لطیفہ نمبر 1

لطیفہ نمبر 1:
میں پہلے ملحد، بد باطن ، منکر خدا اور اسلام دشمن تھا۔ مولانا مودودی کا اعتراف

ماہنامہ ‘‘ انوار اسلام‘‘ فروری 63ء رام نگر وارانسی، جس کے ایڈیٹر جماعت اسلامی کے رکن جناب مولوی ابو محمد امام الدین رام نگری ہیں۔ وہ ماہنامہ اردو ڈائجسٹ کے مدیر جناب الطاف حسین قریشی کا قلمبند کیا ہوا بعنوان ‘‘ملاقات نامہ‘‘ سے نقل کرتے ہوئے صفحہ 17 کالم 2 پر فرماتے ہیں :

میں نے ( مولانا مودودی نے) قرآن و حدیث کا براہ راست مطالعہ شروع کیا۔ حقائق و معارف کھلتے گئے۔ بے یقینی کا غبار دھلتا چلا گیا۔ میں نے دوسرے ادیان کی کتابوں کا بھی مطالعہ کر رکھا تھا۔ ادیان کے تقابلی مطالعہ نے مجھے اک گونہ اطمینان عطا کیا۔ دراصل اب میں نے اسلام سوچ سمجھ کر قبول کیا تھا مجھے اس کی حقانیت پر کامل یقین تھا ( ص 17 ماہنامہ انوار اسلام رام نگر بنارس فروری 63ء )
اگر یہ صحیح ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ مودودی صاحب نےشرعی اصول و ضوابط کے طوق کو گلے سے اتار کر آزادانہ اور عامیانہ روش کیوں اپنائی ؟ جس کا اعتراف خود مودودی صاحب کو ہے

میں نہ مسلک اہل حدیث کو اس کی تمام تفصیلات کے ساتھ صحیح سمجھتا ہوں اور نہ ہی حنفیّت یا شافیعت ہی کا پابند ہوں۔ ( رسائل و مسائل جلد 1 ص185 )
پھر اسی عامیانہ روش پر چلتے ہوئے قوانین قرآن اور الہٰی نظام کا یوں مذاق اڑاتے ہیں :

جہاں معیار اخلاق بھی اتنا پست ہو کہ نا جائز تعلقات کو کچھ معیوب نہ سمجھا جاتا ہو ، ایسی جگہ زنا و قذف کی شرعی حد جاری کرنا بلا شبہ ظلم ہے ( تفہیمات جلد دوم 281)
یہیں تک نہیں بلکہ رسول مقبول کی عظمتوں اور رفعتوں کا تذکرہ ان الفاظ میں کرتے ہیں

‘‘نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عرب میں جو زبردست کامیابی حاصل ہوئی اس کی وجہ یہی تو تھی کہ آپ کو عرب میں بہترین انسانی مواد مل گیا تھا ، اگر خدانخواستہ آپ کو بودے، کم ہمّت ، ضعیف الارادہ، اور ناقابل اعتماد لوگوں کی بھیڑ مل جاتی تو کیا پھر بھی وہ نتائج نکل سکتے تھے‘‘ ( تحریک اسلامی کی اخلاقی بنیادیں ص 17)
کہنا یہ چاہتے ہیں کہ حضور صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عرب میں جو زبر دست کامیابی حاصل ہوئی ۔ اس میں خدا کی غیبی تائیدوں ،حضور اکرم کی پیغمبرانہ صلاحیتوں،کائنات گیر عظمتوں اور کلمئہ حق کی روشن صداقتوں کو قطعاً کوئی دخل نہ تھا۔
حسن اتفاق سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اچھی استعداد کے لوگ مل گئے تھے اس لئے حضور کامیاب ہو گئے۔ اگر خدا نخواستہ اس طرح کے لوگ نہ ملے ہوتے تو معاذاللہ حضور کی ناکامی رکھی ہوئی تھی۔(جماعت اسلامی ص41،42،)
اور اس ‘‘الہی نظام ‘‘ کے نفاذ میں خدا اور رسول کو معاذ اللہ شکست فاش ہوئی ——— الحاصل ساری خوبی مومن بننے والوں کی تھی۔ مومن بنانے والے کے اندر کوئی کمال نہ تھا-
اب تصویر کا دوسرا رخ ملاحظہ فرمائیں جماعت اسلامی کے ایک اجتماع عام میں امیر جماعت مولانا مودودی کی تقریر کو سن کر بعض افراد و ارکان جماعت سرگرداں و پریشان ہوئے جس کا اظہار بصورت مراسلہ یوں کیا جاتا ہے

اختتامی تقریر کے بعض فقرے میرے بعض ہمدرد رفقاء کے لئے باعث تکدر ہی ثابت ہوئے اور دوسرے مقامات کے مخلص ارکان و ہمدردوں میں بد دلی پھیل گئی ۔ ( رسائل و مسائل جلد 1 ص 231)

مولانا مودودی صاحب کی نازک خیالی اور ذہنی بالاتری کو ٹھیس نہ پہنچنے پائے اس لئے شکایت کو نرم سے نرم تر لہجے میں ادا کرنے کے لئے یہاں تک لکھا جاتا ہے

تقریر کی صحت میں کلام نہیں صرف انداز تعبیر اور طرز بیان سے اختلاف ہے (ایضاً)

ایک رکن جماعت کتنے نیاز مندانہ لب و لہجہ میں امیر جماعت کے حضور اپنے مافی الضمیر کو پیش کر رہا ہے پھر بھی امیر جماعت کی نخوت فکر برداشت نہ کر سکی کہ میری ذات کو انانیت کی دلفریب وادیوں سے ہٹا کر تنقید کی سان پر رکھا جائے ۔
وہ جو کل قرآن کے بعض قوانین کو ظلم سے تعبیر کر کے مسرور ہو رہا تھا۔ اور تنقید کے پس پردہ انبیاء اور اولیاء کی عظمتوں سے تمسخر کرنے میں بھی نہیں چوکتا تھا۔ آج خود کو جب تنقید کی کسوٹی پر محسوس کرتا ہے تو مشعل ہو کر دلدادگان جماعت پر یوں برہم ہوتا ہے کہ قلم کی شرافت و سنجیدگی بھی برقرار نہ رہ سکی ۔

جنہیں میری تقریر پر اعتراض کرنے اور بد دلی اور رنجش کا اظہار کرنے میں کوئی تامل نہیں ہوتا وہ آخر کس قدر و عزّت کے مستحق ہیں کہ ان کے جذبات و خیالات کا لحاظ کیا جائے ۔ ایسے لوگ دراصل بندہ حق نہیں بلکہ بندہ نفس ہیں۔ ( رسائل و مسائل جلد 1 ص 234)
مزید فرماتے ہیں:-
دراصل جو باتیں میری اس تقریر کو سننے کے بعد اس گروہ کے لوگوں نے کی ہیں۔ ان سے تو مجھے یقین حاصل ہو گیا ہے کہ یہ لوگ فے الواقع دین کے کسی کام کے نہیں ، ان کا ہمارے قریب آنا ، ان کے دور رہنے بلکہ مخالفت کرنے سے بھی ذیادہ خطرناک ہے‘‘ ( ایضاً)

گویا وہ شخص جو تلخ آمیز حقیقتوں کو بصد عجز و نیاز مولانا مودودی کی بارگاہ عالی میں پیش کرنے کی جسارت کرے، مولانا موصوف کے نزدیک ‘‘بندہ حق نہیں‘‘ بلکہ‘‘ بندہ نفس‘‘ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دین کے کسی کام کا نہیں ،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس کا جماعت میں رہنا مخالفت کرنے سے زیادہ خطرناک ہے ۔۔۔۔۔۔۔ کیوں؟ ۔۔۔۔۔۔۔ اس کا جواب یہی تو ہے کہ وہ شخص قرآن و رسول پر تنقید کرنے کے بجائے ایسی ذات پر تنقید کرنے لگا جو بزعم خود ‘‘ تنقید سے بالا تر ‘‘ ہے۔
تنقید کے ریت سے تعمیر کئے ہوئے محل کی حقیقت سمجھ لینے کے بعد یہ جاننا دلچسپی سے خالی نہ ہو گا کہ مودودی تحریرات اور ان کے تیار کردہ لٹریچر کے نتائج آیا اسلامی بر آمد ہوتے ہیں یا غیر اسلامی؟
جماعت اسلامی کا مستند ترین ماہنامہ ‘‘زندگی ‘‘ملاحظہ فرمائیں
لٹریچر دیکھنے سے مجھ میں یہ انقلاب رونما ہوا ہے کہ اب میں صحابہ کے بعد سے آج تک سوائے مودودی صاحب کے کسی شخص کو کامل الایمان نہیں سمجھتا۔( زندگی اکتوبر 1949ء)
گویا مجتہدین اربعہ امام ابو حنیفہ،امام مالک، امام شافعی ، امام حنبل ہوں ۔ یا حضرت عمربن عبدالعزیز، سیّدنا غوث الاعظم، مجّدد الف ثانی شاہ عبد الحق محقق دہلوی،شاہ ولی اللہ محدث اور شاہ عبد العزیز محدّث دہلوی ہوں- سب کے سب ناقص الایمان ہیں۔ اگر صحابہ کے بعد کوئی کامل الایمان ہے تو صرف مودوی صاحب ۔ بہر حال میں موصوف کا شکریہ ضرور ادا کروں گا۔ کیونکہ وہ صحابہ پر ترس کھا گئے ۔ ورنہ میں ڈرنے لگا کہ فرط محبت و عقیدت میں وہ مودودی صاحب کو افضل البشر بعد الانبیاء نہ کہہ بیٹھیں ۔ آگے چل کر مزید بے نقاب ہوتے ہیں:-

میں خواجہ معین الدین چشتی کے مسلک کو غلط تصور کرتا ہوں بڑے بڑے مشاہیر امّت کا کامل الایمان ہونا میری نظر میں مشتبہ ہو گیا ہے۔ ( زندگی، اکتوبر 1949ء)
بڑے بڑے مشاہیر امّت سے بدگمان ہونا، ان کو ناقص الایمان قرار دے کر مودودی صاحب کو نہ صرف کامل الایمان بعد الصحابہ باور کرانا بلکہ مولانا عامر عثمانی کی بولی یہاں تک غلو کرجانا کہ:-
وہ شخص مولانا مودودی پر کیا چوٹ کرے گا جس نے مولانا موصوف کی خدادادعظمت و عبقریت کے آستانے پر دن کی روشنی میں سجود و نیاز لٹائے ہوں ۔ ( ماہنامہ تجلی فروری 1963 ء ص 54)
عقیدت کا یہ خمار ‘‘ایمان شکن‘‘ نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے؟ یہی مولانا عامر ہیں جنہیں ایمان کے سائے میں شرک کے صنم خانے نظر آتے ہیں اور جن کے عقیدے میں اللہ والوں کی چوکھٹ پر ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوتے ہی سو برس کا ایمان غارت ہو جاتا ہے۔
لیکن قیامت ہے کہ وہی مولانا مودودی کےآ ستانہ عظمت پر دن کی روشنی میں سجود و نیاز لٹا رہے ہیں اور ان کے عقیدہ توحید کو ذرا سے ٹھیس بھی نہیں لگتی۔
صفحہ ہستی پر شاید ہی کوئی ایسا مسلمان جو یہ نہ جانتا ہو کہ رسول خدا پر ایمان لائے اور ان کی رسالت وصداقت کی تصدیق کئے بغیر بڑے سے بڑے عمل کا کوئی نفع آخرت میں مرتب نہیں ہو سکتا ۔ لیکن مودودی صاحب منفعت اخروی کے لئے رسول عربی کی تصدیق کو قطعاً ضروری نہیں سمجھتے – فرماتے ہیں
جو لوگ جہالت و نابینائی کے باعث رسول عربی کی صداقت کے قائل نہیں ہیں مگر انبیائے سابقین پر ایمان رکھتے ہیں اور صلاح و تقوٰی کی زندگی بسر کرتے ہیں ۔ ان کو اللہ کی رحمت کا اتنا حصّہ ملے گا کہ ان کی سزا میں تخفیف ہو جائے گی (تفہیمات جلد 1 ص168)
ًمیں چیلنج کرتا ہوں کے قرآن و حدیث میں کہیں بھی اس عقیدے کی سند موجود ہو تو پیش کیجئے کہ جو اہل کتاب جہالت و نابینائی کے باعث رسول عربی ہر ایمان نہ لائیں اور ان کا خاتمہ ہو جائے تو وہ مرنے کے بعد کسی درجے میں بھی رحمت الہی کے سازگار ہوں گے اور انہیں اپنے عمل کا نفع آخرت میں ملے گا ۔
کیا اس مقام پر مودودی صاحب کتاب و سنّت کو نظر انداز کر کے خالص اپنی ذہنی دلچسپیوں سے کام نہیں لے رہے ہیں ؟ کیا مودودی صاحب اپنے قیاسات و ظنیات سے اس عقیدے کی تشکیل نہیں کر رہے ہیں؟
ان حقائق کی روشنی میں ماہنامہ ‘‘ انوار اسلام‘‘ میں مندرج مودودی صاحب کے ذیل کے فقرے ، کیا لغو ، خلاف واقعہ اور مہمل قرار نہ پائیں گے
میں نے قرآن وحدیث کا براہ راست مطالعہ شروع کیا۔ حقائق ومعارف کھلتے چلے گئے ۔ بے یقینی کا غبار دھلتا چلا گیا۔ تا آخر ( ماہنامہ انوار اسلام فروری 63ء ص17)
بلکہ بات وہی صحیح ہے جس کا اعتراف خود مودودی صاحب نے کیا ہے جو مذکورہ بالا ماہنامہ میں متذکرہ بالا جملوں سے پہلے درج ہے موددوی صاحب فرماتے ہیں
جب میں کالج کی تعلیم سے فارغ ہوا تو اس وقت میری عمر سولہ سترہ سال کی تھی ۔ اس کے بعد میں نے آوارہ خوانی شروع کی ۔ جو کچھ ملا اسے پڑھ ڈالا ۔ ہر موضوع اور ہر عنوان پر ہر قسم کی کتابیں پڑھیں ۔ اس آوارہ خوانی کا نہایت خطرناک نتیجہ برآمد ہوا۔ خدا اور آخرت پر سے یقین اٹھتا چلا گیا۔ تشکک وارتیاب سے ایمان و یقین کی بنیادیں منہدم ہو گئیں خدا کا وجود سمجھ میں نہ آتا تھا تمام دینی عقائد لغو اور غیر منطقی نظر آتے تھے ( انوار اسلام نگراں رکن جماعت ابو محمد امام الدین رام نگری فروری 63ء ص17)

ایسی حا لت میں اگر مودودی صاحب قرآنی قوانین کو ‘‘ بلا شبہہ ظلم ‘‘ اور خدا کی غیبی تائیدوں، رسول کی پیغمبرانہ صلاحیتوں کو صحابہ کرام صلے اللہ تعا لٰی علٰی نبیہم و علیہم وبارک وسلم کا مرہون منت کہہ بیٹہں یا اپنے اوپر جائز تنقید ہوتے ہوئے دیکھ کر مشتعل ہو جائیں اور لوگوں کو شریعت سے آزادی اور بے قیدی کا کبھی کبھار درس دیں تو دراصل یہ اسی آوارہ خوانی کا نتیجہ ہے جس نے انہیں ملحد ، بد باطن منکر خدا اور اسلام دشمن بنایا۔
———:—————-:———–

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s