حضرت ابو ايوب انصاری رضی اللہ تعا لی عنہ

حضرت ابو ايوب انصاری رضی اللہ تعا لی عنہ
مصنف:۔ علامہ سید ریاض حسین شاہ صاحب قبلہ
ادارہ تعليما ت اسلاميہ پاکستان
بسم اللہ الرحمن الر حيم
خالد بن زيد سے کہہ دو کہ وہ نماز پڑھائيں
يہ آواز حضرت علی المرتضی رضی اللہ تعا لی عنہ کی تھی۔آپ نے يہ الفاظ اس وقت ارشاد فرمائے تھے جب عثمان رضی اللہ تعا لی عنہ کے گھر کا باغيوں نے محاصرہ کر رکھا تھا اور مسجد نبوی ميں نمازی امام کے انتظار ميں کھڑے تھے۔۔۔صحابہ رضی اللہ تعا لی عنہ جان نہ سکے کہ” خالد بن زيد” کون ھيں۔جب صفوں سے يہ پکا را گيا تو سب منتظر ين حيران ھو کر اس و جيہہ اور خو بصورت چہر ے کو ديکھنے لگ گئے۔جنھيں وہ
خا لد بن زيد کے نام سے زيا دہ “ابو ايو ب انصا ری رضی اللہ تعا لی عنہ ” کی کنيت سے جا نتے تھے۔
حضر ت ابو ايو ب انصاری رضی اللہ تعا لی عنہ
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رفيق سفر و حضر
راہ علم ميں آبلہ پا ئی کے درد سے لذت آشنا غلام رسول
اتبا ع رسول کی روشنيوں سے نو ر مند عظيم صحا بی
پير ی کی حو اس شکن عمر ميں شباب زليخا کی تصو ير
حق گو ئی کے خو ف آ فرين پل صراط پر شعلہ نظر بر ق سوار
اہل تا ريخ نے سلسلہ نسب يوں بيان کيا ھے۔
خالد بن زيد کليب بن ثعلبہ بن عبد عوف خز رجی
آپ کی والدہ ماجدہ کا اسم گرامی ھند بنت سعد خزرجی تھا۔مولد مد ينتہ الرسول اور سن ولادت ہجرت سے ا کيس سال پہلے عام الفيل تھی۔آپ کے خاندان بنو نجار کو عربوں ميں نہا يت مقبوليت اور و قار حاصل تھا۔سعادتوں کی انتہا کہ یہی خانوادہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نانہال ھو نے کے فضل سے بہر ہ مند تھا۔حضرت ابو ايوب ا نصا ر ی رضی اللہ تعا لی عنہ اس عظيم خا ند ان کے رئيس تھے۔
آپ کی زند گی کے افق پر سعا دتوں اور تا بند ہ بختگيوں کا سورج اس وقت طلو ع ھوا جب آپ حضرت مصعب رضی اللہ عنہ کی دعوتی سر گر ميوں کے نتيجہ ميں اسلام کی چو کھٹ پر بو سہ زن ھو ئے۔اسلام کے نو ر نے ان کے دل ميں حضو ر صلی اللہ علیہ وسلم کو ديکھنے کی تڑپ پيد ا کر دی۔زيا رت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا شوق ان کو ہمہ دم بے تا ب رکھتا۔آپ ہميشہ حضر ت مصعب رضی اللہ عنہ سے پوچھتے جان کا ئنا ت کے حضور حا ضری کب ھو رھی ھے۔
اعلان نبو ت کا تير ھو ان سال تھا کہ دل بے تا ب سے اٹھنے والی آرزؤں کو مثر دہ تکميل سنا يا گيا اور ايک قا فلہ جاں مست اور کا روان دنيا سو ز رحمت عالمياں صلی اللہ علیہ وسلم کے حضو ر عا جز ی دينے کے لئے روانہ ھو ا۔پچھتر افراد کے اس عظيم کا رواں ميں حضرت ابو ايوب انصا ری رضی اللہ تعا لی عنہ بھی شامل تھے۔شب عقبہ کی تنہائيوں ميں حضرت ابو ايوب انصا ری رضی اللہ تعا لی عنہ اپنے با قی سا تھيوں کے سا تھ حضو ر صلی اللہ علیہ وسلم کے دست تقد ير بدل ميں ہا تھ دے کر جو پيما ن وفا با ند ھ رھے تھے وہ يہ تھا۔
خدائے بزرگ و بر تر اور
رب ذوالجلال کی قسم
ھم اپنی جا نوں اور ما لوں کے سا تھ
آپ کی حفا ظت کر يں گے
ھم نا مر د نہيں
ھم نے تلواروں کے سا يوں ميں پرورش پا ئی ھے
رسا لتما ب صلی اللہ علیہ وسلم جب ہجرت کے لئے مد ينہ کی طر ف روانہ ھو ئے تو راستے ھی ميں حضرت ابو ايوب انصا ری رضی اللہ تعا لی عنہ کی طرف سے ہزاروں سال پہلے لکھا ھو ا تبع الحمير ی کا خط ايک قا صد کے ذريعے پہنچا جسے پڑ ھ کر آنحضر ت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشا د فر ما يا
مر حبا يا اخ الصا لح
مر حبا اے مير ے صا لح بھا ئی
سوال يہ ھے کہ حضر ت ابو ايو ب انصا ری رضی اللہ تعا لی عنہ نے سا لہا سال سے اپنے خا ند ان ميں چلنے والی اس اما نت کے پہنچا نے کے لئے اسی وقت کا انتخاب کيوں فر ما يا۔سوائے اس تو جہيہ کے اور کيا معقول وجہ ھو سکتی ھے کہ آمد رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خو شيوں ميں مد ينہ کے کو چہ و با زار بھی گو يا جشن منا رھے تھے۔وادی پرنو ر کا ھر ذرہ مسر توں کی لہروں ميں ڈوبا ھو ا تھا۔ھر گھر اور ھر در انتظا ر کے شو ق ميں “والضحی”کی رو شنيوں سے جگمگا رہا تھا۔لوگ بے پا ياں شوق اور فراواں سينوں ميں سجا ئے ھر صبح شہر سے با ھر نکل آتے۔درد انتظار ميں سو ز سے معمور اشعا ر پڑھے جا تے۔بچياں دف بجا تيں اور پردردگيتوں سے فضا لرز اٹھتی۔عشاق،رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ياد کر تے اور آنسو بہا تے۔وہ لوگ جو چلچلا تی دھوپ ميں سا را سا را دن حرہ کی گر می ميں زيا رت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا شوق لئے کا ٹ ديتے ان ميں حضرت ابو ايوب انصاری رضی اللہ تعا لی عنہ بھی ھو تے اور اس اميد سے کہ مير ی تا ريخی امانت کا حا مل خط مير ے شوق فراواں کا مظہر بن کر شا يد مجھے ميزبا نی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے منتخب کر وا دے۔
ايک روز دن کی روشنيوں کو رات کے اند ھير ے الوداع کہنے کے لئے تيا ری کر رھے تھے کہ ايک يہو دی نے يہ آواز لگا ئی۔
“بنو قيلہ تمہا رے صا حب آ پہنچے ھيں”
يہ آواز کيا ابھر ی کہ قباومد ينہ کی فضا ئيں جھوم اٹھيں۔
نعر ے گونجے
گيت تھر ائے
دف بجے
بچوں نے مر حبا مر حبا کی صداؤں سے جنون و جذب کا عجب سماں با ندھ ديا۔قبا کی وادی حسن افروز نغموں کی صداؤں سے لبر يز ھو گئ۔
طلع البدر علينا
من ثنيات الوداع
وجبت شکر علينا
ما دعا للہ داع
حضو ر انو ر صلی اللہ علیہ وسلم نے چند دن قبا ھی ميں قيام فرما يااور پھر ضيا ئے حق اور نو ر رب يثرب کی طر ف بڑ ھا اور اپنی نگاہ تز کيہ نو از سے اسے دھو کر رکھ ديا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی قصوا پر سوار تھے۔ھر شخص محو انتظا ر تھا کہ اسکی قيام گا ہ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم مد ينہ ميں اپنا آستاں قرار ديں گے ليکن کو کبہ نبو ی آگے ھی آگے بڑھتا جا رہا تھا اور حضو ر صلی اللہ علیہ وسلم ارشا د فر ما رھے تھے۔
خلوا سبيلھا فانہا ما مورة
اونٹنی کا راستہ چھو ڑ دو يہ اللہ کی طر ف سے ما مو ر ھے۔
قصو ا آگے بڑ ھتی گئی اور اس قعطعہ ارض پر جا پہنچی جہا ں لا کھو ں فر شتوں کا نزول ھو تا رھتا ھے۔”مسجد نبو ی صلی اللہ علیہ وسلم”کاجہا ں بڑا دروازہ ھے بالکل اس جگہ پہنچ کر اونٹنی بيٹھ گئی ليکن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نيچے نہ اتر ے۔اونٹنی پھر اٹھی اور تھو ڑی دور جا کر واپس آگئی اور پہلے والی جگہ پر پا ؤں جما کر بيٹھ گئی۔اس جگہ کے بر ابر ميں مٹی سے بنا ھو ا چھو ٹا سا ايک گھر تھا جس ميں دينا وی سا زو سا مان کی بہتات نہ تھی۔گھر کا ما لک نہا يت انکسا ری کے سا تھ کہہ رہا تھا۔”يا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم يہ مسکين ابو ايوب انصا ری کا گھر ھے اجا زت ھو تو سا مان اتارلوں۔”حضو ر صلی اللہ علیہ وسلم نے تسکين قلوب اور تا ليف ارواح کے لئے قرعہ ڈلوايا اور حسن اتفاق کہ قرعہ پھر حضرت رضی اللہ تعا لی عنہ کے نام نکل پڑا۔اس پر حضرت ابو ايوب انصاری رضی اللہ تعا لی عنہ اہلاً و سہلاً کہتے ھو ئے اپنے گھر لے گئے۔
حضو ر صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو ايوب انصاری رضی اللہ تعا لی عنہ کے گھر تقر يبا ًپا نچ مہينے تک فروکش رھے۔اس عر صہ ميں حضرت ابو ايوب انصاری رضی اللہ تعا لی عنہ کی نيا ز مند ی کے جو منا ظر سامنے آئے وہ انہی کا حصہ ھيں۔ايک مر تبہ پا نی کا گھڑا ٹو ٹ گيا اور خطرہ ھو ا کہ کہيں پا نی نيچے بہہ کر نبی کر يم صلی اللہ علیہ وسلم کی اذيت کا سبب نہ بن جا ئے۔آپ نے اپنا لحاف اٹھا کر پا نی پر ڈال ديا اور خو د شب سرما جاگ کر کا ٹ لی۔نبی کريم صلی اللہ علیہ وسلم کو پتہ چلا کہ مير ا نيچے رہنا ابو ايوب اور ام ايوب کے لئے سو ہان روح بنا ھو ا ھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اوپر تشر يف لے گئے اور حضرت ابو ايوب نے اپنے کنبہ کے سا تھ سکونت نيچے رکھ لی۔
صحبت رسول کريم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے اندر اطا عت اور اتبا ع کا جذبہ اس قدر پختہ کر ديا تھا کہ جب رحمت عا لم صلی اللہ علیہ وسلم اپنا بچا ھو ا کھا نا آپ کو عنا يت فر ما تے تو حضر ت ابو ايوب انصا ری رضی اللہ تعا لی عنہ نبی کريم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگليوں کے نشان تلاش کرتے اور پھر ان پرانگلياں رکھ رکھ کر طعام تنا ول فر ما تے۔
ايک مر تبہ نبی کريم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھا نا تنا ول نہ فرمايا۔حضرت ابو ايوب انصا ری رضی اللہ تعا لی عنہ چو نکہ ميزبان تھے۔آپ نے استفار فرمايا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے کھانا نہ کھا نے کا سبب کيا ھے۔نبی کريم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فر ما نے لگے کہ کھا نے ميں لہسن تھا اور ميں لہسن پسند نہيں کر تا۔حضرت ابو ايوب انصاری رضی اللہ تعا لی عنہ نے فرمايا يا رسول اللہ جو آپ کونا پسند ھے اسے ميں ہميشہ نا پسند رکھوں گا۔
حضرت ابو ايوب انصا ری رضی اللہ تعا لی عنہ کی کتاب زند گی اگر غور سے پڑھی جا ئے تو چند چيزيں نہا يت نما ياں دکھا ئی ديں گی۔
عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم
راہ دين ميں جہاد
اصول دين پر استقا مت
طلب علم ميں شوق فراواں
حق گو ئی ميں شمشير آب دار بنے رہنا
عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا اندازہ اس با ت سے لگا يا جا ئے کہ وصال نبو ی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ قبر انور پر ايک روز اس طر ح مستاں و پچاں بيھٹے تھے کہ بار بار آپ کا سر ناز ضريح مبارک سے جا لگتا تھااتفاق سے مروان کاوہاں سےگذر ھوا اوراس نے حضرت کے اس فعل پر اعتراض داغ ديا۔حضرت ابو ايوب انصاری رضی اللہ تعا لی عنہ فر مانے لگے تمہيں يہ مٹی دکھا ئی ديتی ھے ميں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پا س حا ضر ھو ا ھوں۔
غلبہ حق کے لئے جب بھی حضو ر صلی اللہ علیہ وسلم نے جہا د کےلئےپکا را۔حضرت ابو ايوب رضی اللہ تعا لی عنہ انکے سا تھ رھے۔بدر،احد،خندق اور ديگر کون سی جگہ ھے جہاں اس مجا ہد نے مال و جان کی قر بانی نہ دی ھو۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلفا کے درو ميں جتنی بھی لڑائياں ھو ئيں۔حضرت ابو ايوب رضی اللہ تعا لی عنہ ديگر مجا ہدين کے ہمرکاب رھے۔حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعا لی عنہ کے دور خلا فت ميں امير مد ينہ ھو نے کا شرف بھی حا صل رہا۔اس دوران آپ کی ذات سے اہل مد ينہ نہا يت خوش تھے۔حضرت حيدر کرار رضی اللہ تعا لی عنہ سے آپ کو نہا يت پيا ر تھا۔اسی حوالہ سے آپ حضرت مولا علی رضی اللہ تعا لی عنہ کے ہميشہ پر جوش رفيق رھے۔ايک مو قع پر فر ما نے لگے مجھے کيا ھے کہ ميں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بھا ئی کا سا تھ نہ دوں۔لوگو ! تمہيں يا د نہيں کہ جب مد ينہ ميں حضور صلی اللہ علیہ وسلم ايک ايک مہا جر اور ايک ايک انصاری کو بھا ئی بھا ئی بنا رھے تھے۔مجھے مصعب بن عمير رضی اللہ تعا لی عنہ کا بھا ئی بنا يا اور حضرت علی رضی اللہ تعا لی عنہ کے لئے کہا کہ علی دنيا اور آخرت ميں ميرا بھائی ھے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت آپ کی چشم نم سے ہميشہ عکس ريز رہتی۔محبوب خدا کی ياد نے آپ کو حفظ حد يث اور طلب دين کا متوالا بنا ديا تھا۔حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ تعا لی عنہ جس زمانہ ميں مصر کے گو رنر تھے حضرت ابو ايوب رضی اللہ تعا لی عنہ کو پتہ چلا کہ ايک حد يث آپ کے پا س محفوظ ھے۔آپ نے پيرانہ سالی ميں مصر کا سفر فر ما يا۔وہاں پہنچ کر آپ نے حضرت عقبہ رضی اللہ تعا لی عنہ سے حد يث سيکھی اور واپس مد ينہ شر يف کی طرف کو چ فر مايا۔حضرت عقبہ رضی اللہ تعا لی عنہ نے کچھ دن آپ کو روکنا چاہا ليکن آپ نے يہ کہہ کر اجا زت لے لی کہ تمہا ری مہمان نوازی سے مجھے مد ينتہ الرسول صلی اللہ علی نبيناالکريم کا سفر زيا دہ محبوب ھے۔

وجہ نشا ط قلب و نظر ھے ديار پاک
تا باں ھے مثل کا ہکشاں رہگذر کی خاک
انوار مصطفیٰ سے مد ينہ ھے تا بناک
بيٹھی ھے جس کےحسن کی سا رےجہاں ميں دھاک

حق گو ئی اور صدق پسندی کا اندازہ اس بات سے لگا يا جا سکتا ھے کہ حضرت عقبہ بن عا مر رضی اللہ تعا لی عنہ جس زمانہ ميں مصر کے گو رنر تھے ايک مر تبہ مغرب کی نماز ميں ان سے تا خير ھو گئی۔حضرت ابو ايوب رضی اللہ تعا لی عنہ
فر ما نے لگے۔
“عقبہ يہ کيسی نماز ھے؟”
حضرت عقبہ رضی اللہ تعا لی عنہ نے فر مايا ايک کام کی وجہ سے تا خير ھو گئی ھے۔حضرت ابو ايوب رضی اللہ تعا لی عنہ نے فر مايا۔
” تم صا حب رسول صلی اللہ علیہ وسلم ھو تمہا رے ھر فعل سے گمان ھو گا کہ
شا يد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ايسا ھی کيا کر تے تھے۔حالا نکہ نبی کريم صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کی نماز تعجيل سے ادا کر نے کا حکم ديا ھے۔”
حضرت عبد الرحمنٰ نے کسی جنگ ميں چند قيد يوں کے ہا تھ پا ؤں بندھوائے اور انہيں قتل کرواديا۔حضرت ابوايوب انصاری رضی اللہ تعا لی عنہ کو پتہ چلا تو آپ نےسخت گرفت فر مائی اور کہا کہ ميں تو مر غی کو بھی اس طرح قتل کرنا پسند نہيں کر تا چہ جا ئيکہ انسا نوں کو يوں قتل کيا جا ئے۔
رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نےاس قسم کے وحشيانہ قتل سے منع فر مايا ھے۔
ايک مر تبہ شام اور مصر ميں ديکھا کہ پا خانے قبلہ رخ بنے ھوئے ھيں توآپ نے سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ حد يثيں سنائيں جن ميں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ايسا کرنے سے منع فر مايا ھے۔
صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ عليھم اجمعين آپ کو نہا يت عزت کی نگاہ سے ديکھتے تھے۔جب کسي مسلہ ميں اشکال ھو جا تا حضرت رضی اللہ تعا لی عنہ کی رائے کو قطعی تصور کيا جا تا۔
ايک مر تبہ آپ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعا لی عنہ کے پاس بصرہ تشريف لائے تو حضرت ابن عباس رضی اللہ تعا لی عنہ نے اپنا گھر انکے لئے خالی کر ديا اور کہا ابو ايوب تم وہ ھو جس نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اپنا گھر خالی کر ديا تھا۔
طبيعت ميں حيا کا غلبہ حد درجہ زيا دہ تھا۔اگر کہيں غسل کر نا ھوتا تو چار طرف کپڑا تان ليتے اور کمال ستر کا اہتمام فر ماتے۔
قرآن مجيد کی تلاوت سے شغف کی حد تک محبت تھی۔ساری ساری رات عبادت ميں کٹ جا تی۔قرآن مجيد کی تلاوت فر ماتے رہتے اور نبی کريم صلی اللہ علیہ وسلم پر درودوسلام بھيجتے رہتے۔
آپ بڑے جذب وشوق سے لوگوں کو حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی يہ حد يث سناتے۔
جب نماز پڑھو تو يوں کہ معلوم ھو کہ يہ تمہاری زندگی کی آخری نماز ھے۔
ايسی بات مت کرو جس پر تمہيں بعد ميں معذرت خواہ ھو نا پڑے۔
جوکچھ لوگوں کے ہاتھ ميں ھو اس سے ما يوس رہنے کا الزام برتو۔
٥٧ ھ ميں مسلمان جب روم پر حملہ آور ھو رھے تھے تو حضرت ابو ايوب انصاری رضی اللہ تعا لی عنہ پيرانہ سالی کے با وجود سينے ميں شوق جہاد لئے اس کا روان عشق ميں شامل تھے۔اس مو قع پر آپ نے تا ريخی جملہ ادا فر مايا تھا کہ”ہلاکت جہاد ميں نہيں ترک جہاد ميں ھے”۔سوئے اتفاق کہ اس سفر جہاد ميں ايک بيماری پھيل گئی اور سينکڑوں لوگ وبا کا شکار ھو گئے۔
حضرت خالد بن زيد
ميزبان رسول
غلام نبی
امين علم
رشک صداقت
داعی حب و عشق بھی اسی وبا کا شکار ھو گئے۔جب بيما ری بڑھ گئی تو آپ نے فر مايا۔
اذھبوا بحسبانی۔۔۔۔۔
بعيدا۔۔۔۔۔
بعيدا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فی ارض الروم
سن لو !
تم ميرے انتقال کے بعد۔۔۔۔۔
ميرا جنازہ اٹھاکر۔۔۔۔۔
دور بہت دور تک۔۔۔۔۔
جہاں تک ھو سکے۔۔۔۔۔۔
ميری ميت جا کر دفنا دينا۔۔۔۔۔
اس لئے انہيں يقين تھا کہ دعا ئے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ان کا قيامت تک حصار ھو گی۔
ايک مو قع پر آپ جان دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی حفا ظت ميں پہرہ دے رھے تھے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو ديکھ کر اتنا خوش ھو ئے کہ آپ نے دعا فرمائی۔
“اے ابو ايوب ! اللہ تمہيں
اپنی امان ميں رکھے کہ تم
نے اسکے نبی کی نگہبانی کی”۔
آج بھی استنبول ميں انکے مزار کے گرداگرد دعائے رسول کے اس حصا ر کو ديکھا جا سکتا ھے۔
صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم
کے روضہ سے پھو ٹنے والی روشنی يورپ کی
طرف بڑھ رھی ھے۔
اللہ اکبر !
ميزبان رسول فيض رسول کا قا سم بن کر۔۔۔۔۔
نئے سے نئے جہاں دہليز نور پر کھينچ رہا ھے۔۔۔۔۔ ! !
سلام ھو اس کی ذات پر۔۔۔۔۔ ! !
سلام ھو اس افکار پر۔۔۔۔۔ ! !
سلام ھو اس کے زند ہ جذبوں پر۔۔۔۔۔ ! !
سلام ھو اس کے اشواق واذواق پر۔۔۔۔۔ ! !
اور سلام ھو اس کی راہ پر چلنے والوں پر۔۔۔۔۔ ! !
اللہ اکبر !
کتنا عظيم انسان تھا۔۔۔۔۔ ! !
مولا ھميں بھی ان کی راہ دے دے۔۔۔۔۔ ! ! !
_________________

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s