دو قومی نظریہ اورمولانا احمد رضا خاں بریلوی

مضمون ::‌ دو قومی نظریہ اورمولانا احمد رضا خاں بریلوی
مصنف ::‌ ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی مرحوم

اب ہم مسلم علماء کے ایک مکتب فکر اہلسنت کا ذکر کرتے ہیں ، اس مکتب فکر کے عظیم ترین عالم دین مولانا احمد رضا خاں بریلوی رحمۃ اللہ علیہ تھے ، ان کے نظریات کا مختصر ذکر پہلے ہوچکا کہ وہ ہندؤں اور مسلمانوں کے درمیان اتحاد کے قائل بالکل نہ تھے۔
14 جون 1856 ء کو بریلی میں پیدا ہوئے وہ ایک ممتاز فقیہہ اور معاملہ فہم تھے ، ان کے فتوؤں کا آج بھی احترام کیا جاتا ہے ، علامہ سر محمد اقبال نے ان کے بارے میں کہا تھا :: مولانا کے فتوے ان کے فہم و ادراک ، علمی مرتبے اور ان کی تخلیقی فکر کی گہرائی و گیرائی ان کی مجتہدانہ بصیرت اور علم دین پر گہری دسترس کے شاہد عادل ہیں اگر اُن کے مزاج میں شدّت نہ ہوتی تو وہ اپنے دور کے امام ابو حنیفہ ہوتے۔
علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے جس انتہا پسندی کا حوالہ دیا وہ مولانا احمد رضا خاں کے اس رویّے کے بارے میں ہے جو انہوں نے دیوبندی مکتب فکر کے بعض رہنماؤں کے بارے میں اختیار کیا اور جس کی بنیاد پر وہ انہیں دائرہ اسلام سے خارج خیال کرتے تھے جب بعض مواقع پر دیوبندی مکتبہ فکر کے بعض ممتاز علماء نے اللہ تعالٰی کے متلعق بعض نازک سوالات اٹھائے تو ان بیانات کی نوعیت انتہائی متنازعہ تھی چنانچہ ان بیانات کو جس اشتعال انگیز انداز میں پیش کیا گیا اس پورے معاملے کو مابعد اطبیعاتی عذر خواہی کے طور پر پیش کرنا بہتر ہے ، ایک فریق کی جانب سے خدا کی حقانیت ، وحدانیت اور علم کے بارے میں بعض نظریات سامنے لائے جارہے تھے ، جبکہ دوسری جانب سے ان خیالات و نظریات کو اسلام کے منافی گردانا گیا ، لیکن بد نصیبی سے ان تمام اختلافات کو ان لوگوں کےسامنے بھی پیش کیا گیا جو انھیں سمجھ نہیں سکتے تھے ، تاہم اس سے مولانا کی علمی حیثیت متاثر نہیں ہوتی ۔
ان کی لکھی ہوئی کتابوں اور کتابچوں‌کی تعداد ایک ہزار کے قریب ہے انہوں نے اپنے پیروکاروں پر اتنا گہرا اثر ڈالا کہ برّصغیر کا ان کا کوئی اور ہم عصر ماہر الہیات اپنے پیروکاروں پر مرتب نہیں کرسکا ، تحریکِ خلافت کے آغازمیں عدم تعاون کے فتوٰی پر دستخط لینے کے لیے علمی برادران اُن کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے جواب دیا :: مولانا ! آپ کی اور میری سیاست میں فرق ہے ، آپ ہندو مسلم اتحاد کے حامی ہیں اور میں مخالف ، جب مولانا نے یہ دیکھا کہ علمی برادران رنجیدہ ہوگئے تو انہوں نے کہا مولانا ! میں (مسلمانوں کی ) سیاسی آزادی کا مخالف نہیں ۔ میں تو ہندو مسلم اتحاد کا مخالف ہوں ۔
اس مخالفت کی بڑی وجہ یہ تھی کہ اس اتحاد کے بڑے حامی افراط و تفریط میں اس قدر بہہ گئے تھے کہ ایک عالم اس کی حمایت نہیں کرسکتا تھا ، مولانا احمد رضا خاں بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے مولانا عبد الباری فرنگی محلی کی بعض تحریروں اور افعال پر اعتراض کیا ، جنہوں نے خود ان الفاظ میں اس کا حسین اعتراف کیا ۔
مجھ سے بہت سے گناہ سرزد ہوئے ہیں ، کچھ دانستہ اور کچھ نا دانستہ ، مجھےان پر ندامت ہے ، زبانی ، تحریری اور عملی طور پرمجھ سے ایسے امور سرزد ہوئے جنہیں میں نے گناہ تصور نہیں کیا تھا ، لیکن مولانا احمد رضا خاں بریلوی رحمۃ اللہ علیہ انھیں اسلام سے انحراف یا گمراہی یا قابل مواخذہ خیال کرتے ہیں ، اُن سب سے میں رجوع کرتا ہوں جن کے لئے پیش روؤں کا کوئی فیصلہ یا نظیر موجود نہیں ، ان کے بارے میں میں مولانا احمد رضا خاں رحمۃ اللہ علیہ کے فیصلوں اور فکر پر کامل اعتماد کا اظہار کرتا ہوں ۔
اپنا یہ بیان مولانا عبد الباری فرنگی محلی نے شائع کردیا ، مسلمانوں کو ہندو قیادت کیپیروی سے باز رکھنےکے لیے جدوجہدجاری رہی، مولانا سید سلیمان اشرف بہاری مارچ 1921 ء میں بریلی میں جمعیت علماء ہند کے زیر اہتمام ایک کانفرس میں شریک تھے ،کانفرنس میں انہوں نے ہندؤں کی جانب مولانا ابوالکام آزاد کے میلان کو ہدف تنقید بنایا اور انہوں نے ثابت کیا کہ ہندؤں کے ساتھ “ موالات “ بھی ایسے ہی حرام ہے جیسے انگریزوں کے ساتھ اسی طرح مولانا محمد علی جوہر نے بھی اپنی وفات سے تین ماہ قبل مولانا نعیم الدین مراد آبادی کے سامنے اپنی ہندو نواز سرگرمیوں سے توبہ کی۔ چند ماہ بعد مولانا شوکت علی نے بھی ایسا ہی کیا۔ اس سے بخوبی واضح ہوجاتا ہے کہ بریلوی مکتب فکر سے متعلق علماء مسلمانوں کے لئے کانگریس کی قیادت کے خلاف تھے۔ کیونکہ انہیں یہ یقین تھا کہ اس سے مسلمان بتدریج اپنے مذہبی تشخص سے محروم ہو جائیں گے اور وہ ہندوؤں کے عقائد اور روایات قبول کر لیں گے۔ جب ہندوؤں نے شدھی کی تحریک کا آغاز کیا تو ان علماء نے اس کے مقابلے میں جماعت رضائے مصطفٰے کی بنیاد ڈالی جس کے تحت سینکڑوں بریلوی علماء نے ملکانہ راجپوتوں میں قابل قدر کام کیا اور کامیاب ہوئے۔ بریلوی مکتب فکر کی قیادت (بعد ازاں) مولانا نعیم الدین مراد آبادی کے ہاتھوں میں آگئی۔ جمیعت علمائے ہند کے علماء کے برعکس وہ 39۔1938ء میں ہی اس بات پر یقین کر چکے تھے کہ انگریز زیادہ عرصے تک برصغیر پر اپنا اقتدار قائم نہیں رکھ سکیں گے۔ ان کے لیے یہ سوال شدت اختیار کرتا جا رہاتھا کہ اس کے بعد ملک کا اقتدار کون سنبھالے گا؟ چنانچہ وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ مسلم اکثریت کے صوبوں پر مشتمل مسلمانوں کی ایک الگ ریاست تشکیل دینی چاہیے۔ اس لیئے جونہی قرار داد پاکستان منظور ہوئی اس مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے علماء جنہوں نے اس سے قبل بھی کانگریس کے مقابلہ میں مسلم لیگ کی مدد کی تھی، قیام پاکستان کئ لئے جدوجہد کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے اپنی جماعت کے کام کو وسیع تر کر دیا۔ اور ان کی ہر شاخ پاکستان کے قیام کی ضرورت کی تبلیغ میں مصروف ہو گئی۔ مولانا نعیم الدین مراد آبادی نے بذات خود شمالی برصغیر کا دورہ کیا اور اس کے متعدد چھوٹے اور بڑے شہروں اور قصبات میں تقریریں کیں۔ تنظیم کا نیا دستور تیار کیا گیا اور اسے نیا نام دیا گیا۔
آل انڈیا سنی کانفرنس سے اس کا نام “ جمہوریۃ الاسلامیہ“ رکھ دیا گیا۔اس کے ارکان پاکستان پر استقدر اعتقاد رکھتے تھے کہ مولانا نعیم الدّین مراد آبادی نے “ جمہوریۃ الاسلامیہ “ پنجاب کے آرگنائزر مولانا ابوالحسنات کو ایک خط میں لکھا۔
“ جمہوریۃ الا سلامیہ “ کو کسی بھی صورت حال میں پاکستان کے مطالبہ سے دستبردار ہونا قبول نہیں۔ خواہ جناح خود اس کے حامی رہیں یا نہ رہیں۔کینبٹ مشن تجاویز سے ہمارا مقصد حاصل نہیں ہوتا۔ “ بنارس میں 27 تا 30 اپریل 1976ء ایک عظیم الشان کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس میں پانچ ہزار علماء نے شرکت کی اور حاضرین و مند و بین کے سامنے پاکستان کی ضرورت و اہمیت کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی۔ جب یہ علماء اپنے اپنے علاقوں میں واپس گئے تو قیام پاکستان کی تحریک کو وسیع پیمانے پر پزیرائی حاصل ہوئی۔
مولانا نعیم الدین مراد آبادی نے اپنے مکتب فکر کے علماء کے کردار ان الفاظ میں ذکر کیا۔
ہم نے مسلم لیگ کے پلیٹ فارم پر آنا علماء کے لئے پسند نہیں کیا لیکن ھم نے مسلم لیگ کے مخالفین کابڑی شدت سے مقابلہ کیا اور اس کا مقصد مسلم لیگ کو ممنون کرنا ہرگز نہیں تھا کیونکہ ہم نے اپنا کردار ہمیشہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ادا کیا ہے۔ہم نے کسی وقت بھی غیر مسلموں پر اعتقاد نہیں کیا۔اور اب جبکہ مسلم لیگ نے اسلامی آڑدیننس کے نفاذ کی جانب قدم اٹھایا ہے تو ہم اسلام کی عظمت اور غلبہ کے لئے مسلم لیگ کے مخالفین کی مخالفت کر رہے ہیں۔
بعض دیگر علماء نے بھی اس ضمن میں خصوصی کردار ادا کیا۔ان میں سے ایک مولانا آزاد سبحانی تھے جنھوں نے ہمیشہ قیام پاکستان کی حمایت کی۔مولانا ابوالکلام آزاد کلکتہ میں نماز عید کے بڑے اجتماع کی امامت کیا کرتے تھے لیکن مقامی مسلمانوں نے ان کی کانگریس نواز سرگرمیوں سے بیزار ھو کر انہیں امامت سے برطرف کر دیا اور ان کی نظر انتخاب مولانا آزاد سبحانی پر پڑی جنکی تعلیمات اور خدمات جانی پہچانی تھیں۔وہ اسقدر بے لوث تھےکہ ان کے حالات زندگی کے بارے میں بہت کم مواد دستیاب ہے۔ تاہم وہ لوگ ان کی خدمات سے بخوبی واقف ہیں جو گزشتہ نصف صدی کی تحاریک کے عینی شاہد ہیں کہ انہوں نے مچھلی بازار کانپور کی مسجد کے انہدام کے خلاف مظاہرے میں قائدانہ کردار ادا کیاتھا۔وہ خلافت اور عدم تعاون کی تحریکوں میں بھی مستعد رہے ۔ وہ مسلم لیگ کے اس قیام کے وقت سے ہی بڑے پر جوش معاون تھے ۔وہ ایک زبردست عوامی مقرر تھے۔ ان کے خیالات منطقی اور متوازن ہوتے تھے۔ان کی زبان شستہ اور پاکیزہ ہوتی اور سچی بات تو یہ ہے کہ اس برصغیر میں اردو کے سب سے بڑے عوامی مقرر تھے۔مولانا عبد الحامد بدایونی نے عوامی معاملات میں اپنی جوانی کے زمانے میں پی دلچسپی لینا شروع کر دی تھی۔ وہ تحریک خلافت کے ایک جوشیلے کارکن تھے۔اور انہوں نے اس وقت سے مسلم لیگ کا ساتھ دینا شروع کیا جب اس کا کانگریس سے جھگڑا شروع ہوا۔وہ قیام پاکستان کے ساتھ ہی پاکستان منتقل ہو گئے۔وہ جمیعت علمائے پاکستان کے بانیان میں سے تھے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s