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) ‘‘ بن جاتا۔ ( حیات اعلٰی حضرت، ج1ص99، مکتبۃ المدینۃ باب المدینہ کراچی )
یہ ہے اللہ عزوجل والوں اور رسول پاک صلی اللہ تعالٰٰی علیہ وسلم کے سچے عاشقوں کی ادائیں۔
نام خدا ہے ہاتھ میں نام نبی ہے ذات میں
مہر غلامی ہے پڑی، لکھے ہوئے ہیں نام دو
صلو علی الحبیب ! صلی اللہ تعالٰی علی محمد صلی اللہ علیہ وسلم
ٹرین رکی رہی !
اعلٰیحضرت ایک بار پیلی بھیت سے بریلی بزریعہ ریل جا رہے تھے۔ راستے میں نواب گنج کے اسٹیشن پر ایک دو منٹ کے لئے ریل رکی، مغرب کا وقت ہو چکا تھا۔ آپ رحمتہ اللہ تعالٰی علیہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ نماز کے لیے پلیٹ فارم پر اترے۔ ساتھی پریشان تھے کہ ریل چلے جائے گی تو کیا ہو گا۔ لیکن آپ رحمتہ اللہ تعالٰی علیہ نے اطمینان سے اذان دلوا کر جماعت سے نماز شروع کر دی، ادھر ڈرائیور انجن چلاتا ہے لیکن ریل نہیں چلتی، انجن اچھلتا اور پھر پٹری پر گرتا ہے۔ ٹیٹی اسٹیشن ماسٹر وغیرہ سب لوگ جمع ہو گئے۔ ڈرائیور نے بتایا کی انجن میں کوئی خرابی نہیں ہے، اچانک ایک منڈت جی چیخ اٹھا کہ وہ دیکھو کوئی درویش نماز پڑھ رہا ہے، شاید اسی وجہ سے نہیں چلتی؟۔ پھر کیا تھا اعلٰیحضرت رحمتہ اللہ تعالٰی علیہ کے گرد لوگوں کا ہجوم ہو گیا، آپ رحمتہ اللہ تعالٰی علیہ اطمینان سے نماز سے فارغ ہو کر جیسے ہی ساتھیوں کے ساتھ ریل میں سوار ہوئے تو ریل چل پڑی۔ سچ ہے جو اللہ کا ہو جاتا ہے کائنات اسی کی ہو جاتی ہے۔
صلو علی الحبیب ! صلی اللہ تعالٰی علی محمد صلی اللہ علیہ وسلم
تصانیف:

آپ رحمۃ اللہ علیہ نے کم و بیش مختلف عنوانات پر کم و بیش ایک ہزار کتابیں لکھی ہیں۔ یوں تو آپ رحمۃ اللہ علیہ نے 1286 ھ سے 1340 تک لاکھوں فتوے لکھے۔لیکن افسوس کہ سب کو نقل نہ کیا جا سکا،جو نقل کر لئے گئے تھے ان کا نام، العطایا النبویہ فی الفتاوی رضویہ رکھا گیا۔ فتاویٰ رضویہ (جدید) کی 30 جلدیں ہیں جن کے کل صفحات 21656، کل سوالات و جوابات 6847 اور کل رسائل 206 ہیں۔ ( فتاویٰ رضویہ ( جدید) ج 30۔ص 10 رضا فاؤنڈیشن مرکز الاولیاء لاہور)۔ ہر فتوے میں دلائل کا سمندر موجزن ہے۔
قرآن و حدیث، فقہ منطق اور کلام وغیرہ میں آپ رحمۃ اللہ علیہ کی وسعت نظری کا اندازہ آپ رحمۃ اللہ علیہ کے فتوے کے مطالعے سے ہی ھو سکتا ہے، آپ رحمۃاللہ علیہ کی چند دیگر کتب کے نام درج ذیل ہیں۔
“ سبحان السبوح عن عیب کذب مقبوح“
سچے خدا پر جھوٹ کا بھتان باندھنے والوں کے رد میں یہ رسالہ تحریر فرمایا جس نے مخالفین کے دم توڑ دئے اور قلم نچوڑ دئے۔
“نزول آیات فرقان بسکون زمین و آسمان“
اس کتاب میں آپ نے قرآنی آیات سے زمین کو ساکن ثابت کیا ہے ۔ اور سا ئنسدانوں کے اس نظریے کا کہ زمین گردش کرتی ہے رد فرمایا ہے۔
علاوہ ازیں یہ کتابیں تحریر فرمائیں،
المعتمد المستند، تجلی الیقین، الکوکبتہ،اتشھائبہ سل،اکسیوف،الھندیہ،حیاتاالاموات وغیرہ۔صلواعلی الحبیب! صلی اللہ تعالٰی علیٰ محمد
ترجمہ قرآن شریف
آپ رحمۃ اللہ علیہ نے قرآن مجید کا ترجمہ کا اردو کے موجودہ تراجم میں سب پر فائق ہے۔ (سوانح امام احمد رضا صفحہ 373 مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر )
آپ رحمۃ اللہ کے ترجمہ کا نام کنزالایمان ہے ، جس پر آپ رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ صدر الافاضل مولانا سید نعیم الدین مرادآبادی رحمۃ اللہ علیہ نے حاشیہ لکھاہے۔
وفات حسرت آیات
اعلٰیحضرت رحمتہ اللی تعالٰی علیہ نے اپنی وفات سے چار (4) ماہ بائیس (22) دن پہلے خود اپنے وصال کی خبر دے کر ایک آئیہ قرآنی سے سال وفات کا استخراج فرمایا تھا۔ وہ آیت مبارکہ یہ ہے۔ ویطاف علیھم باٰنیۃ من فضۃ واکواب ترجمہ کنزالایمان : اور ان پر چاندی کے برتنوں اور کوزوں کا دور ہو گا۔ ( پ 29 الدھر15)
25 صفر المظفر 1340 ھ مطابق 1921ء کو جمہ مبارک کے دن ہندستان کے وقت کے مطابق 2 بج کر 38 منٹ عین اذان کے وقت ادھر مؤذن نے حی الفلاح کہا اور ادھر امام اہل سنت ولیءنعمت، عظیم البرکت، عظیم المرتبت، پروانہ ء شمع رسالت، مجددین و ملت حامی سنت، ماحیء بدعت، عالم شریعت، پیر طریقت، باعث خیروبرکت، حضرت علامہ مولینٰا الحاج القاری الشاہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمتہ الرحمٰن نے داعیئ اجل کو لبیک کہا۔ ( انا للہ وانا الیہ راجعون ) آپ رحمتہ اللی تعالٰی علیہ کا مزار پر انوار بریلی شریف میں آج بھی زیارت گاہ خاص و عام بنا ہوا ہے۔
صلو علی الحبیب ! صلی اللہ تعالٰی علی محمد صلی اللہ علیہ وسلم
ربار رسالت (صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ) میں انتظار
25صفر المظفر کو بیت المقدس میں ایک شامی بزرگ رحمتہ اللہ تعالٰی علیہ نے خواب میں اپنے آپ کو دربار رسالت ( صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ) میں پایا۔ تمام صحابہ کرام ( رضی اللہ عنھم اجمعین ) اور اولیائے عظام ( رحمھم اللہ ) دربار میں حاضر تھے لیکن مجلس میں سکوت طاری تھا اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ کسی کے آنے کا انتظار ہے۔ شامی بزرگ رحمتہ اللی تعالٰی علیہ نے بارگاہ رسالت (صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ) میں عرض کی، حضور (صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم )! میرے ماں باپ آپ پر قربان کس کا انتظار ہے ؟
سیّد عالم (صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ) نے ارشاد فرمایا۔ ہمیں احمد رضا کا انتظار ہے۔ شامی بزرگ نے عرض کیا، حضور (صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم )! احمد رضا کون ہیں؟ ارشاد ہوا۔ ہندوستان میں بریلی کے باشندے ہیں۔ بیداری کے بعد وہ شامی بزرگ مولانا احمد رضا رحمتہ اللہ تعالٰی علیہ کی تلاش میں ہندوستان کی طرف چل پڑے اور جب وہ بریلی آئے تو انہیں معلوم ہوا کہ اس عاشق رسول (صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ) کا اسی روز ( یعنی 25 صفر 1340ھ) کو وصال ہو چکا ہے جس روز انہوں نے خواب میں سرور کائنات (صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ) کو یہ کہتے سنا تھا کہ ۔ ہمیں احمد رضا کا انتظار ہے۔ ( سوانح امام احمد رضا۔ ص391، مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر )

یا الٰی ( عزوجل ) جب رضا خواب گراں سے سر اٹھائے
دولت بیدار عشق مصطفٰے (صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ) کا ساتھ ہو۔

صلو علی الحبیب ! صلی اللہ تعالٰی علی محمد صلی اللہ علیہ وسلم
سلام بدرگاہ خیرالانام صلی اللہ علیہ وسلم
از : امام اہلسنت رحمۃ اللہ علیہ
مصطفٰی جان رحمت پہ لاکھوں سلام
شمع بزم ہدایت پہ لاکھوں سلام
نور کے چشمے لہرائیں دریا بہیں
انگلیوں کی کرامت پہ لاکھوں سلام
وہ دسوں (10 ) کو جنت کا مژدہ ملا
اس مبارک جماعت پہ لاکھوں سلام
وہ حسن مجتبٰی سید الاسخیا
راکب دوش عزت پہ لاکھوں سلام
وہ شہید بلا شاہ گلکوں قبا
بے کس دشت غربت پہ لاکھوں سلام
شافعی مالک احمد امام حنیف
چار باغ امامت پہ لاکھوں سلام
غوث اعظم امام التقٰی والنقٰی
جلوہ شان قدرت پہ لاکھوں سلام
اور جتنے ہیں شہزادے اس شاہ کے
ان سب اہل مکانت پہ لاکھوں سلام
مجھ سے خدمت کے قدسی کہیں ہاں رضا
مصطفٰی جان رحمت پہ لاکھوں سلام

منقبت بر اعلٰی حضرت رحمتہ اللہ تعالٰی علیہ
تونے باطل کو مٹایا اے امام احمد رضا
دین کا ڈنکا بجایا اے احمد رضا

دور باطل اور ضلالت ہند میں تھا جس گھڑی
تو مجدد بن کے آیا اے امام احمد رضا

تھر تھرائے کانپ اٹھے باغیان مصطفٰے
قہر بن کے ان پہ چھایا اے امام احمد رضا

علم کا دریا ہوا ہے موجزن تحریر میں
جب قلم تو نے اٹھایا اے امام احمد رضا

خلق کو وہ فیض بخشا علم سے بس کیا کہوں
علم کا دریا بہایا اے امام احمد رضا

اے امام اہلسنت ! نائب شاہ ہدٰی !
کیجئے ہم پر بھی سایہ اے امام احمد رضا

فیض جاری ہی رہے گا حشر تک تیرا شہا
کام ہے وہ کر دکھایا اے امام احمد رضا

قبر پر ہو بارش انوار حق تیری سدا
ہو نبی کا تجھ پہ سایہ اے امام احمد رضا

ہے بدرگاہ خدا عطار عاجز کی دعا
تجھ پہ ہو رحمت کا سایہ اے امام احمد رضا

سگ غوث و رضا
محمد الیاس قادری رضوی عفی عنہ
ہفتہ 25 صفر المظفر 1393ھ

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s