لطیفہ نمبر 17

لطیفہ نمبر 17 :-
ایک ذاکر صالح کو مکشوف ہوا کہ احقر ( مولانا تھانوی ) کے گھر حضرت عائشہ آنے والی ہیں ، انھوں نے مجھ سے کہا ۔ میرا ذہن معاً اسی طرف منتقل ہوا کہ کمسن عورت ہاتھ آئے گی ، اس مناسبت سے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عائشہ بہت کم عمر تھیں وہی قصّہ یہاں ہے ۔ ( رسالہ الامداد ، ماہ صفر 1335 ھ )

متذکرہ بالا خط کشیدہ جملوں پر مولانا مشتاق نظامی کا تبصرہ مجھے بے حد پسند آیا جو اپنی افادیّت کے اعتبار سے اس قابل ہے کہ نذر ناظرین کروں ،
علامہ نظامی فرماتے ہیں ،
‘‘ کجا ام المؤمنین سیدہ طیبہ طاہرہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنھا ، جن کی فراست دینی اور تفقّہ فی الدین پر اجل صحابہ و خلفائے راشدین کو اعتماد و بھروسہ تھا ، جن کی شان عفّت پر آیات کا نزول ہوا،صحابہ کے پُر پیچ مسائل کی گر ہو ں کو جن کے ناخن تدبیر نے کھول دیا ہو جس نے بلا واسطہ درسگاہ نبوت سے فیض حاصل کیا ہو جس کے مقدس اور پاکیزہ حجرہ میں بارہا جبرئیل امین وحی لے کر حاضر ہوئے ہوں ۔ ہاں وہی ! سیدہ عائشہ جن کے لئے قرآن مجید کا ارشاد محکم ہے کہ الَنَبِیُّ او لٰے بالمؤمنین مِن اَنفُسِھم و اَزوَاجُہ امّھاتُھم ،
اور کہاں مولانا مولانا تھانوی کی بیگم جن کے آتے ہی مولانا تھانوی کی دنیا و آخرت دونوں برباد ہو گئی ۔ کہاں محبوب خدا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی حرم محرّم اور کہاں مولانا تھانوی کی بیگم ۔
۔۔۔ چہ نسبت خاک را با عالم پاک
وہ سیدہ عائشہ ! جن کا تذکرہ قرآن مجید میں ، جن کا ذکر جمیل احادیث رسول میں ، جن کے محاسن اخلاق تاریخ اسلام میں غرضیکہ جن کا تذکرہ خانہ کعبہ اور مسجد نبوی میں ، مسجد و خانقاہ میں ، جن کا تذکرہ صدیقین صالحین ، شہداء ، ائمہ مجتہدین، اکابر محدثین ، علماء و اولیاء کی زبانوں پر غرضیکہ وہ عائشہ جن کا تذکرہ فرش پر ، عرش پر ، ملائکہ کی بزم قدس میں حتٰی کہ بارگاہ الوہیت میں ۔
افسوس ہے
تھانوی صاحب کی ناپاک و نجس ذہنیت پر ‘‘ چھوٹا منھ اور بڑی بات ‘‘ اپنی خباثت باطنی کی بناء پر فرماتے ہیں !
‘‘وہی قصہ یہاں بھی ہے ‘‘ جیسا کہ محبوب کردگار اور سیدہ عائشہ کی شادی کا تھا ۔
معاذ اللہ ثمّہ معاذ اللہ
آنجناب کی بازاری بولی تو ملاحظہ فرمائیے کہ ‘‘ میں سمجھ گیا کوئی کمسن عورت ہاتھ آئے گی ‘‘ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس جملہ میں ‘‘ ہاتھ آئے گی ‘‘ کا ٹکڑا خصوصیت سے قابل توجہ ہے ، اہل ادب اور اہل زبان اچھی طرح واقف ہیں کہ اس کا موقع استعمال کیا ہے اور ‘‘کمسن عورت ہاتھ آئے گی ‘‘ کا جملہ مولانا تھانوی کے لذت نفسانی و جذبہ شہوانی پر کس حد تک غماز ہے ۔
( خون کے آنسو حصہ اول ص213 ، 214 )

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s