لطیفہ نمبر 4

لطیفہ نمبر 4 :-
حفظ الایمان کی ایک متنازعہ عبارت کا واحد حل !

عبارت درج ذیل ہے،
‘‘پھر یہ کہ آپ کی ذات مقدّسہ پر علم غیب کا حکم کیا جانا اگر بہ قول زید صحیح ہو تو دریافت طلب یہ امر ہے کہ اس غیب سے مراد بعض غیب ہے یا کل ۔ اگر بعض علوم غیبیہ ہیں تو اس میں حضور ہی کی کیا تخصیص ہے ایسا علم تو زید و عمر و بلکہ ہر صبی و مجنون بلکہ بہائم کے لئے حاصل ہے ‘‘
( حفظ الایمان مصنفہ مولانا تھانوی ص 7 )
اس عبارت سے ایک معمولی اردو جاننے والا باآسانی سمجھ لے گا کہ مولانا تھانوی کے نزدیک نہ صرف فخر عالم غیب داں بلکہ زید و عمر و بلکہ ہر صبی و مجنون بلکہ بہائم بھی غیب داں ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر علمائے دیوبند کے مطاع عالم مخدوم الکل مولانا رشید احمد گنگوہی فرماتے ہیں !
یہ عقیدہ رکھنا کہ آپ کو علم غیب تھا صریح شرک ہے ۔ ( فتاوٰی رشیدیہ کامل کتب خانہ رحیمیہ دیو بند ص 96)
مولانا گنگوہی کے اس فتوٰے کی روشنی میں مولانا تھانوی کے مشرک ہونے میں کوئی کلام نہیں ۔ بہر حال مسلمانوں کا ایک گروہ اس عبارت کی تائید میں ایڑی چوٹی کا زور لگا کر صحیح اور درست ثابت کرنے میں لگا ہوا ہے اور دوسرا گروہ اسی شدومد کے ساتھ تردید میں مصروف ہے۔ چناچہ بات بڑھتی گئی اور نتیجہ اچھا ، برا نکلتا رہا۔
اس سلسلہ میں میری تحقیق یہ ہے کہ مولانا مدنی، مولانا مرتضٰی حسن، اور مولانا منظور احمد نعمانی کی تاویلات و توضیحات سے جو نتیجہ نکلتا ہے وہی صحیح اور درست ہے چناچہ مولانا مدنی فرماتے ہیں !
حضرت مولانا (تھانوی) عبارت میں لفظ ‘‘ایسا‘‘ فرمارہے ہیں لفظ ‘‘اتنا‘‘ تو نہیں فرماریے ہیں۔ اگرلفظ ‘‘ اتنا‘‘ ہوتا تو اس وقت البتہ احتمال ہوتا کہ معاذاللہ حضور علیہ السلام کے علم کو اور چیزوں کے برابر کر دیا۔ ( الشہاب الثاقب ص 11 مطبع قاسمی دیوبند )
آگے چل کر فرماتے ہیں ۔
‘‘اس سے بھی قطع نظر کر لیں تو لفظ ایسا ‘‘تو کلمہ تشبیہہ کا ہے ‘‘
مولانا مدنی کے اس ارشاد سے معلوم ہوا کہ ‘‘ عبارت مذکورہ ‘‘ میں لفظ ‘‘ ایسا ‘‘ تشبیہہ کے لئے ہے، اگر ‘‘ اتنا ‘‘ یا ‘‘اس قدر‘‘ کے معنٰی میں ہوتا تو یقیناً کفر تھا ۔
اب دیکھئیے مولانا مرتضٰی حسن صاحب در بھنگی کیا فرماتے ہیں !
واضح ہو کہ ‘‘ایسا‘‘ کا لفظ فقط ‘‘مانند اور مثل‘‘ ہی کے معنٰی میں مستعمل نہیں ہوتا بلکہ اس کے معنٰی ‘‘اسقدر‘‘ اور ‘‘اتنے‘‘ کے بھی آتے ہیں جو جگہ (یعنی عبارت مذکورہ ) متعین ہیں ۔ ( توضیح البیان ص 8 مطبع قاسمی دیوبند)
مزید فرماتے ہیں !
عبارت متنازعہ فیہا میں لفظ ایسا بمعنٰی ‘‘اس قدر اور اتنا‘‘ ہے پھر تشبیہہ کیسی؟ ( توضیح البیان ص17 ‌)
مولانا منظوربھی ایسا ہی فرماتے ہیں !
حفظ الایمان کی اس عبارت میں بھی ‘‘ایسا‘‘ تشبیہہ کے لئے نہیں ہے بلکہ وہ یہاں بدون تشبیہہ کے اتنا کے معنی میں ہے ( فتح بریلی کا دلکش نظارہ ص 32 )
تقریباً یہی مضمون کتاب مذکورہ کے صفحہ 34 ، 40، اور 48، پر بھی ہے ۔ اس اجمالی گفتگو سے یہ بات واضح ہو گئی کہ مولانا مرتضٰی حسن اور مولانا منظور نعمانی اس بات پر متفق ہیں کہ عبارت متنازعہ فیہا میں لفظ ‘‘ ایسا‘‘ بمعنی ‘‘اسقدر اور اتنا‘‘ ہے۔ اگر تشبیہہ کے لئے ہوتا تو موجب کفر ہوتا ۔

اگر بالفرض اس عبارت کا وہ مطلب ہوا جو مولوی سردار احمد صاحب بیان کر رہے ہیں جب تو ہمارے نزدیک بھی موجب کفر ہے۔ ( ایضاً )
حاصل کلام !
مولانا مرتضٰے حسن اور مولانا نعمانی کے نزدیک لفظ ایسا ‘‘ بمعنٰٰی اتنا اور اس قدر ہے اگر تشبیہہ کے لئے قرار دیا جائے تو کفر ہے اور مولانا مدنی کے نزدیک لفظ ایسا تشبیہہ کیلئے ہے ۔ اگر بمعنٰی ‘‘اتنا اور اس قدر‘‘ قرار دیا جائے تو کفر ہے ۔
حل !
عبارت متنازعہ فیہا میں لفظ ایسا کے دو ہی معنٰی ہیں ۔ (1) یا تو تشبیہہ کے لئے ہے (2) یا بمعنی اس قدر یا اتنا ۔
پہلی شق مولانا مرتضی حسن اور مولانا نعمانی کے نزدیک کفر ۔
اور دوسری شق مولانا مدنی کے نزدیک کفر ۔

اس سے معلوم ہوا کہ دونوں شقیں کفر ہیں ۔ اس عبارت متنازعہ کی کوئی تاویل نہیں ۔ نیز یہ نتیجہ بھی قدرتی طور پر برآمد ہو گیا کہ
مولانا مرتضٰی حسن اور مولانا نعمانی دونوں کے دونوں مولانا مدنی کی تاویل کی روشنی میں کافر ۔
اور مولانا مدنی بھی مولانا مرتضٰے حسن اور اور مولانا نعمانی کی تاویل کی روشنی میں کافر ۔

فالحمد للہ رب العالمین
الجھا ہے پاؤں یار کا زلف دراز میں
خود آپ اپنے دام میں صیّاد آگیا۔

اس صورت حال کو دیکھ کر مجھے ایک اور شعر یاد آ گیا ،
ایسی ضد کا کیا ٹھکانہ دین حق پہچان کر
ہم ہوئے مسلم تو وہ مسلم ہی کافر ہو گیا

———-،،،،،۔۔۔۔۔۔،،،،————–

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s