امام احمد رضا کا عشق رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم

امام احمد رضا کا عشق رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم

از: محمد حنیف رضوی

ہر انسان کی یہ صفت ہوا کرتی ہے کہ وہ کسی نہ کسی سے محبت رکھتا ہے اور جس سے وہ محبت رکھتا ہے اسے اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز جانتا اور مانتا ہے۔ یہ عشق الگ الگ صورتوں میں دیکھنے کو ملتا ہے کسی کو اپنے والدین سے محبت ہوتی ہے تو کسی کو بیوی بچوں سے کسی کو اپنے مال و متاع سے تو کسی کو اپنی جان سے محبت ہوا کرتی ہے مگر حقیقت میں کامل و اکمل وہی عشق اور محبت ہے جو جان عالم ساری دنیا کے مرکز عقیدت سرور کائنات فخر موجودات مختار کل عالم علوم خفایا و غیوب جناب احمد مجتبٰی محمد مصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے کی جائے اور یہی عشق و محبت ایک مومن مسلمان کیلئے کامیابی کی سب سے بڑی روشن دلیل ہے۔
سب سے پہلے صحابہءکرام نے اپنے
عشق رسول
کی وہ مثال پیش کی ہے۔ جس کو رہتی دنیا تک امت مسلمہ کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔ ان مقدس اور پاک نفوس قدسیہ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے نہ جانے کتنے ہی بزرگان دین نے آنے والی نسلوں کے لئے اپنا عمل اور عقیدہ پیش کر دیا ہے جس کو آنے والی نسلیں اپنے لئے راہ نجات بنائیں۔
انھیں مقدس اور پاک ہستیوں کے نقش قدم پر چلنے والی ایک
عظیم شخصیت بریلی شریف کی سرزمین پر مولانا نقی علی خاں ابن رضا علی خاں قدس سرھما کے گھر 10 شوال المکرم 1272ھ مطابق 14جون 1856ء کو اس دنیا میں جلوہ افروز ہوئی۔ پیدئشی نام “محمد“ اور تاریخی نام “المختار“ رکھا گیا۔ جد امجد مولانا رضا علی خاں (متوفی 1282ھ) نے “احمدرضا“
رکھا۔
آپ نے کبھی تعلیم سے جی نہیں چرایا۔ بچپن ہی میں ذہانت کا یہ عالم تھا جس کو
مولانا احسان حسین صاحب بیان فرماتے ہیں “میں فاضل بریلوی (امام احمد رضا)
کی ابتدائی تعلیم میں ہم سبق رہا ہوں۔ شروع سے ان کی ذہانت کا یہ حال تھا کہ استاد سے کبھی رابع سے زائد تعلیم حاصل نہیں کی۔ ایک رابع کتاب استاد سے پڑھنے کے بعد بقیہ پوری کتاب ازخود پڑھ کر یاد کرکے سنا دیا کرتے تھے۔
آٹھ سال کی مختصر عمر میں درسی کتاب ہدایۃ النحو کی شرح تصنیف فرمائی اور وسط شعبان 1286ھ 1869ء میں علوم عقلیہ و نقلیہ سے فراغت حاصل کی اس وقت آپ کی عمر تیرہ سال دس ماہ اور پانچ دن کی تھی اور 14شعبان 1286ھ کو 13برس کی عمر میں پہلا فتوٰی مسئلہ رضاعت کے متعلق تحریر فرمایا۔
آپ جہاں
ایک بہت بڑے عالم دین، محدث، محقق، مفتی، حافظ، قاری، فقیہ، مجدد تھے وہیں آپ ایک بہت بڑے عاشق رسول (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) بھی تھے۔ جناب کوثر نیازی پاکستان فرماتے ہیں “جب اردو زبان میں آنحضرت کا لفظ بولا جاتا ہے تو اس سے رسول کائنات صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی ذات مقدسہ مراد لی جاتی ہے اور جب اعلٰی حضرت کا لفظ بولا جاتا ہے تو اس سے رسول (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کا ایک غلام عاشق امام احمد رضا فاضل بریلوی کی شخصیت مراد لی جاتی ہے۔
ضیاءالمشائخ حضرت محمد ابراہیم فاروقی محمد مجددی شور بازار کابل افغانستان کا ایمان افروز تاثر ہے کہ “مولانا احمد رضا خاں قادری حضرت خاتم النبیین صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے عاشق صادق اور آں حضور کی محبت میں سرشار تھے۔ ان کا دل عشق محمدی کے سوز سے لبریز تھا چنانچہ ان کے نعتیہ کلام اور نغمات اس حقیقت پر شاہد عدل ہیں اور مولانا کے اس کلام نے مسلمان مردوں اور عورتوں کے دلوں کو عشق محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے مقدس نور سے روشن کر دیا ہے۔ (المیزان کا امام احمد رضا نمبر ص560)
جناب ڈاکٹر جمیل جالبی وائس چانسلر کراچی یونیورسٹی فرماتے ہیں۔ “مولانا احمد رضا بریلوی کا امتیازی وصف جو دوسرے تمام فضائل و کمالات سے بڑھ کر ہے وہ ہے عشق رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم“ (المیزان نمبر)
اور حضرت صاحبزادہ ہارون رشید ارشاد فرماتے ہیں “اعلٰی حضرت احمد رضا برلوی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کا ہر قول اور ہر فعل عشق رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے اس طرح لبریز معلوم ہوتا ہے گویا خالق کل نے آپ کو احمد مختار صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے عاشقوں کے لئے شمع ہدایت بنایا ہے تاکہ یہ مشعل اس جادہ پر چلنے والوں کو تکمیل ایمان کی منزل سے ہمکنار کر سکے۔ (پیغامات یوم رضا)
جب کوئی صاحب حج بیت اللہ شریف کرکے اعلٰی حضرت کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے تو آپ کا پہلا سوال یہی ہوتا تھا کہ سرکار صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضری دی۔ اگر جواب اثبات میں ملتا فوراً ان کے قدم چوم لیتے اور اگر جواب نفی میں ملتا پھر مطلق تخاطب نہ فرماتے ایک بار ایک حاجی صاحب خدمت میں حاضر ہوئے حسب عادت کریمہ اعلٰی حضرت نے پوچھا کیا بارگاہ سرکار کائنات صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم میں حاضری ہوئی۔ وہ آبدیدہ ہو کر عرض کرنے لگے ہاں حضرت (امام احمد رضا) مگر صرف دو روز قیام رہا اعلٰی حضرت نے ان صاحب کی قدم بوسی کی اور ارشاد فرمایا وہاں کی تو سانسیں بہت ہیں آپ نے تو دو دن قیام فرمایا ہے۔
اعلٰی حضرت امام احمد رضا رضی اللہ تعالٰی عنہ نے دو مرتبہ حرمین طیبین کی زیارت فرمائی۔ پہلی مرتبہ ہمراہ والد ماجد مولانا نقی علی خاں رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے 1295ھ / 1877ء کو اور دوسری مرتبہ 1324ھ / 1905ء کو دوسری مرتبہ جب بارگاہ نبوی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم میں حاضر ہوئے تو شوق دیدار کے ساتھ مواجہہ عالیہ میں درود شریف پڑھتے رہے۔ امام احمد رضا رضی اللہ تعالٰی عنہ کو امید تھی کہ ضرور سرکار دو عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم عزت افزائی فرمائیں گے اور زیارت جمال سے سرفراز فرمائیں گے لیکن پہلی شب تکمیل آرزو نہ ہو سکی۔ اسی یاس و حسرت کے عالم میں ایک نعت کہی جس کا مطلع ہے،
وہ سوئے لالہ زار پھرتے ہیں
تیرے دن اے بہار پھرتے ہیں
اور پھر مقطع میں اپنے متعلق بارگاہ رسالت صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم میں عرض گزار ہوتے ہیں،
کوئی کیوں پوچھے تیری بات رضا
تجھ سے کتے ہزار پھرتے ہیں
مقطع عرض کرنا تھا قسمت جاگ اٹھی، ارمانوں کی بہار آ گئی۔ خوشیوں کے کھیت لہلہانے لگے، ہوائیں معچر ہو گئیں۔ ایک مومن مسلمان کی مراد یوں پوری ہو گئی اور امام احمد رضا کے عشق کی معراج ہو گئی۔ تمام رسولوں کے سردار حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے عالم بیداری میں اعلٰی حضرت کو اپنا دیدار نصیب فرمایا۔ امام احمد رضا رضی اللہ تعالٰی عنہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے رخ انور کو دیکھتے ہی پکار اٹھتے ہیں،
پیش نظر وہ نو بہار سجدے کو دل ہے بیقرار
روکئے سر کو روکئے ہاں یہی امتحان ہے
دیدار مصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی آرزو ہر مسلمان کو ہوتی ہے مگر جس کو اس ذات مبارکہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی زیارت ہو جاتی ہے وہ کبھی اویس قرنی بن کر چمکتا ہے تو کبھی امام اعظم ابو حنیفہ، کبھی شیخ کبیر احمد رفاعی، تو کبھی غوث اعظم محی الدین جیلانی، کبھی خواجہ غریب نواز، تو کبھی خواجہ بندہ نواز بن کر دنیا میں چمکتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
اعلٰی حضرت امام احمد رضا رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی شاعری آپ کے عشق رسول کے اظہار کا سب سے بڑا ذریعہ رہا ہے۔ خود ہی ارشاد فرماتے ہیں۔ “جب سرکار اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی یاد تڑپاتی ہے تو میں نعتیہ اشعار سے بےقرار دل کو تسکین دیتا ہوں ورنہ شعر و سخن میرا مذاق طبع نہیں۔ (سوانح اعلٰی حضرت)
نعت شریف کا لکھنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ یہ بہت ہی نازک راہ ہے۔ اعلٰی حضرت فرماتے ہیں۔ “حقیقۃً نعت شریف لکھنا نہایت مشکل ہے جس کو لوگ آسان سمجھتے ہیں اس میں تلوار کی دھار پر چلنا ہے۔ اگر (نعت لکھنے) میں بڑھتا ہے تو الوہیت میں پہنچا جاتا ہے اور کمی (نعت لکھنے میں) کرتا ہے تو تنقیص (رسالت) ہوتی ہے۔ البتہ حمد آسان ہے کہ اس میں راستہ صاف ہے جتنا چاہے بڑھ سکتا ہے۔ غرض حمد میں ایک جانب اصلاً حد نہیں اور نعت شریف میں دونوں جانب سخت حد بندی ہے۔ (الملفوظ حصہ دوم)
اعلٰی حضرت رضی اللہ تعالٰی عنہ کا عشق رسول اور شاعری قرآن و حدیث سے ہٹ کر نہیں تھی چنانچہ حدائق بخشش میں تحریر فرماتے ہیں،
ہوں اپنے کلام سے نہایت محفوظ
بے جا سے ہے المنۃاللہ محفوظ
قرآن سے میں نے نوت گوئی سیکھی
یعنی رہے احکام شریعت ملحوظ
شاعر دربار رسالت حسان بن ثابت رضی اللہ تعالٰی عنہ اپنا عشق رسول کچھ اس طرح پیش فرماتے ہیں۔ بارگاہ رسالت میں عرض گزار ہوتے ہیں،
واجمل منک لم ترقط عینی
واکمل منک لم تلد النساء
خلقت مبرا من کل عیب
کانک قد خلقت کما تشاء
ترجمہ: یارسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم آپ سے زیادہ حسین و جمیل میری آنکھوں نے کبھی نہیں دیکھا۔ آپ سے زیادہ صاحب کمال کسی ماں نے جنا ہی نہیں۔ آپ ہر عیب سے پاک پیدا کئے گئے ہیں گویا آپ ایسے ہی پیدا کئے گئے جیسے آپ چاہتے تھے۔
اور اعلٰی حضرت عظیم البرکت حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ تعالٰی عنہ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اور حضرت حسان رضی اللہ تعالٰی عنہ کے ان اشعار کی ترجمانی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ارشاد فرماتے ہیں،
وہ کمال حسن حضور ہے کہ گمان نقص جہاں نہیں
یہی پھول خار سے دور ہے یہی شمع ہے کہ دھواں نہیں
نہیں جس کے رنگ کا دوسرا نہ تو ہو کوئی نہ کبھی ہوا
کہو اس کو گل کہے کیا کوئی کہ گلوں کا ڈھیر کہاں نہیں

لم یات نظیرک فی نظر مثل تو نہ شد پیدا جانا
جگ راج کو تاج تورے سر سو ہے تجھ کو شہ دوسرا جانا
لک بدر فی الوجہ الاجمل خط یالہ مہ زلف ابر اجل
تورے چندن چندر پروکنڈل رحمت کی بھرن برسا جانا
اعلٰی حضرت امام احمد رضا رضی اللہ تعالٰی عنہ نے جہاں نعت رسول میں رحمت عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں اپنا نذرانہ عقیدت پیش کیا۔ وہیں آپ نے حمد باری تعالٰی بھی کہی ہے۔ جس سے نعت رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ آپ نے حمد اور نعت کا ایک انوکھا سنگم پیش کیا ہے تحریر فرماتے ہیں،
وہی رب ہے جس نے تجھ کو ہمہ تن کرم فرمایا
ہمیں بھیک مانگنے کو ترا آستاں بتایا
تجھے حمد ہے خدایا تجھے حمد ہے خدایا
کتنا پیارا اور کتنا دلکش انداز تحریر ہے۔ فرما رہے ہیں رب تعالٰی ہم تیری حمد و ثناء کرتے ہیں کہ تونے ہمیں اپنا پیارا محبوب عطا فرمایا جو سراپا رحمت ہیں۔ جن کے لئے قرآن پاک کا ارشاد عالیشان ہے “اور اگر جب وہ (امتی) اپنی جانوں پر ظلم کریں تو اے محبوب (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) تمھارے حضور حاضر ہوں پھر اللہ سے معافی چاہیں اور رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم ان کی شفاعت فرما دیں۔ تو ضرور اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں۔ (سورۃ النساء)
مفسر قرآن حضرت علامہ آلوسی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ تحریر فرماتے ہیں۔
العالم جسد وروحہ النبوۃ ولا قیام للجسد بدون روحہ (روح المعانی)
ترجمہ: تمام جہان ایک جسم ہے اور نبی کریم اس کی روح ہیں۔ جسم کا قیام بغیر روح کے ممکن نہیں۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم ساری کائنات کی جان ہیں۔ اعلٰی حضرت اس پوری تفسیر کو ایک شعر میں تحریر فرماتے ہیں،
وہ جو نہ تھے تو کچھ نہ تھا وہ جو نہ ہوں تو کچھ نہ ہو
جان ہیں وہ جہان کی جان ہے تو جہان ہے
امام اہلسنت نے صرف سرور کائنات صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو دنیا کی جان ہی نہیں فرمایا بلکہ ایک جگہ یوں ارشاد فرمایا۔ گویا پوری سیرت پاک بیان کر رہے ہوں، ملاحظہ فرمائیں۔
اللہ کی سر تابقدم شان ہیں یہ
ان سا نہیں انسان وہ انسان ہیں یہ
قرآن تو ایمان بتاتا ہے انھیں
ایمان یہ کہتا ہے مری جان ہیں یہ
فنافی الرسول کا عالم ملاحظہ فرمائیں ایک جگہ تو تحریر فرمایا کہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم دنیا کی جان ہیں مگر تبھی امام احمد رضا کے عشق رسول نے کہا نہیں نہیں صرف دنیا کی جان نہیں بلکہ آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی ذات مبارکہ تو ایمان کی بھی جان ہے۔
بروز جمعہ 25 صفرالمظفر 1340ھ مطابق 1921ء کو دو بج کر اڑتیس منٹ پر عین اذان جمعہ کے وقت حی علی الفلاح کا نغمہ جانفزا سن کر داعی اجل کو گویا یہ کہتے ہوئے رخصت ہوئے،
جان و دل ہوش و خرد سب تو مدینہ پہنچے
تم نہیں چلتے رضا سارا تو سامان گیا
* * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * *
 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s