با ر ہواں مہینہ ذ ی الحجہ

با ر ہواں مہینہ ذ ی الحجہ-
اسلامی سال کا آخری اور با ر ہواں مہینہ ذ ی الحجہ ہے -اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کے اس ماہ میں لوگ حج کرتے ہیں اس لیے اسے ذ ی الحجہ کہتے ہیں – اس ماہ کی نویں تا ر یخ کو یوم عرفہ کہتے ہیں اس دن حج ادا کیا جاتا ہے – اس ماہ کی دسویں تاریخ کو‘‘ یوم نحر‘‘کھا جاتا ہے اس روز مسلمان قربانی ادا کرتے ہیں – اس ماہ کی نو تا تیرہ (9تا 13 )تاریخوں کو ‘‘ایام تشریق‘‘کہتے ہیں-
حد یث پاک :-
سیدہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ رسول اکرم صل اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس وقت عشرہ ذی الحجہ شروع ہو اور جو قربانی کا ارادہ رکھتے ہوں تو چا ہئے کہ جسم سے کسی چیز کو نہ لے نہ ہی بال کٹوائے ایک روایت میں بال نہ ترشوائے نہ نا خن اتروائے (مسلم)
ذی الحجہ کے روزوں کا بیان:-
اس ماہ مبارکہ کے پہلے نو (9) دن یعنی یکم ذی الحجہ سے لے کر نو ذی الحجہ تک کے روزے نو دن روزے رکھنا باعث ثواب ہے –
حد یث پاک
حضرت خفصہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں چار چیزوں کو نبی کریم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نہیں چھوڑتے تھے
(1) عا شورہ کا روزہ
(2) ذی الحجہ کے پہلے نو دن کے روزے
(3) ہر ماہ کے تین دن کے روزے
(4) نماز فجر سے قبل دو رکعت سنتیں ( مشکوٰۃ شریف صفحہ 180)

قبر کا نور
حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں عشرہ ذی الحجہ کی راتوں میں بصرہ کے ایک قبرستان میں گیا، تو میں نے ایک قبر سے نور کی شعا عیں نکلتی دیکھیں یہ دیکھ کر میں بڑا حیران ھوا ۔ اتنے میں ہا تف غیبی سے آواز آئی !
اے سفیان اگر تو نے بھی نو دن ذی الحجہ کے روزے رکھے تو تیری قبر سے بھی اسی طرح نور نکلے گا ( نزھۃ المجالس)

ذی الحجہ کے نوافل :
حدیث نمبر 1:
رسول اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص ذی الحجہ کی دسویں تا ریخ تک ھر رات وتروں کے بعد دو رکعت نفل پڑھے ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سورہ کوثر اور اخلاص تین تین دفعہ پڑھے تو اللہ عزوجل اسے اعلٰی علیین میں مقام عطا فرمائے گا اور اس کے ہر بال کے بدلے میں ہزار نیکیاں عطا فرمائے گا اور اسکو ہزار دینار صدقہ دینے کا ثواب ملے گا-
ذی الحجہ کی تکبیر :
پیارے مسلمان بھائیو ۔ 9 ذی الحجہ کی فجر سے لے کر 13 ذی الحجہ کی عصر تک ھر فرض نماز کے بعد بلند آواز سے تکبیر تشریق پڑھنا واجب ہے (بہارشریعت ) تکبیر تشریق یہ ھے ۔
اللہ اکبر ۔ اللہ اکبر۔ لا الہ الا اللہ و اللہ اکبر۔ اللہ اکبر و للہ الحمد –
ذی الہجہ کی ایک اہم عبادت:
پیارے بھائیو ، ہرصاحب نصاب(غنی)پر قربانی واجب ہے ۔
فائدہ : قربانی واجب ھونے کے لئے مال پر زکواۃ کی طرح سال گزرنا شرط نھیں بلکہ جو شخص ذی الہجہ کی 10 ،11،12،تاریخ کے اندر مالک نصاب ھو جائے مالک نصاب سے مراد ساڑھے باون تولہ چاندی یا ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی کی رقم یا کچھ سونا اور کچھ رقم تو اس پر قربانی واجب ھوجاتی ھے۔ (بحوالہ قربانی مسائل و فضائل کی روشنی میں )
قربانی کے دن دس ذی الحجہ، گیارہ ذی الحجہ، اور بارہ ذی الحجہ ہے ۔ چوتھے دن قربانی نہیں۔
بعض لوگ صاحب نصاب ہونے کے باوجود قربانی نہیں کرتے وہ گناہ گار ہیں قربانی کا حکم قرآن مجید میں آیا اور احا دیث میں بھی وارد ہوا۔ ایک حدیث پاک کا مفہوم ہے ۔

ان دنوں میں اللہ کے نزدیک قربانی سے بڑھ کر کوئی عمل مقبول نہیں ۔
عید الضحٰی کے دن یہ اچھے اچھے کام کریں :
1: غسل کرنا ،
2: مسواک کرنا،
3: اچھے اور صاف کپڑے پہننا،
4: خوشبو (عطر) لگانا ،
5: صبح کی نماز (فجر) محلے کی مسجد میں ادا کرنا،
6: عید گاہ میں جلدی جانا،
7: عید گاہ کو پیدل جانا،
8: دوسرے راستے سے واپس آنا ،
9: عید کی نماز سے پہلے کچھ نہ کھانا،
10: خوشی کا اظہار کرنا،
11:عید گاہ کو اطمینان اور نیچی نگاہ کئے جانا ،
12: عید گاہ کی نماز کو جاتے ھوئے بلند آواز تکبیر پڑھیں یہ سنت ہے،
13: بعد نماز عید مصافحہ ( ہا تھ ملانا ) اور معانقہ ( گلے ملنا) جیسا کہ مسلمانوں میں را ئج ہے اس میں اظہار خوشی ہے ،
14: اور قربانی کرنا جو صاحب نصاب پر واجب ہے –

_________________

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s