چھوٹے میاں سبحان اللہ

  01 قاسم علی نانوتوی کی خرافات
چھوٹے میاں سبحان اللہ

بردران اسلام ہم انشاء‌اللہ قاسم علی نانوتوی صاحب کی کرامات سے آغاز کرینگے مگر دل میں خیال آرہا ہے کہ اتنی بڑی بزرگ ہستی کا ذکر کرنے سے پہلے ان کے ایک خادم کی شان بیان کروں تاکہ عوام پر ان کی بزرگی کا سکہ بیٹھ جائے تو آئیے ہم ایک حیرت انگیز سفر پر روانہ ہوتے ہیں دیوان جی نامی ایک صاحب کے متعلق مناظر احسن گیلانی نے اپنی کتاب سوانح قاسمی میں ایک نہایت حیرت انگیز واقعہ نقل کیا ہے موصوف لکھتے ہیں ::
مولانا محمد طیب نے یہ اطلاع دی ہے کہ یٰسین نام کے دو صاحبوں کا خصوصی تعلق سیدنا الامام الکبیر ( مولوی قاسم صاحب نانوتوی ) سے تھا جن میں سے ایک تو یہی دیوان جی دیوبند کے رہنے والے تھے اور بقول مولانا طیب صاحب دیوبند میں حضرت والا کی خانگی اور ذاتی دور کا تعلق انہی سے تھا لکھا ہے کہ صاحب نسبت بزرگ تھے اپنے زنانہ مکان کے حجرے میں ذکر کرتے مولانا حبیب الرحمن ساحب سابق مہتمم دارالعلوم دیوبند فرمایا کرتے تھے کہ اس زمانے میں کشفی حالت دیوان جی کو اتنی بڑھی ہوئی تھی کہ باہر سڑک پر آنے جانیوالے نظر آتے رہتے تھے درودیوار کا حجاب ان کے درمیان ذکر کے وقت باقی نہیں رہتا تھا
( حاشیہ سوانح قاسمی ج 2 ص 73 مطبوعہ مکتبہ رحمانیہ لاہور )
برادران اسلام آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ یہ شان و کشف غلام کا ہے تو پھر آقا و مرشد و مولا کا کیا حال ہوگا وہ کہتے ہیں کہ ۔

چاہیں تو اشاروں سے اپنے کایا ہی پلٹ دیں دنیا کی
یہ شان ہے ان کے غلاموں کی سردار کا عالم کیا ہوگا

لا الہ الا اللہ : دیکھ رہے ہیں آپ مولوی قاسم صاحب نانوتوی کے ایک خانگی خادم کی یہ کشفی حالت کہ مٹی کی دیواریں شفاف آئینہ کی طرح ان پر روشن رہا کرتی تھیں لیکن فہم و اعتقاد کی اس گمراہی پر سر پیٹ لینے کو جی چاہتا ہے کہ ان حضرات کے یہاں مٹی کی دیواریں سرکار رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ پر حجاب بن کر حائل رہتی تھیں ۔جیسا کہ دیوبندی جماعت کے معتمد وکیل مولوی منظور صاحب نعمانی تحریر فرماتے ہیں :
اگر حضور دیوار کے پیچھے کی سب باتیں معلوم ہوجایا کرتے تھیں تو حضرت بلال سے ( دروازہ پر کھڑی عورتوں کے نام لیکر ) دریافت کرنے کی کیا ضرروت تھی ۔
( فیصلہ کن مناظرہ ص 135 مطبوعہ دا الاشاعت سنبھل ضلع مراد آبادی یوپی انڈیا )
لا الہ الا اللہ : آپ ہی انصاف کیجیے کہ رسول کے حق میں کیا اس سے زیادہ بھی جذبہ دل کی بیگانگی کا کوئی تصور کیا جاتا ہے ۔
لگے ہاتھوں انہی دیوان جی کا ایک کشف اور ملاحظہ فرمائیے ۔ مولوی مناظر احسن گیلانی اپنے اس حاشیہ میں یہ روایت نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں ، انہی دیوان جی کے مکاشفہ کا تعلق دارالعلوم دیوبند سے نقل کیا جاتا ہے لکھتے ہیں کہ مثالی عالم میں ان پر منکشف ہوا کہ دارالعلوم کے چاروں طرف ایک سرخ ڈورا تنا ہوا ہے اپنے اس کشفی مشاہدہ کی تعبیر خود کیا کرتے تھے کہ نصرانیت اور تجدد و کناوی کے آثار ایسا معلوم ہوتا کہ دارالعلوم میں نمایاں ہوں گے ۔
( حاشیہ سوانح قاسمی ج 2 ص 73 مطبوعہ مکتبہ نعمانیہ لاہور )
مجھے اس مقام پر سوا اس کے اور کچھ نہیں کہنا کہ جو لوگ اپنا عیب چھپانے کیلئے دوسروں پر انگریزوں کی کاسہ لیسی اور ساز باز کا الزام عائد کرتے ہیں ، وہ گریبان میں منہ ڈال کر ذرا اپنے گھر کا یہ کشف نامہ ملاحظہ فرمائیں ، کتاب کے مصنفین کو اس کشف پر اگر اعتماد نہ ہوتا تو وہ ہرگز اسے شائع نہ کرتے اور بات کشف ہی تک نہیں ہے تاریخی دستاویزات بھی اس امر واقعہ کی تائید میں ہیں کہ انگریزوں کے ساتھ نیاز مندانہ تعلقات اور رازدانہ ساز ، باز دارالعلوم دیوبند اور منتظمین و عمائدین کا ایسا نمایاں کارنامہ ہے جیسے انہوں نے فخر کے ساتھ بیان کیا ہے اور یہ بات میں ازراہ الزام نہیں کہہ رہا ہوں بلکہ دیوبندی لٹریچر سے جو تاریخی شہادتیں مجھے موصول ہوئی ہیں ان کی روشنی میں اس کے سوا اور کچھ کہا ہی نہیں جاسکتا ، نمونے کے طور پر چند تاریخی حوالے اگلی پوسٹوں میں ملاحظہ فرمائیے ۔۔۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s