صبح بہاراں

صبح بہاراں

از: حضرت علامہ محمد الیاس عطار قادری رضوی
 
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
 

786

قفل مدینہ

الصلوٰۃ والسلام علیک یارسول اللہ

صبح بہاراں

مسلمانوں ! صبح بہاراں مبارک!

وہ برساتے انوار سرکار آئے۔ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم

اس رسالے میں بی بی آمنہ (رضی اللہ تعالٰی عنہا) کے لاڈلے، اللہ عزوجل کے محبوب صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی ولادت با سعادت کے رقت انگیز بیان کے ساتھ ساتھ میلاد شریف منانے کے فضائل و ثمرات بھی پڑھئے اور “سرکار صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی آمد مرحبا“ کے فلک شگاف نعروں سے شیطان کا کلیجہ پھاڑ دیجئے۔

جھوم کر سارے پکارو مرحبا یا مصطفٰی 
چوم کر لب کہہ دو یارو مرحبا یا مصطفٰی

الحمدللہ رب العالمین و الصلوٰۃ و السلام علٰی سید المرسلین اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم ط
 بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ط

درودشریف کی فضیلت

جس نے مجھ پر دس مرتبہ درودپاک پڑھا اللہ تعالٰی اس پر سو رحمتیں نازل فرماتا ہے۔ (الترغیب والترھیب ج2 ص322)

صلوا علی الحبیب! صلی اللہ تعالٰی علٰی محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم

ماہ ربیع النور شریف تو کیا آتا ہے ہر طرف موسم بہار آ جاتی ہے۔ میٹھے میٹھے مکی مدنی مصطفٰے صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے دیوانوں میں خوشی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ بوڑھا ہو یا جوان ہر حقیقی مسلمان گویا دل کی زبان سے بول اٹھتا ہے۔

نثار تیری چہل پہل پر ہزار عیدیں ربیع الاول
سوائے ابلیس کے جہاں میں سبھی تو خوشیاں منا رہے ہیں

جب کائنات میں کفر و شرک اور وحشت و بربریت کا گھپ اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ بارہ ربیع النور شریف کو مکہ مکرمہ میں حضرت سیدتنا آمنہ رضی اللہ تعالٰی عنہما کے مکان رحمت نشان سے ایک ایسا نور چمکا جس نے سارے عالم کو جگمگ جگمگ کر دیا۔ سسکتی ہوئی انسانیت کی آنکھ جن کی طرف لگی ہوئی تھی وہ تاجدار رسالت، شہنشاہ نبوت، مخزن جودو سخاوت، پیکر عظمت و شرافت، محبوب رب العزت، محسن انسانیت عزوجل و صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم تمام عالمین کے لئے رحمت بن کر مادر گیتی پر جلوہ گر ہوئے۔

مبارک ہو کہ ختم المرسلین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لے آئے
جناب رحمۃ للعالمین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لے آئے

صبح بہاراں

خاتم المرسلین، رحمۃ للعٰلمین، شفیع المذنبین، انیس الغربین، سراج السالکین، محبوب رب العٰلمین، جناب صادق و امین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قرار ہر قلب محزون و غمگین بن کر 12 ربیع النور شریف کو صبح صادق کے وقت جہاں میں تشریف لائے اور آکر بےسہاروں، غم کےماروں، دکھیاروں، دلفگاروں اور در در کی ٹھوکریں کھانے والے بےچاروں کی شام غریباں کو “صبح بھاراں“ بنا دیا۔

مسلمانو! صبح بہاراں مبارک
وہ برساتے انوار سرکار آئے

معجزات

12ربیع النور شریف کو اللہ عزوجل کے نور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی دنیا میں جلوہ گری ہوتے ہی کفر و ظلمت کے بادل چھٹ گئے، شاہ ایران “کسرٰی“ کے محل پر زلزلہ آیا، چودہ گنگرے گر گئے۔ ایران کا جو آتش کدہ ایک ہزار سال سے شعلہ زن تھا وہ بجھ گیا، دریائے ساوہ خشک ہو گیا، کعبے کو وجد آ گیا اور بت سر کے بل گر پڑے۔

تیری آمد تھی کہ بیت اللہ مجرے کو جھکا
تیری ہیبت تھی کہ ہر بت تھرتھرا کر گر گیا

تاجدار رسالت صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم جہاں میں فضل و رحمت بن کر تشریف لائے اور یقیناً اللہ عزوجل کی رحمت کے نزول کا دن خوشی و مسرت کا دن ہوتا ہے۔ چنانچہ اللہ تبارک و تعالٰی ارشاد فرماتا ہے،

قل بفضل اللہ و برحمتہ فبذلک فلیفرحوا ط ھو خیر مما یجمعون ہ (پ11 یونس 57)
ترجمہ کنزالایمان: تم فرماؤ اللہ (عزوجل) ہی کے فضل اور اسی کی رحمت اور اسی پر چاہئیے کہ خوشی کریں۔ وہ ان کے سب دھن دولت سے بہتر ہے۔

اللہ اکبر! رحمت خداوندی پر خوشی منانے کا قرآن کریم حکم دے رہا ہے۔ اور کیا ہمارے پیارے آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے بڑھ کر بھی کوئی اللہ عزوجل کی رحمت ہے ؟ دیکھئے مقدس قرآن میں صاف صاف اعلان ہے۔

وما ارسلنٰک الا رحمۃ للعٰلمین ہ (پ17 الانبیاء 107)
ترجمہء کنزالایمان: اور ہم نے تمھیں نہ بھیج مگر رحمت سارے جہان کیلئے۔

شب قدر سے بھی افضل رات

حضرت سیدنا شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں، “بے شک سرور عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی شب ولادت شب قدر سے بھی افضل ہے کیونکہ شب ولادت سرکار مدینہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے اس دنیا میں جلوہ گر ہونے کی رات ہے جبکہ لیلۃ القدر سرکار صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو عطا کردہ شب ہے اور جو رات ظہور ذات سرور کائنات صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی وجہ سے مشرف ہو وہ اس رات سے زیادہ شرف و عزت والی ہے جو ملائکہ کے نزول کی بناء پر مشرف ہے۔ (ماثبت بالسنۃ ص289 باب المدینہ کراچی)

عیدوں کی عید

الحمد للہ عزوجل 12ربیع النور مسلمانوں کے لئے عیدوں کی بھی عید ہے یقیناً آنسرور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم جہاں میں شاہ بحروبر بن کر جلوہ گر نہ ہوتے تو کوئی عید، عید ہوتی، نہ کوئی شب، شب براءت۔ بلکہ کون و مکان کی تمام تر رونق و شان اس جان جہان، رحمت عالمیان، سیاح لامکان، محبوب رحمٰن عزوجل و صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے قدموں کی دھول کا صدقہ ہے۔

ابو لھب اور میلاد

جب ابو لھب مر گیا تو اس کے بعض گھر والوں نے اسے خواب میں برے حال میں دیکھا۔ پوچھا کیا گزری؟ بولا، تم سے جدا ہو کر مجھے کوئی خیر نصیب نہ ہوئی۔ ہاں مجھے کلمے کی انگلی سے پانی ملتا ہے کیونکہ (اس کے اشارہ سے) میں نے ثوبیہ لونڈی کو آزاد کیا تھا۔ (بخاری ج1 ص153 حدیث 5101)

مسلمان اور میلاد

اس روایت کے تحت سیدنا شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ رحمۃ القوی فرماتے ہیں، اس واقعہ میں میلاد شریف والوں کیلئے بڑی دلیل ہے جو تاجدار رسالت صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی شب ولادت میں خوشیاں مناتے اور مال خرچ کرتے ہیں۔ (یعنی ابولھب جو کہ کافر تھا جب وہ تاجدار نبوت صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کی خبر پاکر خوش ہونے اور اپنی لونڈی (ثوبیہ) کو دودھ پلانے کی خاطر آزاد کرنے پر بدلہ دیا گیا۔ تو اس مسلمان کا کیا حال ہوگا جو محبت اور خوشی سے بھرا ہوا ہے اور مال خرچ کر رہا ہے۔ لیکن یہ ضروری ہے کہ محفل میلاد گانے باجوں سے اور آلات موسیقی سے پاک ہو۔) (مدارج النبوت ج2 ص34 ضیاءالقرآن)

جشن ولادت کی دھوم مچائیے

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دھوم دھام سے عیدمیلاد منائیے کہ جب ابولھب جیسے کافر کو بھی اس کی ولادت کی خوشی کرنے پر فائدہ پہنچا تو ہم تو الحمدللہ عزوجل مسلمان ہیں۔ ابولھب نے اللہ کے رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی نیت سے نہیں بلکہ صرف اپنے بھتیجے کی ولادت کی خوشی منائی پھر بھی اس کو بدلہ ملا تو ہم اگر اللہ عزوجل کی رضا کیلئے اپنے آقا و مولٰی محمد رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کی خوشی منائیں گے تو کیونکر محروم رہیں گے۔

گھر آمنہ کے سیدابرار آ گیا
خوشیاں مناؤ غمزدو غمخوار آ گیا

میلاد منانے والوں سے سرکار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خوش ہوتے ہیں

ایک عالم صاحب رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں، الحمدللہ مجھے خواب میں تاجدار رسالت، شہنشاہ نبوت صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی زیارت ہوئی، میں نے عرض کی، یارسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم! کیا آپ کو مسلمانوں کا ہر سال آپ کی ولادت مبارک کی خوشیاں منانا پسند آتا ہے؟ ارشاد فرمایا، “جو ہم سے خوش ہوتا ہے ہم بھی اس سے خوش ہوتے ہیں۔“ (تذکرۃ الواعظین، ص600 کوئٹہ)

ولادت کی خوشی میں جھنڈے

سیدتنا آمنہ رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتی ہیں، میں نے دیکھا کہ تین جھنڈے نصب کئے گئے۔ ایک مشرق میں، دوسرا مغرب میں، تیسرا کعبے کی چھت پر اور حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی ولادت ہو گئی۔ ( خصائص کبرٰی ج اول ص82 )

روح الامیں نے گاڑا کعبے کی چھت پہ جھنڈا
تا عرش اڑا پھریرا صبح شب ولادت

جھنڈے کے ساتھ جلوس

رحمت عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے جب سوئے مدینہ ہجرت فرمائی اور مدینہ پاک کے قریب “موضع غمیم“ میں پہنچے تو بریدہ اسلمی، قبیلہ بنی سہم کے ستر سوار لے کر سرکار نامدار صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو معاذاللہ عزوجل گرفتار کرنے آئے، مگر سرکار عالی وقار صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی نگاہ فیض آثار سے خود ہی محبت شاہ ابرار صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم میں گرفتار ہو کر پورے قافلے سمیت مشرف بہ اسلام ہو گئے۔ اب عرض کی، یارسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ میں آپ کا داخلہ پرچم کے ساتھ ہونا چاہئیے۔ چنانچہ اپنا عمامہ سر سے اتار کر نیزے پر باندھ لیا اور سرکار مدینہ، راحت قلب و سینہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے آگے آگے روانہ ہوئے۔ (وفاء الوفا ج اول ص 243 داراحیاء التراث العربی بیروت)

ایمان کی حفاظت کا نسخہ

شیخ السلام حضرت علامہ ابن حجر مکی علیہ رحمۃ اللہ القوی، “النعمۃ الکبرٰی“ ص24 پر نقل فرماتے ہیں، حضرت سیدنا جنید بغدادی علیہ رحمۃ الھاوی نے فرمایا، “محفل میلاد مصطفٰے صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم میں ادب و تعظیم کے ساتھ حاضری دینے والے کا ایمان سلامت رہے گا۔ انشاءاللہ عزوجل۔“

صلوا علی الحبیب! صلی اللہ تعالٰی علٰی محمد، صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

جشن ولادت منانے والا خاندان

 مدینہ منورہ زادھا اللہ شرفا و تعظیما میں ابراہیم نامی ایک مدنی آق صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا دیوانہ رہا کرتا تھا۔ ہمیشہ حلال روزی کماتا اور اپنی آمدنی کا آدھا حصہ جشن ولادت منانے کے لئے علیٰحدہ جمع کرتا۔ ربیع النور شریف کی آمد ہوتی تو دھوم دھام سے مگر شریعت کے دائرے میں رہ کر جشن ولادت مناتا۔ اللہ عزوجل کے محبوب صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے ایصال ثواب کیلئے خوب لنگر کرتا اور اچھے اچھے کاموں میں اپنی رقم خرچ کرتا۔ اس کی زوجہء محترمہ بھی آق صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی بہت دیوانی تھی۔ اور ان کاموں میں مکمل تعاون کرتی۔ زوجہ کی وفات ہو گئی مگر اس کو معمولات میں فرق نہ آیا۔ ابراہیم دیوانے نے ایک دن اپنے نوجوان بیٹے کو وصیت کی، “پیارے بیٹے! آج رات میری وفات ہو جائے گی، میری تمام تر پونجی میں پچاس درہم اور انیس گز کپڑا ہے۔ کپڑا تجہیز و تکفین پر صرف کرنا اور رہی رقم تو اسے بھی ہو سکے تو نیک کام میں خرچ کر دینا۔“ اس کے بعد اس نے کلمہ طیبہ پڑھا اور اس کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔ بیٹے نے حسب وصیت والد مرحوم کو سپرد خاک کر دیا۔ اب بچاس درہم نیک کام میں خرچ کرنے کے معاملے میں اس کو سمجھ نہیں آتی تھی کہ کیا کرے۔ اسی فکر میں رات جب سویا تو خواب میں دیکھا کہ قیامت قائم اور ہر طرف نفسی نفسی کا عالم ہے، خوش نصیب لوگ سوئے جنت رواں دواں ہیں، جبکہ مجرموں کو گھسیٹ گھسیٹ کر جہنم کی طرف ہانکا جا رہا ہے اور یہ کھڑا تھر تھر کانپ رہا ہے کہ اس کے بارے میں نہ جانے کیا فیصلہ ہوتا ہے۔ اتنے میں غیب سے ندا آئی، “اس نوجوان کو جنت میں جانے دو۔“ چنانچہ وہ خوشی خوشی جنت میں داخل ہو گیا اور سیر کرنے لگا۔ ساتوں جنتوں کی سیر کرنے کے بعد جب آٹھویں جنت کی طرف بڑھا اور داروغہء جنت حضرت رضواننے فرمایا۔ “اس جنت میں صرف وہی داخل ہو سکتا ہے جس نے ماہ ربیع النور میں ولادت مصطفٰے صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے ایام میں خوشی منائی ہو۔“ یہ سن کر وہ سمجھ گیا کہ میرے والدین مرحومین اسی میں ہونے چاہئیں۔ اتنے میں آواز آئی، “اس نوجوان کو اندر آنے دو، اس کے والدین اس سے ملنا چاہتے ہیں۔“ لٰہذا وہ اندر داخل ہوا۔ اس نے دیکھا کہ اس کی والدہء مرحومہ نہر کوثر کے قریب بیٹھی ہیں، ساتھ ہی ایک تخت بچھا ہے جس پر ایک بزرگ خاتون جلوہ افروز ہیں اور اس کے ارد گرد کرسیاں بچھی ہیں جن پر کچھ پروقار خواتین تشریف فرما ہیں۔ اس نے ایک فرشتے سے پوچھا، یہ خواتین کون ہیں ؟ اس نے بتایا،

“تخت پر شہزادیء کونین سیدتنا فاطمہ زہر رضی اللہ تعالٰی عنہ ہیں اور کرسیوں پر خدیجۃ الکبرٰی، عائشہ صدیقہ، سیدتنا مریم، سیدتنا آسیہ، سیدتنا سارہ، سیدتنا ہاجرہ، سیدتنا رابعہ اور سیدتنا زبیدہ (رضی اللہ تعالٰی عنہن) ہیں۔“ اسے بہت خوشی ہوئی، مذید آگے بڑھا تو کیا دیکھتا ہے کہ ایک بہت ہی عظیم تخت بچھا ہے اور اس پر سرکار عالم مدار، مدینے کے تجدار، دو عالم کے مالک و مختار، حبیب پروردگار، شافع روز شمار جناب احمد مختار عزوجل و صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم اپنا چاند سا چہرہ چمکاتے ہوئے رونق افروز ہیں۔ ارد گرد چار کرسیاں بچھی ہوئی ہیں ان پر خلفائے راشدین علیہم الرضوان تشریف فرما ہیں۔ دائیں طرف سونے کی کرسیوں پر انبیائے کرام علیہم السلام رونق افروز اور بائیں جانب شہدائے کرام جلوہ فرما ہیں۔ اتنے میں اس کے والد مرحوم ابراہیم بھی سرکار مدینہ، راحت قلب و سینہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہی جھرمٹ میں نظر آ گئے۔ والد صاحب نے اپنے لخت جگر کو سینے لگا لیا۔ وہ بہت خوش ہوا اور سوال کیا، اباجان! آپ کو یہ عالیشان رتبہ کیوں کر حاصل ہوا؟ جواب دیا۔ الحمدللہ عزوجل! یہ جشن ولادت منانے کا صلہ ہے۔ اس کے بعد اس نوجوان کی آنکھ کھل گئی۔
صبح ہوتے ہی اس نے اپنا مکان اونے پونے داموں بیچا اور والد مرحوم کے بچے ہوئے پچاس درہم کے ساتھ اپنی ساری رقم ملا کر طعام کا اہتمام کیا اور علماء و صلحاء کی دعوت کی۔ اس کا دل دنیا سے اچاٹ ہو چکا تھا، چنانچہ مسجد میں رہنے لگا اور اپنی زندگی کے بقیہ تیس سال عبادت میں گزار دئیے۔ بعد وفات کسی نے اسے خواب میں دیکھ کر پوچھا، کیا گزری ؟ بولا، مجھے جشن ولادت منانے کی برکت سے جنت میں اپنے والد مرحوم کے پاس پہنچا دیا گیا ہے۔ (ملخص از تذکرہ الواعظین اردو ص321 مطبع ایجوکیشنل کراچی)
اللہ عزوجل کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔

بخش دے مجھ کو الٰہی (عزوجل)! بہر میلاد النبی ( صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم)
بامہء اعمال عصیاں سے میرا بھرپور ہے۔

جشن ولادت منانے کا ثواب

شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ رحمۃ القوی فرماتے ہیں، سرکار مدینہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کی رات خوشی منانے والوں کی جزاء یہ ہے کہ اللہ تعالٰی انھیں فضل و کرم سے جنات النعیم میں داخل فرمائے گا۔ مسلمان ہمیشہ سے محفل میلاد منعقد کرتے آئے ہیں اور ولادت کی خوشی میں دعوتیں دیتے، کھانے پکواتے اور خوب صدقہ و خیرات دیتے آئے ہیں۔ خوب خوشی کا اظہار کرتے اور دل کھول کر خرچ کرتے ہیں نیز آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی ولادت با سعادت کے ذکر کا اہتمام کرتے ہیں اور اپنے مکانوں کو سجاتے ہیں اور ان تمام افعال حسنہ کی برکت سے ان لوگوں پر اللہ عزوجل کی رحمتوں کا نزول ہوتا ہے۔“ (ماثبت بالسنۃ ص290 کراچی)

یہودیوں کو ایمان نصیب ہو گی

حضرت سیدنا عبدالواحد بن اسمٰعیل علیہ رحمۃ اللہ الجمیل فرماتے ہیں، مصر میں ایک عاشق رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم رہا کرتا تھا جو ربیع النور شریف میں اللہ عزوجل کے پیارے محبوب صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا خوب جشن ولادت منایا کرتے تھا۔ ایک بار ربیع النور شریف کے مہینے میں ان کی پڑوسن یہودن نے اپنے شوہر سے پوچھا، ہمارا مسلمان پڑوسی اس مہینے میں ہر سال خصوصی دعوت وغیرہ کا اہتمام کیوں کرتا ہے ؟ یہودی نے بتایا کہ اس مہینے میں اس کے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی ولادت ہوئی تھی لٰہذا یہ ان کو جشن ولادت مناتا ہے۔ اور مسلمان اس مہینے کی بہت تعظیم کیا کرتے ہیں۔ اس یہودن نے کہا، “واہ ! مسلمانوں کا طریقہ بھی کتنا پیارا ہے کہ یہ لوگ اپنے نبی (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کا ہر سال جشن ولادت مناتے ہیں۔ وہ یہودن رات جب سوئی تو اس کی سوئی ہوئی قسمت انگڑائی لے کر جاگ اٹھی، خواب میں کیا دیکھتی ہے کہ ایک نہایت ہی حسین و جمیل بزرگ تشریف لائے ہیں، ارد گرد لوگوں کا ہجوم ہے۔ اس نے آگے بڑھ کر ایک شخص سے دریافت کیا، یہ بزرگ کون ہیں ؟ اس نے بتایا، “یہ نبی آخرالزمان، رحمت عالمیان، محمد رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ آپ اس لئے تشریف لائے ہیں تاکہ تمھارے مسلمان پڑوسی کو جشن ولادت منانے پر خیروبرکت عطا فرمائیں اور ان سے ملاقات فرمائیں نیز اس پر اظہار مسرت کریں۔“ یہودن نے پھر پوچھا، کیا آپ کے نبی (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) میری بات کا جواب دیں گے ؟ اس نے جواب دیا، جی ہاں۔ اس پر یہودن نے سرکار عالی وقار صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو پکارا۔ آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے جواب میں لبیک فرمایا۔ وہ بےحد متاثر ہوئی اور کہنے لگی، میں تو مسلمان نہیں ہوں۔ آپ (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) نے پھر بھی مجھے لبیک کہہ کر جواب دیا۔ سرکار مدینہ، قرار قلب و سینہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا، اللہ عزوجل کی طرف سے مجھے بتا دیا گیا ہے کہ تو مسلمان ہونے والی ہے۔ اس پر وہ بےساختہ پکار اٹھی، بےشک آپ نبی کریم، صاحب خلق عظیم ہیں، جو آپکی نافرمانی کرے وہ ہلاک ہوا اور جو آپکی قدر و منزلت نہ جانے وہ خائب و خاسر ہوا۔ پھر اس نے کلمہ شہادت پڑھا۔

اب اس کی آنکھ کھل گئی اور وہ سچے دل سے مسلمان ہو گئی اور اس نے یہ طے کر لیا کہ صبح اٹھ کر ساری پونجی اللہ عزوجل کے پیارے محبوب صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے جشن ولادت کی خوشی میں لٹا دوں گی اور خوب نیاز کروں گی۔ جب صبح اٹھی تو اس کا شوہر دعوت طعام کی تیاری میں مصروف تھا۔ اس نے حیرت سے پوچھا آپ یہ کیا کر رہے ہیں ؟ اس نے کہا، اس بات کی خوشی میں دعوت کا اہتمام کر رہا ہوں کہ تم مسلمان ہو چکی ہو۔ پوچھا، آپ کو کیسے معلوم ہوا ؟ اس نے بتایا، میں بھی رات حضور اکرم، نور مجسم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے دست حق پرست پر ایمان لا چکا ہوں۔ (تذکرۃ الواعظین ص98 کوئٹہ)  اللہ عزوجل کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔

آمد سرکار (صلی اللہ علیہ وسلم) سے ظلمت ہوئی کافور ہے
کیا زمیں، کیا آسماں ہر سمت چھایا نور ہے

دعوت اسلامی اور جشن ولادت

الحمدللہ تبلیغ قرآن و سنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک، دعوت اسلامی کا جشن ولادت منانے کا اپنا ایک منفرد انداز ہے، دنیا کے بےشمار ممالک میں دعوت اسلامی کے زیر اہتمام عید میلادالنبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی شب کو عظیم الشان اجتماع میلاد کا انعقاد ہوتا ہے۔ اور غالباً دنیا کا سب سے بڑا اجتماع میلاد باب المدینہ کراچی میں ہوتا ہے۔ اس کی برکتوں کے کیا کہنے! اس میں شرکت کرنے والے نہ جانے کتنے ہی خوش نصیبوں کی زندگیوں میں مدنی انقلاب برپا ہو جاتا ہے۔ چنانچہ اس ضمن میں چار مدنی بہاریں ملاحظہ فرمائیے:

(1) گناہ کا علاج مل گیا

ایک عاشق رسول کا کچھ اس طرح بیان ہے، شب عیدمیلادالنبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم (1426ھ) کے اجتماع میلاد منعقدہ ککری گراؤنڈ باب المدینہ کراچی میں میرے ایک شناسا بے نمازی اور ماڈرن نوجوان نے شرکت کی، صبح بہاراں کے استقبال کے وقت درود و سلام کی گونج اور مرحبا یا مصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی دھوم کے دوران ان کے دل کی دنیا زیر و زبر ہو گئی، نیکیوں کی طرف رغبت اور گناہوں سے نفرت کا جذبہ ملا، انھوں نے ہاتھوں ہاتھ نماز کی پابندی اور داڑھی سجانے کی نیت کی اور واقعی وہ نمازی اور باریش ہو گئے۔ نیز ان کے اندر ایک “برائی“ کی عادت تھی جس کا ذکر کرنا مناسب نہیں، اجتماع میلاد کی برکت سے الحمدللہ عزوجل وہ بھی دور ہو گئی۔ دوسرے الفاظ میں یوں کہئے کہ اجتماع میلاد میں شرکت کی سعادت سے مریض عصیاں کو گناہوں کا علاج مل گیا!

مانگ لو مانگ لو ان کا غم مانگ لو، چشم رحمت نگاہ کرم مانگ لو
معصیت کی دوا لا جرم مانگ لو، مانگنے کا مزا آج کی رات ہے

صلوا علی الحبیب! صلی اللہ تعالٰی علٰی محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم

(2) دل کا میل دھو دیا

نارتھ کراچی کے ایک اسلامی بھائی کے تحریری بیان کو اپنے انداز میں عرض کرتا ہوں، ان کا بیان ہے، ماہ ربیع النور شریف کے ابتدائی دنوں میں بعض عاشقان رسول نے مجھ گناہوں میں ڈوبے ہوئے بےعمل انسان پر انفرادی کوشش کرتے ہوئے ککری گراؤنڈ باب المدینہ کراچی میں منعقد ہونے والے دعوت اسلامی کے اجتماع میلاد میں شرکت کی دعوت دی۔ میری خوش قسمتی کہ میں نے حامی بھر لی، جب 12ویں شب آئی تو میں حسب وعدہ اجتماع میلاد میں جانے کیلئے مدنی قافلے والوں کے ساتھ بس میں سوار ہو گیا۔ ایک عاشق رسول نے ایک عدد چم چم نامی مٹھائی میں سے تقریباً تیس اسلامی بھائیوں میں توڑ توڑ کر ٹکڑیاں تقسیم کیں، تقسیم کرنے والے کا محبت بھرا انداز میرے دل کو بہت بھایا۔ آخر کار ہم اجتماع میلاد میں پہنچ گئے۔ میں نے زندگی میں پہلی بار ہی ایسے روح پرور مناظر دیکھے تھے، نعتوں، سلاموں اور مرحبا یا مصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے پرکیف نعروں نے دل کا میل دھویا۔ الحمدللہ عزوجل میں ہاتھوں ہاتھ دعوت اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہو گیا۔ الحمدللہ عزوجل اب چہرے پر داڑھی مبارک کے انوار اور سر پر سبز سبز عمامہ شریف کی بہار ہے نیز تادم تحریر علاقائی مشاورت کے خادم (نگران) کی حیثیت سے سنتوں کی دھومیں مچانے کی سعادت میسر ہے۔

عطائے حبیب خدا مدنی ماحول
ہے فیضان غوث و رضا مدنی ماحول
یہاں سنتیں سیکھنے کو ملیں گی بہت
دلائے گا خوف خدا مدنی ماحول
یقیناً مقدر کا وہ ہے سکندر
جسے خیر سے مل گیا مدنی ماحول

صلوا علی الحبیب! صلی اللہ تعالٰی علٰی محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم

(3) نور کی بارش

عید میلادالنبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم (1417ھ) کو دوپہر کے وقت ہر سال کی طرح ظہر کی نماز کے بعد دعوت اسلامی کے حلقہ ناظم آباد باب المدینہ کراچی کا مدنی جلوس سرکار کی آمد مرحب کے نعرے لگاتا، اور مرحبا یا مصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی دھومیں مچاتا سڑکوں سے گزر رہا تھا۔ جگہ جگہ جلوس روک کر شرکاء کو بٹھا کر نیکی کی دعوت پیش کی جا رہی تھی۔ درایں اثناء ایک مقام پر کم و بیش دس سالہ مدنی منے نے “نیکی کی دعوت“ پیش کی۔ جلوس پر سکوت طاری تھا۔ بیان ختم ہونے پر ایک شخص اٹھا اور پوچھتا ہوا نگران حلقہ کے پاس پہنچا، اس پر رقت طاری تھی، کہنے لگا، ‘میں نے اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھا کہ دوران بیان آپ کے ننھے منے مبلغ سمیت تمام شرکائے جلوس پر نور کی بارش ہو رہی تھی۔ معاف کیجئے میں غیر مسلم ہوں۔ مہربانی کرکے مجھے جھٹ داخل اسلام کر لیجئے۔ مرحبا کے نعروں سے فضا کا سینہ دہل گیا۔ عیدمیلادالنبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے مدنی جلوس کی عظمت اور دعوت اسلامی کی بابرکت بہار دیکھ کر شیطٰن سر پیٹ کر رہ گیا۔ داخل اسلام ہونے کے بعد وہ شخص یہ کہتا ہوا چل پڑا کہ انشاءاللہ عزوجل میں اپنے خاندان میں جاکر اسلام کی دعوت پیش کروں گا۔ چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا، اور اس کی دعوت اسلام سے اس کی بیوی اور تین بچے نیز اس کے والد صاحب دین اسلام کے دامن میں آ گئے۔

عید میلاد النبی ہے ہر کوئی مسرور ہے
ہاں مگر شیطاں بمع رفقاء بڑا رنجور ہے

صلوا علی الحبیب! صلی اللہ تعالٰی علٰی محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم

(4) آج بھی جلوے عام ہیں

ایک عاشق رسول کا کچھ اس طرح کا بیان ہے، شب عیدمیلادالنبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو ککری گراؤنڈ باب المدینہ کراچی میں دعوت اسلامی کی طرف سے منعقد کردہ بڑی رات کے غالباً دنیا کے سب سے بڑے اجتماع میلاد میں ہم چند اسلامی بھائی حاضر ہوئے۔ برسبیل تذکرہ ایک اسلامی بھائی کہنے لگے، دعوت اسلامی کے اجتماع میلاد میں پہلے کافی سوز و رقت ہوا تھی اب وہ بات نہیں رہی۔ یہ سن کر دوسرا بولا، یار! آپ کی یہاں بھول ہو رہی ہے، اجتماع میلاد کی کیفیت تو وہی ہے مگر ہمارے دلوں کی کیفیت پہلے کی سی نہیں رہی ذکر رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کیسے بدل سکتا ہے! ہماری ذہنیت تبدیل ہو گئی ہے! اگر آج بھی ہم تنقید کی خشک وادیوں میں بھٹکنے کے بجائے بصد عقیدت تاجدار رسالت صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے حسین تصور میں ڈوب کر نعت شریف سنیں تو انشاءاللہ عزوجل کرم بالائے کرم ہو گا۔ پہلے اسلامی بھائی کا شیطانی وسوسوں پر مبنی ذمہ دارانہ اعتراض اگرچہ قدموں کو متزلزل کرکے، بوریت دلا کر اجتماع میلاد سے محروم کرکے واپس گھر پہنچانے والا تھا مگر دوسرے اسلامی بھائی کا جواب صد کروڑ مرحبا! کہ وہ نفس لوامہ کو جگانے والا شیطان کو بھگانے والا تھا چنانچہ وہ جواب بالصواب تاثیر کا تیر بن کر میرے جگر میں پیوست ہو گیا میں نے ہمت کی، قدم اٹھائے اور اجتماع میلاد کے وسط میں جا پہنچا اور عاشقان رسول کے اندر جم کر بیٹھ گیا اور نعتوں کے پرکیف نغموں میں کھو گیا۔ صبح صادق کا وقت قریب آیا، سب اسلامی بھائی صبح بہاراں لے استقبال کیلئے کھڑے ہو گئے، اجتماع پر ایک وجدانی کیفیت طاری تھی، ہر طرف مرحبا کی دھومیں مچی تھیں، شاہ خیرالانام صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ بےکس پناہ میں درود و سلام کے گلدستے پیش کئے جا رہے تھے، عاشقان رسول کی آنکھوں سے سیل اشک رواں تھے، ہر طرف سے آہوں اور سسکیوں کی آوازیں آ رہی تھیں، مجھ پر بھی عجیب کیف و مستی طاری تھی، میری گنہگار آنکھوں نے ہر طرف ہلکی ہلکی بندکیاں اور خوشگوار پھوار برستی دیکھی، گویا سارے کا سارا اجتماع باران رحمت میں نہا رہا تھا، میں سر کی آنکھیں بند کئے پیارے پیارے آق صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے حسین تصور میں گم دورد و سلام پڑھنے میں مشغول تھا۔ یکایک دل کی آنکھیں کھل گئیں، سچ کہتا ہوں، جس کا جشن ولادت منایا جا رہا تھا اسی شہنشاہ امم، نور مجسم، نبیءمحترم، رسول محتشم، حبیب رب اکرم، شاہ نبی آدم عزوجل و صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سراپا گنہگار و سزاوار ذم پر کرم بالائے کرم فرما دیا، اور مجھے اپنا جلوہء زیب دکھا دیا، الحمدللہ عزوجل دیدار مصطفٰے صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے کلیجہ ٹھنڈا ہو گیا۔ واقعی اس اسلامی بھائی نے بالکل سچ کہا تھا کہ دعوت اسلامی کے اجتماع میلاد تو حسب سابق سوز و رقت والا ہی ہے مگر ہماری اپنی کیفیت بدل گئی ہے اگر ہم متوجہ رہیں تو آج بھی ان کے جلوے عام ہیں،

آنکھ والا ترے جو بن کا تماشہ دیکھے
دیدہء کور کو کیا آئے نظر کیا دیکھے
کوئی آیا پا کے چلا گیا، کوئی عمر بھر بھی نہ پا سکا
یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے، یہ بڑے نصیب کی بات ہے

صلوا علی الحبیب! صلی اللہ تعالٰی علٰی محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم

“مرحبا یا مصطفٰی“ کے بارہ حروف کی نسبت سے جشن ولادت کے 12 مدنی پھول

جشن ولادت کی خوشی میں مسجدوں، گھروں، دکانوں اور سواریوں پر نیز اپنے محلہ میں بھی سبز سبز پرچم لہرائیے، خوب چراغاں کیجئے۔ اپنے گھر پر کم از کم بارہ بلب تو ضرور روشن کیجئے۔ بارھویں رات کو دھوم دھام سے اجتماع ذکر و نعت کا انعقاد کیجئے اور صبح صادق کے وقت سبز سبز پرچم اٹھائے دورد و سلام پڑھتے ہوئے اشکبار آنکھوں کے ساتھ صبح بہاراں کا استقبال کیجئے۔ 12ربیع النور شریف کے دن ہو سکے تو روزہ رکھ لیجئے کہ ہمارے پیارے آقا مکی مدنی مصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم ہر پیر کو روزہ رکھ کر اپنا یوم ولادت مناتے تھے جیسا کہ حضرت سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں، بارگاہ رسالت صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم میں پیر کے روزے کے بارے میں دریافت کیا گیا (کیونکہ آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم ‌ پیر کو روزہ رکھتے تھے) تو ارشاد فرمایا، “اسی دن میری ولادت ہوئی اور اسی روز مجھ پر وحی نازل ہوئی۔“ (صحیح مسلم شریف ص591 حدیث‌198۔(1162) دارابن حزم بیروت)

شارح صحیح بخاری حضرت سیدنا امام قسطلانی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں، “اور ولادت با سعادت کے ایام میں محفل میلاد کرنے کے خواص سے یہ امر مجرب (یعنی تجربہ شدہ) ہے کہ اس سال امن و امان رہتا ہے اور ہر مراد پانے میں جلدی آنے والی خوشخبری ہوتی ہے۔ اللہ عزوجل اس شخص پر رحمت نازل فرمائے جس نے ماہ ولادت کی راتوں کو عید بنا لیا۔ (مواہب لدنیہ ج1 ص27)

کعبۃ اللہ شریف کے نقشے (MODEL) میں معاذاللہ کہیں کہیں گڑیوں کا طواف دکھایا جاتا ہے۔ یہ گناہ ہے۔ زمانہء جاہلیت میں کعبۃ اللہ شریف میں تین سو ساٹھ بت رکھے ہوئے تھے۔ ہمارے پیارے اور میٹھے میٹھے آق صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ کے بعد کعبۃ المشرفہ کو بتوں سے پاک فرما دیا لٰہذا نقشے میں بھی بت (گڑیاں) نہیں ہونے چاہئیں۔ اس کی جگہ پلاسٹک کے پھول رکھے جا سکتے ہیں۔ (طواف کعبہ کے منظر کی تصویر جس میں چہرے واضح نظر نہیں آتے اس کو مسجد یا گھر وغیرہ میں لگانا جائز ہے۔ ہاں جس تصویر کو زمین پر رکھ کر کھڑے کھڑے دیکھنے سے چہرہ واضح نظر آئے اس کا آویزاں کرنا ناجائز و گناہ ہے)

ایسے “باب“ (GATE) لگانا جائز نہیں جن میں مور وغیرہ بنے ہوئے ہوں۔ جانداروں کی تصاویر کی مذمت میں دو احادیث مبارکہ پڑھئے اور خوف خداوندی سے لرزئیے:-
* (رحمت کے) فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس گھر میں کتا یا تصویر ہو۔ (صحیح بخاری ج2ص 409 حدیث 3322 دارالکتب بیروت)
* “ جو کوئی (جاندار کی) تصویر بنائے گا اللہ تعالٰی اس کو اس وقت تک عذاب دیتا رہے گا جب تک اس تصویر میں روح نہ پھونک دے اور وہ اس میں کبھی بھی روح نہ پھونک سکے گا۔ (صحیح البخاری، ج4ص422 حدیث 7042 دارالکتب العلمیہ بیروت)

جشن ولادت کی خوشی میں بعض جگہ گانے باجے بجائے جاتے ہیں ایسا کرنا شرعاً گناہ ہے۔ اس سلسلے میں دو روایات پیش خدمت ہیں۔

  • سرکار مدینہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، “مجھے ڈھول اور بانسری توڑنے کا حکم دیا گیا ہے۔“ (فردوس الاخبار ج1 ص483 حدیث 1612 دارالکتاب بیروت)
  • حضرت ضحاک رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سے روایت ہے، گانا دل کو خراب اور رب تبارک و تعالٰی کو ناراض کرنے والا ہے۔ (تفسیرات احمدیہ ص 603 پشاور)

نعت پاک کی کیسیٹیں بےشک چلائیں مگر اس میں اذان و اقامت نماز کی رعایت اور مریضوں وغیرہ کی تکلیف کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ (عورت کی آواز میں نعت کی کیسیٹ نہ چلائیں)
شارع عام میں زمین پر اس طرح سجاوٹ کرنا، پرچم گاڑنا جس سے راستہ چلنے اور گاڑی چلانے والنے مسلمانوں کو تکلیف ہو، ناجائز ہے۔

چراغاں دیکھنے کیلئے عورتوں کا بےپردہ نکلنا حرام و شرمناک نیز باپردہ عورتوں کا بھی مروجہ انداز میں مردوں میں اختلاط انتہائی افسوس ناک ہے۔ نیز بجلی کی چوری بھی ناجائز ہے۔ لٰہذا اس سلسلے میں بجلی فراہم کرنے والے ادارہ سے رابطہ کر کے جائز ذرائع سے چراغاں کی ترکیب بنائیے۔

جلوس میلاد میں حتی الامکان باوضو رہئے، نماز باجماعت کی پابندی کا خیال رکھئے۔ شرعی مجبوری نہ ہونے کی صورت میں جلوس کے دوران بھی نماز باجماعت مسجد کے اندر ادا کرنا واجب ہے۔ عاشقان رسول نماز کی جماعت ترک کرنے والے نہیں ہوا کرتے۔

جلوس میلاد میں گھوڑا گاڑی اور اونٹ گاڑی سے اجتناب کیجئے کہ یہ پیشاب اور لید سے عاشقان رسول کے کپڑے وغیرہ پلید کر دیتے ہیں۔

جلوس میں “لنگر رسائل“ چلائیے یعنی مکتبۃ المدینہ کے مطبوعہ رسالے اور مدنی پھولوں کے مختلف پمفلٹ خوب تقسیم کیجئے نیز پھل اور اناج وغیرہ بھی پھینکنے کے بجائے لوگوں کے ہاتھوں میں دیجئے۔ زمین پر گرنے بکھرنے اور قدموں تلے کچلنے سے ان کی بےحرمتی ہوتی ہے۔ اور اس طرح قصداً کھانے پینے کی چیزوں کو ضائع کرنا گناہ ہے۔

اشتعال انگیز نعرہ بازی پروقار جلوس میلاد کو سبوتاثر کر سکتی ہے۔ پرامن رہنے میں آپ کی اپنی بھلائی ہے۔

خدانخواستہ اگر کہیں ہلکا پھلکا پتھراؤ ہو بھی جائے تب بھی جذبات میں آ کر جوابی کاروائی پر نہ اتر آئیں کہ اس طرح آپ کا جلوس میلاد تتر بتر اور دشمن کی مراد بارآور۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

غنچے چٹکے، پھول مہکے ہر طرف بہار آئی
ہو گئی صبح بہاراں عید میلادالنبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم

صلوا علی الحبیب! صلی اللہ تعالٰی علٰی محمدصلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم

جشن ولادت کے بارے میں مکتوب عطار

(مدنی التجاء ہے کہ ہر ہر جگہ ہر سال ماہ صفرالمظفر کے آخری ہفتہ وار اجتماع میں یاد دہانی کیلئے مکتوب عطار پڑھ کر سنا دیا جائے۔ اسلامی بہنیں اور اسلامی بھائی حسب حال ترمیم فرما لیں)

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ط

سگ مدینہ محمد الیاس عطار قادری رضوی عفی عنہ کی جانب سے تمام عاشقان رسول اسلامی بھائیوں / اسلامی بہنوں کی خدمت میں جشن ولادت کی خوشی میں لہراتے ہوئے سرسبز پرچموں، جگمگاتے بلبلوں اور ننھے ننھے قمقموں کو چومتا ہوا جھومتا شہد سے بھی میٹھا مکی مدنی سلام،

اسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
الحمدللہ رب العٰلمین علٰی کل حال۔

تم بھی کرکے ان کا چرچا اپنے دل چمکاؤ
اونچے میں اونچا نبی کا جھنڈا گھر گھر میں لہراؤ

چاند رات کو ان الفاظ میں تین بار مساجد میں اعلان کروائیے: “تمام اسلامی بھائیوں اور اسلامی بہنوں کو مبارک ہو کہ ربیع النور شریف کا چاند نظر آ گیا ہے۔“

ربیع النور امیدوں کی دنیا ساتھ لے آیا
دعاؤں کی قبولیت کو ہاتھوں ہاتھ لے آیا

مرد کا داڑھی منڈوانا یا ایک مٹھی سے گھٹانا دونوں حرام ہے۔ اسلامی بہن کا بےپردگی کرنا حرام ہے۔ اسلامی بھائی جشن ولادت کے احترام میں چاند رات تا 12ویں، داڑھی منڈوانا اور اسلامی بہنیں بے پردگی کرنا ترک کریں اور اسی کی برکت سے اسلامی بھائی ہمیشہ کیلئے ایک مٹھی داڑھی اور اسلامی بہنیں مستقل شرعی پردہ اور زہے قسمت مدنی برقع پہننے کی نیت کریں۔ (مرد کا داڑھی منڈوانا یا ایک مٹھی سے گھٹانا اور عورت کا بےپردگی کرنا حرام اور فوراً توبہ کرکے ان گناہوں سے باز آنا واجب ہے)

جھک گیا کعبہ سبھی بت منہ کے بل اوندھے گرے
دبدبہ آمد کا تھا اھلاً و سہلاً مرحبا

سنتوں اور نیکیوں پر استقامت پانے کا عظیم مدنی نسخہ یہ ہے کہ تمام عاشقان رسول اسلامی بھائی اور اسلامی بہنیں روزانہ فکر مدینہ کرتے ہوئے مدنی انعامات کے کارڈ پر کرکے ہر ماہ جمع کروانے کی نیت کریں، ہاتھ اٹھا کر کہئے! انشاءاللہ عزوجل۔

بدلیاں رحمت کی چھائین بوندیاں رحمت کی آئیں
اب مرادیں دل کی پائیں آمد شاہ عرب ہے

تمام عاشقان رسول بشمول نگران و ذمہ داران ربیع النور شریف میں خصوصیت کے ساتھ کم از کم تین روزہ مدنی قافلے میں سفر کی سعادت حاصل کریں۔ اور اسلامی بہنیں 30 دن تک روزانہ گھر کے اندر (صرف گھر والوں میں) درس فیضان سنت جاری کریں اور پھر آئندہ بھی روزانہ جاری رکھنے کی نیت فرمائیں۔

لوٹنے رحمتیں قافلے میں چلو
سیکھنے سنتیں قافلے میں چلو

اپنی مسجد، گھر، دکان، کارخانہ وغیرہ پر 12 عدد ورنہ کم از کم ایک عدد سبز سبز پرچم ربیع النور کی چاند رات سے لیکر سارا مہینہ لہرائیے۔ بسوں، ویگنوں، ٹرکوں، ٹرالوں، ٹیکسیوں، رکشوں، ریڑھوں، گھوڑا گاڑیوں وغیرہ پر ضرورتاً اپنے پلے سے پرچم خرید کر باندھ دیجئے۔ اپنی سائیکل، اسکوٹر، اور کار پر بھی لگائیے۔ انشاءاللہ عزوجل ہر طرف سبز سبز پرچموں کی بہاریں مسکراتی نظر آئیں گی۔ عموماً ٹرکوں کے پیچھے جانداروں کی بڑی بڑی تصویریں اور بےہودہ اشعار لکھے ہوتے ہیں۔ میری آرزو ہے کہ ٹرکوں، بسوں، ویگنوں، رکشوں، ٹیکسیوں، سوزوکیوں اور کاروں وغیرہ کے پیچھے نمایاں الفاظ میں تحریر ہو، مجھے دعوت اسلامی سے پیار ہے۔ مالکان بس اور ٹرانسپورٹ والوں سے ملکر مدنی ترکیبیں کیجئے اور سگ مدینہ عفی عنہ کے دل کی دعائیں لیجئے۔ ضروری احتیاط:

اگر جھنڈے پر نقش نعل پاک یا کوئی لکھائی ہو تو اس بات کا خیال رکھئے کہ نہ وہ لیرے لیرے ہو، نہ ہی زمین پر تشریف لائے۔ نیز جوں ہی ربیع النور شریف کا مہینہ تشریف لے جائے فوراً اتار لیجئے۔ اگر احتیاط نہیں کر پاتے اور بےادبی ہو جاتی ہے تو بغیر نقش و تحریر کے سادہ سبز پرچم لہرائیے۔ (سگ مدینہ عفی عنہ بھی حتی الامکان اپنے مکان بےنشان پر سادہ جھنڈے لگاتا ہے۔)

نبی کا جھنڈا لیکر نکلو دنیا پر چھا جاؤ
نبی کا جھنڈا امن کا جھندا گھر گھر میں لہراؤ

اپنے گھر 12 جھالروں (یعنی لڑیوں) یا کم از کم 12 بلبوں سے نیز اپنی مسجد و محلے میں بھی 12 دن تک خوب چراغاں کیجئے۔ (مگر ان کاموں کیلئے بجلی چوری کرنا حرام ہے۔ لٰہذا اس سلسلے میں بجلی فراہم کرنے والے ادارہ سے رابطہ کرکے جائز ذرائع کی ترکیب بنائیے) سارے علاقے کو سبز سبز پرچموں اور رنگ برنگے بلبوں سے سجا کر دلہن بنا دیجئے۔ مسجد اور گھر کی چھت پر چوک وغیرہ پر راہگیروں اور سواریوں کو تکلیف سے بچاتے ہوئے حقوق عامہ تلف کئے بغیر فضا میں معلق 12 میٹر یا حسب ضرورت سائز کے بڑے بڑے پرچم لہرائیے۔ بیچ سڑک پر پرچم مت گاڑئیے کہ اس سے ٹریفک کا نظام متاثر ہوتا ہے۔ نیز گلی وغیرہ کہیں بھی اس طرح کی سجاوٹ نہ کیجئے جس سے مسلمانوں کا راستہ تنگ ہو اور ان کی حق تلفی اور دل آزاری ہو۔

بیت اقصٰی، بام کعبہ، برمکان آمنہ
نصب پرچم ہو گیا اہلاً و سہلاً مرحبا

ہر اسلامی بھائی حسب توفیق زیادہ ورنہ کم از کم 12 روپے کے مکتبۃ المدینہ کے مطبوعہ رسائل اور مدنی پھولوں کے مختلف پمفلٹ جلوس میلاد میں بانٹے اور اسلامی بہنیں بھی تقسیم کروائیں۔ اسی طرح سارا سال اجتماعات میں لنگر رسائل کا اہتمام فرما کر نیکی کی دعوت کی دھومیں مچائیں۔ شادی غمی کی تقاریب میں اور مرحوموں کے ایصال ثواب کی خاطر بھی “لنگر رسائل“ چلائیے اور دیگر مسلمانوں کو اس کی ترغیب دلائیے۔

بانٹ کر مدنی رسائل دین کو پھیلائیے
کر کے راضی حق کو حقدار جناں بن جائیے

سگ مدینہ کا تحریر کردہ پمفلٹ “جشن ولادت کے 12 مدنی پھول“ ممکن ہو تو 112 ورنہ کم از کم 12 عدد نیز ہو سکے تو رسالہ “صبح بہاراں“ 12 عدد مکتبۃ المدینہ سے ہدیۃً حاصل کرکے تقسیم کیجئے۔ خصوصاً ان تنظیموں کے سربرا ہوں تک پہنچائیے جو جشن ولادت کی دھومیں مچاتے ہیں۔ ربیع النور شریف کے دوران 1200 روپے اگر یہ نہ ہو سکے تو 112 روپے اور اگر یہ بھی نہ بن پڑے تو 12 روپے (یا بالغان و بالغات) کسی سنی عالم کو پیش کیجئے۔ اگر اپنی مسجد کے امام، مؤذن یا خدام میں بانٹ دیں تب بھی ٹھیک ہے بلکہ یہ خدمت ہر ماہ جاری رکھنے کی نیت کریں تو مدینہ مدینہ۔ جمعہ کے روز دیں تو بہتر کہ جمعہ کو ہر نیکی کا ستر گنا ثواب ملتا ہے۔ الحمدللہ عزوجل سنتوں بھرے بیان کا کیسیٹ سن کر کئی لوگوں کی اصلاح ہونے کی خبریں ہیں، آپ حضرات میں بھی کچھ نہ کچھ ایسے خوش نصیب ہوں گے جو بیان کا کیسیٹ سن کر مدنی ماحول سے وابستہ ہوئے ہوں گے۔ لٰہذا ایسی کیسیٹیں لوگوں تک پہنچانا دین کی عظیم خدمت اور بےانتہا ثواب کا باعث ہے تو جس سے بن پڑے ہفتہ میں ورنہ مہینے میں کم از کم 12 کیسیٹیں بیان کی ضرور فروخت کرے۔ مخیر اسلامی بھائی اگر مفت تقسیم کریں تو مدینہ مدینہ۔ جشن ولادت کی خوشی میں بیان کی کیسیٹیں خوب تقسیم فرمائیے اور تبلیغ دین میں حصہ لیجئے۔ شادیوں کے مواقع پر کارڈ کے ساتھ رسالہ اور ہو سکے تو بیان کا کیسیٹ بھی منسلک فرمائیے۔ عید کارڈز کا رواج ختم کرکے اس کی جگہ بھی یہی رائج کیجئے تاکہ جو رقم خرچ ہو اس سے دین کا بھی فائدہ ہو۔ مجھے لوگ قیمتی کارڈز بھجواتے ہیں اس سے دل خوش ہونے کے بجائے جلتا ہے۔ کاش! عید کارڈز پر خرچ ہونے والی رقم دین کے کام میں صرف کی جاتی! نیز اس پر لگی ہوئی افشاں (یعنی چمکدار پاؤڈر) سے سخت پریشانی ہوتی ہے۔

ان کے درپے پلنے والا اپنا آپ جواب
کوئی غریب نواز تو کوئی داتا لگتا ہے

بڑے شہر میں ہر علاقائی مشاورت کا نگران (قصبہ والے قصبہ میں) 12 دن تک روزانہ مختلف مساجد میں عظیم الشان سنتوں بھرے اجتماعات منعقد کرے (ذمہ دار اسلامی بہنیں گھروں میں اجتماعات فرمائیں) ربیع النور شریف کے دوران ہونے والے تمام اجتماعات میں جن سے ہو سکے وہ سبز پرچم ساتھ لایا کریں۔

لب پر نعت رسول اکرم ہاتھوں میں پرچم
دیوانہ سرکار کا کتنا پیارا لگتا ہے

گیارہ کی شام کو ورنہ 12ویں شب کو غسل کیجئے۔ ہو سکے تو اس عیدوں کی عید کی تعظیم کی نیت سے سفید لباس، عمامہ، سربند، ٹوپی، کتھئی چادر، مسواک، جیب کا رومال، چپل، تسبیح، عطر کی شیشی، ہاتھ کی گھڑی، قلم، قافلہ پیڈ وغیرہ اپنے استعمال کی ہر چیز ممکنہ صورت میں نئی لیجئے۔ (اسلامی بہنیں بھی اپنی ضرورت کی جو جو اشیاء ممکن ہوں وہ نئی لیں)

آئی نئی حکومت سکہ نیا چلے گا
عالم نے رنگ بدلہ صبح شب ولادت

12ویں شب اجتماع میلاد میں گزار کر بوقت صبح صادق اپنے ہاتھوں میں سبز سبز پرچم اٹھائے درود و سلام کے ہار لئے اشکبار آنکھوں سے “صبح بہاراں“ کا استقبال کیجئے۔ بعد نماز فجر سلام و عیدمبارک کہہ کر ایک دوسرے سے گرم جوشی کے ساتھ ملاقات فرمائیے اور سارا دن عید کی مبارکباد پیش کرتے اور عید ملتے رہئے۔

عید میلادالنبی (صلی اللہ علیہ وسلم) تو عید کی بھی عید ہے
آج تو ہے عید عیداں عید میلاد النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم

ہمارے میٹھے میٹھے آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم ہر پیر شریف کو روزہ رکھ کر اپنا یوم ولادت مناتے رہے۔ آپ بھی یاد مصطفٰے صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم میں 12 ربیع النور شریف کو روزہ رکھ کر سبز پرچم اٹھائے جلوس میلاد میں شریک ہوں۔ جہاں تک ممکن ہو باوضو رہئے۔ لب پر درود و سلام اور نعتوں کے نغمے سجائے، نعتوں اور درود و سلام کے پھول برساتے، نگاہیں جھکائے پروقار طریقے پر چلئے۔ اچھل کود مچا کر کسی کو تنقید کو موقع مت دیجئے۔

ربیع الاول اہلسنت تجھ پہ کیوں نہ ہوں قرباں
کہ تیری بارھویں تاریخ وہ جان قمر آیا

صلوا علی الحبیب! صلی اللہ تعالٰی علٰی محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم

جشن ولادت منانے کی نیتیں

بخاری شریف کی سب سے پہلی حدیث مبارک ہے، انماالاعمال بالنیات یعنی اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ (صحیح بخاری ج1ص5) یاد رکھئے! ہر نیک عمل میں ثواب آخرت کی نیت ہونا ضروری ہے ورنہ ثواب نہیں ملیگا۔ جشن ولادت منانے میں بھی ثواب کمانے کی نیت ضروری ہے۔ ثواب کی نیت کیلئے عمل کا شریعت کے مطابق اور زیور اخلاص سے مزین ہونا شرط ہے۔ اگر کسی نے دکھاوے اور واہ واہ کروانے کی خاطر جشن ولادت منایا، اس کیلئے بجلی کی چوری کی، بالجبر چندہ وصول کیا، بلا اجازت شرعی مسلمانوں کو ایذاء دی اور حقوق عامہ تلف کئے، اونچی آواز سے اور ایسے وقت لاؤڈ اسپیکر چلایا جس سے مریضوں، سونے والوں اور شیرخوار بچوں کو تکلیف ہو تو اب ثواب کی نیت بےکار ہے بلکہ گنہگار ہے۔ جس قدر اچھی اچھی نیتیں زیادہ ہوں گی اسی قدر ثواب بھی زیادہ ملے گا۔ چنانچہ 18 نیتیں پیش کی جاتی ہیں مگر یہ نامکمل ہیں، علم نیت رکھنے والا ثواب بڑھانے کی غرض سے مذید نیتوں کا اضافہ کر سکتا ہے۔ حسب حال یہ نیتیں کر لیجئے:

“ جشن میلادالنبی مرحبا “ کے اٹھارہ حروف کی نسبت سے جشن ولادت منانے کی 18 نیتیں

  1. حکم قرآنی واما بنعمۃ ربک فحدث ہ (ترجمہ کنزالایمان: اور اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو۔ (پ30 الضحٰی 11) پر عمل کرتے ہوئے اللہ عزوجل کی سب سے بڑی نعمت کا چرچا کروں گا۔
  2. رضائے رب العزت عزوجل پانے کیلئے جشن ولادت کی خوشی میں چراغاں کروں گا۔
  3. جبرئیل امین علیہ الصلوٰۃ والسلام نے شب ولادت جو تین جھنڈے گاڑے تھے اس کی پیروی میں جھنڈے لہراؤں گا۔
  4. سبزگنبد کی نسبت سے سبز پرچم لگاؤں گا۔
  5. دھوم دھام سے جشن ولادت منا کر کفار پر عظمت مصطفٰے صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا سکہ بٹھاؤں گا (گھر گھر چراغاں اور سبز جھنڈے دیکھ کر کفار یقیناً حیران ہوتے ہوں گے کہ مسلمانوں کو اپنے نبی کی ولادت سے والہانہ پیار ہے۔)
  6. جشن ولادت کی دھوم مچا کر شیطان کو پریشان کروں گا۔
  7. ظاہری سجاوٹ کے ساتھ ساتھ توبہ و استغفار کے ذریعے اپنا باطن بھی سجاؤں گا۔
  8. بارھویں رات کو اجتماع میلاد اور
  9. عید میلادالنبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے دن نکلنے والے جلوس میلاد میں شرکت کرکے خدا و مصطفٰی عزوجل و صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی سعادتیں اور
  10. علماء و
  11. صلحا کی زیارتیں اور
  12. عاشقان رسول کے قرب کی برکتیں حاصل کروں گا۔
  13. جلوس میلاد میں با عمامہ اور حتی الامکان
  14. باوضو رہوں گا اور
  15. جلوس کے دوران بھی مسجد کی نماز باجماعت ترک نہیں کروں گا
  16. حسب توفیق “لنگر رسائل“ کی ترکیب بناؤں گا (یعنی مکتبۃ المدینہ کے مطبوعہ رسائل و پمفلٹ نیز سنتوں بھرے بیانات کی کیسیٹیں اجتماع میلاد اور جلوس میلاد میں تقسیم کروں گا)
  17. انفرادی کوشش کرتے ہوئے کم از کم 12 اسلامی بھائیوں کو مدنی قافلے میں سفر کی دعوت دوں گا۔
  18. جلوس میلاد میں حتی الوسع سارا راستہ زبان و آنکھ کا قفل مدینہ لگائے، نعتوں کی سماعت اور درود و سلام کی کثرت کروں گا۔

یارب مصطفٰی عزوجل و صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم! ہمیں خوش دلی اور اچھی اچھی نیتوں کے ساتھ جشن ولادت منانے کی توفیق مرحمت فرما اور جشن ولادت کے صدقے ہمیں جنت الفردوس میں بےحساب داخلہ عنایت کر۔

بخش دے ہم کو الٰہی! بہر میلادالنبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم
نامہء اعمال عصیاں سے مرا بھر پور ہے

اٰمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم
والسلام مع الاکرام

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s