امام احمد رضا اور عشق مصطفٰی

چودھویں صدی ہجری میں اہلسنت و جماعت کے جن علماء نے مذہب حق کی تائید و تشہیر میں زندگی وقف کر دی ان میں اعلٰی حضرت امام اہلسنت مولانا شاہ احمد رضا خاں قادری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی ذات ستودہ صفات کافی نمایاں ہے۔ انھوں نے اپنی تحریروں سے نہ صرف مذہب مخالف کے سیل رواں پر بند باندھا ہے بلکہ مذہب مخالف کے ہر فتنہ کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے میں ہی عافیت سمجھی اس کے لئے انھیں کافی جدوجہد کرنی پڑی۔ تمام مذہب مخالفین کا پامردی کے ساتھ دلائل و براہین کی روشنی میں دنداں شکن جواب دیا جس سے وہ سب مبہوت ہو گئے۔ لیکن ان کے حوارئین جن کی تعداد اس وقت ہر شعبہ حیات میں کچھ کم نہ تھی ہاتھ دھو کرکے پیچھے پڑ گئے مگر وہ بطل جلیل جو صرف اور صرف احقاق حق اور ابطال باطل ہی کے لئے پیدا ہوا تھا۔ باطل کے آگے جھکنا تو درکنار اسے خاطر میں بھی نہ لایا۔ خود ہی فرماتے ہیں،
کیا دبے جس پہ حمایت کا ہو پنجہ تیرا
شیر کو خطرہ میں لاتا نہیں کتا تیرا

ان مخالفین کی مخالفتوں کا سرا کہیں نہ کہیں جا کر عظمت نبوت و ناموس رسالت سے متصادم ہوتا تھا۔ اس لئے انھوں نے کبھی نرمی نہیں برتی۔ دشمنان دین حق کے لئے شمشیر براں بنے رہے آپ کا اعلان عام تھا،
دشمن احمد پہ شدت کیجئے
ملحدوں سے کیا مروت کیجئے

دشمنان دین حق کے ساتھ ان کی سختی اس لئے تھی کہ وہ سچے عاشق رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم تھے۔ نبی اور دین نبی پر کسی قسم کی ادنٰی گستاخی بھی ان کے نزدیک بڑے جرم کے مترادف تھی۔ وہ چاہتے تھے کہ جس طرح مجھے اپنے نبی سے پیار ہے اسی طرح ہر امتی کو اپنے نبی سے پیار و محبت ہونی چاہئیے۔ کیونکہ
محمد سے محبت دین حق کی شرط اول ہے
اسی میں ہے اگر خامی تو سب کچھ نا مکمل ہے

اسی وجہ سے امام اہلسنت کو سرکار ابد قرار صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے والہانہ عشق تھا۔ ان کی پوری زندگی اتباع رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے ہی عبارت ہے۔ نہ آپ نے سنت مصطفوی کے خلاف کبھی کچھ کیا اور نہ ہی کسی کو اس کے خلاف کچھ کرنے کی اجازت دی۔ سچا عاشق وہ ہوتا ہے جس کی نظر ہمیشہ اپنے محبوب کی مرضی پر ٹکی ہو اور جس امتی کی یہ خوبی ہو اس کے لئے سوائے اس کے اور کیا کہا جا سکتا ہے۔
یہ رتبہ بلند ملا جس کو مل گیا
عاشقان نبوت کے دعویداروں کی ہر دور میں بہتات رہی ہے۔ ماضی اور حال کی صدیوں کا اگر جائزہ لیا جائے تو ایسے نام نہاد عاشقان نبوت کی طویل فہرست مل جائے گی۔ جنہیں ایک طرف تو اپنے نبی و رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے الفت و محبت کا دعوٰی بھی تھا اور دوسری طرف اپنے اس نبی کے تعلق سے عقیدہ یہ تھا کہ
(1) آپ (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ کے بعد بھی کوئی نبی پیدا ہو جائے تب بھی خاتمیت محمدیہ میں کوئی فرق نہ آئے گا۔ (مولوی قاسم نانوتوی)
(2) شیطان اور ملک الموت کو تمام روئے زمین کا علم ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے لئے وسعت علم پر کوئی نص نہیں لٰہذا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے لئے ایسا علم ماننا شرک ہے۔ (مولوی اشرف علی تھانوی)
(3) نماز میں زنا کے وسوسے سے بیوی کے ساتھ مجامعت کے خیال کو بہتر اور حضور علیہ السلام کی طرف توجہ لگانے کو گدھے اور بیل کے خیال میں مستغرق ہو جانے کے مقابلہ میں بدتر قرار دیا گیا ہے۔ (شاہ محمد اسماعیل دہلوی)
اسی طرح اور بھی نام نہاد مدعیان عاشقان رسول ہیں جن کی اسی طرح نازیبا تحریریں ہیں جن کے نقل کرنے کی قلم میں نہ تو طاقت ہے اور نہ ہی قلم کار میں اتنی جسارت۔ عشق کا پیمانہ اپنے محبوب کے ساتھ یکساں ہونا چاہئیے جس لفظ سے محبوب کی شان میں ادنٰی گستاخی کا شائبہ ہو منشائے قرآنی کے مطابق عاشق کے لئے اس سے بچنا ضروری ہو جاتا ہے۔
فاضل بریلوی نے اپنا دامن اس قسم کے شکوک و شہبات سے ہمیشہ پاک و صاف رکھا۔ اور اپنے قلب و جگر کا نذرانہ اپنے نبی کی بارگاہ میں پیش کرنے کے لئے ہمہ دم تیار نظر آئے اور اسی کو انھوں نے اپنی زندگی کا حاصل سمجھا۔ چنانچہ وہ خود فرماتے تھے

دل ہے وہ دل جو تری یاد میں معمور رہا
سر ہے وہ سر جو ترے قدموں پہ قربان گیا

یہی وہ جذبہ عشق رسول ہے جس نے آپ کو اپنے اور بیگانوں کے درمیان ممتاز کر دیا۔ اور یہ انتہائی حیرت کی بات ہے کہ تصنیف و تالیف، رشد و ہدایت، وعظ و تبلیغ، افتاء و قضاء، درس و تدریس، ریسرچ و تحقیق اور مخالفین و معاندین کے فتنوں کے قلع قمع کرنے کی بے پناہ مصروفیتوں کے باوجود آپ نے اپنے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی شان میں والہانہ انداز میں جس طرح عشق کے نغمے الاپے ہیں اس کی مثال اس صدی میں صرف اور صرف آپ ہی کے یہاں ملتی ہے۔ جس کی طرف اختصار کے ساتھ اشارہ مولانا نجم القادری نے اپنی تحقیقی کتاب “امام احمد رضا اور عشق مصطفٰی“ میں ان لفظوں میں کیا ہے۔
“ امام احمد رضا فاضل بریلوی علیہ الرحمۃ الرضوان پر ہندوستان میں بیسویں صدی کے ربع آخر میں جو تحقیقی سلسلہ شروع ہوا ہے تو وہ بحمدہ تعالٰی بغیر کسی رکاوٹ کے جاری و ساری ہے۔ حیرت کی بات تو یہ ہے جتنی ہی ان کی زندگی اور ان کے کارنوں پر تحقیق ہوتی ہے اتنی ہی ان کی زندگی کے نئے نئے گوشے نئے تقاضوں سے آراستہ ہوکر نگاہوں کے سامنے آتے ہیں۔ فاضل بریلوی کے علمی کارناموں پر مختلف جہتوں سے برصغیر میں صرف نہیں بلکہ عالم اسلام میں کام ہوا اور ہو رہا ہے۔ لیکن میری معلومات کے مطابق جو انھیں اپنے محبوب سے والہانہ لگاؤ تھا اس سے جہاں ایک طرف اپنے نبی پاک صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے تعلق سے جذبہ عشق سمجھنے میں مدد ملے گی وہیں دوسری طرف ایک امتی کو اور وہ بھی جو وفادار ہو اس کو اپنے نبی سے کس طرح محبت کرنی چاہئیے اس کا شعور بھی حاصل ہو گا۔ ایک مومن کی زندگی کی سب سے بڑی کامیابی یہی ہے کہ اس کے دل میں اپنے خدا اور رسول سے محبت کا سچا جذبہ ہو۔ مجھے امید ہے کہ اس تعلق سے تمام امت متابعت کے لئے اعلٰی حضرت کی تعلیمات مشعل راہ ہی صرف نہیں بلکہ خضر راہ بھی ثابت ہو گی۔
محققین نے یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ جو عشق رسول میں اپنے آپ کو فنا کر دیتا ہے وہ ہمیشہ کے لئے امر ہو جاتا ہے۔
بقول مولانا نجم القادری، “وہ چھپ گئے مگر جلوہ نما ہیں وہ چلے گئے مگر موجودگی کا احساس چھوڑ گئے، بظاہر وہ اب ہم میں نہیں مگر علم و فن کا وقار اور عشق و اخلاص کا خمار بانٹ رہے ہیں، ایمان و اعتقاد کی زلف برہم کے لئے آج بھی ان کے بنائے ہوئے نقوش رحمت کونین کا پتہ دے رہے ہیں۔“
یہ حضرت بریلوی کا فیضان محبت ہے کہ جدھر دیکھئے ادھر ہی ان کے پیغام کے پھریرے لہرا رہے ہیں خصوصاً برصغیر کی دینی، علمی، روحانی، فضا، مدرسہ، مسجد، خانقاہ ان کے ذکر و اذکار کے جاں بخش ترانوں سے گونج رہی ہے۔“
ان کے جذبہ عشق کی یہ شہرت کیا کم ہے ان کا دیوانہ دنیا کے کسی گوشہ اور کسی ملک میں کیوں نہ ہو مگر اس کے وارفتگی شوق کا عالم یہ ہے کہ وہ اپنے کو بریلوی لکھ رہا ہے اور بات صرف اتنی سی ہے ہے کہ بریلی کی دھرتی سے ایک شخص نے اپنے نبی کے تعلق سے جو سچا عشق عملی طور پر پیش کیا اس نے اپنے تمام مداحوں کو فکری طور سے اپنا ہم نوا اور ہم وطن بنا ڈالا ایمان و عقیدے کی پختگی اور جذبہ عشق و محبت کی وارفتگی کی اس سے بہتر مثال اور کیا ہو سکتی ہے۔ اللہ تعالٰی ہم سب کو اپنے نبی سے سچا عشق کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

( یہ مضمون ڈاکٹر غلام یحٰیی انجم نے لکھا ہے)
 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s