‌ لطیفہ نمبر 12

‌ لطیفہ نمبر 12
مولانا تھانوی ایک بیوی کی باری میں دوسری بیوی کا خیال لانا بھی خلاف عدل سمجھتے تھے ۔ مؤلف جامع المجد دین مولانا عبد الباری کا دعوٰی
:-
یہ بات سرتاپا غلط اور بے بنیاد ہے بلکہ اس سے نبی کریم کی تنقیص شان ہوتی ہے ۔

فاضل دیوبند مولانا سعید احمد اکبر آبادی کا تبصرہ :-
جناب مؤلف ( مولوی عبد الباری ندوی مؤلف جامع المجددین ) نے حضرت تھانوی کے انتہائی عدل بین الزوجین کی جو کیفیت بیان کی ہے ، وہ عقلی و منطقی اور نفسیاتی طور پر کس قدر غلط اور بے معنٰی ہے اور ساتھ ہی اس سے کس طرح آنخضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تنقیص ہوتی ہے ، عقلی اور نفسیاتی طور پر اس کے غلط ہونے کی وجہ یہ ہے کہ انسانی خیال پر کبھی روک ٹوک نہیں لگائی جا سکتی اس پر ہر گز پہرہ نہیں بٹھایا جا سکتا ، یعنٰٰی آپ کسی خیال کی نسبت لاکھ عہد کریں کہ اسے اپنے دل یا دماغ میں گھسنے ہی نہ دیں گے ۔ آپ اس میں کامیاب نہیں ہو سکتے ۔ ( چند سطر کے بعد )
خیال لام السلسبیل و دونھا
مسیرۃ شھر البرید المذبذب
(ترجمہ) میری محبوبہ ام سلسبیل کا خیال میرے پاس آتا ہے حالانکہ میرے اور اس کے درمیان میں ایک تیز رفتار قاصد کی ایک مہینہ کی مسافت ہے ۔
ایک دوسرا شاعر کہتا ہے ۔
عجبت لمسراھا وانی تخصلت
الٰٰی رباب السجن دونی مغلق
(ترجمہ) میری محبوبہ کا خیال معلوم نہیں کس طرح میرے پاس چلا آیا جب کہ قید خانہ کا دروازہ میرے اوپر بند تھا ۔
اس بناء پر مؤلف کا یہ دعوٰی کہ حضرت تھانوی ایک بیوی کی باری میں دوسری بیوی کا خیال لانا بھی خلاف عدل سمجھتے تھے ۔ سراسر غلط اور بے بنیاد ہے ، جیسا کہ ہم نے ابھی ارشاد فرمایا !
جناب مؤلف کے خیال میں غالباً حضرت تھانوی کے فضل و کمال کا اعتراف اس وقت ہو ہی نہیں سکتا جب تک کہ ایک نہایت معصومانہ انداز میں دوسرے حضرات پر فقرے نہ کسے جائیں اور ان پر طنز و تعریض نہ کی جائے لیکن نہایت افسوس اور بڑے شرم کی بات ہے کہ اس موقعہ پر وہ حبّک الشئی یعمی و یصم ، ( بسا اوقات کسی شئے کی محبت انسان کو اندھا و بہرہ بنا دیتی ہے ) کے مطابق اس حد تک آگے بڑھ گئے ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تنقیص کر بیٹھے ہیں ، تاریخ و سیر اور احادیث کی کتابوں میں صاف طور پر مذکور ہے کہ حضرت سرور کونین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کو حضرت خدیجہ( رضی اللہ عنھا) سے اتنی محبت تھی کہ آپ دوسروں بیویوں کی باری کے دنوں میں حضرت خدیجہ کا ذکر سوز و گداز کے ساتھ اس طرح فرمایا کرتے تھے کہ ازواج مطہرات کو بعض اوقات ناگواری تک ہو جاتی تھی حضرت خدیجہ کے بعد حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا سے محبت تھی اور حضرت عائشہ ( رضی اللہ عنھا) بھی اسے جانتی تھیں لیکن اس کے باوجود فرماتی ہیں کہ میں نے خدیجہ کو نہیں دیکھا لیکن مجھ کو جس قدر ان پر رشک آتا تھا کسی اور پر نہیں آتا تھا ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیشہ ان کا ذکر کیا کرتے تھے ۔
(دو سطر بعد)
غور کیجئے مولانا تھانوی کے نزدیک تو دوسری بیوی کا خیال لانا بھی خلاف عدل ہے لیکن یہاں آنخضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صرف خیال ہی نہیں لاتے بلکہ ذکر بھی فرماتے ہیں اور ذکر بھی ایک دو دفعہ نہیں بھول چوک سے نہین بلکہ ہمیشہ عمداً اور قصداً ۔
( چند سطروں کے بعد )
اب اس کے مقابل مولوی عبد الباری صاحب مؤلف جامع المجد دین کا بیان پڑھئے کہ مولا نا تھانوی ایک بیوی کی باری میں دوسری بیوی کا خیال لانا بھی خلاف عدل سمجھتے تھے ۔ اور بتائیے کہ العیاذ باللہ کیا اس جملہ کا حاصل یہ نہیں ہے کہ اس معاملہ میں مولانا تھانوی کا مقام آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بھی اونچا ہے کہ جو کام آپ نہ کر سکے وہ مولانا نے کر کے دکھا دیا
۔
( برہان دہلی مارچ 52 ءاز ص167 تا ص 176 مختصراً )

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s