تقلید کے معنی اور اس کے اقسام

تقلید کے معنی اور اس کے اقسام

تقلید کے دو معنی ہیں- ایک لغوی، دوسرے شرعی- لغوی معنی ہیں- قلادہ ور گردن بستن گلے میں ہار یا پٹہ ڈالنا- تقلید کے شرعی معنی ہیں کہ کسی کے قول و فعل کے اپنے پر لازم شرعی جاننا یہ سمجھ کر کہ اس کا کلام اور اس کا کام ہمارے لئے حجت ہے- کیونکہ یہ شرعی محقق ہے- جیسے کہ ہم مسائل شرعیہ میں امام صاحب کا قول و فعل اپنے لئے دلیل سمجھتے ہیں اور دلائل شرعیہ میں نظر نہیں کرتے-
حا شیہ حسامی متابعت رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم میں صفحہ 86 پر شرح مختصر المار سے نقل کیا اور یہ عبارت نورالانوار بحث تقلید میں بھی ہے-

التقلید اتباع الرجل غیرہ فیما سمعہ یقول اوفی فعلہ علٰی زعم انہ محق بلا نظر فی الدلیل-
تقلید کے معنی ہیں کسی شخص کا اپنے غیر کی اطاعت کرنا اس میں جو اس کو کہتے ہوئے یا کرتے ہوئے سن لے یہ سمجھ کر کہ وہ اہل تحقیق میں سے ہے- بغیر دلیل میں نظر کئے ہوئے-نیز امام غزالی کتاب المستصفٰی جلد دوم صفحہ 387 میں فرماتے ہیں التقلید ھو قبول قول بلا حجتہ- مسلم الثبوت میں ہے التقلید العمل بقول الغیر من غیر حجتہ-
ترجمہ وہ ہی جو اوپر بیان ہوا اس تعریف سے معلوم ہوا کہ حضور علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کی اطاعت کرنے کو تقلید نہیں کہہ سکتے- کیونکہ انکا ہر قول و فعل دلیل شرعی ہے تقلید میں ہوتا ہے – دلیل شرعی کو نہ دیکھنا- لٰہذا ہم حضور علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کے امتی کہلائیں گے نہ کہ مقلد- اسی طرح صحابہ ءکرام و آئمہ دین حضور علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کے امتی ہیں نہ کہ مقلد- اسی طرح عالم کی اطاعت جو عام مسلمان کرتے ہیں اس کو بھی تقلید نہ کہا جائے گا- کیونکہ کوئی بھی ان عالموں کی بات یا ان کے کا کو اپنے لئے حجت نہیں بناتا- بلکہ یہ سمجھ کر ان کی بار مناتا ہے کہ مولوی آدمی ہیں کتاب سے دیکھ کر کہہ رہے ہوں گے اگر ثابت ہو جائے کہ ان کا فتوٰی غلط تھا، کتب فقہ کے خلاف تھا تو کوئی بھی نہ مانے بخالف قول امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے کہ اگر وہ حدیث یا قرآن یا اجماع امت کو دیکھ کر مسئلہ فرمادیں تو بھی قبول اور اگر اپنے قیاس سے حکم دیں تو بھی قبول ہو گا- یہ فرق ضرور یاد رہے-
تقلید دو طرح کی ہے- تقلید شرعی اور غیر شرعی- تقلید شرعی تو شریعت کے احکام میں کسی کی پیروی کرنے کو کہتے ہیں- جیسے روزے، زکوٰۃ وغیرہ کے مسائل میں آئمہ دین کی اطاعت کی جاتی ہے اور تقلید غیر شرعی دنیاوی باتوں میں کسی کی پیروی کرنا ہے- جیسے طیب لوگ علم طب میں بوعلی سینا کی اور شاعر لوگ داغ، یا مرزا غالب کی یا نحوی و صرفی لوگ سیسوبیہ اور خلیل کی پیروی کرتے ہیں- اسی طرح ہر پیشہ ور اپنے پیشہ میں اس فن کے ماہرین کی پیروی کرتے ہیں- یہ تقلید دنیاوی ہے-
صوفیائے کرام جو وظائف و اعمال میں اپنے مشائخ کے قول و فعل کی پیروی کرتے ہیں وہ تقلید دینی تو ہے مگر تقلید شرعی نہیں بلکہ تقلید فی الطریقت ہے- اس لئے کہ یہ شرعی مسائل حرام و حلال میں تقلید نہیں- ہاں جس چیز میں تقلید ہے وہ دینی کام ہے-
تقلید غیر شرعی اگر شریعت کے خلاف میں ہے تو حرام ہے اگر خلاف اسلام نہ ہو تو جائز ہے بوڑھی عورتیں اپنے باپ داداؤں کی ایجاد کی ہوئی شادی غمی کی ان رسموں کی پابندی کریں جو خلاف شریعت ہیں تو حرام ہے اور طبیب لوگ جو طبی مسائل میں بو علی سینا وغیرہ کی پیروی کریں جو کہ مخالف اسلام نہ ہوں تو جائز ہے- اسی پہلی قسم کی حرام تقلید کے بارے میں قرآن کریم جگہ جگہ مما نعت فرماتا ہے اور ایسی تقلید کرنے والوں کی برائی فرماتا ہے-
ولا تطع من اغفلنا قلبہ عن ذکر نا واتبع ھواہ وکان امرہ فرطا- ( پارہ 15، سورۃ الکہف آیت 28 )
اور اس کا کہنا نہ مانو جس کا دل ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیا اور وہ اپنی خواہش کے پیچھے چلا اور اس کا کام حد سے گزر گیا-
وان جا ھدک علٰی ان تشرک بی مالیس لک بہ علم فلا تطعھما- ( پارہ21، سورہ لقمان آیت 15)
اور اگر وہ تجھ سے کوشش کریں کہ تو میرا شریک ٹھرا اس کو جس کا تجھ کو علم نہیں تو ان کا کہا نہ مان-
واذا قیل لھم تعالوا الٰی ما انزل اللہ والی الرسول قالوا حسبنا ما وجدنا علیہ وباتا اولو کان اٰباوھم لا یعلمون شیئا ولا یھتدون-( پارہ8 سورہ5 آیت 104)
اور جب ان سے کہا جائے کہ آؤ اس طرف جو اللہ نے اتارااور رسول کی طرف کہیں ہم کو وہ بہت ہے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا- اگرچہ ان کر باپ دادا کچھ نہ جانیں اور نہ راہ پر ہوں-
واذا قیل لھم اتبعوا ما انزل اللہ قالو ا بل نتبع ما الفینا علیہ ابائنا- ( پاری2 سورہ2 آیت 170)
اور جب ان سے کہا جاوے کہ اللہ کے اتارے ہوئے پر چلو تو کہیں گے ہم تو اس پر چلیں گے جس پر اپنے باپ دادا کو پایا-
ان میں اور ان جیسی آیتوں میں اسی تقلید کی برائی فرمائی گئی جو شریعت کے مقابلہ میں جاہل باپ داداؤں کے حرام کاموں میں کی جاوے کہ چونکہ ہمارے پاب دادا ایسے کرتے تھے ہم بھی ایسا کریں گے- چاہے یہ کام جائز ہو یا نا جائز- رہی زرعی تقلید اور ائمہ دین کی اطاعت اس سے ان آیات کو کوئی تعلق نہیں ان آیتوں سے تقلید ائمہ کو شرک یا حرام کہنا محض نے دینی ہے- اس کا بہت خیال رہے-

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s