صحابہ ء کرام رضی اللہ عنہم کا دین کی خاطر قربانی کا جذبہ

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الصلوٰۃ و السلام علیک یارسول اللہ

اسلام کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر

آج اپنے اطراف میں ایک سرسری نگاہ دوڑائیے، ہر طرف مسلمانوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر نظر آئے گا۔ کوئی ملک، کوئی شہر، کوئی گاؤں، کوئی قصبہ، کوئی بستی ایسی نہ ملے گی جہاں اسلام کی روشنی نہ پہنچی ہو۔

اس ترقی کا سبب عظیم

اس حقیقت کے اعتراف کے ساتھ ہی یہ سوال بھی ذہن میں اپنا سر اٹھاتا ہے کہ آخر مکۃ المکرمۃ اور مدینہ منورہ سے اٹھنے والی اسلام کی یہ دعوت اتنی دور دراز علاقوں تک کیسے پہنچ گئی ؟ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کا واضح، آسان اور مدلل جواب ان کتب سے حاصل کیا جا سکتا ہے کہ جن میں ہمارے اسلاف کے کارنامے، قیامت تک آنے والوں کے ضمیر کو جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر دین کی خاطر قربانی کا احساس و شعور بیدار فرما رہے ہیں۔
جن کا خلاصہ یہ ہے کہ موجودہ سب بہاریں صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم اور آپ کے بعد آنے والوں کی قربانیوں کا نتیجہ ہیں۔ اگر یہ نفوس قدسیہ مختلف انداز سے دین کی خاطر قربانیاں نہ دیتے تو یقیناً دین کی یہ ترقی بھی نظر نہ آتی۔ بہت بہتر ہے کہ ہم اپنے ان اسلاف کرام کی قربانیوں کے بارے میں تفصیلی طور پر جان کر اپنی ذات میں بھی اس کا شعور بیدار کرنے کی کوشش کریں۔

صحابہ ء کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم کی قربانیوں کی اقسام

اگر صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم کی ان قربانیوں کا مطالعہ کیا جائے تو انھیں واضح طور پر پانچ اقسام میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
(1) مالی قربانی (2) جسمانی قربانی (3) روحانی قربانی (4) جانی قربانی (5) خواھشات کی قربانی۔

(1) مالی قربانی :-
صحابہ ء کرام (رضی اللہ تعالٰی عنہم) نے دین کی خاطر مال خرچ کرنے میں کبھی بھی بخل سے کام نہیں لیا، جب بھی رحمت عالم، نور مجسم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے جس معاملے میں خرچ کی ترغیب ارشاد فرمائی، ان پاکیزہ نفوس نے خوب دل کھول کر دین کی امداد کی اور اس کے بدلے میں اللہ تعالٰی کی بارگاہ سے بڑے بڑے انعامات کے مستحق بنتے چلے گئے۔ اس ضمن میں چند ایمان افروز واقعات پیش کرتا ہوں، انھیں بغور سماعت فرمائیے۔
ابوداؤد اور ترمذی نے حضرت عمر فاروق (رضی اللہ تعالٰی عنہ) کے حوالہ سے لکھا ہے کہ بارگاہ نبوی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے ہمیں حکم ہوا کہ اپنا کچھ مال راہ خدا میں صدقہ کریں۔ میں نے دل میں پختہ ارادہ کر لیا کہ میں آج، ابو بکر صدیق (رضی اللہ تعالٰی عنہ) سے زیادہ مال اللہ تعالٰی کی راہ میں تصدق کروں گا۔
چنانچہ میں اپنا نصف مال لے کر رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ سرور دو عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے دریافت فرمایا کہ “ اپنے اہل و عیال کے لئے کتنا مال چھوڑا ؟“ میں نے عرض کی کہ “ ان کے لئے نصف مال چھوڑ آیا ہوں۔“ اتنے میں ابو بکر (رضی اللہ تعالٰی عنہ) اپنا (کل) مال لے کر حاضر ہوئے، حضور نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ “ تم نے اپنے اہل و عیال کے لئے کیا چھوڑا ؟“ انہوں نے عرض کی کہ “ ان کے لئے اللہ اور اس کا رسول کافی ہے۔“ اس وقت میں نے اپنے دل میں فیصلہ کیا کہ میں کسی بات میں ان سے سبقت نہیں لے جا سکتا۔ ( تاریخ الخلفاء )
اس جذبے کے ساتھ اپنا مال بارگاہ خداوندی میں صدقہ کرنے پر آپ پر کتنی کرم نوازی ہوئی، اس کا اندازہ اس روایت سے لگائیے کہ

اللہ تعالٰی نے سلام بھیجا ہے :-
* ابن عساکر نے حضرت ابن عمر (رضی اللہ تعالٰی عنہا) سے روایت کی ہے، کہ میں ایک روز رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا اور وہاں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ بھی موجود تھے اور وہ ایک ایسی قباء پہنے ہوئے تھے جس کو انہوں نے اپنے سینہ پر کانٹوں سے لگایا ہوا تھا۔ ( یعنی بنٹوں یا تکموں کی بجائے اس میں کانٹے لگے ہوئے تھے۔) پس اس وقت حضرت جبرائیل علیہ السلام بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اور عرض کی، “ یا محمد (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم)! آج ابو بکر (رضی اللہ تعالٰی عنہ) اپنی قباء کو سینے پر کانٹوں سے کیوں اٹکائے ہوئے ہیں ؟“ سرکار دو عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے جواباً ارشاد فرمایا، “ انہوں نے اپنا تمام مال مجھ پر ( اسلام کی ترقی کے لئے ) خرچ کر دیا ہے۔ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے عرض کی، “ یارسول اللہ (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم)! اللہ تعالٰی نے ان پر سلام بھیجا ہے اور فرمایا ہے کہ ان سے کہو کہ “ اے ابو بکر! کیا تم مجھ سے اپنے اس فقر میں راضی ہو ۔ ۔ ۔ ۔ یا ۔ ۔ ۔ ناخوش ہو ؟“
یہ سن کر حضرت ابو بکر (رضی اللہ تعالٰی عنہ) نے کہا کہ “ میں اپنے رب سے ناخوش کس طرح ہو سکتا ہوں ؟ میں تو اس سے راضی ہوں، خوش ہوں، بہت خوش ہوں، بہت راضی ہوں۔“ ( تاریخ الخلفاء )

حضرت عثمان غنی (رضی اللہ تعالٰی عنہ) کا جذبہ:-

حضرت عبدالرحمٰن بن قباب ( رضی اللہ تعالٰی عنہ ) روایت کرتے ہیں کہ سرکار دو عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم جیش عسرہ ( جیش، لشکر اور عسرہ، تنگ دستی کو کہتے ہیں، جس زمانے میں یہ لشکر تیار ہوا وہ بہت تنگ دستی کا زمانہ تھا لٰہذا اسے جیش عسرہ کہا جاتا ہے ) کی تیاری کے لئے صحابہ کرام (رضی اللہ تعالٰی عنہم) کو ترغیب دے رہے تھے، میں بھی وہاں موجود تھا۔ حضرت عثمان ابن عفان (رضی اللہ تعالٰی عنہ) نے عرض کیا۔ “ یارسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم! میں سو اونٹ مع پالان اور سامان اپنے ذمہ لیتا ہوں۔“ نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام (رضی اللہ تعالٰی عنہ) کو دوبارہ ترغیب دلائی۔ حضرت عثمان (رضی اللہ تعالٰی عنہ) نے پھر عرض کی کہ یارسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم! میں دو سو اونٹ مع سازو سامان اپنے ذمہ لیتا ہوں۔“ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے تیسری مرتبہ صحابہ کرام (رضی اللہ تعالٰی عنہم) کو ترغیب دی تو آپ (رضی اللہ تعالٰی عنہ) نے کہا کہ “ یارسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم! میرے ذمہ تین سو اونٹ مع پالان اور سامان کے۔“ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم منبر سے نیچے تشریف لے آئے اور فرمایا کہ “ اب کے بعد عثمان کے جرم و گناہ اسے کوئی نقصان نہیں پہنچائیں گے۔“ ( تاریخ الخلفاء )
* امام ترمذی، حضرت عبدالرحمٰن بن سمرہ سے روایت کرتے ہیں کہ جس وقت حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے جیش و عسرہ تیار فرمایا تو حضرت عثمان غنی (رضی اللہ تعالٰی عنہ) نے ایک ہزار دینار آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دئیے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم دیناروں کو الٹتے پلٹتے جاتے اور فرماتے جاتے کہ “ آج کے بعد عثمان کا کوئی ضرر انہیں نقصان نہیں پہنچائے گا۔ ( یہ آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے دو مرتبہ ارشاد فرمایا۔ ) ( ایضاً )

(2) جسمانی قربانی:-
اللہ عزوجل کے ان محبوب بندوں نے راہ دین میں مالی قربانی کے ساتھ ساتھ بے شمار جسمانی مشفقتیں بھی برداشت کیں، ان تکلیفوں کو پڑھ کر ایک حساس دل رکھنے والے کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو جاری ہو جاتے ہیں۔ واقعی یہ رسول اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی صحبت کی برکت تھی کہ ان حضرات نے ان سخت آزمائشوں پر پورا اترنے کی سعادت حاصل کی ورنہ عام حالات میں ایسی اذیتیں برداشت کرنا انسانی بس کی بات نہیں۔ اس ضمن میں بھی چند واقعات بغور سماوت فرمائیے۔
(1) حضرت بلال (رضی اللہ تعالٰی عنہ) نے ہوش سنبھالا تو چاروں طرف کفر و شرک کی ضلالت کو محیط پایا۔ ان کا آقا، امیہ بن خلف بھی سخت مشرک تھا۔ اس کی غلامی میں آپ (رضی اللہ تعالٰی عنہ) نے بائیس (22) برس گزارے، اسی اثناء میں ان کے کانوں میں دعوت توحید کی صدا پہنچی، یہ بعثت کا ابتدائی زمانہ تھا اور سرور دو عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے بڑی رازداری کے ساتھ تبلیغ حق کا آغاز فرمایا تھا۔ حضرت بلال (رضی اللہ تعالٰی عنہ) نیک نفس اور پاک باز تھے اور اعلان نبوت سے قبل بھی رحمت عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق عالیہ سے بے حد متاثر تھے۔ چنانچہ دعوت اسلام ملتے ہی آپ (رضی اللہ تعالٰی عنہ) نے بلا تائل لبیک کہا اور اپنا دل و جان آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم پر قربان بیٹھے۔ آپ ان سات سعید الفطرت ہستیوں میں شامل ہیں جنہوں نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا۔
جب امیہ کے کانوں میں حضرت بلال (رضی اللہ تعالٰی عنہ) کے قبول اسلام کی بھنک پڑی تو وہ آگ بگولہ ہو گیا۔ اس نے آپ کو بلوا کر پوچھا کہ “ میں نے سنا ہے کہ تم نے کوئی اور معبود ڈھونڈ لیا ہے ؟ سچ سچ بتاؤ، تم کس کی پرستش کرتے ہو ؟ “ آپ (رضی اللہ تعالٰی عنہ) نے جواب دیا، “ محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے خدا عزوجل کی۔“ اس نے کہا کہ، “ محمد (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کے خدا کی پرستش کا مطلب ہے کہ تو، لات و عزی کا دشمن بن گیا ہے، سیدھی طرح راہ راست پر آجا، ورنہ ذلت کے ساتھ مارا جائے گا۔“ آپ (رضی اللہ تعالٰی عنہ) نے جواب دیا کہ “ میرے جسم پر تیرا زور چل سکتا ہے، لیکن دل پر نہیں، اب اللہ تعالٰی کی عبادت و رضا ہی میری زندگی کا مقصود ہے، چنانچہ تمہارے خود ساختہ معبودوں کو درست سمجھنا اور پوجنا میرے بس کی بات نہیں۔“
امیہ، ایک غلام کے اس طرح کلام کرنے سے غصے میں پاگل ہو گیا، بولا “ اچھا تو پھر اس دیوانگی کا مزہ چکھ، دیکھوں گا کہ
محمد (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) اور ان کا خدا (عزوجل) تجھے کیسے چھڑاتے ہیں ؟“ اب اس ظالم نے آپ پر ظلم و ستم کا ایک لا متناہی سلسلہ شروع کر دیا۔ مکہ مکرمہ میں حرہ کی زمین گرمی کے سبب سے مشہور ہے، یہ گرمی میں تانبے کی طرح گرم ہو جاتی ہے۔ امیہ دوپہر کے وقت، آپ کو اس جلتی ہوئی ریت پر لٹا کر ایک بھاری پتھر ان کے سینےپر رکھ دیتا تا کہ ہل بھی نہ سکیں۔ پھر کہتا، “ محمد (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کی پیروی سے باز آ جا، اور “ لات و عزی “ کے معبود برحق ہونے کا اقرار کر لے ورنہ اسی طرح پڑا رہے گا۔“ اس کے جواب میں شیدائے حق کی زبان سے احد احد کی آواز نکلتی تھی۔ امیہ غضب ناک ہو کر ان کو زدوکوب کرنا شروع کر دیتا، لیکن آپ “ احد، احد “ ہی کہتے چلے جاتے۔ ایک مرتبہ اس نے آپ کو ایک دن رات بھوکا پیاسا رکھا اور تپتی ہوئی ریت پر ان کا تماشہ دیکھتا رہا۔
حضرت عمرو بن عاص (رضی اللہ تعالٰی عنہ) فرماتے ہیں کہ “ میں نے بلال کو اس حالت میں دیکھا کہ امیہ نے آپ کو ایسی سخت گرم ریت پر لٹا رکھا ہے کہ جس پر گوشت کا ٹکڑا بھی رکھ دیا جائے تو وہ بھی بھن جائے، لیکن آپ اس حالت میں کہہ رہے تھے کہ “ میں لات و عزی کا انکار کرتا ہوں۔ “ جب امیہ نے دیکھا کہ اتنی سختیوں کے باوجود اس عاشق رسول (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کی جبین ہمت پر شکن تک نہیں پڑی تو امیہ کی آتش غضب بھڑک اٹھی اور اس نے اپنے دوسرے غلاموں کو حکم دیا کہ “ بتوں کے اس باغی کو اتنی سزا دو کہ یہ محمد (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) اور ان کے خدا کا نام لینا چھوڑ دے۔“ یہ بدبخت، امیہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے آپ کو بری طرح مارتے، پیٹتے، دن کے وقت کپڑے اتار لوہے کی زرہ پہناتے اور دھوپ میں ڈال دیتے۔ شام کو ہاتھ پاؤں باندھ کر ایک کوٹھڑی میں پھینک دیتے اور رات کو انہیں کوڑے مارے جاتے، لیکن آپ (رضی اللہ تعالٰی عنہ) کی زبان سے “ احد احد “ ہی نکلتا۔
علامہ ابن سعد (رضی اللہ تعالٰی عنہ) فرماتے ہیں کہ امیہ، آپ (رضی اللہ تعالٰی عنہ) کے گلے میں رسی باندھ کر لڑکوں کے حوالے کر دیتا اور وہ انہیں مکے کی گھاٹیوں میں گھسیٹے پھرتے، پھر جلتی ہوئی ریت پر لٹاتے اور ان پر پتھروں کا ڈھیر ڈال دیتے، لیکن آپ (رضی اللہ تعالٰی عنہ) احد احد ہی کہتے۔
حتی کہ
حضرت ابو بکر صدیق (رضی اللہ تعالٰی عنہ) نے انہیں خرید کر آزاد فرما دیا۔ ( مدراج النبوت )
(2) جب حضرت خالد (رضی اللہ تعالٰی عنہ) کے اسلام لانے کی اطلاع ان کے باپ ابو احیحہ کو ملی تو وہ سخت برہم ہوا۔ آپ باپ کے غضب سے بچنے کے لئے کہیں چھپ گئے۔ ابواحیحہ نے اپنے دوسروے بیٹوں کو ان کی تلاش کے لئے بھیجا، وہ انہیں پکڑ کر باپ کے پاس لے آئے۔ باپ نے خالد (رضی اللہ تعالٰی عنہ) کو سخت ملامت کرنے کے بعد اس بےدردی سے پیٹا کہ اس کے ہاتھ کی لکڑی ٹکڑے ٹکڑے ہو گئی۔ جب مارتے مارتے تھک گیا، تو کہا، “ دین محمد (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کو چھوڑ دے، ورنہ تیری خیر نہیں۔“ آپ نے جواب دیا، “ ہرگز نہیں! چاہے میری جان چلی جائے، میں اللہ کے برحق رسول (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کا دامن اقدس ہاتھ سے نہ چھوڑوں گا۔“ باپ نے بہت ڈرایا، دھمکایا لیکن آپ ٹس سے مس نہ ہوئے۔
باپ نے مزید زدوکوب کرنے کے بعد کہا، “ تو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے کہ
محمد (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) نے ساری قوم سے الگ راستہ اختیار کر لیا ہے، وہ ہمارے معبودوں کی مذمت کرتا ہے اور ہمارے آباو اجداد کو گمراہ قرار دیتا ہے، تجھے شرم نہیں آتی کہ ان باتوں میں اس کا ساتھ دیتا ہے ؟“ آپ بے بلاجھجک جواب دیا، “ خدا کی قسم! وہ جو کچھ فرماتے ہیں، میں ہر حالت میں ان کی پیروی کروں گا۔“ باپ نے تنگ آ کر کہا، “ میری نظروں سے دور ہو جا، میرے گھر میں تجھے کھانا نہ ملے گا۔“ آپ نے اطمینان سے کہا، “ آپ میرا رزق بند کر دیں گے تو اللہ عزوجل مجھے رزق عطا فرمائے گا۔“ پھر آپ رحمت کونین (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان کے ساتھ رہنے لگے۔
ایک روز آپ مکہ مکرمہ کے نواح میں سنسان جگہ پر نماز پڑھ رہے تھے کہ باپ کو خبر ہو گئی۔ اس نے آپ کو بلوا کر پھر ورغلانے کی کوشش کی لیکن آپ نے کہا، “ میں مرتے دم تک اسلام ترک نہ کروں گا۔“ یہ سن کر باپ نے ان کے سر پر اس زور سے لکڑی ماری کہ وہ دو ٹکڑے ہو گئی، پھر اس نے آپ کو قید کر دیا اور کھانا پینا بند کر دیا۔
حضرت خالد (رضی اللہ تعالٰی عنہ) تین دن تک بھوکے پیاسے مکہ کی ہولناک گرمی میں قید تنہائی کی مصیبتیں جھیلتے رہے۔ چوتھے دن موقع پا کر بھاگ نکلے اور نواح مکہ میں چھپ گئے۔
کچھ عرصہ بعد
صحابہء کرام کے دوسرے قافلے کے ہمراہ حبشہ کی جانب ہجرت فرما گئے۔ ( مدارج النبوت )
(3) حضرت عمر (رضی اللہ تعالٰی عنہ) کے عہدخلافت میں جب مسلمانوں کی فتوحات کا سیلاب شام میں داخل ہوا تو رومیوں میں مسلمان دشمنی کا جنون اس حد تک بڑھ گیا کہ وہ جنگی قیدیوں کو بھی نہایت بےدردی سے شہید کر ڈالتے تھے۔ عرب مؤرخین نے لکھا ہے کہ رومیوں نے تانبے کی ایک گائے بنا رکھی تھی، اس کے پیٹ میں روغن زیتون ڈال کر نیچے آگ جلاتے رہتے تھے۔ اگر مسلمان نصرانیت قبول کر لیتے تھے تو ان کو چھوڑ دیتے تھے اور اگر دین ترک کرنے سے انکار کرتے تو انہیں کھولتے تیل میں ڈال دیتے۔ ( شرح الصدور )
(4) حضرت ابو فکہیہ (رضی اللہ تعالٰی عنہ)۔ امیہ بن خلف کے غلام تھے جب آپ نے قبول اسلام فرمایا تو اس نے مختلف انداز سے ظلم و ستم ڈھانے شروع کر دئیے اور اپنے اہل خاندان کو بھی ہر طرح کی اجازت دے دی تھی کہ جب جی چاہے، اس مظلوم پر ظلم کے پہاڑ توڑ دیں۔ یہ ظالم تپتی ہوئی ریت پر دوپہر کے وقت، آپ کو منہ کے بل لٹا دیتے اور پیٹھ پر ایک وزنی پتھر رکھ دیتے، حتی کہ آپ ہولناک گرمی اور ناقابل برداشت اذیت سے بےہوش ہو جاتے۔
ایک دن شقی القلب امیہ نے آپ کے دونوں پاؤں میں رسی باندھی اور انہیں بری طرح گھسیٹتا ہوا باہر لے گیا۔ اس وقت دوپہر کا وقت تھا اور سورج آگ برسا رہا تھا۔ ظالم نے آپ کو تپتی ہوئی ریت پر ڈال دیا۔ امیہ کا بیٹا صفوان بھی باپ کے پیچھے پیچھے وہاں پہنچا اور
حضرت فکہیہ (رضی اللہ تعالٰی عنہ) سے پوچھا، “ کیا میرا باپ تیرا رب نہیں ہے ؟“ آپ (رضی اللہ تعالٰی عنہ) نے جواب دیا، “ ہرگز نہیں۔ میرا رب‘ اللہ تعالٰی ہے جو سب کا خالق و مالک ہے اور جو سب ک روزی دیتا ہے۔ “ صفوان کو اس جواب پر بےحد غصہ آیا اور اس نے آپ کا گلہ اتنی زور سے دبایا کہ آپ کی زبان باہر نکل پڑی اور بالکل بےحس و حرکت ہو گئے۔ ظالموں نے سمجھا کہ ختم ہو گئے، لیکن ابھی زندگی کی رمق باقی تھی۔ حسن اتفاق سے اس وقت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ وہاں سے گزرے، انہوں نے یہ دردناک منظر دیکھا تو دل بھر آیا اور اسی وقت حضرت فکیہہ کو خرید کر آزاد فرما دیا۔ ( مدارج النبوت )
(5) ہجرت سے قبل حضرت سعد (رضی اللہ تعالٰی عنہ) کی زندگی کا سب سے تابناک باب وہ ہے، جس میں آپ تین سال ( 7ھ تا 10ھ ) تک آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی رفاقت میں شعب ابی طالب میں محصور رہے۔ شعب ابی طالب کی محصوری اگرچہ بنی ہاشم اور بنومطلب سے مخصوص تھی، لیکن آپ (رضی اللہ تعالٰی عنہ) نے ہاشمی اور مطلبی نہ ہونے کے باوجود اللہ تعالٰی اور اس کے رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی خاطر بنو ہاشم اور بنو مطلب کا ساتھ دیا اور ان کے ساتھ تین سال تک ہولناک مصائب برداشت کرتے رہے۔
اس زمانے میں بےکس محصورین بعض اوقات درختوں اور جھاڑیوں کی پتیاں ابال کر اپنا پیٹ بھرتے تھے۔ آپ فرماتے ہیں کہ “ ایک مرتبہ رات کو مجھے سوکھے ہوئے چمڑے کا ایک ٹکڑا کہیں سے مل گیا، میں نے اسے پانی سے دھویا، پھر آگ پر بھونا، کوٹ کر پانی میں گھولا اور ستو کی طرح پی کر اپنے پیٹ کی آگ بجھائی۔“
( مدارج النبوۃ )
پیارے اسلامی بھائیو!
آپ نے ملاحضہ فرمایا کہ ان پاکیزہ فطرت جاں نثاران رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے کس قدر عظیم مصیبتیں، کتنی استقامت سے برداشت فرمائیں۔ اس استقامت کا ایک بہت بڑا فائدہ یہ بھی ظاہر ہوا کہ کفار، ان نومسلم حضرات کے دین سے پھر جانے سے مایوس ہو گئے، اور ان کی یہ مایوسی دین کی تقویت کا سبب عظیم واقع ہوئی۔

(3) روحانی قربانی:-

عموماً قلبی تکلیف، جسمانی اذیت سے زیادہ آزامئش کا باعث بنتی ہے ہے۔ صحابہءکرام (رضی اللہ تعالٰی عنہم) اس معاملے میں بعد میں آنے والوں کیلئے بے شمار مثالیں چھوڑ گئے۔ آئیے اس بارے میں چند حیرت انگیز واقعات سنتے ہیں۔

(1) ہجرت نبوی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے سال سوا سال پہلے حضرت ابوسلمہ (رضی اللہ تعالٰی عنہ) نے کفار کے مظالم سے تنگ آکر مدینہ منورہ کی جانب ہجرت کا قصد کیا۔ اس وقت ان کے پاس صرف ایک ہی اونٹ تھا، اسی پر زوجہ ام سلمہ (رضی اللہ تعالٰی عنہا) اور ننھے بچے سلمہ (رضی اللہ تعالٰی عنہ) کو سوار کرایا اور خود اونٹ کی نکیل پکڑ کر چل پڑے۔ حضرت ام سلمہ (رضی اللہ تعالٰی عنہا) کے قبیلے بنو مغیرہ کو ان کی خبر ہوئی تو انہوں نے اونٹ کو گھیر لیا اور حضرت ابو سلمہ (رضی اللہ تعالٰی عنہ) سے کہا، “ تم جا سکتے ہو لیکن ہماری لڑکی تمھارے ساتھ نہیں جائے گی۔“ یہ کہہ کر اونٹ کی نکیل آپ سے چھین کر چل دئیے۔
اتنے میں
حضرت ابو سلمہ (رضی اللہ تعالٰی عنہ) کے خاندان بنو عبدالاسد کے لوگ بھی آپہنچے۔ انہوں نے حضرت ام سلمہ (رضی اللہ تعالٰی عنہا) سے بچے کو چھین لیا اور بنو مغیرہ سے کہنے لگے، “ تم نے ہمارے آدمی سے اپنی لڑکی کو چھینا تو ہم اپنے بچے کو تمھارے پاس کیوں چھوڑیں ؟“ اسی چھینا چھپٹی میں منے کا ہاتھ اتر گیا۔ ( علامہ بلا ذری فرماتے ہیں، “ منے کا ہاتھ مرتے دم تک ٹھیک نہ ہوا۔“) یہ ایک دردناک صورت حال تھی لیکن ابو سلمہ (رضی اللہ تعالٰی عنہ) دل پر پتھر رکھ کر بیوی بچے کے بغیر تن تنہا مدینے کی طرف روانہ ہو گئے۔
گویا دین حق کی خاطر تینوں میاں، بیوی اور بیٹا جدائی کی تکلیفیں برداشت کر رہے تھے۔
حضرت ام سلمہ (رضی اللہ تعالٰی عنہا) کو فطری طور پر شوہر و بچے کی جدائی کا بہت صدمہ تھا۔ وہ روزانہ صبح کے وقت گھر سے نکلتیں اور سارا دن ایک ٹیلے پر بیٹھ کر گریہ و زاری کرتیں۔ پورا ایک سال اسی طرح گزر گیا۔ ایک دن بنو مغیرہ کے ایک رحم دل اور صاحب اثر شخص نے انہیں اس حال میں دیکھا تو اس کا دل نرم پڑ گیا۔ اس نے اپنے تمام قبیلے کو جمع کیا اور کہا کہ، “ یہ لڑکی ہمارا ہی خون ہے، ہم کب تک اس مسکین کو اس کے شوہر و بچے سے دور رکھیں گے ؟ ہمارا قبیلہ بڑا شریف اور شجاع ہے اور ظلم کو دوست نہیں رکھتا۔“
اس کی تقریر سن کر دوسروں کو بھی رحم آ گیا اور انہوں نے
حضرت ام سلمہ (رضی اللہ تعالٰی عنہا) کو جانے کی اجازت دے دی۔ جب بنوعبدالاسد نے سنا تو انہیں بھی رحم آ گیا اور انھوں نے سلمہ (رضی اللہ تعالٰی عنہ) کو ماں کے پاس بھیج دیا۔ حضرت ام سلمہ (رضی اللہ تعالٰی عنہا) اونٹ پر سوار ہوئیں اور مدینہ منورہ کی طرف منے کے ہمراہ روانہ ہوئیں۔ راستے میں عثمان بن طلحہ ملے (یہ ابھی ایمان نہ لائے تھے، فتح مکہ کے موقع پر ایمان لائے۔) انہیں اس قافلے پر رحم آیا اور انہیں مدینے تک پہنچا دیا۔ (استیعاب)
بی بی ام سلمہ کا شوہر اور بچے کے بغیر ایک سال تک تڑپنا اور ابوسلمہ کا بیوی بچے کے بغیر اللہ کی رضا کے لئے ایک سال تک دور رہنا کس قدر قلبی اذیت کا باعث بنا ہوگا، اس کا اندازہ وہی کر سکتا ہے کہ جو ایک طویل عرصے تک اپنے گھر والوں سے دور رہا ہو۔

(2) حضرت خنساء (رضی اللہ تعالٰی عنہا) اپنے چار فرزندوں کے ساتھ جہاد میں حصہ لینے کے لئے قادسیہ آئیں تھیں۔ جس وقت لڑائی کا تنور پوری طرح گرم ہوا تو آپ نے بیٹوں کو حکم دیا کہ، “ میری بچو! جاؤ اور آخری دم تک راہ حق میں لڑو۔“ ماں کا حکم سنتے ہی چاروں بھائی گھوڑوں کی باگیں اٹھائے رجز پڑھتے ہوئے یکے بعد دیگرے شہید ہو گئے۔ والدہ نے ان کی شہادت کی خبر سنی تو کہا۔ “ اللہ کا شکر ہے کہ میرے فرزندوں نے پیٹھ نہیں پھیری، اللہ عزوجل نے ان کی شہادت کا شرف مجھے بخشا، اس ذات رحیم سے مجھے امید ہے کہ وہ اپنی رحمت کے سائے میں میرے بچوں کے ساتھ مجھے بھی جگہ دے گا۔ (زرقانی)
بڑھاپے کی حالت میں چار جوان بیٹوں کی ہمیشہ کی جدائی کس قدر تکلیف دہ معاملہ ہے، یہ کسی ماں سے پوچھیں تو بہتر ہے۔

(3) حضرت سعد (رضی اللہ تعالٰی عنہ) کی والدہ حمنہ کو اپنے آبائی مذہب سے جنون کی حد تک لگاؤ تھا، اس کو بیٹے کے قبول اسلام کا سن کر اس قدر رنج ہوا کہ کھانا پینا، بولنا چالنا سب لچھ بند کر دیا۔ آپ (رضی اللہ تعالٰی عنہ) ماں سے بےحد محبت کیا کرتے تھے، چنانچہ ماں کو آرزدہ دیکھنا بہت بڑی آزمائش تھی لیکن آپ اس آزمائش میں پورے اترے۔ ماں تین دن تک بھوکی پیاسی رہی۔ یہی اصرار تھا کہ “یہ دنیا ترک کر دو۔“ لیکن آپ کا ایک ہی جواب تھا کہ، “ماں! تم مجھے بےحد عزیز ہو، لیکن تمھارے قالب میں خواہ سو جانیں ہوں اور ایک ایک کرکے ہر جان نکل جائے، تب بھی اسلام کو نہ چھوڑوں گا۔“
بارگاہ خداوندی عزوجل میں آپ کی شان استقلال ایسی مقبول ہوئی کہ عامۃ المسلین کے لئے یہ فرمان الٰہی نافذ ہو گیا، “ وان جا ھدٰک لتشرک بی ما لیس لک بہ علم فلا تطعھما۔ اور اگر وہ تجھ سے کوشش کریں کہ تو میرا شریک ٹھہرائے جس کا تجھے علم نہیں تو ان کا کہا نہ مان۔ ( ترجمہ کنزالایمان۔ پ20۔ العنکبوت8 )

(4) جانی قربانی:-
غالباً انسان کو اپنی جان سب سے زیادہ پیاری ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ اگر جان کو خطرہ ہو تو اس کے بدلے میں بڑی سے بڑی چیز قربان کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتا۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ جب دین کی خاطر جان قربان کرنے کا موقع آیا تو چشم فلک یہ مناظر دیکھ کر محو حیرت ہو گئی کہ ان حضرات نے اس معاملے میں بھی کسی قسم کی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کیا۔ چنانچہ

(1) حضرت جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ روایت کرتے ہیں کہ “ایک شخص نے احد کے دن رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا، “یارسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم! اگر میں شہید ہو گیا تو کہاں جاؤں گا ؟“ سرکار مدینہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا، “جنت میں“ یہ سنتے ہی انھوں نے ہاتھ کی کھجوریں پھینکیں اور لڑائی میں مشغول ہو گئے یہاں تک کہ مرتبہء شہادت پایا۔ (مسلم)

(2) جب پیارے آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم غزوہءبدر کے لئے مدینہ منورہ سے چلنے لگے تو مدینے کے ایک گھر میں “ ایک باپ اور بیٹے “ کے درمیان عجیب و غریب اور بےنظیر مباحثہ جاری تھا۔
باپ! “بیٹا! گھر میں ہم دونوں کے سوا کوئی مرد نہیں، اس لئے مناسب یہی ہے کہ ہم دونوں میں سے کوئی ایک یہیں رہے اور دوسرا جہاد میں شریک ہو۔ تم جوان ہو اور گھر کی دیکھ بھال بہتر طور پر کر سکتے ہو۔ اس لئے تم یہاں رہو اور مجھے
آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جانے دو۔“
اس کے جواب میں سعادت مند فرزند نے عرض کی، “باباجان! اگر جنت کے علاوہ اور کوئی معاملہ ہوتا تو مجھے گھر پر رہنے میں کوئی عذر نہ تھا۔ مجھے
اللہ تعالٰی نے اتنی قدرت دی ہے کہ آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی ہمرکابی کا حق ادا کر سکوں۔ اس لئے آپ یہاں رہئے اور مجھے جانے کی اجازت دیجئے۔ شاید اللہ تعالٰی مجھے شرف شہادت بخشے۔
بڑی تکرار کے بعد باپ نے فیصلہ کیا کہ قرعہ ڈالتے ہیں جس کا نام نکلا وہ جہاد میں جائے گا۔ بیٹے نے رضامندی کا اظہار کیا۔ قرعہ ڈالا گیا تو بیٹے کا نام نکلا۔ ان کو اتنی مسرت ہو رہی تھی کہ پاؤں زمین پر ٹکتے نہ تھے۔ ان فرزند کا نام
سعد اور والد کا نام خثیمہ رضی اللہ تعالٰی عنہ تھا۔ حضرت سعد (رضی اللہ تعالٰی عنہ) نہایت ذوق و شوق کے ساتھ سرکار دو عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی ہمرکابی میں بدر پہنچے اور طعیمہ بن عدی یا عمرو بن عبدود کے ہاتھوں جام شہادت نوش فرمایا۔ (عامہ کتب)

(3) علامہ ابن اثیر (رحمہ اللہ) کا بیان ہے کہ جنگ احد سے ایک دن پہلے حضرت سعد بن ابی وقاص اور عبداللہ بن حجش (رضی اللہ تعالٰی عنہما) ایک جگہ اکھٹے ہوئے۔ حضرت سعد (رضی اللہ تعالٰی عنہ) نے دعاء فرمائی کہ الٰہی عزوجل! کل جو دشمن میرے مقابلے میں آئے، وہ بڑا بہادر اور غضب ناک ہو اور مجھے اتنی طاقت دے کہ میں تیری راہ میں اس کو قتل کر دوں۔“
پھر
حضرت عبداللہ (رضی اللہ تعالٰی عنہ) نے آمین کہتے ہوئے دعاء فرمائی کہ “ الٰہی عزوجل! میرا مقابلہ ایسے دشمن سے ہو، جو نہایت جنگ جو اور غصہ ور ہو، مجھے شہادت نصیب ہو اور وہ میرے کان، ناک کاٹ ڈالے۔ جب میں تجھ سے ملوں اور تو مجھ سے پوچھے کہ، “اے عبداللہ! یہ تیرے کان ناک کیوں کاٹے گئے؟“ تو میں کہوں کہ “اے اللہ عزوجل! تیرے اور تیرے رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے لئے۔“ حضرت سعد (رضی اللہ تعالٰی عنہ) نے ان کی دعاء پر آمین کہا۔
دل سے نکلنے والی دونوں دعاؤں نے درجہءقبولیت پایا۔ چنانچہ دوران جنگ
حضرت سعد (رضی اللہ تعالٰی عنہ) نے ایک نامی گرامی مشرک کو قتل کیا اور عبداللہ بن حجش (رضی اللہ تعالٰی عنہ) نے ابن اخنس ثقفی کے ہاتھ سے جان شہادت پیا۔ مشرکین نے ان کی لاش کا مثلہ کیا اور کان، ناک، ہونٹ کاٹ کر دھاگے میں پروئے۔ لڑائی کے بعد حضرت سعد (رضی اللہ تعالٰی عنہ) کا گزر ان کی لاش پر ہوا تو بےاختیار ان کے منہ سے نکلا، “خدا عزوجل کی قسم! عبداللہ (رضی اللہ تعالٰی عنہ) کی دعا میری دعا سے بہتر تھی۔“ ( سیرت رسول عربی )
(6) خواہشات کی قربانی:-

انسان کی خواہشات مختلف قسم کی ہوتی ہیں۔ بسا اوقات ان میں بہت شدت پائی جاتی ہے اور کبھی ان کا زور ہلکا ہوتا ہے۔ کمزور خواہش کا دبانا آسان جب کہ زبردست تمنا کو پایہءتکمیل ےک پہنچنے سے روکنا بےحد مشکل ہوتا ہے۔ پھر اگر دل میں مچلنے والی کوئی خواہش فوراً پوری ہو رہی ہو اور پھر کسی وجہ سے اسے روکا جائے تو اتنی مشقت محسوس نہیں ہوتی۔ لیکن اس کے برعکس اگر کوئی تمنا بہت عرصہ تڑپتے رہنے کے بعد پوری ہونے کا موقع آئے اور پھر اسے روکنے کی کوشش کی جائے تو یقیناً بہت اذیت و تکلیف کا باعث اور زبردست مجاہدہ درکار ہے۔ ہمارے اسلاف کرام اپنی پوری زندگی اسلام کی راہ میں اسی قسم کی اذیتوں کو برداشت کرتے ہوئے گزار کر ہمارے لئے زبردست عملی نمونہ چھوڑ گئے۔ اسی ضمن میں ایک ایمان افروز واقعہ حاضر خدمت ہے۔
* علامہ ابن اثیر (رحمہ اللہ) فرماتے ہیں کہ قبول اسلام کے بعد حضرت سعد (رضی اللہ تعالٰی عنہ) نے بارگاہ رسالت صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم میں عرض کی، “یارسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم! میں نکاح کرنا چاہتا ہوں لیکن کوئی بھی شخص میری بدصورتی کے سبب مجھے رشتہ دینے پر راضی نہیں ہوتا۔ میں کئی مقام پر پیغام بھیج چکا ہوں لیکن سب نے رد کر دیا ہے۔
اپنے جانثار کی اس درخواست کو سن کر
آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی شان رحیمی نے گوارہ نہ کیا کہ لوگ اسے صرف اس وجہ سے ٹھکرائیں کہ وہ ظاہری حسن و جمال سے محروم ہے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا، “اے سعد! گھبراؤ نہیں، میں خود تمھاری شادی کا بندوبست کرتا ہوں، تم اسی وقت عمرو بن وہب ثقفی کے گھر جاؤ اور ان سے کہو کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے میرا رشتہ آپ کی بیٹی سے کر دیا ہے۔“ رحمت دو عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا یہ ارشاد سن کر آپ (رضی اللہ تعالٰی عنہ) شاداں و فرحاں حضرت عمرو بن وھب (رضی اللہ تعالٰی عنہ) کے گھر کی طرف چل دئیے۔
حضرت عمرو بن وہب ثقفی (رضی اللہ تعالٰی عنہ) نئے نئے مسلمان ہوئے تھے اور ابھی ان کے مزاج میں زمانہ جاہلیت کی درشتی موجود تھی۔ حضرت سعد (رضی اللہ تعالٰی عنہ) نے ان کے گھر پہنچ کر انھیں، سرکار مدینہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے فرمان سے مطلع کیا تو ان کو بڑی حیرت ہوئی کہ میری ماہ پیکر، ذہین و فطین لڑکی کی شادی ایسے کریہہ منظر شخص سے کیسے ہو سکتی ہے ؟ انھوں نے سوچے سمجھے بغیر حضرت سعد (رضی اللہ تعالٰی عنہ) کا پیغام رد کر دیا اور بڑی سختی کے ساتھ انہیں واپس جانے کے لئے کہا۔ آپ (رضی اللہ تعالٰی عنہ) کی سعادت مند بیٹی نے یہ تمام گفتگو سن لی تھی، جونہی حضرت سعد (رضی اللہ تعالٰی عنہ) واپس جانے کے لئے پلٹے، وہ لپک کر آئیں اور آواز دی کہ، “اے اللہ کے بندے! واپس آؤ، اگر واقعی رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے تمھیں بھیجا ہے تو میں بخوشی تمھارے ساتھ شادی کو تیار ہوں، جس بات سے اللہ تعالٰی اور اس کے رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم راضی ہوں میں بھی اس پر راضی ہوں۔“
لیکن اتنی دیر میں
حضرت سعد آگے بڑھ چکے تھے، اس لئے یہ بات نہ سن سکے۔ پھر نیک بخت بیٹی نے والد سے کہا کہ “ باباجان! قبل اس کے کہ اللہ تعالٰی آپ کو رسوا کرے، آپ اپنی نجات کی کوشش کیجئے۔ آپ نے بڑا غضب کیا کہ آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے فرمان عالی شان کی پرواہ نہ کی اور آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے فرستادہ کے ساتھ درشت سلوک کیا۔“ حضرت عمرو بن وھب (رضی اللہ تعالٰی عنہ) نے جب یہ بات سنی تو اپنے انکار پر سخت شرمندہ ہوئے اور ڈرتے ڈرتے بارگاہ مصطفوی (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) میں حاضر ہوئے۔
نبی کریم نے انھیں دیکھ کر سوال کیا کہ، “تم ہی نے میرے بھیجے ہوئے آدمی کو لوٹایا تھا ؟“ حضرت عمرو بن وھب (رضی اللہ تعالٰی عنہ) نے عرض کی، “یارسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم! بےشک میں نے انھیں لوٹایا تھا، لیکن یہ غلطی لاعلمی میں سرزد ہوئی، میں ان سے واقف نہ تھا اس لئے ان کی بات پر اعتبار نہ کرتے ہوئے پیام نامنظور کیا تھا، خدا عزوجل کے لئے مجھے معاف فرما دیجئے، مجھے اپنی لڑکی سے ان کی شادی منظور ہے۔“ سرورعالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے ان کا عذر قبول فرماتے ہوئے حضرت سعد (رضی اللہ تعالٰی عنہ) سے ارشاد فرمایا، اے سعد! میں نے تمھارا عقد بنت عمرو بن وھب (رضی اللہ تعالٰی عنہ) سے کر دیا ہے، اب تم اپنی بیوی کے پاس جاؤ۔“
حضرت سعد (رضی اللہ تعالٰی عنہ) یہ مسرت انگیز خبر سن کر بازار گئے اور ارادہ فرمایا کہ دلہن کے لئے کچھ تحائف خریدیں۔ ابھی ارادہ فرما ہی رہے تھے کہ ایک منادی کی آواز کانوں میں پڑی کہ، “ اے اللہ عزوجل کے شہسوارو! جہاد کے لئے تیار ہو جاؤ اور جنت کی بشارت لو۔“ آپ (رضی اللہ تعالٰی عنہ) نوجوان تھے، نئی نئی شادی ہوئی تھی، دل میں ہزار منگیں اور ارمان تھے، بارہا مایوس ہونے کے بعد شادی کا مژدہ سنا تھا۔ لیکن منادی کی آواز سن کر تمام جذبات پر جوش ایمانی غالب آ گیا اور دلہن کے لئے تحفے خریدنے کا خیال دل سے یکسر نکل گیا۔
جو رقم اس مقصد کے لئے ساتھ تھی، اس سے ایک گھوڑا، تلوار، اور نیزہ خریدا اور سر پر عمامہ باندھ کر
سالار اعظم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی قیادت میں غزوے میں جانے والے مجاہدین میں شامل ہو گئے۔ آپ کے پاس اس سے پہلے نہ گھوڑا تھا نہ تلوار و نیزہ، نہ کبھی عمامہ اس طرح باندھا تھا، اس لئے کسی کو معلوم نہ ہو سکا کہ یہ حضرت سعد (رضی اللہ تعالٰی عنہ) ہیں۔ میدان جہاد میں آپ ایسے جوش و شجاعت سے لڑے کہ بڑے بڑے بہادروں کو پیچھے چھوڑ دیا۔
ایک موقع پر گھوڑا اڑ گیا تو اس کی پشت سے کودے اور آستینیں چڑھا کر پیادہ پاہی لڑنا شروع کر دیا۔ اس وقت
رحمت دو عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے ان کے ہاتھوں کی سیاہی دیکھ کر انھیں شناخت کر لیا اور آواز دی کہ، “ سعد! “ لیکن حضرت سعد (رضی اللہ تعالٰی عنہ) اس وقت دنیا و مافیہا سے بےخبر اس جوش و وارفتگی سے لڑ رہے تھے کہ اپنے آقا و مولٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی آواز نہ سن پائے اور اسی طرح داد شجاعت دیتے ہوئے جام شہادت نوش فرمایا۔
سرکار دو عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو آپ (رضی اللہ تعالٰی عنہ) کی شہادت کی خبر ہوئی تو آپ ان کی لاش کے پاس تشریف لائے، ان کا سر اپنی گود مبارک میں رکھا اور پھر دعائے مغفرت کرنے کے بعد فرمایا کہ“ میں نے سعد کا عقد عمرو بن وھب کی لڑکی کے ساتھ کر دیا تھا، اس لئے اس کے متروک سامان کی مالک وہی لڑکی ہے۔“ حضرت سعد (رضی اللہ تعالٰی عنہ) کے ہتھیار اور گھوڑا اس کے پاس پہنچا دو اور اس کے ماں باپ سے جا کر کہہ دو کہ اب خدا عزوجل نے تمھاری لڑکی سے بہتر حور سے سعد کا نکاح کر دیا ہے۔(زرقانی)

ان قربانیوں کی طرف مائل کرنے والے اسباب

پیارے اسلامی بھائیو!
آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ ہمارے اسلاف کرام کی پوری زندگی دین کی خدمت کے سلسلے میں تکالیف برداشت کرتے ہوئے بسر ہوئی ہے۔ اس موقع پر ہو سکتا ہے کہ کسی کے ذہن میں مذید یہ سوال بیدار ہو کہ * آخر ان حضرات کی مذکورہ بیشمار قربانیوں کے پیچھے کون کون سے امور کار فرما تھے ؟۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اور ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
* کس چیز نے انھیں اس قدر سخت تکالیف کا سامنا کرنے پر مجبور کیا ؟ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
معلولی سوچ بچار کے بعد درج ذیل پانچ امور، بیان کردہ سوالات کے جواب کے طور پر نظر آتے ہیں۔
(1) دین سے محبت۔
(2) اللہ تعالٰی اور اس کے محبوب صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت اور رضا کے حصول کا جذبہ۔
(3) احساس ذمہ داری۔
(4) بروز قیامت گرفت کا خوف۔
(5) آخرت کے انعامات کے حصول کی تمنا۔

محاسبہ
میرے محترم اسلامی بھائیو!
صحابہ کرام (رضی اللہ تعالٰی عنہ) کی ان قربانیوں کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں اپنا دیانت دارانہ محاسبہ ضرور کرنا چاہئیے کہ
* کیا ہم بھی اپنے دین سے محبت رکھتے ہیں ؟۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
* کیا ہم بھی اللہ تعالٰی اور اس کے محبوب صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی رضا کے حصول کے لئے اصلاح معاشرہ کا ذہن بناء کر عملی کوششوں میں مصروف عمل ہیں ؟۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
* کیا ہمیں موجودہ معاشرے کی بدترین صورت حال کی بہتری کے سلسلے میں اپنی ذمہ داری کا احساس ہے ؟۔ ۔ ۔ ۔ ۔
* کیا ہم نے کبھی خوف کیا کہ بروز قیامت ہم سے بھی اپنے اطراف میں رہنے والے مسلمانوں کی اصلاح کے بارے میں سوال کیا جائے گا ؟۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
* کیا ہم نے جنت کی خواہش رکھنے کے باوجود اس کے حصول کے لئے تبلیغ دین کو بھی ذریعہ بنایا ؟۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
افسوس صد افسوس!
یقیناً ان سوالات کے جواب میں ہمارے پاس انکار کے سوا اور کچھ نہیں۔ کیونکہ
* اگر ہمیں اپنے دین سے محبت ہوتی تو جس طرح اپنے کاروبار و نوکری کے فائدے و نقصان پر ہمیں خوشی و غم محسوس ہوتا ہے، ویسا ہی دیدنی ترقی و تنزلی پر بھی محسوس ہوتا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن یہاں صورت حال یہ ہے کہ نہ تو دینی ترقی پر دل میں خوشی کی لہریں اٹھتی ہیں اور نہ ہی اس کے نقصان پر راتوں کی نیندیں اور بھوک غائب ہوتی ہے۔ حتٰی کہ کبھی چہرے پر افسردگی کے آثار بھی نظر نہیں آتے۔
* اگر ہمیں اللہ تعالٰی اور اس کے محبوب صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی رضا مطلوب ہوتی تو ہم بھی اس مقصد عظیم کے حصول کے لئے تبلیغ دین کا فریضہ باقائدگی اور خوشدلی کے ساتھ سر انجام دیتے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن ہم تو اسے ایک بوجھ تصور کرتے ہوئے اپنی جان چھڑاتے نظر آتے ہیں اور اس طریقے سے حصول رضا کا ذہن بنانا تو ہم نے سیکھا ہی نہیں۔
* یونہی اگر ہمیں احساس ذمہ داری ہوتا تو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کرتے ہوئے معاشرے ۔ ۔ ۔ یا۔ ۔ ۔ کم ازکم اپنے گھر والوں کی اصلاح کرنے کی تو سنجیدگی کے ساتھ کوشش کرتے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن ہمارا تو ذہن بن چکا ہے کہ دین کا کام فقط عمامہ باندھنے والا، داڑھی رکھنے والا۔ ۔ ۔ یا ۔ ۔ ۔ مسجد کا امام و خطیب کرے گا۔ ۔ ۔ یا ۔ ۔ ۔ میں کیوں کروں فلاں کرے گا، ہمیں اس سلسلے میں پریشان ہونے کی کیا ضرورت ہے ؟ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
کاش! ہم غور کر لیتے کہ دین صرف داڑھی، عمامے والے۔ ۔ ۔ یا ۔ ۔ ۔ مسجد کے امام و خطیب۔ ۔ ۔ یا ۔ ۔ ۔ فلاں مسلمان بھائی کا نہیں، ہمارا بھی تو ہے۔ تو جس طرح ان پر خدمت دین کی ذمہ داری ہے، ہم پر کیوں نہیں ؟۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
* اگر ہمیں گرفت آخرت کا خوف حقیقی ہوتا تو یقیناً اطراف میں لوگوں کی آخرت سے غفلت اور گناہوں میں سکون کی تلاش کی قابل مذمت کوشش اور اس کے جواب میں ہماری سردمہری دل کو بےقرار کر دیتی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن ایسا نہیں بلکہ اس کے برعکس ہم تو گناہوں پر دوسروں کی حوصلہ افزائی اور خود عملی طور پر ان سے ہر قسم کے تعاون کے لئے ہمہ وقت تیار نظر آتے ہیں ؟ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
* اگر ہمیں جنت کی سچی طلب ہوتی تو یقیناً ہم اس راہ میں ہر قسم کی مشقتیں برداشت کرنے کے لئے ہر وقت اسی طرح تیار رہتے، جس طرح دنیا کی سچی لگن ہمیں بڑی بڑی مصیبتوں پر صبر کا حوصلہ فراہم کرتی رہتی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن افسوس! کہ دنیا کے لئے دھکے، گالیاں، بےعزتی اور ہر قسم کی ذلت برداشت کر لینے والا، اس راہ پاکیزہ میں ایک لفظ بھی برداشت کرنے اور اس صبر کی بدولت جنت میں درجات کی بلندی کے حصول کے لئے تیار نظر نہیں آتا۔
محترم اسلامی بھائیو!
واقعی دین کے لئے پر اخلاص قربانیاں، صحابہ کرام (رضی اللہ تعالٰی عنہم) کا ہی حصہ ہیں۔ ہم جیسے نازک اندان مسلمان جنھیں گھر بیٹھے ہی اسلام جیسی لازوال نعمت حاصل ہو گئی، اس معاملے میں کسی قسم کا قربانی کا ذہن بنانے کے لئے تیار نہیں آتے، نہ تو ہماری جیبوں سے مال نکلتا ہے، نہ ہی اپنا وقت دینے کے لئے تیار ہیں۔
آہ!
* پھر دین کا کام کیسے ہو گا ؟۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
* لوگ نیک کیسے بنیں گے ؟۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
* گناہوں سے کنارہ کشی کس طرح ممکن ہو گی ؟ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
* دشمنان اسلام کا مقابلہ کیسے کیا جائے گا ؟ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
میرے پیارے اسلامی بھائیو!
ہمیں ہمت کرنا ہو گی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دین کے کام کو اپنا کام سمجھنا ہو گا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے نقصان پر افسوس کا اظہار کرنے اور ترقی پر کوش ہونے والا دل رکھنا ہو گا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو ایک وقت آئے گا کہ ایمانی ہلاکت کا باعث بننے والا برائیوں کا یہ سیلاب، ہمیں اور ہماری آنے والی نسلوں کو بھی اپنے ساتھ بہا کر جہنم کے کسی گندے نالے میں گرا دے گا۔
اللہ تعالٰی ہمیں بھی تبلیغ دین کے سلسلے میں اپنی ذمہ داری کا احساس کرنے کی توفیق مرحمت فرمائے ۔
آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم
 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s