انگیزوں کا باپ

انگیزوں کا باپ:

انگریزوں نے تمام انسانوں کو بندر کی اولاد بنایا ہے وہ کیسے؟
تحقیق غور سے پڑھئے 1884 ء میں ایک میشن تشکیل دیا۔ جس کا مقصد “ زندگی کیسے شروع ہوئی“ کا حتمی جواب حاصل کرنا تھا۔ جہاں اور بہت سے سائنسدانوں کے دلائل پر غور کیا گیا وہاں خاص طور پر لوئی پاسچر اور پوشے کے دلائل غور سے سنے گئے اور کمیشن اس نتیجے پر پہنچا۔

“ابتدائی جانداروں کی نسل بے جان غیر نامیاتی مادہ سے وجود میں آئی البتہ ایک عرصہ کے بعد یہ طریقہ پیدائش ختم ہو گیا اور اب زندگی ہی زندگی کو جنم دیتی ہے۔”
20 صدی کے ابتداء میں یہ سوال اٹھا کہ وہ کونسے عاوامل تھے جن کے ذریعے مردہ غیر نامیاتی مادہ زندگی [color=#800000]میں تبدیل ہوا۔
جواب:
جن زمین پر ہزاروں سال بارشیں ہوتی رہیں نتیجا سمندروں نے جنم لیا۔ فضا کی میتھبن اور امونیا گیس بھی سمندروں میں جمع ہوگئی۔ پھر ایمونیا گیس کا ربن ڈائی اکسائڈ گیس میتھبن گیس اور پانی پر الٹرا وائلٹ اور کاسموس شعاعوں کی بمباری سے ایمنیوایسڈزکے مرکبات وجود میں آئے جو زندگی کے ابتدائی بلڈنگ بلاکس ہیں۔
ایمنیوایسڈز میں نمی اور شعاعوں کے عمل سے تبدیلیاں آئیں تو شوگر کے مرکبات وجود میں آئے اکسیجن، ھائیڈروجن، نائیٹروجن اور کاربن کے ہزارھا ایٹموں کے اجتماع سے پروٹینز کو وجود ملا۔ پروٹینز کے پیچیدہ مرکبات نے نیو کلیک ایسڈز کی شکلیں اختیار کیں۔ مختلف نیو کلیک ایسڈز کے مجموعے نے زندگی کا وہ نیو کلیک تیار کیا جس میں خود افزدگی کی صلاحیتیں موجود تھیں۔
دنیا میں سب سے پہلے آبی نباتات نے زندگی کی شکل اختیار کی حیات و موت کا عمل شروع ہوا پرانے پودے مرتے گئے اور نئے نئے پودے پیدا ہوتے گئے 80 کروڑ سال تک پودوں میں ارتقا ہوتا رہا۔ پھر سمندر کے اندر جراثیم پیدا ہوئے اور کچھ متنفس پودے سمندر میں پیدا ہوئے اور یہی پودے بعد میں مرجان اور کینچوے کی شکل میں اختیار کر گئے۔ سمندری کائی ۔ بے ریڑھ اور رینگنے والے جانور وجود پذیر ہوئے ان آبی جانوروں نے اہستہ اہستہ پانی کے کناروں اور سمندروں کے ساحلوں پہ بیٹھ کر زندگی کے کچھ لمحات گزارنے کی صلاحیت پیدا کی۔ یہ جانور 65 کروڑ سال تک ارتقاء کے منازل طے کرتے رہے ۔ ان جانداروں کے جب ہوا نے بارہ راست تقویت دی تو ان کے ارتقاء کی رفتار تیز ہوگئی تو مونگے۔ سوسن۔ اسفنج۔ شکم پائے۔ بازو پائے جیسے جانور نمودار ہوئے اور سمندروں میں جانداروں کا ایک جہاں آباد ہو گیا۔ 25 کروڑ سال تک یہ ارتقاء کے منازل طے کرتے رہے سب سے پہلا جانور جو خشکی پر بھی رہنے کی صلاحیت رکھتا تھا وہ “ جل تھیلا“ تھا۔ یہ سمندر میں بھی رہتا تھا اور خشکی پر بھی، سمندری جانوروں کے باہمی اختالط سے بہت سے نئے نئے جانوروں نے جنم لیا۔
ان میں رینگنے والے جانور بھی تھے اسی دور میں ایسے جانور بھی پیدا ہوئے ۔ جو پانی پہ تیرتے تھے کچج ایسی مچھلیاں تھیں جو ہوا میں اڑتی تھیں۔ پروں والے جانوروں کی افزائش ہوئی تو پرندے عام ہوئے۔ بعد ازاں سب سے اہم جانور جو زمین پہ نمودار ہوا وہ (MAMMEL) تھا۔ ایک بہت بڑا پستان دار جانور اور یہ جانور اپنے نر کا محتاج تھے۔ یوں زمین پہ یہ جانوروں کی زندگی کا آغاز ہوا۔

انسان (MAN)

انسان پوری کائنات میں سب سے زیادہ افضل اور اشرف مخلوقات ہے ۔ حیوانات میں سب سے ممتاز حیثیت کا مالک ہے۔ ڈارون کا نظریہ یہ ہے کہ انسان پہلے اپنی موجودہ صورت تھا وہ انسان کی نسل بندر سے چلاتے ہیں ان کے نزدیک انسان مندرجہ ذیل منازل سے گزرا۔
1
۔ پلوپیتھکس:۔
(PLIOPTHECUS)
یہ بہت ابتدائی بندروں میں سے ہے۔ اس کی بیرونی ساخت یعنی خدوخال جدید دور کے Gibbon سے کافی ملتے جلتے ہیں ۔

Gibbon
موجودہ دور کے بندر کی وہ قسم ہے جس کے بازو عام بندر سے سائز میں کافی لمبے ہوتے ہیں Gibbon کی نسبت انکے بازو لمبائی میں کچھ زیادہ عدم توازن کے شکرا نہ تھے۔ دانتوں اور کھوپڑی کی ساخت کی بنا پر درجہ بندی کے اعتبار سے اس کو Gibbon نسل کے آباء اجداد میں رکھا جاتا ہے۔ یہ صرف ایک درخت سے دوسرے درختتک چھلانگ لگانے میں مخصوص تھے۔

2
۔ پروقضل:۔
( PROCONSUL)
APE
بندر کی اس نسل کو کہتے ہیں جس کی دم نہیں ہوتی اور جو انسانوں کی طرح چل پھر سکتا ہے ۔ جیسا کہ گوریلا چمپینیزی۔ نچے کھچے ٹکڑوں اور تقریبا ایک مکمل ڈھانچے کی دریافت سے یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ PROCONSUL بہت ہی ابتدائی درجہ کے APE تھے۔ یعنی موجودہ دور کے گعریلا کے آباء اجداد کے آثار PROCONSUL میں ملے ہیں۔

3
۔ ڈروئیو پیتھی کس:۔
( Dryo Pithecus)
ان کا مکمل ڈھانچہ تو دریافت نہ ہو سکا۔ صرف یورپ ، شمالی ہندوستان اور چین میں کھدائی کے دوران جبڑے اور دانت ملے ہیں اور انہی سے ان کا کچھ نا مکمل سا پتی چلتا ہے۔

4
۔ اور یو پیتھی کس :۔
( Oreo Pithecus)
ان کا شمار انسان کے شجرہ نسب کے قریب ترین شاخ کے طور پر کر سکتے ہیں ان کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ ان ان کا قد تقریبا 4 فٹ اور ان کا وزن 80 پونڈ کے قریب ہوتا ہے۔ اسکے دانتوں اور pelvis کا مطالعہ کرتے ہوئے سائنسدانوں نے اسے انسان کے آباء اجداد کا درجہ دیا ہے۔ یہ منحرف شدہ APES تھے آپ یوں کہہ سکتے ہیں APES کی بہتر شکل۔

5
۔ راما پیتھی کس:۔
( Rama Pithecus )
اس انسان نما بندر یا بندر نما انسان کا زمانہ تقریبا 70 لاکھ سال قبل مسیح مانا جاتا ہے۔ انکو اس زنجیر کی پہلی کڑی سمجھا جا سکتا ہے۔ جس کی آخری کڑی موجودہ دور کا انسان ہے۔ اس نوع کو کوئی ڈھانچہ نہیں مل سکتا۔ جس کی بنا پر اس کے جسم کا صحیح تعین نہیں کیا جا سکتا ہے۔ ہاں البتہ اب تک صرف جبڑوں اور دانتوں کے کچھ جزئی رکازات یا FOSSIL FRAGMENTS کہا جاتا ہے کہ دو میروں پر چلنے کی ابتداء اسی نوع سے شروع ہوئی۔

6
۔ آسٹر الو پیتھیکس
(Australo Pithecus)
لاطینی زبان میں اس کے معنی جنوبی بندر کے ہیں کیونکہ اس کی دریافت پہلی بار افریقہ میں ہوئی تھی۔ اس نوع کی یہ خصوصیت تھی کہ یہ واضح طور پر دو پیروں پہ چلتی تھی اس کا دور 9 ملین قبل بتا یا جاتا ہے۔ اس قسم کو بن مانسوں کی اعلٰی اقسام اور انسان کے درمیان ایک سرحد کے طور پر مانا جاتا ہے۔ زمین پر رہنا سیکھا یعنی جنگلوں سے نکلے یہ پتھر کے اوزار بنانا جانتے تھے۔

7
۔ پیرن تھراپس
(Paran Thropus)
اپنے سیدھے کھڑے ہونے اور انسانی خدوخال کے باوجود Paran Thropus انسان کی مورثیت میں ارتقاء کے عمل کی آکری حد کو ظاہر کرتے ہیں۔ ایک سبزی خور جس کو اس کے بڑے بڑے جبڑوں اور پیسنے والے دانتوں سے پہچانا گیا۔ اس کا مقابہ Australo Pithecus سے کیا جا سکتا ہے جو غالبا بہت جلد ناپید ہو گئے تھے۔

8
۔ اڈوانس آسٹر الو پیتھیکس
( Advanced Australo Pithecus)
ان کو کھوپڑی کے سائز کی بنا پر ابتدائی Australo Pithecus سے ممتاز کیا جا سکتا ہے۔ ترقی یافتہ اسٹرالوپیتھیکس Paran Thropus کے ہمعصر تھے۔ قدیم اوزار ان دونوں کے ساتھ پائے گئے ہیں۔ یہ کوئی خاص طرز زندگی اختیار نہ کر سکے اور جو اوزار اور Tools ملے ہیں وہ بھی خام حالت میں ہیں۔

9ِ:
ھومویرکٹس :۔
(HOMO‌‌)
اس کے لغوی معنی ہیں سیدھا ہو کر چلنا والا انسان HOMO ” انسان” ERECTUS ” سیدھا چلنے والا“۔ یہ قسم دوسال پہلے پائی گئی آج کل بالکل معدوم ہے۔ اس کی کھوپڑی کچھ محراب نما اور پیشانی سکڑی ہوئی نوکدار تھی۔ اس کا چہرہ لمبا اور دانت برے بڑے تھے۔ یہ انسان کی قریبی پیشتو قسم ہے۔ دریافت شدہ قدیم شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ یہ اجتماعی سماجی زندگی گزارتے تھے اور آگ کا استعمال انکو آتا تھا۔

10
۔ ارلی ھوموسپی ینس:۔
( Early Homo Sapiens )
اس کا معنی ذہیں انسان۔ یہ وہ جنس نوع ہے جس سے موجودہ انسان تعلق رکھتے ہیں اور اس سے منسوب ہونے والے انسان احفوری آثار قریب قریب ساڑھے تین لاکھ پرانے ہیں ۔ یہذہین مخلوق دوسرے حیوانات اور سابقہ انسانی انواع سے چند خصوصیات اور عادات میں ممتاز ہے۔ مثلا دو پیروں پر چلنے کی چال، دماغی مقدار 1350 مکعب سنٹی میٹر اونچی پیشانی چھوٹے دانت اور جبڑے ، برائے نام ٹھوڑی ۔ کہتے ہیں کہ یہ تعمیر کے کام سے واقف تھا زبان اور تھریر و غیرہ کی علامتوں کا استعمال کرنے کی قابلیت تھی۔

11
۔ سولومین :۔ (Solo Man) انسان کے شجرہ نسب کی ایک ناپید شدہ شاک Solo ہے ۔ اس کے بارے میں اندازہ ان Fossil سے لگایا گیا ہے جو Java سے ملے ہیں ۔ یہ Fossil ظاپر کرتے ہیں کہ Solo کے بازو اور ٹاکنگوں کی پڈیاں کافی ترقی یافتہ اور جدید دور سے ملتی جلتی ہیں۔ لیکن جہان تک کھوپڑی کا تعلق ہے وہ جدید انسان کی نسبت زیادہ وزنی اور زیادہ موٹی تھی اور بھنویں کافی موٹی تھیں جبکہ پیشانی ڈھلوان کی طرح تھی۔

12
۔ رٹو ڈیسن مین :۔
( RTTODESAIN MAN )
یہ انسان کی ناپید شدہ ایک اور نسل ہے ۔ ان کی آمجگاہ افریقہ تھی یہ Homo Erecuts کی نسبت اچھے خاصے جسمانی خدوخال کے حامل تھے ۔ لیکن ان لوگوں کی نسبت خاصے قدیم نے جھاڑیوں کو اپنا مسکن بنایا تھا۔

13
۔ نیندرتھل انسان :۔
(Neanderthal Man )
نیندر تھل انسان سے تہذیب کا آغاز ہوتا ہے۔ یہ نہ صرف شکاری تھا بلکہ اہم بات یہ ہے کہ وہ زندگی اور موت کے بارے میں شعور بھی رکھتا تھا یہ ہتھیار ساز تھا۔ جو تقریبا ایک لاکھ دس ہزار سال پہلے نمودرا ہوا ۔ یہ مختلف اوزار بناتا تھا۔ مثلا لکڑی بھگو کر اور اس کو آگ میں تپا کر بعض ہتھیار تیار کرتا تھا۔ Hand Axes چاقو Knives اور Choppers بھی بناتا تھا انکے مرد شکار کیلئے نکلتے تھے اور عورتیں گھروں میں رہتی تھیں۔

14
۔ کرومیگنن انسان
( Cro-Magnon Man )
مکمل طور پر جدید انسان تقریبا 35 ہزار سال پہلے ظاہر ہوا جس کا اولین نمائندہ کرومیگنن انسان ہے۔ ان کے سر لمبے پیشانیاں چھوٹی، چہرے بہت چوڑے ، آنکھیں گہرائی میں اور قد لمبا تھا یہ اپنے مورثوں کی طرح شکار کرتا اور گروہ کی شکل میں رہتا تھا یہ غذا کی تلاش میں ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتے تھے۔

15ِ
ماڈرن انسان :۔
( Modern Man )
جسمانی اعتبار سے جدید انسان Cromagnen سے کچھ مختلف وہ چیز جو ان دونوں کو ایک جگہ اکٹھا کرنے کا سبب بن سکتی ہے وہ ثقافتہے یہ سب سیکھنے کے بعد کہ خوراک کس طرح اگائی جا سکتی ہے اور پالتو جانوروں کو کیسے رکھا جاتا ہے۔ جدید انسان اس قابل ہو گیا کہ وہ اپنا خانہ بدوشانہ طرز زندگی ترک کر دے اور اپنے لئے مستقل رہائش گاہیں بنا لے اور اس طرح متمدن دنیا بن گئی۔

تبصرہ:
1882- 1809
ڈراون کو یقین تھا کہ زندگی ایک ارتقائی عمل ہے۔ کیڑے مکوڑے اعضاء میں ترقی تبدیلیاں کرتے کرتے بکری بن گئے وغیرہ وغیرہ، چارلس ڈارو نے 1859 ء میں اپنی کتاب

” The Origin Of Species”
میں رائے پیش کی کہ زندگی کی تمام اشکال ترقی کرتے کرتے یہاں تک پہنچی ہیں۔ بس پھر کیا تھا یہودیوں نے اس نظریہ کو ہاتھوں ہاتھ لیا وہ تو یہی چاہتے تھے کہ دنیا میں لوگ کسی خدا کو نہ مانیں ۔ یہی سمجھیں کہ سب کچھ خود بخود اور اتفاقیہ ہو رہا ہے۔ چناچہ سائنسدانوں نے چٹانیں کھودنا شروع کر دیں۔ کہیں سے مرے ہوئے بندر کا دانت ملا۔ کہیں سے جبڑے کا ٹکڑا ملا۔ کہیں سے پنڈلی کی ہڈی ملی۔ بس ان کو جوڑ کر ایک کہانی بنا دی کہ انسان بندر کی ترقیاتی شکل ہے۔

چارلس ڈارون کے نظریہ پہ میں کیا تبصرہ کروں انکے اپنے ہی قبیلے کے لوگوں سے سنیئے اور دھنیے۔

(The Encyclopaedia Of lgnorance P-234-(1978
اس میں ” THE FALLACIES OF EVOLUTION” کے عنوان کے تحت صاحب مضمون Tomlin لکھتے ہیں۔

1 The present im passe in evolutionary thinking Productive of so many afllacies , is due chiefly to the intervention of bilogical fact in terms out of date physical theory.
2. A Biologist lhardin says in his book ” THE PHENOMENON OF MAN” ……….. No amount of historical research will ever reveal the dateils of this story unless the science of the tomorrow is able to reconstruct the process in the labortory we shall probablly never find any material westage of its emergence of the microscopic from the molecular, of the organic from to the chemical of the living from the preliving.
اس کہانی ( نظریہ ارتقاء) کی تفصیلات ہمیں کبھی حاصل نہیں ہو سکتیں ۔ خواہ اس باب میں تاریخی نوعیت کی تحقیقات کتنی ہی کیوں نہ ہو جائیں۔ جب تک کہ مستقبل کی کی سائنس لیبارٹی اس عمل کو دھرانے کے قابل نہ بن جائے۔ ہم شاید اس سلسلے میں کوئی ادنی مادی دلیل بھی نہ پاسکیں کہ ایک دوربینی جرثومہ ایک سالمے سے کس طرح وجود میں آیا۔ ایک مخصوص شے سے کس طرح ایک غیر عضوی شے نمودار ہو گئی اور ایک جاندار ما قبل جاندار سے کس طرح ظہور پذیر ہوا۔

3
۔ فرانس کے مشہور محقق دونوائے DU-NOUY اپنی کتاب HUMAN DESTINY میں فرماتے ہیں۔

کسی پعجزہ کا وجود تسلیم کئے بغیر آغاز زندگی کی توجیہہ نا ممکن ہے کیونکہ اتفاقیہ طور پر مختلف عناصر کا ایک کاص ترتیب کے ساتھ اکٹھا ہو کر محض ایک ہو کر محض ایک سالمے کو تشکیل دینے کے لئے زمین کی موجودہ پوری عمر ناکافی ہے۔

4
۔ ایک مشہور محقق ڈاکٹر اسمود Dr. Asimov فرماتے ہیں۔

Without DNA> Living organlisms could not reproduce and life as we know it could not have started. All the substances of living matter enzymes and all the others, whose prodction is catalysed by enzymes depend in the last analysis on DNA. How thendid D.N.A an d life start? This is a question that science has always hesitated to ask, Because the origin of life has been bound up with religious belief ever more strongly than has the origin of the earth and the universe, it is still dealt with only hesitantly and apologetically.
بغیر ڈی این اے کے سندہ وجود جسم میں دوبارہ نہیں آ سکتے اور زندگی جیسا کہ ہم جانتے ہیں شروع نہیں ہو سکتی۔ زندہ مادہ کے تماما مرکبات یعنی انزائم اور دوسرے اجزاء جن کی تیاری میں انزائم جے ذریعے کیمیادی تغیر پیدا کیا جاتا ہے۔ آپنے آخری تجزیہ میں ڈی این اے پر انحصار رکھتے ہیں۔ کہذا اب سوال یہ ہے کہ D.N.A کس طرح بنا؟ اور اندگی کیسے وجود میں آئی؟ یہ وہ سوال ہے جس کے پوچھے جانے پر سائنس ہمیشہ ہچکچاتی ہے۔ کیونکہ زندگی کا رشتہ مذہبی عقائد کے ساتھ اس سے کہیں زیادہ مضبوط بندھا ہوا ہے۔ جتنا کہ اصل ارض یا اصل کائنات کے رشتہ لہذا ان مسائل پر اب تک جھجھک امیز اور معذرت خواہانہ انداز اختیار کیا جاتا ہے۔

THE ENCYCLOPAEDIA OF IGNORANCE . P 236 (1978)
MYNARO SMITH
اپنے مضمون

The Limitation of Evolution theosy
میں فرماتے ہیں ۔

There are a lot of things we do not know about evolution ………. Evolution theory is in adequate.
ترجمہ:۔ ایسی بے شمار اشیاء ہیں جن کے ارتقاء کے بارے میں ہم کچھ نہیں جانتے۔۔۔۔۔۔۔ نظریہ ارتقاء بالکل ناقص و ناکافی نظریہ ہے۔

ڈارون کے نظریہ ارتقاء کی تحقیق وریسرچ اور ملنے والے جبڑے، دانت اور چند ہڈیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈی۔سی جوہانسن اپنے مقالہ ” RETHINKING THE ORIGINS OF GENUS HUMAN” ًٰ میں لکھتے ہیں ۔

” Investigations related to unravelling untricacies of mankinds earliest stages of evolution have proliferated during approximately the last 15 years . It has becoma Increasingly clear that although the store house of human paleontology is considerably fuller now than in the past, we still must an wait additional evidence before final decisions can be made concerning human evolution and jaxonomy ………… It is a difficult task for the anthropologists to ascertain relationship between such foosils ……….. A human jaw fragment and an ram bone fragment do not give us much insight into the probelems of human origin because these specimens are so fragmentary.
ترجمہ: ۔

نوع انسان کے اولین ارتقائی مرحلوں کی عقدہ کشائی کے سلسلے میں پیچیدہ گیاں حائل ہیں ان سے متعلق تحقیقات پچھلے پندرہ سال کے دوران بار آور ہو چکی ہیں۔ یہ بات بتدریجواضح ہو چکی ہے۔ اگر انسانی علم اخفوریات اب ماضٰ کی بانسبت زیادہ لبریز ہو چکا ہے تا ہم اب بھی ہم کو آخری فیصلہ کرنے سے پہلے اس ضمنی شہادت کا انتظار کر لینا چاہیئے جو انسانی ارتقاء اور درجہ بندی تعلق رکھتا ہے۔۔۔۔۔۔۔ ماہرین کیلئے مختلف اخفوریات کے درمیان رشتہ و تعلق دکھانا ایک مشکل ترین مرحلہ ہے۔۔۔۔ کسی قدیم انسانی جبڑے کے محض‌ایک جزو یا ٹکڑے کی بدولت ہم کو کوئی ایسی بصیرت حاصل نہیں ہو سکتی جو اصل انسان کے مسائل کو حل کرنے میں معاون بن سکے کیونکہ یہ آثار بالکل جزوی ہیں۔

ایک عام آدمی کے ذہن میں یہ سوال آتا ہے کہ اب ارتقاء کا عمل کیوں رک گیا ہے؟ آجکل بندروں کی ڈھیروں اقسام Gibbon , چیمنیزی، بن مانس وغیرہ اب کیوں نہیں کوئی بندر انسان بن رہا ہے؟ تو ارتقاء کے حامی یہ جواب دیتے ہیں کہ ارتقاء کا عمل لاکھوں کروڑوں سالوں میں عمل پذیر ہوتا ہے اس کی رفتار بہت سست ہوتی ہے ا سلئے آپ لوگوں‌کو نظر نہیں آتا تو میں ان سے یہ سوال کرتا ہوں کہ 1965 ء میں آئیس لینڈ کے نزدیک سمندر کے اندر زلزلے اور لاوے کے عمل سے ایک نیا جزیرہ نمودار ہوا جسے سرٹسی Surtsey کہتے ہیں ۔ اس پہ ایک سال کے اندر اندر ہزاروں اقسام کے کیڑے مکوڑ حشرات اور پودے پیدا ہو گئے۔ یہ ایک سال میں ارتقاء کس طرح ہو گیا؟ یہاں پھر وہ لاجواب ہو جاتے ہیں ۔ انسانی ارتقاء میں جو کڑیاں سائنسدان ملاتے ہیں وہ آج کیوں نہیں پائی جاتیں؟ ھومینڈ، نیندرتھل، ھومویرکٹس، کرومیگنن کدھر گئے؟ امیبا موجود ہے اور اس سے آگے کی تمام کڑیاں ( چند چھوڑ کر) موجود ہیں صرف انسان سے تعلق رکھنے والی قریبی کڑیاں یکدم غائب ہو گئیں؟ حالانکہ ترقی یافتہ کو موجود ہانا چاہئیے تھا اور کمزور انواع کو مٹنا چاہیئے تھا اور ہوا الٹ۔ Philosophy of struggle for existance کے تحت تو کمزور کو ختم ہونا چاہیے۔ ارتقاء کے حامیوں کا خیال ہے کہ چمنیزی ۔ انسان کے زیادہ قریب ہے۔ Biologists کے نزدیک چمنیزی کو تربیت دی جائے ۔ تو وہ انسان جیسی آوازیں نکال سکتا ہے۔ 1947 ء میں فلوریڈ کی ایک تجربی گاہ میں ایک چمینیزی کو رکھا گیا سالہا سال کی کاوشوں سے وہ صرف چار لفظ سیکھ سکا۔ 1967ء میں اوکلاھاما یونیورسٹی میں کثیر رقم خرچ کر کے ایک جامع منصوبہ بنایا گیا۔ سات چمینیزی کو انسانی ماحول میں تربیت دی گئی وہ کچھ وقت پروفیسرز کیساتھ Laboratory میں گزارتے باقی اوقات وہ پروفیسرز کے گھروں میں افرادخانہ کی طرح رہتے۔ انسانوں کی طرح کمڑے پہنائے جاتے۔ میز کرسی پہ کھانا کھلایا جاتا۔ رات کو Bed پہ سلایا جات۔ یعنی ایک بچے کی طرح تمام آداب زندگی سیکھلائے گئے۔ مگر تربیتی کورس کے بعد بھی بندر کے بندر ہی رہے۔

سوال یہ پیدا ہوتاہے جو بندر خودبخود ایک ان دیکھے اور ان سیکھلائے تمدن کی طرف ترقی کرتا گیا اور مہذب بنتا گیا۔ کیا وجہ ہے وہی بندر بلکہ انسان کی قریب ترین نسل سکھلانے کے باوجود مہذب اوت تعلیم ہاتفہ نہیں بن رہے؟ یہ کائنات حیرت انگیز نظام ناگاہ اتفاق اور تصادم کی پیداوار نہیں ہے۔ فزکس کے استاد جارج ہربرٹ ( GEORGE HERBERT BIURT) فرماتے ہیں کہ

بالفرض مان لیا جائے کہ کائنات کا نظام خودبخود یا اتفاقات کے نتیجے میں وجود میں آ گیا ہے تو یہ انسانی عقل و شعور کی توہین ہو گی اس طرح ہر سوچنے والا شخص اس نتیجے پر پہنچے گا کہ کائنات کے لئے ایسے خالق کو تسلیم کرنا چاہئیے کہ جو ناظم بھی ہو ۔ اس طرح سے وہ اپنی زندگی کے تمام مسلمات اور بدیہی امور میں خدا شناسی کو اہمیت دے گا۔

ایک جدید سائنسدان دواں گش ( Duane gish ) فرماتے ہیں کہ

” Evolution Theory ”
ایک فلسفیانہ خیال ہے اور در‌حقیقت اس کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔ “ حتٰی کہ نظری ارتقاء کا پر جوش حامی علم حیاتیات کا

پروفیسر R.B. Gold Schmidt فرماتے ہیں

نظریہ ارتقاء کے حق میں اب تک کوئی شک و شبہ سے بالاتر سائنسی شہادت نہیں مل سکی اور یہ کہ یہ محض سوچ کا ایک انداز ہے۔

پروفیسر گولڈ سمڈتھ اور پروفیسر میکبتھ فرماتے ہیں کہ

:
نظریہ ارتقاء کا سائنسی ثبوت نہیں ہے چناچہ ارتقاء کے حامیوں نے کتابوں میں جو تصویریں چھپوئی ہیں وہ سب بھی من گھڑت ہیں۔

پروفیسر میکس ویسٹن ھوفر Westen Hofer نے تمام زمانوں کے حشارت، حیوانات یعنی درندوں ، پرندوں ، خزندوں، چرندوں کا مطالعہ کیا اور بتایا کہ یہ ہمیشہ سے ساتھ ساتھ موجود رہے ہیں اور فرماتے ہیں پروفیسر ویزامین Weis Man کا نظریہ Java Man سائنس کے ساتھ مذاق ہے۔

پروفیسر گش نے کہا انسان کا ڈھانچہ جسے Nebraska Man کہتے ہیں مکمل طور پر بناوٹی ہے صرف ایک دانت پر پورے ڈھانچے کی تشکیل دی گئی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ Evolution theory ایک سوچا سمجھا ڈھونگ ہے جو معاشروں کی تباہی کا موجب ہے ۔ حقیقت میں یہ یہودیوں کی چالاکی ہے وہ انسانوں کو ایک ایسا تصور دینا چاہتے تھے جس میں اللہ نہ آئے تاکہ تمام لوگ ہر طرح کی اخلاقی و مذہبی قیود سے آزاد ہو جائیں اور ہر وہ کام کریں جس میں یہودیوں کو فائدہ ہو

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s