مزارِ“ بے چارہ و بے کار کا قصہ

(مبصر: سید وجاہت رسول قادری)

1۔ قبر پر گنبد (عمارت) بنانا یا قبر کو پختہ کرکے مزار بنانا ناجائز ہے۔

2۔ قبر پر فاتحہ/ میلاد پڑھنا ناجائز ہے۔

(مفتی کفایت اللہ دہلوی دیوبندی، کفایت المفتی، ج:1، ص:242، 236، دارالاشاعت، کراچی 2001ء)

علمائے دیوبند بشمول جناب اشرفعلی تھانوی صاحب کا پختہ قبر کی تعمیر اور مزار پر حاضری اور ایصالِ ثواب کے حوالے سے یہ متفقہ اور واضح فتویٰ ہے لیکن اس واضح فتویٰ کے باوجود دیوبندیوں کے شیخ مولوی اشرفعلی تھانوی صاحب کو خانقاہِ امدادیہ اشرفیہ کی عمارت میں دفن کیا گیا اور اس پر ”پختہ مزار“ اور قبّہ بھی تعمیر کیا گیا جہاں دیوبندی حضرات بشمول مہتمم و مجاور مولوی نجم الحسن تھانوی صاحب، حدیث ”شدِّ رحال“ کی مخالفت کرتے ہوئے معمول کے مطابق حصولِ برکت کے لئے روزانہ حاضری دیتے تھے۔ ایک اخباری اطلاع (روزنامہ جنگ کراچی، مورخہ19دسمبر 2006ء/ روزنامہ امت کراچی، مورخہ 20دسمبر 2006ء) کے مطابق کسی ”شرپسند“ یا ”دہشت گرد“ نے درج بالا دیوبندی فتوی پر عمل کرتے ہوئے ان کی ”پختہ مزار“ اور خانقاہ کے احاطے، ان کے بھائی مظہر علی ”خان بہادر“ (جو برطانوی دورِ حکومت میں انگریزوں کے سی۔آئی۔ڈی ایجنٹ تھے)، ان کی اہلیہ، ان کے ”خلیفہ“ اور سابق مہتمم و مجاور خانقاہِ امدادیہ اشرفیہ مولوی ظہور الحسن اور خاندان کے چند دیگر افراد کی قبروں کو مسمار کرکے زمین کے برابر کردیا اور قبروں کو بری طرح کھود ڈالا اور وہاں سوائے گڑھے کے کچھ نہ چھوڑا، یعنی ہڈیاں تک بھی اٹھالے گئے۔ اس طرح مجاورِ خانقاہِ تھانویہ کی ذراسی کوتاہی نے جناب اشرفعلی تھانوی صاحب کی مٹی تو خراب کی ہی لیکن اس طرح وہ خود اپنی بھی مٹی خراب کر بیٹھے۔ جب مٹی کی بات چل نکلی ہے تو دیوبندیوں کے امام اسماعیل دہلوی صاحب کا فتویٰ بھی ملاحظہ ہوجائے۔ وہ فرماتے ہیں کہ معاذ اللہ انبیاءکرام بھی ”مر کر مٹی میں مل جاتے ہیں“، تو اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اشرفعلی تھانوی صاحب معاذ اللہ ثم معاذ اللہ انبیاءکرام سے بڑھ کر تھے کہ ان کی قبر میں مٹی کے ڈھیر کے علاوہ کچھ اور بھی بچا ہو۔ بہر حال اپنی جھینپ مٹانے کے لئے نجم الحسن تھانوی صاحب نے اس عمل کو ”مزار“ کی بے حرمتی قرار دیتے ہوئے حکومتِ ہند سے سخت احتجاج کیا ہے اور ہندو دہشت پسند تنظیم آر۔ایس۔ایس (راشٹریا سیوک سنگھ) کو اس ”گھناؤنے“ کام کا ذمہ دار ٹھہراکر مجرموں کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

تعجب انگیز امر یہ ہے کہ جب 1926ءمیں نجدیوں نے جنت المعلّٰی، جنت البقیع، شہدائے احد، اور طائف میں صحابہ کرام، تابعین، تبع تابعین، ائمہ کرام، اہلِ بیت، جید ائمہ امت محمدیہ، محدثین، فقہا اور صلحائے امت کے مزارات تاخت و تاراج کئے اور ان پر گدھوں کے ہل چلوائے (معاذ اللہ) اس وقت دیوبندی امت کے تمام علماءمہر لب تھے بلکہ انہوں نے نجدیوں کے بادشاہ کو فتح مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ پر مبارکباد کے خطوط اور تار روانہ کئے تھے۔ (حوالہ کے لئے ملاحظہ ہو: تبلیغی جماعت۔ مصنفہ علامہ ارشد القادری)۔ امت محمدیہ کے ان نہایت مقدس بزرگ و برتر شخصیات کے مزارات کے انہدام سے دیوبندی حضرات کے جذبۂ ایمانی کو کوئی ٹھیس نہ پہنچی تو آج ”غیر معروف مزارات“ کے اکھاڑدینے پر واویلا کیسا؟ بہت سے لوگوں کو تو یہ خبر پڑھ کر بھی حیرت ہوئی کہ ان حضرات کے بھی مزارات ہوسکتے ہیں کہ جنہوں نے زندگی بھر مزار تعمیر کرنے کو حرام اور مزاراتِ اولیاءپر حاضری دینے والوں کو ”مزار پرست“، ”قبروں کے پجاری“ کہہ کر مشرک ہونے کے فتوے جاری کئے۔

ایں چہ شور بست کہ در دور قمر بینم!

ادھر پاکستان میں تھانوی صاحب کے کچھ متبعین یہ شور مچارہے ہیں کہ تھانوی صاحب تحریکِ پاکستان کے عظیم رہنما تھے اس لئے حکومتِ پاکستان کو اس واقعہ پر ہندوستان سے احتجاج کرنا چاہئے۔ اس سلسلے میں انہی کے ہم مسلک ڈاکٹر سلمان شاہجہانپوری کا حوالہ یہاں بطور گھر کی گواہی کافی ہوگا کہ ڈاکٹر سلمان شاہجہان پوری، دیوبند کے مہتمم قاری محمد احمد ابن قاسم نانوتوی کی طرف سے انگریز گورنر یوپی کے خطبہ استقبالیہ کے متن کا حوالہ دیتے ہوئے تحریر کرتے ہیں:

”غور فرمایئے یہ (دیوبندی) حضرات نصیب کی یاوری پر فخر کررہے ہیں اور کس زندگی کو ”گم نامی اور تاریکی کی قعرمذلت“ قرار دے رہے ہیں؟ علوم و فنونِ اسلامی کی تعلیم و تدریس اور اس کی اشاعت کو؟ صبح و شام ”قال اللہ و قال الرسول“ (عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) کے ورد کو اور اعمالِ اسلامی کو؟ اور کس چیز کو ”باعثِ ممنونیت و سعادت“ قرار دے رہے ہیں؟ (انگریزوں کی خوشامد اور غلامی کو؟) مزید حیرت اس بات پر ہے کہ ان کے اخلاف کا دعویٰ ہے کہ ملک کی آزادی کی جنگ میں ان کا حصہ ہے اور پاکستان کا قیام ان کی کوششوں کا رہینِ منّت ہے۔“ (تحقیقی مقالہ ”مولانا عبید اللہ سندھی کا دیوبند سے اخراج۔۔۔ پس منظر کے واقعات پر ایک نظر“ ماہنامہ الولی، حیدر آباد، سندھ۔ اگست 1991ءتا نومبر 1991ء)

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ دیوبندی علماءو اسکالرز اپنے عظیم عالم اشرفعلی تھانوی صاحب کے بابائے قوم کے نام لکھے گئے جس خط کو علمائے دیوبند کی تحریکِ پاکستان میں مثبت کردار کے ثبوت کے لئے بطورِ سند استعمال کرتے چلے آئے ہیں وہ بھی انہی کے ایک محقق جناب پروفیسر محمد شمیم غازی تھانوی، مقیم کراچی، کی تحقیق کے مطابق قطعی جعلی ہے۔

(تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو اخبار روزنامہ جنگ، کراچی۔ مورخہ 24اپریل 2005ء، کالم ”روزنِ دیوار سے“۔ کالم نگار: عطاءالحق قاسمی)

 ”مزار“ تھانوی کے مجاور نے مزید ستم یہ ڈھایا ہے کہ اب جبکہ وہاں قبروں کی جگہ بقول ان کے صرف گڑھے رہ گئے ہیں تو وہ ان خالی گڑھوں پر دوبارہ جھوٹی اور جعلی قبریں اور مزارات بنارہے ہیں تو اب کیا فرماتے ہیں علمائے دیوبند اس سلسلہ میں؟

حیرت کی بات یہ ہے کہ 17دسمبر 2006ء(ہفتہ اور اتوار کی شب) یہ چھ قبروں اور احاطہ کی مسماری اور باقاعدہ کھدائی کی کاروائی یقینا ایک درجن سے زائد تجربہ کار مزدوروں نے کی ہوگی لیکن اس کی کانوں کان خبر نہ پڑوس میں رہنے والے مجاور/ مہتمم صاحب کو ہوئی اور نہ اردگرد کے لوگوں کو ہوئی اور نہ ہی اتنی بڑی جماعت کو مع اوزار/ کدال/ بیلچہ وغیرہ آتے ہوئے اور بھاگتے ہوئے کسی نے دیکھا۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آنے والے ”شرپسند“ گھر کے ہی بھیدی تھے اس لئے وہ پہچانے نہیں گئے اور وہ بڑے اطمینان سے اپنی کاروائی کرکے ”فاتحانہ“ انداز میں چہل قدمی کرتے ہوئے اپنے اپنے ”حجروں“ میں چلے گئے۔

            ہم اہلِ سنت و جماعت تو ابتداءہی سے مومن کی عزت و حرمت اور مزاراتِ اولیاءاور مومن کی قبر کے تقدس کے قائل ہیں۔ ہمیں جناب نجم الحسن صاحب سے بھی ہمدردی ہے کہ ان کی خانقاہ کو ظلم و بربریت کے ساتھ اجاڑ کر ان کو بے روزگار کردیا گیا، لیکن اس کے علاوہ اور ہم کہہ بھی کیا سکتے ہیں کہ ایں ہمہ آوردہ تست! اور پھر یہ کہ ع

ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی!

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s