وہابی اور حدیث

وہابی اور حدیث :

غیر مقلدوں کا اصلی نام وہابی ہے، لقب نجدی کیونکہ ان کا مورث اعلٰی محمد ابن عبدالوہاب ہے جو نجد کا رہنے والا تھا، اگر انہیں مورث اعلٰی کی طرف نسبت کیا جاوے تو وہابی کہا جاتا ہے اور اگر جائے پیدائش کی طرف نسبت دے جائے تو نجدی جیسے مرزا غلام احمد قادیانی کی امت کو مرزائی بھی کہتے ہیں اور قادیانی بھی پہلی نسبت مورث کی طرف ہے، دوسری نسبت جائے پیدائش کی طرف اسی جماعت کی پیشن گوئی خود حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے کی تھی کہ نجد کے متعلق ارشاد فرمایا تھا۔
ھناک الزلازل والفتن ویخرج منھا قرن الشیطان۔
“ نجد میں زلزلے اور فتنے میں ہوں گے، اور وہاں سے ایک شیطانی فرقہ نکلے گا۔“
غرض کہ اس جماعت کا بانی محمد ابن عبد الوہاب نجدی ہے اور اس کا ہندوستان میں پرورش کرنے والا اسماعیل دہلوی ہے، اس فرقہ کے حالات ہماری کتاب جاءالحق حصہ اول میں ملاحظہ فرماؤ یہ لوگ عام مسلمانوں کو مشرک اور صرف اپنی جماعت کو موحد کہتے ہیں، مقلدوں کے جانی دشمن اور ائمہ اربعہ حضرت امام ابو حنیفہ، امام شافعی، امام مالک، امما احمد بن حنبل رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین کی شان اقدس میں تبرے کرتے ہیں۔
یہ لوگ اپنے آپ کو اہل حدیث یا عامل بالحدیث کہتے ہیں، یہ لوگ پہلے تو اپنے کو فخریہ طور پر وہابی کہتے تھے، چنانچہ ان کی بہت کتب کے نام تحفہ وہابیہ وغیرہ ہیں، مگر اب وہابی کے نام سے چڑتے ہیں، ان کے عقائد و اعمال نہایت ہی گندے اسلام اور مسلمانوں کے دامن پر بدنما داغ ہیں، ہم یہاں اہل حدیث نام پر مختصر تبصرہ کرتے ہیں، تا کہ معلوم ہو کہ ان کا نام بھی درست نہیں، مسلمانوں سے امید انصاف ہے اور اللہ تعالٰی اور اس کے
محبوب صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے امید قبول ہے۔
خیال رہے کہ دنیا کا کوئی شخص اہل حدیث یا عامل بالحدیث ہو سکتا ہی نہیں، کسی کا اہل حدیث یا عامل الحدیث ہونا ایسا ہی ناممکن ہے، جیسے دو تقیضین یا دو ضدیں کا جمع ہونا غیر ممکن کیونکہ حدیث کے لغوی معنی ہیں بات، گفتگو یا کلام رب فرماتا ہے۔

فبای حدیث بعدہ یومنون۔
“ قرآن کے بعد کونسی بار پر ایمان لائیں گے۔“
اللہ نزل احسن الحدیث ۔
“ اللہ تعالٰی نے سب سے اچھا کلام نازل فرمایا۔“
ومن الناس من یشتری لھو الحدیث لیضل عن سبیل اللہ
“ بعض لوگ وہ ہیں، جو کھیل کی باتیں و ناول، قصے خریدتے ہیں، تاکہ اللہ کی راہ سے بہکا دیں۔“
اس
تیسری آیت میں ناول قصے کہانیوں کو حدیث فرمایا گیا۔
اصطلاح شریعت میں حدیث اس کلام و عبارت کا نام ہے، جس میں
حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے اقوال یا اعمال اسی طرح صحابہ کرام کے اقوال و اعمال بیان کئے جاویں، اس عامل بالحدیث فرقے سے سوال ہے کہ تم کونسی حدیث پر عامل ہو، لغویپر یا اصطلاحی پر ہو اگر لغوی حدیث ہو تو چاہئے کہ ہر ناول گو قصہ خوان اہل حدیث ہو کہ وہ حدیث یعنی باتیں کرتا ہے ہر سچی جھوٹی بات پر عمل کرتا ہے، اگر اصطلاحی حدیث پر عامل ہو تو پھر سوال یہ ہو گا کہ ہر حدیث پر عامل ہو یا بعض پر دوسری بات غلط ہے کیونکہ حضور کے کسی نہ کسی فرمان پر ہر شخص ہی عامل ہے۔ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ سچ نجات دیتا ہے جھوٹ ہلاک کرتا ہے، ہر مشرک و کافر اس کا قائل ہے، وہ سب ہی اہل حدیث ہو گئے، تم حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی مسلمانوں کو اہل حدیث کیوں نہیں مانتے یہ تو ہزارہا حدیثوں پر عمل کرتے ہیں، اگر حدیث کے معنی ہیں حضور کی ساری حدیثوں پر عمل کرنے والے تو یہ نہ ممکن ہے کیونکہ حضور کی بعض حدیثیں منسوخ ہیں، بعض حدیثوں میں حضور کے وہ خصوصی اعمال شریف ہیں جو حضور کے لئے مباح یا فرض تھے، ہمارے لئے حرام ہے جیسے منبر پر نماز پڑھنا اونٹ پر طواف فرمایا، حضرت حسین سیدالشہداء خاتم آل عبار رضی اللہ تعالٰی عنہ کے لئے سجدہ دراز فرمایا، حضرت امامہ بنت ابی العاص کو کندھے پر لے کر نماز پڑھنا، نو بیویاں نکاح میں رکھنا، بغیر مہر نکاح ہونا ازواج میں عدل و مہر واجب نہ ہونا۔ بلکہ حدیث سے ثابت ہے کہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کلمہ یوں پڑھتے تھے،
لاالہ الا اللہ وانی رسول للہ۔ الخ
“ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں۔“
یہ حضرات اسی حدیث پر عمل کرکے اس طرح کلمہ کا ورد نہیں کر سکتے، غرضکہ حدیث میں حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے ایسے اقوال و اعمال بھی ذکر ہیں جو حضور کے لئے کمال ہیں، ہمارے لئے کفر۔
اسی طرح
حضور علیہ السلام کے وہ افعال کریمہ جو نسیان یا اجتہادی خطاء سے سرزد ہوئے حدیث میں مذکور ہیں، عامل الحدیث صاحبان کو چاہیئے کہ ان پر بھی عمل کیا کریں۔ ہر حدیث پر جو عامل ہوئے بہرحال کوئی شخص ہر حدیث پر عمل نہیں کر سکتا، جو اس معنی سے اپنے کو اہل حدیث یا عامل بالحدیث کہے، وہ غلب کہتا ہے جب ہی نام جھوٹ ہے، تو اللہ کے فضل سے کام بھی سارے کھوٹے ہی ہوں گے، اسی لئے حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔
علیکم بسنتی وسنۃ الخلفاء الراشدین
“ لازم پکڑو میری اور خلفاءراشدین کی سنت کو۔“
یہ نہ فرمایا کہ میری حدیث کو لازم پکڑو، کیونکہ ہر حدیث لائق عمل نہیں ہر سنت لائق عمل ہے، حضور کے وہ اعمال طیبہ جو منسوخ بھی نہ ہوئے ہوں، حضور سے خاص بھی نہ ہوں خطاء انسیاناً بھی درزد نہ ہوں، بلکہ امت کے لئے لائق عمل ہوں، انہیں سنت کہا جاتا ہے، لٰہذا ہمارا نام اہل سنت بالکل حق و درست ہے، کہ ہم بفضلہ تعالٰی
حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی ہر سنت پر عامل ہیں، مگر وہابیوں کا نام اہل حدیث بالکل غلط ہے کہ ہر حدیث پر عمل نا ممکن۔
اب حدیثوں کی یہ چھانٹ کہ کون سی حدیث منسوخ ہے کون حکم کون حدیث
حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی خصائص میں سے ہے، کون سب کی اتباع کے لئے کون فعل شریف اقتداء کے لئے یے، کون نہیں کس فرمان کا کیا منشاء ہے، کس حدیث سے کہا مسئلہ صراحۃً ثابت ہے اور کون مسئلہ اشارۃً کون دلالۃً کون اقتضاء یہ سب کچھ امام مجتہد ہی بتا سکتے ہیں، ہم جیسے عوام وہاں تک نہیں پہنچ سکتے، جیسے قرآن عمل کرانا حدیث کا کام ہے، ایسے ہی حدیث پر عمل کرانا امام مجتہد کا کام یوں سمجھو کہ حدیث شریف رب تک پہنچنے کا راستہ ہے اور امام مجتہد اس راستہ کا نور جیسے بغیر روشنی راہ طے نہیں ہوتا، بغیر امام و مجتہد حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی سنتوں پر عمل کرنا نا ممکن ہے، اسی لئے علماء فرماتے ہیں۔
القراٰن والحدیث یضلان الا بالمجتھد۔
“ بغیر مجتہد قرآن و حدیث گمراہی کا باعث ہیں۔“
رب تعالٰی قرآن کریم کے متعلق فرماتا ہے۔

یضل نہ کثیرا و یھدی نہ کثیرا ۔
“ اللہ تعالٰی قرآن کے ذریعے بہت کو ہدایت کرتا ہے اور بہت کو گمراہ کر دیتا ہے۔“
چکڑالوی اسی لئے گمراہ ہیں کہ وہ قرآن شریف بغیر حدیث کے نور کے سمجھنا چاہتے ہیں، براہ راست رب تک پہنچنا چاہتے ہیں، وہابی غیر مقلد اسی لئے راہ سے بھٹکے ہوئے ہیں کہ یہ حدیث کو بغیر علم کی روشنی اور بغیر مجتہد کے نور کے سمجھنا چاہتے ہیں، مقلدین اہل سنت کا انشاءاللہ بیڑا پار ہے، کہ ان کے پاس کتاب اللہ بھی ہے سنت رسول اللہ بھی اور سراج امت امام مجتہد کا نور بھی۔

یوم ندعوا کل اۃ ناس باما مھم۔
“ اس دن ہم ہر شخص کو اس کے امام کیساتھ بلائیں گے۔“
خیال رکھو کہ قرآن و سنت کا سمندر ہم مقلد بھی عبور کرتے ہیں، اور غیر مقلد وہابی بھی، لیکن ہم تقلید کے جہاز کے ذریعہ جس کے ناخذ حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ ہیں ان کی ذمہ داری پر سفر کر رہے ہیں، غیر مقلد وہابی خود اپنی ذمہ داری پر اس سمندر میں چھلانگ لگا رہے ہیں۔
انشاءاللہ مقلدوں کا بیڑا پار ہے، اور وہابیوں کا انجام غرقابی ہے۔
آخر میں ہم اہل حدیث حضرات سے پوچھتے ہیں کہ اسلام کی پہلی عبادت نماز ہے، براہ مہربانی آپ احادیث صحیحہ کی روشنی میں بتا دیں کہ فرض، واجب، سنت، مستحب، مکروہ تحریمی اور حرام میں کیا فرق ہے، اور نماز میں کتنے فرض ہیں، کتنے واجب، کتنی سنتیں، کتنے مستحبات، کتنے مکروہ تنزیہی، کتنے مکروہ تحریمی اور کتنے حرام، انشاءاللہ تاقیامت یہ تمام مسائل یہ حضرات حدیث سے نہیں بتا سکتے، حالانکہ دن رات ان مسائل سے واسطہ ہوتا ہے تو دوستو ضد کیوں کرتے ہو، تقلید اختیار کرو، جس میں دین و دنیا کی بھلائی ہے۔
خدا کا شکر ہے کہ یہ کتاب یکم رمضان سنہ 1376 ھ اپریل 1957ء روز و شبنہ کو شروع ہو کر 3ذی الحجہ سنہ 1376ء بروز شبنہ یعنی دو ماہ دو دن میں اختتام کو پہنچی۔ رب تعالٰی اپنے
حبیب صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے صدقے اسے قبول فرمائے، میرے لئے کفارہ سیات اور صدقہ جاریہ بنائے، مسلمانوں کے لئے اسے نافع بنائے جو کوئی اس کتاب سے فائدہ اٹھائے وہ مجھ بے کس گنہگار کے لئے حسن خاتمہ اور معافی سیات کی دعا کرے کہ اس ہی لالچ میں میں نے یہ محنت کی ہے۔
 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s