میلادالنبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ہ

میلادالنبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
(اما اہلسنت امام احمد رضا خان قدس سرہ
کی ایک نفیس تقریر کا خلاصہ بالاضافہ)

نحمدہ و نصلی علٰی رسولہ الکریم وعلٰی آلہ و اصحابہ اجمعین ہ

حضور “ نعمۃاللہ “ ہیں، قرآن عظیم نے ان کا نام “نعمۃ اللہ “ رکھا۔ (اللہ کی نعمت عظمٰی)
“الذین بدلوا نعمۃاللہ کفرا“
جن لوگوں نے اللہ کی نعمت ، ناشکری سے بدل دی ۔
کی تفسیر میں حضرت سیدنا عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
“نعمۃاللہ“ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں ۔ولہذا ان کی تشریف آوری کا تذکرہ امتثال امر الہی (تعمیل حکم خداوندی) ہے۔
قال اللہ تعالٰی:
وامابنعمۃ ربک فحدث ہ
“ اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو۔“
حضور اقدس کی تشریف آوری ، سب نعمتوں سے اعلٰی نعمت ہے یہی تشریف آوری ہے جس کے طفیل دنیا ، قبر، حشر،برزخ،آخرت، غرض ہر وقت، ہر جگہ، ہر آن، نعمت ظاہر وباطن سے ہمارا ایک ایک رونگٹا متمتع اور بہر مندہ ہے اور ہو گا۔
انشاءاللہ تعالٰی۔
اپنے رب کے حکم سے، اپنے رب کی نعمتوں کا چرچہ، مجلس میلاد میں ہوتا ہے۔ مجلس میلاد آخر وہی شے ہے جس کاحکم رب العزت دے رہا ہے۔
مجلس مبارک کی حقیقت، مجمع المسلمین کو
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تشریف آوری و فضائل جلیلہ وکمالات جمیلہ کا ذکر سناناہے۔(یہی اس کی حقیقت ہے) بند یا رقعہ باٹنا، یا طعام و شیرینی کی تقسیم، اس کا جزء حقیقت نہیں(کہ اس کے بغیر میلاد کا وجود ہی معدوم ہو) نہ ان میں کچھ جرم، اول دعوت الی الخیر ( خیر کی طرف بلانا) ہے اور دعوت الی الخیر بے شک خیر ہے۔
اللہ عزوجل فرماتاہے:
ومن احسن قولا ممن دعا الی اللہ۔
“ اس سے زیادہ کس کی بات اچھی ہو جو اللہ کی طرف بلائے۔“
صحیح مسلم شریف میں ہے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں :
من دعا الی ھدی کان لہ الاجر مثل اجور من تبعہ ولا ینقص ذلک من اجورھم شیئا۔
“ جو لوگوں کو کسی ہدایت کی طرف بلائے ، جتنے اس کا بلانا قبول کریں، ان سب کے برابر اسے ثواب ملے اور ان کے ثوابوں میں کچھ کمی نہ ہو۔“
اور اطعام طعام ( کھلانے پلانے کااہتمام و انتظام) یا تقسیم شیرینی ، بر وصلہ و احسان و صدقی ہے اور یہ سب شرعا محمود۔( کہ قرآن و حدیث میں جا بجا اس کی ترکیب و تاکید آئی۔)ان مجالس کے لئے صرف تم ہی نہیں ۔ ملائکہ بھی تداعی کرتے ہیں جہاں جلس ذکر شریف ہوتے دیکھہ، ایک دوسرے کع بلاتے ہیں کہ آؤ یہاں تمھارا مطلوب ہے۔ پھر وہاں سے آسمان تک چھا جاتے ہیں۔ تم دنیا کی مٹھائی بانٹتے ہو۔ ادھر سے رحمت کی شیرینی تقسیم ہوتی ہے۔ وہ بھی ایسی عام ( بلا روک ٹوک) کہ نا مستحق کو بھی حصہ دیتے ہیں۔ ( اور اس مین برغبت تمام شرکت کرنے والے مصداق بن جاتے ہیں اس حدیث کا )

ھم القوم لا یشقی بھم جلیسھم۔
“ ان لوگوں کے پاس بیٹھنے والا بھی بد بخت نہیں رہتا۔“
یہ مجلس آج سے نہیں ۔ آدم علیہ السلام نے خود کی اور کرتے رہے ۔ اور انکی اولاد میں برابر ہوتی رہی۔ کوئی دن ایسا نہ تھا کہ آدم علیہ السلام ، ذکر حضور نہ کرتے ہوں۔ اول روز سے آدم علیہ الصلوۃ والسلام کو تعلیم ہی یہ فرمایا گیا کہ میرےذکر کے ساتھ، میرے حبیب و محبوب کا ذکر کیا کرو،
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔
جس کے لئے عملی کاروائی یہ کی گئی کہ جب روح الہی آدم علیہ الصلوۃ و السلام کے پتلے میں داخل ہوی ہے ، آنکھ کھلتی ہے، نگاہ ساق عرژ پر ٹھرتی ہے، لکھا دیکھتے ہیں:
لا الہ الا اللہ ممد رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )
عرض کی : الہی یہ کون ہے ؟ جس کا نام تو نے اپنے نام اقدس کے ساتھ لکھا ہے؟ ارشاد ہوا: اے آدم! وہ تیری اولاد میں سب سے پچھلا پیغمبر ہے۔ وہ نہ ہوتا تو میں تجھے نا بناتا۔
لولا ممد ما خلقتک ولا ارضا ولا سماء۔
“اسی کے طفیل میں تجھے پیدا کیا اگر وہ نہ ہوتا، نہ تجھے پیدا کرتا اور نہ زمین و آسمان بناتا۔“
تو کنیت ابو محمد کر،
صلی اللہ علیہ وآلہ وصحبہ وبارک وسلم۔
آنکھ کھلتے ہی نام بتایا گیاپھر ہر وقت ملائکہ کی زبان سے ذکر اقدس سنایا گیا۔ وہ مبارک سبق عمر بھر یاد رکھا ۔ ہمیشہ ذکر وشرشا کرتے رہے ۔ جب وصال شریف قریب آیا، شیث علیہ الصلوۃوالسلام سے ارشاد فرمایا:
“ اے فرزند میرے بعد تو خلیفہ ہوگا۔ عماد تقوی( ستون پرہیزگاری) عروہ وثقیٰ ( دستی استوار و محکم ) کو نہ چھوڑنا۔ العروۃ الوثقی
محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، عروہ وثقی محمد ہیں۔ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔ جب اللہ کو یاد کرے ، محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کا ذکر ضرور کرنا کہ میں نے فرشتوں کو دیکھا کہ ہر گھڑی ان کی یاد میں مشغول ہیں۔“
اسی طور پر چرچا ان کا ہوتا رہا ۔ پہلی انجمن روز میثاق جمائی گئی ، اس میں حضور کا ذکر تشریف آوری ہوا ۔
اور قرآن کریم میں اس کا ذکر یوں فرمایا کہ:
واذ اخذ اللہ میثاق النبین لما اٰتیتیکم من کتاب و حکمۃ ثم جآ ءکم رسول مصدق لما معکم لتومن بہ التنصرنہ قال ء اقررتم واخذ تم علٰی ذلکم اصری قالوا اقررنا قال فاشھدوا قانا معکم من الشٰھدین ہ فمن تولی بعد ذلک فاو لئک ھم الفٰسقون ۔
“ اور عہد لیا اللہ نے نبیوں سے، کہ بے شک میں تمہیں کتاب و حکمت عطا فرماؤں، پر تشریف لائیں تمھارے پاس وہ رسول ، تصدیق فرمائیں ان باتوں کی جو تمھارے ساتھ ہیں تو تم ضرور ان پر ایمان لانا اور ضرور ضرور ان کی مدد کرنا۔( اور قبل اس کے کہ انبیاء کچھ عرض کرنے پائیں ) فرمایا کیا تم نے اقرار کیا اور اس پر میرا بھاری ذمہ لیا ؟ عرض کی ہم نے اقرار کیا۔فرمایا تو آپس میں ایک دوسرے کے گواہ ہو جاؤ ۔ اور میں بھی تمھارے ساتھ گواہوں سے ہوں پھر جو کوئی اس اقرار کے بعد پھر جائے تو وہی لوگ بے حکم ہیں۔“
مجلس میثاق میں “رب العزت “ نے تشریف آوری حضور کا بیان فرمایا اور تمام انبیاء علیھم الصلوۃ والسلام نے سنا اور ( انقیاد ) وگرویدگی) و اطاعت ( و خدمت گزاری ) حضور کا قول دیا۔ ان کی نبوت ہی مشروط تھی ، حضور کے مطیع و امتی بننے پر ۔ ( اللہ اللہ! امتیوں پر فرض کرتے ہیں رسولوں پر ایمان لاؤ۔ اور رسولوں پر فرض کرتے ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گرویدگی فرماؤ۔ ) غرض صاف صاف جتا رہے ہیں کہ مقصود اصلی ایک وہی ہیں باقی تم سب تابع و طفیلی۔

مقصود ذات او ست دگر جملگی طفیل

تو سب سے پہلے حضور کا ذکر تشریف آوری کرنے والا اللہ ہے کہ فرمایا!
ثم جآءکم رسول۔
“پھر تمھارے پاس وہ رسول تشریف لائیں۔“
اور ذکر پاک کی سب میں پہلی (مجلس) یہی مجلس انبیاء ہے۔ علیہم الصلوۃوالسلام۔ جس میں پڑھنے والا اللہ اور سننے والا انبیاء اللہ۔
(صلوات اللہ تعالٰی علیہم اجمعین)
غرض اسی طرح ہر زمانے میں ، حضور علیہ السلام کا ذکر ولادت و تشریف آوری ہوتا رہا۔ ہر قرن میں انبیاء و مرسلین، آدم علیہ السلام سے لیکر ابراہیم و موسٰی و داؤد و سلیمان و زکریا علیہم السلام تک، تمام نبی و رسول، اپنے اپنے زمانے میں مجلس حضور ترتیب دیتے رہے۔ یہاں تک کہ وہ سب میں پچھلا، ذکر شریف سنانے والا ، کنواری ستھری پاک بتول کا بیٹا، جسے اللہ نے بے باپ کے پیدا کیا ، نشانی سارے جہاں کے لئے، یعنی سیدنا عیسٰی علیہ الصلوۃ والسلام تشریف لایا فرماتا ہوا!
مبشرا برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد۔
“ میں بشارت دیتا ہوں ان رسول کی، جو عنقریب میرے بعد تشریف لانے والے ہیں جن کا نام پاک احمد ہے۔ ( صلی اللہ تعالٰی علیہ و علٰی آلہ و صحبہ وبارک وسلم )“
یہ ہی مجلس میلاد۔ جب زمانہ ولادت شریف کا قریب آیا۔ تمام ملک و ملکوت میں محفل میلاد تھی۔ عرش پر پر محفل میلاد، فرش پر محفل میلاد، ملائکہ میں مجلس میلاد ہو رہی تھی، خوشیاں مناتے حاضر آئے ہیں، سر جھکائے کھڑے ہیں، جبرئیل و میکائیل حاضر ہیں، علیہم الصلوۃ و السلام۔ اس دولہا کا انتظار ہو رہا ہے جس کے صدقے میں یہ ساری برات بنائی گئی۔ سبع سموات میں عرش و فرش پر دھوم ہے۔
ذرا انصاف کرو، تھوڑی سی مجازی قدرت والا، اپنی مراد کے حاصل ہونے پر جس کا مدت سے انتظآر ہو، اب وقت آیا ہے تو کیا خوشی کا سامان نہ کرے گا۔ وہ عظیم مقتدر، چھ ہزار برس ہیشتر، بلکہ لاکھوں برس سے، ولادت محبوب کے پیش خیمے تیار فرمارہا ہے۔ اب وقت آیا ہے کہ وہ مراد المرادین، ظہور فرامنے والے ہیں، یہ “قادر علی کل شیء“ ( جو ہر شے پر ودرت تامہ رکھتا ہے) کیا کچھ خوشی کا سامان مہیا نہ فرمائے گا۔
شیاطین کو اس وقت جلن تھی اور اب بھی جو شیطان ہیں جلتے ہیں اور ھمہشہ جلیں گے۔ غلام تو خوش ہو رہے ہیں کہ ان کے ہاتھوں ایسا دامن آیا کہ یہ گر رہے تھے اس نے بچا لیا۔ ایسا سنبھالنے والا ملا کہ اس کی نظیر نہیں ملتی۔
صلی اللہ علیہ وآلہ وصحبہ وبارک وسلم۔
ایک آدمی ایک کو بچا سکتا ہے۔ دو کو بچا سکتا ہے۔ کوئی قوی ہوگا زیادہ سے زیادہ دس بیس کو بچا دے گا ۔ اور اور یہاں کروڑوں اربوں پہسلنے والے ، اور بچانے والا وہی ایک۔
انا اخذکم بحجزکم عن النار ھلموا الی۔
“ میں تمھارا بند کمر پکڑے کھینچ رہا ہوں، ارے میری طرف آؤ۔ (صلی اللہ علیہ وآلہ وصحبہ وبارک وسلم)
یہ فرمان صرف صحابہ سے خاص نہیں۔ قسم اس کی جس نے انہیں “ رحمۃ للعلمین“ بنایا۔ آج وہ ایک ایک مسلمان کا بند کمر پکڑے اپنی طرف کھینچ رہے ہیں کہ دوزخ سے بچائیں۔ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلی وصحبہ وبارک وسلم۔
الحمد للہ کیسا حامی پایا۔ اربوں سے اربوں پراتب، گرنے والوں کو ان کا ایک اشارہ کفایت کر رہا ہے تو ایسے کا پیدا ہونے کا ابلیس اور اس کی ذریت کو جتنا غم ہو تھوڑا ہے۔ پہاڑوں میں ابلیس اور تمام مردہ ( مردود بارگاہ الٰہ) سرکش قید کر دئے گئے تھے۔ اسی کے پیرو اب بھی غم کرتے ہیں، خوشی کے نام سے مرتے ہیں۔
“ملائکۃ سبع سموات “ ( ساتوں آسمانوں کے فرشتے ) دھوم مچا رہے تھے ۔ عرش ذوق و شوق میں ہلتا تھا، ایک علم مشرق اور دوسرا مغرب، اور تیسرا بام کعبہ پر نصب کیا گیا اور بتایا گیا کہ ان کا دار السطنت ، انہیں کی قلمرو میں داخل ہے ( اور جب ) اس مراد کے ظاہر ہونے کی گھڑی آپہنچی کہ اول روز سے اس کی مھفل میلاد ، اس کے خیر مقدم کی مبارک باد ہورہی ہے،“ قادر علی کل شیء“
نے اس کی خوشی میں کیسے کچھ انتظام فرمائے ہوں گے۔
گھر گھر مسرت و شادمانی کی رسوم ، ہر طرف تہنیت و مبارکباد کی دھوم، نسیم بہار چلی، شاخ چاخ سے گلے ملی، گل فرط مسرت سے پھولے نہ سمائے ، کلیوں کی چٹک سے
“ صلوات اللہ تعالٰی و سلامۃ علیک یا رسول اللہ“ کی آوازیں آئیں۔ سحاب رحمت “ اللھم صل علی ھذا النبی الکریم “ کہتا گھر آیا ۔ بوندیاں شوق دیدار میں درود پڑھتی اتریں۔ بجلیوں نے سورہ نور ورد زبان کی اور جب وہ مبارک ساعت بالکل قریب آئی جبرئیل امین ایک پیالہ شربت جنت کا سیدتنا آمنہ رضی اللہ عنہا کے لئے حاضر ہوئے ۔ اس کے نوش فرمانے سے وہ دہشت زائل ہوگئی جو ایک آواز سننے سے پیدا ہوئی تھی، پھر ایک مرگ سپید کی شکل ن=بن کر ، اپنا پر، سیدتنا آمنہ رجی اللہ عنہا کے بطن مبارک سے مل کر عرض کرنے لگے:

اظھر یا سید المرسلین
اظھر یا خاتم النبین
اظھر یا اکرم الاولین و الاخرین

“ جلوہ فرمائیے اے تمام رسولوں کے سردار! جلوہ فرمائیے اے تمام انبیاء کت خاتم، جلوہ فرمائیے اے سب اگلوں پچھلوں سے زیادہ کریم۔“

یا اور الفاظ ان کے ہم معنی، مطلب یہ کہ دونوں جہاں کے دولہا! برات سج چکی اب جلوہ افروزی سرکار کا وقت ہے۔
فظھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کالبد المنیر۔
“ پس حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جلوہ فرماہوئے جیسے چودھویں رات کا چاند۔“ ( انتھی)
اے انجمن والو ہوشیار، باادب با نصیب، بے ادب بے نصیب، دست بستہ کھڑے صلوۃ و سلام عرض کرو ۔ تمھارے حمایتی ، تمھارے والی، تمھارے یاور، تمھارے سرور، تمھارے آقا، تمھارے مولا، تمھارے سردار، تمھارے غم خوار، محبوب خدا احمد مجتبٰی محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کی سواری آچکی اور وہ جان مسیح ، جان بخش عالم تشریف لا چکے۔
تعظیم کو اٹھے ہیں ملک، تم بھی کھڑے ہو
پیدا ہوئے سلطان عرب، شاہ عجم آج

الصلوۃ و السلام علیک یا رسول اللہ الصلوۃ و السلام یا نبی اللہ الصلوۃ و السلام علیک یا حبیب اللہ الصلوۃ و السلام علیک یا خیر خلق اللہ الصلوۃ و السلام علیک وعلی اٰلک و صحبک و اولیاء امتک و علماء ملتک دائما ابدا سرمدا امین والحمد للہ رب العلمین۔
شمس و قمر سلام کو حاضر ہیں السلام جن و بشر سلام کو حاضر ہیں السلام
سب بحر و بر ، سلام کو حاضر ہیں السلام سنگ و شجر سلام کو حاضر ہیں السلام
سب خشک و تر ، سلام کو حاضر ہیں سب کروفر ، سلام کو حاضر ہیں السلام
شوریدہ سر سلام کو حاضر ہیں السلام خستہ جگر سلام کو حاضر ہیں السلام ۔

Advertisements

One thought on “میلادالنبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)

  1. جشن عید میلاد النبی مبارک ہونزول رحمت کا ماہ مقدس مبارک ہو
    اس ماہ مقدس میں پیدا حضور ہوےحصول برکت کا ماہ مقدس مبارک ہو
    اس ماہ تھے چراغ نور و خوشبو کے جلےبطول کائنات کا ماہ مقدس مبارک ہو
    اس ماہ تھے بہار رحمت کے اٌنے سے پہول کھلےاصول طریقت دکھانے والے کا ماہ مقدس مبارک ہو
    اس ماہ کفار کے برے دل جلےبشمول قران و اٌحادیث کی رحمت کے، یہ ماہ مقدس… مبارک ہو
    واللہ کرتی ہے دعا سعدیہ سب کے لیےقبول کروانے والے کا ماہ مقدس مبارک ہو

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s